Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tar e Ankaboot (Episode 11)

Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid

افق دماغی طور پہ مفلوج نظر آرہی تھی باری کی ذات سے ہونے والے انکشافات اسے بری طرح منتشر کرگئے تھے۔

وہ اور ایلیاء شاپنگ سینٹر سے واپس آرہی تھیں جب انہیں کال پہ دھرمیش کے ایکسڈینٹ کی خبر ملی وہ افراتفری میں ہاسپٹل پہنچیں جہاں دھرمیش اپنی آخری سانسیں پوری کررہا تھا ۔ایک ناقابل یقین منظر تھا جہاں ابھی کل ہی انہوں نے ایک نئے جوڑے کو خوشگوار زندگی کی دعاؤں سے نوازا تھا وہاں ایک انسان ادھورا ملن لیے دنیا سے چلا گیا تھا۔

دھرمیش کی رشتہ دار خواتین نے آگے بڑھتے انیتا کے ہاتھ میں پہنے چوڑے اتار پھینکے وہ بے بسی کی تصویر بنی بیٹھی سامنے موجود اپنے سہاگ کو اجڑتا دیکھ رہی تھی ۔شوہر کے مرنے پہ اسے ستی کردیا گیا تھا۔

مرنے والا سمجھو اسکی خوشیاں بھی ساتھ لے گیا تھا۔

افق کتنی دیر اس رنگین مزاج لڑکی کی قسمت پہ روتی رہی بظاہر ماڈ سکاڈ نظر آنی والی فیملی اتنی ہندومت پرست تھی۔

افق اور ایلیاء کیلئے یہ نئے منظر تھے لیکن اسے انیتا کی شکل میں مینہ پھوپھو نظر آرہی تھیں۔اسکے اردگرد کئے سوال جنم لے رہے تھے ۔

سفید جوڑا ایک جیسا تھا ایک کو بیوگی کی علامت میں پہناتے اسکا سجا سنورا روپ اجاڑ کے کسی کھنڈر کا روپ دیا جارہا تھا جبکہ مینہ پھوپھو تو شادی شدہ بھی نہیں تھیں لیکن ایک کتاب سے منسلک کرکے ان سے ساری زندگی سجنے سنورنے کا حق چھین لیا گیا تھا آخر کیوں؟

کس نے ان سے عام لڑکیوں جیسی زندگی جینے کا حق چھینا؟

افق کا وہاں دل گھبرا رہا تھا وہ مینہ پھوپھو سے بات کرنا چاہتی تھی ان سے پوچھنا چاہتی تھی کہ وہ غیرشادی شدہ ہیں پھر بیوگی علامت سمجھے جانے والا سفید لباس کو اپنا نصیب کیوں کرلیا تھا؟

وہ کم از کم سفید لباس کو پاکیزگی کی علامت نہیں سمجھ سکتی تھی اگر سفید لباس ہی پاکیزگی علامت ہے تو صدیوں کی ریت سے غلاف کعبہ سیاہ کیوں؟ جو اس ارض کی مقدس ترین جگہ ہے۔

سیاہ نصیبوں پہ سفیدی کا رنگ کیوں؟

کتنے سوال تھے جو اسے مینہ پھوپھو سے پوچھنا تھے جنکو پوچھنے کا کبھی خیال نہیں آیا تھا۔

لیکن ایک عام سا واقعہ اسکے اردگرد ان غلام گردشوں کی اسیری میں رہنے والوں پہ سوالیہ نشان بن گیا تھا۔

منتشر ذات لیے وہ فلیٹ آگئی تھی جسے چھوڑنے کا فیصلہ اس نے عنائیہ سے ملنے کے بعد کرلیا تھا لیکن انیتا کے ساتھ ہوئے واقعے نے اسے ذہنی طور اتنا ڈسٹرب کردیا تھا کہ وہ خاموشی سے تیل اور تیل کی دھار دیکھنے والوں میں سے بنی بیٹھی تھی ۔

“افق کیا ہم بات کرسکتے۔”

دھرمیش کے سوئم کے بعد وہ اسکے گھر سے نکل رہی تھی جب مخصوص جانی پہچانی آواز پہ رکی۔

“سر۔۔”

پروفیسر وجدان کو دیکھتے وہ ساکت ہوئی۔

✪✪✪✪✪

کھٹکے کی آواز پہ اس نے مڑ کے دیکھا جہاں باری ڈپلی

کیٹ ِکی سے فلیٹ کا دروازہ کھولے اندر آرہا تھا۔

تنفر بھری نگاہ ڈالنے کے بعد افق نے اپنا رخ موڑ لیا۔

اسکی آنکھوں میں در آئی اجنبیت کی لہر باری نے بخوبی دیکھی تھی ۔

“کیسی ہو افق۔”

باری نے ہمیشہ کی طرح بازو اسکے گرد لپیٹے اپنے حصار میں لیتے اسے ماتھے پہ بوسہ دیا۔

“بلکل ٹھیک آپ کیسے ہیں بڑے دنوں بعد چکر لگایا؟”

دلربا بیوی کے فرائض انجام دیتے اس نے باری کو تھوڑا حیران کیا لیکن وہ سنبھلتے ہوئے پھر سے ہوا۔

“ناراض ہو شاید عنائیہ کی باتوں سے۔”اسکے کندھے پہ ٹھوڑی ٹکاتے آئینے میں اسکے عکس پہ نگاہ کی جس نے مسکراتے ہوئے خود کو باری سے الگ کرنے کی مزاحمت بھی نہیں کی۔

“اگر آپ کو ایسا لگ رہا تو بلکل غلط سوچ رہے ہیں آپ۔

آپکو کیا لگا افق شاہ اتنے سے شاک پہ مرجائے گی ارے نہیں بہت مضبوط ہوں میں ۔اتنے سے تو آپکی جان نہیں چھوٹے گی۔”

افق مسکراتے ہوئے سیدھی ہوئی جہاں پہلے باری کے سینے سے اسکی پشت ٹکرا رہی تھی۔اب وہ بلکل اسکے سامنے تھی ۔اپنے گرد بنے باری کے حصار کو توڑتے اور باری کے شرٹ کے کالر کو ٹھیک کرتی وہ اسے حیران کرگئی تھی۔

“آئی۔ایم سوری افق یہ سب یوں اچانک ہوا آئی مین۔۔۔”

باری کےماتھے پہ پسینے کی ننھی ننھی بوندیں نمودار ہوئیں حلق میں کچھ اٹکا تھا جو بات مکمل نہیں ہوپائی۔

“میں نے کچھ بولا باری مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے آپکی مجبوریاں میں نہیں سمجھونگی تو کون سمجھے گا۔”

وہ اسے حیران کرنے کے درپہ تھی جو مسکراتے ہوئے اسکے سینے پہ سر رکھتی مطمئن انداز میں اسکی وضاحت سننے سے انکار کرگئی۔

کتنے لمحے خاموشی کی نظر ہوئے تھے۔

“ایک بات پوچھوں۔”

اپنے دونوں بازوں باری کے گرد باندھے افق نے

محبوب بیویوں والا انداز اپنایا۔

“آ ہاں پوچھوں۔”

وہ جیسے کسی خواب سی کیفیت سے جاگا تھا۔

“افق شاہ کے سینے پہ خنجر آپ خود گھونپیں گے

یا پھر وہ خودکشی کا کوئی نیا راستہ ڈھونڈے۔”

انتہائی اطمینان سے اس نے اپنے اندر سلگتی آگ کو ٹھنڈے لہجے میں باری کے سامنے بیان کیا تھا۔

“افق میں۔۔۔”باری کچھ بولنا چاہتا تھا جب اس نے اپنی شہادت کی انگلی اسکے ہونٹوں پہ رکھی۔

“جانتے ہو کبھی محسوس ہی نہیں ہوا کہ

تم افق شاہ کو دھوکہ دے رہے ہو ۔”

افق نے پھر سے باری کے سینے پہ سر ٹکاتے ایک گہری سانس بھرتے اسکے وجود کی خوشبو اپنے اندر اتاری۔

جبکہ باری خاموشی سے اسکی حرکات دیکھ رہا تھا۔

“جانتے ہو افق شاہ بھی تم سے محبت نہیں کرتی وہ بھی تمہیں ایک زادراہ بنا رہی تھی اپنی زندگی کی محرومیوں کو پورا کرنے کیلئے۔”

افق نے کڑے انداز میں اس پہ انکشاف کیا تھا۔

باری کا دل ایک دم خالی ہوا۔

وہ خود نفرت کا دعویدار شخص اسکی محبت

سے منکر تھا لیکن اسکا منکر ہونا دل سہہ نہیں پایا۔

“جانتے ہو یہ دنیا مکافات عمل ہے سنا تھا نا۔۔۔ہا۔ہا۔ہا۔میں نے بھی سنا تھا لیکن دیکھ بھی لیا مزہ آیانا باری یہ پیار کا ناٹک چلا کے مزے کا کھیل تھا نا؟”

افق کو اپنے کھوکھلے لفظوں سے ٹپکتی یاسیت کا اندازہ خود بھی نہیں تھا۔وہ درد کی انتہاؤں کو چھوتے بھی مسکرا رہی تھی۔

باری کو اسکی ذہنی رو بھٹکنے پہ شک ہوا شاید صدمے سے وہ پاگل ہوچکی تھی تبھی بہکی بہکی باتیں کررہی تھی۔

“تمہیں تار عنکبوت سے نفرت تھی نا دیکھو پھر ایک مکڑی نے تمہیں ڈنک مار دیا باری ۔”

افق نے زوردار قہقہ لگاتے اسکی کمر کے گرد اپنی گرفت مضبوط کی۔

باری کا دل دھک دھک کررہا تھا اسکی حرکتیں۔

“افق۔۔۔”

“نہیں باری آج کچھ بھی نہیں ہمیشہ تم بولتے ہونا آج میں بولوں گی تمہیں سننا پڑے گا۔”

افق نے ہاتھ کی پشت سے اپنے خاموش آنسوؤں صاف کرتے بشاشت سے کہا۔

“افق پلیز۔۔۔۔۔”

“باری چلو اس بازی کا کون کھلاڑی جیتا کون ہارا اس سوال کو پیچھے رکھتے ہیں لیکن میرے لیے تو اس گیم کے ونر تم ہو باری افق شاہ نے خود کو ہار کے تمہیں جتا دیا۔صرف اتنا بتادو ایسا کیوں کیا باری؟”

وہ جو خود پہ مضبوطی کا حصار بنا کرٹہری تھی اور قسم کھائی تھی باری سے کوئی سوال نہیں کرے گی ایک دم ٹوٹتے ہوئے زمین پہ بکھری تھی۔

“کیا صرف یہ سننے کیلئے کہ تم جیتے باری میں ہار گئی۔

تمیں لگا افق روئے گی تڑپے گی،تم سے اپنی محبت کی بھیک منگتے گڑگڑائے گی تو تم ناکام ہوگئے باری دیکھو افق شاہ از ابسیولٹلی فائن۔”

اس نے باری کی طرف وکٹری کا نشان بنا کے دکھاتے قہقہ لگایا۔

“اگر تمہیں حقیقت پتا چل ہی چکی ہے تو جان لو افق شاہ کہ عبدلباری نے کِبھی تم سے محبت کی ہی نہیں تھی۔”باری نے ریت کی دیوار کو دھکا دیتے بلکل ہی زمین بوس کیا تھا۔

“جانتی ہوں۔”اسکے لب سرگوشی کے انداز میں ہلے۔

افق کے کانوں میں ایک آواز گونجی تھی۔

“جتنا ہوسکے عبدلباری سے دور رہیں افق شاہ وہ ایسی آگ ہے جو آپکا تشخص مٹادے گی ،نفرت ہوجائے گی آپکو اپنے وجود سے اندھیرا ہونے سے پہلے گھر لوٹ جاؤ افق ۔”وہ اسکا زادراہ تھا جس پہ اس نے بھروسہ نہیں کیا تھا۔وہ جس شخص کو غلط سمجھتی رہی اس نے کئی بار افق کو راہ راست پہ لانے کی کوشش کی تھی۔

اور آج سچ سامنے آیا تو وہ اپنا سب کچھ ہار چکی تھی۔

“میں جانتا ہوں مجھے تھپڑ مارنے کے بعد پروفیسر وجدان نے کئی بار تم سے رابطے کی کوشش کی ہے۔”

باری کا اگلا انکشاف افق کو چونکا گیا تھا۔

توکیا وہ صیحح کہتے تھے کیا تعلق تھا انکا باری سے اور کسطرح وہ اسکی حقیقت سے آگاہ تھے ان گنت سوال تھے جو سراٹھانے لگے لیکن اب ان سوالوں کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔

“ہمیشہ وڈیرے کی بیٹی ہی ڈچ نہیں کرے گی ،کچھ تو ہمارا بھی حق ہے نا احساس کروانے کا کہ اپنے کسی قریبی کو تڑپتے دیکھنے کا درد کیا ہوتا ہے،جانتی ہو وہ کون تھا میرا ہمزاد ،میرا بھائی میرا باپ ہے وہ شخص اس نے زندگی کی ہر خوشی خود پہ حرام کرلی ،وہ ہنستا ہے وہ کھیلتا ہے مگر وہ جیتا نہیں ہے ،مرنا تو تمہیں بھی ہوگا تاکہ تمہارے گھر والے جان سکیں کہ اپنے کسی عزیز کے مرنے پہ کتنا درد ہوتاہے۔” بے دریغ سفاکیت لوٹاتا لب ولہجہ وہ یقین نہیں کرسکتی تھی کہ وہ اس باری کو جانتی تھی ۔

شاید وہ تو اسکے اس روپ سے انجان ہی تھی ۔

اس نے ہمیشہ اپنی پرواہ کرتا محبت لوٹاتا باری دیکھا تھا۔

“جس دن سیدہ والی حویلی کے مکین باری سے تمہاری زندگی کی بھیک مانگنے آئیں اس دن زرمینہ شاہ کو ضرور بھیجنا افق شاہ کچھ قرض ہیں جو انکو ہی لوٹانے ہیں باری نے۔”انتہائی تمسخر سے کہتا وہ وہاں سے جانے

کیلئے پلٹا تھا۔

“زرمینہ شاہ سے تمہارا کیا تعلق ہے باری۔۔”

اسے اپنی آواز خود ہی اجنبی لگ رہی تھی۔

“یہ سوال تم ان سے پوچھنا کسی کی چوکھٹ پہ لاوارث چھوڑ جانے والے بچے سے انکا کیا تعلق ہے۔جب جب وہ افق شاہ کو سسکتا دیکھیں گی انہیں باری کی یاد آئے گی افق شاہ ۔”

باری کے ٹوٹ کے بکھرے تھے وہیں افق شاہ تار عنکبوت کا شکنجہ خود پہ سخت ہوتا محسوس کررہی تھی۔

مہر و مہ و انجم نہيں محکوم ترے کيوں

کيوں تری نگاہوں سے لرزتے نہيں افلاک۔۔۔۔

✪✪✪✪✪

“میں اپنا ادھار چکتا کرآیا ہوں ،مبارکباد نہیں دیں گے۔”

نیم تاریکی میں ڈوبے کمرے میں ابھرتی باری کی آواز نے رئیواولنگ چئیر پہ جھولتے شخص کو ساکن کیا۔

“کیا مطلب کیا ،کرکے آئے ہو؟”

وہ شاکی آواز میں بولتے اسکے روبرو ہوے۔

“وہیں جو سیدہ زرمینہ شاہ نے آپکے ساتھ کیا،انہوں نے آپکے چہرے کی مسکراہٹ چھینی میں نے اسکا قرض افق زادی سے لے کے پورے شاہ خاندان کی بنیادیں ہلا دیں۔” باری کی آواز سے جیت کا نشہ چھلک رہا تھا وہیں سامنے موجود شخص کو لگا شاید کہ وہ اگلی سانس نہیں لے سکا گا۔

“زر” لبوں نے ہلکی سی جنبش کہیں کہ کوئی گستاخی نہ ہوجائے۔

“میں نے ہمیشہ آپکو اپنا ہمزاد کہا ہی نہیں سمجھا بھی ہے محسوس بھی کیا ہے آپکو کیا لگا آپ یہ سب چھپائے پھریں گے اور مجھے کبھی پتا نہیں چلے گا۔”

باری نے مصنوعی غصہ دکھاتے کہا۔

وہیں اسکے لبوں پہ قفل لگے تھے جب اس نے کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح گھٹنے زمین پہ ٹیکے۔

“فیضی۔”باری نے تڑپتے ہوئے اسکے سامنے بیٹھتے اسکے ہاتھوں کو تھامنا چاہا۔

“مرگیا فیضان غوری باری ،وہ چوبیس سال پہلے تو نہیں مرا تھا لیکن آج تم نے مار دیا ،ایک بےقصور کو ناحق سزا دے کے،بتاؤ کیا ،کیا ہے تم نے اسکے ساتھ۔”فیضی نے ہذیاتی ہوتے اسکے گربیان سے پکڑا ۔

وہ اسکا اتنا شدید ریکشن دیکھتے ہکا بکا بیٹھا تھا۔

“زرمینہ شاہ نے اچھا نہیں کیا تھا آپکے ساتھ وہ کون ہوتی ہیں آپ کے جذبات سے کھیلنے والی ،اگر محبت نبھا نہیں سکتی تھیں تو کیوں آپکو اس مقام تک لائیں جہاں سے واپس آنا بھول گئے تھے آپ ۔”

باری نے اپنا گربیان چھڑاتے اسکے ہاتھوں کو مضبوطی سے اپنے شکنجے میں لیا۔

“تم کچھ نہیں جانتے بکواس بند کرو اپنی۔”

بھلا جس کو دل کے من مندر میں اونچے سنگھاسن بیٹھا کے وہ سالوں سے پوج رہے تھے اسکی شان میں گستاخی اسے کہاں گوارہ تھی۔

“معافی مانگو گے تم افق سے چلو ابھی ۔”جنونی انداز میں کہتے انہوں نے باری کو اپنے ساتھ کھڑا کیا اور وہ کسی فرمانبردار بچے کی طرح کھڑا بھی ہوگیا تھا پر انکی بات پہ عمل کرنے کیلئے نہیں بلکہ اپنے نادر خیالات کو پیش کرنے کیلئے۔

“ٹھیک ہے میں افق سے معافی مانگ لیتا ہوں لیکن میرے ایک سوال کا جواب دے دیں زرمینہ شاہ کا کیا تعلق ہے فیضان غوری سے اور عبدلباری کا تعلق ان دونوں سے؟

کس لیے چھپایا آپ نے؟

کیا میں آپکے کسی گناہ کا انجام ہوں اسیلئے؟”

انتہائی بےباکی سے کہتے وہ انکے سامنے تن کے کھڑا ہوا تھا۔

“باری”ایک زوردار تماچے کے ساتھ فیضان نے اسکے چودہ طبق روشن کیے ۔وہ گال پہ ہاتھ رکھے بےیقینی سےانہیں دیکھ رہا تھا۔

“کیا بکواس ہے یہ کس نے بکواس کی یہ سب تم سے؟”

وہ حلق کے بل چلائے تھے جہاں انکے گلے میں خراش پڑی تھی اور وہ بری طرح کھانسنے لگے تھے۔

“وہ سچ جو آپکی ڈائری کی زینت بنا ہوا وہ تصویر جسے آج بھی آپ اپنی ڈائری کے پہلے ورک میں سجائے پھرتے ہیں کیوں؟کس لیے نفرت نہیں کرتے آپ اس عورت سے بتائیں مجھے۔”باری ہزیاتی انداز میں چلایا تھا۔

فیضان نے بے ساختہ کرسی کی پشت کو تھاما۔

“باری ۔۔”انکے لبوں سے یہ لفظ سرسراتا ہوا ادا ہوا تھا۔

“نفرت ہے مجھے اس نام سے جسے آپ نے اس عورت

کی پسند پہ دیا یہ نام،جس سے میں بےانتہا نفرت کرتا ہوں۔”

“مت کرو اس سے اتنی نفرت باری۔”

فیضان نے التجائیہ انداز میں کہا تھا۔

“کیوں وہ عورت جو اپنے مفاد کیلئے مجھے یوں لاوراث چھوڑ گئی ۔دوسرے لوگوں کی شناخت سے میں جانا جاتا رہا جو اولاد اپنے ماں باپ کیلئے شرمندگی کا باعث ہے ۔

جس اولاد کو آپ دونوں نام دینے سے انکاری ہیں۔

یہ معاشرہ کیا کہتا ہے بھلا اسے ہاں۔۔۔ناجائز ۔۔۔جو صرف آپ دونوں کے کسی کمزور لمحے کی نشانی ہے اسے یہ دنیا ناجائز ہی بولتی ہے اور ہوں میں گناہ آپ لوگوں کا ۔”

وہ روتے ہوئے زمین پہ بیٹھا تھا۔

فیضان نے شکست خوردہ نظر اس ٹوٹے ہوئے باری پہ ڈالی جسکی مکمل شناخت اور ذات کا غرور برقرار رکھنے کیلئے انہوں نے بھابھی اور بھائی کی گود میں ڈال دیا تھا۔لیکن انکی تمام تر کوشش کے باوجود انکا باری ادھورا تھا ایک ادھورے سچ کے ساتھ اسکی ذات منتشر نظر آرہی تھی۔کب سے وہ یہ سب جانتا تھا فیضان حیرانگی سے اسے دیکھ رہے تھے۔

✪✪✪✪✪

“پاک بیبی مسجد کی چوکھٹ والے سائل کا سنا ہے انتقال ہوگیا ہے۔”وہ ابھی اپنے حجرے سے باہر آئی تھی جب مائی میراں کی آواز سنی جو مینہ پھوپھو سے کچھ کہہ رہی تھیں۔

“نہیں مائی میراں ایسے نہ بول تحھے کسی نے جھوٹ بولا ہوگا۔”

وہ دروازے کی باڑی کو مضبوطی سے پکڑتے بولیں۔

“مرشد سائیں نے بتایا ہے بیبی میں کیوں ایک اللّٰہ والے پہ جھوٹ بولوں گی۔”زرمینہ کی ترش آواز پہ اس نے گگھیائی ہوئی آواز میں صفائی دی۔

“کیا ہوا مائی میراں کون مرگیا ہے۔”

اس نے بےحال ہوتی مینہ پھوپھو کو دیکھا تو انہیں سنبھالنے آگے آئی۔

“یہاں جو آتا ہے وہ مر جاتا افق ،وہ بھی مرگیا۔”

زرمینہ ہذیاتی ہوتیں چلائیں۔

سفید چادر انکے سر سرکی تھی جہاں وقت کی پرچھائیں چاندی بنکے انکے بالوں سے تانک جھانک کرنے لگیں۔

“کون مینا پھوپھو کون مرگیا کیا کوئی عزیز تھا؟”

اس نے مضبوطی سے انکے کندھے تھامے گویا

حواسوں کی دنیا میں رکھنا چاہا۔

“بب باری ،مم میرا بیٹا افق ،وہ مرگیا مار دیا اسے شاید میں نے ۔وہ مجھ سے خفا تھا افق۔۔۔ نہیں شاید وہ خود سے خفا تھا روٹھ گیا وہ۔”

زرمینہ کے لبوں سے آزاد ہوتے الفاظ نے اسے پوری

ہستی سے ہلایا تھا۔

“باری ۔۔۔۔۔مرگیا۔۔؟

افق کے لبوں سے بھی لفظ ٹوٹ ٹوٹ کے بکھر رہے تھے۔

“تت تمہاری بددعا لگ گئی نا افق ،مم میں نے کہا تھا اسے بددعا نہ دینا مم مرگیا میرا باری افق تم نے اسکے بچے کو مارا اب اسے بھی مار دیا تت تم بھی قاتل بن گئیں۔”

وہ روتی ہوئیں سینہ کوبی کرتے خود کو زدوکوب کرنے لگی تھی۔

مائی میراں حیرانی سے حویلی کی پاک بیبیوں کی

زندگی کا یہ پہلو دیکھ رہی تھی۔

“زرمینہ کا بیٹا ۔۔۔۔افق کی بددعا وہ کڑیوں سے کڑی ملانے لگی تھی مگر اسکے ہاتھ کوئی سرا نہیں لگ رہا تھا۔

“مم میں نے اسے بددعا نہیں دی مینہ پھوپھو ہم دونوں کو تو آہ لگ گئی ،محبت اپنے ساتھ کھیلنے والوں کو معاف نہیں کرتی اس نے ہمیں بھی معاف نہیں کیا۔محبت کی بددعا لے ڈوبی ہمیں۔۔”

افق دوزانوں انکے سامنے بیٹھتے اپنی صفائی دینے لگی تھی۔

“اس نے آپکی افق کو توڑ دیا محبت بھلا اسے کہاں بخشتی وہ اپنے گنہگاروں کو نہیں بخشتی۔”

وہ زور سے ہنسی تھی جہاں حویلی کی خاموشی میں اسکی ہنسی گونجتی واپس اسی تک لوٹ آئی تھی۔

طاق پہ بیٹھا ایک پرندہ شاید پیاس کی شدت میں انکے پاؤں ے قریب گرا تھا لیکن کوئی بھی اس طرف متوجہ نہیں ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *