Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid NovelR50607 Tar e Ankaboot (Episode 07)
Rate this Novel
Tar e Ankaboot (Episode 07)
Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid
آج وہ شخص پھر سے برگد کے درخت کے نیچے بیٹھا تھا کسی لٹے پٹے مسافر کی طرح۔
“زمانے کے ستائے ہوئے لگتے ہو۔”
اس نے بھاری آواز پہ سر اٹھایا تھا جہاں وہ بزرگ پھر سے اس پہ سایہ فگن ہوئے ٹہرے تھے۔اس نے ایک مایوس نگاہ انکے اوپر ڈالنے کے بعد پھر سے نگاہ جھکا لی۔
بزرگ نے اسکے ہاتھوں میں پہنی گھڑی سے اندازہ لگایا کے وہ کسی کھاتے پیتے گھر کا فرد تھا۔
“حالات سے بھاگنا مسائل کا حل نہیں ہوتا،یوں اس چوکھٹ پہ ماتھا رگڑنے سے کچھ نہیں ہوگا برخودار اندر آؤ اس ذات سے ملو جو پانچ وقت باقاعدگی سے اپنی طرف بلاتی ہے وہ کبھی مایوس نہیں ہوا حالانکہ کتنے لوگ اسکی طرف سے غفلت کا شکار ہیں۔۔”
آج پھر انہوں نے اسکے گھنے بالوں کو ہاتھوں میں جکڑتے کچھ کلملات کا ورد کیا اور مسکراتے ہوئے چھوڑ دیا۔
“گھر کا ایک سربراہ ہوتا ہے جسے ہم باپ کہتے ہیں ہم مانتے تو ہیں کہ وہ ہمارا باپ ہے پر ہم اسکی نہیں مانتے،
ہم یہ بھی مانتے ہیں اللّٰہ ہے پر ہم اللّٰہ کی نہیں مانتے مشکلات چاہے کسی اژدھا کی طرح منہ کھولے کھڑی ہوں پر وہ تمہارے رب سے بڑی نہیں ہوسکتیں ۔”
ان بزرگ کی مکمل کوشش تھی کہ وہ کچھ بولے کچھ ایسا جو اسے صرف اس چوکھٹ تک تو لے آتا جو اندر نہیں آنے دیتا ۔جو قوت اسے یہاں لاتی تھی وہ اسے اندر کیوں نہیں آنے دیتی۔
“قدر نہیں کی تھی میں نے ،مجھے سب عطا کیا گیا مگر قدر نہیں کی میں نے۔” ایک نجیف سی آواز نکلی تھی ۔
“لاحاصل کا پچھتاوا کیوں ؟” بزرگ شاید اسکی بات نہیں سمجھے تھے ۔
“حاصل کرکے چھوڑا تھا۔”
اسکی آواز میں پچھتاوے ہی پچھتاوے تھے۔
“وہی قسمت میں لکھا تھا۔”بزرگ نے مسکرا کے کہا۔
“قسمت نے عطا کیا تھا جسے انمول نا جان کے چھوڑ دیا۔”
آواز میں بلا کا درد تھا۔بزرگ نے افسوس بھری نگاہ اس پہ ڈالتے آگے کی جانب قدم بڑھائے۔
✪✪✪✪✪
خون میں لپٹی لاش باری کا آخری خواب تھا جسکے بعد سے خوابوں کا سلسلہ رک گیا تھا۔
ہر طرح کی سوچوں کو جھٹکے وہ افق کو لیے اسلام آباد مری کے ٹرپ کیلئے آیا تھا۔
افق نے دوستوں کو دوبارہ سے گاؤں جانے کا جھوٹ بولا تھا جبکہ باری کے بارے میں لاعلم تھی۔
حقیقتاً وہ دونوں ہی حالات سے فرار چاہ رہے تھے۔
وہ ونڈو سے باہر کے منآظر پہ نگاہ جمائے بیٹھی تھی جب باری بھاپ اڑاتے دو چائے کے کپ لیے وہاں آیا تھا۔
“انجوائے کیا جارہا ہے۔”
گلے میں لپٹے مفلر کو اتارتے اس نے افق کو اس منظر سے نکالا ۔
“یہاں کتنا سکون ہے نا باری۔”
افق نے یاسیت سے کہا باری کو ہمیشہ اسکی ان باتوں سے چڑ ہوتی تھی۔
“پلیز افق یار کوئی فلسفہ نہیں ہرطرح کی ٹینشنوں سے خود کو آزاد کرلو اور محسوس کرو ان لمحات کو جس میں تم اور میں ہوں۔”باری نے جزب کے عالم میں کہتے اسکے کندھے پہ سرٹکایا۔
افق کو ایک عجیب سی جھجک آڑے آنے لگی تھی۔آج تک وہ اور باری پبلک پلیس پہ ملتے رہے تھے پہلی بار یوِں بند کمرے میں افق کو گبھراہٹ ہورہی تھی ۔
“تم ٹھیک ہونا افق تمہارے ہاتھ اتنے ٹھنڈے ہورہے ہیں۔”
باری نے برف ہوتے ہاتھوں کو محسوس کیا تو اپنے ہاتھوں میں لیے انہیں گرمی پہنچانے لگا تھا۔
“باہر چلیں میرا یہاں دل گھبرا رہا ہے ،عجیب سی گھٹن ہے۔”
“ہمم چلو پہلے یہ چائے تو ختم کرو یار باہر جاتے ایسے ٹھنڈ لگ گئی تو۔”باری کے انداز سے چھلکتی فکر افق کو سرشار کرنے لگی تھی ۔
رات گئے تک وہ مال روڈ پہ گھومتے رہے جہاں کئی من چلے اور نئی شادی شدہ کپلز کو دیکھتے باری کی ٹھنڈی میٹھی سرگوشیاں ناچاہتے ہوئے بھی اسے ایک اور جہان میں لیے جارہی تھیں وہ ایک ایسے اندھیرے جنگل کی مہمان بننے کو تیار تھی جہاں سے واپسی شاید ہی ممکن ہو۔
سردی کی شدت میں اضافہ ہوا تو سنو فال نے مال روڈ کو چار چاند لگادیے تھے۔جب وہ تھک ہار کے کمرے میں پہنچے تو باری کی نئی ضد شروع ہوچکی تھی ۔
“باری ایسے تو مشکل ہوجائے گی سب نے کنٹیکٹ کرنا ہوگا مجھ سے۔”باری کی ضد تھی کہ جتنے دن وہ یہاں تھی وہ اپنا سیل آف رکھے گی جہاں مینہ پھوپھو کی آنے والی بار بار کی کال اسے تو نہیں البتہ باری کو ضرور ڈسٹرب کررہی تھی۔
“میں جب ساتھ ہوں تو کیا مشکل ہوگی افق پلیز مجھے یوں دبو سی لڑکیاں پسند نہیں ہیں ،کیا ہوگا زیادہ سے زیادہ ہمارا راز کھل جائے گا مجھے اب یہ راز رکھنا بھی نہیں ہے۔”
باری نے صوفے پہ گرتے ہوئے کہا ۔
افق کو اپنی منزل قریب نظر آرہی تھی یہی تو وہ چاہتی تھی باری صوفے پہ ہی سو چکا تھا ۔
اس پہ نظریں جمائے وہ حقیقت کی دنیا سے کہیں دور نکل آئی تھی جہاں حویلی کی فرسودہ روایات نہیں تھیں، سانس لینے کی آزادی تھی ایک نئی دنیا اسکی منتظر تھی۔
لیکن وہ بھول رہی تھی یہ دنیا برابر کا حساب لیتی ہے شاید اتنا دیتی نہیں جتنا سود سمیت اور بڑی فراغدلی سے لیتی ہے ۔
موسم کے تیور بدلے تھے اچانک ہرطرف سے گھٹاٹوپ اندھیرا چھایا ۔اسے اپنی سانس اکھڑتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔بادلوں کی گرج سے باری کی آنکھ کھلی تھی کمرے میں چھائے اندھیرے سے، اسے اندازہ ہوا شاید لائٹ نہیں تھی۔
“افق۔۔”باری نے اندازے سے بیڈ کی طرف بڑھتے آواز دی تھی۔
“مم مجھے ڈر لگ رہا ہے باری۔”افق کی آواز قریب سے کہیں ابھری تھی۔سیل اسکے پاس تھا نہیں وہ باری کی فرمائش پہ بیگ میں بند پڑا تھا جبکہ اس نے بھی آتے ساتھ سیل سے جان چھڑا رکھی تھی۔
دروازے پہ دستک ہوئی تو افق کے منہ سے ہلکی سی چیخ ابھری تھی۔
“کون ہے؟”باری جو ابھی افق کو اس اندھیرے میں ڈھونڈ ہی نہی پایا تھا اسکی خوف بھری چیخ نے اسے مزید ڈپریس کیا۔
“سر روم سروس بجلی کا شارٹ سرکٹ ہوا ابھی دیکھیں کتنے بجے تک ٹھیک کیا جاتا تب تک آپ یہ موم بتی لے لیں۔”
لڑکے کی آواز پہ ایک سکون بھری سانس خارج کرتے وہ اندازے سے دروازے کی طرف بڑھا تھا۔
جہاں سامنے روم سروس والا لڑکا تین موم بتیوں پہ مشتمل کینڈل پینل لیے کھڑا تھا۔
کمرے میں نجیف سی روشنی ہوئی تھی۔
“بب باری مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے اور یہ طوفان ایسے لگ رہا ہے جیسے دیواریں ٹوٹ جائیں گی۔”
افق نے اپنے ڈر کا خلاصہ کیا۔
باری نے موم بتی کی روشنی میں ہرنی جیسی آنکھوں کا خوف بخوبی دیکھا تھا ۔
وہیں افق کا بکھرا سراپا اسے ڈسٹرب کرنے لگا تھا۔
“میں آجاؤں وہاں اگر تم ڈسٹرب فیل نہ کرو۔”
باری نے بیڈ کی سائیڈ پہ کینڈل رکھتے اسے آفر کی تھی جسکے جواب میں افق نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
باری نے اسکی کیفیت کا اندازہ کرتے اسکے قریب جگہ سنبھالی۔
“سوجاؤ افق میں ہوں نا یہاں ،تمہارا شوہر ایک بہترین رکھوالا میرے ہوتے ہوئے کوئی چیز تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔”باری کی ذومعنی بات کو سمجھے بغیر اس نے اپنا سر اسکے شانے پہ ٹکایا۔
باری کو اندازہ نہیں تھا کہ افق اتنی آسانی سے اسکے جال کا شکار ہوجائے گی اور اس صورت میں جب ان دونوں کے درمیان ایک محرم رشتہ موجود تھا اس رشتے کے تقاضوں سے جان چھڑانا اتنا آسان نہیں تھا۔
باری نے اسکے گرد اپنے بازو کا حصار باندھے گرفت مضبوط کی۔افق نے چونکتے ہوئے نیم روشنی میں باری کو دیکھا جس نے سہولت سے جھکتے ہوئے اسکے ماتھے پہ بوسہ دیا۔
اسکے گرد خطرے کی گھنٹیاں گونجیں اسے اندازہ بھی نہیں تھا باری اسکیلئے ایسی آگ ثابت ہورہا تھا جو اسکے وجود کو آبلہ بناڈالے گی۔
“باری پلیز مم میں ابھی اس رشتے کو ایسے قبول نہیں کرسکتی۔”
افق نے اسے اپنی حدودقیود یاد دلانی چاہی۔
“ابھی اور پھر کبھی کیا ہوتا افق جو ہے وہ آج ہے اور آج بہت خوبصورت ہے میں ان لمحوں کو کھل کے جینا چاہتا ہوں جہاں موقع بھی ہے دستور بھی اور محبوب بھی۔”
بھاری گھمبیر لہجہ افق کے جسم میں سنسنی دوڑا گیا۔
“باری پلیز میں نے مینہ پھوپھو سے وعدہ کیا تھا اس رشتے کی حدود کو تب تک نہیں پھلانگیں گے جب تک کے اس رشتے کو ہم دنیا کے سامنے نہیں لے آتے۔”
باری کی بڑھتی جسارتوں پہ افق نے احتجاج کرتے خود کو اسکی گرفت سے آزاد کروانا چاہا۔
مینہ پھوپھو کے نام پہ باری کے دماغ میں کئی طوفان اٹھے تھے وہ نہیں جانتی تھی کی مصلحت کی راہ نکالتے وہ خود کو باری کے قہر کا شکار بن جائے گی ۔
“تمہارے لیے باری سے بڑھ کے کچھ اہم نہیں ہونا چاہیئے افق شاہ اگر تمہیں اتنا ہی مینہ پھوپھو کی باتوں میں آنے کا شوق ہے تو اٹس اوکے میں یہ رشتہ ابھی ختم کردیتا ہوں کیونکہ مجھے افق شاہ پہ کسی کی پرچھائی نہیں چاہیئے اسکے دل دماغ پہ صرف عبدلباری ہونا چاہیئے صرف عبدلباری۔”
باری کا برفیلا لہجہ افق کو شاک کرگیا ۔باری نے کبھی اس انداز میں بات نہیں کی تھی ۔
اس نے افق کے گرد سے اپنا حصار توڑتے اپنی گرفت سے آزاد کیا۔افق کو ایک دم اپنا دل خالی ہوتا محسوس ہوا ۔اگر وہ باری کو ناراض کردے گی تو پھر سے کال کوٹھڑیاں اسکا مقدر بن جائیں گی ۔دماغ میں جھکڑ چلنے لگے تھے۔
“باری پپ پلیز ناراض نہ ہوں۔”
افق نے بیڈ سے اترتے باری کا بازو تھاما جہاں اپنا پتا کامیاب جانے پہ باری کے چہرے شاطرانہ مسکراہٹ بکھری تھی۔اسے یقین تھا افق شاہ انہیں لڑکیوں میں سے تھی جو اسکی ذرا سی توجہ پاتے کسی ڈالی کی طرح ٹوٹتی اسکی گود میں گرنے کو تیار تھیں۔
“افق تم جانتی ہو نا کتنی اہم ہو تم میرے لیے ،میرا بس چلے میں پوری دنیا کی نظروں سے چھپائے تمہیں اپنے پاس محفوظ کرلوں۔”باری نے جذباتی انداز میں کہتے وہاں سے اٹھنا چاہا جب افق کا ہاتھ اسکے شانے پہ ٹکا تھا ۔
“پلیز افق۔۔”باری نے اسکا ہاتھ جھٹکتے آگے بڑھ جانا چاہا ۔
“میں حق سے تمہاری محبت لینا چاہتا ہوں کسی بھیک کی طرح نہیں اگر تمہیں ایسا لگ رہا ہے کہ یہ محبت تمہاری زندگی میں مسائل کھڑے کرسکتی تو ہمیں کوئی بہترین فیصلہ لے لینا چاہئے۔”
باری نے بات مکمل کرتے دوبارہ سے صوفے پہ اپنی جگہ بنائی۔افق نے وہ رات کئی خدشات میں مبتلا رہتے گزاری ۔اسے باری کی ڈیمانڈ غلط بھی نہیں لگ رہی تھی وہ اسکی منکوحہ تھی جس پہ وہ مکمل حق رکھتا تھا ۔
مگر اب تو وہ اسے ناراض کرچکی تھی اگر وہ اس سے دلبرداشتہ ہوتے چھوڑ گیا تو اتنی محنت رائیگاں جائے گی۔
افق کیلئے باری ایک شکار تھا مگر وہ بھول رہی تھی کہ اگر شکاری ماہر نہ ہوتو وہ خود بھی شکار ہوجاتا ہے۔
✪✪✪✪✪
“بابا یہ سائل کون ہے ؟ کیا پریشانی ہے اسے؟” اس نے دربار کی طرف بڑھتے اس سے ملحقہ حصے پہ بنی مسجد کی چوکھٹ پہ بیٹھے سائل کو دیکھا جو تقریباً روز ہی وہاں بیٹھا ہوتا تھا ۔
“پتا نہیں پاک بیبی ،کسی سے کبھی بولتے نہیں دیکھا گیا اسے ہاں کبھی مرشد سائیں کا گزر ہو تو بات کرلیتے ہیں۔”
بزرگ دربان نے اسے چوکھٹ پہ بیٹھے شخص کے بارے آگاہ کیا تھا ۔
اسے اجازت نہ تھی کہ وہ کسی سے بات کرے تبھی سر جھٹکتے آگے بڑھ گئی تھی۔
درباری معمالات نبٹانے کے بعد وہ واپس جانے لگی تب وہ شخص برگد کے بوڑھے پیڑ کے نیچے سورہا تھا۔
اسکی پیشانی پہ چمکتا پسینہ دھوپ کی شدت بیان کررہا تھا۔پاک بیبی نے بے اختیار اسکی جانب قدم بڑھائے تھے۔
“اے اٹھو پاک بیبی آرہی ہیں تمہاری طرف ۔۔۔”
ایک درباری نے بھاگتے ہوئے اس سائل کو اٹھایا جو سیاہ چادر اوڑھے سورہا تھا ۔
اسے لاشعور سے آتی آوازیں بیدار کرنے لگی تھیں ۔
تھوڑا سا کسمساتے اس نے سائیڈ کے بل کروٹ لی ۔
پاک بیبی نے ننگے پاؤں چلتے اینٹوں کی تپش کو بخوبی محسوس کیا تھا اور ایسے میں اس سائل کا یوں بےحال ہونا بھی نظر آرہا تھا ۔
اس نے کروٹ کے بل لیٹے لیٹے آنے والی ہستی کو دیکھا جسکے گرد کئی دربان اور مریدنیوں کا مجمع سا لگا تھا۔
“کون ہو تم اے اجنبی اور یہاں کیا کررہے ہو؟”
ایک عورت نے اسے مخاطب کیا جو یک ٹک سفید لباس میں ملبوس پاک بیبی کو دیکھے جارہا تھا ۔اگرچہ چہرہ مکمل طور پہ ڈھانپا ہوا تھا مگر اسکی متجسس نگاہیں کچھ کھوج رہی تھیں۔
“سائل ہے پاک بیبی سکون کی تلاش میں دربدر بھٹک رہا ہے۔”تبھی مرشد سائیں (امام مسجد) وہاں آئے تھے جو اچھے سے جانتے تھے کہ وہ اجنبی انکے علاوہ ہر انسان کو ایسے دیکھتا تھا جیسی کسی اور جزیرے کی مخلوق ہوں۔
پاک بیبی نے انکی بات سمجھتے سرہلایا اور وہاں سے چلی گئیں۔۔
جاتے ہوئے راستے میں ایک بار پھر مڑ کے اس سائل کو دیکھا جو ابھی تک ان سب کو دیکھ رہا تھا جو پاک بیبی کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔انہوں نے ایک بار دیکھتے پھر سے اپنے حجرے کی طرف قدم اٹھا لیے جبکہ وہ سائل ابھی بھی انکے پاؤں کے نشان دیکھ رہا تھا اسے وہاں خون نظر آرہا تھا جہاں جہاں پاک بیبی کے قدم پڑے تھے وہیں پہ اسے خون آلود قدم دکھائے دے رہے تھے۔
“کک کون تھی وہ ؟” بزرگ نے حیرت سے اسے دیکھا جو ہمیشہ سوال ہی کرتا تھا۔
“پاک بیبی اس درگاہ کی گدی نشین ہیں۔”
بزرگ کے لہجے میں ایک عجیب سا تاثر تھا۔
“نن نہیں وہ پاک بیبی نہیں ہے وہ وہ خون وہاں دیکھو وہ جہاں قدم رکھتی وہاں خون ہے ،ہرطرف بکھرا خون ،وہ قاتل ہے نہیں وہ پاک بیبی نہیں ہے۔”
ہذیاتی کیفیت میں آتے وہ چلارہا تھا کئی لوگ اسکے گرد جمع ہونے لگے تھے۔
بزرگ نے چونکتے ہوئے اسے گہری نظروں سے دیکھا۔وہ شخص کہیں سے بھی یہاں کا باشندہ نہیں لگتا تھا پھر درگاہ کے مکینوں کے رازوں سے کیسے واقف تھا وہ؟
وہ شخص کیوں مسجد کے اندر نہیں آتا تھا نہ ہی کبھی اسے کسی نے درگاہ پہ حاضری دیتے دیکھا تھا۔ کئی سوال تھے جو وہاں لوگوں کے دماغ میں امڈ رہے تھے مگر وہ ان سب کو ابہام میں ڈالے پھر سے اپنے اوپر چادر اوڑھتے سو گیا تھا ۔
وہ نیند میں بھی بڑبڑا رہا تھا۔
مرشد سائیں نے آگے بڑھتے اسکے لبوں کے قریب کان کیے۔
“وہ پاک بیبی نہیں ہیں ،وہ قاتل ہیں میری۔”
دھیمی آواز نے مرشد سائیں کو جھٹکا دیا تھا انکا دماغ سائیں سائیں کررہا تھا ۔
✪✪✪✪✪
صبح افق کی آنکھ کھلی تو خالی کمرے نے اسکا استقبال کیا ۔کہیں بھی باری کا وجود نہیں تھا۔اپنے گرد گرم شال اوڑھے وہ ہوٹل سے باہر آئی تھی۔
مینجر سے اسے پتا چلا تھا کہ باری پیدل ہی کہیں گیا ہے۔وہ اسکی تلاش میں مال روڈ پہ چلتی بازار کی طرف نکل آئی تھی۔تبھی اسکی نگاہ باری پہ پڑی جو ایک بچے کو اٹھائے اس سے لاڈ کرنے میں مصروف تھا۔افق نے مبہوت ہوتے یہ منظر دیکھا تھا۔باری نے اپنے اوپر کسی کی نگاہوں کا ارتکاز محسوس کیا تو پیچھے پلٹ کے دیکھا جہاں افق گم صم سی ٹہری تھی۔
“میٹ مائے وائف افق عبدلباری ،افق یہ ٹورسٹ ہیں مجھے انکا بچہ بہت کیوٹ لگا ہے۔”
باری افق کو شانوں سے تھامے ان لوگوں کے قریب لایا تھا۔
“اوہ آپکی وائف بہت کیوٹ ہیں ،ابھی یہ خود بھی بچی سی لگ رہی ہیں پھر آپکو بچے کی خواہش کیوں ہے ابھی انہی کے ساتھ کھیلیں۔”سامنے موجود خاتون کچھ ایکسٹرا منہ پھٹ ثابت ہوئی تھیں۔افق انکی بات سنتے بلش کرنے لگی تھی باری نے اسکے چہرے کا منظر دیکھا تو دل پہ ایک واردات ہوئی تھی مگر وہ اگنور کرتے انکی طرف متوجہ ہوگیا۔
“شوق کی کوئی قیمت تھوڑی ہوتی ویل اچھا لگا آپ لوگوں سے مل کے۔”باری نے ان سے الوادعی کلمات کہتے اجازت لی۔
“ناراض ہیں؟ “افق نے اداس نظروں سے باری کو دیکھتے کہا جو اسکی طرف دیکھنے کی بجائے ادھر ادھر کے مناظر دیکھ رہا تھا۔افق کو اپنے عارضی حصار سے بھی آذاد کرچکا تھا۔
“توکیا نہیں ہونا چاہیئے؟”باری نے اسے تیکھے چتونوں سے گھورتے کہا۔
“سوری۔”افق نے مسکراتے ہوئے اپنے دونوں کان پکڑتے تھوڑا زمین پہ بیٹھنے والے انداز میں کہا۔
“رہنے دیں آپ اندازہ ہے مجھے اپنی اوقات ۔”
باری کا ناراضگی جتلاتا انداز افق کی جان نکالنے لگا تھا۔
“چلیں ؟” باری نے کہتے ساتھ واپسی کیلئے قدم اٹھائے جبکہ وہ اپنی جگہ رکی رہی تھی۔
“معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے؟” باری نے اسے اپنا ہمقدم نہ دیکھ پیچھے مڑ کے دیکھا تو افق فوراً بولی تھی۔
“سوچ لو اس معافی کی بھرپائی مہنگی پڑسکتی آپکو افق شاہ۔”باری کا ذومعنی انداز اسے پلکیں جھکانے پہ مجبور کرگیا تھا۔
“شرط ہے؟”افق نے سوال اٹھایا۔
“لازم وملزوم کی جنگ۔”باری نے اسکی طرف قدم اٹھایا۔
وہ اسے یہ نہیں کہہ پایا تھا کہ افق شاہ کو جھکانے کا عزم ہے۔
“افق”باری کا بھاری گھمبیر لہجہ افق کی جان لبوں پہ اٹکی تھی۔
“ہوں”اس نے بھاری پلکوں کی چلمن اٹھائے اسے دیکھنے کی کوشش کی۔
“بےفکر رہیں آپکی مرضی کے بغیر حدسے تجاوذ کرنا تو دور آپکو دیکھو بھی نا۔”باری نے ہلکا پھلکا انداز اپناتے اسکی جان خلاصی کی۔
افق نے ایک گہری سانس بھرتے باری کو گھورا ۔
“کتنے بدتمیز ہیں آپ میں پوری رات ٹھیک سے سو نہیں پائی اپنا روڈ بے ہیور دیکھا تھا۔” افق نے ناراضگی دکھاتے منہ پھلایا۔
“اس بات کو یہی ختم کردیں افق شاہ آپکا انکار میرے لیے ریجکشن کے زمرے میں آتا ہے مگر پھر بھی جہاں افق شاہ وہاں میری کوئی انا نہیں۔”باری نے مسکراتے ہوئے اسکے ماتھے سے اپنا سرٹکرایا ۔وہ ہلکی پھلکی ہوتے مسکرا دی تھی ۔
ایک بھرپور ٹرپ گزارنے کے بعد وہ مری سے واپس آچکے تھے۔ افق نے اسے ہرطرح سے قابل اعتبار پایا تھا وہ سرشار تھی کہ باری عام لڑکوں جیسا نہیں ۔ایک ہفتہ اکیلے کمرے میں گزارنے کے باوجود بھی اس نے اپنے رشتے کے حقوق کی ڈیمانڈ نہیں کی تھی کچھ لمحوں کی شرارت تھی مگر سب ٹھیک ہوگیا تھا۔لیکن وہ اس بات سے بےخبر تھی کہ شیر ہمیشہ اپنے شکار پہ جھپٹنے کیلئے دو قدم پیچھے ضرور جاتا ہے۔
✪✪✪✪✪
“کن چکروں میں ہو تم افق تمہاری تو شکل دیکھنے کو ترس چکے ہیں ہم۔” انیتا اور ایلیاء نے اسے ڈیپارٹمنٹ میں دیکھا تو جالیا ۔
“ہنمم کچھ خاص نہیں گاؤں کے بار بار کے چکر لگ رہے ہیں مینہ پھوپھو اور اماں جان کی طبیعت خراب رہتی ہے اس وجہ سے۔” افق نے انتہائی نفاست سے جھوٹ بولا۔
“یہ تمہاری مینہ پھوپھو کے بچے وچے نہیں ہیں ،تم نے کہا تھا وہ میرڈ ہیں پھر بھی۔” انیتا نے سوال اٹھایا۔
باری نے بروقت مداخلت کرتے اسے سوالوں سے محفوظ رکھ لیا تھا۔
“شام میں دھرمیش کی پارٹی پہ کون کون جارہا ہے گرلز۔”باری نے خوشدلی سے کہتے انہیں جوائن کیا۔
“میں تو بلکل نہیں وارڈن نے دس بجے کے بعد انٹری بند کردینی ہے۔” افق نے صاف انکار کیا تھا ۔
“اوہ کم آئن افق میرے پاس رہ لینا اب ایسا بھی کیا ایک رات کی ہی تو بات ہے۔” انیتا نے مسکراتے ہوئے اسے آفر کی۔ کچھ دنوں پہلے ہی دھرمیش اور اسکی منگنی ہوئی تھی جسکی سیلبرشین میں اس نے اپنے دوستوں اور انیتا نے ان لوگوں کو بلایا تھا۔
“سوری انیتا جان میں تو بلکل نہیں آسکوں گی کیونکہ یہاں سے جانے کے بعد مجھے نینی سے ملنے جانا ہے وہ کافی بیمار ہیں۔”ایلیاء نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا تھا۔افق نے کچھ بولنا چاہا تھا جب انیتا نے اسے آنکھیں دکھائیں وہیں باری کی آنکھوں کے مبہم اشارے اسے ماننے پہ مجبور کرگئے تھے۔
پارٹی ٹائمنگ آٹھ بجے کے بعد کی تھی۔باری نے اسے ہاسٹل سے پک کیا تھا۔
“عنیزے بھی آرہی ہے کیا وہاں؟”افق نے عام سا انداز اپنانے کی کوشش کی مگر اسکے انداز سے چھلکتی جیلسی باری نے بخوبی ملاحظہ کی تھی۔
“جیلس ہورہی ہو اپنی سوتن سے۔”
باری نے اسے چھڑتے ہوئے کہا۔
“اوہوں میں کیوں جیلس ہونے لگی میری بلا سے ایک چھوڑ دو لے آؤ۔”افق نے سرسری انداز اپنایا۔
“سوچ لو کوئی فرق نہیں پڑے گا؟”باری نے چیلنجنگ آئیز اس پہ جمائیں۔
“نہیں بلکل بھی نہیں بس ایک کام کرونگی جس وجہ سے یہ لڑکیؤں میں کمپٹیشن بڑھے گا میں اس وجہ کا سر اڑا دونگی ۔”افق نے مزے سے کہا۔
اسکے جارحانہ تیور دیکھتے باری کا جناتی قہقہ ابھرا تھا۔
“میں تمہیں اتنا نڈر تو کبھی نہیں سمجھتا تھا۔”
باری نے اسے چھیڑا۔
“میرے اندر ہر طرح کی کوالیٹز بدرجہ اتم موجود ہیں چیلنج مت کریے گا۔” افق نے مصنوعی غصہ دکھاتے چیلنج کیا تھا۔
“پیار کرنے کی بھی؟”باری نے اپنے مطلب کی بات نکالی افق بلش ہوتی رخ موڑ گئی۔
باری نے اسکا انداز دیکھا تو گاڑی میں کیسٹ پلے کردیا۔
ہونٹوں سے ہونٹوں کی شبنم چرا لو تم۔۔
اس رات میں جل جل کے ہر آگ بجھا لو تم۔۔
یہ جس۔۔۔۔
شاید باری کا ادھورا چھوڑا گانا پلے ہوا تھا جو عرنیات کی حدود کوچھو رہا تھا۔
افق نے الفاظ کا مفہوم سمجھتے ہاتھ بڑھا کے گانا بند کردیا۔
“کتنی فضول چوائس ہے آپکی۔”
افق نے خفت مٹانے کیلئے باری پہ چڑھائی کی۔
“کچھ غلط ڈیمانڈ تو نہیں تھی ویسے؟”
باری نے گفتگو کا رخ پھر سے اپنی پسند سے موڑ دیا تھا۔
“باری اب اگر ایک بھی فضول بات کی میں سر پھوڑ دونگی آپکا۔” افق نے خجل ہوتے کہا ۔
باری نے دوبارہ سونگ پلے نہیں کیا تھا مگر باقی کے راستے وہ اس گانے کو دھیمے سروں میں گنگناتا ضرور رہا تھا۔
دھرمیش کے گھر پہنچنے پہ اسے معلوم پڑا تھا وہاں باری کے دوستوں اور انیتا ، دھرمیش کے کزنز کے علاوہ کسی کلاس فیلو کو انوائیٹ نہیں کیا گیا تھا۔جبکہ پارٹی کی میزبانی دھرمیش اور انیتا کے ماڈ سکواڈ والدین بھی کررہے تھے جہاں انہی کے سرکل کے لوگ موجود تھے۔
“افق وہ پنکی دیکو ذرا۔”
باری نے کولڈڈرنک کا سپ لیتے افق کے قریب چئیر سنبھالتے کہا تھا۔
افق نے اسکی نگاہوں کا پیچھا کیا جہاں انیتا کی کزن سیلو لیس شرٹ کے ساتھ ٹائٹس پہنے اپنے جسم کی بھرپور نمائش کررہی تھی ۔
“باری “افق کے تو سر پہ لگی تھی تبھی وہاں سے احتجاجی واک آؤٹ کرچکی تھی۔پاس سے گزرتے سرونگ بوائے سے کولڈ ڈرنک لی۔باری جو شرارتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ایک نظر اپنے ہاتھ میں پکڑے پیپسی کے گلاس پہ ڈالتے بغور افق کے ہاتھ میں لیا جام دیکھا۔
اس سے پہلے کے وہ اسے وہاں جا کے روکتا افق بنا سوچے سمجھے ڈرنک کے دوگلاس پی چکی تھی مگر غصہ تھا کہ کم نہیں ہورہا تھا ۔
سارا وقت باری نے اسے فضول فضول چیزوں کیلئے بھڑکایا تھا۔
“بیوقوف لڑکی غصے میں عقل استمعال کرنا نہیں آتا کیا،بنا دیکھے ڈرنک کرلیا۔”
افق کے سر پہ پہنچتے وہ دھاڑا تھا۔پارٹی کے تیز میوزک پہ کوئی بھی انکی طرف متوجہ نہیں تھا۔
“تت تم مجھے جج جیلس کرنا چاہتے ہو نا تت تو پھر میں۔۔۔”افق کے لبوں سے الفاظ ہوا میں تحلیل ہوچکے تھے وہ بھول چکی تھی اسے کیا بولنا تھا ۔
“شٹ اپ یو اڈیٹ۔”باری نے اسکی کلائی پہ مضبوط گرفت کرتے ساتھ کہا اسے خدشہ تھا کہ وہ ام الخبائث کو پینے کے بعد کہیں حواس نہ کھو بیٹھے۔
“بب باری میں۔۔”اس نے مزید کچھ بولنا چاہا تھا جب باری نے سختی سے جھڑکتے اپنے ساتھ کھینچ لیا۔
گاڑی کی طرف بڑھتے اسکی انگلیاں تیزی سے میسج ٹائپ کرنے پہ لگی تھیں جب اسکا سیل بج اٹھا۔
“انیتا میں افق کو اسکے ہاسٹل چھوڑ دونگا وہ کافی پریشان ہورہی تھی دیٹس وائے۔”باری نے عام سا لہجہ اپناتے افق کو گھورا جبکہ دوسری طرف سے انیتا انہیں رکنے اور مل کے جانے کا کہہ رہی تھی باری نہیں چاہتا تھا کہ انیتا یا کوئی اور افق کو اس حال میں دیکھے تبھی وہ ان سے ایکسکیوز کرتا نکل آیا تھا۔
کافی دیر سوچنے کے بعد وہ اسے فیضان چاچو کے فلیٹ پہ لے آیا تھا جو اکثراوقات باری اور اسکے دوستوں کے استعمال میں رہتا تھا۔
فلیٹ پہ پہنچنے تک وہ سوچکی تھی باری اسے کڑے تیوروں سے گھورتا گود میں اٹھائے اندر لایا تھا۔
فلیٹ سیکنڈ فلور پہ تھا لیکن اسکے باوجود کسی نے بھی اسے نوٹس نہیں کیا تھا۔
اندر آتے ساتھ ہی اس نے افق کو شاور کو نیچے کھڑا کرتے اسکے اوہر پانی چھوڑ دیا۔وہ ہوش وحواس کھوئے بھیگ رہی تھی وہیں باری کیلئے کسی امتحان سے کم ثابت نہیں ہوئی تھی۔
“ہم کہاں ہیں۔”کچھ ہوش سنبھلا تو اپنی یہاں موجودگی پہ سوال اٹھا تھا۔
“اس چیز سے فرق نہیں پڑتا کہ ہم کہاں ہیں ہاں مگر یہ لمحۂ فکریہ ضرور ہے کہ کیوں ہیں۔”باری نے باتھ گاؤن اسکی طرف اچھالتے غصے میں کہا تھا۔وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی تھی۔
“چینج کرکے باہر آؤ۔”
باری کا اگلا حکم نامہ جاری ہوا تھا۔
“نہیں جب تک تم بتاؤگے نہیں ہم کہاں ہیں میں چینج نہیں کرونگی۔”افق نے ضدی انداز اپنائے کہا تھا۔
“نا کرو میں خود آکے کردونگا۔”باری نے اسے دھمکایا تو وہ سہمے ہوئے بچے کی طرح چینج کرتے باہر آئی۔اسکے چکر میں باری بھی بھیگ چکا تھا۔تبھی شرٹ ایک طرف سکھانے کو ڈالتے وہ پرسکون سا بیٹھا تھا جب افق روم میں آئی تھی۔
بھیگی لٹوں سے ٹپکتا پانی باری کے ہوش ٹھکانے لگانے کو کافی تھا وہ لڑکی اسکیلئے امتحان بنی سامنے تھی۔
“مجھے ب بھوک لگی ہے۔”ایک اور معصوم خواہش ۔
“مجھے ہی کھا لو افق صبح سے کام تو ایسے ہی کررہی ہو۔” باری نے اسے غصے والےتیوردکھاتے بستر کی طرف جانے کا اشارہ کیا ۔
“میں ایسے سوجاؤں مجھے شرم آئے گی۔”
افق کا ایک نیا مسئلہ باری کا دل چاہا اسکا سرپیٹ ڈالے یا اپنا سر دیوار میں دے مارے۔
“افق پہلے بھی تم میرا دماغ خراب کرچکی ہو بہتر ہے اچھے بچوں کی طرح جاکے سوجاؤ۔” باری نے اسے سرزنش کیا تو وہ سرہلاتے چپ چاپ لیٹ گئی تھی۔
کچھ دیر بعد وہ سوچکی تھی باری نے ٹھنڈی آہ بھرتے اسکے حسین چہرے سے نظریں ہٹائیں اور اسکی طرف کا سائیڈ ٹیبل آف کرنے کیلئے جھکا تھا جب افق نے نیند میں رخ موڑا تھا۔
ایک لمحے کو باری کی نگاہ اسکے سراپے میں الجھی تھی دماغ کئی طوفانوں کی زد میں آیا تھا جہاں افق کا عریاں لباس اسکیلئے امتحان ثابت ہوا تھا۔اسکے وجود سے نظریں چراتے وہ وہاں سے ہٹ گیا تھا مگر کب تک کمرے کی تنہائی اور رشتے کا احساس اسے مغلوب کررہا تھا ۔
خود پہ مکمل کنٹرول حاصل ہونے کے باوجود وہ افق کی طرف بڑھتے اپنے قدموں کو روک نہیں پایا تھا۔
“افق”باری نے اس پہ جھکتے افق کو مخاطب کیا جس نے مکمل غنودگی میں ہوتے نیم وا آنکھوں سے باری کو دیکھا جو کسی پرچھائی کی طرح اسے اپنے گھیرے میں لے رہا تھا۔
اسے اپنے گرد محسوس کرتے اس نے کمزور سا احتجاج کیا۔
مگر باری اس پہ مکمل چھاتے اپنا سایہ کرچکا تھا۔
اس نفرت کی جنگ میں ایک اور رشتہ ان دونوں کے بیچ جنم لینے لگا تھا جس سے وہ دونوں نظریں چراتے اپنے اپنے مقاصد کی تکمیل میں لگے تھے۔ پر باری کا یہ قدم انکے درمیان موجود آخری دیوار بھی گرا چکا تھا ۔
ادب پہلا قرینہ ہے” محبت “کے قرینوں میں۔جو ادب وآداب کی حدود سے تجاوز کرجائیں وہ “محبت” کی بددعا میں رہتے ہیں. جیسے اپنے انجام سے بے خبر وہ دونوں ہی محبت کی توہین در توہین کررہے تھے۔
