Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid NovelR50607 Tar e Ankaboot (Episode 14)
Rate this Novel
Tar e Ankaboot (Episode 14)
Tar e Ankaboot by Uzma Mujahid
گھر میں بجتی شہنائیوں کی آواز کسی ماتمی نوحے کی مانند محسوس ہو رہیں تھیں جب ملازمہ کی زبانی اسے حویلی کے مہمان کے قتل کی خبر ملی کتنی دیر وہ کچھ بولنے کی سکت ہی خود میں نہیں پا سکی۔
گھر میں ثقلین شاہ کی بیوی کی آمد گھٹن زدہ قفس میں ایک خوشگوار جھونکا تھی۔
بخت بھری انتہائی خوش مزاج خاتوں ثابت ہوئی تھیں۔زرمینہ شاہ اکثر اپنے حجرے سے باہر انکے ساتھ وقت گزارتیں اور گزرے دنوں نے مستقم شاہ اور سبطین شاہ کے بعد افق شاہ کو بھی انکی جھولی میں لا ڈالا۔
باری کی کمی انہیں بےکل رکھتی جب اکثر راتوں کو وہ حویلی میں بچوں کے رونے کی آوازیں سنتیں۔
وقت پنکھ بن کے اڑ رہا تھا ۔
بچے جوان ہونے لگے تھے حال ماضی بنتا جارہا تھا جب افق شاہ کی ضد پہ ثقلین شاہ کو ہار مانتے اسے پنجاب یونیورسٹ پڑھنے کیلئے بھیج دیا گیا۔ وہ بچپن سے ہر بات زرمینہ شاہ سے شئیر کرنے کی عادی تھی اور ایسے میں باری کا بار بار کا ذکر انہیں کئی بار اذیت میں مبتلا کردیتا لیکن ضروری تو نہیں تھا کہ وہ انکا باری ہو جبکہ اسکی والدیت بھی فیضان کے نام سے نا تھی۔
افق کی بغاوت ان کا دل لرزا جاتی لیکن وقت بدلنے کی امید انہیں چپ کروا جاتی جب افق نے انہیں ایک دن عجیب بات بتائے پریشان کردیا تھا۔
“مینہ پھوپھو پروفیسر وجدان ،ایلیاء انیتا سب ہمیشہ باری کے میں غلط سلط بولتے آخر کیوں اسکی بھلا میرے سے کیا دشمنی وہ واقعی مجھ سے محبت کرتا ہے۔”
افق نے منہ بناتے کہا۔
“وج وجدان کون؟”
زرمینہ کے دماغ میں گئے دنوں کی یاد لوٹی تھی۔
“وجدان قریشی ایک بار بتایا تھا نا باری کا میری وجہ سے ان پروفیسر سے جھگڑا ہو گیا تھا ۔تب تو مجھے معلوم ہی نہیں تھا وہ ان پروفیسر سے جیلس ہے لیکن نجانے وہ کیوں وہ ہر بار میری راہ میں آکھڑے ہوتے ہیں باری آگ ہے لو بھلا اگر وہ آگ ہے تو افق بھی ٹھنڈا پانی اسے بجھا دے گی۔”
افق نے ہنستے ہوئے بتایا تھا۔
زرمینہ شاہ کے دماغ میں جھکڑ چلنے لگے تھے۔
اور پھر افق کا بنا سوچے سمجھے ہر روایت کے خلاف جانے کی بازی اسے ہی توڑ گئی تھی۔
جب وہ لٹے پٹے مسافر کی طرح اسکے سامنے بیٹھی پوچھ رہی تھی باری کون ہے مینہ پھوپھو اسکی زرمینہ شاہ سے کیا دشمنی ہے؟”
✪✪✪✪
محبت میں ایسا مرکز بن جاؤ کہ
جہاں کشش ثقل تم کہلاؤ۔۔،
پھر سیارہ عشق چاہے لاکھ ستارے گھومے
اس نے رکنا آ کر مرکزی سیارے پر ہی ہے__
اس کا ہر آخری چکر
تمھارے گرد ہی ہو گا
اس کا مرکز تم ہی ہو گے
باقی مدار توازن کے لئے رہ جائیں گے
کہ جن کے گرد چکر لگانا فطرت ہو گی ضرورت نہیں۔۔
کلب میں ناچتے گاتے لڑکوں اور نیم برہنہ لباس پہنے لڑکیوں کو دیکھتے اسے متلی ہونے لگی تھی لیکن اسے سکون کیلئے کوئی اور جائے پناہ بھی نہیں ملی تھی۔
ایک ہفتے سے وہ گھر چھوڑے دربدر بھٹک رہا تھا۔
“سر کچھ لیں گے آپ؟”
کلب کے ویٹر نے باری کے سامنے خالی گلاس رکھتے پوچھا۔
باری کے سر ہلانے پہ اس نے وائن بھرتے اسے پکڑائی۔
“ہائے ہینڈسم۔۔”
سیاہ چمکتی نائٹی ڈریس میں ملبوس ایک لڑکی اسکے سامنے آٹہری تھی ۔
باری نے نیم خوابیدہ آنکھوں سے اسے دیکھا تھا۔
“ہائے آئی ایم میرال۔”
اس نے اپنا مخروطی ہاتھ آگے بڑھائے باری کے سامنے کیا تھا جسے بنا کسی تردد باری نے تھام لیا تھا۔
“وانا بی آ مائی ڈانس پارٹنر۔۔”
تیز چمکتی روشنی نے اسکے وجود کا گھیراؤ کیا تھا۔
کچھ دیر پہلے کی گئی ڈرنک اسکے حواسوں پہ چھانے لگی تھی۔
“شیور”اسکے نیم برہنہ وجود کو دیکھتے وہ مسکرایا تھا۔
اور پھر کتنی ہی دیر اسکی بانہوں میں اپنا سکون تلاش کرتے باری نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسا سکون اسے اس سے اصل شناخت چھین رہا تھا۔
“افق تت تم جانتی ہو میں نے تمہیں کتنا مس کیا ہے ،کہاں چلی گئی تھی تم ۔تم تو شراب سے بھی زیادہ بری عادت ثابت ہوئی۔لوٹ گئی باری کو۔”
میرال جو اسے امیر آسامی گردانتے بڑے آرام سے شکار بنائے کلب کے ساتھ بنے کمرے میں لائی تھی باری کی بات سنتے چونکی جو اسے اپنے بانہوں میں بھینچے ہر حد تجاوذ کرنے پہ تیار تھا۔
“اوہ باری آئی مس یو ٹو مائے لوو دیکھو تمہاری افق تمہارے پاس ہی ہے۔”
انتہائی مکاری سے اسکے حصار میں مقید میرال نے اپنے سیل سے ویڈیو آن کرتے سائیڈ پہ رکھا تھا۔
وہ جو افق کی مہک خود میں اتارنے کو تڑپ رہا تھا ایک انجانی مہک اسے حواسوں میں لائی تھی۔
“دد دور رہو مجھ سے۔۔تت تم مم میری افق نن نہیں ہوسکتی وہ ایس ایسے کپڑے نہیں ۔۔تم افق۔”
باری کا سر بوجھل ہورہا تھا۔
“تت تم نے مجھے ۔۔”
وہ جو پوچھنا چاہتا تھا کہ اس نے باری کے ڈرنک میں کیا ملایا ہے کثرت نوشی نے اسے حواس باختہ کیا تھا اور بے سدہ بستر پہ گرا تھا۔
میرال نے اسکی حالت دیکھتے افسوس بھری نگاہوں سے دیکھا باری کا یوں بے سدہ ہونا اسے غصہ دلا رہا تھا۔
اچانک ایک خیال بجلی کے جیسے دماغ میں کوندا تھا اس نے آگے بڑھتے باری کی شرٹ اتارے اسے بستر پہ سیدھا کیا۔
اسکی بے ہوشی کا بھرپور فائدہ اٹھاتے وہ کئی ایک نازیبا تصویریں کلک کرتی آگے فارورڈ کرنے لگی۔
“کام ہوگیا سر۔”
ایک بھرہور سمائلی بھیجتے ساتھ اس نے باری کو تاسف بھری نگاہوں سے دیکھا
“عبدلباری تم ایک سستی شراب کے نشے جیسے ہو جو فائدہ تو کوئی نہیں دیتی لیکن جگر جلا دیتی ہے۔”
تفر سے کہتے اس نے وہاں سے نکل جانا مناسب سمجھا ۔
✪✪✪✪
افق نے سیل اٹھایا جہاں دھڑا دھڑ موصول ہونے والے پیغامات نے اسے چونکایا واٹس ایپ کھولے اس نے آنے والے مسیجز کو دیکھا۔
بے ساختہ اپنے قریب رکھے صوفے کو پکڑا تھا۔انجانے نمبر سے مختلف انداز میں لی گئی باری کی برہنہ تصاویر تھیں اسے ایک دم ابکائی آئی تھی۔
“کتنے برے ہو تم باری اور میں افق شاہ خود کو ایک گندگی کے لوتھڑے سے نسب ونابود کرتی رہی۔”
اسکی آنکھوں سے درد کی شدت سے آنسوؤں رواں تھے جب بخت بھری بیٹی کے پاس آئیں۔
“کیا ہوا افق؟”انہوں نے اسے تھامے اپنے سامنے کیا۔
“نزاع کا عالم ہے،وحشت ہورہی ہے مجھے یہاں سے مجھے اس سب سے بہت دور جانا ہے ماں۔”
وہ روتے ہوئے انکے سینے سے لگی تھی۔
“آپکی افق زندگی کے نشان ڈھونڈتے راستہ بھٹک گئی ہے ماں۔”وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔بخت بھری ایک سیدھی سادی خاتوِن تھیں انہیں اسکی باتیں سمجھ نہیں آرہیں تو جو بڑبڑا رہی تھی۔
“بیٹی دوستوں کیلئے اداس ہورہی ہو تو شہر چلی جاؤ۔”
انہوں نے سیدھے دل سے اسے مشورہ دیا تھا۔
“ہاں ،ہمم جانا تو ہے ماں کچھ قرض واپس کرنے ہیں۔”
اداسی اسکے لہجے میں گھلی تھی اگلے دن وہ مینہ کو بتائے بغیر شہر آگئی تھی ۔
شہر کی زندگی ویسی ہی تھی ۔خوش وخرم ہر کوئی اپنی زندگی میں خوش۔افق کو احساس کمتری ہوتا تھا بے فکرے نوجوان لڑکے لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے۔
اسکا دل چاہ رہا تھا وہ ان ہنستے مسکراتے چہروں کی ہنسی نوچ لے۔لیکن وہ اس بات سے آگاہ ہی نہیں تھی کہ لوگ اتنا زندگی کو جی نہیں رہے تھے جتنا کہ ناٹک کررہے تھے۔ہر شخص اپنے اندر ایک کہانی لیے اس دنیا کا حصہ بنا ہوا تھا۔
“تمہیں پتا ہے افق عنیزے اور باری کے درمیان کافی سریس میٹر چل رہا سنا ہے باری نے اس سے شادی سے انکار کردیا ہے۔”ایلیاء نے اسے بتاتے سامنے اشارہ کیا جہاں باری دوستوں میں گھیرا کسی بات پہ قہقے لگا رہا تھا۔کتنا مطمئںن اور خوش تھا نا وہ افق کو اجاڑ کے ایک نظر اسے دیکھتے وہ چہرہ جھکا گئی تھی ۔
“یہ سراسر انکا ذاتی معمالہ ہے ایلیاء میں اس پہ کیا کہوں۔”اس نے اپنے گرد رکھے نوٹس سمیٹے کہا۔
“میں اداس ہوں افق یونیورسٹی ختم ہوجائے گی پھر تم ہمیشہ کیلئے اس شہر سے چلی جاؤ گی۔”
ایلیاء نے اسکے ہمقدم ہوتے کہا۔
جبکہ وہ ناچاہتے ہوئے بھی باری کی طرف اٹھتی نگاہوں کو روک نہیں پائی تھی۔
✪✪✪✪
باری کو لگ رہا تھا افق شاہ اپنی بازی ہارنے کے بعد واپا نہیں آئے گی لیکن اگلے دن یونیورسٹی دیکھ اسے حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔کیسی لڑکی تھی وہ ۔
باری شاید جانتا نہیں تھا وہ افق شاہ اگر وہ روایتوں سے ٹکرانے کیلئے انتہائی قدم اٹھا سّکتی تھی تو اپنے کرچی کرچی وجود کو بھی اکٹھا کرسکتی تھی۔
میرے پاس تک سے گزرے میرا حال تک نا پوچھا
یہ میں کیسے مان لوں کہ وہ دور جاکے روئے۔۔۔
پاس سے گزرتی افق اور ایلیاء کو دیکھتے بار نے سنوایا تھا وہ تلملا کے رہ گئی تھی۔
افق کو جواب کیلئے پر تولتے دیکھ ایلیاء کے اردگرد الارم بجنے لگے تھے جب وہ اسے کھنچنے لگی تھی۔
“تمہیں یہ غلط فہمی کیونکر ہوئی باری صاحب کہ افق شاہ تم جیسوں کیلئے جوگ لے گی۔افق شاہ ،افق کے اس پار چمکتا وہ درخشاں ستارہ ہے جسے تم جیسے حاصل کرکے بھی حاصل نہ کرپاؤں۔”
تمسخر سے کہتی وہ اپنے اور اسکے رشتے کو بھلا چکی تھی شاید۔
باری کا چہرہ خفت کے مارے سرخ پڑنے لگا تھا بنا سوچے سمجھے اس نے آگے بڑھتے افق کا بازو تھاما تھا نجانے وہ کن سوچوں میں تھی جسے باری کا ہاتھ لگانا وبال پیدا کرگیا ۔بنا سوچے سمجھے اسکا ہاتھ اٹھا تھا۔
وہاں موجود تمام اسٹوڈنٹس ہکا بکا سے انہیں دیکھ رہے تھے ۔
درختوں پہ بیٹھی کوئل نےاداسی سے اس منظر کو دیکھا۔اس نے کئی بار شرارتی اور محبت بھرے جملے سنے تھے اور آج انہی دونوں کی نفرت کی انتہا اسے بھی دکھی کررہی تھی۔پنجاب یونیورسٹی کا پتا پتا حیران تھا ابھی زیادہ عرصہ تو نہیں گزرا تھا جب انہوں نے باری کو افق شاہ کے لیے بھنورا بن کے اڑتا دیکھا تھا اور وہ بھی کسی کوئل کی طرح صرف باری کے گیت گاتے دکھائی دیتی تھی۔
“تم تمہاری اوقات کیا ہے افق شاہ۔”
اسکی آنکھوں سے ایک سیلاب سا رواں ہونے لگا تھا جبکہ اسکا لہجہ اتنا سخت نہیں تھا جتنا ہونا چاہیئے تھا۔
“اور تم کیا چیز ہو باری ،تمہاری کیا اوقات ہے یہ۔۔”
افق نے موبائل سے اسکی تصاویر نکالتے سامنے کیا۔وہ اسے روک ہی نہیں پایا تھا جسکی انگلیاں سرعت سے ایک ایک منظر کو آگے کررہی تھیں۔
“افق مت کرو۔۔”اسٹوڈنٹس کو انتہائی دلچسپی سے باری کی تصاویر دیکھتے اور گوسپ کرتے دیکھ ایلیاء چلائی تھی۔
“کیوں ؟کیوں ایلیاء اگر مر افق شای گئی ہے تو زندہ رہنے کا حق اسے بھی نہیں ہونا چاہیئے کس حق سے یہ افق پہ انگلی اٹھانے آیا تھا۔”
افق نے سختی سے اپنا بازو ایلیاء کی گرفت سے آزاد کروایا۔
باری حیران سا تھا موبائل اسکے سامنے سے ہٹ چکا تھا لیکن اسکی آنکھوں کے سامنے وہ منظر رک سے گئے تھے جہاں زرمینہ شاہ اور افق شاہ پہ انگلی اٹھانے والا عبدلباری پارسائی کے دعوایداری سے خارج ہوچکا تھا۔
“یہ سب جھوٹ ہے۔”
گہری نیند سے بیدار ہوتے اس نے کمزور احتجاج کیا تھا۔
“ترس آرہا ہے تم پہ باری اور شرم بھی کہ کبھی افق شاہ نے تم جیسے شخص سے عقد کیا تھا۔”
افق کا انکشاف ایک اور جھٹکا تھا۔
وہ اپنے اور اسکے رشتے پہ نادم تھی وہ رشتہ جو عرش معلٰی پہ بہترین قرار دیا گیا۔وہ رشتہ جو آئیندہ آنے والی نسلوں کی شناخت ہوتا۔
سب لوگوں کی دبی دبی سرگوشیاں انہیں ایک اور ہاٹ ٹاپک مل گیا تھا ایلیاء اور اسٹوڈنٹس کے ذریعے اس تماشے کو دیکھنے آئی عنیزے بھی اس انکشاف پہ حیران تھیں۔اتنی بڑی بات انہوں نے کیسے چھپا لی تھی اور اگر یہ سچ تھا تو اتنے برے طریقے سے اسے کیوں ایکسپوز کیا جارہا تھا کئی ایک نئے سوال جنم لے رہے تھے ۔
مبشر نے آگے بڑھتے باری کو تھاما تھا اور ایلیاء افق کو مزید کچھ بولنے سے روکنے کیلئے وہاں سے کھنچتی لے گئی۔
اداس بیٹھی کوئل نے غمزدہ محبت سے ہمدردی کی لیکن اسکی آنکھوں میں انتقام کی روش دیکھتے وہ تاسف سے سرجھکا گئی۔معراج کے اونچے مسند پہ لیے جانا والا انسان جو ہر طرح سے برتر تھا محبت اسے یوں خود کمتر کرتا دیکھ برداشت نہیں کرپائی تھی۔اپنی ہتک کرنے والوں کو کبھی نا معاف کرنے کا سوچتی وہ بھی ہٹ گئی تھی۔
