Shoq Zawal by Eman Khan NovelR50404 Shoq Zawal Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Shoq Zawal Episode 9
Shoq Zawal by Eman Khan
وہ بے تابی سے ہاسپٹل کے وارڈ کے باہر چکر کاٹ رہا تھا۔۔۔۔۔بے چینی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔۔۔۔
ملک دیوار کے ساتھ ٹیک لگاۓ ایک طرف کھڑا اس کا جاٸزہ لے رہا تھا
چہرے سے مطمٸین لگتا تھا
اس نے اتنا آور ڈوز دیا تھا کہ اسے سو فیصد یقین تھا کہ اس سے نھار کی موت واقع ہو گی۔۔۔۔۔
آروی کا چہرہ ہنوز سپاٹ تھا لیکن وہ نھار کے لیے فکر مند لگتا تھا۔۔۔۔۔۔
اور ملک کو یہی چیز کھٹک رہی تھی۔۔۔۔۔
وارڈ سے جیسے ہی لیڈی ڈاکٹر باہر نکلی وہ تیزی سے اس طرف لپکا۔۔۔۔۔۔
ملک کے بھی کان کھڑے ہو گۓ تھے لیکن وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلا تھا
”کیسی ہے ڈاکٹر صاحبہ اب وہ۔۔۔۔“؟؟
وہ فکرمندی کو چھپانے کی ناممکن کوشش کرتے ہوۓ پوچھ رہا تھا۔۔۔۔
پیشنٹ کو بہت خطرناک قسم کا زہر دیا گیا تھا
ملک کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے
لیکن۔۔۔۔۔چونکے انہیں بروقت ادھر پہنچا دیا گیا اس لیے زہر ذیادہ اثر نہیں کر سکا۔۔۔۔۔۔۔
ملک کی مسکراہٹ معدوم پڑی۔۔۔۔۔
ان کا معدہ واش کر دیا گیا ہے اب وہ خطرے سے باہر ہے۔۔۔۔۔
ڈاکٹر مذید بول رہی تھی اور ملک کی مسکراہٹ بالکل سمٹ گٸ تھی۔۔۔۔
”آصف نے جیسے سکھ کا سانس لیا تھا وہ اب پہلے سے مطمٸین لگ رہا تھا۔۔۔۔
اس نے پلٹ کر ملک کی طرف دیکھا آنکھوں میں۔۔۔۔۔نرمی کا عنصر تھا۔۔۔۔۔
یہ پتھر موم کیوں ہو رہا تھا۔۔۔۔“؟؟
ایسا عنصر اتنے سالوں میں ملک نے کبھی اس کی آنکھوں میں نہیں دیکھا تھا
وہ زبردستی مسکرایا ۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر آگے بڑھ کر آصف کے کندھے پر ہاتھ رکھ کے وہ آگے بڑھ گیا
جب آصف کی آواز اس کے کانوں کے ساتھ ٹکراٸی۔۔۔۔
”مجھے وہ انسان اگلے ایک گھنٹے تک چاہیۓ ۔۔۔۔۔“
ملک پلٹا۔۔۔۔۔۔۔
ذندہ یا مردہ۔۔۔۔۔“
وہ چلتا چلتا ملک کے بالکل قریب آکے سفاکیت سے بولا۔۔۔۔
ملک کچھ دیر کھڑا اس کو دیکھتا رہا پھر سر ہلا کے آگے بڑھ گیا
اس کے اندر آندھیاں چل رہی تھی۔۔۔
اس کی چال کامیاب نہیں ہو پاٸی تھی۔۔۔۔۔۔
@@@@@
ایلاف کے ساتھ اس کی پہلی نا خوش گوار ملاقات ان کی پہلی پیشی پہ ہوٸی تھی۔۔۔۔۔
عدالت کھچا کھچ لوگوں سے بھری پڑی تھی عجیب سا شور تھا طرح طرح کے لوگ گزر رہے تھے یہاں کسی کو کسی سے غرض نہیں تھا ایک طرف پولیس کی گاڑیاں کھڑی تھی جن میں مجرموں کو لایا جا رہا تھا۔۔۔
ہر چہرے پہ پیشمانی تھی یہ وہ واحد جگہ تھی جہاں کم ہی لوگوں کے چہرے پہ خوشی دیکھاٸی دیتی تھی
ہر چہرے پہ فکرمندی تھی کسی کو کسی دوسرے کی ذات سے دلچسپی نہیں تھی
یہاں دشمن نہیں حریف ہوا کرتے ہیں۔۔۔۔۔
یہ وہ واحد جگہ ہے جہاں مجرم کلاٸنٹ ہوتا ہے
کالے کوٹ پہنے وکلا۶ یہاں سے وہاں گھوم رہے تھے
اس شور و غل سے بیگانہ وہ ایک طرف کھڑا تھا۔۔۔۔۔آج وہ سفید رنگ کی ٹی شرٹ نیچے بلیک پینٹ پہنے ۔۔۔۔۔پریشان سا کھڑا تھا
چہرے سے وہ تھکا تھکا لگتا تھا
ایسا انسان جس نے لمحوں میں صدیوں کی مسافت طے کی ہو۔۔۔۔۔
اسے اس منظر سے کوٸی دلچسپی نہیں تھی
اس کا وکیل چلتا چلتا اس کی طرف آیا تھا
”میجر صاحب۔۔۔۔۔۔“؟؟کیسے ہیں آپ۔۔۔۔“؟؟
ادھیڑ عمر شخص جس کے سر کے سفید بال بھی تقریباً گر چکے تھے ناک پہ چشمہ ٹکاۓ۔۔۔۔۔ہاتھوں میں مختلف فاٸلیں پکڑے خوش گواری سے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اس نے محض سر ہلا دیا
”میڈم نہیں پہنچی ابھی تک۔۔۔۔“؟؟
ایڈوکیٹ خورشید صاحب نے نظریں یہاں وہاں گھما کے دیکھا۔۔۔۔
انزق ان کا اشارہ سمجھ چکا تھا
اس کے دل میں اس کے ذکر سے ہی درد کی شدید ٹیس اٹھی ۔۔۔۔۔جو اس کی رگوں میں سرایت کرنے لگی۔۔۔۔۔
”آپ یہ کیس جیت جاٸیں گے نا۔۔۔۔۔“؟؟
اس کے لہجے میں آس تھی۔۔۔۔۔
خورشید صاحب نے عینک درست کرکے اس کے دیکھا
”اپنی طرف سے کوشش کروں گا۔۔۔۔۔ویسے یہ خلع کا کیس ہے اور عورت کی طرف سے داٸر ہوا ہے۔۔۔۔۔“
ایک دو پیشیوں میں ختم ہو جاۓ گا۔۔۔۔“
وہ اسے سرسری بتانے لگے۔۔۔۔
”بی بی کے بیان پہ مخصر ہے۔۔۔۔۔۔“خلع کے کیس میں وکیل تو یوں بھی فارمیلٹی ہوتے ہیں۔۔۔۔“
وہ اب قریب پڑی ٹیبل پہ فاٸل رکھ کے فاٸل میں رکھے صفحات کو دیکھ رہے تھے
وہ غاٸب دماغی سے ان کی باتیں سن رہا تھا
جب لوگوں کے ہجوم میں سے اسے وہ چلتی ہوٸی دیکھاٸی دی
اس کی حالت دیکھ کے انزق کے دل کو کچھ ہوا
آسمانی رنگ کی قمیض شلوار اور سر پہ سلیقے سے دوپٹہ اوڑے وہ شان بے نیازی سے چلتی ہوٸی آرہی تھی
ساتھ ہی سلیقے سے شال اوڑھ رکھی تھی
اس کی رنگت ذرد اور آنکھوں کے نیچے پڑے حلقے رت جگوں کی عمازی کر رہے تھے۔۔۔۔
ایک لمحے کے لیے اس کی نظریں اٹھی جو سامنے کھڑے انزق کی نظروں کے ساتھ ٹکراٸی
آنکھوں میں چبھن ابھری اور اگلے ہی لمحے چبھن کی جگہ اجنبیت نے لے لی
وہ تڑپ کے رہ گیا
وہ چلتی چلتی بینچ پہ بیٹھ کے یہاں وہاں دیکھنے لگی
وہ تیزی سے چلتا ہوا اس طرف آیا
”ایلاف“
اضطرابی کیفیت میں وہ اسے پکار اٹھا
”جو بات ہو گی اب جج صاحب کے سامنے ہو گی۔۔۔۔۔“
وہ ہاتھ اٹھا کے سرد لہجے میں بولتے ہوۓ رخ موڑ گٸ۔۔۔۔۔
اور وہ وہی بے بسی سے کھڑا رہ گیا
@@@@@@
نھار کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو ایک انجان جگہ پہ پایا
اس نے سر اٹھا کے ادھر ادھر دیکھنے کی کوشش کی لیکن کمزوری اور نقاہت کی وجہ سے وہ اٹھ نہ پاٸی۔۔۔۔
باہر آروی کھڑا تھا جو بغور نرس کی ہدایات سن رہا تھا۔۔۔۔۔
اسی لمحے آروی کے ہاتھ میں پکڑا موباٸل تھرتھرانے لگا۔۔۔۔۔۔
وہ نرس سے ایکسیوز کرتا ایک طرف جاکے کھڑا ہو گیا
کال پک کر کے موباٸل کان کے ساتھ لگایا ۔۔۔۔
دور اس بڑے سے بنگلے کی کھڑکی کے پاس کرسی پہ ٹانگ پہ ٹانگ جماۓ ملک بیٹھا تھا۔۔۔۔
موباٸل کان کے ساتھ لگاۓ وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ بیٹھا تھا
ایک ہاتھ ٹیبل پہ جما رکھا تھا جہاں کوٸی پرانے طرز کا ڈیکوریشن پیس پڑا تھا۔۔۔۔۔
”تمھارے لیے ایک خبر ہے ۔۔۔۔۔۔“
وہ سپاٹ لہجے میں بولا
دوسری طرف آصف اسے سن رہا تھا۔۔۔۔۔
”اس لڑکی کی مسخ شدہ لاش میں نے دریا میں پھنکوا دی ہے۔۔۔۔۔“
وہ بے تاثر لہجے میں بول رہا تھا
آصف کے تنے ہوۓ اعصاب ڈھیلے پڑے اس نے کال کاٹ دی
اور ایک دفعہ پھر نرس کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔
ملک ۔۔۔۔اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا پھر چلتا چلتا اس طرف گیا جہاں وہ لڑکی کھڑی کانپ رہی تھی
ملک نے دراز سے پانچ ٹکٹ نکال کے اس کی طرف بڑھاۓ۔۔۔۔۔
”آروی کی نظر میں اب تم مر چکی ہو۔۔۔۔۔۔اور اب اگر تم اسے ذندہ نظر آٸی تو وہ تمہیں ذندہ نہیں چھوڑے گا۔۔۔۔۔“
ملک نے ٹکٹ اس کانپتی لڑکی کی آنکھوں کے سامنے لہراتے ہوۓ اسے خبردار کیا۔۔۔۔۔
اس لڑکی نے ٹکٹ اس کے ہاتھ سے لیتے ہوۓ تشکر بھری نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔
”آصف سر آپ کی باتوں پہ بہت اعتبار کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔“
وہ لڑکی پتہ نہیں کیا کہنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔
”اور ہم شکست بھی انہی کے ہاتھوں سے کھاتے ہیں جن پہ ہم اعتبار کرتے ہیں۔۔۔۔“
وہ مدہم سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔۔۔۔
وہ لڑکی آگے بڑھ گٸ۔۔۔۔۔
ملک اب موباٸل پہ کوٸی نمبر ڈاٸل کر رہا تھا۔۔۔۔۔
”اس لڑکی کا تعاقب کرو اور عین اس موقع پہ جب یہ ساری فیملی اکھٹی ہو ختم کر دو۔۔۔۔۔“
وہ ہدایات دیتے ہوۓ دوبارہ کرسی پہ مطمٸین سا بیٹھ گیا
آنکھیں کسی بھی پچھتاوے سے پاک تھی۔۔۔۔۔
@@@@@@
نھار کو ہسپتال سے لوٹے ہوۓ آج تیسرا دن تھا وہ نقاہت ذدہ سی بیڈ کے ساتھ ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی
جب ملازمہ نے اسے ملک کے آنے کی اطلاع دی
وہ دوپٹہ درست کرتی ذرا سیدھی ہو کے بیٹھی۔۔۔۔۔۔
ملک مسکرا کے دروازے سے اندر داخل ہوا۔۔۔۔۔بلیک کلر کے تھری پیس سوٹ میں وہ مسکراتا ہوا اس طرف آیا جہاں وہ بیٹھی تھی۔۔۔۔
”مجھے افسوس تھا کہ آپ ایک سازش کا شکار بن گٸ تھی نھار۔۔۔۔“
وہ وہی کھڑے کھڑے اس کا جاٸزہ لیتے ہوۓ دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ بھول رہا تھا
وہ سر اٹھاۓ نرم سے تاثرات کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
”لیکن آپ کو پہلے سے بہتر دیکھ کے مجھے خوشی ہوٸی ہے
وہ اب صوفے پہ بیٹھ رہا تھا۔۔۔۔۔
”آروی کے بہت سے دشمن ہے تب ہی میں آپ کو یہاں یوں رکھنے کے خلاف تھا۔۔۔۔۔“
اس کے لہجے میں مٹھاس تھی۔۔۔۔۔
”میرے پاس یہاں رہنے کے سوا کوٸی دوسرا راستہ نہیں ہے۔۔۔۔۔“
وہ مایوسی سے بولی ساتھ ہی سر پہ دوپٹہ درست کیا۔۔۔۔۔
”یہ موقع تو نہیں ہے لیکن بس اپنی تسلی کے لیے میں آپ کے ماضی کے بارے میں کچھ جاننا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔“
اس نے تھوڑا ہچکچاتے ہوۓ پوچھا
وہ غیر آرام دہ سی لگ رہی تھی۔۔۔۔
”گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اس ۔۔۔۔۔پوری دنیا میں اگر آروی کے ساتھ کوٸی مخلص ہے تو وہ میں ہوں۔۔۔۔“تم مجھ پہ اعتبار کر سکتی ہو۔۔۔۔۔“
اس نے مسکرا کے پیش کش کی وہ مسکرا بھی نہ سکی۔۔۔۔۔
اسی لمحے دروازے پہ دوبارہ دستک ہوٸی
نھار نے سر اٹھا کے دیکھا پھر وہ پرسکون سی دکھنے لگی
ملک نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا پھر وہ اپنی جگہ سے ہل نہ سکا
دروازے پہ آصف کھڑا تھا
