Shoq Zawal by Eman Khan NovelR50404 Shoq Zawal Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Shoq Zawal Episode 18
Shoq Zawal by Eman Khan
آسمان پہ چمکتا سورج آگ اگل رہا تھا۔۔۔۔۔صبح اب باسی ہو چکی تھی۔۔۔۔۔۔نھار نے بے چینی سے کوٸی دسویں بار سر اٹھا کہ گھڑی کو دیکھا جو دن کے بارہ کا ہندسہ عبور کر چکی تھی۔۔۔۔۔۔اس کی مایوسی میں مذید اضافہ ہوا آصف کل صبح کا نکلا ہوا تھا اور ابھی تک واپس نہیں آیا تھا اس نے اس کا نمبر بھی ڈاٸل کیا تھا لیکن اس کا نمبر بند آرہا تھا
سب سے تشویش ناک بات یہ تھی کہ ملک سے بھی رابطہ نہیں ہو پارہا تھا۔۔۔۔۔۔
گھر کے ملازموں کو بھی ان کے متعلق کوٸی علم نہیں تھا۔۔۔۔۔
اور یہی بات نھار کی پریشانی میں اضافہ کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
دور شیشوں کے بنے اس کیون میں وہ کھڑا تھا وردی میں ملبوس۔۔۔۔۔چہرے پر سختی تھی۔۔۔۔۔۔
اس کے بالکل سامنے ایک نوجوان جس نے وردی ہی پہن رکھی تھی سر جھکاۓ کھڑا تھا۔۔۔۔۔
اس کے چہرے پر پریشانی تھی۔۔۔۔۔۔
”سر میں نہیں جانتا کہ وہ کس وقت ہماری گرفت سے بھاگ نکلے اس دفعہ ہماری تیاری بالکل مکمل تھی۔۔۔۔۔۔“
کپٹین شہریار نے سر اٹھا کر کمزور سی صفاٸی پیش کی ۔۔۔۔۔۔
یہ تو تم لوگوں کی نااہلی ہے۔۔۔۔۔۔“
اس نے پیچھے پلٹے بغیر ۔۔۔۔۔سرد لہجے میں کہا تو شہریار کا سر مذید جھک گیا
یہ اس کے کیرٸیر کا پہلا۔۔۔۔۔مشن تھا جس میں وہ بری طرح ناکام ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔
اس کے دل میں آصف شاہ کے لیے نفرت اور غصہ کچھ ذیادہ بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔
”سر ابھی بھی ایک راستہ ہے جس کے ذریعے۔۔۔۔۔ہم آصف شاہ کو اپنی گرفت میں لا سکتے ہیں۔۔۔۔۔“
ایک خیال کے آتے ہی شہریار کی آنکھیں چمکی پھر وہ تیزی سے بولا
انزق نے گردن ترچھی کر کے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔
”آصف شاہ کی بیوی۔۔۔۔۔“
اس نے پرجوش ہوتے ہوۓ کہا تو انزق کی رگیں تن گٸ کوٸی پچھلا منظر اس کی یاد کے نہاں خانوں پر ابھرا۔۔۔۔۔
”تم وردی والے بہت ظالم ہوتے ہو۔۔۔۔۔۔“
”نہیں ہم عورتوں کو نہیں گھسیٹیں گے اس معاملے میں۔۔۔۔“
انزق نے گردن موڑے بغیر ہاتھ اٹھا کر اسے ٹوک دیا۔۔۔۔۔۔
شہریار کا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔۔۔۔
”لیکن سر اس میں غلط کیا ہے قانون کی رو سے بھی یہ جاٸز ہے کہ اگر مجرم موجود نہ ہو تو اس کی جگہ اس کے کسی قریب کو لے جایا جاسکتا ہے۔۔۔۔“
اس نے آگے بڑھ کر تیزی سے اپنی بات پر ذور دیا
وہ کسی بھی حالت میں اب آصف کو نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔
انزق خاموش رہا۔۔۔۔۔
”سر میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ۔۔۔۔۔۔ہم اس کی بیوی کو کوٸی نقصان نہیں پہنچاٸیں گے ۔۔۔۔۔“بس۔۔۔۔اس کے ذریعے آصف کو یہاں تک لے کے آٸیں گے۔۔۔۔۔“
شہریار اب سنجیدگی سے انزق کو سمجھا رہا تھا اور انزق ہنوز گردن موڑے کھڑا تھا
”سر مجھے ایک آخری موقع دے دیں اس دفعہ میں آپ کو مایوس نہیں کروں گا۔۔۔۔۔۔“
اس نے آگے بڑھ کر انزق کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک عزم سے کہا
تو انزق نے محض سر ہلا دیا
”کٸ دفعہ ہمیں بولڈ اسٹیپ لینے پڑھتے ہیں ۔۔۔۔۔ماضی کے کچھ تلخ تجربوں کو ایک طرف رکھتے ہوۓ۔۔۔۔۔“
دور نھار ابھی تک بیٹھی ۔۔۔۔۔۔آصف کی واپسی کی منتظر تھی۔۔۔۔۔۔
آج وادی کے سارے اونچے قد آور پیڑ افسردگی کا شکار تھے تیز ہواٸیں بھی مدہم تھی۔۔۔۔۔اور پیڑ پہ بیٹھی افسردہ سی کوٸل خاموش سی بیٹھی تھی ایسے میں مٹی کا بنا وہ کچا سا مکان دھوپ میں جھلس رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اور وہ اندر پرانا بوسیدہ سا لباس پہنے کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔بال بکھرے ہوۓ تھے اور سر پہ دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا جو جگہ جگہ سے پھٹ چکا تھا
ہاتھ میں پانی کی چھوٹی سی بالٹی پکڑ رکھی تھی اور وہ پانی کی بالٹی میں ہاتھ ڈال کے کچی ذمین پر پانی کا چڑھکاٶ کر رہی تھی۔۔۔۔
رنگت ذرد ہو چکی تھی لیکن چہرے پر اطمینان تھا۔۔۔۔۔
دور چارپاٸی پہ بیٹھی نگینہ نے کچھ دکھ اور یاسیت سے اسے دیکھا
ذندگی ہمیں کہاں سے کہاں لے آتی ہے ۔۔۔۔۔
”انسان کم از کم اپنے نصیب سے نہیں لڑ سکتا۔۔۔۔۔۔
اور اس کی جیتی جاگتی مثال ایلاف تھی۔۔۔۔۔۔
”اس کے خواب اونچے تھے اس نے LLB کرنی تھی۔۔۔۔۔اس نے ایک میجر کے گھر کی ملکہ بننا تھا اور آج وہ یوں ایک کچے مکان میں کھڑی تھی
”نصیب کے کھیل انسان کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔۔۔۔۔“
نگینہ دکھی دل سے اٹھ کر ایلاف کے پاس جاکے کھڑی ہو گٸ۔۔۔۔۔
اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو ایلاف پلٹی۔۔۔۔۔
”ارے نگینہ تم کیوں دھوپ میں آگٸ۔۔۔۔۔“
اس نے مسکراتے ہوۓ پوچھا پھر بالٹی میں موجود بچا کچا پانی بھی ذمین پہ گرا دیا۔۔۔۔۔۔
”ایلاف تو یہ سب کرنے کے لیے تو نہیں بنی تھی۔۔۔۔۔“
نگینہ اپنی بچپن کی دوست کی یہ حالت دیکھ کر خود پہ قابو نہ پاسکی اور اسے گلے لگا لیا
ایلاف حیران سی اس سے لپٹ گٸ۔۔۔۔۔۔
”کیا مطلب نگینہ “؟؟میں خوش ہوں اس ذندگی سے۔۔۔۔۔“
وہ اسے خود سے دور کرتے ہوۓ نظر چرا کر بولی۔۔۔۔۔۔
”تو نہیں ہے خوش تو سب سے جھوٹ بول سکتی ہے لیکن مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتی۔۔۔“
وہ نم آنکھوں کے ساتھ جذباتی کیفیت میں بول رہی تھی
اور وہ اپنے آنسو چھپانے کی بامشکل کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
”میں جانتی ہوں تو ابھی تک انزی بھاٸی کو بھولی نہیں ہے وہ آج بھی تیرے دل کے کسی کونے میں بستے ہیں۔۔۔۔۔“
نگینہ نے اسے جھنجھوڑتے ہوۓ اسے احساس دلانا چاہا۔۔۔۔
”انزق کہاں سے آگیا بیچ میں۔۔۔۔۔“؟؟
اس نے اپنا بازو نرمی سے چھڑاتے ہوۓ۔۔۔۔۔۔چڑ کر کہا۔۔۔۔۔۔
”اپنے ساتھ جھوٹ بولنا چھوڑ دو ایلا۔۔۔۔۔“مان لو کہ تمہیں انزق سے آج بھی اتنی ہی محبت ہے جتنی پہلے تھی۔۔۔۔۔“
اس نے ایلاف کو کسی بچے کی طرح پچکارتے ہوۓ سمجھانا چاہا۔۔۔۔
”مان لینے سے کیا ہوگا نگینہ “؟؟
وہ ٹھہرے ہوۓ لہجے میں بولی
لہجے میں دکھ واضح تھا۔۔۔۔۔
”کیا انزق مجھے واپس مل جاۓ گا ہم دونوں کی ذندگیاں پہلے کی طرح ہو جاٸیں گی۔۔۔۔“؟؟
وہ سوال پوچھتے ہوۓ آزردگی سے مسکراٸی۔۔۔۔۔
اس کے چہرے پہ اذیت واضح تھی۔۔۔۔۔
”لیکن انزق بھاٸی کو چھوڑنے کا فیصلہ تمہارا اپنا تھا۔۔۔۔۔“
نگینہ نے اسے یاد دلایا۔۔۔۔
”ہاں میرا اپنا فیصلہ تھا“ یہ نہیں تھا کہ میں انزق سے بدگمان تھی یا مجھے اب اس سے محبت نہیں رہی تھی۔۔۔۔۔“
اس نے سر اٹھا کے نگینہ کی طرف دیکھا نگینہ کی آنکھیں نم تھی
”بلکے حقیقت تو یہ تھی کہ اتنا سب ہونے کے بعد میں خود کو انزق کے قابل نہیں سمجھتی تھی۔۔۔۔۔“
اس نے حقیقت کا اقرار کیا تھا۔۔۔۔۔
”وہ ایک مکمل مرد تھا اور میں ایک ادھورہ وجود۔۔۔۔۔“
اس نے تلخی سے کہا۔۔۔۔
”میں اس سے اس کی وردی سے کبھی بدگمان نہیں تھی میں اس کی قربانیوں سے واقف تھی۔۔۔۔“
لیکن میں خود کو اب اس کے قابل نہیں سمجھتی ۔۔۔۔
نگینہ کے تاثرات میں دکھ گھلتا جا رہا تھا
وہ لڑکی اپنے دل میں کیا کچھ دبا کے بیٹھی تھی اس نے کیا کچھ برداشت کیا تھا۔۔۔۔۔
”ایلاف تم نے جذبات میں آکے جو بھی فیصلہ کیا ہے وہ غلط کیا ہے لیکن اب جو ہونا تھا وہ ہو گیا ہے لیکن میری ایک بات یاد رکھنا اللہ کی ذات بہترین انصاف کرنے والی ہے بہت جلد تمہارا انصاف بھی ہو گا اور تمہارا دشمن بے نقاب ہو گا۔۔۔۔۔“
نگینہ نے آنسو صاف کرتے ہوۓ گھٹنوں کے بل بیٹھ کے اسے تسلی دی تو وہ مذید ضبط برقرار نہ رکھ سکی اور اس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔۔
شام کے ساۓ اب تبدیل ہو کے گہری رات میں بدل رہے تھے۔۔۔۔۔۔وہ ابھی تک بے چین سی کمرے میں بیٹھے آصف کا نمبر ڈاٸل کر رہی تھی دل میں طرح طرح کے وسوسے سر اٹھا رہے تھے۔۔۔۔
وہ سفید پرنٹڈ شرٹ اور کیپری پہنے ۔۔۔۔۔بالوں کا ڈھیلا سا جوڑا بناۓ کافی پریشان اور بے چین لگ رہی تھی
جب اسی لمحے۔۔۔۔۔۔“
پولیس کا محصوص ساٸرن اس کی سماعتوں سے ٹکرایا وہ چونک کر پیچھے پلٹی۔۔۔۔۔۔
کھڑکی سے پردہ ہٹا کر دیکھا تو پولیس کی گاڑیاں اس کے گھر کا محاصرہ کر چکی تھی
اس کے چہرے پر پہلے تشویش پھر پریشانی ابھری
کہیں آصف گرفتار تو نہیں ہو گیا۔۔۔۔“
پہلی سوچ اس کے ذہن میں یہی ابھری۔۔۔۔۔
پولیس اب وہاں کھڑی۔۔۔۔۔مسلسل دروازہ کھولنے کی ہدایت دے رہی تھی۔۔۔۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آرہی تھی۔۔۔۔۔۔کہ۔۔۔۔۔یہ سب ہو کیا رہا ہے۔۔۔۔
اس نے کھڑکی کا پردہ سرکایا تو دیکھا وہاں آرمی کی بھی کچھ گاڑیاں کھڑی تھی
وہ سمجھ چکی تھی کہ معاملہ سنگین ہے
وہ نہیں جانتی تھی کہ۔۔۔۔۔آصف کہاں ہے“؟؟
وہ گرفتار ہو چکا ہے یا پھر “
اس سے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی
اسی لمحے اس کے دروازے پر ذور سے دستک ہوٸی۔۔۔۔۔“
اس نے تیزی سے دروازہ کھولا تو۔۔۔۔باہر آصف کا خاص وفادار پھولے ہوۓ تنفس کے ساتھ کھڑا تھا
اس کے چہرے پہ دہشت واضح تھی۔۔۔۔۔
”میڈم آروی سر بھاگ چکے ہیں آرمی ان کی تلاش میں یہاں وہاں چھاپے مار رہی ہے“
وہ ادھر آپ کو لینے آۓ ہیں۔۔۔۔۔“
آپ کمرے سے باہر مت نکلیۓ گا ۔۔۔۔۔جب تک ہم آپ کو یہاں سے باحفاظت باہر نہ نکال لیں۔۔۔۔۔“
تھری پیس سوٹ پہنے وہ بکھرے ہوۓ حلیے والا شخص۔۔۔۔۔اسے ایک ہی سانس میں ہدایت دیتے ہوۓ اب وہاں سے جاچکا تھا
اور نھار اس اچانک افتاد کے ساتھ سن دماغ کے ساتھ کھڑی تھی۔۔۔۔
”یعنی آصف بھاگ گیا تھا“؟؟؟
”نھار کو یوں اکیلے چھوڑ کر۔۔۔۔“
دکھ اس کے دل میں بسیرے ڈالنے لگا اور آنکھیں بس بہنے کو بے تاب تھی
باہر اب فاٸرنگ کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔۔۔۔۔۔
اسے نہیں پتہ تھا باہر کیا ہو رہا تھا لیکن وہ ایک بات جانتی تھی کہ۔۔۔۔۔
جو بھی تھا آصف کے ساتھ جو لوگ تھے وہ اس کے ساتھ بہت وفادار تھے۔۔۔۔۔
وہ کسی قیمت پہ نھار کو فوج کے حوالے کرنے پہ تیار نہیں تھے۔۔۔۔۔
”اور نھار وہاں کھڑی یہ سوچ رہی تھی کہ اگر وہ گرفتار ہو گٸ تو وہ یہ سب اکیلے کیسے سنبھالے گی۔۔۔۔اسے یہاں سے لے جایا جاۓ گا اسے میڈیا پہ لا کے پریشرراٸز کیا جاۓ گا۔۔۔۔۔اس سے طرح طرح کے سوالات ہونگے۔۔۔۔۔“اور آصف شاہ کا حوالہ اس کے لیے سب سے بڑا گناہ بن جاۓ گا۔۔۔۔۔“
ان سوچوں کی وجہ سے اس کے دماغ کی نسیں پھٹنے لگی تھی
وہ وہی بیڈ پہ بیٹھ گٸ سر دونوں ہاتھوں میں گرا لیا۔۔۔۔۔
باہر ہنوز فاٸرنگ ہو رہی تھی
اس نے سر اٹھا کر دیکھا پھر کھڑکی کا پردہ تھوڑا سرکا کے سہمی ہوٸی نظروں سے باہر کے حالات دیکھے۔۔۔۔“
اور اگلے ہی لمحے وہ وہی پتھر کی بت بن گٸ
اس کی نظر شیشے کے پار جس ہستی پہ پڑی تھی۔۔۔۔۔اس کی نظریں وہی جم گٸ تھی۔۔۔۔
اسے لگا اس کی نظر کا دھوکہ ہے۔۔۔۔۔“
ایسا نہیں ہو سکتا “
وہ دو قدم پیچھے ہٹنے لگی۔۔۔۔
”اسے تو بتایا گیا تھا کہ اس کا بھاٸی مر گیا ہے۔۔۔۔“
لیکن یہ تو انزق ہی تھا اس کی نظریں کیسے دھوکا کھا سکتی تھی
یہ کیا ہو رہا ہے قسمت میرے ساتھ کیسے کیسے کھیل کھیل رہی ہے۔۔۔۔۔“
اس نے دونوں ہاتھ اپنے ہونٹوں پہ سختی سے جما کے اپنی سسکی گا گلا گھونٹ دیا
”اس نے ایک دفعہ پھر بغور دیکھنے کی کوشش کی جو گاڑی سے اتر کر اب ایک نوجوان لڑکے کو کوٸی ہدایت دے رہا تھا
اس کی نظریں اسے دھوکا نہیں دے رہی تھی وہ سچ میں اس کا بھاٸی ہی تھا
وہ آج بھی ویسا ہی تھا۔۔۔وردی پہنے سب سے منفرد دیکھنے والا۔۔۔۔۔لیکن اسے لگا وہ پہلے سے کچھ کمزور ہو چکا ہے لیکن ایک چیز جو بدلی تھی وہ یہ ہی تھی کہ۔۔۔۔۔۔اس کے چہرے پہ اب وہ مسکان نہیں تھی جو ہر لمحے اس کے چہرے کا احاطہ کیے رکھتی تھی اس کی جگہ سختی نے لے لی تھی سنجیدگی نے لے لی تھی
وہ کتنی ہی دیر وہاں کھڑی اسے دیکھتی رہی۔۔۔۔۔
”ہاتھ میں اسپیکر پکڑے ایک پولیس کی وردی پہنے مسلسل اناٶس کر رہا تھا۔۔۔۔۔
”تم لوگوں کے پاس آخری موقع ہے خود کو پاک فوج کے حوالے کر دو “
انزق نے اس پولیس والے کے ہاتھ سے اسپیکر لیتے ہوۓ خود اناٶس کیا تھا
اس کے لہجے میں آج بھی ویسا ہی رعب تھا
اور اس آواز نے اس کے رہے سہے شکوک و شہبات بھی دور کر دیۓ تھے۔۔۔۔۔
ابھی وہ وہی کھڑکی میں کھڑی تھی۔۔۔۔جب پورا بنگلہ اچانک اندھیرے میں ڈوب گیا۔۔۔۔۔
اسی لمحے ایک عجیب سی آواز پیدا ہوٸی جیسے کوٸی کھڑکی توڑ کے اندر داخل ہوا ہے۔۔۔۔۔۔
نھار نے دہشت بھری نظروں سے پلٹ کر دیکھا تو اندھیرے میں اسے ایک ہیولہ سا دیکھاٸی دیا
باہر یکدم خاموشی چھا گٸ تھی
نھار سمجھ چکی تھی اس کے ساتھ کچھ غلط ہونے والا ہے
اس نے ہٹنے کی کوشش کی لیکن اگلے ہی لمحے اندر آنے والا شخص اس کی طرف بڑھا اسے اپنی گرفت میں لیتے ہوۓ ایک کپڑا اس کی ناک پہ رکھا اور پھر نھار کو اپنا وجود اندھیروں میں گم ہوتا محسوس ہوا۔۔
