Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shoq Zawal Episode 15

Shoq Zawal by Eman Khan

موسم نے پلٹا کھایا تھا اور سخت چلچلاتی دھوپ مدہم پڑنے لگی تھی اور اب اس کی جگہ تیز طوفان نے لے لی تھی اور وقت سے پہلے ہی رات کا گمان ہورہا تھا اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پورا شہر اندھیرے میں ڈوب گیا تھا ایسے میں وہ عالیشان بنگلہ جھلملا اٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔یو پی ایس کی مدد سے سارے بنگلے کی بتیاں جل اٹھی تھی۔۔۔۔طوفان کی وجہ سے کھڑکیاں آپس میں ٹکرانے لگی تھی۔۔۔۔۔۔

”لگتا ہے طوفان آنے والا ہے۔۔۔۔“

سفید یونیفارم میں ملبوس ایک ہندو ملازمہ ملازمہ نے اپنے پاس سے چلتی ایک اور ملازمہ کو کہا اور پھر سر ہلا کے کھڑکیوں کو بند کرنے لگی۔۔۔۔۔۔

یہاں سے اوپر چلے جاٶ تو نھار کا کمرا ایک دفعہ پھر روشن ہو گیا تھا۔۔۔۔

وہ کمرے کے درمیان میں کھڑی تھی چہرے پر پرسکون مسکراہٹ تھی اور وہ کمرے کا جاٸزہ لے رہی تھی اس کمرے میں وہ خود کو کافی ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔

لباس اب بدلا ہوا تھا بلیک جینز کے اوپر گھٹنوں تک آتا پرنٹیڈ فراک۔۔۔۔۔کندھوں تک آتے بال کھلے تھے اور ماتھے پہ ہنوذ پٹی تھی رنگت ذرد تھی۔۔۔۔

اس نے ایک پرسکون سانس ہوا کے سپرد کیا

اور پھر ایک ایڑھی پہ خوشی سے گھومنے لگی اور پھر اس کے قدموں کو بریک لگی۔۔۔۔چہرے پہ آۓ مسکراہٹ سمٹ گٸ۔۔۔۔۔مسکراہٹ کی جگہ اب وہاں ناگواری تھی تپش تھی

دروازے پہ ملک ہاتھ باندھے کھڑا طنزیہ مسکراہٹ سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔

سفید شرٹ کے ساتھ سفید پینٹ پہنے اوپر سفید ہی کوٹ پہنے بالوں کو جیل کی مدد سے ایک طرف سیٹ کر رکھا تھا اپنی فٹنس کی بدولت وہ اپنی عمر سے بہت کم لگتا تھا۔۔۔۔۔۔

”نھار میڈم آپ تو کافی تیز دم لگ رہی ہیں۔۔۔۔۔۔“؟؟

ملک پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اس طرف بڑھا۔۔۔۔۔

”ہاں اب پہلے سے بہتر ہوں۔۔۔۔“

نھار نے مختصر جواب دے کے رخ دوسری جانب موڑ لیا۔۔۔۔۔

”مجھے تو آپ بہتر نہیں لگ رہے ملک صاحب۔۔۔۔“

اس نے ہاتھ باندھ کے ایک ابرو اٹھا کے اسے جتایا

تو جواب میں وہ مسکرا دیا۔۔۔۔۔

”آپ کافی ذہین لگتی ہیں مجھے نھار۔۔۔۔۔“

ملک اسے ستاٸش بھری نظروں سے دیکھتے ہوۓ وہی صوفے پہ بیٹھ گیا۔۔۔۔

”لیکن آپ سے کم ہوں ملک صاحب۔۔۔۔۔“

اس نے ایک دفعہ پھر طنز کا تیر چلایا۔۔۔۔۔

”آپ بالکل اپنے والد صاحب پہ گٸ ہیں۔۔۔۔“

اس نے ایک نظر اس کا جاٸزہ لیتے ہوۓ نہایت آرام سے اس کے سر پر بم پھوڑا

وہ وہی ششدرر کھڑی رہ گٸ۔۔۔۔

”کیا ہوا۔۔۔۔۔۔“؟؟

ملک نے اس کے چہرے کے سامنے ہاتھ لے کے جاتے ہوۓ معصومیت سے کہا۔۔۔۔۔

”کیا میجر ۔۔۔۔فیض عالم کو نہیں جانتی آپ۔۔۔۔“؟؟

اس کا لہجہ نارمل تھا لیکن اس کی آنکھوں میں سردمہری تھی۔۔۔۔

وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلی۔۔۔۔۔

”وہ بالکل آپ کے جیسا تھا ضدی۔۔۔۔، ڈھیٹ ، اصول پسند۔۔۔۔۔،

وہ ایک ایک لفظ پہ ذور دیتے ہوۓ اس کے بالکل سامنے جاکے کھڑا ہو گیا۔۔۔

اس نے چہرا اس طرف نہیں موڑا۔۔۔۔

اسے میں نے کہا تھا جو تم کر رہے ہو اس وجہ سے نسلیں برباد ہو جاٸیں گی“

لیکن نہیں۔۔۔۔

نھار کی نظروں میں تکلیف ابھری۔۔۔۔۔

اس نے کسی کی نہیں مانی اس نے ہماری دوستی کی لاج بھی نہیں رکھی۔۔۔۔۔“

ملک کے لہجے میں نفرت واضح تھی ۔۔۔۔

”وہ ایک ہی بات پہ باضد تھا اس نے مجھ پہ بغاوت ثابت کرنی تھی نا۔۔۔۔۔۔“

اس کے لہجے میں دکھ گھلنے لگا

اس دفعہ نھار نے پلٹ کر اسے دیکھا ۔۔۔نھار کی نظروں میں ۔۔۔۔۔دکھ ہلکورے لے رہا تھا۔۔۔۔۔

”تم مجھ سے یہ نہیں پوچھوں گی کہ مجھے تمہارے بارے میں یکدم اتنا سب کچھ کیسے پتہ چل گیا۔۔۔۔“؟؟؟

اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ اسے چیلنج کیا تھا یا اس کا تمخسر اڑایا تھا۔۔۔۔۔

”نہیں پوچھوں گی۔۔۔۔۔“

وہ غصہ ضبط کرتے ہوۓ ذرا اونچی آواز میں بولی۔۔۔۔

”جانتے ہو کیوں۔۔۔۔۔“؟؟

وہ دو قدم آگے آکے چبھتے ہوۓ لہجے میں بولی۔۔۔۔۔

وہ مسکراتے ہوۓ اسے دیکھ رہا تھا

”کیوں کہ تم شیطان ہو اور اللہ نے شیطان کو بہت علم دے رکھا ہے اسے انسانوں کے دماغوں تک رساٸی دے رکھی ہے اسے آذاد چھوڑ دیا ہے اسے ڈھیل دے دی ہے۔۔۔۔۔۔“لیکن۔۔۔۔۔“

وہ رکی پھر اس کے چہرے پہ تکلیف بھری مسکراہٹ ابھری۔۔۔۔۔

”لیکن اس کو ہدایت نہیں دی اس نے تب تک لوگوں کو بہکانا ہے بھٹکانہ ہے جب تک اس دنیا میں ایک بھی انسان باقی رہے گا۔۔۔۔۔“

لیکن جانتے ہو اصل میں وہ کسی کو بہکاتا نہیں ہے وہ خود بہکا ہوا ہے۔۔۔۔۔“

اس کے لہجے کی چبھن کم نہیں ہو رہی تھی اور ملک ایک آبرو اٹھاۓ اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔

”اسے لگتا ہے وہ تاحیات ہے لیکن۔۔۔۔۔۔وہ خسارے میں ہے اتنے لوگوں کو بھٹکانے کے بعد بھی اس کے ہاتھ کچھ نہیں آۓ گا افسوس۔۔۔۔۔“

اس نے تاسف سے ملک کی طرف دیکھا۔۔۔۔

”تم وہ شیطان ہو اور شیطان تو سب کچھ جان ہی لیتا ہے۔۔۔۔۔“

لیکن اس کی آنکھوں کی تپش کم نہ ہوٸی۔۔۔۔

”مجھے دیکھو غور سے ملک میں تمہارا برا وقت ہوں۔۔۔۔۔۔“

اس کے سینے پہ ذور سے انگلی بجاتے ہوۓ اس کے لہجے میں چٹانوں جیسی مضبوطی تھی۔۔۔۔

”برا وقت سمجھتے ہو۔۔۔۔۔“جو گردش کرتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے ہمارے سامنے آکے کھڑا ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔“

”تمہیں کتنا ہی وقت لگ گیا نا سب کچھ تباہ کرنے میں لیکن یاد رکھنا مجھے تھوڑا سا بھی وقت نہیں لگے گا تمہیں تباہ کرنے میں۔۔۔۔۔“

اس نے ایک ایک لفظ پہ ذور دیتے ہوۓ کہا نھار کی آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے۔۔۔۔۔

ملک کچھ دیر کھڑا اسے دیکھتا رہا اور پھر اس کا قہقہہ بلند ہوا

وہ ابھی تک اسی پوزیشن میں کھڑی اسے نفرت سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔

”تم ابھی بچی ہو“ اور امید ہے تم اس کھیل کا حصہ نہیں بنو گی میں تمہیں محض اتنا بتانے آیا تھا کہ تمہارے پاس کل تک کا وقت ہے تم اس گھر سے چلی جاٶ یہ راز راز ہی رہے گا۔۔۔۔۔“

وہ اسے سہولت سے پیشکش کر رہا تھا چہرے پہ سنجیدگی تھی

وہ تمسخرانہ انداز میں ہنسی۔۔۔۔۔

ملک کے چہرے پر سختی ابھری۔۔۔۔۔

(Lesser bird of paradise ) (چھوٹا جنتی پرندہ)

اس کا نام سنا ہے“؟؟

اس کا لہجہ پرسکون تھا۔۔۔۔۔اور اس کا چہرا ملک کو طیش دلا رہا تھا۔۔۔۔۔

یہ نیو گنی کے جنگلات میں پایا جاتا ہے بہت خوبصورت پرندہ ہے۔۔۔۔۔“

وہ اس کے گرد ایک داٸرے کی صورت گھوم رہی تھی۔۔۔۔۔

کہا جاتا ہے یہ پرندہ جتنا خوبصورت ہوتا ہے اتنا ہی زہریلا بھی ہوتا ہے۔۔۔۔۔

اس کا لہجہ سرد تھا ۔۔۔۔۔

پھر وہ چلتی چلتی ٹیبل تک گٸ وہاں پڑے کچھ کاغذ اٹھاۓ اور ملک کی آنکھوں کے سامنے لہراۓ

اور اگلے ہی لمحے ملک وہی برف کا مجسمہ بن گیا تھا اس کی نظریں انہیں کاغذوں پر جم کے رہ گٸ تھی۔۔۔۔۔

”تم“

اس نے غصے سے غراتے ہوۓ پیپر اس کے ہاتھ سے لینے کی کوشش کی تو اس نے ایک جھٹکے سے پیپر پیچھے کر لیے۔۔۔۔۔

”کیا آصف یہ جانتا ہے اس کی ماں نے خود کشی نہیں ک بلکے ان کا قتل ہوا تھا۔۔۔۔۔“؟؟

اس نے معصومیت سے کہا تو ملک کی نظروں سے آگ برسنے لگی۔۔۔۔۔

”میں تمہارا وہ خشر کروں گا کہ تم موت مانگو گی تمہیں موت نہیں ملے گی لڑکی تم خود بھی نہیں جانتی تم کسی عذاب کو دعوت دے رہی ہو۔۔۔۔“

وہ طیش کے مارے آپے سے باہر ہو رہا تھا۔۔۔۔

”ابھی تک تو میں نے تمہارا لیپ ٹاپ ہیک کیا ہے آگے آگے تم دیکھو میں کیا کیا کرتی ہوں ملک۔۔۔۔“

وہ بھی آنکھوں میں تپش لیے اسے چیلنج کر رہی تھی۔۔۔۔۔

”مجھے اپنے حصے کی جنگ لڑنے دو ملک اور تم وہ کام کرو جو تم کر سکتے ہو۔۔۔۔۔۔“

اس نے بھی انگلی اٹھا کے دلیری سے اسے کہا ملک اسے شعلہ بار نظروں سے دیکھتے ہوۓ کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔

اب وہاں صرف نھار کھڑی تھی جس کی نظروں میں چبھن تھی

جنگ کا آغاز ہو چکا تھا۔۔۔۔۔

شام کسی آسیب کی طرح اس وادی پر آکے اتری تھی۔۔۔۔۔آج یہ وادی پرسکون نہیں تھی اونچے پیڑ کے ساتھ بنے چشمے سے ملحق گھر میں عجیب سا شور تھا۔۔۔۔۔

اندر سفید رنگ کی قمیض شلوار پہنے وہ کسی پتھر کی طرح کھڑی تھی چہرا سپاٹ تھا جیسے سامنے کھڑے شخص کی تاویلیں اس پر اثر انداز نہیں ہو رہی تھی

سامنے کالے رنگ کی قمیض شلوار میں انزق کھڑا اسے اونچی آواز میں کچھ سمجھا رہا تھا

تلخ کلامی جیسے بڑھ چکی تھی

انزق کے چہرے پر غصہ تھا۔۔۔۔۔

”تم ایک دفعہ میری بات سمجھ لو۔۔۔۔میں آصف کے بہت قریب پہنچ چکا ہوں وہ وقت دور نہیں ہے جب وہ میرے شکنجے میں ہو گا مجھے اس وقت تمہاری ضد سے ذیادہ تمہارے تعاون کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔“

وہ اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا چہرے پہ سنجیدگی تھی۔۔۔۔

”کچھ ایسے ہی الفاظ تمہارے تب بھی تھے انزق جب نھار لاپتہ ہوٸی تھی “

اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ وہ سارے لحاظ بالاۓ طاق رکھتے ہوۓ تلخی سے بولی تو

انزق کے ماتھے پر لکیریں ابھری چہرا سرخ ہوا

”تم بار بار ہمارے درمیان نھار کو لا کر کیا ثابت کرنا چاہتی ہو کہ میں ایک کمزور بھاٸی تھا۔۔۔۔“

اس کا لہجہ سخت آواز خود با خود اونچی ہوٸی تھی۔۔۔۔

”ہاں میں یہی ثابت کرنا چاہتی ہوں کہ تم اتنے کمزور مرد ہو کہ ایک مرد نے تمہاری بیوی کی عزت پر ہاتھ ڈالا اس کی عزت کو تار تار کیا ۔۔۔۔“

وہ اس سے ذیادہ تیز لہجے میں غراٸی۔۔۔۔۔

وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔

وہ ایک دفعہ پھر آتا ہے ہمارے گھر مجھے دھمکاتا ہے تب بھی تمہارے لیے سب سے اہم تمہاری ڈیوٹی ہوتی ہے تم ایک کمزور مرد ہو اور تمہاری اسی کمزوری کی وجہ سے تمہاری فیملی بہت سفر کر چکی ہے۔۔۔“

وہ چلاتے ہوۓ ٹھوس لہجے میں بولی۔۔۔۔

اور مجھے کسی بھی قیمت پر تم سے طلاق چاہیۓ

دو ٹوک لہجے میں کہتے ہوۓ اس نے بات ختم کر دی اس کے لہجے کی گونج اسے ہنوز سناٸی دے رہی تھی۔۔۔۔

”تمہیں مجھ سے طلاق چاہیۓ نا۔۔۔۔“

وہ بھی طیش میں آگیا تھا

”تو لو سنو۔۔۔۔۔“

”میں انزق “تمہیں آج اپنے ہوش و حواس میں۔۔۔۔۔“

اس کی آنکھیں یوں جم گٸ جیسے اس کی روح نکل رہی ہو۔۔۔۔

لیکن انزق اپنے حواسوں میں نہیں تھا۔۔۔۔

”تمہیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔۔“

طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔۔“

طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔“

اس کی لال انگارہ آنکھیں ہنوز نھار کے ذرد پڑتے چہرے پر جمی ہوٸی تھی

اور تین سالوں کا سفر تین لفظوں کی نظر ہو گیا تھا۔۔۔۔۔

کمرے میں موت سا سناٹا تھا ہونا بھی چاہیۓ وہاں بیٹھے شخص نے بات ہی ایسے کی تھی جو دوسرے شخص کو کافی ناگوار گزری تھی لیکن بولنے والا شخص پرسکون سا بیٹھا تھا اس کی آنکھوں میں پختگی لہجہ اٹل تھا۔۔۔۔۔

”میں اب ۔۔۔۔۔اس کی ذندگی پہ مذید رسک نہیں لے سکتا۔۔۔۔“

بھاری گھمبیر لہجہ کمرے میں گونجا تھا۔۔۔۔

”ان عنایات کی وجہ جان سکتا ہوں۔۔۔۔۔“

دوسرے شخص کے لہجے میں کاٹ تھی۔۔۔۔۔

”میں اپنے معملات کی صفاٸیاں نہیں دیا کرتا۔۔۔۔“

بڑے آرام سے اس نے دوسرے شخص کو اس کی اوقات یاد دلاٸی تھی

فیصلہ سنایا کرتا ہوں۔۔۔۔۔“

اس نے اپنی اگلی بات پر ذور دیا۔۔۔۔

”تم اپنے فیصلے پر پچھتاٶ گے وہ لڑکی وہ نہیں ہے جو تمہیں نظر آرہی ہے۔۔۔۔۔“

مقابل شخص نے بھی اپنی بات پر ذور دیا۔۔۔

اندھیرے میں محض دو ساۓ نظر آرہے تھے۔۔۔۔

کمرے میں مدہم روشنی تھی۔۔۔۔۔

”میں ان چیزوں سے نہیں گھبراتا جو ہو نا چکی ہو محض ہونے کے امکان ہو۔۔۔۔“

اس نے ہاتھ اوپر اٹھاتے ہوۓ جیسے ختمی لہجے میں کہا۔۔۔۔۔

دوسرا سایا محض بے چین تھا صبح کا سورج کچھ ایسا لانے والا تھا جو تقدیر کا تختہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔۔۔۔

یہ صبح بھی اس اونچے بنگلے میں مصروف سی اتری تھی ۔۔۔۔۔بنگلے میں عجیب سی چہل پہل تھی ایسے میں نھار لال رنگ کی جالی کی گھٹنوں کو چھوتی فراک نیچے سلک کی کیپری پہنے سیڑھیاں اترتی دیکھاٸی دے رہی تھی کندھوں تک آتے بال اونچی پونی میں بندھے تھے۔۔۔۔گلے کے ساتھ چپکی مالا اور اس کے ساتھ ہی میچنگ کے چھوٹے چھوٹے ٹاپس پہنے وہ اچھی خاصی تیار نظر آرہی تھی۔۔۔۔۔ماتھے پہ ہنوز پٹی باندھ رکھی تھی اٹھی ہوٸی گردن کے ساتھ وہ ایک مخصوص چال چلتی آصف کے کمرے کی طرف جارہی تھی

بہت سی ملازموں نے اسے پلٹ کر دیکھا تھا بہت سی نظروں میں ستاٸش اور بہت سی نظروں میں تجسس ابھرا تھا

وہ اس سب سے بے نیاز آصف کے کمرے کی طرف جارہی تھی

دروازے کے قریب پہنچ کے اس نے محتاط سے انداز میں دروازے پر دستک دی۔۔۔۔۔

تو ایک لمحے کے لیے اندر سے آتی آواز تھم گٸ۔۔۔۔

”کم ان“

اندر آنے کی اجازت ملتے ہی وہ دھڑکتے دل کے ساتھ اندر داخل ہوٸی۔۔۔۔

اندر کا کمرا باہر کی نسبت ذیادہ روشن تھا۔۔۔۔

آصف جو سفید رنگ کی شرٹ نیچے بلیک پینٹ پہنے ایک صوفے پہ ٹانگ پہ ٹانگ جماۓ بیٹھا تھا

اندر آنے والی ہستی کو ایک نظر دیکھا تھا اور پھر اس کی نظر وہی ٹھہر گٸ تھی۔۔۔۔

پاس بیٹھے ملک نے بے چینی سے پہلو بدلا تھا۔۔۔۔

”بیٹھو نھار۔۔۔۔“

”نرمی سے کہتے ہوۓ اس نے خود کو سنبھالا تھا۔۔۔۔۔

نھار ملک کے بے چین چہرے پہ ایک طنزیہ نگاہ ڈالتے ہوۓ سمٹ کے صوفے پہ بیٹھ گٸ۔۔۔۔

”میں نے ایک فیصلہ کیا ہے۔۔۔۔۔“جیسا کہ موجودہ حالات تم دونوں کے سامنے ہیں۔۔۔۔۔““

اس نے گلا کھنکارتے ہوۓ گفتگو کا آغاز کیا

نھار بغور اسے سن رہی تھی

”تو میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ۔۔۔۔

رک کے ایک نظر ملک کے بے چین چہرے پر ڈالی۔۔۔۔

”کہ تم مجھے یہ بتاٶ کہ تم کہاں سے آٸی ہو میں اب مذید یہ ذمہ داری نہیں اٹھا سکتا تمہارا جو بھی سرپرست ہے میں تمہیں اس کے حوالے کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔“

اس نے نھار کے تاریک پڑتے چہرے پر نظریں جماتے ہوۓ اسے آگاہ کیا

ملک گردن ترچھی کیے حیرت کا بت بنا آصف کی طرف دیکھ رہا تھا

تو اس فیصلے کی بات کر رہا تھا آصف۔۔۔۔۔

اس کے چہرے کے تنے ہوۓ نقوش ڈھیلے پڑ گۓ۔۔۔۔

اور نھار کا مطمٸین چہرا اب بے رونق ہو چکا تھا وہ اس چیز کی توقع کر کے تو یہاں نہیں آٸی تھی

اس سب حالات کے بعد اسے لگ رہا تھا کہ آصف اسے اپنانے کے لیے تیار ہو جاۓ گا

لیکن یکدم سب بدل گیا تھا

وہ خالی ذہن کے ساتھ کبھی اپنی طرف منتظر نظروں سے بیٹھے اس دشمن جان کو اور کبھی اپنی طرف تمسخرانہ نظروں سے دیکھتے ملک کو دیکھ رہی تھی

ملک ٹھیک کہہ رہا تھا وہ آصف کی آنکھوں پہ بندھی ملک کے نام کی پٹی کبھی نہیں اتار سکتی تھی۔۔

اس کی آنکھیں لبالب پانیوں سے بھرنے لگی۔۔۔۔

آصف نے کچھ حیرت اور پریشان سے اسے دیکھا۔۔۔

اگلے لمحے جو حرکت اس نے کی تھی وہ ملک کے ساتھ ساتھ آصف کے لیے بھی حیران کن تھی۔۔۔۔

وہ سیدھا آصف کے قدموں میں آکے بیٹھ گٸ تھی

آصف کرنٹ کھا کے پیچھے ہٹا وہ اس کی توقع نہیں کر رہا تھا

”میرا اس دنیا میں کوٸی نہیں ہے آصف۔۔۔۔“پلیز اگر آپ نے مجھے یہاں سے نکال دیا تو میں دربدر ہو جاٶں گی درندے مجھے نوچ ڈالیں گے۔۔۔۔“

اس کی آنکھیں بھیگی ہوٸی اور لہجہ رندھا ہوا تھا

ملک کے لیے یہ ڈرامہ غیر متوقع تھا

وہ یہ ڈرامہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔۔

”آپ خدا کے لیے مجھ سے شادی کر لیں۔۔۔۔“

وہ ہاتھ جوڑ کے آصف کے سامنے التجا کرنے لگی اور تذبذب کا شکار ہو چکا تھا۔۔۔۔

ایک لمحہ لگا تھا ملک کو یہ سمجھنے میں کہ وہ یہ سب کیوں کر رہی تھی

”ٹھیک ہے میں تم سے شادی کر لیتا ہوں۔۔۔۔۔۔“

اس نے اتنے نارمل سے لہجے میں کہا کے۔۔۔۔۔۔ملک کو اس کی بات سن کے شدید دھچکا لگا۔۔۔۔۔۔

اس کے قدموں میں بیٹھی لڑکی نے سر اٹھایا۔۔۔۔۔اس کا چہرہ آنسوٶں سے تر تھا۔۔۔۔۔

اس لڑکی کے چہرے پہ فاتحانہ مسکراہٹ ابھری۔۔۔۔۔۔

ملک نے کھا جانے والی نظروں سے اس چھوٹی لڑکی کو دیکھا۔۔۔۔۔۔

”آروی اتنا بڑا فیصلہ آپ کیسے لے سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔“؟؟

اس نے متفکر لہجے میں ماتھے کو مسلا۔۔۔۔۔۔

آر وی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا۔۔۔۔

ملک کے لیے یہ اس سے بھی بڑا دھچکہ تھا۔۔۔۔۔۔

”لیکن میری کچھ شراٸط ہیں۔۔۔۔۔۔۔“

وہ اسے بغور دیکھتے ہوۓ مدعے کی بات پہ آیا۔۔۔۔۔۔

”مجھے آپ کی ہر شرط قبول ہے میں صرف آپ کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔“

اس نے فوراً سے سر تسلیم خم کر لیا تھا

وہ دھیرے سے مسکرایا۔۔۔۔۔

”پہلی شرط یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔“

اس نے گھمبیر لہجے میں کہتے ہوۓ پہلی انگلی اٹھاٸی۔۔۔۔۔۔

”میرا اور تمہارا نکاح خفیہ نکاح رہے گا۔۔۔۔۔۔۔“میں کسی کے بھی سامنے تمہیں بیوی تسلیم نہیں کروں گا۔۔۔۔۔۔“

ملک کے چہرے کے تنے ہوۓ نقوش کچھ ڈھیلے پڑ گۓ۔۔۔۔۔۔۔

رک کے اس لڑکی کو دیکھا

اس نے سر ہلا دیا۔۔۔۔۔۔

دوسری شرط۔۔۔۔۔۔“

اس نے اپنی بات جاری رکھی۔۔۔۔۔۔۔۔

”میں کسی بھی وقت تمہیں چھوڑ سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔“

اس نے رک کے لڑکی کے تاثرات جانچنے چاہے۔۔۔۔۔۔

ایک لمحے کے لیے اس کا چہرہ تاریک ہوا تھا۔۔۔۔۔۔

ملک کے چہرے پہ مسکراہٹ ابھری۔۔۔۔۔۔

”تیسری اور آخری شرط۔۔۔۔۔۔۔“

”تمہیں بیویوں والے کوٸی حقوق نہیں ملیں گے۔۔۔۔۔۔تمہاری حیثیت میری ذندگی میں۔۔۔۔۔۔۔۔ایک عام لڑکی کی طرح ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔“

اس نے بات ختم کر کے ایک دفعہ پھر اس کے چہرے کی طرف دیکھا

چہرہ سپاٹ تھا۔۔۔۔۔۔

ملک اس لڑکی کی حالت دیکھتے ہوۓ فاتحانہ انداز میں مسکرایا۔۔۔۔۔

وہ جانتا تھا وہ انکار کر دے گی۔۔۔۔۔۔

”مجھے قبول ہے۔۔۔۔۔“

اس نے ٹھوس لہجے میں کہا

تو حیران ہونے کی باری اس دفعہ آر وی کی تھی

وہ سر ہلاتا ہوا ایک نظر ملک پر ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔۔

اس کے جانے کے بعد ملک بھی اس لڑکی کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتا ہوا آصف کو روکنے کی غرض سے اس کے پیچھے گیا

نھار اب وہی فرش پر بیٹھی مسکرا رہی تھی

وہ جانتی تھی اب آصف فیصلہ نہیں بدلے گا اور پھر اسی شام یہ خفیہ نکاح ہو چکا تھا

نھار ملک کی لاکھ کوششوں کے باوجود اس گھر میں آصف کی بیوی کی حیثیت سے آچکی تھی۔۔۔۔۔

انزق اور ایلاف کی طلاق کے بعد سے ۔۔۔۔۔انزق اب دن رات ۔۔….صرف اور صرف آصف کی تلاش میں تھا۔۔۔۔

اس کی ذندگی کا مقصد اب صرف آصف کی موت تھی۔۔۔۔

نھار اب آصف کے کمرے میں شفٹ ہو چکی تھی۔۔۔۔۔وہ دن رات کسی ایسی چیز کی تلاش میں تھی جسے وہ ملک کے خلاف استعمال کرے۔۔۔۔

دوسری طرف ملک بھی چین سے نہیں بیٹھ سکتا تھا وہ بھی کسی طرح نھار کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔

انہیں دنوں انزق کو اطلاع ملی تھی کہ ایلاف کا نکاح ہو چکا ہے اور جس شخص سے ہوا ہے وہ تین بچوں کا باپ ہے

اور یہ خبر انزق کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھی