Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shoq Zawal Episode 3

Shoq Zawal by Eman Khan

سرمٸ سے اندھیرے نے کب سیاہ اندھیرے کا روپ دھارا اسے پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔۔۔وہ جس شخص کی پیروی میں چلتی ہی جارہی تھی۔۔۔۔۔۔وہ عجیب بے خبر سا انسان تھا جیسے وہ اس دنیا سے لاتعلق ہو اسے اس دنیا کی خبر ہی نہ ہو۔۔۔۔۔۔اس کی چال میں عجیب سی بے نیازی سی آنکھوں میں عجیب سی سرد مہری آواز میں عجیب سا رعب وہ جب بھی دیکھتا تھا ماتھے پہ بل ڈال کے دیکھتا تھا۔۔۔۔۔۔۔اور جب بھی بولتا تھا اس کے لہجے میں طنز ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔

وہ تین چار گھنٹوں سے اس کے ساتھ تھی اور مسلسل اس کی ذات کے بارے میں اندازے لگا رہی تھی وہ کیوں ایک دفعہ کے کہنے پہ ساتھ لے آیا تھا کیا یہ شخص وہ شہزادہ ہے“؟؟جس نے رپینزل کو بچایا تھا۔۔۔۔۔“؟؟جیسے دادی نے کہا تھا کہ تمہاری ذندگی میں ایک شہزادہ آۓ گا وہ دھیرے سے ہنسی۔۔۔۔۔۔وہ پتھریلی سڑھیوں پہ چڑھ رہی تھی وہ اس سے دو قدم آگے تھا وہ جیسے جیسے اوپر جاتی ملکہ کوہسار کے پہاڑ واضح ہوتے جاتے۔۔۔۔۔۔۔اس نے پورے راستے میں بات نہیں کی تھی وہ اب ریسپشن پہ کھڑا کمرے بک کروا رہا تھا یہاں اس قدر ٹھنڈ تھی کہ وہ مسلسل کانپ رہی تھی۔۔۔۔۔اس نے ایک پتلا سا ریشمی سوٹ پہن رکھا تھا سر پہ سلیقے سے دوپٹہ اوڑ رکھا تھا لیکن اس کا ناتواں وجود اتنی سردی نہیں برداشت کر سکتا تھا۔۔۔۔۔اس نے پلٹ کے دیکھا وہ اب اسی کی طرف ہی آرہا تھا۔۔۔۔”سنو لڑکی ۔۔۔۔اس نے قریب آکے سارے ادب آداب بالاۓ طاق رکھ کے نہایت بدتمیزی سے اسے مخاطب کیا اسے ناگوار گزرا لیکن اس نے ظاہر نہیں ہونے دیا۔۔۔۔یہ تمہارے کمرے کی چابی ہے چابی اس کے ہاتھ میں تھماتے وہ پلٹنے لگا وہ ہاتھ میں چابی پکڑے تذبذب کا شکار لگ رہی تھی اس نے پلٹ کر دیکھا تھا پھر ایک ابرو سوالیہ اٹھایا

”وہ مجھے تنہا کمرے میں ڈر لگتا ہے۔۔۔۔۔“اس نے سر جھکا کے کچھ ڈرتے ڈرتے کہا۔۔۔۔

”گود میں اٹھا کے نہیں گھما سکتا۔۔۔۔۔“نہایت لاپرواٸی سے جواب دیا گیا تھا

”سنو ساتھ لے کے ضرور آیا ہوں لیکن اس لاڈ کی امید مجھ سے مت رکھنا اگر سونا چاہتی ہو تو سو جاٶ ورنہ میری طرف سے ساری رات یہی گزار دو۔۔۔۔۔“

وہ صاف گوٸی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ سپاٹ لہجے میں کہتے ہوۓ پلٹ گیا

نھار کا سر مذید جھک گیا مارے خفت کے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کے گرا تھا اسے لگا ملکہ کوہسار کے اونچے پہاڑوں کے ساتھ لپٹا یہ اندھیرہ اس کے بخت کے ساتھ بھی لپٹ گیا ہے۔۔۔۔۔اسے محسںوس ہوا اس کی کہانی میں کوٸی ہیرو نہیں ہے ہاں ایک مغرور بیسٹ ہے۔۔۔۔۔جو پتہ نہیں کس نیت سے اسے خرید کے لایا ہے آگے پتہ نہیں اس کے نصیب میں کیا لکھا ہے وہ کچھ نہیں جانتی تھی اس نے ایک تھکی ہوٸی سانس ہوا کے سپرد کی اور خود شکستہ خورہ قدم اٹھاتی وہاں سیڑھیوں کی طرف بڑھ گٸ ہوٹل کے ملازم نے اسے کمرہ کھول کے دیا تھا وہ ساری رات اس نے آنکھوں میں کاٹی تھی لیکن وہی رات کسی اور پر قیامت بن کے بھی گزری تھی

@@@@@

اس نے اندھیرے میں ہاتھ پاٶں مارتے ہوۓ چیخنے کی کوشش کی لیکن اس کی آواز کہیں خلق میں ہی پھنس کے رہ گٸ اس کا سر بھاری ہو رہا تھا ۔۔۔ایک لمحے کے اندر اسے گزرے تمام واقعات یاد آنے لگے اور یہ صرف خیالات نہیں ایک ایسا خنجر تھا جو اس کو اندر ہی اندر کاٹ رہا تھا اس کی آنکھوں سے آنسو ایک تواتر سے بہنے لگے۔۔۔۔۔۔آنکھوں کے سامنے وہ سارے مناظر ایک فلم کی طرح چلنے لگے۔۔۔۔۔۔میں کہاں ہوں۔۔۔۔۔“؟ذہن میں پہلا سوال ابھرا تھا۔۔۔۔اسی لمحے کوٸی دروازہ کھول کے چلتا ہوا اس کے قریب آیا تھا مدہم روشنی میں وہ صرف ایک سایہ معلوم ہوتا تھا وہ اسے دیکھ نہیں پارہی تھی۔۔۔۔۔۔

کککک کون ہو تم۔۔۔۔۔۔۔“؟؟

اس کے منہ سے پھنسی پھنسی سی آواز نکلی تھی۔۔۔۔۔

سامنے بیٹھا شخص خاموش تھا۔۔۔۔۔

”میں پوچھ رہی ہوں کون ہو تم۔۔۔۔۔“

خود کو رسیوں سے آذاد کرواتے ہوۓ وہ دھاڑی تھی۔۔۔۔۔

دو قدم اس کی طرف بڑھے تھے۔۔۔۔۔وہ سہم کے سمٹی تھی۔۔۔۔۔“وہ گھٹنوں کے بل اس کے قریب بیٹھا تھا۔۔۔۔۔پھر ہاتھ بڑھا کے اس کے ہاتھوں کو قابو کرنے کی کوشش کی وہ اچھل کے پیچھے ہٹی تھی اس نے اپنے ہاتھ اس کی گرفت سے آذاد کروانے کی کوشش کرتے ہوۓ اپنے دانت اس کے بازو میں پیوست کر دیۓ اس نے ایک جھٹکے سے اپنا بازو پیچھے کیا تھا اور اگلے ہی لمحے ایک ذور دار تھپڑ اس کے گال پہ دے مارا تھا اس تھپڑ نے اس کی روح تک جھنجھوڑ کے رکھ دی تھی اس کا سر بری طرح سے دیوار کے ساتھ لگا خون کی ایک پتلی سی دھار اس کے چہرے سے ہوتی ہوٸی ذمین پہ گری تھی اس کا نچلا ہونٹ بھی پھٹ گیا تھا۔۔۔۔۔اس نے ایک دفعہ پھر ہمت کرتے ہوۓ اس شخص کو دور پھینکا جو اس پہ حاوی ہو چکا تھا۔۔۔۔اس دفعہ وہ اپنا بندھا ہوا ہاتھ ذمین پہ کسی چیز کی تلاش میں مارنے لگی اگلے ہی لمحے اس کی تواناٸی تھوڑی سی بحال ہوٸی اس کے ہاتھ میں ایک کانچ کا ٹکڑا تھا اس شخص نے ایک دفعہ پھر اس پہ حملہ کرنے کی کوشش کی تھی وہ کانچ کی مدد سے رسی کاٹنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔اس شخص نے اس دفعہ پوری قوت سے اس کے منہ پہ طمانچے مارے تھے وہ یہ سب برداشت نہیں کر پاٸی تھی اور بے سدھ ہو کے گری تھی۔۔۔۔۔اس کا سر گھوم گیا تھا آنکھوں کے سامنے اندھیرہ چھا گیا تھا ۔۔۔۔۔اس نے اس ہیولے کو اپنی طرف بڑھتے دیکھا۔۔۔۔۔اس نے ہاتھ جوڑ دیۓ تھے۔۔۔۔۔لیکن سامنے موجود شخص کسی ربورٹ کی طرح اس کی طرف بڑھ رہا تھا اس میں اتنی تواناٸی بھی نہیں تھی کہ اب خود کو بچا سکے ”خدا کے لیے یہ ظلم مت کرو“اس کے منہ سے مری مری آواز نکلی تھی پھر بس اس بیلڈنگ میں اس کی چیخیں تھی۔۔۔۔۔۔۔کوٸی شخص اس بات سے بے خبر اسے بچانے کی تدابیر سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔

@@@@@ھ

”سر ابھی تک ایک لوکیشن ٹریس نہیں ہوپاٸی۔۔۔۔۔۔۔“

وہ دھڑام سے دروازہ کھول کے میجر کے سر پہ پہنچ گیا تھا اس کے چہرے پہ اضطراب دکھ غصہ واضح تھا۔۔۔۔۔۔

”ہم کوشش کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔“

اسے ٹھنڈہ رہنے کا اشارہ دیتے ہوۓ وہ پلٹ کے کمپیوٹر پہ کام کرتے افیسر کی طرف بڑھ گۓ۔۔۔۔۔اور انزق کا ضبط جواب دے گیا تھا۔۔۔۔۔

”کیا مطلب سر۔۔۔۔۔“کیا خاک کوشش کر رہے ہیں آپ وہاں میری بیوی کے ساتھ پتہ نہیں کیسا سلوک کر رہے ہو اور آپ یہاں مجھے صبر کی تلقین کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔“

وہ پھٹ پڑا تھا سارے لحاظ بالاۓ طاق رکھ کے وہ جرنل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔

”میں اس وقت اس دنیا کا سب سے بے غیرت انسان ہوں جو اپنی بیوی تک کو نہیں بچا پارہا۔۔۔۔۔“

اس کا پارہ ہاٸی ہو گیا تھا وہ بے لحاظ سا بولتا ہی جارہا تھا۔۔۔۔اور جرنل خاموشی سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔لیکن آپ کیا سمجھیں گے یہاں نہ تو آپ کی بیٹی ہے اور نہ بیوی آپ رہنے دیں میں خود بچا لوں گا اسے پر یوں ہاتھ پہ ہاتھ رکھے اسے دیکھوں گا نہیں۔۔۔۔۔“وہ لال آنکھوں سے جرنل کو گھورتے غصے سے پلٹ کے جانے لگا۔۔۔۔۔

”میری جوان بیٹی کو میرے سامنے ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔۔۔۔۔۔“ان کا لہجہ بے تاثر تھا اس کے چلتے قدموں کو بریک لگا تھا اس پہ جیسے کسی نے گھڑوں پانی ڈال دیا تھا اسی وقت اسے احساس ہوا تھا کہ وہ ذیادہ بول گیا ہے۔۔۔۔۔۔“

”ٹھیک ہے میں تمہیں اختیار دیتا ہوں اگر تمہارا دل اجازت دیتا ہے تمہارا ضمیر تمہیں اجازت دیتا ہے اس عہد کو توڑنے پہ جو تم نے اس ملک سے کیا ہے تو جاٶ لے آٶ اپنی بیوی کو واپس۔۔۔۔“انہوں نے ٹیبل سے اٹھا کے لاک اپ کی چابی اس کی طرف بڑھاتے ٹھہرے ہوۓ لہجے میں کہا ان کا چہرہ بے تاثر تھا۔۔۔۔۔اس کا سر شرمندگی سے جھک گیا تھا۔۔۔۔۔۔“

”تم جانتے ہو اللہ نے مجاہد کو اتنا بلند درجہ کیوں دیا ہے کیونکہ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہوۓ اپنی جان مال خاندان کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتا۔۔۔۔۔انہوں نے اسے یاد دلایا تھا وہ جو وہ بھول بیٹھا تھا وہ کمزور تھا بہت کمزور شوہر لیکن وہ ایک مجاہد تھا وہ اپنے وطن کے ساتھ غداری نہیں کر سکتا تھا اسے وہ وعدہ یاد آیا تھا جو اس نے ایلاف کے ساتھ کیا تھا اور اگلے ہی لمحے اسے وہ وعدہ یاد آیا تھا جو اس نے اپنے ملک سے کیا تھا وہ ناکام مرد ہونے کا تمغہ اپنے سر سجا سکتا تھا وہ کمزور ہونے کا طعنہ بھی سن سکتا تھا لیکن وہ غدار نہیں بن سکتا تھا۔۔۔۔۔اور جب وہ پلٹا تھا اس کا سر جھکا ہوا تھا کندھے جھکے ہوۓ تھے۔۔۔۔۔۔سر جیسا آپ کہیں۔۔۔۔۔۔“اس کا لہجہ پست تھا۔۔۔۔۔اسی لمحے اس کے موباٸل کی بیپ سناٸی دی تھی اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے واٹس ایپ کھولا تھا اگلے لمحے جو منظر اس کے سامنے تھا اس نے اس کے وجود کے پرخچے اڑا دیۓ تھے اس کا وجود زلزلوں کی ذد میں آگیا تھا ایلاف کی منت بھری آواز اس کے کان کے پردے پھاڑ رہی تھی وہ بے یقینی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا ایک لمحے میں سب تباہ ہو گیا تھا اس کے پاس کچھ نہیں بچا تھا قیامت گزر چکی تھی کچھ بھی نہیں بچا تھا وہ سب کچھ لٹا کے خالی ہاتھ رہ گیا تھا وہ مجاہد تھا غدار نہیں تھا ایک تمغہ باقی تھا۔۔۔۔۔۔۔

@@@@@

بارش کے ننھے قطرے ذمین کو بھگو رہے تھے اس نے سر اٹھا کے آسمان کی طرف دیکھا تھا آسمان پہ بادل عجیب و غریب اشکال میں چھاۓ ہوۓ تھے اس کی سفید شرٹ کے ساتھ مٹی لگ چکی تھی اس کے ہاتھوں پہ بھی مٹی لگی ہوٸی تھی اس نے سہمی ہوٸی نظروں سے اطراف کا جاٸزہ لیا تھا۔۔۔۔۔۔وہ اس بلی کو دفن کر رہا تھا جس کا قتل اس کی ماں نے اس کے ہاتھوں کروایا تھا یہ اس کی مشک تھی کہ وہ بے رحم بن جاۓ جب وہ کسی پہ ظلم کرے تو اسے رحم نہ آۓ اس کا ننھا سا ذہن ان باتوں کو نہیں سمجھتا تھا لیکن اس کا دل بری طرح دھکا تھا بلی کے بچے کو مارنے کے بعد اسی لیے وہ اپنی ماں سے چھپ کے لان میں اسے دفن کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔مٹی کی آخری تہہ لگانے کے بعد وہ جیسے ہی پیچھے پلٹا دہل گیا اس کی ماں کا مسکراتا چہرہ اس کے سامنے تھا رنگین ساڑھی بالوں کا اونچا جوڑہ میک اپ سے اٹا ہوا چہرہ وہ پتہ نہیں خود کو کیوں اتنا تیار رکھتی تھی۔۔۔۔۔۔

”ایسے بے رحم بنو گے تم۔۔۔۔۔۔“؟؟

اس کے ماں نے ذرا جھک کے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ محبت سے مخاطب کیا۔۔۔۔۔

اس نے سر جھکا لیا۔۔۔۔۔۔۔

”یوں تو تمہیں اپنے باپ پہ بھی رحم آجاۓ گا۔۔۔۔۔“

اس کے لہجے اور چہرے پہ سفاکیت ابھری۔۔۔۔۔۔۔۔

”نہیں ایسا نہیں ہو گا۔۔۔۔۔“

اس نے فوراً صفاٸی دی تھی۔۔۔۔۔

”میں تمہیں ایسا نہیں دیکھنا چاہتی کہ تم ایک بلی کو مار کے گلٹی فیل کرو۔۔۔۔۔“

اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کے اسے کھڑا کرتے ہوۓ اس کی شرٹ پہ لگی مٹی صاف کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔

”میں تمہیں اس قدر سفاک بے رحم دیکھنا چاہتی ہوں کے لوگ صرف تمہارے نام سے تھر تھر کانپے تم اپنے دشمن کو کبھی معاف نہ کرو۔۔۔۔۔۔تمہیں مرتے ہوۓ لوگوں پہ رحم نہ آۓ تمہیں کسی بھوکے بچے پہ ترس نہ آۓ تم ایک ایسے پتھر بن جاٶ جو قیمتی ہو لیکن نوک دار۔۔۔۔۔اس کی ماں نے اسے پچکارتے ہوۓ اسے سمجھایا۔۔۔۔۔وہ کسی طابعدار اولاد کی طرح سر ہلا رہا تھا۔۔۔۔۔

”تم نا قابل تسخیر بنو گے“

اس کی ماں نے اس کا ماتھا چومتے ہوۓ اسے فخریہ لہجے میں کہا تھا

”آصف نے۔۔۔۔۔۔۔بہت سمجھداری سے سر ہلایا تھا اسے اپنی ماں کا مان رکھنا تھا۔۔۔۔۔۔۔

@@@@@@@

ہلکی ہلکی روشنی پھیلتے ہی اس نے سکھ کا سانس لیا تھا ساری رات جاگتے رہنے کی وجہ سے اس کے چہرے پہ تھکن واضح تھی آنکھوں کے پپوٹے سوجے ہوۓ تھے لال آنکھیں رت جگے کی عمازی کر رہے تھے وضو کر کے نماز پڑھنے کے بعد وہ تھوڑی دیر لیٹ گٸ اسے پتہ ہی نہ چلا کب اس کی آنکھ لگ گٸ اس کی آنکھ کھلی تو گھڑی نو کا ہندسہ عبور کر چکی تھی وہ بوکھلا کے اٹھ بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔پتہ نہیں کیا سوچتے ہونگے وہ۔۔۔۔۔۔غصہ بھی ہونگے۔۔۔۔۔کچھ سوچ کے دھڑکتے دل کے ساتھ وہ دروازہ کھول کے باہر نکلی باہر اچھی خاصی رش تھی۔۔۔۔۔۔۔وہ دوپٹہ درست کرتی آگے اس کمرے کی طرف بڑھ گٸ جہاں پہ آروی ٹھہرا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔دھیرے سے دستک دے کے وہ وہی ہونٹ بھینچے کھڑی ہو گٸ پاس سے گزرتے ویٹر نے ٹھہر کے اسے دیکھا ”میم یہ کمرہ خالی ہے“اس کے اطلاع دینے پہ وہ چونک کے پلٹی تھی “تو جو ادھر ٹھہرے ہوۓ تھے وہ کہاں ہیں۔۔۔۔۔“؟؟اس نے غاٸب دماغی سے پوچھا تھا ”وہ تو صبح ہی چلے گۓ ہیں میم۔۔۔۔۔۔“ویٹر کی اس اطلاع نے اس کے اوسان خطا کر دیۓ تھے وہ پھٹی پھٹی نظروں سے بس دیکھ کے رہ گٸ