Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shoq Zawal Episode 13

Shoq Zawal by Eman Khan

ٹاٸروں کی چرچراہٹ کی آواز نے اوپر کھڑی نھار کی توجہ باہر کی طرف مبذول کرواٸی اس نے کھڑکی کا پردہ سرکایا تو باہر کا منظر واضح ہوا باہر کالے رنگ کی کرولا میں سے آصف عجلت سے باہر نکل رہا تھا

نھار حیران ہوۓ بنا نہ رہ سکی۔۔۔۔۔آصف اس وقت اتنی عجلت میں یہاں کیوں آیا تھا

وہ اب بنگلے کے اندر داخل ہو رہا تھا

وہ تیزی سے الماریاں بند کرتی اپنی حالت درست کرتی بیڈ پہ بیٹھ گٸ

سیڑھیاں چڑھنے کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرا رہی تھی اور اس کا دل بری طرح سے دھڑک رہا تھا

پتہ نہیں کمرے کی یہ حالت دیکھ کہ آصف کا ردعمل کیا ہو گا۔۔۔۔۔

وہ وہی بیٹھی سوچ رہی تھی جب کوٸی تیزی سے دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا

وہ مکانیکی انداز میں اٹھ کھڑا ہوٸی۔۔۔۔۔

وہ وہی دروازے پہ ٹھٹک کے کھڑا ہو گیا کمرے کی بکھری حالت ایسا منظر پیش کر رہی تھی جیسے وہاں جنگ ہو چکی ہو۔۔۔۔

”کمرے سے باہر نکلو۔۔۔۔۔“

اس نے آتے ہی نہایت بدتیمزی سے تحکمانہ لہجے میں کہا۔۔۔

”جی۔۔۔۔“؟؟

وہ منہ کھولے ناسمجھی سے بولی

”کہہ رہا ہوں کمرے سے باہر نکلو “

وہ دبا دبا سا غرایا۔۔۔۔

اس کے ایسے بولنے پہ وہ سہم کے ایک طرف ہو گٸ۔۔۔۔

اس نے آنکھوں سے اسے ایک دفعہ پھر باہر نکلے کا اشارہ کیا تو

وہ دانتوں سے ہونٹ کچلتی سر جھکاۓ کمرے سے باہر نکلی

تو اس نے دروازہ اندر سے بند کر دیا

تقریباً بیس منٹ کے بعد وہ کمرے سے باہر نکلا تو اس کا چہرا اب پرسکون تھا۔۔۔۔۔

پہلے والی سختی اور پریشانی کا شاٸبہ بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔

وہ آصف کو مشکوک نظروں سے دیکھنے لگی

وہ اس سے نظر چراتا تیزی سے سڑھیاں اتر گیا

وہ وہی کھڑی اس کی پیٹھ گھورتی رہی

اور وہ جتنی تیزی سے آیا تھا اتنی ہی تیزی سے چلا گیا تھا

نھار سست قدم اٹھاتی کمرے کی طرف بڑھی نظروں میں تشویش تھی

آخر ایسا کیا تھا اس کمرے میں ایسا جو آصف اتنی عجلت میں لینے میں آیا تھا

وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوۓ کمرے کی حالت ہنوز ویسی ہی تھی

کوٸی مشکوک چیز اسے دیکھاٸی نہ دی

سواۓ اس دراز کے جو وہ عجلت میں کھلا ہی چھوڑ گیا تھا

وہ اس طرف گٸ لیکن وہ خالی تھا۔۔۔

اس کی نظروں میں الجھن ابھری

”ایسی کیا چیز تھی جو اس قدر ضروری تھی وہ متجسس سی ہو کے کھڑی سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔“

”اسے وہ چیز حاصل کرنے تھی کم از کم کچھ رازوں سے پردہ اٹھانے کے لیے تو یہ بہت ضروری تھا۔۔۔۔۔“

لیکن کیسے“؟؟

وہ وہی صوفے پہ بیٹھ کے اگلی ترکیب سوچنے لگی۔۔۔۔۔

اسلام آباد کے پوش میں علاقے میں بنا یہ اونچا بنگلہ تھوڑا ویران ویران سا لگتا تھا ۔۔۔۔۔

لان سے ہوتے ہوۓ اندر آٶ تو ٹی وی لاٶنچ اور ڈراٸینگ روم میں الرٹ سے ملازم کام نبٹانے میں مصروف تھے۔۔۔۔۔

”آصف کا کمرہ لاک تھا وہ صبح صبح ہی کسی ضروری کام سے شہر سے باہر جاچکا تھا۔۔۔۔“

اوپر دوسری منظر پہ بنا یہ کمرہ مکمل طور پہ روشن تھا۔۔۔۔

سفید شرٹ کے اوپر نیلے رنگ کی پینٹ کوٹ پہنے ملک ایک طرف بیٹھا تھا ٹانگ پر ٹانگ جما رکھی تھی اور بغور اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ رہا تھا

”جس نے کالے رنگ کا تھری پیس سوٹ پہن رکھا تھا اس کے نقوش اور ہیٸر سٹاٸل بالکل آصف جیسے تھے

”تم آج اس جگہ پہ آصف بن کے جاٶ گے اور یاد رکھنا تمہارا لہجہ آصف جیسا نہیں بلکے بہت کمینہ ہونا چاہیۓ“

وہ چلتا چلتا اس کے قریب آیا پھر اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے سفاکیت سے بولا تو اس شخص نے محض سر ہلا دیا

”ہاں اب جاٶ اور گاڑی نیچے پورچ میں کھڑی ہے۔۔۔۔۔“

اگلا حکم نامہ جاری کیا گیا تو۔۔۔۔۔وہ سر ہلاتا کمرے سے باہر نکل گیا

اب کمرے میں ملک اکیلا کھڑا تھا اور اس کے چہرے پہ سفاکیت تھی اور شاطرانہ مسکراہٹ بھی۔۔۔۔۔

دور وادی میں بنے اس چھوٹے سے گھر میں پرسکون سا ماحول تھا دھوپ آنکھ مچولی کھیلنے میں مصروف تھی اور ٹھنڈی میٹھی ہوا محو رقص تھی پرندے بھی خوشی سے سرشار یہاں وہاں چکر کاٹ رہے تھے

جب اس سکون میں ارتعاش پیدا ہوا بلیک کرولا سمندر کے بالکل پاس آکے رکی

اندر بیٹھے شخص نے اپنی آنکھوں سے سن گلاسز اتار کے مغروریت سے اس گھر کو دیکھا

ایک گارڈ نے آگے بڑھ کہ دروازہ کھولا تو وہ ایک شان بے نیازی سے باہر نکلا

وہ گارڈز کی سرپرستی میں آگے بڑھ رہا تھا

اس کی چال بالکل آصف جیسی تھی

ایک وردی میں ملبوس گارڈ نے نہایت بدتمیزی سے دروازہ کھٹکھٹایا

اندر سے کسی مرد کی آواز ابھری

اب کسی کے قدموں کی آواز سناٸی دے رہی تھی

انہوں نے جیسے ہی دروازہ کھولا تو سامنے کا منظر دیکھ کے حیران رہ گۓ

گارڈذ بڑی بدتیمزی سے انھیں دھکا دیتے ہوۓ گھر کے اندر داخل ہوۓ۔۔۔۔

”کیا بدتیمزی ہے یہ“ کون ہیں آپ لوگ“؟؟

وہ بوکھلا گۓ تھے

اور آنے والا شخص بڑے اطمینان سے صوفے پہ براجمان ہو کے گھر کا جاٸزہ لے رہا تھا

”میں تم لوگوں سے پوچھ رہا ہوں کون ہو تم لوگ۔۔۔۔“؟؟

وہ عاجز آچکے تھے یہ ہٹ دھرمی دیکھ کے۔۔۔۔

بیٹھے صوفے پہ بتاتا ہوں۔۔۔۔۔“

اس شخص نے صوفے پہ بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوۓ نہایت سکون سے کہا

وہ غصہ ضبط کرتے ہوۓ وہی صوفے پہ بیٹھ گۓ۔۔۔۔۔

”نام تو سنا ہی ہو گا آپ نے میرا“؟؟

”آصف شاہ“

اس نے اتراتے ہوۓ اپنا تعارف کروایا

اور یہ نام سن کے سامنے بیٹھے شخص کے اوسان خطا ہو گۓ۔۔۔۔

”اس شخص نے اس نام نے کتنا کچھ برباد کر دیا تھا اور اب کس قدر ہٹ دھرمی سے وہ اس کے گھر میں موجود تھا

”اٹھو نکلو یہاں سے تمہاری ہمت کیسے ہوٸی یہاں آنے کی ہاں۔۔۔۔“

وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوۓ پھر نفرت سے اسے دیکھتے ہوۓ غصے سے بولے

”غصہ مت کریں “آرام سے بھی بات ہو سکتے ہے۔۔۔۔“

اس نے بے نیازی سے کہتے ہوۓ یہاں وہاں نظریں گھماٸیں۔۔۔۔۔

”تم آخر چاہتے کیا ہو سب کچھ تو برباد کر چکے ہو تم۔۔۔۔۔“

وہ بے بسی سے بولے کندھے ڈھلک گۓ۔۔۔۔۔۔

میں چاہتا ہوں آپ اپنی بیٹی کی شادی اب مجھ سے کر دیں کیونکہ اب آپ کی بیٹی کے ساتھ شادی کوٸی نہیں کرے گا۔۔۔۔۔“

اس نے بظاہر سنجیدگی سے اپنا موقف بیان کیا لیکن اس کے لہجے میں چھپی کمینگی اس سفید بالوں والے شخص سے چھپی نہ رہ سکی۔۔۔۔۔۔

جو ہونٹ بھینچے پتہ نہیں ضبط کے کون سے مراحل طے کر رہے تھے۔۔۔۔۔

”تمہیں خدا کا خوف نہیں ہے آر وی۔۔۔۔۔۔“تمہیں ڈر نہیں لگتا کسی کی آہ سے تمہیں ڈر نہیں لگتا تمہیں خوف نہیں آیا تمہیں شرم نہیں آٸی کہ تم اس شخص کے سامنے جا رہے ہو جس کی بیٹی کو تم نے برباد کر دیا ہے۔۔۔۔۔“

وہ تیز لہجے میں کہتے ہوۓ کانپنے لگے۔۔۔۔

وہ تھوڑی کے نیچے ہاتھ ٹکاۓ انہیں دیکھنے لگا۔۔۔۔۔

”میں نے برباد کیا نا اب میں ہی آباد کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔“

اس نے اثر نہ لیتے ہوۓ سہولت سے کہا۔۔۔۔۔

اس بزرگ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس شخص کا قتل کر دے۔۔۔۔۔۔۔۔

”تم چلے جاٶ بس یہاں سے۔۔۔۔۔۔“

انہوں نے آنسو ضبط کرتے ہوۓ اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیۓ۔۔۔۔۔۔

”چلا جاٶں گا چلا جاٶں گا ایسی بھی کیا جلدی ہے ابھی تو میں نے اپنے ہونے والی بیوی سے ملاقات بھی کرنی ہے۔۔۔۔۔“

چہرے پہ ایک تپا دینے والی مسکراہٹ سجا کے اس نے اپنے پیچھے کھڑے گن مین کی طرف دیکھا

اس کی بات سمجھ کے وہ بھی مسکرا دیا۔۔۔۔۔

وہ نہیں ہے گھر میں۔۔۔۔۔“

غصہ ضبط کرتے ہوۓ اس شخص نے مدہم آواز میں کہا

اسی لمحے دروازہ کھلا اور کوٸی اندر داخل ہوا۔۔۔۔۔

آنے والی شخصیت کے قدم وہی زنجیر ہوۓ اس کا چہرہ سرخ ہوا آنکھیں آگ اگلنے لگی

وہ شاید گذشتہ گفتگو کا آدھا حصہ سن چکی تھی

وہ مٹھیاں بھینچے وہی سے پلٹنے لگی

جب اس نے تیزی سے اٹھ کے اس کا راستہ روکنا چاہا۔۔۔۔

”میں تمہارا رشتہ مانگنے آیا تھا۔۔۔۔“

اس نے اس کے سامنے کھڑے ہو کے اس کے صبر کا امتحان لینا چاہا

اس نے رخ پھیر لیا۔۔۔۔۔

”تم مجھے دیکھ کیوں نہیں رہی۔۔۔۔۔۔کہیں تمہیں مجھے دیکھ کے پھر وہی رات تو یاد نہیں آرہی ۔۔۔۔۔“؟؟

اس نے معصوم بنتے ہوۓ کہا۔۔۔۔۔

اس نے آنکھیں ذور سے مینچ لی اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے بھاٸی کا چہرہ آیا۔۔۔۔۔۔

”آر وی نے اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی۔۔۔۔

اس کو ذور کا جھٹکا لگا۔۔۔۔۔۔

اس نے پلٹ کے دیکھا اس کا باپ سر جھکا کے بیٹھا تھا

اس کا صبر جواب دے گیا

اسے سمجھ ہی نہ آٸی کب اس کا ہاتھ سامنے کھڑے شخص پہ اٹھ گیا

جس کے ساۓ سے بھی وہ ڈرتی تھی۔۔۔۔۔

اس کے گارڈذ کی بندوقوں کا رخ اب اس لڑکی کی طرف تھا جو۔۔۔۔۔غصے سے کانپ رہی تھی

اس نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روکا۔۔۔۔۔

وہ گال سے ہاتھ ہٹا کے اسے دیکھنے لگا

وہ اس سے اس کی توقع نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔۔

”یہ ہی تھپڑ اگر میں تمہیں اس وقت مار دیتی تو آج میں یوں برباد نہ ہوٸی ہوتی میرا بھاٸی بچ جاتا۔۔۔۔۔۔“

وہ چلا چلا کے کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔۔

”تم آباد کرنے کی بات کرتے ہو۔۔۔۔۔برباد کرنے والے کبھی آباد نھیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔“

”تم خود کو کیا سمجھتے ہو۔۔۔۔۔“؟؟تمہیں بد دعا ہے میری خدا تمہیں کتے کی موت دے۔۔۔۔۔“

وہ دھاڑے مار مار کے رونے لگی تھی

وہ وہی کھڑا دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا

اس کے چہرے پہ کوٸی ندامت نہ تھی۔۔۔۔۔

وہ سفید داڑھی والا شخص وہاں سے اٹھا تھا سب کی نظروں سے بچتے بچاتے اس نے کوٸی نمبر ڈاٸل کیا جو بند جارہا تھا

وہ مایوسی اور افسوس سے موباٸل کی اسکرین کو دیکھ کے رہ گٸ۔۔۔۔

”بعض رازوں کے فاش ہونے کا ایک مقررہ وقت ہوتا ہے اس سے پہلے انہیں فاش کرنے کے لیے جتنی بھی تدبیریں کی جاٸیں ناکام ہو جاتی ہیں۔۔۔۔۔

وہ دھیرے سے مسکراتا ہوا ہاتھ کے اشارے سے گارڈز کو اشارہ کرتے ہوۓ گھر سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔

اس کے جانے کے بعد اس کے باپ نے آگے بڑھ کے ایلاف کو سہارا دے کے اٹھانے کی کوشش کی

اپنی بیٹی کی یہ حالت دیکھ کر ان کا دل کٹ رہا تھا

وہاں سے باہر نکل کے وہ شخص اب گاڑی میں بیٹھ رہا تھا پھر اس نے موباٸل پہ ایک میسج ٹاٸپ کیا ”کام ہو گیا ہے“ اور ملک کے نمبر پہ سینڈ کرتے ہوۓ

پھر آنکھوں پر سن گلاسز چڑھا لی

گاڑی تیز رفتاری سے آگے بڑھ گٸ تھی۔۔۔۔۔

صبح کا ملجگی اندھیرہ آہستہ آہستہ چھٹ رہا تھا ہلکی سنہری کرنیں مارگلہ کی پہاڑیوں سے ہوتی ہوٸی اطراف میں پھیل رہی تھی۔۔۔۔۔

اس بڑے سے بنگلے میں برتنوں کی آواز واضح تھی کچن میں کھڑی وہ چینی نقوش والی لڑکی ناشتے کے برتن ٹرے میں رکھ رہی تھی

نھار کا ناشتہ وہ ہمیشہ اسے کمرے میں ہی دیتی تھی

آج بھی معمول کے مطابق وہ ٹرے سیٹ کر کے سیڑھیاں چڑھتی ہوٸی اس کے کمرے کی طرف گٸ

اس نے دھیرے سے دستک دی

کمرہ اندر سے لاک تھا۔۔۔

کوٸی جواب نہیں آیا وہ ہنوز دستک دیتی رہی لیکن دوسری طرف سے کوٸی نہیں آیا

اس نے وہی کھڑے کھڑے اسے پکارا لیکن کوٸی جواب نہیں آیا

اب وہ تشویش کا شکار ہو چکی تھی

وہ واپس کچن میں گٸ شیلف پہ پڑا اپنا موباٸل اٹھایا ملک کا نمبر ڈاٸل کیا لیکن وہ کال پک نہیں کر رہا تھا

کچھ سوچتے ہوۓ اس نے آصف کا نمبر ملایا

دوسری کال پر فون اٹھا لیا گیا تھا

اس کی نیند سے بوجھل آواز اس کی سماعتوں سے ٹکراٸی۔۔۔۔۔۔

”ہیلو سر میں اسماریہ ہوں۔۔۔۔۔۔“بڑے بنگلے سے بات کر رہی ہوں۔۔۔۔۔“

آصف نے تھوڑی بے دلی سے سنا پھر کروٹ موڑ گیا جہاں سے کھڑکی سے سورج کی روشنی اندر داخل ہو رہی تھی

لاہور میں موسم گرما کی صبح بھی اتنی ہی گرم تھی

وہ اس وقت لاہور کے ایک ہوٹل میں موجود تھا۔۔۔۔

”سر نھار میڈم دروازہ نہیں کھول رہی۔۔۔۔۔“

اگلی بات نے اس کے سارے حواسوں کو چوکنا کر دیا تھا

اس کی نیند اڑ چکی تھی۔۔۔۔۔

”کہیں سب دھمکیاں سچ تو نہیں ہو گٸ تھی