Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shoq Zawal Episode 10

Shoq Zawal by Eman Khan

”ملک تم یہاں“؟؟

آصف حیرت ذدہ سا کھڑا تھا۔۔۔۔

لہجے میں تشویش تھی

”میں نھار کی طبیعت کا پوچھنے آیا تھا“

ملک اسے بتاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا

پھر رخ موڑ کے نھار کی طرف دیکھا

نھار نے تاٸید میں سر ہلا دیا

آصف چلتا چلتا اندر آیا چہرے پہ ہنوز تشویش تھی

”طبیعت کیسی ہے اب تمہاری۔۔۔۔۔“؟؟

آصف اس کے بیڈ کے قریب کھڑا نرمی سے پوچھ رہا تھا

ملک کی مسکراہٹ سمٹ چکی تھی

”ٹھیک ہوں اب پہلے سے“

وہ نقاہت ذدہ سی بولی۔۔۔۔۔

چہرے پہ تھکی تھکی سی مسکراہٹ تھی

وہ اب مطمٸین لگتی تھی اور ملک کچھ بے چین

”میں چلتا ہوں تم دونوں باتیں کرو۔۔۔۔“

ملک انہیں اپنی طرف متوجہ کرتے ہوۓ بولا

”رکو ملک میں نے کچھ ضروری بات کرنی ہے جس کے لیے تمہارا یہاں ہونا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔“

وہ ہاتھ سے ماتھے کو مسلتے ہوۓ سرسری سا بولتا ہوا صوفے پہ بیٹھ گیا۔۔۔۔۔

ملک نے کچھ ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا

نھار کے تاثرات بھی کچھ ایسے ہی تھے

ملک دوبارے سے صوفے پہ براجمان ہو گیا

”میں چاہتا ہوں کچھ وقت کے لیے تم نھار کو یہاں سے پرانے گھر میں شفٹ کر دو۔۔۔۔۔

وہ دونوں ہاتھ گھٹنوں پہ ٹکاۓ بول رہا تھا

چہرا اب کی بار سپاٹ تھا

نھار کے چہرے پہ الجھن ابھری اور ملک آنکھیں سکیڑ کے اسے دیکھنے لگا

”لیکن آصف پرانا گھر“

آصف نے ہاتھ اٹھا کے اسے مذید بولنے سے روک دیا

”میرے پاس اس سے محفوظ جگہ نہیں ہے۔۔۔۔“

اس نے ملک کی بات کاٹ دی

جیسا تم کہو

ملک نے محض کندھے اچکا دیۓ۔۔۔۔

”نھار تم ضرورت کا سامان پیک کر لو کچھ دن تم اسی گھر میں رہو گی جب تک حالات درست نہیں ہو جاتے۔۔۔۔۔“

وہ نرمی سے بول رہا تھا مگر لہجے سے کچھ پریشان لگ رہا تھا

آصف اپنی پریشانی چھپانے میں ماہر تھا۔۔۔۔۔

نھار نے کچھ بولنے کے لیے منہ کھولا تو وہ اسے نظر انداز کرتا اٹھ کھڑا ہوا

نھار کے الفاظ وہی دم توڑ گۓ اس نے سر جھکا لیا

ملک بھی آصف کے ساتھ ہی کھڑا ہو گیا اور پھر دونوں چلتے چلتے کمرے سے باہر نکل گۓ

اب نھار وہاں اکیلی رہ گٸ تھی

”آصف نھار کو یہاں سے بھیجنے کی وجہ پوچھ سکتا ہوں۔۔۔۔

ملک اپنے کوٹ کی نادیدہ شکنیں درست کرتے ہوۓ پوچھ رہا تھا

وہ دونوں اب سیڑھیاں اتر رہے تھے

آصف کا چہرا ہنوز سپاٹ تھا۔۔۔۔

”مجھے کوٸی دھمکیاں دے رہا ہے۔۔۔۔۔“

وہ لاپرواٸی سے کہتے ہوۓ آگے بڑھ گیا۔۔۔۔۔

”کیا مطلب ، کون“؟؟”کب سے“

ایک ساتھ کٸ سوال پوچھتے ہوۓ وہ اس کے پیچھے بھاگا۔۔۔۔۔

وہ چلتا چلتا نیچے ٹی وی لاٶنچ کے صوفے پہ بیٹھ گیا

اب ریموٹ سے یوں ہی ٹی وی کے چینل بدل رہا تھا

ملک اب بے چین سا اس کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔۔

”تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں میں آروی۔۔۔۔۔۔“؟؟

وہ دبے دبے غصے سے غرایا۔۔۔۔۔

آروی نے ہنوز لاپرواٸی سے اس کی طرف دیکھا

”میں اگر جانتا ہوتا تو کیا تمہیں نہ بتاتا“؟؟

اس نے ناگواری سے ریموٹ ایک طرف رکھا۔۔۔۔۔۔

وہ اب پوری توجہ سے ملک کی طرف مڑا۔۔۔۔۔۔

”ملک اب صوفے پہ بیٹھ چکا تھا اور ماتھے پہ شکنیں ڈالے آصف کی طرف دیکھ رہا تھا

”تمہیں کس پہ شک ہے“؟

تم مجھے جانتے ہو میں شک کی بنیاد پہ کچھ نہیں بولتا۔۔۔۔۔۔۔

وہ ہنوز لاپرواہ تھا یا ایسا ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا تھا ملک سمجھ نہیں پا رہا تھا

ملک کے چہرے پہ سوچوں کا جال پھیلنے لگا۔۔۔۔۔

”یہ انزق بھی تو ہو سکتا ہے۔۔۔۔“؟؟

اس نے جانچتی ہوٸی نظروں سے آروی کو دیکھتے ہوۓ اندازہ لگایا۔۔۔۔

اس نے پلٹ کر کچھ ناگواری سے اسے دیکھا

”اسے بچپن سے جانتا ہوں میں وہ دھمکیاں نہیں دے گا وہ جو بھی کرے گا میرے سامنے آکے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کرے گا“

وہ سرد مہری سے بولا پھر اٹھ کھڑا ہوا

”سنو۔۔۔۔۔“

فلحال تم نھار کو یہاں سے لے کے جاٶ “

وہ ہدایت دیتے ہوۓ آگے بڑھا

ملک جی بھر کے بدمزہ ہوا تھا ہر جگہ پہ یہ لڑکی کیوں آجاتی تھی پتہ نہیں۔۔۔۔

کچھ سوچ کے اس کے چلتے قدم رک گۓ اور پھر وہ پلٹ کے ملک کے پاس گیا۔۔۔۔۔

تھوڑا اس کی طرف جھکا۔۔۔

ملک نے کچھ حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔

اب ان دونوں کے چہروں میں تھوڑا سا فاصلہ تھا

ملک اس کی آنکھوں میں ابھری لال لکیریں واضح دیکھ سکتا تھا

”اور اگر اس دفعہ نھار پر ایک لکیر بھی آٸی تو خدا کی قسم ملک میں تمہاری جان لے لوں گا۔۔۔۔۔۔“

دھیمی مگر سرد آواز میں ایک ایک لفظ چبا چبا کے ادا کرتے ہوۓ وہ ملک پر بہت کچھ عیاں کر گیا۔۔۔۔۔

وہ وہاں سے ہٹ کے اب دروازے کی طرف جا رہا ملک وہی دھنگ سا بیٹھا تھا

”تمھیں مجھ پہ اعتبار کرنا چاہیۓ آروی۔۔۔۔۔“

اس نے کاٹ دار لہجے میں کہا اس کے لہجے سے تکلیف عیاں تھی۔۔۔۔۔

آصف نے پلٹ کے اسے دیکھا پھر طنزیہ ہنسا اور باہر نکل گیا

ملک کو محسوس ہوا کسی نے اس کے منہ پر تھوک دیا ہے۔۔۔۔۔۔

طیش میں آکے پاس پڑا گلدان اس نے ذمین پہ پٹخ دیا۔۔۔

اس کے اندر غصے کا ایک ابال پھٹ پڑا تھا

اس کا نشانہ کس نے بننا تھا کوٸی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔۔

کچھ سال پہلے

آسمان پہ بادلوں کے ننھے ننھے ٹکڑے تیر رہے تھے ۔۔۔۔۔ہلکی ہلکی ہوا سے اس بڑے مگر ویران سے لان میں پڑا جھولا بغیر کسی نفوس کے خود ہی جھول رہا تھا وہاں سے کھڑے ہو کے دیکھو تو مارگلہ کی پہاڑیاں صاف نظر آتی تھی

اونچی مگر سر سبز۔۔۔۔

اندر چلے جاٶ تو لکڑی کے بڑے سے دروازے سے اندر نفاست سے سجایا گیا یہ ڈراٸینگ روم بالکل ویران تھا

لیکن اس کے بالکل ساتھ ملحق کمرے میں ٹی وی اونچے والیم پہ چل رہا تھا

اور ٹی وی کے بالکل سامنے ایک سات آٹھ سال کا بچہ انہماک سے ٹی وی دیکھ رہا تھا

”آصف“ٹی وی بند کرو۔۔۔۔۔۔“

واش روم سے نکلتی اس عورت نے جھانک کے کمرے میں دیکھتے ہوۓ ناگواری سے کہا۔۔۔

گول مٹول سے بچے نے پلٹ کر دیکھا بالکل سامنے سادہ سے ٹراٶزر اور شرٹ پہنے اس کی ماں کھڑی تھی بال البتہ گیلے تھے جنھیں وہ تولیے سے سکھا رہی تھی۔۔۔۔

بچہ ماں کی بات کا اثر نہ لیتے ہوۓ ایک دفعہ پھر ٹی وی کی طرف متوجہ ہو گیا تھا

وہ عورت اب ٹیبل پہ پڑا ہوا اپنا موباٸل اٹھاتے ہوۓ کوٸی نمبر ڈاٸل کر رہی تھی

ماتھا شکن آلودہ اور چہرے پر برہمی ابھر آٸی

رنگنگ کے باوجود کال پک نہیں ہو رہی تھی۔۔۔

ٹی وی پہ مسلسل کارٹون چل رہے تھے

اس نے موباٸل پٹھا اور سیدھا اس بچے کے سر پہ پہنچ گٸ اسے بازو سے پکڑا اور جھنجھوڑ کے کھڑا کیا

گول مٹول صاف سی رنگت والا بچہ کچھ سہم گیا

”کیا تمہیں سمجھ نہیں آرہی کہ ٹی وی بند کر دو۔۔۔۔۔“

چیختے ہوۓ اس نے ایک ذور دار طمانچہ اس کے منہ پہ دے مارا

بچہ کچھ گھبرا گیا اور ساتھ ہی رونے لگا۔۔۔۔۔

اس کا گال سرخ ہو چکا تھا

”تم نے اور تمہارے اس آوارہ باپ نے میری ذندگی جہنم بنا دی ہے۔۔۔۔۔“

اسے وہی صوفے پہ پٹھ کے وہ آگے بڑھ گٸ

بچہ ہنوز رو رہا تھا

اندر کمرے میں آتے ہی ۔۔۔۔۔وہ اپنا سر ہاتھوں میں لے کے بیٹھ گٸ

بھیگے بال اس کے ہاتھ نم کر گۓ۔۔۔۔

وہ ایک ستاٸیس اٹھاٸیس سالا خوبصورت نرم و نازک سی عورت تھی جو اپنے متناسب سے وجود کی وجہ سے اپنی عمر سے بہت کم دیکھاٸی دیتی تھی رنگت ملاٸی کی طرح صاف تھی خوبصورت بڑی بڑی شہد رنگ آنکھیں جن پہ پلکوں کا پہرا تھا ستواں کھڑی مغرور سی ناک۔۔۔۔۔اور عنابی ہونٹ۔۔۔۔وہ حسن کا ایک مکمل شاہکار تھی

اسے دیکھ کے کوٸی یقین نہیں کر سکتا تھا کہ وہ دو بچوں کی ماں ہے

اور اس وقت وہ شدید غصے کی حالت میں بیٹھی تھی

کچھ سوچ کے وہ اٹھی وارڈروب کھولا سامنے ہینگرز پہ کپڑے لٹکے ہوۓ تھے

بچے کے رونے کی آواز ہنوز آرہی تھی

لیکن یہاں پرواہ کسے تھی۔۔۔۔

وہ بے نیاز سی وہاں کھڑی کپڑے نکال رہی تھی کچھ سوچ کے اس نے ایک کالے رنگ کی ساڑھی نکالی اور چینج کرنے چلی گٸ۔۔۔۔

جب چینج کر کے وہ باہر نکلی تو رونے کی آواز مدھم ہو چکی تھی

شاید اب وہ رو رو کے بھی تھک چکا تھا

”جب انسان خود غرض ہو جاتا ہے تو پھر وہ اپناٸیت کیا انسانیت کے بھی ہر تعلق سے بے بہرہ ہو جاتا ہے

اگر مغروریت اور بے حسی کا کوٸی دوسرا نام ہوتا تو وہ یقیناً جویرہ یزدانی ہوتا

وہ حسن کی دیوی تھی اور چاہتی تھی کہ لوگ ہمہ وقت اسے پوجتے رہیں

اب وہ ڈراٸیر سے اپنے بال سکھا رہی تھی

جب باہر سے کچھ سخت سی مردانہ آواز ابھری وہ سمجھ چکی تھی کہ آنے والا انسان کون ہے

پھر بھی لاتعلق سی اپنے کام میں مصروف رہی

کوٸی اسے پکارتا ہوا اب قریب آرہا تھا

بھاری بوٹوں کی آواز اس کی سماعتوں کے ساتھ ٹکرا رہی تھی دل دھڑک رہا تھا

پر وہ ہنوز لاتعلق کھڑی تھی

یہاں تک کے وہ شخص اس کے بالکل پاس پہنچ آیا تھا

اس کے مخصوص کلیون کی خوشبو اس کے نتھوں سے ہوتے ہوۓ اس کے رگ و پا میں سرایت کر گٸ

”تم نے پھر سے آصف پہ ہاتھ اٹھایا ہے“؟؟

رعب دار مگر ٹھہرا ہوا لہجہ اس کی سماعتوں سے ٹکرایا

لہجے میں خفکی تھی۔۔۔۔

وہ نہیں پلٹی۔۔۔۔

”میں تم سے بات کر رہا ہوں جویریہ۔۔۔۔“

اس نے اس کی دودھیا کلاٸی سے پکڑ کے اسے اپنی طرف موڑا۔۔۔۔۔

وہ آنکھیں مینچ کے آنے والے شخص کے سینے میں دبک گٸ۔۔۔۔۔

”تم دیکھاٸی نہیں دیتے تو پاگل ہونے لگتی ہوں میں دنیا کی ہر چیز بری لگتی ہے مجھے۔۔۔۔۔“

وہ کسی ڈرے سہمے ہوۓ بچے کی طرح بول رہی تھی

وہ ایک لمبی سانس بھر کے رہ گیا

اس کی وردی بھیگ رہی تھی

شاید وہ رو رہی تھی

”وہ کوٸی چیز نہیں ہے جویرہ وہ ہمارے بچے ہیں جو تمہارے اس رویے کی وجہ سے کمتری کا شکار ہو رہے ہیں

وہ اسے رسان سے سمجھا رہا تھا

لہجہ دھیما مگر آواز رعب دار تھی

”نہیں اس سب لوگوں میں سے کوٸی بھی احسن شاہ نہیں ہے میرے لیے کوٸی بھی احسن شاہ نہیں ہے“

اس نے فوراً سے اسے دونوں بازوٶں سے سختی سے پکڑ لیا تھا

جیسے وہ پھر سے کہیں چلا نہ جاۓ

وہ دھیرے سے ہنس دیا تھا اس کے گال میں گڑھا نمودار ہوا تھا

وہ جانتا تھا اس کی بیوی اس کے معاملے میں کس قدر پاگل تھی۔۔۔۔

”مجھے خوف آتا ہے کہیں کوٸی تمہیں مجھ سے چھین نہ لے۔۔۔۔“

وہ ہنوز سہمی ہوٸی بول رہی تھی

”کیسی کیسی باتیں سوچ لیتی ہو تم جویریہ۔۔۔۔“؟؟

وہ اکتا کے بیڈ پہ بیٹھ گیا

جلتے بلب کی روشنی میں اس کا چہرا واضح ہوا تھا

وہ ایک اونچے لمبے قد کا خوبصورت نوجوان تھا جو وردی میں ملبوس تھا رنگت گندمی مگر چہرہ پرکشش تھا چوڑی پیشانی سے ذہانت ٹپکتی تھی کالی سیاہ چمکدار آنکھوں میں عجیب سی کشش تھی گھنی مونچھوں کے نیچے ہونٹ چھپ چکے تھے اور چہرے کے ساتھ چپکی داڑھی اسے سب سے منفرد بناتی تھی

پوری دنیا جانتی تھی کہ جویرہ کی مغروریت صرف احسن شاہ کی ایک مسکراہٹ پہ تار تار ہو سکتی تھی

پوری دنیا کے لیے وہ حسن کی ملکہ تھی اور صرف احسن شاہ ہی جانتا تھا کہ وہ اس کے پاٶں کی خاک بننا چاہتی ہے۔۔۔۔۔

جب سے اس کی اور احسن کی شادی ہوٸی تھی اس کا یہ خوف ہی نہیں جاتا تھا کہ کوٸی احسن کو اس سے چھین نہ لے

دن رات وہ ہر طرح کے وظاٸف میں مشغول رہتی تھی

اسے ذندگی میں اگر کوٸی چیز پیاری تھی تو وہ تھا احسن شاہ۔۔۔“

لیکن ذندگی اسے بہت جلد کسی امتحان میں ڈالنے والی تھی

وادی سوات میں یہ چھوٹا سا لکڑیوں کا بنا ہوا گھر دھوپ میں جھلس رہا تھا لیکن اندر سے یہ مکان کافی ٹھنڈا تھا اندر موت سا سکوت تھا۔۔۔۔

چھوٹے سے لاٶنچ نما جگہ سے ہوتے ہوۓ اندر جاٶ تو ایک طرف وہ بیٹھی تھی سامنے ٹیبل پہ اخبار پڑا تھا اور وہ پوری توجہ سے اخبار پڑھ رہی تھی بالوں کا ڈھیلا سا جوڑہ بنا رکھا تھا آنکھوں کے گرد حلقے واضح تھے سفید سادے کاٹن کے سوٹ میں تکان ذدہ سی لگتی تھی

سامنے بیٹھے لگ بھگ پچاس پچپن سال کے اس سفید داڑھی والے آدمی نے کچھ افسوس اور تاسف سے اپنی بیٹی کو دیکھا۔۔۔۔۔

یہاں سے تھوڑا دور اسلام آباد چلے جاٶ تو نھار افسردہ سی اپنا سامان پیک کر رہی تھی بے دلی مگر تیزی سے اس کے ہاتھ چل رہے تھے

باہر آصف کھڑا ۔۔۔۔۔ملک کو ہدایات دے رہا تھا۔۔۔۔۔

یہاں سے دور کراچی میں ۔۔۔۔۔۔وہ ودردی میں ملبوس اپنے آفس میں بیٹھا تھا سامنے کمپیوٹر پہ تیزی سے انگلیاں چلا رہا تھا اسکرین پہ کوٸی تصویر ابھر رہی تھی اور پھر ایرر لکھا آرہا تھا

اس کے چہرے پہ سختی اور غصہ واضح تھا۔۔۔۔۔

”تو کیا انزق سے علیحدگی کا تمہارا یہ آخری فیصلہ ہے۔۔۔۔۔“؟؟

گہری نظروں سے اپنی بیٹی کے چہرے کے اتار چڑھاٶ دیکھتے ہوۓ وہ پوچھ رہے تھے۔۔۔۔

”ساتھ رہنے کا اب کوٸی جواز پیدا نہیں ہوتا“

اس نے سر جھٹک دیا

نھار نے سڑھیاں اترتے ہوۓ پلٹ کے دیکھا وہاں آصف کھڑا تھا لیکن اسے نہیں دیکھ رہا تھا اس کا دل بری طرح سے دکھا تھا

دروازے پہ دستک دے کے کوٸی اندر داخل ہوا تھا انزق نے سر ہلا کے اسے اجازت دی تھی

”سر آصف شاہ کا نمبر ٹریس نہیں ہو پارہا۔۔۔۔“

آنے والا شخص کچھ پریشانی اور شرمندگی سے کہہ رہا تھا

”انزق کی پیشانی شکن آلودہ ہوٸی تھی۔۔۔۔

”جواز ہوتے نہیں ہیں ”جواز پیدا کیے جاتے ہیں۔۔۔۔“

انہوں نے اپنی بیٹی کو دیکھ کے تاسف سے کہا

”میں جواز نہیں پیدا کرنا چاہتی اس نے دو ٹوک جواب دیا۔۔۔۔۔

”تم سے ایک کام نہیں ہو پا رہا۔۔۔۔۔“وہ اسی سیارے پہ موجود ہے اور تم لوگوں سے ایک انسان ٹریس نہیں ہو پارہا۔۔۔۔۔“

وہ مارے طیش کے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔

”تم غلط ہو ایلا۔۔۔۔۔“انزق کو تم اس گناہ کی سزا دی رہی ہو جو اس نے کیا ہی نہیں۔۔۔۔“

انہوں نے اسے احساس دلانے کی کوشش کی

”میں اس کو سزا دے رہی ہوں بابا“اس کی آواز صدمے سے پھٹ پڑی تھی۔۔۔۔۔

”سزا تو مجھے ملی ہے“اس گناہ کی جو میں نے کیا ہی نہیں۔۔۔۔“

”کیا وہ جانتا ہے کہ میرا گناہ گار کون ہے“؟؟

”تم میرا اعتبار کر سکتے ہو آروی۔۔۔۔۔“میں سب دیکھ لوں گا۔۔۔۔۔“

ملک مسکراتے ہوۓ آصف کے کندھے پر ہاتھ رکھ رہا تھا

”کوٸی بھی نہیں جانتا بابا اس ایک رات مجھ پر کیا گزری۔۔۔۔۔“

ملک اب سیڑھیاں اتر رہا تھا

پہلی

دوسری

تیسری

”ان ظالموں نے میرا سب کچھ ختم کر دیا۔۔۔۔“

چوتھی

پانچھویں۔۔۔۔

چھٹی

”میرا بھاٸی مر گیا۔۔۔۔۔“

ساتویں

اٹھویں۔۔۔۔

نویں

میری ماں بستر پہ پڑی ہے۔۔۔۔۔۔“

یہ اس رات کدھر تھا جب مجھے اس کی سب سے ذیادہ ضرورت تھی

دوسرے سرے پہ نھار کھڑی منتظر سی نظروں سے ملک کو دیکھ رہی تھی

اور اوپر سیڑھیوں کے دوسرے سرے پہ آصف کھڑا تھا

ٹھیک ہے اس کا قصور نہیں تھا تو قصوروار کو پکڑے نا۔۔۔۔۔“

دس

آج میں ہوں کل کوٸی اور ہو گی۔۔۔۔۔

اب وہ بالکل نھار کے پاس کھڑا تھا

بولتے بولتے اس کا گلا بیٹھ گیا اس نے بامشکل اپنی آنکھوں میں آٸی نمی چھپاٸی اور وہاں سے اٹھ گٸ۔۔۔۔۔

”تم لوگوں سے ایک آصف شاہ نہیں ٹریس کیا جارہا۔۔۔۔۔“

انزق پتہ نہیں کس کا غصہ کس پہ نکال رہا تھا

ہاتھ جھلا کے اپنے سامنے سر جھکا کے کھڑے اس لڑکے کو جانے کا اشارہ کر کے وہ کرسی پہ ڈھ گیا

نھار اب گاڑی میں بیٹھ رہی تھی

”ملک صاحب اس لڑکی کا کیا کرنا ہے۔۔۔۔“؟؟

گاڑی میں بیٹھے ڈراٸیور نے ملک کے قریب ہو کے سرگوشی کی۔۔۔۔

”اگر کچھ کرو گے تو یاد رکھنا آصف جان لے لے گا تمہاری

وہ سرد لہجے میں اسے خبردار کرتے ہوۓ شیشے سے باہر کا منظر دیکھنے لگا

”نھار نے پلٹ کر دیکھا آصف جا چکا تھا

وہ بوجھل دل سے گاڑی میں بیٹھ گٸ اور گاڑی زن سے آگے بڑھ گٸ