Shoq Zawal by Eman Khan NovelR50404 Shoq Zawal Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Shoq Zawal Episode 11
Shoq Zawal by Eman Khan
گاڑی جس وقت اس عالیشان بنگلے کے سامنے آکے رکی اس وقت شام گہری ہو چکی تھی سورج چھپ چکا تھا اور شام کا سرمٸ اندھیرہ ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا
ٹاٸیروں کی چرچراہٹ نے اس بنگلے کے سکوت کو توڑا
اس نے آنکھیں پھیلا کے اس بنگلے کو دیکھا۔۔۔۔۔اتنا بڑا عالیشان بنگلہ ۔۔۔۔
ملک گاڑی سے باہر نکل چکا تھا وہ بھی گاڑی کا دروازہ کھول کے باہر نکلی سوکھے پتے اس کے پاٶں کے نیچے آکے رندھ گۓ۔۔۔۔۔
وہ کھوٸی کھوٸی سی باہر نکلی۔۔۔۔۔تیز ہواٶں کی وجہ سے اس سے اس کا گلابی دوپٹہ نہیں سنبھالا جا رہا تھا
وہ ملک کی پیروی میں چلتی ہی جارہی تھی
لکڑی کے بڑے سے دروازے پہ موٹا ذنگ آلودہ تالا لگا تھا جیسے اسے بہت وقت پہلے بند کیا گیا تھا
نھار نے ایک تنقیدی نگاہ اطراف پہ ڈالی۔۔۔۔۔
بڑے سے عالیشان بنگلے میں داخل ہونے سے پہلے ایک طرف لان نما جگہ بنی ہوٸی تھی جس میں لمبی لمبی مگر سوکھی ہوٸی گھاس اگی ہوٸی تھی اطراف میں ننھے ننھے پودے سوکھ چکے تھے
اور ہوا کے مدہم رقص پہ آج بھی جھولا بغیر کسی نفس کے جھول رہا تھا
تالا کھل چکا تھا
لکڑی کا دروازہ جیسے ہی کھلا وہ اندر کی طرف بڑھی ۔۔۔۔۔
اندر ٹی وی لاٶنچ بالکل ویران پڑا تھا جیسے ہمیشہ سے ہوا کرتا تھا۔۔۔۔۔
سامنے سفید چادر سے ڈھکے ہوۓ صوفے اور دیگر چیزیں اس کی منتظر تھی
گرد آلودہ مہنگے ڈیکوریشن پیس ۔۔۔۔۔ماضی کے کچھ پھپھڑاتے اوراق۔۔۔۔
کچھ کھلکھلاہٹیں۔۔۔۔۔ اسے سناٸی دے رہی تھی
یہاں کچھ ایسا تھا کچھ عجیب
اسے یہاں سے اپناٸیت کی خوشبو آرہی تھی۔۔۔۔۔
وہ کھوٸی کھوٸی سی آگے بڑھتی جارہی تھی
ملک اس کا سامان سیٹ کروا رہا تھا
اور وہ خاموش سی ایک طرف کھڑی ہر چیز کا جاٸزہ لے رہی تھی جب اس کی نظر سامنے لگی فریم پہ پڑی وہ چونک کے پیچھے پلٹی
اور پھر تصویر والی عورت کو دیکھتی ہی رہ گٸ۔۔۔۔۔
سلک کی میرون ساڑھی پہنے وہ عورت اس تصویر میں پوری تمکنت سے بیٹھی تھی بالوں کو اونچے جوڑے میں قید کر رکھا تھا مغرور اکڑی ہوٸی گردن۔۔۔۔وہ حسن کی دیوی تھی اس نے اپنی ذندگی میں اس سے پیاری عورت نہیں دیکھی تھی۔۔۔۔۔
وہ کتنی ہی دیر یونہی کھڑی رہی تھی۔۔۔۔۔
اور ملک کے پکارنے پہ پیچھے پلٹی۔۔۔۔۔
”نھار۔۔۔۔“؟؟کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔۔۔“؟؟
وہ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالا اس کے پاس کھڑا تھا نظریں سامنے فریم پہ جما رکھی تھی ۔۔۔۔
”یہ جویریہ میڈم ہیں “آصف کی ماں۔۔۔۔۔“
وہ نھار کی نگاہوں میں چھپا تجسس دیکھ چکا تھا اس لیے مسکراتے ہوۓ تعارف کروانے لگا۔۔
نھار کے چہرے پہ ستاٸش ابھری۔۔۔۔
”یہ اب کہاں ہیں۔۔۔۔“
وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی۔۔۔۔۔
”ان کی دو سال پہلے موت ہو گٸ ہے۔۔۔۔۔“ڈپریشن کی وجہ سے انہوں نے خودکشی کر لی تھی۔۔۔۔۔“
اس نے دکھ سے بتایا۔۔۔۔۔
نھار کو سن کے دھچکہ لگا تھا اور افسوس بھی ہوا تھا۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں پھیلاۓ دیکھنے لگی۔۔۔
”ملک صاحب۔۔۔۔۔“آروی آپ کو یاد کر رہے ہیں۔۔۔۔۔“
ایک ملازم نے آکے اطلاع دی۔۔۔۔۔
”اوہ ہاں کافی دیر ہو چکی ہے۔۔۔۔۔۔“ملک نے عجلت میں ہاتھ میں بندھی گڑھی پہ ٹاٸم دیکھا۔۔۔۔۔”
”پھر نھار کی طرف پلٹا۔۔۔۔۔
”یہ دو تین ملازم میں رات کے لیے یہاں چھوڑ کے جارہا ہوں صبح ایک دو ہیلپرز بھی آجاٸیں گی یہاں ضرورت کا سارا سامان پڑا ہے ”امید ہے یہاں آپ کو کسی چیز کی کمی نہیں ہو گی“
وہ مسکراتے ہوۓ سر کو خم دے کے آگے بڑھ گیا اور وہ مسکرا بھی نہ پاٸی اس کا دماغ کہیں اور الجھا ہوا تھا
”نظر رکھو اس لڑکی پہ یہ بنگلہ بہت نازک ہے۔۔۔۔۔“
ملک مین گیٹ پہ کھڑا سر جھکا کے کھڑے ملازم کو سرد مہری سے ہدایات دے رہا تھا
اور وہ اندر الجھی الجھی سی کھڑی تھی
اس بنگلے میں کچھ تو عجیب تھا
کچھ ایسا جو بہت سے لوگوں کی نظروں سے مخفی تھا۔۔۔۔۔
ایلاف آۓ دن عدالت سے ملنے والی تاریخوں سے بہت پریشان تھی وہ یہ قصہ کم از جلد از جلد ختم کرنا چاہتی تھی اس سے پہلے کے اس کی ہمت ٹوٹ جاۓ۔۔۔۔۔۔
انزق ان دنوں آروی کی تلاش میں یہاں وہاں مارا مارا پھر رہا تھا لیکن ابھی تک کوٸی سوراغ اسے نہیں ملا تھا۔۔۔۔آروی ایک واحد شخص تھا جو اس کے اور ایلاف کے رشتے کو بچا سکتا تھا
نھار کا اس گھر میں آۓ آج دوسرا روز تھا۔۔۔۔بظاہر گھر میں سب کچھ نارمل تھا لیکن نھار کے دماغ میں آج کچھ اور ہی چل رہا تھا
آصف کو ملنے والی دھمکیوں کا سلسلہ رکا نہیں تھا اور ملک دماغ میں کچھ اور ترکیب سوچ رہا تھا
بظاہر سب کچھ نارمل تھا لیکن بیک اسکرین بہت کچھ ایسا تھا جو نہیں ہونا چاہیۓ تھا
بہت سے راز اس چیز کے طلبگار تھے کہ ان پر سے پردہ اٹھایا جاۓ۔۔۔۔۔۔
موسمِ گرما کی پہلی بارش نے سوات کا موسم پھر سے نکھار دیا تھا آسمان پہ ننھے ننھے بادلوں کے ٹکڑے منڈلا رہے تھے۔۔۔
وقفے وقفے سے بارش جاری تھی ۔۔۔۔۔۔وہاں سے اندر چلے جاٶ تو چشمے کے ساتھ ملحقہ گھر میں آج خاموشی نہیں تھی بالکل آج وہاں تھوڑی چہل پہل تھی۔۔۔۔
اندر صوفے پہ ایک طرف سادہ کالے رنگ کی شلوار قمیض میں انزق سر جھکاۓ بیٹھا تھا اور اس کے بالکل مخالف سمت وہی سفید داڑھی والے بزرگ بیٹھے تھے ان کے چہرے پہ افسردگی تھی
سامنے ٹیبل پہ دو بھاپ اڑاتے کافی کے کپ پڑے تھے۔۔۔۔۔
انزق کی نظریں بٹھکتی ہوٸی بار بار دروازے کی طرف جاتی تھی شاید وہ کسی کا منتظر تھا۔۔۔۔۔
”انزق تمہیں کیا لگتا ہے وہ تمہاری بات مان لے گی “وہ مان جاۓ گی۔۔۔۔۔“
وہ سفید داڑھی والے بزرگ جنہوں نے ملجگا سا لباس پہن رکھا تھا کسی امید کے تحت پوچھ رہے تھے۔۔۔۔
”میں کوشش کررہا ہوں خالو۔۔۔۔۔“
اس نے نظریں کافی سے اڑتی بھاپ پہ جماۓ کھوۓ کھوۓ لہجے میں کہا
وہ نظر اٹھا کے ان نظروں میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا جن میں امید تھی
اسی لمحے کسی کے قدموں کی چاپ سناٸی دی تھی۔۔۔۔۔اور اس کے دل کو کسی نے مٹھی میں جھکڑ لیا تھا لیکن وہ پیچھے نہیں پلٹا تھا جیسے وہ پیچھے مڑے گا تو پتھر کا بن جاۓ گا یا اندر آنے والا شخص اسے دیکھ کے وہی سے بھاگ جاۓ گا
قدموں کی آواز تیز ہو کے پھر بالکل رک گٸ تھی۔۔۔۔جیسے کہیں کوٸی دروازے پہ ہی جم گیا ہو کسی کے چلتے قدم وہی زنجیر ہوۓ ہو۔۔۔۔۔
وہ بھی انزق کی پیٹھ دیکھ چکی تھی اسے پہچان چکی تھی
سامنے اس کا باپ بیٹھا تھا وہ اپنے باپ کا چہرہ دیکھ سکتی تھی جہاں صرف بے بسی تھی۔۔۔
ایلاف کی آنکھوں میں شکوہ ابھرا تھا۔۔۔۔۔
وہ انہیں نظر انداز کرتی آگے کمرے کی طرف جانے لگی انزق تیزی سے اٹھ کے اس کے پیچھے لپکا
اس سے پہلے کے وہ دروازہ بند کرتی
اس نے اندر کمرے میں جاتے ہی اسے کلاٸی سے پکڑ کے اپنے قریب کیا۔۔۔۔
وہ غیر آرام دہ سی لگ رہی تھی لیکن اس نے خود کو آذاد کرنے کی کوشش نہیں کی
وہ وہی پتھر بن کے کھڑی رہی۔۔۔۔
”تم یہاں کیا کرنے آۓ ہو۔۔۔۔“؟؟
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے برہمی سے بولی۔۔۔۔۔
”تمہیں احساس دلانے کہ تم جو کر رہی ہو غلط کر رہی ہو۔۔۔۔“
اس کے لہجے میں درد واضح تھا ۔۔۔۔۔
چہرے پہ بے بسی واضح تھی۔۔۔
”میں کچھ غلط نہیں کر رہی ہوں میں وہی کر رہوں جو مجھے بہت پہلے کر لینا چاہیۓ تھا۔۔۔۔۔“
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بے حسی اور دلیری سے کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔
”تم پہلے تو اتنی بے حس نہیں تھی ایلا۔۔۔۔“؟؟
وہ افسوس سے بولا
اس کی کلاٸی ہنوز اس کی گرفت میں تھی۔۔۔۔
”پہلے مجھے علم نہیں تھا کہ تم اس قدر بزدل انسان ہو جو نا تو اپنی بیوی کو بچا سکتے ہو۔۔۔۔۔“
وہ بات کرتے کرتے ٹھہری۔۔۔“جیسے سوچ رہی ہو کہ اسے اگلی بات کرنی چاہیۓ یا نہیں
انزق کے چہرے پر دکھ کے ساۓ گہرے ہوۓ۔۔۔۔۔
”اور نہ ضرورت پڑنے پہ اپنی بہن کو۔۔۔۔۔۔“
وہ تیزی میں بول گٸ یہ سوچے سمجھیں بغیر کے اس کی اس بات نے سامنے والے شخص کو کس قدر تکلیف پہنچاٸی ہے
انزق کے چہرے پہ پہلے کرب ابھرا۔۔۔۔۔وہ بس اسے دیکھے گیا۔۔۔۔
پھر اس کرب کی جگہ سختی نے لے لی
وہ اس بات کی توقع نہیں کر رہا تھا
”تم ٹھیک کہتی ہو۔۔۔۔۔“میں کمزور مرد ہوں واقعی ہی کمزور۔۔۔۔جو ضرورت پڑنے پہ نہ تمہیں بچا سکا نہ اپنی بہن کو۔۔۔۔۔۔“
اس کی گرفت اس کی کلاٸی پہ ڈھیلی پڑ گٸ۔۔۔۔۔
اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ وہ غصے میں کچھ غلط بول گٸ ہے
لیکن اب دیر ہو چکی تھی ۔۔۔۔
”میں واقعی ہی اتنا کمزور مرد ہوں کہ میری آنکھوں کے سامنے میری ماں کو قتل کر دیا گیا اور میں انہیں بچا نہ پایا۔۔۔۔۔“
اس کی آنکھیں لال لہجہ پست ہوا تھا
میرے سامنے میری جواں بہن لاپتہ ہو گٸ میں اسے ڈھونڈ نہ پایا۔۔۔۔۔“
سرخی گہری ہوٸی تھی
”اور میری آنکھوں کے سامنے میری بیوی کو اغوا۶ کر لیا گیا میں اسے نہ بچا پایا۔۔۔۔۔“
اس نے اس کی کلاٸی چھوڑ دی۔۔۔۔
وہ لاتعلق بننے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔
لیکن وہ وہی جانتی تھی کہ اس کی باتیں اس کا دل چیر رہی تھی
”اور ایک کمزور مرد کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کوٸی بھی رشتہ قاٸم کرے چاہے وہ ایک شوہر کا ہو ، ایک بھاٸی کا ہو، یا ایک بیٹے کا“
میں جہاں دو رشتے ہار گیا ہوں۔۔۔۔۔“وہاں ایک تیسرا رشتہ اور سہی۔۔۔۔۔“
وہ جیسے اپنی آنکھوں میں ابھرتی نمی کو چھپانا چاہ رہا تھا
”میں نے دل میں ایک قبر کھود دی ہے جہاں میری ماں اور میری ذندہ بہن دفن ہو چکی ہے اور ہماری طلاق کے بعد تم بھی وہی دفن ہو جاٶ گی
وہ تلخی سے بول رہا تھا ایلاف نے نا چاہتے ہوۓ بھی سر اٹھا کے اس کی آنکھوں میں دیکھا ایلاف کی آنکھوں میں شکوہ تھا
”میں غلط تھا میں تمہیں زبردستی اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا ۔۔۔۔“
وہ پختہ لہجے میں بولا جیسے بہت کچھ طے کر چکا ہو
پھر الٹے پاٶں گھوما اور پیچھے پلٹے بغیر لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
اندر اب وہ اکیلی کھڑی تھی
کب کے ضبط کیے آنسو اب گالوں پہ بہہ رہے تھے۔۔۔۔
وہ جیسے ہی کمرے سے باہر نکلا۔۔۔۔سامنے اس کے خالو کھڑے تھے۔۔۔۔۔ان کے چہرے پہ دکھ تھا
وہ نظریں چرا کے وہاں سے گزر گیا۔۔۔۔۔
وہ بے بس اور اکیلے اب وہاں کھڑے تھے جو کسی کے دکھ کا مداوا نہیں کر سکتے تھے
اس کی اگلی صبح جب آنکھ کھلی تو سورج نکل چکا تھا۔۔۔۔۔دھوپ چھن سے کھڑکی سے اندر داخل ہو رہی تھی اس نے آنکھیں چندھیا کے باہر کی طرح دیکھا اس کا دماغ ابھی بیدار نہیں ہوا تھا اسے محسوس ہوا۔۔۔۔۔کوٸی دروازے پہ ہلکی سی دستک دے رہا تھا۔۔۔۔۔اس کی آنکھوں کے سامنے دھندلاہٹ تھی۔۔۔۔
دھندلاہٹ ہٹی تو اس کا ذہن بیدار ہوا وہ کسلمندی سے اٹھی اور ننگے ہی پیر دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔۔۔
دروازہ سستی سے کھولا تو سامنے منی اسکرٹ نما یونیفارم پہنے ایک چاٸینیز نقوش کی کم عمر لڑکی کھڑی تھی گول چہرا چھوٹی چھوٹی آنکھیں چھوٹے بالوں کو پونی میں مقید کیے وہ ہاتھ میں ناشتے کی ٹرے پکڑے کھڑی تھی
اس نے تھوڑا پیچھے ہٹ کے اسے راستہ دیا
”good morning mam”
اس نے خوشدلی سے کہا تو وہ مسکرا دی
نھار نے مسکرا کے سر ہلا دیا
”مجھے ملک سر نے بھیجا ہے میں آج سے اس گھر میں آپ کے ساتھ رہوں گی۔۔۔۔“ ہیلپر کے طور پر۔۔۔۔“
اس نے اپنا تعارف کروایا
تو نھار نے داٸیں ہاتھ سے اپنی جماٸی روکتے ہوۓ سستی سے سنا۔۔۔۔۔
وہ ناشتہ رکھ کے اب جاچکی تھی جب نھار کو کچھ یاد آیا تو اس نے اسے پکارا۔۔۔۔
”مجھے ان الماریوں کی“
لاک شدہ الماریوں کی طرف اشارہ کیا“ان کی چابیاں چاہیۓ مجھے۔۔۔۔“
وہ لڑکی سر ہلا کے چلی گٸ واپس آٸی تو اس کے ہاتھ میں چابیوں کا ایک گچھا تھا۔۔۔
ٹیبل پہ رکھ کے وہ باہر نکل گٸ
نھار وہی بیٹھ کے ناشتہ کرنے لگی
کچھ دیر بعد وہ کپڑے سیٹ کرنے کی غرض سے اٹھی الماری جیسے ہی کھلے ایک تصویر اس کے قدموں میں ذمین بوس ہوٸی
اس نے جیسے ہی تصویر کو اٹھا کے دیکھا
اگلے ہی لمحے وہ پتھر کی بن گٸ۔۔۔۔
