Shoq Zawal by Eman Khan NovelR50404 Shoq Zawal Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Shoq Zawal Episode 19
Shoq Zawal by Eman Khan
سنسان جنگل میں موجود اونچے پیڑ ہوا کی مدہم دھن پہ محو رقص تھے۔۔۔۔۔آسمان پہ سورج آنکھ مچولی کھیلنے میں مصروف تھا۔۔۔۔۔۔ایسے میں اس نے دھیرے سے آنکھ کھول کر دیکھا تو آسمان پہ چمکتا سورج اس کی آنکھیں چندھیا گیا۔۔۔اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے ہاتھ رکھ کر شعاعوں کا راستہ روک دیا ۔۔۔۔۔جیسے ہی اس کا ذہن بیدار ہوا وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی ہاتھوں پر سے سوکھے پتے ہٹاتے ہوۓ اس نے اطراف کا جاٸزہ لیا وہ اس وقت اونچے پیڑوں میں گھری ہوٸی تھی یوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہ کسی جنگل میں ہے۔۔۔۔۔۔۔
اسے یاد آگیا تھا کہ کل کوٸی اسے گھر سے بے ہوش کر کے لے آیا تھا اور اس وقت وہ جنگل میں موجود تھی
اچانک سے کسی کے قدموں کی آواز سناٸی دی تو وہ چوکنا ہوگٸ ایک پیڑ کے پیچھے چھپ کے ہاتھ میں ایک پتھر اٹھا لیا۔۔۔۔
وہ آنے والے شخص پہ حملہ کرنے کے لیے بالکل تیار تھی۔۔۔۔۔
جب سوکھوں پتوں میں سرسراہٹ پیدا ہونے کے ساتھ آواز قریب تر ہوتی گٸ اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔۔۔۔۔
جب وہ آواز قریب ہو کے رک گٸ تو اس نے تھوڑا سر نکال کے باہر دیکھا آنے والے شخص کی نھار کی طرف پیٹھ تھی لیکن نھار اس کے باوجود ۔۔۔۔اسے پہچان گٸ تھی
”آصف۔۔۔۔“
وہ تیزی سے اسے پکارتی اس طرف بڑھی۔۔۔۔۔اور اس سے لپٹ گٸ۔۔۔۔
خوشی اس کے چہرے کے ساتھ ساتھ اس کی آواز سے بھی چھلک رہی تھی
وہ اسے چھوڑ کے نہیں آیا تھا
وہ خوش گوار حیرت میں مبتلا تھی
”آصف آپ ٹھیک ہیں۔۔۔۔“
اس نے سر اٹھا کے بے تابی سے اسے دیکھا تو اسے جھٹکا لگا
اس کا پورا چہرا زخمی ہو چکا تھا اس کی شرٹ جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی۔۔۔۔۔چہرے پہ جگہ جگہ زخموں کے نشان تھے۔۔۔۔۔۔
نھار کو اس کی یہ حالت دیکھ کہ تکلیف ہوٸی ۔۔۔۔وہ بلاوجہ ہی ہونٹ کچلنے لگی۔۔۔۔۔
”وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
”میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔۔“
وہ نرم لہجے میں مختصر جواب دیتے ہوۓ دو قدم آگے بڑھا پھر اس کے ہاتھ میں پتھر دیکھ کر ٹھٹک کر رکا۔۔۔۔۔
”یہ پتھر کیوں پکڑ رکھا ہے ہاتھ میں۔۔۔۔۔“؟؟
اس نے نظریں پتھر پہ جماتے ہوۓ نھار سے پوچھا تو اس نے پتھر فوراً ذمین پہ پھینک دیا۔۔۔۔
”ویسے ہی“
نھار نے محض کندھے اچکا دیۓ۔۔۔۔۔۔
آصف سر ہلاتا ہوا آگے بڑھ گیا۔۔۔۔۔
پھر چھوٹی سی ندی کے کنارے بیٹھ کہ بوٹوں کے تسمے کھولنے لگا
نھار تیزی سے اس طرف گٸ۔۔۔۔
”آصف مجھے لگا آپ مجھے چھوڑ جاٸیں گے۔۔۔۔۔۔“
اس نے اس کے سر پہ پہنچتے ہوۓ کھوجتی نظریں اس کے چہرے پہ جما دی
آصف نے سر اٹھا کے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا۔۔۔۔۔
”تمہیں یہ کیوں لگا میں تمہیں چھوڑ جاٶں گا۔۔۔۔۔“
اس نے الٹا اس سے سوال کر دیا تھا۔۔۔
”کیوں کہ آپ جاچکے تھے۔۔۔۔۔۔“
اس نے وہی قریب بیٹھتے ہوۓ اسے یاد دلایا۔۔۔۔۔
”میں نہیں گیا تھا۔۔۔۔“
اس نے نرمی سے جھٹلایا پھر بوٹ اتار کے ایک طرف رکھتے ہوۓ پاٶں ٹھنڈے شفاف پانی میں رکھ دیۓ۔۔۔۔۔۔
”میں بہت پریشان ہو گٸ تھی مجھے لگا جیسے اب سب ختم ہو گیا ہے۔۔۔۔۔“جیسے اب میری آپ سے کبھی ملاقات نہیں ہو گی “
اس نے فکرمندی سے اس کے چہرے کے زخموں کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔۔۔
”اگر عین موقع پہ شاہان نہ آتا تو شاید تم مجھ سے کبھی ملاقات نہ کر پاتی۔۔۔۔۔“
اور نھار مجھے موت سے ذیادہ اس بات کا خوف تھا کہ میں تم سے ملے بغیر مر جاٶں گا۔۔۔۔۔“
اس نے پلٹ کر نھار کی طرف نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔۔
اس نے بڑے آرام سے اظہار کر دیا تھا۔۔۔۔۔
اور نھار بے یقین سی بیٹھی تھی
”تم جانتی ہو جب تک میں تم سے نہیں ملا تھا مجھے موت کا کوٸی خوف نہیں تھا ۔۔۔۔۔میں جانتا تھا میں کسی روز مارا جاٶں گا۔۔۔۔۔“لیکن مجھے پرواہ نہیں تھی۔۔۔۔“
لیکن۔۔۔۔۔“
اس نے پلٹ کر ایک نگاہ نھار کے چہرے پہ ڈالی جہاں حیرت تھی بے یقینی تھی۔۔۔۔
”لیکن تمہارے لیے میں موت سے ڈرنے لگا ہوں۔۔۔۔۔“
جس وقت مجھ پہ حملہ ہوا اس وقت میری اس سے بڑھ کر کوٸی خواہش نہیں تھی کہ میں آخری دفعہ تم سے مل لوں۔۔۔۔۔۔“
وہ اس کے چہرے کی طرف دیکھ کہ مسکرایا۔۔۔۔۔۔
”اور تمہیں لگا میں تمہیں چھوڑ جاٶں گا۔۔۔۔۔“
”آصف شاہ نھار کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔۔۔۔“
اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ اسے یقین دلایا
وہ اس کے چہرے کو دیکھ کے رہ گٸ۔۔۔۔۔
”میں نہیں جانتا کہ میں کب پکڑا جاٶں کب مارا جاٶں کیونکہ اب میں ذیادہ دیر نہیں بچ سکتا۔۔۔۔۔“
اس نے پلٹ کے نھار کو آگاہ کیا تو نھار کی آنکھیں پانیوں سے بھر گٸ۔۔۔۔۔۔
”لیکن اب مجھے کوٸی خوف کوٸی ڈر نہیں ہے میں کم از کم تم سے مل کے مروں گا۔۔۔۔۔“
وہ دکھ سے مسکرایا اور نھار مسکرا بھی نہ پاٸی۔۔۔۔
”ملک کہاں ہے۔۔۔۔“؟؟
نھار کو جیسے کچھ یاد آیا۔۔۔۔۔۔۔
”کیا وہ گھر واپس نہیں آیا تھا۔۔۔۔“؟؟
”آصف کو تعجب ہوا۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔۔“وہ آپ کے ساتھ گیا تھا۔۔۔۔۔۔
نھار نے تیزی سے اسے آگاہ کیا۔۔۔۔۔
”وہ آدھے راستے میں گھر واپس آگیا تھا۔۔۔۔۔۔“
آصف نے تشویش سے کہا۔۔۔۔۔۔
”شاید وہ گرفتار ہو چکا ہے۔۔۔۔۔“
آصف نے خود سے اندازہ لگایا۔۔۔۔۔
”نہیں ایسا نہیں ہے کیونکہ ”مجید “ (وفادار) نے مجھے بتایا تھا کہ ”آصف صاحب اور ملک صاحب دونوں بھاگ گۓ ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے آپ کو لے جایا جاۓ گا۔۔۔۔۔۔“
اس نے ذہن پہ ذور ڈالتے ہوۓ اسے آگاہ کیا
”آصف کے چہرے پہ سوچ کے ساۓ پھیلنے لگے“
لیکن بولا کچھ نہیں
اور نھار اس کے چہرے کو دیکھتے ہوۓ تذبذب کا شکار تھی کہ وہ ملک کی اصلیت اسے بتاۓ یا نہیں۔۔۔۔۔
پھر یہ سوچ کہ خاموش ہو گٸ کہ ابھی ٹھیک وقت نہیں ہے“
آصف بظاہر پرسوچ نظروں سے سامنے اونچے درختوں کو دیکھ رہا تھا
لیکن اس کے ذہن کے نہاں خانوں میں گزرے دنوں کا کوٸی منظر گھوم رہا تھا۔۔۔۔۔
وہ شاہان کی پیروی میں بھاگتا ہوا سنسان راستے کی طرف جارہا تھا
جب وہ کافی آگے نکل آۓ تو اس گھنگھریالے بالوں والے لڑکے نے پلٹ کر آصف کو دیکھا ۔۔۔۔۔
آصف کا چہرا سرخ ہو چکا تھا
وہ پھولے ہوۓ تنفس کے ساتھ شاہان کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
”بھاٸی آپ ٹھیک ہیں۔۔۔۔۔“؟؟
شاہان چلتا چلتا آصف کے قریب کھڑا پوچھ رہا تھا
”آصف نے محض سر ہلا دیا
”شاہان تم یہاں کیسے۔۔۔۔“؟تمہیں کیسے پتہ میں گرفتار ہونے والا ہوں۔۔۔۔“
وہ سر اٹھاۓ شاہان کے چہرے کی طرف دیکھتا پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔
”اس کا لہجہ نارمل تھا کوٸی تشویش کوٸی شک کچھ نہیں تھا
”شاہان کو افسوس ہوا وہ کس قدر ملک پہ اور شاہان پہ یقین کر رہا تھا۔۔۔۔۔“لیکن اس کا باپ کیا کر رہا تھا۔۔۔۔
”ڈیڈ جانتے تھے کہ آپ لوگ گرفتار ہونے والے ہیں۔۔۔۔۔“
اس نے تلخی سے بتایا
آصف نے پہلی دفعہ سر اٹھایا شاہان کی بات پہ وہ ایک لمحے کے لیے شاکڈ ہوا تھا
”ہاں ڈیڈ جانتے تھے کہ آپ کی مخبری ہو رہی ہے وہ دو دن پہلے ہی جان چکے تھے کہ دو دن بعد آپ دونوں گرفتار ہونے والے ہیں۔۔۔۔۔“
وہ اب پیڑ کے ساۓ میں بیٹھ رہا تھا لہجے میں تھکاوٹ نظروں میں دکھ تھا۔۔
”تو ملک نے مجھے کیوں نہیں بتایا۔۔۔۔۔“؟؟
اسے اپنی آواز کسی کھاٸی سے آتی ہوٸی محسوس ہوٸی۔۔۔۔۔۔
اندر چھناکے سے کچھ ٹوٹا تھا
”مان ، اعتبار ، یا پھر کچھ اور۔۔۔۔
بہر خال جو کچھ بھی تھا تکلیف بہت ذیادہ تھی۔۔۔۔۔
”کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ آپ گرفتار ہو جاٸیں۔۔۔۔۔“
شاہان آصف کے چہرے پہ بڑھتے تکلیف کے ساۓ دیکھتے ہوۓ دھیرے سے بولا۔۔۔۔۔۔
آصف اس کے قریب آکے بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
”لیکن وہ ایسا کیوں چاہتا تھا۔۔۔۔۔“؟؟
آصف کے لہجے سے تکلیف چھلکنے لگی۔۔۔۔۔
وہ اپنے تاثرات نہیں چھپا پایا۔۔۔۔
”کیونکہ اس سے ان کے بہت سے گناہ چھپ جاتے۔۔۔۔۔“
شاہان نے سرد لہجے میں کہا
”آصف نے ناسمجھی سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔“
”ہاں بھاٸی وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی اصلیت آپ کے سامنے آۓ اور آپ کو ان سے نفرت ہو جاۓ“ اس لیے انہیں یہی بہتر لگا۔۔۔۔۔
شاہان نے دانستہ نظریں اس کے چہرے سے ہٹا لی۔۔۔۔۔
”کون سی اصلیت “شاہان “؟؟؟
”کھل کے بتاٶ مجھے۔۔۔۔۔“؟؟
وہ اسے کندھے سے پکڑ کے اپنی طرف موڑتے ہوۓ پوچھنے لگا۔۔۔۔
”بھاٸی مجھے افسوس ہے کہ میرا باپ ایک خود غرض انسان ہے “ اس کے انتقام نے اسے پاگل کر کے رکھ دیا ہے جیسے اس کے سوا دنیا میں کوٸی چیز ضروری نہیں ہے۔۔۔۔۔“
وہ دکھ سے بول رہا تھا آصف بالکل خاموش تھا ویسے بھی یہ حقیقت آشکار ہونے کا لمحہ تھا
ایسی بہت سی حقیقتیں تو آصف کی نظروں میں کٸ سال پہلے ہی ختم ہو چکی تھی
آج بہت سالوں بعد اس کے سامنے کھل رہی تھی۔۔۔۔۔“
”میرا باپ برا انسان ہے یا نہیں ، میں یہ نہیں جانتا بھاٸی لیکن۔۔۔۔۔میں اتنا ضرور جانتا ہوں آپ بھابھی کے آپ کی ذندگی میں آنے سے پہلے انہیں بہت پیارے تھے لیکن وہ اپنے انتقام میں یہ بھول گۓ کہ وہ آپ کو استعمال کر رہے ہیں وہ آپ کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔۔۔۔“
وہ بہت آرام سے ٹھہر ٹھہر کے اسے حقیقت بتا رہا تھا لہجہ بالکل نارمل تھا جیسے وہ سوچ رہا ہو کے آگے اسے بتانا چاہیۓ یا نہیں۔۔۔۔۔
آصف دم سادھے سن رہا تھا
ابھی بہت سی چیزیں رہتی تھی جو وہ بتانے والا تھا اور آصف کو ابھی بہت حوصلے اور ضبط سے سننا تھا۔۔۔۔۔
”لیکن ملک مجھ سے کیوں انتقام لے رہا تھا۔۔۔۔“
آصف کو اپنی آواز کسی گہری کھاٸی سے آتی محسوس ہوٸی ۔۔۔۔۔
یہ لمحہ کتنا اذیت ناک تھا۔۔۔
”آپ کا ایک ہی قصور ہے بھاٸی کہ آپ احسن شاہ کے بیٹے ہیں۔۔۔۔۔“
اس نے بغیر کسی لگی لپٹی کے یہ بات آصف کے گوش گزار کی۔۔۔۔
آصف کی آنکھیں حیرت سے پھیل گٸ اور چہرے پہ ناسمجھی پھیلنے لگی۔۔۔۔
پیڑ پہ پیٹھا پرندوں کا ایک غول آوازیں پیدا کرتا ہوا ان کے سر کے گرد چکر کاٹنے لگا
جنگل کے سناٹے میں ارتعاش پیدا ہوا۔۔۔۔۔
لیکن آصف کو کوٸی آواز سناٸی نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔۔
اور پھر شاہان آہستہ آہستہ اسے جو حقیقتیں بتانے لگا وہ آصف کے لیے غیر متوقع تھی وہ سن دماغ کے ساتھ بس سن رہا تھا۔۔۔۔
”ڈیڈ چاہتے تھے کہ آپ اور انزق ایک دوسرے کو پہچان لیں اس لیے انہوں نے ایلاف کو اغوا۶ کر کے یہ سب کروایا تاکہ آپ کے اور انزق کے درمیان نفرت بڑھ جاۓ۔۔۔۔۔“
شاہان نے نظریں ذمین پہ گاڑھ دی
وہ آصف کی حالت کے پیش نظر کچھ دیر ٹھہر گیا
”وہ آپ کو استعمال کرتے رہے ۔۔۔۔تب تک جب تک ان کا بدلہ نہ ختم ہو جاتا
اس ساری بات میں وہ اکیلے نہیں تھے۔۔۔۔۔
وہ تھوڑی دیر رکا
پلٹ کے آصف کے چہرے کی طرف دیکھا
اس کا چہرا اب بے تاثر تھا
”آپ کی ماں ابتدا۶ میں ان کے ساتھ تھی۔۔۔۔“
اس نے دھیمے لہجے میں کہا
آصف کو محسوس ہوا جیسے کسی نے کوٸی خنجر اس کے پیٹ میں گھونپ دیا ہے۔۔۔۔۔
یہ سننا بہت تکلیف دہ تھا۔۔۔۔
اس نے بے اختیار شاہان کے چہرے کی طرف دیکھا
جہاں سچاٸی تھی۔۔۔۔۔
”بھابھی کے آنے سے پہلے سب ٹھیک تھا لیکن ڈیڈ یہ نہیں چاہتے تھے کہ بھابھی اس گھر میں رہیں پتہ نہیں کیوں لیکن۔۔۔۔۔ڈیڈ کو یہ ڈر تھا کہ نھار بھابھی کے آنے سے سب بدل جاۓ گا۔۔۔۔۔“
جس وجہ سے وہ ان کے خلاف بہت سی سازشیں کرتے رہے۔۔۔۔۔۔
اس نے مذید آگاہ کیا۔۔۔۔۔۔
”لیکن بھاٸی مجھے اس دن یہ پتہ چلا کہ ۔۔۔۔۔ڈیڈ کو بھابھی سے اصل میں کیا مسٸلہ تھا۔۔۔۔۔
وہ رک گیا
جیسے تذبذب کا شکار ہو کہ اسے یہ بات بتانی چاہیۓ یا نہیں۔۔۔۔۔
جیسے آصف کا ردعمل پتہ نہیں کیا ہوگا۔۔۔۔۔
”ڈیڈ جان چکے تھے کہ ۔۔۔۔نھار بھابھی۔۔۔۔“
وہ رک گیا
کہ۔۔۔۔“۔۔
بولو شاہان۔۔۔۔۔
اس کی آنکھوں سے تکلیف چھلکنے لگی۔۔۔۔۔اس نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ دیا
”وہ یہ کہ نھار بھابھی۔۔۔۔۔میجر فیض عالم کی بیٹی اور میجر انزق کی بہن ہیں۔۔۔۔“
اس نے سر اٹھا کے آصف کے دھواں دھواں ہوتے چہرے کو دیکھا
اس کے چہرے پہ بے یقینی تھی۔۔۔۔
آصف کا ہاتھ شاہان کے کندھے سے ڈھلک گیا
وہ چاقو اب اس کے پیٹ کی رگیں کاٹ رہا تھا تکلیف اس کے جسم میں سرایت کرنے لگی تھی
قسمت اس کے ساتھ عجیب کھیل کھیل چکی تھی۔۔۔۔۔
”میرے باپ کے نامہ اعمال میں اتنے گناہ درج ہیں بھاٸی کہ میں خدا سے یہ دعا کرتا ہوں کہ اللہ کبھی کسی کو ایسا باپ نہ دے۔۔۔۔۔“
”باپ تو اپنے بچے کے لیے آٸیڈیل ہوتا ہے لیکن میرا باپ۔۔۔۔۔“
وہ تلخی سے بات کرتے کرتے ضبط کرتے ہوۓ رک گیا۔۔۔۔۔
”ڈیڈ جان گۓ تھے کہ وہ جس بندے کو وہ گھر لاۓ تھے وہ بندہ وہ نہیں تھا جو اس نے خود کو بتایا تھا وہ کپٹین شہریار تھا۔۔۔۔ڈیڈ پہلے دن سے اس کے موباٸل اور اس کی ہر ایکٹیوٹی پہ نظر رکھے ہوۓ تھے۔۔۔۔۔لیکن۔۔۔۔وہ خاموش رہے اس میں انہیں کا مفاد تھا اس طرح سارا ملبہ آپ کے سر پہ گرتا اور آپ سب کچھ اکیلے ہی فیس کرتے۔۔۔۔۔“
وہ تلخی سے مسکرایا
آصف اب ایسے خاموش تھا جیسے اسے سانپ سونگھ چکا ہو۔۔۔۔۔۔
”میں ایک رات پہلے ہی یہ سب جان چکا تھا بھاٸی۔۔۔۔کیونکہ ڈیڈ نے مجھے بولا تھا کہ۔۔۔۔۔“میں اس وقت پہ بنگلے سے بھاگ جاٶں وہ مجھ سے رابطہ کریں گے اور مجھے اپنے پاس بلا لیں گے۔۔۔۔۔“
لیکن میں اپنے باپ کی طرح بے ضمیر نہیں ہوں۔۔۔۔۔“میں اپنے باپ کے ساتھ کسی بات میں شریک نہیں تھا بھاٸی لیکن میں خاموش رہا اور یہی میرا سب سے بڑا گناہ تھا بھاٸی۔۔۔۔۔
”مجھے شروع سے ایک ہی گلٹ تھا کہ میں ایک اچھا بیٹا نہیں ہوں میں اپنے ڈیڈ کی طرح ذہین نہیں ہوں۔۔۔۔۔“
اس کا لہجہ بھیگنے لگا
وہ لہجے میں توازن برقرار نہ رکھ پایا
”میں شروع سے ڈیڈ کو دیکھتا تھا وہ جب بھی کچھ غلط کرتے تھے انہیں کبھی گلٹ نہیں ہوتا تھا اور میں جب بھی کچھ غلط کرتا تھا تو میں راتوں کو سو نہیں پاتا تھا۔۔۔۔۔“
ڈیڈ کو ہمیشہ مجھ سے یہ شکایت رہی میں ان کی کسی توقع پہ پورا نہیں اتر پایا۔۔۔۔۔۔“
وہ دکھ سے مسکرایا۔۔۔۔۔
”میں ایک اچھا بیٹا نہیں بن سکا بھاٸی “
لیکن مجھے فخر ہے میں ایک اچھا انسان بن گیا ہوں۔۔۔۔
”میرے نامہ اعمال میں لکھ براٸیاں ہونگی لیکن شاید ایک اچھاٸی یہ ہو گی کہ میں نے مذید براٸی کا ساتھ نہیں دیا
”میں جان گیا ہوں بھاٸی۔۔۔۔۔۔“
کہ ”میرے پاس ضمیر ہے اور میرے باپ کے پاس یہی ضمیر نہیں ہے۔۔۔“
”آپ یہی رہے تو آپ پکڑے جاٸیں گے بھاٸی۔۔۔۔۔“
اس نے گردن ترچھی کر کے پاس کھوۓ کھوۓ سے بیٹھے آصف کو دیکھا۔۔۔۔۔
”شہریار بہت جلد پہلے مجھ تک اور پھر میری مدد سے ۔۔۔۔آپ تک پہنچ جاۓ گا“
”اور انزق آپ کو جان سے مار دے گا۔۔۔۔“
”آپ نھار بھابھی کو بنگلے سے لے آٸیں اور انہیں لے کے کہیں دور چلے جاٸیں۔۔۔۔۔“
جھاڑیوں میں سرسراہٹ پیدا ہوٸی تھی
آصف نے پلٹ کے پیچھے دیکھا
بھاری بوٹوں کی آواز قریب ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
”شاہان کی نظروں میں خوف ابھرا۔۔۔۔۔“
شاید وہ لوگ اس کے تعاقب میں آۓ تھے۔۔۔۔
”بھاگیں بھاٸی آپ جاٸیں یہاں سے ۔۔۔۔۔“
شاہان تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا
”آصف نے ہونٹ بھینچ کے نفی میں سر ہلا دیا
وہ اس طرح شاہان کو اکیلا چھوڑ کے نہیں جانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
”آواز قریب ہوتی جارہی تھی۔۔۔۔۔
”بھاٸی خدا کے لیے جاٸیں آپ یہاں سے میں سنبھال لوں گا۔۔۔“
وہ باقاعدہ التجا کر رہا تھا
”آصف نے کچھ دیر کچھ سوچا
پھر آگے بڑھ کے شاہان کو گلے لگا لیا۔۔۔۔
”تم ایک اچھے بیٹے نہ بن سکے تو کیا ہوا تم ایک اچھے انسان ہو تم میرے بھاٸی ہو اور مجھے اس بات پہ فخر ہے۔۔۔۔۔“
اپنا خیال رکھنا۔۔۔۔تمہارا بھاٸی بہت جلد واپس آۓ گا
اس نے تکلیف کو ضبط کرتے ہوۓ مسکرا کے کہا اور پھر تیزی سے آگے بڑھ گیا۔۔۔۔۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ شاہان کے ساتھ کیا ہوا ہے لیکن نھار نہیں جانتی تھی کہ آصف سب کچھ جان چکا ہے۔۔۔۔
”نھار نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تو وہ چونک گیا۔۔۔۔۔
حال میں واپس آیا تو وہ وہی جنگل میں تھا
نھار پاس بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی
وہ بامشکل مسکرایا
نھار بھی جواب میں مسکرا دی
تھوڑی آگے ہو کے اس نے اپنے ہاتھ سے اس کو کندھے کو مضبوطی سے پکڑ کے سر اس کے کندھے پہ ٹکا دیا
حالات چاہے جتنے بھی خراب تھے اسے یہ حوصلہ تھا کہ آصف اس کے ساتھ تھا۔۔۔۔۔۔
شام کے ساۓ اس وادی پہ گہرے ہوۓ تو پوری وادی اندھیرے میں ڈوب گٸ۔۔۔۔۔
ایسے میں اس کچے مکان میں مدھم روشنی جل اٹھی
وہ سادہ نیلے رنگ کی قمیض شلوار اوپر نیلے ہی رنگ کا دوپٹہ اوڑھے۔۔۔۔مٹی کے تندور کے سامنے بیٹھی روٹی بنانے میں مصروف تھی
بال بکھرے ہوۓ تھے۔۔۔۔۔سفید رنگت جھلس گٸ تھی۔۔۔۔آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے واضح تھے۔۔۔۔۔
پاس بیٹھی ایک چھوٹی بچی گلا پھاڑ پھاڑ کے رو رہی تھی
ایلاف نے آگے بڑھ کہ اسے اپنی گود میں بھر لیا
وہ اب اسے بہلا رہی تھی۔۔۔۔
اسی لمحے دروازہ کھلا اور کوٸی اندر داخل ہوا
ایلاف نے سر اٹھا کے دیکھا تو سامنے سے اس کا شوہر چلتا ہوا آرہا تھا۔۔۔۔
وہ چھوٹے سے قد والا ایک بھرے ہوۓ جسم والا شخص تھا سر پہ بال نہ ہونے کے برابر تھے۔۔۔۔“
داڑھی گردن سے تھوڑی نیچے تک تھی
وہ سلام کرتا ہوا چارپاٸی پہ بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
ایلاف نے بچی کو ایک طرف بیٹھایا بچی اب خاموش ہو چکی تھی
اور گڑھے میں سے پانی ڈالنے لگی
پھر مٹی کا گلاس اٹھا کے اس طرف گٸ جہاں وہ بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔
”اس نے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا جو کسی گہری سوچ میں تھا
اس نے ہاتھ بڑھا کہ گلاس لبوں کے ساتھ لگا لیا۔۔
”ایلاف یہی بیٹھیں میں نے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔“
انہوں نے ایلاف کو محاطب کیا تو ایلاف وہی سمٹ کے بیٹھ گٸ
پھر منتظر نظروں سے اپنے شوہر کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
”ایلاف آپ میرے ساتھ خوش ہیں۔۔۔۔“؟؟
انہوں نے نہایت سنجیدگی سے پوچھا
ایلاف کے لیے یہ ایک غیر متوقع سوال تھا
”جی میں خوش ہوں۔۔۔۔“
دھیمے لہجے میں بولتے ہوۓ اس نے سر بھی ہلا دیا۔۔۔۔
”تو مجھے کیوں نہیں خوش لگتی آپ۔۔۔۔۔“؟
ان کا لہجہ نارمل تھا
اس بات پہ ایلاف کو دھچکہ لگا تھا
کیا اب اس کے دل کی حالت اس کے چہرے سے عیاں ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
”کل میرے پاس آپ کا سابقہ شوہر میجر انزق آیا تھا مسجد میں۔۔۔۔۔“
انہوں نے نارمل سے لہجے میں کہا تو ایلاف کے رونگھٹے کھڑے ہو گۓ۔۔۔۔
”اس نے مجھ سے محض ایک بات بولی۔۔۔۔۔“
”آپ میں ایسا کیا ہے جو مجھ میں نہیں ہے۔۔۔۔“
ایلاف کو لگا کسی نے اس کا دل کاٹ دیا ہے۔۔۔۔۔
”وہ مجھے بول رہا تھا آپ ایلاف کا بہت خیال رکھنا اسے کبھی اکیلا مت چھوڑیے گا۔۔۔۔۔“
اس نے مجھ سے باقاعدہ منت کی
”میں خود شرمندہ تھا ایلاف کے وہ اتنے بڑے عہدے والا شخص میرے سامنے گڑگڑا رہا ہے
”میں نہیں جانتا کہ آپ کے دل میں اس شخص کے لیے کیا جذبات ہے آپ دونوں کس وجہ سے جدا ہوۓ لیکن میں ایک بات جانتا ہوں۔۔۔۔۔“
اس نے رک کے ایلاف کے چہرے کی جانب دیکھا
”جو دم سادھے سن رہی تھی۔۔۔۔۔۔“
”وہ شخص آپ سے بہت محبت کرتا ہے وہ اس قدر ٹوٹا ہوا انسان ہے کہ اس کی آنکھیں چھلکنے کو بے تاب رہتی ہیں۔۔۔“
”آپ کے چہرے پہ بھی کچھ ایسی ہی کہانی رقم رہتی ہے۔۔۔“
”میں ایک میچور انسان ہوں ایلاف محبت اور مجبوری کے فرق کو بخوبی سمجھتا ہوں۔۔۔۔“
وہ سنجیدگی سے ٹھہر ٹھہر کے بول رہا تھا
”میں یہ تکلیف برداشت کر چکا ہوں
”میری بیوی مجھے دو سال پہلے چھوڑ گٸ تھی اور جو وہ میرے لیے تھی وہ کوٸی نہیں بن سکتا “
میں جانتا ہوں ہم دونوں کا رشتہ محض ۔۔۔مجبوری کا ہے۔۔۔۔۔“
”مجھے ذندگی موقع نہیں دے رہی کیونکہ میری محبت اب اس دنیا میں نہیں رہی۔۔۔۔لیکن آپ کی محبت آج بھی آپ کی منتظر ہے دیر مت کیجیۓ۔۔۔۔۔“
اس نے پلٹ کے مسکراتے ہوۓ اسے کہا وہ مسکرا بھی نہ پاٸی۔۔۔۔
”لیکن میرے بعد ان بچوں کا کیا ہوگا۔۔۔۔۔“
اس نے کمزور سے لہجے میں اپنے شوہر کی توجہ اس طرف مبذول کروانا چاہی۔۔۔۔۔“
وہی ہو گا جو پہلے ہوتا تھا میرے بچوں کا اللہ وارث ہے۔۔۔۔“
میں اپنی خوشی کے لیے کسی کی خوشیاں نہیں چھین سکتا
آپ یہاں مجھے لاکھ کہیں پھر بھی میں جانتا ہوں آپ میرے ساتھ خوش نہیں رہے گی۔۔۔۔
اس کے لہجے کی سنجیدگی کم نہیں ہوٸی تھی
اس لیے میں نے ایک فیصلہ کیا تھا۔۔۔۔اور میں اس پہ عمل کر چکا ہوں۔۔۔۔۔
”انہوں نے جیب سے ایک تہہ شدہ کاغذ نکال کے ایلاف کی طرف بڑھایا
تو اس نے کانپتے ہاتھوں سے کاغذ لے لیا
”آپ آج سے آذاد ہیں۔۔۔۔۔“
وہ وہاں سے اٹھ چکے تھے
اور وہ کاغذ کھولے بغیر بھی جانتی تھی کہ وہ طلاق نامہ ہے۔۔۔۔
”یہ مرد ہمیشہ خود سے ہی کیوں فیصلہ کر لیتے ہیں۔۔۔۔“
انزق نے ایک دفعہ پھر اس کی ذندگی تباہ کر دی تھی
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاۓ ہوٸی اٹھی
وہ چھوٹی بچی وہی ذمین پہ سو گٸ تھی۔۔۔۔
اس نے بچی کو اپنی گود میں بھر لیا
اندر کمرے میں اسے لٹایا ایک نظر ان معصوم بچوں پہ ڈالی جو اسے اپنی ماں سمجھتے تھے۔۔۔۔
صبح وہ اٹھیں گے اور وہ وہاں نہیں ہو گی تو ان کا کیا ردعمل ہو گا
وہ چاہنے کے باوجود اب اس گھر میں نہیں رک سکتی تھی
وہ اپنے آنسو صاف کرتی ہوٸی اٹھنے لگی
اسے گھر واپس جانا تھا
اور اپنے باپ کو یہ بتانا تھا کہ انزق اسے ایک دفعہ پھر تباہ کر چکا ہے۔۔۔۔۔
صبح کا سورج سوگوار سا اترا تھا تیسری منزل پہ بنا یہ کیون ۔۔۔۔۔ہلکی سی دھوپ کی ذد میں تھا۔۔۔۔۔۔
ایسے میں کیون کے اندر کا منظر یکسر مختلف تھا
ٹیبل پہ مختلف پیپرز بکھرے ہوۓ تھے
کمرے میں اے سی کی وجہ سے کافی حبس تھی۔۔۔۔۔۔
ایسے میں مخصوص وردی میں ملبوس کرسی پہ ٹیک لگا کے بیٹھا ہوا تھا
چہرے پہ سوچ کے ساۓ واضح تھے۔۔۔۔۔
سامنے صوفے پہ شہریار کسی گہری سوچ میں گم تھا۔۔۔۔۔
”سر میں آپ کو کچھ بتانا چاہتا ہوں مجھے لگتا ہے کہ یہ بات شاید آپ کے کسی کام کی ہو۔۔۔۔۔“
وہ تھوڑا آگے ہو کے بیٹھا پھر کچھ سوچتے ہوۓ اپنی بات کا آغاز کیا
انزق فوراً اس طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔۔
”سر جس دن میں آصف وہاں سے بھاگا میں جنگل میں اس کی تلاش میں نکلا۔۔۔۔۔
لیکن مجھے وہاں آصف نہیں ملا۔۔۔۔۔لیکن مجھے وہاں ملک کا بیٹا شاہان ملا تھا
یعنی شاہان نے آصف کی بھاگنے میں مدد کی تھی
وہ اسے آگاہ کر رہا تھا
اور انزق شاہان کے ذکر پہ چوکنا ہو کے بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
”جب میں نے اس کا راستہ روکنا چاہا تو اس نے مجھ پہ ریولور تان لیا۔۔۔۔۔“
وہ مجھے گولی مار دیتا اگر عین وقت پہ کپٹین شاہد اس پہ گولی نہ چلاتے۔۔۔
گولی سیدھے اس کے دل میں لگی تھی پھر وہ ذیادہ وقت ذندہ نہیں رہ پایا
اس نے کچھ شرمندگی سے بتایا
”انزق سپاٹ چہرے کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا
لیکن مرنے سے پہلے اس نے ایک عجیب بات کی سر۔۔۔۔۔“
وہ مدعے کی بات پہ آیا
”سر وہ کہہ رہا تھا کہ انزق سے کہنا تمہاری تلاش غلط ہے تم ایک غلط شخص کی تلاش میں ہو تمہارا دشمن کوٸی اور ہے۔۔۔۔۔“
شہریار نے اس کے وہی الفاظ دوبارا دہرا دیۓ۔۔۔۔۔
انزق نے کچھ ناسمجھی سے یہ الفاظ دہراۓ تھے
”آخر وہ کہنا کیا چاہتا تھا
کہ آصف بے قصور ھے۔۔۔۔“؟؟
وہ اب کچھ اور سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔
”تمہاری تلاش غلط ہے۔۔۔“
وہ ان جملوں پہ غور کر رہا تھا۔۔۔۔۔
”اگر اس کی تلاش غلط تھی تو ٹھیک کیا تھا۔۔۔۔۔“
”ہو سکتا ہے کہ وہ صرف ہمیں بھٹکا رہا ہو۔۔۔۔“
ایک وسوسے نے سر اٹھایا تھا۔۔۔۔۔۔
”اگر وہ ایسا کرنا چاہتا تو کم از کم مرنے سے پہلے ایسی بات نہ کرتا۔۔۔۔۔“
اس کے ذہن نے تیزی سے جھٹلا دیا
”اگر ان جملوں میں حقیقت تھی تو کیا تھی۔۔۔۔۔“؟؟
”سنو تم فلحال آصف کے بجاۓ ملک کو ڈھونڈو “جب وہ ہمارے شکنجے میں ہو گا تو آصف خودبخود گرفت میں آجاۓ گا۔۔۔۔“
اب وہ تھوڑا آگے ہو کے اسے تلقین کر رہا تھا۔۔۔۔
”ویسے بھی ”ملک کو جب اپنے بیٹے کی موت کا پتہ چلے گا تو وہ بل میں سے باہر ضرور آۓ گا اور ایسے میں ہم اسے گرفتار کر لیں گے تم لوگ تیاری پوری رکھو۔۔۔۔۔“
اور شاہان کی لاش جنگل میں پھنکوا دو میں چاہتا ہوں اس کے باپ کو جلدی سے جلدی اپنے بیٹے کی موت کا علم ہو جاۓ
س نے ہدایات دیتے ہوۓ فوراً لیپ ٹاپ میں کچھ ٹاٸپ کیا
وہ ڈیپارٹمنٹ سے تعاون کی اپیل کر رہا تھا
شہریار اسے سیلوٹ کرتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
اسے آگے کی تیاری کرنی تھی۔۔۔۔
”جب کہ انزق ابھی تک لیپ ٹاپ پہ کچھ ٹاٸپ کر رہا تھا۔۔۔۔“
جب اس کا موباٸل بج اٹھا۔۔۔۔
اس نے پلٹ کر دیکھا تو حیران ہو گیا۔۔۔۔
موباٸل پہ ایلاف کا نمبر جگمگا رہا تھا
اندھیرے میں ڈوبے کمرے میں موت سا سناٹا محو رقص تھا کھلی کھڑکی سے اندھیرہ چھن سے اندر آکے ماحول کو مدھم سا روشن کر رہا تھا
ایسے میں ایک ہیولہ بے چینی سے یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہا تھا
سایہ ایک ہاتھ میں موباٸل پکڑے تیزی سے کوٸی نمبر ڈاٸل کرتا پھر جھنجھلا کے پیچھے کر لیتا
ایک طرف دیوار کے ساتھ ایک اور سایہ طابعداری سے ہاتھ باندھے کھڑا اپنے مالک کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
”ابھی تک تو شاہان کو آجانا چاہیۓ تھا۔۔۔۔۔“میں نے کل اسے لوکیشن بھیج دی تھی لیکن اس نے مجھ سے رابطہ نہیں کیا پھر۔۔۔۔۔۔اور اب اس کا نمبر بھی بند آرہا ہے
ملک کی گھمبیر آواز نے سناٹے کو توڑا۔۔۔۔
اس کی آواز سے پریشانی چھلک رہی تھی۔۔۔۔۔
سر میں نے شاہان سر کی لوکیشن ٹریس کرواٸی تھی۔۔۔۔ان کا موباٸل آخری دفعہ ایک جنگل میں ایکٹو تھا۔۔۔۔۔“
اس نے طابعداری سے اطلاع دی تو ملک حیرت سے پلٹا
”جنگل میں۔۔۔۔۔”؟؟
اس نے تصدیق چاہی۔۔۔۔۔
”جی سر“
”یہ لڑکا اتنا غیر ذمہ دار کیوں ہے۔۔۔۔۔“
”اور سر ایک اور حیران کن بات بھی پتہ چلی ہے۔۔۔۔۔“
”آپ نے جو آصف سر کی لوکیشن ہیک کرواٸی تھی اس کے مطابق شاہان سر اور آصف سر کا موباٸل آخری دفعہ سیم لوکیشن پہ آف ہوا ہے۔۔۔۔“
اس نے مذید بتایا
تو ملک کے چہرے پہ تشویش ابھری۔۔۔۔۔
”شاہان آخری دفعہ آصف کے ساتھ تھا۔۔۔۔“لیکن کیوں۔۔۔۔“؟؟
جب کہ میں نے اسے کہا تھا کہ وہ میرے پاس آۓ لیکن وہ اور آصف جنگل میں ایک ساتھ کیوں تھے۔۔۔“؟؟
”کیا آصف گرفتار نہیں ہوا۔۔۔۔“؟؟
اور اگر ہوا ہے تو کیا شاہان بھی گرفتار ہو گیا ہے“؟؟
اس کے ماتھے پہ تفکر کی لکیریں ابھرنے لگی۔۔۔۔
اسی لمحے کوٸی ذور سے دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا۔۔۔۔
ملک نے پلٹ کہ دیکھا تو اس کا وفادار کھڑا تھا دھواں دھواں ہوتے چہرے کے ساتھ اس کا سانس پھولا ہوا تھا۔۔۔۔
ملک کو کسی انہونی کا احساس بری طرح جھکڑنے لگا
”ملک سر ایک بری خبر ہے۔۔۔۔“جنگل سے شاہان سر کی ڈیڈ باڈی ملی ہے۔۔۔۔۔۔“مجھے اطلاع ملی ہے کہ وہ فورسز کے آپریشن میں دو دن پہلے ہی مارے گۓ ہیں۔۔۔۔۔“
اس نے تیز تنفس پہ قابو پاتے ہوۓ جو اطلاع دی تھی اس خبر نے ملک کو اندر تک ہلا کے رکھ دیا تھا
وہ توازن نہ برقرار رکھ سکا اس نے دیوار کا سہارا لینے کی کوشش کی۔۔۔۔
دل میں درد کی ایک ٹیس اٹھی۔۔۔۔۔
اس کا ہاتھ بے اختیار دل کی طرف بڑھا
”وہ تو اپنے دوستوں کے بچوں کا برباد کر رہا تھا اس کی اپنی اولاد کس طرح مر سکتی تھی۔۔۔۔۔“
درد اس کے پورے جسم میں سرایت کر رہا تھا
اسے لگا اس کا پورا جسم سن ہو رہا ہے
اس کا منہ تیڑھا ہو رہا تھا
وہ اوندھے منہ ذمین پہ گرا تھا۔۔۔۔
اگلے ہی لمحے دو ساۓ اس کی طرف بڑھے تھے
لیکن اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
اس کے گناہ اس کے سامنے کھڑے تھے
اور اس کی سزا کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔
