Shoq Zawal by Eman Khan NovelR50404 Shoq Zawal Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Shoq Zawal Episode 17
Shoq Zawal by Eman Khan
بازار میں کافی گہما گہمی کا عالم تھا ہر کوٸی دوسرے کو دھکیلتے ہوۓ آگے بڑھ رہا تھا ایک طرف ذمین پہ بیٹھے سبزی فروش اور پھل فروش اونچی آواز میں۔۔۔۔۔بولتے ہوۓ گاہکوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہے تھے آسمان پر سورج سوا نیزے پہ چمک رہا تھا
ایسے میں وہ کالے رنگ کا تھری پیس سوٹ پہنے ۔۔۔۔۔رش کو چیرتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا چہرے پہ ماسک پہن رکھا تھا اور بالوں کو ایک طرف کر کے سیٹ کر رکھا تھا ایک آنکھ بند تھی اور ایک آنکھ سفید رنگ کی تھی۔۔۔۔۔۔
”اسے دنیا میں زہریلے نیولے کے نام سے جانا جاتا ہے اسے دھوکہ دینا آسان نہیں ہے۔۔۔۔۔“
دور شیشوں سے بنے کیون میں دو دن پہلے یہ میٹینگ کی جارہی تھی۔۔۔۔۔
خاکی وردی پہنے وہ دونوں ہاتھ ٹیبل پہ جماۓ اپنے بالکل سامنے بیٹھے ایک الرٹ سے نوجوان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اسے آگاہ کر رہا تھا۔۔۔۔۔
اس لڑکے کی عمر بامشکل اکیس باٸیس سال تھی۔۔۔۔لیکن اپنے قد کاٹھ سے عمر سے بڑا لگتا تھا۔۔۔۔۔۔
سانولی رنگت گہری سیاہ آنکھیں چوڑی پیشانی اور چہرے پہ رعب اس کی ذات کا خاصہ تھی۔۔۔۔۔۔
ملک اب بھیڑ کو کراس کرتے ہوۓ آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
”ہم تب تک اس تک نہیں پہنچ سکتے جب تک ہم اس کی جڑوں میں نہیں بیٹھ سکتے اور تمہیں اس کی جڑوں میں بیٹھنا ہے۔۔۔۔۔“
انزق اب اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ یوں بول رہا تھا جیسے وہ اسے ہپنوٹاٸیز کر رہا ہو۔۔۔۔۔
مقابل کا چہرا بے تاثر تھا۔۔۔۔۔
ملک کی چال متناسب تھی۔۔۔۔۔اور وہ آنکھیں چھوٹی کیے آگے بڑھتا ہی جارہا تھا۔۔۔۔۔۔
”آصف تک پہنچنے کے لیے ملک تک پہنچنا ضروری ہے اور ملک تک تم تب ہی پہنچ سکتے ہو جب تم اس کا اعتبار جیت لو۔۔۔۔۔“
وہ اب وہاں سے ہٹ کے ایک بڑی ایل سی ڈی کی سمت بڑھ گیا تھا۔۔۔
کرسی پہ بیٹھے شخص نے کسی روبوٹ کی طرح گردن فوراً اس طرف گھماٸی تھی۔۔۔۔۔
”ہماری اطلاعات کے مطابق ملک کل بازار میں ایک آرڈر رسیو کرنے جاۓ گا۔۔۔۔۔معاملہ بہت نازک ہے ایسے آڈرذ عموماً ملک خود ہی رسیو کرتا ہے۔۔۔۔۔“
وہ اب سنجیدگی سے اسے تمام لاٸحہ عمل سمجھا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔
ملک نے پلٹ کر دیکھا اسے لگا کوٸی اس کا پیچھا کر رہا ہے ہاتھ خود با خود۔۔۔۔۔۔پینٹ کی جیب میں پڑے ریوالر کی طرف بڑھ گیا
”وہاں پہ ہم اس پہ حملہ کرواٸیں گے اور تم اس کی جان بچاٶ گے۔۔۔۔“
وہ ماہرانہ انداز میں اسے ہدایات دے رہا تھا اور سامنے بیٹھا وہ سر ہلا رہا تھا۔۔۔۔۔
ملک اس بات کو اپنا وہم سمجھتے ہوۓ اب قدرے ویرانے میں آچکا تھا
دوسری سمت سے ایک شخص۔۔۔۔۔جھاڑیوں سے باہر نکلا تھا چہرا کالے رنگ کے کپڑے سے ڈھانپ رکھا تھا اور آنکھوں اور ماتھے سے وہ کوٸی سیاہ رنگ حبشی لگتا تھا۔۔۔۔۔
ہاتھ میں پکڑا ایک ڈبہ ملک کی جانب پکڑایا اور ملک کے ہاتھ سے چیک لیتے ہوۓ ایک دفعہ پھر جھاڑیوں کے پیچھے غاٸب ہو گیا۔۔۔۔۔۔“
ملک نے پلٹ کر ایک نگاہ اطراف پر دوڑاٸی۔۔۔۔۔
”ہر انسان کی دو ساٸیڈز ہوتی ہیں۔۔۔۔۔ایک پوزیٹیو اور ایک نیگیٹیو ۔۔۔۔۔۔“
انسان کو کبھی بھی اس کی نیگیٹیو ساٸیڈ سے مات نہیں دی جاسکتی۔۔۔۔۔
ملک اب احتیاط سے آگے بڑھ رہا تھا۔
ملک ایک خوشیار آدمی ہے اور خوشیار آدمی کو مات دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔
اچانک جھاڑیوں میں سرسراہٹ ہوٸی ملک کے تمام اعصاب الرٹ ہوۓ اس کا شک ٹھیک تھا کوٸی اس کا پیچھا کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اور تمہیں پتہ ہے خوشیار آدمی کو مات کیسے دی جاتی ہے۔۔۔۔۔
اچانک فضا میں گولیوں کی ترتراہٹ گونجنے لگی۔۔۔۔۔
اور ملک کا ہاتھ تیزی سے ریوالور کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔اسی لمحے کسی نے بھاری چیز سے جیسے اس کے سر میں حملہ کیا
خون کی پتلی سی لکیر اس کے ماتھے پر ابھری لیکن اس نے اگلے ہی لمحے خود کو سنبھال لیا تھا۔۔۔۔۔
اور اگلے ہی لمحے وہ پیچھے مڑا تھا اور پھرتی سے پیچھے کھڑے نقاب پوش کے پیٹ میں ایک ذور دار مکا رسید کیا اور وہ الٹے منہ نیچے گرا ملک تیزی سے اس کے اوپر بیٹھا اور ایک جھٹکے سے اس کی گردن مروڑ دی۔۔۔۔۔
اس سے پہلے وہ برق رفتاری سے پیچھے پلٹتا فاٸرنگ کا سلسلہ ایک دفعہ پھر شروع ہو چکا تھا
اور اس کی گن اب اس سے کافی دور پڑی تھی
”ذہین لوگوں کو صرف متاثر کیا جاسکتا ہے“
اس کی آواز اب کیون میں گونج رہی تھی۔۔۔۔۔
”تم نے صرف ایک کام کرنا ہے تم نے صرف ملک کو متاثر کرنا ہے“
اور متاثر کیسے کرنا ہے“؟
اس نے ایک ابرو اٹھا کے الرٹ سے بیٹھے نوجوان کو دیکھنا ہے
تم نے اس پر احسان کر کے اس کی جان بچانی ہے۔۔۔۔۔“
اس سے پہلے کے ملک اٹھ کے کھڑا ہوتا کوٸی تیزی سے آیا تھا اور ملک کو کھینچتے ہوۓ ایک طرف لے گیا تھا۔۔۔
ملک نے ایک درخت کے پیچھے جاتے ہی گردن ترچھی کر کے اس شخص کو دیکھا تھا جو اسے کھینچ کر یہاں تک لایا تھا۔۔۔۔
وہ سمجھ نہیں پارہا تھا کہ وہ اس کا دوست ہے یا دشمن ۔۔۔۔۔
”تم جانتے ہو اس دنیا کا سب سے مشکل معمہ کیا ہے“؟؟
”دشمن اور دوست میں تفریق کرنا۔۔۔۔۔“
”مخلص ہونا اور مخلصی ظاہر کرنا دو الگ چیزیں ہے۔۔۔۔۔“
ملک کی نظروں میں تجسس دیکھتے ہوۓ مقابل تھوڑا سا مسکرایا تھا۔۔۔۔۔
”میں تمہیں بچانے آیا ہوں۔۔۔۔۔بس جب تک میں نہ بولوں یہاں سے باہر مت نکلنا۔۔۔۔۔
”اور تم بروقت جاکے ملک کی جان بچا لو گے۔۔۔۔۔“
وہ اب نشانہ باندھتے ہوۓ جھاڑیوں کی طرف مسلسل فاٸر کر رہا
وہ ماہر نشانہ باز تھا ملک کی نظروں میں تجسس کے ساتھ ساتھ اب ستاٸش بھی تھی
تھوڑی دیر بعد ماحول پرسکون ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
وہ لڑکا جس نے کالے رنگ کا رومال سر پر باندھ رکھا تھا اٹھ کھڑا ہوا تھا
پھر جھک کر ملک کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا۔۔۔۔۔۔
”ہمیں سب سے ذیادہ اپنے جیسے لوگ متاثر کرتے ہیں۔۔۔۔۔“
”تو کیا وہ مجھ سے میرے متعلق نہیں پوچھے گا۔۔۔۔۔“
کیون میں بیٹھے اس شخص نے پہلی دفعہ گفتگو میں حصہ لیا تھا
جواب میں انزق کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔۔۔۔۔
”کہانی گڑھنا ایک ماہر منصوبہ ساز کا خاصہ ہوتا ہے اور دوسرے کا خود پہ اعتماد پیدا کرنا اور اس کہانی کو عملی جامہ پہنانا ایک فنکار کا خاصہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔“
”تم کون ہو۔۔۔۔“؟؟
ملک نے وہی بیٹھے بیٹھے اس ملجگی لباس والے نوجوان لڑکے کا جاٸزہ لیا جو اپنے حلیے سے سڑک چھاپ لگتا تھا۔۔۔۔۔
میلے کپڑے اور ہونٹ پان کھانے کی ذیادتی کی وجہ سے لال ہو چکے تھے۔۔۔۔
”تعارف ضروری ہے“؟؟
اس نے ایک ابرو اٹھا کے کمال بے نیازی سے کہا۔۔۔۔۔
”یقیناً “
ملک نے دو بدو جواب دیا۔۔۔۔۔
”میں ضروری نہیں سمجھتا۔۔۔۔“
کمال انداز تھا۔۔۔۔
”وہ کہتے ہوۓ جانے لگا۔۔۔۔۔
”تم نے میری جان کیوں بچاٸی بتاٶ کون ہو تم ورنہ میں تمہاری جان لے لوں گا۔۔۔۔۔“
”تم اسے یکدم کچھ نہیں بتاٶ گے وہ ابتدا۶ میں تمہیں جانچے گا شاید تم پر حملہ بھی کر دے
انزق اسے ہدایات دے رہا تھا۔۔۔۔۔
اس نے گردن ترچھی کر کے دیکھا ملک ہاتھ میں گن تانے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔۔
”میں جو کوٸی بھی ہوں کم از کم تمہارا دشمن نہیں ہوں اور میں جانتا ہوں میں نے تمہاری جان نہیں لی تو تم بھی میری جان نہیں لو گے ۔۔۔۔“
اس کالے رومال والے لڑکے نے محض کندھے اچکا دیۓ۔۔۔۔۔
ملک کچھ ڈھیلا پڑ گیا۔۔۔۔۔۔
”اگر تم پستول نیچے رکھ دو تو شاید میں تمہیں کچھ بتا دوں۔۔۔۔۔“
اس نے اسے ملامت بھری نظروں سے دیکھتے ہوۓ کہا تو ملک نے پستول نیچے تو نہیں رکھا البتہ دوسرے ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔۔
”میں رتن ہوں ایک معمولی چور و چکا ماں باپ کا پتہ نہیں کون تھے۔۔۔۔“بچپن سے خود کو سڑک پہ ہی دیکھا ہے۔۔۔۔۔ابتدا۶ میں بھیگ مانگتا تھا اور اب جب تھوڑا بڑا ہوا ہوں تو۔۔۔۔۔چوری چکاری شروع کر دی ہے۔۔۔۔“
اس نے ملک کے پاس آکے پیڑ کے نیچے بیٹھتے ہوۓ ایک دکھ بھری سانس لیتے ہوۓ بتایا
ملک بغور اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
”تم یہاں تک کیسے پہنچے۔۔۔۔۔“؟؟
ملک کے لہجے میں شک واضح تھا۔۔۔۔۔
”میں چوری کی غرض سے تمہارا پیچھا کر رہا تھا لیکن یہاں جب دیکھا تمہاری جان کو خطرہ ہے تو میں نے تمہاری جان بچاٸی“
اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو ملک کے تنے ہوۓ اعصاب قدرے ڈھیلے پڑ چکے تھے۔۔۔۔۔
”میں کیسے تمہاری بات کا یقین کر لوں ۔۔۔۔“؟؟
ملک مطمٸین نہیں ہوا تھا۔۔۔۔۔
”میں یقین نہیں دلاٶں گا۔۔۔۔“
وہ ایک دفعہ پھر اٹھنے لگا۔۔۔۔۔۔
ملک اسے جاتے ہوۓ دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔
”تم ایک ذہین انسان ہو۔۔۔۔“اور تم جانتے ہو تم خود کو سڑکوں پہ ضاٸع کر رہے ہو۔۔۔۔۔“
ملک نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔۔۔۔۔
وہ پلٹ کر ناسمجھی سے اس تھری پیس سوٹ والے شخص کو دیکھ کر رہ گیا۔۔۔۔۔
جس کے چہرے پر اب ایک پرسکون مسکراہٹ تھی
لیکن اس کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا کہ وہ وہی ٹھہر گیا۔۔۔۔۔
”اور پھر تم جانتے ہو کہ ماہر دھوکے باز کو چکما دینے کا سب سے خوبصورت انداز کیا تھا۔۔۔“؟؟
کہ تم اپنا پلین اس کی زبانی سنو۔۔۔۔“
دوسرے کو لگے کہ یہ تو اسی کا پلین تھا لیکن درحقیقت وہ چال تمہاری ہو۔۔۔۔۔۔
”کام کرو گے میرے لیے۔۔۔۔۔“؟؟
وہ اسے پیشکش کر رہا تھا
وہ کچھ دیر شش و پنج کا شکار رہا اور پھر اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گٸ
ایسی پیشکش آخر کون ٹھکرا سکتا تھا
اور یہاں سے ہو گا تمہارے مشن کا آغاز۔۔۔۔۔“
”تم ان کے ساتھ رہو گے ان کا سایہ بن کر ان کی ہر چھوٹی سی چھوٹی خبر ہمیں پہنچاٶ گے اور بہت جلد ہم
یہ کھیل ختم کر دیں گے
لیکن اس کھیل کا اختتام موت ہے
”آصف شاہ کی اور ابتسام ملک کی“
انزق کے کہے ہوۓ جملے اس کے کانوں میں گونج رہے تھے
اور وہ چٹانوں جیسی سختی چہرے پہ سجاۓ ملک کے ساتھ اس کی گاڑی میں بیٹھ رہا تھا
نھار۔۔۔۔۔
نھار۔۔۔۔
وہ دھڑام سے دروازہ کھول کے تقریباً چنگھاڑتے ہوۓ اس کے سر پہ پہنچ آیا تھا۔۔۔۔
سامنے بیڈ کراٶن کے ساتھ ٹیک لگاۓ وہ جو اطمینان سے اپنے ناخنوں پہ نیل پالش لگا رہی تھی سرسری سا اسے دیکھا پھر اپنے کام میں مصروف ہو گٸ۔۔۔۔
آصف نے چبھتی ہوٸی نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔
”تم یہاں میرے صبر کا امتحان لینے آٸی ہو؟۔۔“
اس نے نہایت ضبط سے ایک ایک لفظ چبا کے ادا کیا۔۔۔۔
”اب کیا کیا ہے میں نے۔۔۔۔۔“؟؟
معصومیت سے کہتے ہوۓ وہ آروی کو تیش دلا گٸ۔۔۔۔۔
”تم نے کس حق سے میرے کمرے کی سیٹینگ چینج کرواٸی ہے۔۔۔۔۔“
وہ ٹھہرے ہوۓ مگر سرد لہجے میں اس سے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔
”نہایت مہذب انداز میں اگر کہا جاۓ تو آپ کی زوجہ ہونے کی حیثیت سے۔۔۔۔۔۔“
ناخن کو تھوڑی تلے ٹکا کے اس نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
آروی کو اس کی باتیں مذید غصہ دلا رہی تھی۔۔۔۔۔۔
”سنو لڑکی۔۔۔۔۔۔۔“
اس کو کندھے سے پکڑ کے جھنھوڑا تو نھار بے چاری پوری ہل کے رہ گٸ ۔۔۔۔۔
پھر چہرہ اس کے چہرے کے قریب کیا۔۔۔۔۔
”تم بھی جانتی ہو اور میں بھی جانتا ہوں اس شادی کی کیا حیثیت ہے لہازہ بہتر ہے کہ مجھے مت بتاٶ کہ تم میری کیا لگتی ہو آٸندہ اگر تم نے میرے کسی بھی کام میں دخل اندازی کی۔۔۔۔۔“
رک کے اسے دیکھا۔۔۔۔
جو یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
”تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔۔۔۔“
زہر خند لہجے میں کہتے ہوۓ اسے ایک جھٹکے میں پرے دھکیلا۔۔۔۔وہ فوراً سنبھل گٸ
”تو پھر شاہ آپ کو یہ بھی یاد ہو گا کہ اس کنڑیکٹ میں کیا لکھا ہوا تھا۔۔۔۔۔“
وہ تلخی سے بولی تو آصف نے مڑ کے اسے دیکھا۔۔۔۔
”آپ اگر دو سال سے پہلے مجھے طلاق دے دیں گے تو ۔۔۔۔
بیڈ سے اتر کے اس کے قریب آٸی۔۔۔۔۔
”تو میں آپ پہ پولیس کیس کر سکتی ہوں۔۔۔۔۔“
اس کی شرٹ کے کالر درست کرتے ہوۓ جیسے اس نے باور کروایا۔۔۔۔۔
جواب میں قہقہہ لگا کے ہنسا۔۔۔۔۔
وہ بس اسے دیکھ کے رہ گٸ۔۔۔۔۔
”دیکھو زرا یہ چھوٹی لڑکی پولیس کی دھمکی کسے دے رہی ہے۔۔۔۔۔
وہ ہنوز ہنس رہا تھا
”جس کے پیچھے ہمہ وقت پولیس ھی ہوتی ہے لیکن تمہیں یہ معلوم نہیں کہ ان پولیس والوں کو میں پالتا ہوں۔۔۔۔اور تم نے کبھی کسی کتے کو اپنے ہی مالک پہ بھونکتے دیکھا ہے۔۔۔۔۔“
ترحم بھری نظروں سے اسے
دیکھتے ہوۓ اس نے نھار کا مذاق اڑایا۔۔۔۔۔۔
”آصف شاہ لیکن آپ کو پتہ ہے آپ کے یہی پالے ہوۓ لوگ آج کل آپ کے بارے میں کیا باتیں کر رہے ہیں۔۔۔۔۔“
اس نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے ڈراماٸی انداز میں کہا تو وہ ٹھہر کے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
”کہ آصف شاہ اپنی ٹانگ برابر بیوی کے سامنے گھٹنے ٹیک چکا ہے ۔۔۔۔۔۔“
وہ شرارت سے ہنسی تو وہ چاہتے ہوۓ بھی اس پہ غصہ نہ کر سکا
بس اسے گھور کے رہ گیا۔۔۔۔۔
اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
دن تیزی سے گزر رہے تھے یہ لڑکا۔۔۔۔۔ملک کی توقعات سے بھی بڑھ کر ذہین ثابت ہوا تھا۔۔۔۔۔ملک اس سے کافی حد تک متاثر اور مطمٸین تھا لیکن اس بات کا اظہار وہ بہت کم کرتا تھا
آصف اس بات سے بالکل بے خبر تھا۔۔۔۔۔اور یوں بھی ملک اکثر اپنی مرضی سے کسی نا کسی بندے کو رکھ لیا کرتا تھا اور آصف نے کبھی ان باتوں کو ذیادہ اہمیت نہیں دی تھی
یوں بھی آصف کی توجہ آج کل نھار کی طرف ذیادہ تھی اس کا کام میں بھی دل نہیں لگتا تھا وہ اظہار نہیں کرتا تھا لیکن وقت سے پہلے وہ گھر آجایا کرتا تھا اور پھر پورا دن اس کی اور نھار کی کسی نا کسی بات سے ان بن رہتی تھی۔۔۔۔۔۔
لیکن آصف کو نھار کا اتنی بے عزتی کے بعد بھی ڈھیٹ بن کر کام کرنا اچھا لگتا تھا
یہ وہ لڑکی تھی جسے وہ ایک بھی حقوق دینے کو تیار نہیں تھا اور آج یہ لڑکی خود باخود ہر حقوق لے چکی تھی
نھار کی طرف توجہ ہونے کی وجہ سے باقی ہر طرف سے اس کی توجہ ہٹ چکی تھی
اور اس بات کا فاٸدہ کوٸی اور اٹھا رہا تھا
ملک کب سے یہ سب نوٹ کر رہا تھا لیکن فلحال اس نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی تھی
شاید اس نے کچھ اور سوچ رکھا تھا۔۔۔۔۔
شہریار ملک کی اور آصف کی ہر ایکٹویٹی کو نظر میں رکھے ہوا تھا
اور ہر خبر ڈیپارٹمنٹ کو پہنچا رہا تھا
ایلاف کی جس شخص سے شادی ہوٸی تھی وہ تھوڑا عمر رسیدہ شخص تھا اس کے تین بچے کافی چھوٹی عمروں کے تھے۔۔۔۔ایلاف نے چپ چاپ پورے گھر کی ذمہ داری اٹھا لی تھی وہ خوش نہ سہی مطمٸین ضرور تھی
دوسری طرف انزق بس آصف اور ملک کی گرفتاری کے انتظار میں بے چین تھا
لیکن فل حال ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے حکم نہیں ملا تھا
اور پھر آخرکار ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے آرڈر مل گیا۔۔۔۔۔
نھار بے چینی سے کمرے میں یہاں سے وہاں ٹہل رہی تھی
چال متوازن تھی لیکن بے چینی اس کی ہر ادا سے واضح ہو رہی تھی آج تیسرا دن تھا کہ وہ اس کوشش میں تھی کہ ملک کے خلاف کچھ اس کے ہاتھ لگ جاۓ لیکن اسے کچھ نہیں مل سکا تھا آصف ہنوز ملک کے ساتھ ہوتا تھا آصف کے ساتھ رہنے پہ اسے اتنا اندازہ ہو گیا تھا کہ ملک آصف کے بہت سے کام خود سنبھالتا تھا اور نھار کو یہی بات کھٹک رہی تھی۔۔۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اس کی حقیقت بتانے کا عمل شروع کہاں سے کرے وہ ایسا انسان تھا کہ جرم کرنے کے بعد سارے ثبوت چھپا دیتا تھا
کچھ سوچ کے وہ وہی بیڈ پہ بیٹھ گٸ اس کی نظریں اوپر چھت پر لٹکے فل اسپیڈ میں چلتے پنکھے پر جم گٸ۔۔۔۔۔۔
کمرے میں اب صرف پنکھے کی آواز تھی
وہ ایسے ہی خاموش بیٹھی رہی۔۔۔۔
”اگر کوٸی شخص اپنا کوٸی ثبوت بھی نہ چھوڑے تو پھر کون سا ایسا راستہ ہے جس کے ذریعے اسے بے نقاب کیا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔
ایک ہی سوال پہ اس کا ذہن جم کر رہ گیا تھا
وہاں سے نیچے چلے جاٶ گرے کلر کے تھری پیس سوٹ میں آصف تیزی سے سڑھیاں اتر رہا تھا۔۔۔۔۔اس کے چہرے پر عجلت واضح تھی اور اپنے پیچھے چلتے ملک کو کچھ ہدایات دے رہا تھا ملک بغور اس دیکھتے ہوۓ توجہ سے سن رہا تھا۔۔۔۔۔
”ملک۔۔۔۔۔۔کیا تمہیں پتہ چلا اس نمبر کا جس نمبر سے مجھے دھمکی بھرے مسیجز آتے ہیں۔۔۔۔۔“
”آصف نے چلتے چلتے جیسے کچھ یاد آتے ہوۓ یونہی سر سری پوچھ لیا۔۔۔۔۔
ملک غاٸب دماغی سے اس کی پیٹھ گھور کر رہ گیا۔۔۔۔۔
”آصف ملک پر اعتبار کرتا ہے۔۔۔۔۔“؟؟
نھار کا دماغ بیدار ہو کر اب تانے بانے جوڑ رہا تھا۔۔۔۔
اور یہ اعتبار بہت چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے قاٸم ہے۔۔۔۔۔
اس کے چہرے پر رونق پیدا ہوٸی۔۔۔۔۔۔
”اگر میں حقیقت سامنے لانے کے بجاۓ آصف کا ملک پر اعتبار ختم کر دوں گی تو۔۔۔۔ملک کی بات کی اہمیت ختم ہو جاۓ گی۔۔۔۔“
نھار کی آنکھیں چمک اٹھی۔۔۔۔۔
”ہاں ملک میں کوشش کر رہا ہوں۔۔۔۔“
اس نے بے چینی سے ماتھا مسلتے ہوۓ اسے ٹالا۔۔۔۔۔
”ویسے تم کب سے کوشش ہی کر رہے ہو۔۔۔۔۔“
آصف اس پر چوٹ کرتا ہوا باہر گاڑی کی طرف بڑھ گیا
ملک وہی جل بھن کر رہ گیا لیکن اپنے ۔۔۔۔۔تاثرات پر قابو پاتے ہوۓ۔۔۔۔وہ اس کے پیچھے ہی گاڑی کی طرف بڑھ گیا
کچھ سوچ کر نھار اٹھی اور اب دبے قدموں نظر بچاتے ہوۓ وہ ملک کے کمرے کی جانب بڑھ رہی تھی دروازے پر لگا لاک اس کا منہ چڑا رہا تھا
وہ جی بھر کر بدمزہ ہوٸی۔۔۔۔۔
پھر وہ کتنی ہی دیر وہی کھڑی کچھ سوچتی رہی اب اس کا رخ ملک کے کمرے کی کھڑکی کی جانب تھا۔۔۔۔
اس نے اس طرف جا کر دیکھا کھڑکی اندر سے بند تھی۔۔۔۔
اور کھڑکی وہ توڑ نہیں سکتی تھی
وہ بے بسی سے وہی کھڑی رہ گٸ۔۔۔۔۔
”میں آپ کو کچھ سیکھاتا ہوں۔۔۔۔۔“
ماضی میں اپنے باپ کے کہے گۓ الفاظ اچانک اس کے ذہن میں گونجے۔۔۔۔۔
”مجھے یہ سیکھ کر کیا فاٸدہ ہو گا بابا۔۔۔۔۔“؟؟
اس دو پونیوں والی گول مٹول سی بچی نے معصومیت سے پوچھا تھا۔۔۔۔
”بیٹا لڑکیوں کو سب آنا چاہیۓ ہر ایک چیز۔۔۔۔“
اس کے بابا نے اس کے سر پر ہلکی سی چپت رسید کرتے ہوۓ اسے کہا
اب اس کا رخ اوپر چھت کی جانب تھا ماضی کا یہ منظر اس کے ذہن کے پردوں پر ایک فلم کی طرح چل رہا تھا
اور ساتھ ہی وہ سیڑھیاں چڑھتی ہی جارہی تھی۔۔۔۔۔
اور اس دن اس چھوٹی بچی نے۔۔۔۔اپنے باپ سے چھت پھلانگ کر کسی کے کمرے میں جانا سیکھا تھا۔۔۔۔۔
اور آج کتنے سالوں کے بعد وہ یہ کرنے لگی تھی دل کہیں نہ کہیں خوفزدہ بھی تھا کہ کہیں وہ بھول تو نہیں چکی۔۔۔۔۔۔
لیکن آخر ہمت کر کے وہ اس طرف بڑھ گٸ۔۔۔۔۔اوپر چھت ویران پڑا تھا۔۔۔۔۔۔
آصف کی گاڑی ویران سڑکوں پر رواں دواں تھی۔۔۔۔۔
آنکھوں پر سن گلاسز چڑھاۓ وہ باہر کی سمت دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اور ملک پیچھلی سیٹ پر بیٹھا کسی گہری سوچ میں گم تھا۔۔۔۔۔
”ملک وہ فاٸل لاۓ ہو نا جس میں سارا ریکارڈ موجود تھا۔۔۔۔۔“؟؟
اس نے گردن تھوڑی ترچھی کر کے۔۔۔۔۔ملک سے استفسار کیا۔۔۔۔۔
”ملک نے غاٸب دماغی سے ہاتھ ادھر ادھر مارا مگر بے سود۔۔۔۔۔۔“
وہ فاٸل گھر بھول آیا تھا۔۔۔۔
پتہ نہیں آج کل اسے کیا ہو رہا تھا وہ باتیں بھول رہا تھا ایک لڑکی نے اسے پریشان کر کے رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔۔
”معذرت آصف لیکن فاٸل میں گھر میں بھول چکا ہوں۔۔۔۔“
اس نے پست لہجے میں کہا تھا۔۔۔۔چہرے پر شرمندگی تھی۔۔۔
”ملک تم کب سے اتنے غیر ذمہ دار ہو گۓ ہو۔۔۔۔۔“؟؟ہم نے دس بجے سے پہلے وہاں پہچنا ہے۔۔۔۔“
آصف نے غصہ ضبط کرتے ہوۓ اپنے ہاتھ میں بندھی گھڑی پر نظر ڈالی جو نو کا ہندسہ عبور کر چکی تھی۔۔۔۔۔
ملک سر جھکا گیا۔۔۔۔۔۔
”آصف تم جاٶ اور مجھے یہیں اتار دو میں ڈراٸیور کو کال کر کے بلاتا ہوں اور گھر سے وہ فاٸل لے آتا ہوں۔۔۔۔۔“اور تب تک تم ادھر پہنچ چکے ہو گے تم میرے آنے تک انہیں سنبھال لینا۔۔۔۔۔۔
ملک نے اپنے لہجے کو ہموار کرتے ہوۓ سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔
نھار اب پانی کی ٹینکی کے ساتھ جڑے پاٸپ کو مضبوطی سے پکڑے ایک تنگ سی سرنگ نما جگہ سے اندر جارہی تھی اس کی دونوں کہنیاں زخمی ہو چکی تھی۔۔۔۔اور جسم بھی جگہ جگہ سے چھل چکا تھا لیکن وہ تکلیف ضبط کرتی وہاں سے اتر رہی تھی۔۔۔۔۔
آصف نے کچھ سوچ کے سر ہلا دیا۔۔۔۔پھر گاڑی ساٸیڈ پر روک دی اور ملک گاڑی سے اتر گیا اس نے ایک نظر آصف کو دیکھا آصف کا چہرا پرسکون تھا۔۔۔۔۔
ملک نظر چراتا ہوا ایک طرف ہو کر کھڑا ہو گیا اور گاڑی تیزی سے آگے بڑھ گٸ آصف نہیں جانتا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔۔۔۔۔
ملک اب ڈراٸیور کو کال کر رہا تھا۔۔۔۔۔
نھار اب اس اندھیری سی سرنگ میں کھڑی تھی ایک طرف سے ہلکی سی روشنی آرہی تھی اس نے ہاتھ اس طرف بڑھایا تو ایک چھوٹا سا ڈھکن سرکنے لگا۔۔۔۔۔اور چھن سے روشنی اس اندھیری سرنگ میں آنے لگا وہ اوپر کی طرف لپکتی اس اندھیری سرنگ سے نکلنے لگی اب وہ قدرے روشن کمرے میں کھڑی تھی۔۔۔۔۔وہ مہر
نہیں جانتی تھی کہ وہ ٹھیک جگہ پر پہنچی تھی یہ یا نہیں۔۔۔۔وہ ایک چینجگ روم تھا۔۔۔۔۔وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی سمت ٹھیک رہی تھی یا نہیں لیکن اس نے ملک کو ایک دفعہ اس راستے کا انتخاب کرتے دیکھا تھا
سرنگ کے اندر داخل ہوتے وقت وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ مطلوبہ جگہ پہنچے گی بھی یا نہیں لیکن۔۔۔۔۔۔وہ اب ایک چینجنگ روم میں کھڑی لب کچل رہی تھی
کچھ سوچ کے اور ہمت کر کے وہ اس طرف بڑھی وہ نہیں جانتی تھی کہ دوسری طرف کس کا کمرا تھا اور آگے کون تھا لیکن وہ اس طرف بڑھتی ہی جارہی تھی
چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی دم سادھے۔۔۔۔
ملک اب گاڑی میں بیٹھ چکا تھا اور گاڑی کا رخ اب بنگلے کی طرف تھا اس کے چہرے پہ سوچ کے گہرے ساۓ تھے اور نظروں میں پچھتاوا تھا مایوسی تھی۔۔۔۔۔
آصف کی گاڑی اب ویرانے میں داخل ہو چکی تھی۔۔۔۔۔وہ اس کی نظریں مسلسل شیشے سے باہر کے مناظر پر جمی تھی۔۔۔۔
نھار جیسے ہی کانپتے ہاتھوں سے لکڑی کا دروازہ کھول کے اندر گٸ وہ دھنگ رہ گٸ وہ مطلوبہ جگہ پہ ہی پہنچی تھی اس کے چہرے پر ایک بے یقین سی مسکراہٹ پھیل گٸ اور چہرے پر جوش واضح تھا۔۔۔۔۔
وہ ملک کے کمرے میں ہی موجود تھی
اس کا رخ اب ملک کے کمرے کی الماریوں کی جانب تھا۔۔۔اندر پورا کمرا روشن تھا اور قیمتی فرنیچر بہت نفاست سے سیٹ کیا گیا تھا
وہ تیزی سے ایک ایک دراز کھنگال رہی تھی مختلف قسم کے کاغذ وہ کھنگال رہی تھی لیکن اس کے چہرے پر تھکاوٹ کے ساتھ ساتھ اب مایوسی بھی دیکھاٸی دے رہی تھی
وہ تھک کر اٹھ کھڑی ہوٸی۔۔۔۔
اسی لمحے اس کی نظر ایک قفل شدہ دراز پر پڑی۔۔۔۔۔۔
وہ ٹھٹک کر وہی کھڑی ہو گٸ۔۔۔۔
”ڈراٸیور بنگلے کی طرف مت جانا۔۔۔۔۔بلکے جہاں میں کہہ رہا ہوں وہاں جاٶ۔۔۔۔“
اس نے نظریں باہر کے مناظر پر جماتے ہوۓ کھوۓ کھوۓ لہجے میں ڈراٸیور کو حکم دیا تو ڈراٸیور نے محض سر ہلا دیا
”آصف نے کچھ ٹھٹکتے ہوۓ ساٸیڈ مرر پر نمودار ہوتی ہوٸی گاڑی دیکھی
ایک گاڑی اس کے تعاقب میں تھی۔۔۔۔۔
آروی کے سپاٹ چہرے پر تفکر کی لکیریں نمودار ہوٸی
اس نے پلٹ کر ڈراٸیور کو پرسکون رہنے کا اشارہ کیا
جس کی نظروں میں وحشت تھی۔۔۔۔۔
نھار پرسوچ نظروں سے اس دراز کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
پھر کچھ سوچتے ہوۓ وہ آگے بڑھی۔۔۔۔۔
جھک کر تالے کو ہاتھ میں پکڑا۔۔۔۔تالا ساٸز میں چھوٹا تھا اس نے سر میں لگی پن نکالی اور اب وہ کمال مہارت سے پن سوراخ میں پھنساۓ وہ چھوٹا تالا توڑ رہی تھی۔۔۔۔۔
اس کی نظریں بے تاثر تھی اور ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے۔۔۔۔
آصف کے سارے اعصاب ایک لمحے کے لیے جواب دے گۓ تھے اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ کار اس کا تعاقب کیوں کر رہی تھی
اس نے ڈراٸیور کو گاڑی کی اسپیڈ تیز کرنے کا کہا اور خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرنے لگا وہ سمجھ چکا تھا اس پر حملہ ہونے والا ہے
تالا ٹوٹ چکا تھا۔۔۔۔
نھار نے دیکھا دراز میں کاغذوں کا ایک ڈھیر تھا لیکن ایک بات وہ جان چکی تھی کہ جو بھی تھا ان میں ایسا کچھ خاص تھا جو ملک نے انھیں اس طرح چھپا کر رکھا ہوا تھا
اب وہ ایک ایک کاغذ کو بغور دیکھ رہی تھی۔۔۔
اور آصف کے تمام اعصاب بیدار ہو چکے تھے بجاۓ یہ سوچنے کے کہ اس پر یہ حملہ کس کے کہنے پر ہو رہا ہے۔۔۔۔۔وہ یہاں سے نکلنے کی تدبیر سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے پیچھے آنے والی گاڑی میں سے کچھ سر نمودار ہوۓ اور ۔۔۔۔انہوں نے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے تھے۔۔۔۔ان کے ہاتھوں میں جدید راٸفلز تھی جن کا رخ آصف شاہ کی گاڑی کی طرف تھا۔۔۔۔۔
”آصف شاہ تمہارا کھیل ختم ہو چکا ہے۔۔۔۔۔“ہم تم تک پہنچ چکے ہیں خود کو اور ابتسام ملک کو قانون کے حوالے کر دو ورنہ۔۔۔۔۔۔تمہارے ساتھ اچھا نہیں ہو گا
گاڑی کے بجتے ساٸرن کی آواز کے ساتھ ہی ایک آفیسر اسے وارن کر رہا تھا۔۔۔۔
اس کے دماغ کی نسیں اس شور سے پھٹنے لگی تھی۔۔۔۔اس کی آنکھوں میں کوٸی خوف کا تاثر نہیں تھا البتہ وہ نارمل بھی نہیں تھا۔۔۔۔
اس کے سارے حواس دھیرے دھیرے معطل ہو رہے تھے
وہ کسی سازش کا شکار بنا تھا اس کی مخبری کی گٸ تھی
آصف شاہ پکڑا جا چکا تھا۔۔۔۔۔
لیکن آصف شاہ اتنی جلدی ہار ماننے والے لوگوں میں سے نہیں تھا۔۔۔۔
نھار کی آنکھیں حیرت سے پھیلتی چلی گٸ اس کے ہاتھ بلا آخر کوٸی کارآمد چیز لگ چکی تھی۔۔۔۔۔
آگے طویل جھاڑیوں کی طرف جانے سے پہلے۔۔۔ڈراٸیور نے دہشت بھری نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔
”چھلانگ لگاٶ گاڑی سے۔۔۔۔۔“
شور کی وجہ سے اس نے سنجیدہ چہرے کے ساتھ اونچی آواز میں کہا
ڈراٸیور کے چہرے پہ دہشت کی جگہ خوف نے لے لی۔۔۔۔۔
”میں نے کہا چھلانگ لگاٶ گاڑی سے۔۔“
اس دفعہ اس نے اسے ڈراٸیونگ سیٹ سے دھکیلتے ہوۓ تقریباً دھاڑتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
اس کا چہرا سرخ ہو چکا تھا لیکن ڈراٸیور اسے یوں اکیلا چھوڑنے پر رضامند نہیں تھا۔۔۔۔۔
اس نے ایک نظر آصف کے چہرے پر ڈالی جہاں دکھ یاسیت خوف کچھ بھی نہیں تھا بس سنجیدگی تھی اور شاید غصہ۔۔۔۔
اور اگلے ہی لمحے وہ چلتی گاڑی سے کود گیا۔۔۔۔
اب گاڑیوں کا ساٸرن قریب ہوتا جارہا تھا۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔آصف گاڑی میں اکیلا تھا
ایک ہی بات بار بار دہراٸی جارہی تھی۔۔
”آصف نے گاڑی کی رفتار بڑھاٸی اور۔۔۔۔۔اگلے ہی لمحے گاڑی ایک چھوٹی کھاٸی میں دھکیل دی
ایک دھماکے کی آواز کے ساتھ ہی ہر طرف دھواں پھیل گیا۔۔۔۔۔۔
ساٸرن کی آواز تھم گٸ سب پھٹی پھٹی نظروں سے یہ منظر دیکھ رہے تھے
کھاٸی میں اس قدر دھواں تھا کہ۔۔۔۔۔کچھ بھی دیکھاٸی نہیں دے رہا تھا
پیچھے کھڑی گاڑی میں ایک باوردی نوجوان نکلا جس کے چہرے پر اکتاہٹ واضح تھی
اور نظروں میں تشویش تھی۔۔۔۔۔
کچھ دیر دھویں میں کچھ تلاشتا رہا
اور پھر موباٸل پہ کوٸی نمبر ڈاٸل کرنے لگا۔۔۔۔۔
”جھٹ سے کال پک کر لی گٸ تھی جیسے دوسری طرف موجود شخص۔۔۔اسی کال کے انتظار میں تھا۔۔۔۔۔
”سر آصف نے گاڑی کھاٸی میں گرا دی ہے شاید وہ مر چکا ہے۔۔۔۔۔“
اس نے تھوڑے ساٸیڈ پہ ہوتے ہوۓ دوسری طرف لاٸن پہ موجود شخص کو آگاہ کیا
وردی میں ملبوس کچھ اہلکار اب کھاٸی میں اتر رہے تھے۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف کراچی کے اس مصروف سے علاقے میں بنی اونچی بلڈنگ کی تیسری منزل پہ بنے اس شیشے کے کیون میں وردی میں ملبوس اس شخص کی سماعتوں سے یہ جملے ٹکراۓ تو اس کے چہرے پر سختی ابھری کنپٹی کی رگیں باہر کی طرف ابھری۔۔۔۔۔
”میں اسے بچپن سے جانتا ہوں شیری۔۔۔۔میں یہاں بیٹھ کے تمہیں یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ وہ مرا نہیں ہے وہ بھاگ چکا ہے تم لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک چکا ہے۔۔۔۔۔“
اس نے ہاتھ ذور سے شیشے کی کھڑی پہ مارتے ہوۓ ٹھہرے ہوۓ مگر سرد لہجے میں کہا
انزق کی آنکھیں شرارے اگل رہی تھی۔۔۔۔۔
شیری نے کچھ گڑبڑاتے ہوۓ اپنی کیپ درست کی اس سے پہلے وہ اپنی صفاٸی میں کچھ بولتا
پیچھے کھڑے ایک اہلکار کے جملے نے اس کے تمام الفاظوں کو سلب کر لیا تھا
”سر اندر کوٸی ڈیڈ باڈی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔“نہ آصف کی اور نہ ملک کی وہ دونوں بھاگ چکے ہیں البتہ ۔۔۔۔۔گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔۔۔۔۔“
دھویں میں چھپے اس اہلکار نے اسے آگاہ کیا
تو شیری کی رنگت ذرد پڑ گٸ۔۔۔۔
دوسری طرف لاٸن پہ موجود انزق کے چہرے پہ زہریلی مسکراہٹ پھیل گٸ۔۔۔۔۔
”میشن ناکام ہونے پر میں آپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔۔۔۔کپٹین شیریار خان ۔۔۔۔۔“
طنز سے کہتے ہوۓ انزق نے کال کاٹ دی تھی
اور شیری ابھی تک کھڑا یہی سوچ رہا تھا کہ آصف شاہ آخر ہر بار ایک قدم آگے کیسے رہتا تھا۔۔۔۔۔
آصف بھاگ چکا تھا
اور نھار وہی گھر میں اس کا انتظار کر رہی تھی اسے آصف کو آج بہت کچھ دیکھانا تھا
بلا آخر۔۔۔۔۔اس کے ہاتھ میں ایسا کچھ آگیا تھا کہ جس سے وہ ملک کو گناہگار ثابت کر سکے
