Shoq Zawal by Eman Khan NovelR50404 Shoq Zawal Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Shoq Zawal Episode 4
Shoq Zawal by Eman Khan
روشنی کی شفاف نرم کرنیں ذمین کو چھو رہی تھی شفاف اجالے نے ہر طرف روشنی بکھیر دی تھی یہ بھی عام دنوں کی طرح ہلکی پھلکی سی صبح تھی۔۔۔۔اسلام آباد جیسے مصروف شہر میں ایک نٸ صبح کا آغاز مصروف سا تھا سڑکوں پہ ٹریفک ہارن کا شور سڑکوں پہ یونیفارم میں ملبوس بچے دیکھاٸی دے رہے تھے ہر کوٸی ذندگی کی دوڑ میں دوسرے کو پچھاڑ دینے کا عزم لیے چلتا ہی جارہا تھا ۔۔۔۔۔۔گل بخش نے سر پہ ٹوکری درست کرتے ہوۓ اطراف کا جاٸزہ لیا پھر ایک تنگ سی گلی میں گھس گیا وہ کاروباری انداز میں صدا بلند کر رہا تھا کھلے میدان کی طرف جاتے ہی اس کی سرسری نگاہ کچرے کی طرف اٹھی پھر پلٹنا بھول گٸ وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھنے لگا وہ جو لڑکی ذمین پہ اوندھے منہ پڑی تھی اس کے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹ چکے تھے۔۔۔۔اس کے چہرے پہ زخموں کے نیلوں کے نشان تھے۔۔۔۔۔وہ اوندھے منہ ذمین پہ پڑی تھی گل بخش نے اپنے چہرے پہ ہاتھ پھیر کے خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی پھر اگلے ہی لمحے اس نے قریب دکان والے کو اطلاع دی اگلے ایک سیکنڈ میں لوگ اس لڑکے کے گرد کھڑے سرگوشیوں میں مصروف تھے قریب پڑوس کی ایک عورت نے آکے اس کی نبض چیک کی تھی سانسیں ابھی بھی چل رہی تھی اس پر چادر ڈالنے کے بعد پولیس کو اطلاع کر دی گٸ تھی تھوڑی دیر بعد پولیس جاۓ وقوعہ پر پہنچ کے اطراف کا جاٸزہ لے رہی تھی لڑکی کو ہسپتال پہنچایا گیا تھا جہاں اس کی حالت تشویش ناک تھی ۔۔۔۔۔۔وہ بے ہوش تھی قبل از وقت پولیس اس کی شناخت کرنے میں ناکام تھی ۔۔۔۔۔رپورٹس کے مطابق کل رات کو ریپ کر کے یہاں پھینکا گیا تھا پولیس اگلا قدم بیان کے بعد ہی اٹھا سکتی تھی فلحال اس لڑکی کی شناخت ایک معمہ تھی۔۔۔۔۔۔
@@@@@
وہ تھوڑی کے نیچے ہاتھ ٹکاۓ پرسوچ نظروں سے شیشے کے باہر کے مناظر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔اس کی آنکھوں میں عجیب سے غصیلے تاثرات تھے یوں جیسے وہ ضبط کیے بیٹھا ہو۔۔۔۔۔۔کنپٹی کی رگیں باہر کی طرف ابھری ہوٸی تھی چہرہ سرخ مگر ہمیشہ کی طرح سپاٹ تھا گرے لاٸینگ والی شرٹ میں بے ترتیب بالوں کے ساتھ وہ اس وقت شدید غصے کی حالت میں لگ رہا تھا اسے صبح کال پہ جو خبر ملی تھی وہ خبر آر وی کا پارہ ہاٸی کرنے کے لیے کافی تھی غصہ اس کے اندر ابل رہا تھا وہ جذبات کے معاملے میں ہمیشہ ایسا ہی تھا وہ کوٸی بھی جذبہ چہرے سے عیاں نہیں ہونے دیتا تھا ہنکارہ بھر کے اس نے جیسے ہی پیچھے سیٹ کے ساتھ ٹیک لگاٸی تو یکدم چونک گیا گردن موڑ کے دیکھا پچھلی سیٹ خالی تھی اس کے چہرے پہ تفکر کی لکیریں ابھری ہونٹ بھینچ کے وہ کچھ سوچنے لگا اگلے ہی لمحے اسے کچھ یاد آیا آج ہوٹل سے نکلتے وقت رسپشن پہ بیٹھی لڑکی نے اسے ایک کارڈ دیا تھا جو اس نے غاٸب دماغی سے اپنی پینٹ کے جیب میں ڈال دیا تھا اس نے کارڈ نکالا تو اوپر نمبر لکھا دیکھاٸی دیا تو اسے کچھ اطمینان ہوا تیسری بیل پہ فون اٹھا لیا گیا تھا۔۔۔۔۔۔”royal hotel سے بات کر رہی ہیں آپ۔۔۔۔۔۔“؟؟نارمل سے لہجے میں بات کرتے ہوۓ اس نےشیشے سے باہر دیکھا تھا۔۔۔۔۔”جی سر۔۔۔۔۔۔“لڑکی نے کاروباری لہجے میں جواب دیا تھا نھار ایک طرف کھڑی لب کچل رہی تھی وہ روہانسی صورت بناۓ گزرتے لوگوں کو یوں دیکھ رہی تھی جیسے ان میں سے کوٸی آروی ہو ابھی وہ رسپشن پہ موجود لڑکی سے یہی پوچھنے آٸی تھی کہ شاید آروی اپنا کوٸی کانٹیکٹ نمبر لکھوا کے گیا ہو لیکن لڑکی کو فون پہ مصروف دیکھ کے وہ ایک طرف ہو کے کھڑی ہو گٸ تھی
”کل رات کو آپ کے ہوٹل میں میں نے stay کیا تھا دو رومز بک کرواۓ تھے اپنے نام پہ۔۔۔۔۔“
وہ رک رک کے سپاٹ لہجے میں اس لڑکی کو بتا رہا تھا۔۔۔۔۔۔
ویٹ سر میں چیک کرتی ہوں۔۔۔۔۔آپ نام بتا سکتے ہیں اپنا۔۔۔۔۔۔“؟؟
اس لڑکی نے خوشگوار لہجے میں اس سے پوچھا تھا۔۔۔۔۔
”آصف شاہ۔۔۔۔۔“مختصر جواب دے کے اس نے پلٹ کے ڈراٸیور کو یو ٹرن لینے کا اشارہ کیا تھا
ڈراٸیور نے سر ہلا کے فوراً یو ٹرن لیا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ لڑکی اب سر جھکاۓ کمپیوٹر پہ کچھ چیک کر رہی تھی۔۔۔۔۔
روم نمبر 81 82۔۔۔۔۔۔اس لڑکی نے رک کر پوچھا تھا۔۔۔۔۔
جی یہی دو رومز ہیں “اس نے تیزی سے جواب دیا تھا
روم نمبر 82 میں جو لڑکی ہے کیا آپ میری اس سے بات کروا سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔“؟؟
اس نے ایک ابرو سوالیہ اٹھا کے اس سے کہا تھا۔۔۔۔۔
sure sir…..plz wait…..
مسکرا کے کہتے ہوۓ اس نے رسیور ایک طرف رکھتے ہوۓ گھنٹی بجاٸی تھی ویٹر کے یونیفارم میں ملبوس ایک شخص اس کے پاس آیا۔۔۔۔۔۔“
yes mam….
طابعداری سے کہتے ہوۓ اس نے ایک سرسری نگاہ پاس کھڑی نھار پہ ڈالی وہ بہت سہمی ہوٸی لگ رہی تھی پھر ریسپشن پہ کھڑی لڑکی کی طرف متوجہ ہو گیا۔۔۔۔
”روم نمبر 82 میں جو میڈم ہیں انھیں پلیز انفارم کر دیں کہ ان کے لیے آصف شاہ کی کال ہے۔۔۔۔۔“مصروف سے لہجے میں کہتی ہوٸی وہ مسکرا کے نھار کی طرف پلٹی تو نھار کی ساری توجہ اس کی بات کی طرف تھی آصف شاہ کا نام اس کی سماعتوں سے ٹکراتے ہی اس کی رکی ہوٸی سانس بحال ہوٸی۔۔۔۔۔۔
”کیا آصف شاہ کی کال ہے۔۔۔۔۔۔۔“؟؟ستارہ باٸی نے اس کے سامنے سرسری زکر کیا تھا۔۔۔۔۔
yes mam
اس لڑکی نے کچھ ناسمجھی سے جواب دیا۔۔۔
”کیا آپ جانتی ہیں انھیں۔۔۔۔“؟؟
اس لڑکی نے ایک نظر اس کا جاٸزہ لیتے ہوۓ پوچھا
”جی میں جانتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔آپ ان سے کہیں نھار بات کرنا چاہتی ہے آپ سے۔۔۔۔۔۔“اس نے بے تابی سے کہا لڑکی نے عجیب سی نظروں سے اسے دیکھا پھر نظر انداز کر کے دوسری طرف متوجہ ہوگٸ نھار اسے دیکھ کے رہ گٸ ۔۔۔
”میم روم نمبر 82 میں تو کوٸی نہیں ہے۔۔۔۔۔“اس لڑکے نے اطلاع دی پھر پلٹ گیا۔۔۔۔۔
”میم روم نمبر 82 میرا کمرہ ہے۔۔۔۔۔“اس نے ہاتھ میں پکڑا کاغذ اس کی طرف بڑھایا جس پہ 82 لکھا ہوا تھا اس لڑکی نے مسکرا کے رسیور نھار کی طرف بڑھایا جسے نھار نے تیزی سے پکڑ کے کان کے ساتھ لگا لیا۔۔۔۔۔۔ہیلو۔۔۔۔۔“اس نے کچھ ڈرتے ڈرتے کہا آصف یکدم سیدھا ہو کے بیٹھا ۔۔۔۔۔ہاں سنو۔۔۔۔۔وہ میں تیزی میں نکل آیا تم ہوٹل میں ہی رکو تمہارے لیے گاڑی بجھوا رہا ہوں وہی بے پرواہ سا لہجہ ۔۔۔۔۔جیسے وہ احسان کر رہا ہو۔۔۔۔اس نے نھار کی بات بھی نہیں سنی تھی بس اپنی سنا کے فون بند کر دیا تھا نھار کو اپنی تذلیل کا بری طرح احساس ہوا۔۔۔۔۔وہ تھکے ھوۓ قدم اٹھاتی وہی بینچ پہ بیٹھ گٸ شاید اسے اب اس سب کا عادی ہو جانا چاہیۓ ۔۔۔۔۔۔
@@@@@
کھڑکی کے پاس پڑی کرسی پہ وہ بے جان سا سر جھکا کے بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔اس کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ سامنے بیٹھے باپ کو نظر اٹھا کے بھی دیکھ سکے ایک لمحے میں سب برباد ہو گیا تھا یقین مان بھروسہ رشتہ ایک گھر۔۔۔۔۔۔اپنے بیٹے کی موت کا سن کے ایلاف کی ماں کی حالت اس قدر غیر تھی کہ انہیں نیند کا انجیکشن لگایا گیا تھا ۔۔۔۔۔ایلاف کی تلاش میں جگہ جگہ چھاپے مارے جارہے تھے لیکن۔۔۔۔۔ابھی تک کوٸی پیش رفت سامنے نہیں آٸی تھی۔۔۔۔انزق کا سارا سکون تہس نہس ہو کے رہ گیا تھا وہ عجیب سی اذیت میں گرفتار تھا ہر گزرتا لمحہ اس کے لیے سوہان روح تھا۔۔۔۔۔۔ابھی وہ اسی کیفیت میں بیٹھا تھا جب داخلی دروازہ دھیرے سے کھلا تھا کسی کے قدموں کی چاپ سناٸی دی تھی۔۔۔۔۔۔ایک طرف بیٹھے ارشد صاحب نے دھیرے سے گردن گھما کے دیکھا تھا پھر بے یقینی سے اس طرف دیکھا تھا۔۔۔۔۔نظریں وہی جم گٸ تھی ۔۔۔۔۔آواز کہیں خلق میں ہی اٹک گٸ تھی میکانکی انداز میں کھڑے ہوۓ تھے انزق نے بے اختیار ان کی نگاہوں کی سیدھ میں دیکھا پھر وہی جم گیا نظریں مجمند ہو گٸ اس کے لب کانپنے لگے تھے۔۔۔۔۔۔سامنے کھڑی شخصیت وہ تو نہیں تھی جسے وہ ہمیشہ سے جانتا تھا یہ چہرہ تو انجان تھا یہ بکھرے بال۔۔۔۔۔۔تو ان ریشمی لمبے سیاہ بالوں جیسے تو نہ تھے۔۔۔۔۔۔یہ چہرہ جس پہ جگہ جگہ نیل تھے یہ وہ چاند چہرہ تو نہ تھا یہ لب جو پھٹ چکے تھے خون ایک طرف جم گیا تھا یہ وہ لب نہیں تھے جنہیں وہ گلاب کی پنکھڑیوں سے تشبہہ دیتا تھا کپڑے جگہ جگہ سے پھٹ چکے تھے اس کا سر گھوم کے رہ گیا تھا اسے محسوس ہوا جیسے یہ چھت اس کے سر پہ آن گری ہے۔۔۔۔۔۔۔اس کی نظروں میں پہلے بے یقینی پھر اذیت ابھری ۔۔۔۔۔وہ کسی مردے کی طرح چلتی آرہی تھی۔۔۔۔۔۔۔اسے کچرے کے ڈھیر کے پاس نیم برہنہ حالت میں پھینک دیا گیا تھا۔۔ہسپتال میں جب اس کی حالت تھوڑی سنبھلی تھی تو اس نے درخواست کی تھی کہ فلحال وہ گھر جانا چاہتی ہے بیان وہ بعد میں ریکارڈ کرواۓ گی اس کی حالت کے پیش نظر پولیس نے اس کی بات مان لی تھی اور باحفاظت اسے گھر پہنچایا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔ضبط کرتے ہوۓ انزق دو قدم آگے بڑھا تھا۔۔۔۔ارشد صاحب وہی ڈھ گۓ تھے بیٹے کی موت سے بڑھ کر یہ منظر اذیت ناک تھا۔۔۔۔۔۔انزق کا دل اندر سے کٹ رہا تھا۔۔۔۔۔اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھی لیکن وہ ضبط کیے آگے بڑھا تھا۔۔۔۔۔ایلاف کو کندھوں سے پکڑ کے اس نے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔۔۔”ایلا۔۔۔۔۔۔۔“اس نے نرمی سے پکارا تھا ”کس نے کی تمہاری یہ حالت“اس نے نرمی سے استفسار کیا تھا لہجے میں دکھ ہلکورے لے رہا تھا ۔۔۔۔۔آنکھوں میں اذیت۔۔۔۔۔ایلاف نے دھیرے سے سر اٹھایا۔۔۔۔۔۔اس کی آنکھوں میں اجنبیت ابھری ساتھ ہی گردن تھوڑی موڑ کے پلنگ پہ بیٹھ کے اپنے بال نوچتے اس وجود ایک نظر ڈالی تو ایک لمحے کے لیے لرز گٸ انزق یہ دیکھ کے دھک رہ گیا۔۔۔۔۔۔اس نے دھیرے سے اس کے ہاتھ اپنے کندھوں سے ہٹاۓ وہ بے یقینی سے اسے دیکھ کے رہ گیا۔۔۔۔۔۔۔
”تمہاری وردی نے۔۔۔۔۔۔“اس نے اس کے سینے پہ ہاتھ رکھتے ہوۓ سرد لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔وہ سرخ چہرے کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔اس نے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے اسے اپنی سماعتوں پہ یقین نہ آیا ہو۔۔۔۔۔
”تم وردی والے ظالم ہوتے ہو۔۔۔۔۔“
اس بکھرے بالوں والی لڑکی نے اس وردی پہنے لڑکے کا گریبان پکڑ کے ہذیانی کیفیت میں کہا۔۔۔۔
اس نے دکھ سے اپنے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا جو دماغی طور پہ اسے ٹھیک نہیں لگ رہی تھی
اس کا لباس جگہ جگہ سے پھٹ چکا تھا۔۔۔۔۔اس کے چہرے پہ ناخنوں کے تھپڑوں کے نشان واضح تھے۔۔۔۔
اس بھوری آنکھوں والے لڑکے نے تکلیف سے آنکھیں بند کر لی
”نہیں آنکھیں مت بند کرو تم۔۔۔۔۔“آنکھیں کھول کے دیکھو میری بربادی تمہاری یہ وردی یہ سب کھا گٸ میرا سب کچھ کھا گٸ مجھے کنگال کر گٸ۔۔۔۔۔۔“
وہ اس کے سینے پہ مکے مار کے دھاڑے مار کے رونے لگی۔۔۔۔۔
وہ بھوری آنکھوں والا لڑکا خود کو اس وقت دنیا کا سب سے کمزور مرد سمجھ رہا تھا جو کچھ نہ بچا سکا۔۔۔۔۔
وہ اذیت کی انتہا پہ تھا۔۔۔۔لیکن وہ رو بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔
”میں سب ٹھیک کر دوں گا پلیز تم مت رو تمہارے یہ آنسو میرے دل پہ گرتے ہیں۔۔۔۔۔۔“
اس نے اس کے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں لیتے ہوۓ بہلانے کی کوشش کی
تو اس نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔۔۔۔۔
”کیا ٹھیک کر دوں گے تم ہاں۔۔۔۔۔“؟؟تمہارے کچھ ٹھیک کرنے سے۔۔۔۔۔۔میری لوٹی ہوٸی عزت واپس آجاۓ گی میرا بھاٸی واپس آجاۓ گا میری ماں جو اپنے بیٹے کی موت کا سن کے اپناذہنی توازن کھو بیٹھی ہے۔۔۔۔۔وہ ٹھیک ہو جاۓ گی “۔۔۔۔۔۔
اس نے پھولے ہوۓ سانس کے ساتھ تلخ لہجے میں استفسار کیا۔۔۔۔
وہ ہونٹ بھینچ کے رہ گیا۔۔۔۔۔۔
”تم یہ مان لو تمہاری وردی سب کچھ کھا گٸ میرا گھر میری خوشیاں میرے خواب۔۔۔۔۔اس نے کچھ نہیں چھوڑا میں نفرت کرتی ہوں تمہاری اس وردی سے تھوکتی ہوں۔۔۔۔۔“
اس نے بین کرتے ہوۓ اس کی وردی پہ تھوکا ۔۔۔۔۔
اس نے چہرہ پھیر لیا۔۔۔۔۔۔۔
”وہ اپنے سر کو ہاتھوں میں گراۓ اپنے بال نوچنے لگی۔۔۔۔۔۔
وہ چلتا چلتا اس کے قریب آیا۔۔۔۔۔
”تمہارے ساتھ جو ہوا بہت غلط ہوا میں تمہیں نہیں بچا پایا۔۔۔۔۔۔۔یہ میری کمزوری میری بدقسمتی ہے۔۔۔۔۔۔۔لیکن میں تم سے وعدہ کرتا ہوں جس نے بھی یہ سب کیا ہے اسے میں تمہارے قدموں میں لاٶں گا۔۔۔۔۔۔اور اگر میں ایسا نہ کر سکا تو یہ وردی تمہارے ہاتھوں میں دے دوں گا تم اپنے ہاتھوں سے اسے آگ لگا دینا۔۔۔۔۔۔“
اس نے اس کے قریب بیٹھ کے نرم مگر ٹھوس لہجے میں کہا۔۔۔۔۔۔
”یہ تو ہوا میرا انصاف۔۔۔۔۔۔۔“
اور تمہاری سزا۔۔۔۔۔“؟؟
اس نے سر اٹھایا تو اس کی آنکھوں میں عجیب سی تپش سرد مہری ۔۔۔۔۔نفرت پتہ نہیں کیا کیا تھا۔۔۔۔
اس کے دل کو کچھ ہوا
”جو تم تجویز کرو۔۔۔۔۔“
اس کی حالت کے پیش نظر۔۔۔۔۔۔وہ نرم لہجے میں بولا۔۔۔۔۔
”مجھے طلاق دے دو۔۔۔۔۔
اس نے اتنی آسانی سے یہ بات کہہ دی
لیکن اسے محسوس ہوا جیسے کسی نے خنجر اس کے سینے کے آرپار کر دیا ہو۔۔۔۔۔
اسے پہلی بار محسوس ہوا
اذیت کی انتہا کیا ہوتی ہے
وہ بے یقینی سے دو قدم پیچھے ہٹا پھر ہٹتا ہی چلا گیا وہ نفی میں سر ہلا رہا تھا اور وہ کسی پتھر کے مجسمے کی طرح کھڑی تھی ایک قیامت انزق کے وجود پہ گزری تھی جس نے اسے اندر تک ہلا کے رکھ دیا تھا اور دوسری قیامت وہ اس کے دل پہ گزارنا چاہتی تھی یہ کیسا مطالبہ تھا یہ کیسی سزا تھی جو وہ اسے دینا چاہتی تھی۔۔۔۔بے یقینی سی بے یقینی تھی۔۔۔۔تکلیف ہی تکلیف تھی وہ گردن موڑ کے یوں اجنی کھڑی تھی جیسے سامنے موجود شخص سے اس کا کوٸی تعلق ہی نہ ہو۔۔۔۔۔اور وہ اس سب میں اپنا قصور ڈھونڈنے لگا۔۔۔۔۔دل میں نفرت کا ایک ابال اٹھا جس میں انتقام کی آمیزش شامل تھی اسے اس شخص سے ۔۔۔۔۔۔۔انتقام لینا تھا ۔۔۔۔۔۔جس نے اس کی دنیا میں آگ لگاٸی تھی۔۔۔۔۔۔
@@@@@
وہ آندھی طوفان کی طرح دروازہ دھڑام سے کھول کے اس کے سر پہ پہنچا تھا۔۔۔۔۔ملک گڑبڑا کے کرسی سے اٹھا وہ اس افتاد پہ بوکھلا گیا سامنے کھڑا شخص کڑے تیوروں کے ساتھ اسے گھور رہا تھا۔۔۔۔۔۔آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے یہ آروی کی شدید غصے کی حالت تھی اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔۔۔۔اس نے فوراً سے خود کو سنبھالا۔۔۔۔۔۔کوٹ کے بٹن درست کرتا وہ آروی کے قریب آیا آروی ابھی تک ماتھے پہ بل ڈالے۔۔۔۔۔اسے گھور رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔“
”تم پہ بہت یقین کرتا تھا “اس نے مدہم آواز مگر سرد لہجے میں اسے کہا۔۔۔۔۔۔جواب میں ملک نے ایک ابرو طنزیہ اٹھا کے اسے دیکھا۔۔۔۔وہ لفظ تھا پہ اٹک کے رہ گیا تھا۔۔۔۔۔۔”میں نے کہاں تمہارا یقین توڑا ہے آروی۔۔۔۔۔۔“اس نے اس کی غصیلی آنکھوں میں جھانکتے ٹھنڈے لہجے میں اس سے سوال کیا تھا آروی کی پیشانی کے بل گہرے ہوۓ تھے۔۔۔۔۔۔”یقین نہیں توڑا گیم کھیلی ہے۔۔۔۔۔۔“اس نے دونوں ہاتھ ٹیبل پہ جماۓ اس کے بازوٶں کی رگیں باہر کی طرف ابھر گٸ۔۔۔۔۔اس نے ایک ایک لفظ پہ ذور دیا تو ملک نے کچھ سمجھتے ہوۓ سر ہلا دیا۔۔۔۔۔۔”مجھے یقین نہیں آرہا تم بھی سنی سناٸی باتوں پہ یقین کر لیتے ہو“تاسف سے کہتے ہوۓ اس نے افسوس سے یوں سر جھٹکا جیسے اسے بہت دکھ پہنچا ہو۔۔۔۔۔۔”یہ سنی سناٸی بات نہیں ہے۔۔۔۔۔۔“وہ پلٹ کر غرایا۔۔۔۔۔ملک نے ایک نظر اسے دیکھا۔۔۔۔۔۔”کیا تم نے اس لڑکی کی عزت نہیں لوٹی۔۔۔۔۔۔“؟؟وہ ایک لمحے کے لیے ہونٹ بھینچے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔۔”ہاں۔۔۔۔۔۔“اس نے سر اٹھا کے دلیری کا مظاہرہ کیا تھا۔۔۔۔۔۔آروی کی پیشانی عرق آلودہ ہوٸی تھی کنپٹی کی رگیں باہر کی طرف ابھری تھی آنکھوں سے شعلے برسنے لگے تھے۔۔۔۔۔۔
یہ کیا کر دیا تم نے ملک۔۔۔۔۔۔“؟؟
وہ دانت پیس کے دبا دبا سا غرایا۔۔۔۔۔۔۔
ملک جو سامنے سر جھکا کے کھڑا تھا اس نے دھیرے سے سر اٹھایا تھا۔۔۔۔۔
آنکھوں میں عجیب سی تپش تھی جیسے دھکتا ہوا انگارہ۔۔۔۔۔۔
”آر وی مجھے یہی ٹھیک لگا اس وقت۔۔۔۔۔۔۔“
اس نے سر اٹھا کے ڈھٹاٸی کا مظاہرہ کیا۔۔۔۔۔
آروی نے لال آنکھوں سے اسے دیکھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ قتل کر دے اس کا۔۔۔۔۔۔۔
”تم کب سے ٹھیک غلط کا فیصلہ کرنے لگے ہاں۔۔۔۔۔“
گریبان ہاتھ میں پکڑ کے اس نے ایک جھٹکے میں خود سے قریب کیا تھا۔۔۔۔۔۔
وہ بوکھلا گیا تھا۔۔۔۔۔۔
آروی کا غصہ اتنا ہی بھیانک ہوتا تھا وہ جانتا تھا۔۔۔۔۔۔
”آروی میری بات سنو۔۔۔۔۔“
اس نے مصلحتانہ رویہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔
”اگلے ہی لمحے ایک زوردار مکا اس کے چہرے پہ لگا
اس نے فوراً اپنے چہرے پہ ہاتھ رکھ کے بے یقینی سے آروی کو دیکھا تھا۔۔۔۔
جو اس وقت اپنے حواسوں میں نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
”لڑکی کو اغوا۶ کرنا تھا اس کی عزت نہیں لوٹنی تھی۔۔۔۔۔۔“
اس نے ایک ایک لفظ چبا کے ادا کر کے جیسے اسے باور کروایا تھا۔۔۔۔۔۔
”آروی تم یہ شاید بھول گۓ ہو کہ تمہاری ماں نے تمہاری ذمہ داری مجھے سونپی تھی۔۔۔۔۔۔“
کینہ طور نظروں سے اسے گھورتے اس نے بھی باور کروایا تھا۔۔۔۔۔
”تب ہی تم ذندہ سلامت میرے سامنے کھڑے ہو ورنہ میں تمہیں ذمین میں دفن کر چکا ہوتااس نے انگلی اٹھا کے ۔۔۔۔۔۔پتھریلے لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔۔“ساتھ ہی اس کا گریبان چھوڑ دیا
۔۔۔۔۔
ملک نے رک کے ۔۔۔۔۔۔زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا۔۔۔۔
”تمہیں کیا لگتا ہے تمہاری ماں تمہارے لیے ایک غلط انسان کا انتخاب کر کے گٸ ہے۔۔۔۔۔۔“
نارمل لہجے میں کہتے ہوۓ اس نے اس کی دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔
اس نے پلٹ کے ایک نظر ملک کو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔ملک کی نظروں میں عجیب سا خالی پن تھا۔۔۔۔۔
”اگر تمہیں یہ لگتا ہے تو ٹھیک ہے اپنے ہاتھ سے گولی مار دو مجھے۔۔۔۔۔۔اس نے پستول اس کی طرف بڑھایا تھا۔۔۔۔۔آروی کا غصہ تھوڑا مدہم پڑ گیا تھا۔۔۔۔۔۔اس دنیا میں اس کی ماں اس کے لیے کسی غلط آدمی کا انتخاب کیسے کر سکتی تھی۔۔۔۔۔“؟؟اگر تمہیں ایک دن بھی میری وفاداری پہ کوٸی شک ہوا ہو تو میں تمہیں اپنا قتل معاف کرتا ہوں تم اپنے ہاتھوں سے جان لے لو میری۔۔۔۔۔۔“وہ چلتا چلتا اس کے قریب آیا۔۔۔۔۔۔آروی نے پلٹنے کی زحمت نہیں کی تھی گرے پینٹ اوپر واٸٹ
شرٹ پہنے۔۔۔۔۔۔۔وہ اس وقت ہر چیز کو نظر انداز کیے کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔یوں جیسے اسے کچھ سناٸی ہی نہ دیا ہو۔۔۔۔۔۔۔”تمہاری ماں نے تم پہ بہت محنت کی ہے لیکن مجھے لگتا ہے وہ سب محنت ضاٸع ہو گٸ ہے ٹھہرے ہوۓ لہجے میں کہتے ہوۓ وہ اس پہ بہت کچھ جتا رہا تھا اس دفعہ اس نے تیزی سے گردن موڑی تھی آنکھوں میں کمزور سا تاثر ابھر کے معدوم ہو گیا تھا۔۔۔۔۔افسوس تمہاری ماں تمہیں وہ نہیں بنا پاٸی جو وہ تمہیں بنانا چاہتی تھی۔۔۔۔۔اس نے تاسف سے سر جھٹک دیا۔۔۔۔۔”افسوس تمہاری ماں ایک ناکام عورت تھی۔۔۔۔۔“اس کے گرد چکر کاٹتے افسوس سے کہتے ہوۓ وہ اسے تاٶ دلا رہا تھا اس نے خون آشام نظروں سے اسے دیکھا اور اگلے ہی لمحے اس پر جھپٹ پڑا ایک ہاتھ سے ملک کا گریبان پکڑ کے اس کو تھوڑا قریب کیا اور ہونٹ بھینچے اسے دیکھنے لگا اس کی آنکھوں میں سفاکیت واضح تھی۔۔۔۔۔مجھ میں اس قدر سفاکیت ہے کہ میں اسی لمحے تمہاری گردن کی رگ پہ ہاتھ رکھ کے تمہاری جان لے لوں۔۔۔۔۔اور تمہاری آنکھوں میں ٹوٹتی ذندگی کی امید بھی مجھے خاٸف نہیں کر سکے گی۔۔۔۔۔۔“اس نے اپنی سفاک نظریں اس پہ گاڑھتے ہوۓ ایک ایک لفظ پہ ذور دے کے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔وہ پرسکون سی مسکراہٹ چہرے پہ سجاۓ اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔میں اس قدر ظالم ہوں کہ ۔۔۔۔۔۔اپنے سامنے مرتے شخص کی جان تک نہیں بچاٶں گا۔۔۔۔۔۔اس نے اپنی بات جاری رکھی لیکن۔۔۔۔۔۔وہ ٹھہرا۔۔۔۔عورت کی آنکھ سے نکلا ایک بھی آنسو میں برداشت نہیں کر سکتا اس نے انگلی اٹھا کے ٹھہر ٹھہر کے کہا عورت کمزور ہوتی ہے۔۔۔۔۔اور مرد کو اللہ نے طاقت دی ہے اگر میں عورت سے مقابلہ کر رہا ہوں تو لعنت ہے میری مردانگی پہ مجھے ہاتھ میں چوڑیاں پہن لینی چاہیۓ “کیونکہ براۓ نام مردانگی تو ہر تیسرے مرد کے پاس ہے اور اصلی مرد بہت کم ہیں۔۔۔۔۔نفرت آمیز نظروں سے اسے گھورتے وہ تلخی سے بولا اور اگلے ہی لمحے اس کا گریبان چھوڑ دیا اور جاتے جاتے پلٹا۔۔۔۔۔اور میرا اعتبار جو توڑتے ہیں انہیں میں قتل نہیں کرتا بے دخل کر دیتا ہوں اور ملک۔۔۔۔۔وہ چلتا چلتا اس کے قریب آیا تمہیں میں مرد سمجھتا تھا پر نکلے تم بھی وہی نہ۔۔۔۔۔اس نے جملہ ادھورہ چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔۔”میرے بڑوں نے مجھے سکھایا تھا کہ جان دے دینا پر اپنے مالک کی عزت پر حرف نہ آنے دینا۔۔۔۔۔۔بہت ہی عام انداز میں کہتے اس نے چال کا پہلا پتا پھینکا تھا۔۔۔۔۔”آروی کے چلتے قدموں کو بریک لگا تھا۔۔۔۔۔اس نے پلٹنے کی زحمت نہیں کی تھی۔۔۔۔۔۔”میں عورت مرد کا اصول نہیں مانتا۔۔۔۔۔۔”ہمارے مطالبات نہیں مانے جارہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔“آروی تمہاری بات کو اہمیت نہیں دی جارہی تھی۔۔میں نے بارہ گھنٹے اس لڑکی کو ادھر رکھا ہاتھ تک نہ لگایا لیکن جب جرنل کی کال آٸی اور ہمیں بھٹکانے کے لیے جھوٹی پلینگ کی گٸ تو مجھ سے یہ تذلیل برداشت نہ ہو سکی۔۔۔۔۔دشمن کی بیوی کو وعدے کے مطابق ہم نے کوٸی نقصان نہیں پہنچایا تھا لیکن وہ مکاری کا مظاہرہ کر رہے تھے میں ڈیلنگ میں دھوکے کا قاٸل نہیں ہوں اور یہ میں نے تم سے سیکھا وہ چلتا چلتا اس کے قریب آیا لہجہ پست آواز مدہم تھی وہ ایموشنل بلیک میلنگ سے اس بت کو پاش پاش کرنا چاہ رہا تھا۔۔۔۔۔آروی کا اعتماد بھی دوبارہ جیتنا تھا جھوٹی سچی پلینگز کرنے میں ملک شروع سے ماہر تھا میں جانتا تھا اب اگر ہم دشمن کی بیوی کو یوں بھیج دیتے باوجود اس کے کہ۔۔۔۔۔ہمارے مطالبات نہیں مانے گۓ ۔۔۔ہمارے ساتھ مکاری کی گٸ دھوکہ کیا گیا۔۔۔۔۔تو تمہاری یہ دہشت یوں ختم ہو جاتی۔۔۔۔۔۔پھر مافیہ میں تمہیں نامرد کہا جاتا۔۔۔وہ سنجیدگی سے قدرے اونچی آواز میں اس کے گرد چکر کاٹتے ہوۓ کہتا جارہا تھا۔۔۔۔۔پھر کوٸی تمہارے نام سے تھر تھر نہ کانپتا بلکے تم ایک مذاق بن کے رہ جاتے۔۔۔۔ہم نے ان کی بات کا منہ توڑ جواب دیا ہے ہم نے کوٸی ذیادتی نہیں کی۔۔ہماری عورتوں کے ساتھ بھی برا ہوتا ہے یہ گلٹ نکال دو اپنے دل سے اور مت بھولو کہ انزق نے کیا کیا تھا۔۔۔۔۔اس نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے یاد دہانی کرواٸی تھی ایک اذیت ناک یاد ذہن کے پردوں پہ ابھری تھی اس کا اپنا بھی یوں ہی تڑپ تڑپ کے مر گیا تھا۔۔۔۔اس نے سر کو جھٹک دیا سر اٹھایا تو اب آنکھوں میں غصے کی جگہ نفرت تھی اس نے پلٹ کے ملک کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا اور باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔۔۔ملک نے مطمٸین سے انداز میں سگریٹ سلگا لیا اس کے چہرے پہ مکرو ہنسی تھی۔۔۔۔
”ہم جن پہ سب سے ذیادہ اعتبار کر رہے ہوتے ہیں اصل میں سب سے ذیادہ یہی لوگ ناقابل اعتبار ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔“
@@@@@@
وہ پورے کمرے میں یہاں سے وہاں چکر کاٹ رہا تھا۔۔۔۔شدید اضطرابی کیفیت اس کی چال سے چھلک رہی تھی۔۔۔۔۔آنکھیں غصے کی ذیادتی کے باعث خون رنگ ہو رہی تھی کنپٹی کی رگیں باہر کی طرف ابھری ہوٸی تھی سر میں درد کی شدید ٹیسیں اٹھ رہی تھی آنکھوں کے سامنے بار بار ۔۔۔۔ایلاف کی اجڑی ہوٸی حالت آرہی تھی اور اس کے بعد اس کا چین و سکون تہس نہس ہو کے رہ گیا تھا سینے کے اندر ایسی آگ لگی تھی جو ہر چیز کو بھسم کرنے کے لیے تیار تھی ۔۔۔۔وہ بار بار بے یقینی سے ایلاف کے طلاق کے مطالبے کے بارے میں سوچتا اور دوہری اذیت میں مبتلا ہو کے رہ جاتا۔۔۔یاد کے نہاں خانوں میں کوٸی عکس ابھر کے معدوم ہو رہا تھا۔۔۔۔کرسی پہ بیٹھے ایک شخص کی پیٹھ ۔۔۔۔اس کے کانوں سے دھواں نکلنے لگا چہرے پہ زہریلے تاثرات ابھرے اس سب کے پیچھے ایک ہی شخص تھا اور وہ تھا آروی۔۔۔۔۔انتقام کا پہلا شعلہ یوں بھڑکا تھا جیسے سب بھسم کر دے گا اس جنگ کا اختتام شاید موت تھی۔۔۔
@@@@
”یہاں بیٹھ جاٶ لڑکی۔۔۔۔۔“تاریک گلی سے گزرتے ہی آگے چھوٹی سی تنگ سی جگہ پہ اسے لے جاتے ہوۓ اسی ڈراٸیور نے حکم نامہ جاری کیا تھا جو اسے یہاں تک لایا تھا۔۔۔۔۔اس نے بامشکل سر اٹھا کے گھبراٸی ہوٸی نظروں سے اسے دیکھا پھر اپنی بات بیان کرنے کے لیے ہمت مجتمع کرنے لگی۔۔۔۔وہی ادھیڑ عمر ڈراٸیور جس نے مخصوص لباس پہن رکھا تھا پلٹنے لگا جب اس نے ہمت کرکے اسے پکار لیا۔۔۔۔وہ پلٹا پھر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا اس نے گردن جھکا لی ”مجھے آروی سے ملنا ہے مجھے یہاں نہیں رہنا وہ خود مجھے یہاں لاۓ ہیں“اس نے اپنے طور پہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ کے ساتھ اسے سمجھاتے ہوۓ پلٹ کے اس تاریک کوٹھڑی نما کمرے کو مایوسی سے دیکھا ۔۔۔ڈراٸیور تمسخرانہ ہنسا تھا ”بی بی آروی کو کیا تم نے کوٸی رکشہ ڈراٸیور سمجھ رکھا ہے جو جب جس کا دل چاھے اس سے مل لے۔۔۔۔۔“اس نے ہنستے ہوۓ نھار کا مذاق اڑایا نھار نے ناگواری سے اسے دیکھا ”وہ خود مجھے یہاں لاۓ ہیں“وہ ناگواری چھپاتے ہوۓ ماتھے پہ بل ڈال کے تیز لہجے میں بولی ”ڈراٸیور نے ستاٸشی نظروں سے اس چھوٹی لڑکی کو دیکھا وہ ہر لڑکی کو خود ہی لاتے ہیں۔۔۔۔۔اس دفعہ اس کا لہجہ سادہ تھا پھر جملہ ذو معنی تھا نھار کا چہرہ ایک لمحے کے لیے تاریک پڑ گیا۔۔۔۔۔آنکھوں کی جوت بجھ گٸ “اس اس نے آگے بولنے کا ارادہ ترک کر دیا اور چپ چاپ اس طرف پلٹ گٸ اسی لمحے کسی کا موباٸل بجا تھا اس نے نظر انداز کیا تھا وہ اس تاریک کمرے کی طرف بڑھ گٸ ۔۔۔۔۔جہاں ہر طرف مکڑی کے جالے تھے ذمین پہ ایک قالین بچھی ہوٸی تھی جس پہ بہت سی لڑکیاں بیٹھی ہوٸی تھی اوپر پنکھا۔۔۔فل اسپیڈ میں چلنے کے ساتھ ایسی عجیب و غریب آوازیں نکال رہا تھا ذرد روشنی میں اسے کمرے میں عجیب سی وحشت محسوس ہوٸی تھی ۔۔۔۔باہر سی آتی مدہم آواز نے اس کی سماعتوں کو اپنی طرف متوجہ کیا پھر وہ کوٸی اور آواز نہ سن سکی مارے صدمے کے وہ وہی جم گٸ تھی شناسہ آواز ڈراٸیور کی تھی وہ لڑکیوں کی تعداد بتا رہا تھا جنہیں صبح اسمگل کرنا تھا ”چودہ لڑکیاں“وہ لڑکیوں کی تعداد بتا رہا تھا وحشت ذدہ نظروں سے دیکھتے ہوۓ وہ دل ہی دل میں لڑکیاں گننے لگی تھی۔۔۔۔کمرے میں اسے چھوڑ کے صرف تیرہ لڑکیاں تھی ”تو چودھویں کون تھی۔۔۔۔“؟؟”یا خدا“ بے اختیار اس کی زبان سے نکلا ”آروی سے آج رات ملنا ضروری تھا مگر کیسے“؟؟یہ سوال کسی آسیب کی طرح اس کے گرد چکر کاٹنے لگا اس کے ساتھ ایک دفعہ پھر برا ہونے والا تھا ”ہمارے ساتھ سب کیوں اچھا نہیں ہو جاتا۔۔۔۔“؟؟
