Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shoq Zawal Episode 12

Shoq Zawal by Eman Khan

وہ ہاتھ میں تصویر پکڑے پتھر کی بت بنی کھڑی تھی نظریں برف کی طرح تصویر پر جمی تھی اس تصویر والی شفیق سی شخصیت کو وہ کیسے بھول سکتی تھی۔۔۔۔۔

وہ تو وہ شخص تھا جس نے اسے باپ بن کر پالا تھا۔۔۔۔لیکن سوال یہ تھا کہ اس شخص کا آصف سے کیا تعلق تھا

وہ بہت وقت بعد ایک ایسے نقطے پہ کھڑی تھی جہاں سے آگے راستہ ضرور تھا پر اندھیرے میں ڈوبا ہوا

اس کا دماغ ماٶف ہو چکا تھا

ماضی ایک فلم کی طرح اس کی آنکھوں کے سامنے چل رہا تھا۔۔۔۔۔

کہیں اسے تین بہن بھاٸی بیٹھ کے باتیں کرتے ہوۓ دیکھاٸی دے رہے تھے۔۔۔۔۔

کہیں لڑتے ہوۓ

کہیں مسکرا کے شرارتیں کرتے ہوۓ۔۔۔۔۔

اور آگے وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی آگے کی یادیں بہت تلخ تھی۔۔۔۔

خون میں ڈوبا اس کا بڑا بھاٸی۔۔۔۔۔“

اور اس کے قریب کھڑی چھوٹی دو تین سال کی بچی جس کی نظروں میں خوف تھا۔۔۔۔۔

اس کا چھوٹا بھاٸی اندر داخل ہونے والے بچے کو اپنی بے گناہی کا ثبوت دے رہا تھا۔۔۔۔اس بچے کو اس نے آج سے پہلے نہیں دیکھا تھا

اس وقت نھار کا دماغ اتنا چھوٹا تھا کہ وہ اس منظر کو سمجھ نہیں پارہی تھی۔۔۔۔

اس کے چھوٹے بھاٸی نے اس سہمی ہوٸی بچی کو اپنے ساتھ لپٹا لیا تھا۔۔۔۔۔

اس کے بڑے بھاٸی کو کسی نے قتل کر دیا تھا سب کو یہ لگتا تھا کہ اسے اس کے چھوٹے بھاٸی نے قتل کیا ہے

سواۓ اس چھوٹی نو عمر لڑکی کے جس نے قاتل کی پیٹھ دیکھی تھی۔۔۔۔۔۔

اس دن کے بعد سے اس نے اپنے بابا کو مسکراتے ہوۓ نہیں دیکھا تھا اپنی ماں اسے اکثر شرمندہ سی نظر آتی تھی

لیکن اس کے باپ کا رویہ اس کے بھاٸی سے بدلا نہیں تھا۔۔۔۔۔

وہ آج بھی اس کے بھاٸی کے سب اخراجات برداشت کرتے تھے وہ جو خواب انہوں نے ارحم کے حوالے سے دیکھے تھے اب وہ انزق سے پورے کرنا چاہتے تھے

بے شک نھار اور انزق ان کی سگی اولاد نہیں تھے لیکن نھار کو کبھی کبھی لگتا تھا کہ اس کے بابا ان سے اپنے سگے بچوں سے بھی ذیادہ محبت کرتے ہیں۔۔۔۔

اس کا اپنا باپ اس کے اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی جاچکا تھا اس کے بعد اس نے باپ کی صورت میں ایک ہی شخص کو دیکھا تھا

اس نے اپنی ماں سے سنا تھا۔۔۔۔۔کہ ان کے اپنے دو بیٹے ہیں ایک ارحم جو ان کے ساتھ رہتا تھا اور دوسرا بیٹا اپنی ماں کے ساتھ رہتا ہے ۔۔۔۔۔

اس نے گزرے اتنے سالوں میں آج تک نہ اس بچے کا نام سنا تھا نہ اس کا ذکر سواۓ اس دن کے جب وہ اپنے بھاٸی کی لاش دیکھنے آیا تھا۔۔۔۔۔لیکن اس وقت وہ اتنی چھوٹی تھی کہ اس کی شکل بھی اسے ٹھیک سے یاد نہیں تھی۔۔۔۔۔“

اس نے اپنی ماں سے سنا تھا کہ ان کا وہ بیٹا ان سے نہیں ملنا چاہتا وہ ان سے شدید نفرت کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے باپ کی موت پہ بھی نہیں آیا تھا

”آصف کا کیا تعلق ہو سکتا تھا۔۔۔۔“

وہ وہی کھڑی یہ سوچ رہی تھی اس کے ذہن میں جو باتیں آرہی تھی اگر وہ حقیقت تھی تو وہ ایک ایسے شخص کی سرپرستی میں تھی جو کہ اس سے اتنی شدید نفرت کرتا تھا کہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا اگر اسے یہ پتہ چل جاۓ کہ میں انزق کی بہن ہوں تو یہ اپنے ہاتھوں سے مجھے قتل کر دے ۔۔۔۔۔“

اسے سوچ کے ہی خوف آرہا تھا

اگر آصف احسن شاہ کا بیٹا ہے تو۔۔۔۔۔“

اس سے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی

اس کا درد سر سے پھٹ رہا تھا

”وہ اس وقت ایک ایسے شخص کے گھر میں موجود تھی جو اس کا نام بھی سننا نہ چاہے گا۔۔۔۔۔“

فلحال وہ یہ سب شک کی بنیاد پر سوچ رہی تھی

کچھ سوچ کر وہ اٹھی دوپٹہ سیٹ کیا تصویر کو واپس الماری میں رکھا اور خود کو نارمل کرتے ہوۓ سیڑھیاں اترتی نیچے کچن کی طرف گٸ ۔۔۔۔

جہاں وہی چاٸینز لڑکی سلاد کاٹ رہی تھی

اسے دیکھ کے دھیرے سے مسکراٸی

نھار بھی زبردستی مسکراتے ہوۓ اس طرف بڑھی

اور شیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کے کھڑی ہو گٸ۔۔۔۔

”کتنے وقت سے کام کر رہی ہو تم یہاں“؟؟؟

اس نے سرسری پوچھا۔۔۔۔۔

پچھلے پانچ سالوں سے“

صاف انگریزی میں جواب دیا گیا تھا

”اس سے پہلے میری ماں اور بابا میڈیم کے ساتھ کام کرتے تھے۔۔۔۔“

وہ پرجوش ہو کے ایسے بتا رہی تھی جیسے یہ بہت فخر کی بات ہے۔۔۔۔۔

”یعنی آصف صاحب کے بابا کے زمانے سے۔۔۔۔۔“؟؟

اس نے کچھ سمجھتے ہوۓ سر ہلا دیا

تو وہ لڑکی تعجب سے پیچھے پلٹی

”آصف صاحب کے بابا تو آصف صاحب کے ساتھ نہیں رہتے تھے۔۔۔۔“

اس نے اسے آگاہ کیا پھر گاجروں کو پلیٹ میں سجانے لگی۔۔۔۔

”وہ کدھر رہتے تھے“؟؟

اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔۔

”ماں نے بتایا تھا کہ انہوں نے دوسری شادی کر لی تھی اور آصف صاحب اور میڈم کو چھوڑ دیا تھا اس وقت آصف صاحب صرف پانچ سال کے تھے۔۔۔۔“

وہ اپنی ہی دھن میں بولی جارہی تھی

اور نھار کے چہرے کے تاثرات بدل رہے تھے اس کا شک حقیقت بن کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔۔

”آصف صاحب کے بابا تو آرمی آفیسر تھے ۔۔۔۔”میجر“

اس نے معلومات میں اضافہ کیا تو نھار کا شک حقیقت بن گیا۔۔۔۔۔

اور اپنے دوست کے شہید ہونے کے بعد۔۔۔۔“اپنے ہی دوست کی بیوی سے شادی کر لی۔۔۔۔۔“

وہ اب چاول دم سے اتار رہی تھی

اور کوٸی چیز نھار کے گلے میں پھندہ بن کے اٹک گٸ تھی۔۔۔۔”

”ملک صاحب کا آصف سے کیا رشتہ ہے“؟؟

اسے اپنی آواز کسی کھاٸی سے آتی ہوٸی محسوس ہوٸی۔۔۔۔

”ماں نے بتایا تھا مجھے کہ ملک صاحب آصف شاہ کے بابا کے دوست تھے اور ۔۔۔۔۔بعد میں جب ان پہ بغاوت کا الزام لگا تو ملک صاحب اور احسن صاحب کی دوستی ختم ہو گٸ تھی۔۔۔۔۔

”احسن صاحب۔۔۔۔۔“؟؟

اس کے لہجے سے کرب جھلکا۔۔۔۔۔

”جی میڈم “احسن صاحب “آصف شاہ کے بابا تھے“

اس نے پلٹ کے عجیب سی نظروں سے نھار کی طرف دیکھا

اس کا ردعمل تھوڑا عجیب لگا تھا اسے

وہ چاٸینیز لڑکی نھار کا دھواں دھواں ہوتا چہرہ دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

پھر وہ وہاں رکی نہیں تھی تیزی سے سیڑھیاں چڑھ گٸ تھی

اس لڑکی نے تیزی سے جیب میں رکھا موباٸل نکالا اب وہ کسی کا نمبر ڈاٸل کر رہی تھی۔۔۔۔

دور اس اونچے بنگلے میں دوسری منزل والے کمرے میں ناٸیٹ سوٹ پہنے وہ ٹیرس پہ کھڑا تھا

ہاتھ میں کافی کا کپ پکڑ رہا تھا

چہرا سپاٹ تھا

ہاتھ میں پکڑا موباٸل بج اٹھا اس نے ایک نظر اسکرین پہ چمکتا نمبر دیکھا۔۔۔۔

اس کے چہرے پہ مسکراہٹ پھیل گٸ ۔۔۔

وہ اسی چیز کی توقع کر رہا تھا۔۔۔۔

”کیا خبر ہے۔۔۔۔۔“؟؟

اس نے کال پک کر کے کپ لبوں کے ساتھ لگا لیا۔۔۔۔

”نھار میڈم میرے پاس آٸی تھی احسن شاہ کا پوچھ رہی تھی جیسے آپ نے کہا تھا میں نے سب کچھ ویسے ہی بتا دیا انھیں۔۔۔۔۔“

کچن میں کھڑی وہ لڑکی مدھم آواز میں بتا رہی تھی

ملک کے کافی کا کپ لبوں کی طرف لے جاتا ہاتھ ساکت ہوا۔۔۔۔

چہرے پہ سوچ کے ساۓ پھیلنے لگے ۔۔۔۔

آنکھوں میں چالاکی ابھری۔۔۔۔

”اچھا کیا“ آگے بھی نظر رکھنا۔۔۔۔

کہتے ہوۓ اس نے کال کاٹ دی۔۔۔۔

اب وہ بے چینی سے یہاں وہاں ٹہل رہا تھا۔۔۔۔۔

جب اس کے کمرے کا دروازہ کھول کے کوٸی اندر داخل ہوا۔۔۔۔

وہ آنے والی شخصیت کو جانتا تھا۔۔۔۔

”آگۓ تم۔۔۔۔۔پورے جہاں کی سیر و تفریح کر کے۔۔۔۔۔“

اس نے پلٹ بغیر۔۔۔۔۔برہمی سے کہا۔۔۔

اندر آنے والا شخص اب بیڈ پہ بیٹھا اب بوٹوں کے تسمے کھول رہا تھا۔۔۔۔

”میں صرف ایک ہفتے کی ٹرپ پہ گیا تھا بابا۔۔۔۔۔“

شاہان نے لاپرواہی سے کہا۔۔۔۔۔

”تم ٹرپس انجواۓ کر رہے ہو اور آصف کو یہ لگ رہا ہے کہ تم وہاں پڑھ رہے ہو۔۔۔۔“

وہ پلٹا پھر چلتے چلتے اس کے قریب آیا اور سرد مہری سے بولا۔۔۔۔۔

”آصف کا کیا ہے“؟؟وہ تو ہمیشہ سے آپ کے ہاتھوں بے وقوف بنتا آیا ہے۔۔۔۔۔“

اس گھگھنریالے بالوں والے لڑکے نے کندھے اچکا دیۓ۔۔۔۔

”میری باپ سنو شاہان۔۔۔۔۔“

وہ سنجیدگی سے اس کے قریب بیٹھا۔۔۔۔

”تمہیں کیوں لگتا ہے کہ آصف بے وقوف ہے“وہ بے وقوف نہیں ہے۔۔۔۔“

”آصف کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو۔۔۔۔صرف اپنوں کے ہاتھوں ہی مار کھاتے ہیں انہیں کوٸی شکست نہیں دے سکتا لیکن وہ صرف اپنوں کے ہاتھوں شکست کھا جاتے ہیں۔۔۔۔“

وہ بہت رازداری اور سنجیدگی سے اپنے بیٹے کو سمجھا رہا تھا۔۔۔۔

جو پوری توجہ سے اپنے باپ کو سن رہا تھا۔۔۔۔

”تمہیں کیا لگتا ہے وہ کچھ نہیں سمجھتا۔۔۔۔“وہ میری تمہاری ایک ایک حرکت سے واقف ہے“بس وہ خاموش رہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔“

کیوں کے اس کا ذہن جس چیز کی گواہی دیتا ہے اس کا دل اس چیز کو تسلیم نہیں کرتا۔۔۔۔

اور دل اور دماغ کی اس جنگ میں فاٸدہ ہمیشہ دشمن کا ہوتا ہے۔۔۔۔“

وہ نظریں اپنے بیٹے کے چہرے پہ جماۓ بول رہا تھا

باہر چڑیا کے چہچہانے کی آواز مسلسل آرہی تھی۔۔۔۔

”تمہاری بات یہاں تک ٹھیک ہے۔۔۔۔۔“کہ آصف میرے لیے خطرہ نہیں ہے“لیکن تب تک جب اس کے سوۓ ہوۓ جذبات کوٸی نہ جگا دے۔۔۔۔۔“

اس کے چہرے پہ نفرت ابھری۔۔۔۔۔

”میں ایک محاز پہ جنگ لڑ سکتا ہوں لیکن ایک ساتھ دو محاظوں پہ اکیلے نہیں لڑ سکوں گا۔۔۔۔۔“

”وہ ٹانگ برابر لڑکی ۔۔۔ضرورت سے ذیادہ خوشیار ہے۔۔۔۔۔۔“

اس کے چہرے پہ نفرت کے ساۓ گہرے ہوتے جارہے تھے۔۔۔۔۔

شاہان اس کا اشارہ سمجھ چکا تھا۔۔۔۔

”اس وقت سب سے ضروری بات یہ ہے کہ اس کا احسن شاہ سے کیا رشتہ ہے۔۔۔“؟؟وہ آج احسن کے متعلق کیوں پوچھ رہی تھی۔۔۔“؟؟

ملک کی چوڑی پیشانی پہ لکیریں ابھری۔۔۔۔

شاہان اب ناسمجھی سے باپ کی طرف دیکھ رہا تھا

پھر ملک اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔

”فلحال کے لیے شاہان جیسا میں تمہیں کہتا ہوں ویسا ہی کرو۔۔۔۔۔“اور اس ساری تقریر کا مقصد یہ تھا کہ تمہارا باپ اب بوڑھا ہو چکا ہے۔۔۔۔۔“اس کے باہر کے اتنے مساٸل ہوتے ہیں کہ وہ اب تمہیں مذید برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔“

اس نے اس کے چہرے کے تھوڑے قریب ہو کے اسے جھڑک ڈالا

وہ کھسیانہ ہوا۔۔۔۔۔

پھر ہاتھ جھلا کے اسے جانے کا اشارہ کیا

وہ اس ٹاٸم اتنے شدید ذہنی انتشار کا شکار تھا کہ اب وہ مذید اسے برداشت نہیں کر سکتا تھا

شاہان برا سا منہ بناتے ہوۓ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔

پھر اپنا سفری بیگ اٹھا کے کمرے سے باہر نکل گیا

اب اندر صرف ملک کھڑا تھا

نگاہیں کسی غیر مرٸی نقطے پہ مرکوز کیے۔۔۔۔

سمندر کا ٹھنڈا صاف پانی لہروں کی صورت میں کناروں سے ٹکراتا ہوا واپسی کا سفر طے کر رہا تھا سورج کی کرنیں اپنا سنہری عکس پانی پہ بکھیر رہی تھی۔۔۔۔

وہ گہرے نیلے رنگ کی گھنٹوں تک آتی لان کی قمیض نیچے سفید ٹراٶزر پہنے ۔۔۔۔۔افسردہ سی سمندر کے کنارے بیٹھی ہوٸی تھی سر گھنٹوں پر ٹکا رکھا تھا۔۔اور کھلے لمبے سیاہ ریشمی بال ایک طرف ٹانگوں کو چھوتے ہوۓ ذمین کو چھو رہے تھے۔۔۔۔۔ایک طرف دوپٹہ ذمین پہ پڑا تھا

یہ جگہ وادی کی نسبت کافی سنسان تھی اس لیے وہ کافی سکون سے بیٹھی ہوٸی تھی۔۔۔۔۔

دور اسلام آباد میں۔۔۔۔۔۔ملک پرسوچ نظروں سے اپنے سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھ رہا تھا

جو تابعداری سے ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔۔۔۔

”تمہیں جو سمجھایا ہے وہ تمہیں سمجھ آٸی ہے۔۔۔۔۔“؟؟

اس کا جاٸزہ لیتے ہوۓ ملک اپنی نشست سے اٹھا اور چلتے چلتے وہاں ٹیبل پہ پڑی بوتل کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔

”یس سر۔۔۔۔۔“

اس نے سر کو تھوڑا خم کر کے تابعداری سے کہا

ایک طرف بیٹھے شاہان نے غیر دلچسپی سے یہ منظر دیکھا۔۔۔۔۔۔

”ٹھیک ہے کل میں تمہیں بتا دوں گا کہ کس وقت جانا ہے۔۔۔۔۔“

بوتل سے گاڑھا مایا گلاس میں انڈھیلتے اس نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔۔۔۔

”اب کیا کرنے والے ہیں آپ ڈیڈ۔۔۔“؟؟

شاہان نے متجسس لہجے میں پوچھا۔۔۔۔

وہ گلاس ہاتھ میں پکڑتے پیچھے مڑا ۔۔۔۔۔

”بہت سے مساٸل سے ایک ساتھ جان چھڑانے لگا ہوں۔۔۔۔۔

اس نے شاطر مسکراہٹ کے ساتھ کہا

”اس کے ساتھ ملحقہ کمرے میں جاٶ تو آصف اپنے سامنے کافی ذیادہ کاغذ بکھراۓ بیٹھا تھا۔۔۔۔“

آنکھوں میں تجسس تھا

سادہ سے ناٸیٹ سوٹ میں وہ کافی الجھا الجھا اور تھکا ہوا لگ رہا تھا۔۔۔۔۔

ایک کے بعد ایک کاغذ وہ تیزی سے دیکھتا اور پھر دوسرا

لیکن اس کی کھوج ختم نہیں ہو رہی تھی

”دور مارگلہ کے نزدیک اس بنگلے کی تیسری منزل پہ چلے جاٶ تو نھار کی کمرے کی حالت ابتر تھی ۔۔۔۔

وہ بے بی پنک کلر کی گھٹنوں تک آتی شرٹ نیچے جینز کی بلیک پینٹ پہنے الماریوں میں کچھ کھوج رہی تھی۔۔۔۔

بالوں کو اونچے پونی بنا کر باندھ رکھا تھا چہرا سپاٹ تھا۔۔۔۔۔

”ان الماریوں میں اسے کچھ پرانے کاغذات کچھ غیر ضروری سی تصویر کچھ آرٹ کلیکشنز کے سوا کچھ بھی اسے نہیں ملا تھا۔۔۔۔۔

آصف نے وہی بیٹھ کے دماغ پہ ذور دینے کی کوشش کی۔۔۔۔

لیکن اس کے دماغ میں کچھ نہیں آرہا تھا

اگر وہ کاغذ یہاں نہیں تھے تو پھر کہاں تھے۔۔۔۔“؟؟

نھار بھی تھک ہار کے وہی بیٹھ گٸ۔۔۔۔

جب اچانک اس کی نظر ایک لاک شدہ دراز پہ پڑی جو کے کپڑوں کے پیچھے چھپ گیا تھا

وہ پھر سے اٹھی باری باری ہر ایک چابی سے اسے کھولنے کی کوشش کرنے لگی

لیکن اسے کوٸی فاٸدہ نہیں ہوا تھا

آصف کے دماغ میں ایک جھماکا سا ہوا تھا پھر اسے سب یاد آنے لگا

ایک بھی لمحہ ضاٸع کیے بغیر وہ ٹیبل پہ پڑی اپنی گاڑی کی چابیاں اٹھا کے باہر نکل گیا

اس کے ذہن میں آچکا تھا کہ کاغذ کہاں تھے۔۔۔۔؟