Shoq Zawal by Eman Khan NovelR50404 Shoq Zawal Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Shoq Zawal Episode 5
Shoq Zawal by Eman Khan
سیاہ کالے اندھیرے نے جہاں ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا تھا وہی یہ بڑا سا محل جگمگا اٹھا تھا۔۔۔۔ملازموں کی دوڑیں لگ گٸ تھی وہ چاک و چوبند سے میز پہ کھانا لگانے میں مصروف تھے۔۔۔۔۔سب نروس سے دیکھاٸی دیتے تھے اس کی ذات کا رعب ہی ایسا تھا۔۔۔۔مغرور لاپرواہ۔۔۔۔۔سفاک۔۔۔۔۔وہ ڈھیلی ڈھالی شرٹ نیچے ٹراٶزر پہنے رف سے حلیے میں دونوں ہاتھ ٹیل پہ جماۓ منتظر سا بیٹھا تھا چہرہ ہمیشہ کی طرح بے تاثر تھا ملک نے موباٸل پہ کچھ ٹاٸپ کرتے ہوۓ ایک اچنٹی نگاہ اس پہ ڈالی پھر موباٸل کی طرف متوجہ ہو گیا کھانا لگ چکا تھا بریانی کباب کی خوشبو ہر طرف پھیل گٸ تھی۔۔۔۔۔ملازمہ الرٹ سی پاس کھڑی تھی۔۔۔۔۔
”ملک وہ لڑکیوں کا کیا بنا۔۔۔۔“اسے جیسے کچھ یاد آیا تھا
نھار نے کھڑکی سے جھانک کے دیکھا تھا رات گہری ہو چکی تھی ذرد سا بلب اس تہہ خانے میں روشن تھا لڑکیاں اب سوچکی تھی لیکن نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی اسے اس مشکل سے نکلنے کا حل سوچنا تھا اسے اس رات میں کچھ نہ کچھ ایسا کرنا تھا کہ وہ آروی تک پہنچ جاۓ اس وقت وہ ایک واحد انسان تھا جو اس کی مدد کر سکتا تھا سوچ سوچ کے اس کا دماغ سن ہو گیا تھا لیکن وہ ہار ماننے والے لوگوں میں سے نہیں تھی۔۔۔۔۔
”ہاں وہ کل اسمگل ہو جاۓ گی۔۔۔۔۔“ملک نے موباٸل سے نظر اٹھا کے مصروف سے انداز میں کہا تھا پرانی لڑاٸی کا شاٸبہ تک نہ تھا سب کو لگتا تھا کہ ملک بھول جاتا ہے لیکن دراصل وہی یاد رکھتا تھا۔۔۔۔۔
”کتنی لڑکیاں ہیں۔۔۔۔۔“؟؟اس نے بریانی پلیٹ میں ڈالتے ہوۓ نظر اٹھا کے اسے دیکھا چہرے پہ سنجیدگی در آٸی ملک نے موباٸل ایک طرف سرکایا دونوں ہاتھ ٹیبل پہ جماۓ اس کی طرف متوجہ ہوگیا۔۔۔۔۔۔شاید تیرہ لڑکیاں ہیں۔۔۔۔۔“اس نے اپنے اندازے کے مطابق بتایا صحیح تعداد اسے معلوم نہیں تھی پھر کھانے کی طرف متوجہ ہو گیا وہ اس قدر مصروف ہو گیا تھا کہ نھار اس کے دل اور دماغ سے محو ہو گٸ تھی وہ یوں بھی اس لڑکی سے مطلب نہیں رکھنا چاہتا تھا وہ اسے بھیجنا چاہتا تھا یتیم خانے اس لیے اس نے ڈراٸیور سے کہا تھا کہ فلحال اسے کسی محفوظ مقام پر ٹھہراۓ ان معملات کو نبٹا کے وہ اس مسٸلے کے بارے میں سوچے گا۔۔۔۔۔۔ وہ اپنے طور پہ مطمٸین تھا۔۔۔۔۔
اس نے دھیرے سے سر اٹھایا دروازے پہ بیٹھا وہ چوکیدار اب اونگھ رہا تھا اس کے پاس دو راستے تھے یا وہ خود کو قسمت کے حوالے کر دے یا پھر خود کوشش کرے۔۔۔۔۔۔اس کے دماغ میں کسی کا جملہ گونجا تھا ”بزدل لوگ وہ ہوتے ہیں جو خود کو قسمت کے حوالے کر دیتے ہیں انسان کو اللہ نے کوشش کرنے والا بنایا ہے“اس کی دادی نے اسے نصیحت کی تھی ایک عزم کے ساتھ وہ اٹھ کھڑی ہوٸی تھی۔۔۔۔۔۔
”وہ ایک لڑکی لانے کے لیے میں نے کہا تھا فرید کو۔۔۔۔“آروی نے اس کی طرف دیکھے بغیر بریانی کا نوالہ منہ میں لیتے ہوۓ کہا ملک نے بے اختیار سر اٹھایا تھا وہ اس سوال کی توقع نہیں کر رہا تھا پھر اگلے ہی لمحے اس کے تاثرات نارمل ہوۓ تھے
”ہاں فرید نے مجھے سرسری بتایا تھا کہ لڑکی کو کسی محفوظ مقام پہ شفٹ کر دیا ہے اس نے ۔۔۔۔۔۔“اسے ٹالتے ہوۓ وہ یونہی گلاس میں پانی انڈھیلنے لگا آروی نے اس کی طرف دھیان نہیں دیا وہ اب کچھ سوچ رہا تھا۔۔۔۔
وہ دھیرے سے اٹھی ساٸیڈ سے گزرتی گیٹ تک گٸ دیکھا گیٹ باہر سے لاک تھا اس کی ہمت دم توڑ گٸ بے بسی سے وہ تھوڑی دیر وہی کھڑی رہی کچھ سوچ کے وہ کھڑکی تک گٸ کھڑکی جالی کی تھی باہر نکلنے کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ جالی کو کاٹ ڈالے ۔۔۔۔۔وہ اردگرد نظر دوڑا کے ہتھیاڑ ڈھونڈنی لگی اس کی آنکھیں چمکی تھی
”اس لڑکی کو خریدنے کی کوٸی خاص وجہ آروی۔۔۔۔“؟؟
وہ پلیٹ پیچھے سرکا کے اب ٹشو کے ساتھ ہاتھ صاف کر رہا تھا آروی کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوۓ اس نے سوال پوچھا تھا۔۔۔“
لمحے بھر کو آروی کے چلتے ہاتھ ساکت ہوۓ تھے نظر اٹھا کے ملک کو دیکھا تھا پھر اس کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھر گٸ تھی “
جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے تمہیں یہ نہیں بتایا کہ میں اس لڑکی کو خرید کے لایا ہوں “اس نے چمچ پلیٹ میں رکھ کے ہاتھ تھوڑی کے نیچے ٹکاۓ مطمٸین سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا تو ایک لمحے کے لیے ملک کا چہرہ سپاٹ ہوا تھا اگلے ہی لمحے اس کے چہرے پہ ازلی شاطر مسکراہٹ پھیل گٸ تھی۔۔۔۔۔۔
پاس ایک خالی کانچ کی بوتل پڑی تھی شاید وہ bear وغیرہ تھی اندھیرے میں اسے صاف دیکھاٸی نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔۔اس کو توڑنا ایک بڑا مسٸلہ تھا ۔۔۔۔۔وہ اس جگہ نٸ تھی وہ نہیں جانتی تھی کہ باقی لڑکیاں کیسی ہیں وہ پھر سے دماغ میں کچھ سوچنے لگی۔۔۔۔۔
”تمھیں پتہ ہے ملک ماہر دھوکے باز کے پاس کیا trick ہوتی ہے وہ اپنے دھوکے کو حادثہ بنا کے پیش کرتا ہے۔۔۔۔۔“وہ ابھی تک اسی پوزیشن میں بیٹھا سلگتی ہوٸی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
”وہ اپنے دھوکے بازی کی اس کھیل میں آخری وقت تک خود کو دھوکے باز تسلیم نہیں کرتا۔۔۔۔۔وہ اپنے مقابل انسان کو اس قدر الجھا دیتا ہے کہ مقابل آخری وقت تک اسے دھوکے باز تسلیم نہیں کرپاتا۔۔۔۔۔“
وہ ذرا قریب ہو کے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ چبھتے ہوۓ لہجے میں کہہ رہا تھا۔۔۔
کچھ سوچ کے وہ اٹھی بوتل کو سیدھا کر کے رکھا۔۔۔۔پھر دوبارہ اپنی جگہ پہ بیٹھی بالوں کو کھول کے یوں کیا جیسے وہ بکھرے ہوۓ ہیں جیسے وہ بہت گہری نیند سے جاگی ہو۔۔۔۔۔پھر وہ اٹھی اور سیدھی پڑی بوتل کو اس ذور سے پرے دھکیلا کہ بوتل سیدھی دیوار کے ساتھ جالگی اور پاش پاش ہو گٸ دو تین لڑکیوں نے سر اٹھا کے ناگواری سے اسے دیکھا تھا اس نے بظاہرحجالت بھری نظروں سے انہیں دیکھا اور سر جھکاۓ ساتھ بنے چھوٹے سے واش روم میں گھس گٸ لڑکیاں سر جھٹک کے دوبارہ سونے کے لیے لیٹ گٸ ان کی نظر میں یہ ایک حادثہ تھا ۔۔۔۔
“یہ میری نوکری کا حصہ ہے آروی کہ میں تمہارے ہر کام پہ نظر رکھوں تم جب بھی کچھ غلط کرو میں تمھیں روکوں ۔۔۔۔۔۔“تم مجھے اپنے بچوں کی طرح عزیز ہو “لڑکیوں کے معاملات سے نکل آٶ عورت مرد کو برباد کر کے رکھ دیتی ہے۔۔۔۔۔“لہجے کو ہموار کرتے ہوۓ اس نے سنجیدگی سے اسے سمجھایا وہ ابھی تک تاسف سے ملک کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔“
دس پندرہ منٹ واشروم میں گزارنے کے بعد جب اسے یقین ہوگیا کہ سب گہری نیند میں ہیں تو وہ دھیرے سے واشروم سے باہر نکلی ۔۔۔۔۔نیچے پڑی بوتل کے تیز سے ٹکڑے کو ہاتھ میں پکڑا اور محتاط سی نظروں سے اطراف کا جاٸزہ لیتے ہوۓ جالی پہ پہلا کٹ لگایا تو وہ ایک طرف سے تھوڑی سی اکھڑ گٸ
”مجھے لگتا ہے تم اب مجھ پہ پہلے جیسا یقین نہیں کرپاٶں گے آروی۔۔۔۔۔“سر جھکا کے ملک نے زخمی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔۔۔
”اگر ایسی بات ہوتی تو یوں میں تمہیں اپنے ساتھ ڈاٸیٹنگ ٹیبل پہ بٹھا کے کھانا نہ کھا رہا ہوتا ۔۔۔۔۔“اس نے بے نیازی سے کہتے ہوۓ پلیٹ پیچھے سرکا دی۔۔۔۔۔“
دوسرا کٹ لگتے ہی کھڑکی ایک طرف سے اکھڑ گٸ اس نے ایک پرسکون سانس ہوا کے سپرد کی اور کھڑکی پھلانگ کے باہر لان نما جگہ پہ آکھڑی ہوٸی۔۔
”تم مجھ پہ یقین کر سکتے ہو آروی میں تمہارے ساتھ کبھی کچھ برا نہیں ہونے دوں گا تم مجھے بہت عزیز ہو۔۔۔۔۔“وہ اس کا کندھا تھتھپاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔
آروی نے اس کو خود سے دور جاتے دیکھا تھا وہ بھی ایک ماہر دھوکے باز تھا الفاظوں کے ذریعے جذباتوں سے کھیلنے والا شخص وہ اب داخلی دروازہ کراس کر کے باہر نکل رہا تھا باہر وسیع لان بھی یوں ہی روشن تھا چمبیلی کے پھولوں کی خوشبو پھیلی ہوٸی تھی ۔۔۔۔اس نے ہاتھ میں پکڑے موباٸل پہ کچھ ٹاٸپ کیا۔۔۔اس لڑکی کا دھیان رکھنا وہ آروی تک نہیں پہنچنی چاہیۓ اسے کل ہی سری لنکا بھیج دو “تیزی سے میسج سینڈ کر کے وہ سکن کوٹ کے بٹن بند کرتا ہوۓ آگے بڑھ گیا اور اس ماہر دھوکے باز کا شکاری یوں ہی بیٹھا ابھی تک سوچ رہا تھا اور نھار اپنے لیے محفوظ ٹھکانہ سوچ رہی تھی اور آروی تک پہچنے کا طریقہ تھوڑے دور کرسی پہ اونگھتے ہوۓ سکیورٹی گارڈ کا موباٸل جگمگا اٹھا تھا اور رات یوں ہی پگھل رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
سنسان سوگوار سی شام دھیرے دھیرے اس وادی پہ اتر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔یہ چھوٹا سا لکڑیوں کا گھر اندھیرے میں ڈوب رہا تھا لکڑی کے دروازے کے پار صوفے پہ بیٹھے ارشد صاحب جو بے بسی سے اندر کمرے میں بیڈ پہ بے ہوش سی پڑی اپنی بیوی کو دیکھ رہے تھے ڈاکٹر ابھی ابھی انہیں نیند کا انجیکشن لگا کے گیا تھا ۔۔۔۔۔ان کی نظروں میں دکھ اور پریشانی واضح تھی ۔۔۔۔۔سڑھیاں چڑھ کے اوپر جاٶ تو وہ کچے سے چھت کے ایک کنارے پہ بیٹھی خالی خالی نظروں سے اندھیرے میں گم ہوتے پہاڑوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔چہرہ سپاٹ تھا پتھریلا سا۔۔۔۔۔۔دور میس میں وہ بے چین سا بیٹھا بار بار کوٸی نمبر ڈاٸل کر رہا تھا۔۔۔۔وردی میں ملبوس دونوں پاٶں سامنے ٹیبل پہ ٹکاۓ وہ مضطرب سا لگ رہا تھا ایلاف کا موباٸل ایک دفعہ پھر جگمگا اٹھا اس نے پلٹ کے دیکھنے کی زحمت نہیں کی تھی وہ کہیں اور کھوٸی ہوٸی تھی۔۔۔۔۔سادہ سے لان کی قمیض شلوار میں بال بکھرے ہوۓ تھے آنکھیں متورم اور سوجی ہوٸی تھی وہ بے جان سی بیٹھی تھی۔۔۔۔۔اسی لمحے موباٸل ایک دفعہ پھر بج اٹھا اس نے یونہی گردن موڑ کے موباٸل کو دیکھا انزق کا نام جگمگا رہا تھا اس نے ایک دفعہ پھر گردن دوسری طرف موڑ لی تھی انزق نے موباٸل کو غصے اور بے بسی سے گھورا تھا
دور اسلام آباد کے اس پرتعیش سے بنگلے پہ اتری رات بھی گہری ہو چکی تھی سڑھیوں سے اوپر آٶ تو بڑا سا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا دروازہ اندر سے بند تھا اے سی کی وجہ سے کمرے میں عجیب سی حبس تھی سگریٹ کی بو ہر طرف پھیلی ہوٸی تھی صوفے پہ وہ دونوں بازو پھیلاۓ وہ بیٹھا تھا چہرہ سپاٹ تھا سر پیچھے صوفے پہ گرا رکھا تھا اوپر چلتے پنکھے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
انزق سیدھا ہو کے بیٹھا ۔۔۔سر پہ کیپ پہن کے میس کا دروازہ کھول کے وہ باہر نکلا درمیان میں چھوٹی سی فٹ پاتھ نما جگہ سے گزرتے ہوۓ وہ سامنے بنی بلڈنگ کی طرف بڑھ رہا تھا باہر سے وہ شیشوں سے بنا ہوا چھوٹا سا کیون لگ رہا تھا لاٸٹس آن تھی وہ سنجیدگی سے اس طرف بڑھ رہا تھا بہت سے باوردی نوجوان الرٹ سے اسے سلیوٹ کرتے ہوۓ آگے بڑھ رہے تھے وہ محض سر کو تھوڑا خم دیتے ہوۓ اس طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔اس نے قریب پہنچ کے دروازے پہ کچھ نمبرز ڈاٸل کیے
۔۔۔پھر وہ سیدھا ہو کے بیٹھا ۔۔۔سر پہ کیپ پہن کے میس کا دروازہ کھول کے وہ باہر نکلا درمیان میں چھوٹی سی فٹ پاتھ نما جگہ سے گزرتے ہوۓ وہ سامنے بنی بلڈنگ کی طرف بڑھ رہا تھا باہر سے وہ شیشوں سے بنا ہوا چھوٹا سا کیون لگ رہا تھا لاٸٹس آن تھی وہ سنجیدگی سے اس طرف بڑھ رہا تھا بہت سے باوردی نوجوان الرٹ سے اسے سلیوٹ کرتے ہوۓ آگے بڑھ رہے تھے وہ محض سر کو تھوڑا خم دیتے ہوۓ اس طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔اس نے قریب پہنچ کے دروازے پہ کچھ نمبرز ڈاٸل کیے دروازہ فوراً کھلتا گیا اس کے اندر داخل ہوتے ہی دروازہ پھر بند ہو گیا۔۔۔۔۔اندر یہ کیون پوری طرح روشن تھا۔۔۔۔۔کرسیوں پہ بیٹھے الرٹ سے آفیسرز کے سامنے کمپیوٹر رکھے ہوۓ تھے جو اپنا کام کرنے میں مصروف تھے اسے دیکھ کے سب اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوۓ پھر ہاتھ کو ماتھے پہ لاجاکے سلیوٹ کیا اور دوبارہ اپنی اپنی نشستیں سنبھال لی وہ اپنے مطلوبہ کمپیوٹر کی طرف بڑھ گیا جہاں پہلے سے ایک درازقد خوش شکل لڑکا بیٹھا تھا وردی میں ملبوس بالوں کو جیل لگا کے سیٹ کر رکھا تھا انزق کو اپنی طرف آتا دیکھ کے وہ فوراً کھڑا ہوا سلیوٹ کرتے ہوۓ وہ دوبارہ کرسی پہ بیٹھ گیا اس نے سر کو ہلا دیا چہرے پہ ہنوز سنجیدگی تھی ۔۔۔۔۔
”کیا پتہ چلا۔۔۔۔“وہ تھوڑا سا اس کے کندھے کے قریب ہوا۔۔۔
”سر اس بندے کا نام آروی ہے“ایک فولڈر پہ کلک کرتے ہوۓ اس نے اطلاع دی تھی۔۔۔۔۔“
انزق نے چونک کے کمپیوٹر اسکرین سے نظریں ہٹاٸی تھی اسے یوں محسوس ہوا یہ نام وہ پہلے بھی کہیں سن چکا ہے۔۔۔۔۔
اس نے دماغ پہ ذور ڈالنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔
”مطلب اس کا نام ”آصف شاہ “ ہے۔۔۔۔۔“
”آصف کو یکدم کچھ یاد آیا تھا دو دن پہلے کا منظر اس کی آنکھوں میں چبھن سی ہونے لگی۔۔۔
ملک نے اسے جو فاٸل لا کے دی تھی وہ ہنوز ٹیبل پہ پڑی تھی وہ فریش ہو کے واش روم سے باہر نکلا تو نظر ٹیبل پہ رکھی فاٸل پہ پڑی تو وہی ٹھہر گیا اس پہ کپٹین انزق کی ساری انفارمیشن تھی یہ ایلاف کے اغوا۶ سے پہلے کی بات ہے اس نے فاٸل اٹھا کے ہاتھ میں لی تھی گیلے بال ماتھے پہ بکھرے تھے چہرہ بے تاثر تھا۔۔۔۔سامنے لگی پاسپور ساٸز تصویر پہ نظر پڑی تو نظریں وہی جم کے رہ گٸ چہرے پہ تکلیف بھرہ تاثر ابھرنے لگا۔۔۔۔وہ ہونٹ بھینچے اس کا اگلا پچھلا ریکارڈ دیکھ رہا تھا آنکھوں میں غصہ اور نفرت ابھرنے لگی۔۔۔اس نے فاٸل کو دیوار کے ساتھ پٹھ دیا اور وہی بیڈ پہ بیٹھ گیا۔۔۔وہ جس سے صرف اپنے مطالبات پورے کروانا چاہتا تھا لیکن یہ تو انزی تھا اس سے کچھ اگلے پچھلے حساب بھی پورے کروانے تھے اس کی آنکھوں میں تپش سی ابھری تب اس نے فیصلہ کرلیا تھا وہ انزق کو بھی ویسے ہی تڑپتا ہوا دیکھنا چاہتا تھا جیسے وہ خود تڑپتا تھا لیکن پھر بھی اس میں عورت سے انتقام کا کوٸی ارادہ نہیں تھا بساط پہ چال چلنے والا کوٸی اور تھا۔۔۔۔
دور اس نے ایک تصویر پہ کلک کرتے ہوۓ کہا تو اگلے ہی لمحے انزق کے دماغ میں کچھ کلک ہوا پھر اسے سب یاد آنے لگا۔۔۔۔۔۔سیاہ رات کرسی پہ پڑا ایک نیم مردہ وجود۔۔۔۔بہت سی تلخ یادیں۔۔۔۔یکدم منظر بدلنے لگا سارا کیون ایک سیاہ کمرے میں ڈوب گیا۔رکو آصف “ تم غلط سمجھ رہے ہو۔۔۔۔۔اس نے اس لڑکے کی ذرد پڑتی رنگت سے خاٸف ہوتے ہوۓ دونوں ہاتھ اٹھا کے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بے جان سی نظروں سے کرسی پہ پڑے اس نیم مردہ وجود کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔”تم غلط سمجھ رہے ہو آصف میں کسی کو قتل نہیں کر سکتا وہ میرے بھی بھاٸیوں جیسا ہے اس دبلے پتلے لڑکے نے خود کو سنبھالتے ہوۓ تیزی سے اپنے حق میں صفاٸی دی لیکن آصف اس طرف متوجہ نہیں تھا وہ بے یقینی دکھ افسوس سے اس نیم مردہ وجود کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔”تم ایک جھوٹے انسان ہو پہلے تم نے نےاور تمہاری ماں نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا اور اب تم نے میرے بھاٸی کو مار دیا۔۔۔۔وہ پیچھے مڑ کے دھاڑا اس کی آواز دکھ کے باعث پھٹ رہی تھی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی۔۔۔۔۔آصف کی آنکھوں میں ایسا کچھ تھا کہ وہ خاٸف ہونے لگا۔۔۔۔۔۔سیاہ تاریک رات غاٸب ہو گٸ تھی اب یہاں کوٸی مردہ وجود نہیں تھا ۔۔۔۔۔آصف کی غراہٹ بھی ختم ہو گٸ تھی لیکن اس کے ذہن میں بہت کچھ گونج رہا تھا آنکھوں کے سامنے بہت سے مناظر کسی فلم کی طرح چل رہا تھا۔۔۔۔۔”سر “ وہ بے خیالی میں ہی حمزہ کی طرف مڑ گیا ذہن کسی اور طرف الجھا ہوا تھا ”آپ مجھے ٹھیک نہیں لگ رہے ۔۔۔۔۔“اس نے اس کی اڑی اڑی رنگت کو دیکھتے ہوۓ فکرمندی سے کہا اور ساتھ ہی اپنی نشست چھوڑ دی گویا انزق کو بیٹھنے کا اشارہ کیا ہو ۔۔۔۔۔۔”میں ٹھیک ہوں“حمزہ کا کندھا تھتھپاتے ہوۓ اس نے تسلی دی تھی ورنہ اس کے دماغ میں ایک طوفان برپا ہو چکا تھا گزرتے وقت کی بہت سی یادیں ایک ساتھ اسے یاد آنے لگی تھی جیسے وقت کبھی گزرا ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔”ٹھیک ہے تم مذید معلومات اکھٹی کرو ”کون ہے “کدھر رہتا ہے سب کچھ“وہ خود کو نارمل پوز کرتے ہوۓ آگے بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔اس کیون سے باہر نکل کے اب وہ لمبی لمبی سانسیں لے رہا تھا۔۔۔۔۔۔باہر رات اب گہری ہو چکی تھی فٹ پاتھ پہ اکا دکا باوردی سپاہی دیکھاٸی دے رہے تھے وہ تیز قدموں سے آگے بڑھ رہا تھا ”ایک منظر یوں ہی دماغ کی اسکرین پہ ابھرا۔۔۔۔اور پھر ہر طرف دھندلاہٹ چھانے لگی۔۔۔۔۔
بھورے بالوں والے بچے نے سر اٹھا کے اپنے سر پہ چمکتے سورج کو دیکھا تھا اس کی تپش وہ برداشت نہیں کر پایا تھا فوراً سے ماتھے پہ ہاتھ رکھا تھا پھر دونوں ہاتھ گھٹنوں پہ رکھ کے وہ لمبے لمبے سانس لینے لگا تھا وہ نڈھال سا لگتا تھا سورج کی نرم سی کرنیں اطراف میں پھیلی تھی
کسی نے اس کی جھکی ہوٸی کمر پہ ہاتھ رکھا تھا اور ساتھ ہی تھوڑا جھکا تھا انزق نے گردن موڑ کے دیکھا تھا اس کا باپ مصنوعی خفکی چہرے پہ سجاۓ اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
”تم آج پھر مجھ سے ہار گۓ ہو۔۔۔۔۔۔“اس کے باپ نے اس کے سر پہ ہلکی سی چپت لگاٸی تھی۔۔۔۔۔۔“پھر سیدھے ہو کے کھڑے ہوۓ تھے بچہ بھی فورا سیدھا ہو کے کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
”میں آرام کرنے کے لیے کھڑا ہوا تھا بابا“وہ بھی جواباً خفکی سے منمنایا تھا تم جانتے ہو مقابلے کے دوران آرام کرنے کے لیے نہیں رکاجاتا اگر تم ایسا کرو گے تو تمہارا مقابل جیت جاۓ گا تم دوسرے کے صلاحیت سے تو واقف نہیں ہو ۔۔۔اس کے باپ نے گردن یہاں وہاں گھماتے ہوۓ اسے کہا۔۔۔۔۔
وہ بے زاریت سے اپنے باپ کو دیکھنے لگا۔۔۔۔جو اب ایک ہاتھ پاٶں کی طرف لے جاکے پاٶں پہ دباٶ ڈال کے سیدھا کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔پھر میٹھی سی مسکان چہرے پہ سجا کے اس کی طرف مڑا تھا جو ماتھے پہ بل ڈالے منہ پھلاۓ کھڑا تھا۔۔۔۔۔
”تمہیں ہارنا پسند نہیں ہے نا“اس کا باپ گھٹنوں کے بل اس کے قریب بیٹھا اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ پوچھ رہا تھا
”کسی کو بھی ہارنا پسند نہیں ہے بابا اور میں تو ہر دفعہ آپ سے ہار جاتا ہوں کیونکہ میں تھک جاتا ہوں “معصومیت سے کہتے ہوۓ اس نے سر جھکا لیا تھا۔۔۔۔
وہ اسے دیکھ کے دھیرے سے مسکراۓ تھے۔۔۔۔۔۔
”جانتے ہو ہارتا کون ہے“؟
اس کے باپ نے کھڑے ہوتے ہوۓ اس کی انگلی تھام لی تھی اور اسے ساتھ لے کے آگے بڑھے تھے۔۔۔۔۔
”وہ جو جیتنا نہیں چاہتا۔۔۔۔۔۔“اس کے باپ نے سنجیدگی سے کہا تھا پھر پلٹ کے دیکھا تھا اس نے بے اختیار سر اٹھایا تھا سورج کی کرنیں اس کی آنکھوں میں یوں چبھی تھی اس کے باپ کا چہرہ دھندلا ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
”اب تم کہو گے کون انسان جیتنا نہیں چاہے گا۔۔۔۔۔“؟؟اس کے باپ نے خود ہی اس کے ننھے دماغ کو اس الجھن سے نکالا۔۔۔۔۔۔۔
”میں تمہیں بتاتا ہوں تم ایک ریس کمپیٹیشن میں حصہ لو اس کے لیے ”کیا صرف اتنا کافی ہے کہ تم بھاگنا جانتیے ہو“؟؟اس کے باپ نے پلٹ کے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔۔۔”بچے نے فوراً سے سر ہاں میں ہلا دیا تھا۔۔۔۔
”اسی لیے تم ہار جاتے ہو۔۔۔۔۔“اس کے باپ نے برا مانتے ہوۓ اس کی جانب دیکھا بچہ تھوڑا مایوس ہوا تھا۔۔۔۔۔
”صرف یہ ضروری نہیں ہے کہ تم بھاگنا جانتے ہو اسکے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ تم یہ بھی دیکھو تمہارا مقابل کس طرح بھاگتا ہے اس کی کیا کوالٹیز ہیں جب تک تم اس کی کوالٹیز سے ناواقف رہو گے تم کبھی بھی اس سے نہیں جیت پاٶ گے “پھر ٹھہر کے خشمگین نظروں سے اسے گھورا تھا اس کی توجہ اس طرف نہیں تھی وہ گیٹ سے اندر داخل ہوتے بچے کی طرف متوجہ تھا دھوپ گہری ہو رہی تھی اور پارک سنسان۔۔۔۔۔“
”میں تمہیں بہت کام کی چیزیں سمجھا رہا ہوں انزی یہ پھر تمھیں کوٸی نہیں سمجھاۓ گا یہ پھر تمہیں ذندگی سیکھاۓ گی“اس کے باپ نے گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوۓ کہا تھا وہ تھوڑا شرمندہ ہوا تھا۔۔۔۔
سیکھنے سے ذیادہ سمجھنا آسان ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔“
”میری ایک بات یاد رکھنا۔۔۔۔۔“
”اگر تم کوٸی بھی مقابلہ جیتنا چاہتے ہو تو اپنے دشمن کو کبھی مت بھولنا اپنے مقابل سے واقف رہنا جس طرح تم اپنی کوالٹی سے واقف ہو ٹھیک اسی طرح اس کی کوالٹی سے بھی واقف رہنا۔۔۔۔۔جب تک تم یہ نہیں سمجھ سکو گے تمہارا مقابل کیسا ہے تم اس کے ساتھ کبھی مقابلہ نہیں کر پاٶ گے۔۔۔۔۔“انہوں نے ٹھہر ٹھہر کے اس کے اندر ایک ایک لفظ اتارا تھا لیکن ذندگی میں اتنے سالوں کے بعد اسے لگا تھا آج بھی وہ کسی اور طرف متوجہ تھا دھند ہٹی تھی ۔۔۔۔پارک کا منظر غاٸب ہوا تھا وہ حال میں لوٹ آیا تھا وہ تیز تیز چل رہا تھا وہ یہاں اکیلا تھا اس کا باپ اب اس کے ساتھ نہیں تھا ۔۔۔۔اس کے دل کی دھڑکن تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی اس کا تنفر تیز تھا بس وہ چلتا ہی جارہا تھا وہ میس سے کافی آگے نکل آیا تھا یہ شاید پارکنگ ایریا تھا۔۔۔۔۔اس سے کوتاہی ہوٸی تھی۔۔۔۔۔وہ پچھلے سات سالوں سے دھوکے میں تھا۔۔۔۔اس نے اپنے دشمن کو لاٸٹ لیا تھا گزشتہ سات سالوں میں اس نے ایک دفعہ بھی جاننے کی کوشش نہیں کی تھی کہ آصف کیسا ہے “؟؟کدھر ہے۔۔۔۔۔“ایک پتھر کے ساتھ وہ ٹکرایا تھا پر اگلے ہی لمحے اس نے خود کو سنبھال لیا تھا وہ وہی ایک کار کے ساتھ ٹیک لگا کے کھڑا ہو گیا تھا آسمان پہ چاند چمک رہا تھا۔۔۔۔۔اور وہ یہ سوچ رہا تھا کہ ایلاف کا مجرم ”آصف ہے یا وہ خود
”آصف نے دھیرے سے آنکھیں بند کر کے تکلیف دہ خیالات کو جھٹکنے کی کوشش کی پر بے سود دل پہ بوجھ سا آن گرا تھا۔۔۔۔
“ایلاف نے دھیرے سے سر اٹھا کے آسمان کو دیکھا چھت پوری طرح اندھیرے میں ڈوب چکا تھا آسمان پہ اکلوتا چاند تاروں کا سربراہ تھا وہ زخمی سا مسکراٸی پھر اٹھ کھڑی ہوٸی ”کوٸی کسی کا گارڈ نہیں ہوتا سب کو اپنی حفاظت خود کرنی پڑتی ہے وہ سوچتی ہوٸی آگے بڑھ گٸ پیچھے ۔۔۔۔۔۔چاند سوگوار سا یونہی چمک رہا تھا ستارے چاند کی آغوش میں افسردہ سے تھے اور رات نے گزرنا تھا سو وہ گزر رہی تھی
@@@@@@
قدیم طرز کے بنے ہوۓ اس کوٹھی نما گھر میں رات گہری ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔گھر جگمگا اٹھا تھا لیکن خاموشی اور ویرانی ہنوز تھی۔۔۔۔بڑے کمرے میں ایک طرف صوفے پہ بے نیاز سی بیٹھی بھورے بالوں والی عورت ۔۔۔۔جس کے بال کندھے تک آتے تھے بالوں کو جوڑے کی شکل میں باندھ رکھا تھا لال رنگ کی پاٶں کو چھوتی میکسی اٹھی ہوٸی گردن کے ساتھ چپکی ہوٸی مالا اور کانوں میں چمکتے اٸیر رنگز ۔۔۔۔۔ہلکے سے میک اپ میں وہ دبلی پتلی عورت ٹانگ پہ ٹانگ جماۓ بے نیاز سی بیٹھی تھی ٹیبل کے سامنے والے صوفے پہ بلیک تھری پیس سوٹ میں بالوں کو جیل کے ساتھ ایک طرف سیٹ کیے وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔
”اس نے میرے ساتھ برا کیا ہے۔۔۔۔۔“؟؟اس نے زہریلے لہجے میں کہا تھا آنکھوں میں تپش سی ابھری تھی وہ زہریلی ناگن جیسی لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔
“اس نے میرے ساتھ بھی برا کیا ہے۔۔۔۔“
اس نے تھوڑا آگے ہوتے ہوۓ دونوں کہنیاں گھٹنوں پہ جماتے ہوۓ ہاتھ باہم پھنساتے ہوۓ چبھتی ہوٸی نظروں سے اسے دیکھا تھا۔۔۔۔۔
“یوں تو وہ ہم دونوں کا دشمن ہوا نا۔۔۔۔۔“
اس نے اپنی لٹھ کو انگلی پہ لپیٹتے ہوۓ مبہم سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔۔۔۔۔
”نہیں مجرم“
اس نے سنجیدگی سے کہا تھا پھر پیچھےصوفے کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھ گیا تھا
”ہاں دشمن بھی اور مجرم بھی“
اس نے خود ہی اپنی بات کی درستگی کی تھی۔۔۔۔۔۔
”تم اب آگے کیا کرو گے۔۔۔۔“؟
کھوجتی ہوٸی نظروں سے اسے دیکھتے اس نے سادگی سے پوچھا۔۔۔۔
”میں ہر وہ کام کروں گا جس سے وہ برباد ہو جاۓ“
اس نے سلگتی ہوٸی نظروں سے سامنے بیٹھی عورت کو دیکھتے ہوۓ نفرت سے کہا۔۔۔۔۔
”گڈ یعنی تمہارا اور میرا مقصد ایک ہی ہے۔۔۔۔۔۔“
اس نے مسکراتے ہوۓ کھلے دل سے اسے سراہا تھا۔۔۔۔۔۔
”مجھے صرف ایک مہرے کی ضرورت ہے میڈم جویریہ جو صحیح معنوں میں اسے برباد کر دے۔۔۔۔۔“
وہ برفیلے تاثرات کے ساتھ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ سرد لہجے میں کہہ رہا تھا
وہ ایک لمحے کے لیے ٹھہر گٸ کچھ سوچا پھر مسکراٸی ازلی پرسکون سی مسکراہٹ۔۔۔۔
”اور ملک اگر وہ مہرہ میں تمہیں پیش کردوں تو ۔۔۔۔۔“
بات ادھوری چھوڑ کے منتظر سی نظروں سے اسے دیکھا وہ ناسمجھی سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
”ماں باپ کی سب سے بڑی شکست تب ہوتی ہے جب ان کی اولاد ان کے سامنے آکھڑی ہو۔۔۔۔۔یا ان سے نفرت کرے۔۔۔۔۔۔“
وہ نرم اور پرسکون لہجے میں بول رہی تھی اور وہ سن رہا تھا۔۔۔۔۔۔
”میں میجر احسن شاہ کے مقابلے میں آصف شاہ کو کھڑا کروں گی۔۔۔۔“
وہ ایک عزم سے بولی تو وہ دھنگ رہ گیا۔۔۔۔۔
”میڈم آپ کیا کرنا چاہتی ہیں۔۔۔۔۔“؟؟
اسے سامنے بیٹھی اس عورت کی دیوانگی سے خوف آیا تھا۔۔۔۔
”میں چاہتی ہوں کہ ”احسن اپنے بیٹے کی شکل دیکھنے کے لیے ترس جاۓ ”وہ بھی اسے طرح تڑپے جیسے میں اپنے ارحم کے لیے تڑپتی ہوں ۔۔۔۔گلا رندھ گیا آواز کپکپانے لگی آنکھوں میں تھوڑی چبھن ہوٸی لیکن۔۔۔۔۔اس نے اپنی بات جاری رکھی۔۔۔۔۔“
میں آصف کے دل میں اپنے باپ کے لیے اتنی نفرت بھر دوں گی کہ وہ اپنے باپ کی شکل بھی نہ دیکھنا چاہے گا۔۔۔۔۔۔میں اسے ایسا پتھر بنا دوں گی کہ وہ میجر احسن کے بت کو پاش پاش کردے گا وہ کسی زخمی ناگن کی طرح پھنکاری ملک بغور اس دیوانی عورت کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
”پھر چہرے پہ سوچ کے ساۓ پھیلنے لگے کچھ سوچ کے وہ مسکرایا۔۔۔۔۔
”میجر احسن کی سب سے بڑی ہار ہی آصف شاہ ہے اس بچے پہ اس نے بہت محنت کی ہے۔۔۔۔۔ہم احسن شاہ کو آصف شاہ سے مات دیں گے۔۔۔۔۔“وہ شاطرانہ ہنسی ہنسا جیسے اسے راستہ مل گیا ہو
”وہ بھی مطمٸین سے انداز میں مسکراٸی۔۔۔۔۔
”میں تم پہ بہت یقین کرتی ہوں ملک“میرا آصف مجھے بہت عزیز ہے میں کبھی نہیں چاہوں گی اس کے ساتھ کچھ غلط ہو۔۔۔۔۔“اس نے فکرمندی سے کہا۔۔۔۔
”میڈم آصف مجھے بھی بہت عزیز ہے آپ مجھ پہ یقین کرسکتی ہیں۔۔۔۔۔“
اس نے جویریہ کو تسلی دی اور ساتھ ہی کوٹ کے بٹن درست کرتا اٹھ کھڑا ہوا اسے راستہ مل گیا تھا اسے منزل تک پہنچنا تھا
”آصف شاہ اس کا مہرہ تھا
@@@@@
جہاں سیاہ اندھیرے نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لینے کا آغاز کیا تھا وہی وادی سوات کا یہ چھوٹا سا علاقہ مالم جبہ جگمگا اٹھا تھا لکڑی کے بنے گھروں کے اندر جلتی روشنیوں دور سے کسی قندیل کی طرح لگتی تھی ۔۔۔۔۔وادی کے پہاڑ پوری طرح سے اندھیرے کی لپیٹ میں تھے اور چھوٹی سی جھیل اندھیرے میں چمک رہی تھی نیلا پانی سیاہ سا لگتا تھا۔۔۔۔پتھروں سے بنی روش پہ وہ یوں ہی گم سم سی بیٹھی تھی مدہم روشنی میں اس کا چہرہ واضح نہیں تھا۔۔۔۔سیاہ دوپٹہ نیچے ذمین پہ پڑا تھا اور وہ سیاہ ہی لباس پہنے تھوڑی گھٹنوں پہ ٹکاۓ آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی لمبے سیاہ بال کمر پہ جھول رہے تھے وہ پچھلے دنوں سے بہتر لگتی تھی کوٸی دھیرے سے آواز پیدا کیے بنا اس کے پاس آکے بیٹھا تھا وہ آہٹ کے باوجود بھی جانتی تھی کہ بیٹھنے والا کون ہے اس نے گردن موڑ کے نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔
”آسمان پہ کیا کھوجتی ہو“؟؟جو چیز ذمین پہ کھو جاۓ وہ آسمان پہ نہیں ملتی۔۔۔۔۔“
اس نے اوپر آسمان پہ دیکھتے ہوۓ مایوسی سے کہا تھا۔۔۔۔
ایلاف ہنوز اسی پوزیشن میں بیٹھی ہوٸی تھی۔۔۔۔۔
”ماضی کے گلٹ سے نکل آٶ ایلاف خاموش رہنے سے کچھ بھی نہیں بدلے گا ۔۔۔۔حال کا سوچو میرے بارے میں خالہ اور خالو کے بارے میں سوچو۔۔۔۔۔۔“
اس نے نرمی سے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔۔
ایلاف نے گھٹنوں سے سر اٹھا کے اسے یوں دیکھا تھا جیسے وہ اس کا گناہگار ہو۔۔۔۔وہ نظر چرا گیا تھا۔۔۔۔
”تم کیا دیکھنے آۓ ہو ادھر“؟کہ تمہاری وجہ سے برباد ہوٸی لڑکی اب کیسی ہے۔۔۔۔۔۔“؟؟
اس کا لہجہ تھکا ہوا تھا پر آنکھوں میں تپش تھی انزق کو اپنا وجود جھلستا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔۔
”وہ کوٸی صفاٸی دینا چاہتا تھا لیکن اس نے ہاتھ اٹھا کے روک دیا۔۔۔۔
”انزق انسان حادثات کی ذد سے اتنی جلدی نہیں نکل پاتا اگر نکل بھی جاۓ تو دوبارہ پہلے جیسا نہیں ہو سکتا اب تمھیں یہاں ایلاف کبھی نہیں مل سکتی میں ایک ایسی لڑکی ہوں جس کا سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔۔۔۔۔“
وہ سلگتی نظروں سے اسے دیکھتے ہوۓ ختمی لہجے میں کہہ کے اٹھ کھڑی ہوٸی۔۔۔۔۔
”تم جانتی ہو تمہارے ساتھ یہ سب کرنے والا آصف تھا۔۔۔۔۔
اوپر چاند کو دیکھتے ہوۓ اس نے کھوۓ کھوۓ لہجے میں کہا
وہ نہیں پلٹی تھی نہ چونکی تھی بس وہ وہی کھڑی رہی تھی۔۔۔۔۔
”مجھے یہ مت بتاٶ میرے ساتھ یہ سب کرنے والا کون تھا میں اس شخص کو جانتی ہوں وہ کون تھا“؟؟وہ جو کوٸی بھی تھا وہ آصف نہیں تھا مجھے یہ بتاٶ میجر انزق مجھے بچانے کون آیا تھا۔۔۔۔۔“
اس نے وہی کھڑے کھڑے چبھتے ہوۓ لہجے میں کہا پھر وہ اندھیرے میں غاٸب ہوگٸ
اس نے اس لڑکی کو اندھیرے میں غاٸب ہوتے دیکھا جسے خود اس نے اندھیروں کے سپرد کیا تھا
تو اب تکلیف کیسی تھی۔۔۔۔۔“؟؟
