Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shoq Zawal Episode 6

Shoq Zawal by Eman Khan

صبح کی مدہم کرنیں ۔۔۔۔۔ذمین پہ اپنا عکس رفتہ رفتہ بکھیر رہی تھی موسم میں عجیب سی خنکی کا راج تھا۔۔۔۔۔وہ مین ڈور کراس کرتا تیزی سے اندر کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔تو دروازے پہ بیٹھا چوکیدار الرٹ سا اٹھ کھڑا ہوا وہ محض سر ہلا کے آگے بڑھ گیا۔۔۔۔وہ ٹی پنک کلر کی شرٹ اور نیچے ٹراٶزر پہنے لان میں سے چلتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔بال بکھرے ہوۓ تھے چہرہ ہنوز سپاٹ سا تھا۔۔۔آنکھیں البتہ سرخ تھی جیسے کچی نیند سے جاگا ہو۔۔۔۔۔۔وہ لکڑی کا بھاری دروازہ کراس کرتا اب زینے چڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔

نھار نے تھوڑا سا سر باہر نکال کے خوفزدہ نظروں سے اطراف کا جاٸزہ لیا۔۔۔۔۔کھڑکی میں سے روشنی چھن سے ایک لکیر کی صورت اندر آرہی تھی نھار کو اندازہ ھو گیا تھا کہ صبح ہو چکی ہے۔۔۔۔۔۔اس کے دل کو کچھ ڈھارس ملی۔۔۔۔۔وہ اب آروی تک پہنچنے کا راستہ سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔

ملک ابھی تک ریسٹ ہاٶس میں ہی کھڑا تھا ریلنگ پہ دونوں ہاتھ ٹکاۓ پرسوچ نظروں سے نیچے بنے چھوٹے سے سوومنگ پول کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔شب خوابی کے لباس میں وہ قدرے سست لگ رہا تھا۔۔۔۔۔

بنگلے کی پچھلی طرف۔۔۔۔۔۔چلے جاٶ تو وہ بڑی مونچھوں والا خوفناک سا مرد لڑکیاں گن کے گاڑی میں سوار کر رہا تھا۔۔۔۔۔

آر وی بھاری سا دروازہ دھکیل کے اندر داخل ہوا تو سگریٹ کی مخصوص بو نے اس کا استقبال کیا اسے یہ بو ناگوار گزری تھی اس سے پہلے کے وہ پلٹ کے چیختا اس کی نظر ایش ٹرے پہ پڑی جس پہ جلے ہوۓ سگریٹوں کا انبار تھا ۔۔۔۔۔اسے یاد آیا کل وہ اسی طرح کمرہ لاک کر کے چلا گیا تھا۔۔۔۔اور چابیاں اس کے پاس تھی ملازم صفاٸی کیسے کرتے۔۔۔۔۔وہ ایک ٹھنڈی آہ بھر کے واش روم میں گھس گیا۔۔۔۔

ٹھیک دس منٹ بعد وہ تازہ دم سا باہر نکلا تھا۔۔۔۔۔سفید رنگ کی بٹنز والی شرٹ نیچے گرے جینز کے ساتھ بالوں کو ایک طرف سیٹ کیے وہ فریش سا لگتا تھا۔۔۔۔۔۔وہ اپنا مخصوص پرفیوم خود پہ چھڑک کے کمرے سے باہر نکل گیا

نھار دبے قدموں فرنیچر کے پیچھے سے نکلی وہ رات کو سٹور روم میں گھس گٸ تھی سٹور روم میں ٹوٹے پھوٹے سامان اور مکڑی کے جالوں کے سوا کچھ نہیں تھا وہ آروی کے بنگلے کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی۔۔۔۔۔مایوسی سے کھڑی وہ ہونٹ کچلنے لگی۔۔۔۔۔۔۔

دور ریسٹ ہاٶس میں ملک اب سیڑھیاں اتر رہا تھا کالے رنگ کے تھری پیس سوٹ کے ساتھ میچنگ ٹاٸی پہنے وہ پرسکون سا لگتا تھا۔۔۔۔۔۔

بنگلے کی پچھلی طرف کھڑے اس شخص نے تیسری بار پھر لڑکیاں گنی تھی وہ الجھن ذدہ سا لگتا تھا

آروی اب چلتا چلتا بنگلے کے داٸیں طرف بڑھ رہا تھا بڑا سا بھورا گیٹ دھکیلتا وہ اندر داخل ہوا تو اندر کمپیوٹر پہ تیزی سے کام کرتے الرٹ سے سیاہ وردی میں ملبوس ورکرز اٹھ کھڑے ہوۓ اس نے ہاتھ جھلا کے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ فوراً سے اپنی نشستیں سنبھال کے کام میں مصروف ہو گۓ۔۔۔۔۔

نھار کو کوٸی دروازہ کھلنے کی آواز آٸی تھی پھر کسی کے قدموں کی اور پھر کچھ آوازیں سناٸی دی تھی یوں جیسے مکھیوں کی بھنبھناہٹ۔۔۔۔وہ سہم کے ایک ٹوٹی ہوٸیhh ٹیبل کے پیچھے چھپ گٸ۔۔۔۔۔

ملک کا رخ اب بنگلے کی پچھلی جانب تھا اس کی چال متوازن اور چہرہ پرسکون تھا۔۔۔۔۔

”امید ہے کل صبح تک یہ کام ختم ہو جاۓ گا۔۔۔۔۔“

ایک لیپ ٹاپ پہ تیزی سے انگلیاں چلاتے ہوۓ اس نے سنجیدگی مگر تحکم سے کہا تھا۔۔۔۔۔۔

سب نے ایک ساتھ سر ہلایا تھا۔۔۔۔۔

وہ اب ان سب کو ہدایات دے رہا تھا

شناسا آواز نھار کی سماعتوں سے ٹکراٸی تو وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی آواز کی سمت جانے لگی۔۔۔۔۔ذنگ آلودہ گیٹ کے سامنے جاکے وہ کھڑی ہو گٸ آواز اسی سمت سے آرہی تھی یعنی دوسری طرف کوٸی کمرہ تھا جہاں اس وقت آروی موجود تھا اس کی آنکھیں چمکی۔۔۔۔۔

اس کرخت چہرے والے شخص نے جھنجھلا کے کوٸی دسویں بار گنتی کی لیکن تعداد ہنوز وہی تھی۔۔۔۔

وہ پلٹا اور سکیورٹی گارڈ کی طرف مڑا۔۔۔۔

”لالا لڑکیاں بارہ ہے۔۔۔۔۔ایک لڑکی غاٸب ہے۔۔۔۔۔“

اس نے ختمی لہجے میں کہا جیسے اب وہ تھک گیا ہو۔۔۔۔۔۔

ساشا کے چہرے پہ تفتیش ابھری وہ خود اس طرف بڑھا جہاں گاڑی میں لڑکیاں سوار تھی۔۔۔۔۔

خدشہ درست ثابت ہوا تھا ایک لڑکی غاٸب تھی اس کی رنگت ذرد پڑنے لگی اپنے انجام کا سوچ کے ہی وہ کانپ گیا تھا۔۔۔۔۔

”مالک مجھے نہیں چھوڑے گا“میری موت یقینی ہے

اس نے گھٹے ہوۓ لہجے میں کہا۔۔۔۔۔

نھار نے دروازہ جیسے ہی دھکیلا وہ کھلتا چلا گیا۔۔۔۔۔کرسیوں پہ بیٹھے اہلکاروں نے ایک ساتھ گردن موڑ کے دیکھا اور پھر مکاینکی انداز میں اٹھ کھڑے ہوۓ اور بندوقیں اس طرف تان کے فاٸر کھول دیا۔۔۔۔

نھار کے لیے یہ ردعمل غیر متوقع تھا۔۔۔۔۔

ایک سیکنڈ میں پورا بنگلا گولیوں سے گونج اٹھا ملک کے چلتے قدموں کو بریک لگا اس نے پلٹ کے حیرت سے اس طرف دیکھا جس طرف سے آواز آرہی تھی اس کے قدم اب اس طرف اٹھ رہے تھے۔۔۔۔

ساشا بھی ایک لمحے کے لیے اپنی پریشانی بھول کے اس طرف متوجہ ہوا تھا۔۔۔۔

آروی بس سپاٹ چہرے کے ساتھ کھڑا تھا۔۔۔

گولیاں ایک سیدھ میں گزرتی شیشہ چیرتی ہوٸی آگے بڑھ گٸ نھار ایک طرف سہم کے پھٹی پھٹی نظروں سے یہ دیکھنے لگی۔۔۔۔۔

آروی کو یکدم کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا۔۔۔۔۔

“stop “

ٹرانس کی کیفیت میں کہتا وہ دو قدم آگے بڑھا۔۔۔۔

مدہم آواز شور میں دب گٸ۔۔۔۔

ریشمی آنچل ایک دفعہ پھر لہرایا۔۔۔۔۔۔

” i said stop she is a woman”

وہ پوری قوت سے دھاڑا۔۔۔۔۔

فاٸیرنگ کی رفتار پہلے مدہم ہوٸی۔۔۔۔۔۔پھر رک گٸ۔۔۔۔

”میں نے کہا رک جاٶ وہ لڑکی ہے کوٸی۔۔۔۔۔“

وہ ان کو گھورتا اس طرف بڑھنے لگا۔۔۔۔

ملک دروازہ کھول کے تیزی سے آگے بڑھا۔۔۔۔۔

”سب کچھ ٹھیک ہے آروی کدھر ہے۔۔۔۔۔،؟؟

اس کے چہرے پر تشویش اور لہجے سے پریشانی چھلک رہی تھی۔۔۔۔۔

”آروی محتاط سا آگے بڑھا اور پھر اس کے قدم وہی جم گۓ وہ حیرت سے بس اسے دیکھ کے رہ گیا جو ایک طرف دیوار کے ساتھ لگ کے کھڑی تھی چہرہ پسینے سے شرابور تھا کانپتے ہوۓ فق رنگت کے ساتھ وہ آر وی کو دیکھ رہی تھی آروی کے ابرو تعجب سے اکھٹے ہوۓ ”تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔“؟؟اس نے اگلے ہی لمحے خود کو سنبھال لیا تھا اس لیے ناسمجھی سے پوچھا تھا ملک دو قدم آگے آیا تھا پھر وہی برف کا مجسمہ بن گیا تھا۔۔۔۔۔اسے ایک لمحے کے لیے اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔

”تم یہاں تک کیسے پہنچی۔۔۔۔۔۔“؟؟

اس نے ایک نظر اس کپکپاتی ہوٸی لڑکی کا جاٸزہ لیا۔۔۔۔۔

”میں یہاں سے آپ کو چھوڑ کے کہیں نہیں جانا چاہتی۔۔۔۔۔“

کپکپاتی آواز میں کہتے ہوۓ وہ روہانسی ہوٸی۔۔۔۔۔

آروی نے پہلے ناسمجھی سے ملک کو پھر نھار کو دیکھا۔۔۔۔

”تم کہاں نہیں جانا چاہتی۔۔۔۔“؟؟

اس کی آنکھوں میں ہنوز ناسمجھی تھی۔۔۔

”ادھر آٶ آروی میں سمجھاتا ہوں تمہیں۔۔۔۔

”شیطان کے دماغ نے فوراً ترکیب سوچی تھی۔۔۔۔پھر چہرے کو نارمل کیا اور بہت محتاط لہجے میں کہتے ہوۓ آروی کو لے کے ایک طرف لے گیا۔۔۔۔۔نھار سہمی ہوٸی وہی کھڑی رہی۔۔۔۔

”آروی مجھے اطلاع ملی تھی کہ اس جگہ کو خطرہ ہے ۔۔۔۔ہم مذید اس لڑکی کو یہاں نہیں رکھ سکتے تھے لہازہ میں اسے کچھ دیر کے لیے کسی محفوظ ٹھکانے پہ شفٹ کر رہا تھا۔۔۔۔

رک کے آروی کے تنے ہوۓ تاثرات دیکھے پھر سمجھداری سے اپنی بات جاری رکھی۔۔۔۔

شاید وہ اس وجہ سے ڈر گٸ اور بھاگ کے یہاں آگٸ۔۔۔۔

بات ختم کر کے اس نے کندھے اچکا دیۓ۔۔۔۔جیسے اپنے تٸیں اس نے قصہ ختم کر دیا ہو۔۔۔۔۔

آروی آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔

”تو اس سارے معاملے میں تم نے مجھے اعتماد میں لینا ضروری نہیں سمجھا۔۔۔۔“

چبھتی ہوٸی نظروں سے اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھتے ہوۓ اس نے طنز کا مظاہرہ کیا۔۔۔۔۔۔۔

”تمہارے پاس اس لڑکی سے بڑھ کر بھی ضروری کام ہیں آروی۔۔۔۔۔“

ملک نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے اس کی آنکھوں میں جھانک کے کچھ تلاشنا چاہا۔۔۔۔

لہجہ نارمل مگر بہت کچھ جتانے والا تھا۔۔۔۔۔

”یہ لڑکی بھی میرے لیے غیر اہم نہیں ہے ملک میں اسے ادھر لے کے آیا ہوں اور یہ میری ذمہ داری ہے اور تم جانتے ہو کہ اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی نہیں کرتا میں۔۔۔۔“

اس نے چبا چبا کے الفاظ ادا کرتے ہوۓ ملک کا ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹایا ۔۔۔۔۔اور آگے بڑھ گیا۔۔۔۔

ملک تپش بھری نظروں سے اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔۔۔

”آروی کے الفاظ اس پہ بہت کچھ عیاں کر چکے تھے۔۔۔۔۔“

”آروی میں یہاں سے کہیں نہیں جانا چاہتی آپ مجھے یہی اپنے پاس رکھ لیں۔۔۔۔

کانپتی ہوٸی آواز میں کہتے ہوۓ وہ لڑکی سہمی ہوٸی لگتی تھی۔۔۔۔

ملک نے ناگواری سے اسے دیکھا تھا۔۔۔۔

”تم جانتی ہو تم کس سے بات کر رہی ہو ۔۔۔۔“

بڑی بڑی مونچھوں والے شخص نے کڑک دار آواز میں کہا تو آروی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا۔۔۔۔

“لڑکی تم یہاں نہیں رہ سکتی۔۔۔۔یہ جگہ تمہارے لیے محفوظ نہیں ہے۔۔۔۔“

آروی نے نرمی سے اسے سمجھایا۔۔۔

ملک کی گردن خود با خود اٹھ گٸ لب شاطر مسکراہٹ میں ڈھلے اور دلچسپی سے یہ منظر دیکھنے لگا

اس نے سوچ بھی کیسے لیا تھا کہ کل کی آٸی یہ لڑکی ملک کی جگہ لے لے گی۔۔۔۔۔

”وہ جگہ میرے لیے محفوظ نہیں ہے۔۔۔۔۔“میں ادھر آپ کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔“

اس نے اپنی بات پہ ذور دیتے ہوۓ اپنی بات دہراٸی۔۔۔۔رک کے ایک نظر اس شاطر شخص کو دیکھا جو فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔

”تم میرے ساتھ ادھر نہیں رہ سکتی۔۔۔۔۔“

اس نے ماتھے پہ بل ڈال کے دو ٹوک لہجے میں کہا۔۔۔۔

”رہ سکتی ہوں۔۔۔۔“

دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوۓ وہ دو قدم آگے آٸی۔۔۔۔

”آروی نے رک کا سوالیہ ایک ابرو اٹھایا۔۔۔۔۔

”اگر آپ مجھ سے شادی کر لیں تو۔۔۔۔“

”اٹھی گردن کے ساتھ اس نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوۓ مضبوط لہجہ اپنایا۔۔۔۔

جواب میں آروی کا قہقہہ بے اختیار تھا۔۔۔

ملک ششدر کھڑا آروی کو دیکھ رہا تھا آروی بہت کم ہنستا تھا ملک آروی کو آروی سے ذیادہ سمجھتا تھا وہ جن لوگوں کو خاص نہیں سمجھتا تھا ان کی باتوں کو لاپرواہی سے سنتا تھا ہنسنا تو دور کی بات۔۔۔

نھار ناسمجھی سے اس کے اس ردعمل کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

”کیا تمہیں واقعی ہی لگتا ہے میں تم سے شادی کر لوں گا۔۔۔۔۔“؟؟

اس کے لہجے میں طنز واضح تھا اور آنکھیں ذیادہ ہنسنے کے باعث لال ہو چکی تھی۔۔۔۔

”نہیں مجھے یہ یقین ہے کہ آپ مجھے بچا لیں گے۔۔۔۔۔“

اس نے اعتماد سے کہتے ہوۓ اس کی آنکھوں میں جھانکا۔۔۔

اس گفتگو میں ملک بیک پہ جارہا تھا وہ بچہ جو سانس بھی ملک کی مرضی سے لیتا تھا آج اس گفتگو میں اسے یکسر نظر انداز کر چکا تھا۔۔۔۔

”فلحال تم یہی رہو تمہارا فیصلہ میں بعد میں کروں گا۔۔۔۔۔“تمہیں ادھر میں اپنی ذمہ داری بنا کر لایا تھا اور آروی اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی نہیں کرتا۔۔۔۔۔“

ایک جتاتی ہوٸی نظر اس پہ ڈال کر وہ تیزی سے باہر نکل گیا۔۔۔۔

ملک تپش بھری نظروں سے نھار کو گھور رہا تھا کسی کی نظروں کا ارتکاز محسوس کر کے وہ ادھر پلٹی پھر چونک گٸ۔۔۔۔۔

ملک کے چہرے پہ نرم سی مسکراہٹ ابھری۔۔۔۔پھر چلتا چلتا اس کے قریب آیا۔۔۔۔

”تم کافی باہمت لڑکی ہو کافی متاثر ہوا میں تم سے۔۔۔۔“

اس نے ستاٸشی نظروں سے اسے دیکھا

نھار کے تنے ہوۓ اعصاب ڈھیلے پڑے۔۔۔۔وہ بامشکل مسکراٸی

”میں ملک ہوں آروی کے سب سے قریب ہوں مجھے تم اپنا دوست خیر خواہ کچھ بھی سمجھ سکتی ہو۔۔۔۔۔“

اس نے دونوں ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے مسکراتے چہرے کے ساتھ اسے کہا۔۔۔۔۔

”اچھا لگا آپ سے مل کے۔۔۔۔“

نھار نے تکلف سے کہا۔۔۔۔

مجھے بھی تم سے پہلی ملاقات کرکے بہت اچھا لگا پیاری لڑکی۔۔۔۔۔

اس نے لہجے میں مٹھاس سموتے ہوۓ کہا

وہ بس مسکرا دی

وہ ایک نظر اس پہ ڈال کے آروی کی پیروی میں باہر نکل گیا۔۔۔۔

نھار نے اداسی سے اسے جاتے دیکھا تھا

شام کا سرمٸ اندھیرہ اس چھوٹے سے لکڑیوں سے بنے گھر کے اطراف میں یوں پھیلا ہوا تھا کہ ۔۔۔۔۔یہ گھر کسی جگنو کی طرح چمک رہا تھا ۔۔۔۔گھر کے اندر کا منظر ہمیشہ کی طرح سوگوار سا تھا موٹ سا سناٹا یوں پھیلا تھا جیسے کسی کی موت پہ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔نیچے والے کمرے میں بکھرے بالوں والی وہ عورت دواٶں کے زیر اثر سو رہی تھی چہرہ ذرد اور نقاہت ذدہ سا لگتا تھا اور جسم پہ صرف ہڈیوں کا گمان ہوتا تھا ساتھ بیٹھے اس سفید داڑھی والے شخص کے چہرے پہ دنیا جہاں کی مایوسی تھی ان سب کی ذندگیاں جیسے رک گٸ تھی

کچن میں کھڑی وہ چولہا جلاۓ کھڑی غاٸب دماغی سے چولہے پہ جلتی ہوٸی آگ کو سخت برفیلی نظروں سے گھور رہی تھی ایسی ہی آگ اس کے دل میں بھی جل رہی تھی سرمٸ اندھیرہ اس کی آنکھوں کے سامنے چھانے لگا اور پھر دور حاضر کا منظر اس دھند میں غاٸب ہو گیا ایک پرانا منظر اس کے یاد کے پردوں پہ لہرانے لگا۔۔۔۔۔یہ موسم گرما کی ایک خوشگوار صبح تھی وہ تیزی سے ہاتھ چلاتے ہوۓ کچن سمیٹ رہی تھی چاۓ کی محسوس مہک پورے گھر میں پھیلی ہوٸی تھی وہ سادہ کالے رنگ کی قمیض شلوار پہنے ہوۓ تھی بالوں کا رف سا جوڑہ بناۓ وہ عجلت میں تیزی سے ہاتھ چلا رہی تھی چھوٹے کی چنگاڑتی ہوٸی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرا رہی تھی۔۔۔۔اسے غالباً سکول کے لیے تیار ہونا تھا۔۔۔۔اسی محسوس ہی نہیں ہوا کب وہ بغیر آہٹ کے اس کے پیچھے آکھڑا ہوا۔۔۔۔۔وہ جیسے ہی مڑی اس سے ٹکرا گٸ جھنپ کے چہرہ اٹھایا پھر دوسری طرف مڑ گٸ۔۔۔۔۔

”پہلی لڑکی دیکھی ہے جو اپنے شوہر سے بھی کتراتی ہے۔۔۔۔“

اس نے اس کی ناراض صورت دیکھ کے اس پہ چوٹ کی

جواب میں اس کو یکسر نظر انداز کرتے ہوۓ اس نے ایک کپ ذور سے شیلف پر پٹھا یہ اس کی ناراضگی کا انداز تھا۔۔۔۔

”ابھی بھی آنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔۔“

اس نے پھولے ہوۓ چہرے کو مذید جھکایا اور محض بڑبڑا کے رہ گٸ۔۔۔۔۔

”مجھے تو ضرورت تھی بھاٸی کون ظالم ہو جو اپنی اتنی خوبصورت بیوی کو چھوڑ کے بھول جاۓ“

وہ لہجے میں شوخی سموتے ہوۓ اس کے قریب آیا

چھوٹے کی چنگاڑتی آواز اب مدہم ہو چکی تھی یقیناً اماں اٹھ چکی تھی۔۔۔۔۔

اس نے خفکی سے چہرہ اٹھا کے اسے دیکھا وہ سادہ سی ٹراٶزڑ شرٹ اور بکھرے بالوں کے ساتھ محبت پاش نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا

”تمہیں میجر کی جگہ ۔۔۔۔شاعر ہونا چاہیۓ تھا۔۔۔۔۔“

وہ چاۓ کا پانی چولہے پہ چڑھاتے ہوۓ چڑ کر بولی جواب میں اس کا بھرپور قہقہہ اس کی سماعتوں سے ٹکرایا وہ پلٹ کے اسے گھور کے رہ گٸ۔۔۔۔۔

”یار ایلاف تم میری اس جاب سے اتنا جلتی کیوں ہوں۔۔۔۔۔“؟؟

ساٸیڈ شیلف پہ بیٹھ کے اب وہ فرصت سے اسے تپا رہا تھا۔۔۔۔۔

”میں تمہاری اس جاب سے اس لیے چڑتی ہوں کیونکہ یہ وہ واحد چیز ہے جو ہم دونوں کے درمیان آجاتی ہے کل میری ذندگی کا سب سے خاص دن تھا تم جانتے ہو وکالت میں داخلہ لینا میرے لیے کتنا اہم تھا اور کل جب میرا ٹیسٹ پاس ہوا اس وقت میں چاہتی تھی تم میرے پاس ہو ہم مل کر یہ خوشی سلیبریٹ کریں لیکن تم نہیں تھے نا چاہتے ہوۓ بھی وہ جذباتی ہو گٸ تھی۔۔۔۔وہ بس خاموش نظروں سے اسے دیکھ کے رہ گیا۔۔۔۔۔۔

”میں آج آ تو گیا ہوں تمہاری وجہ سے میں رات کو دو بجے ہی پہنچ گیا تھا۔۔۔۔“

اس نے آگے بڑھ کے اس کے دونوں ہاتھوں کو ہاتھ میں لیتے ہوۓ مدہم آواز میں صفاٸی دی۔۔۔۔۔۔“

”آج آنا اہمیت نہیں رکھتا مجھے کل تمہاری ضرورت تھی اور کل تم نہیں تھے اور یہ کوٸی نٸ بات نہیں ہے جب بھی مجھے تمہاری ضرورت ہوتی ہے تم نہیں ہوتے۔۔۔۔۔“

اس کی آنکھیں بلاوجہ بھیگنے لگی۔۔۔ ہاتھ چھڑوا کے اسے افسوس سے دیکھتے ہوۓ چاۓ میں پتی انڈھیلنے لگی۔۔۔

وہ گہری نظروں سے اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔۔۔

”تم میرے لیے بہت اہم ہو ایلاف۔۔۔۔۔“اس نے اب کی بار تھکے ہوۓ لہجے میں کہا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔۔۔۔۔جہاں سے خوبصورت وادی کی اونچی پہاڑیاں دیکھاٸی دے رہی تھی۔۔۔۔

اس نے چلتے ہاتھ رکے دل پگھلنے لگا ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوۓ وہ پیچھے پلٹی

وہ ہنوز کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا چہرے سے اداس سا لگتا تھا۔۔۔۔

”انزق سوری میں ذیادہ ہی بول گٸ۔۔۔۔۔“

اس نے شرمندگی سے کہا اور بلاوجہ ہی لب کاٹنے لگی۔۔۔۔

اس نے رخ موڑ کے اسے دیکھا۔۔۔۔۔

”کوٸی بات نہیں اب بیوی ہونے کا اتنا رعب تو جھاڑنا ہی ہوتا ہے تم نے۔۔۔۔۔“

شرارت سے کہتے ہوۓ اس نے کندھے اچکا دیۓ۔۔۔۔۔

وہ اسے گھورتے ہوۓ مسکرا دی۔۔۔۔۔۔

”یوں رعب جھاڑتی رہا کرو۔۔۔۔۔لیکن کبھی مجھے چھوڑ کے مت جانا ۔۔۔۔ایلاف ہے تو انزق ہے ایلاف نہیں ہو گی تو انزق بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔“

اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ پتہ نہیں اس نے التجا کی تھی یا درخواست۔۔۔۔۔یا مان سے کہا تھا یا پھر وہ کسی خوف کے زیر اثر تھا۔۔۔۔۔۔

جیسے مستقبل کا کوٸی خوف اسے اپنے حصار میں لا چکا تھا۔۔۔۔۔

پلک جھپکتے ہی جیسے وہ حال میں واپس لوٹ آٸی تھی جہاں وہ تن تنہا کھڑی تھی ۔۔۔۔۔کہیں بھی انزق نہیں تھا بس یہ تنہا ویران گھر تھا۔۔۔۔۔اس کا موباٸل بج رہا تھا سکرین پہ انزق کا نمبر جگمگا رہا تھا۔۔۔۔۔

کچھ سوچتے ہوۓ اس نے کال پک کی اور فون کان سے لگایا۔۔۔۔چہرہ سپاٹ تھا پر اس ایک یاد سے اس کی آنکھیں بھیگ چکی تھی

”ہیلو۔۔۔۔“

اپنے لہجے کو پختہ بناتے ہوۓ اس نے دونوں لبوں کو سختی سے آپس میں پیوست کرتے ہوۓ کہا۔۔۔۔۔۔

دوسری طرف بے ہنگم ٹریفک اور شور والا یہ مصروف سا شہر اس پرسکون شہر کی بانسبت اس وقت بھی روشن تھا گلاس ونڈو کے اس پار مخصوص وردی میں ملبوس ہلکی بڑھی شیو والا فکرمند سا انزق کھڑا تھا۔۔۔۔

”کیوں مجھے تڑپاتی ہو کیوں میری جان نکالتی ہو ایلاف۔۔۔۔مت لو میرے صبر کا امتحان ۔۔۔۔۔

کال پک ہوتے ہی وہ جذباتی انداز میں التجا کر رہا تھا۔۔۔۔۔

وہ تھوڑی دیر ضبط کیے کھڑی رہی یہ لہجہ اس کا دل چیر رہا تھا لیکن اس نے آج کمزور نہیں پڑنا تھا۔۔۔۔۔

”کل رات ہی تو تم واپس گۓ ہو۔۔۔۔۔“؟؟

اس نے لاپرواہی سے کہتے ہوۓ جلتا چولہا بند کر دیا۔۔۔۔۔۔

”کل رات کو گزرے ہوۓ بھی بہت وقت ہو چکا ہے ایلا۔۔۔۔۔“

اس نے تلخی سے کہا۔۔۔۔۔

”اس رات اس سے بھی ذیادہ وقت گزر چکا تھا۔۔۔۔۔۔میجر انزق تب آپ کو کیوں احساس نہ ہوا۔۔۔۔۔“

وہ زہر خند لہجے میں کہتے ہوۓ کچن سے باہر نکل گٸ کالے رنگ کی شال اب ذمین کے ساتھ ٹکرا رہی تھی اور وہ تیز تیز قدموں سے ذینے عبور کر رہی تھی۔۔۔۔۔

کچھ دیر وہ لب بھینچے یوں ہی کھڑا رہا۔۔۔۔

”ایلا کب تک ناراض رہو گی مجھ سے۔۔۔۔“؟

کرسی پہ بیٹھتے ہوۓ اس نے نرمی سے پوچھا۔۔۔۔

وہ تمسخر سے ہنسی۔۔۔۔۔

”ناراض تو اپنوں سے ہوا جاتا ہے میجر انزق۔۔۔۔۔“

دروازہ کھول کے اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ اس نے طنز سے کہا۔۔۔۔

”تو کیا میں تمہارا اپنا نہیں ہوں۔۔۔۔۔“؟؟

اس نے کسی امید کے تخت پوچھا۔۔۔۔۔۔

”میں نے ایک فیصلہ کیا ہے۔۔۔۔۔انزق۔۔۔۔“

اس نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوۓ کہا ساتھ ہی ساٸیڈ پہ رکھے صوفے پہ بیٹھ گٸ کمرے کی بتی اس نے نہیں جلاٸی تھی۔۔۔۔

وہ دم سادھے سن رہا تھا۔۔۔۔

”مجھے تم سے طلاق چاہیۓ۔۔۔۔۔“

سرد لاپرواہ لہجہ اس کی سماعتوں سے ٹکرایا تو وہ پتھر کا بت بن گیا

یا موم کا مجسمہ جو ٹھیس لگنے سے ٹوٹ جاۓ۔۔۔۔۔۔

کچھ سال پہلے

قدیم طرز پہ بنے اس بنگلے پہ یہ شام پرسرار سی اتری تھی بنگلے میں ہنوز خاموشی تھی یہ خاموشی اس بنگلے کا حصہ تھی۔۔۔۔۔اور پرسراریت اس بنگلے کا خاصہ مدہم بتیاں روشن تھی بڑے ہال میں بھی مدہم سی بتیاں جل رہی تھی اور ساٸیڈ پہ پڑے صوفے پہ وہ مطمٸین سی بیٹھی تھی سادہ سی چمکیلی ناٸٹی بالوں کی رف سی پونی بنا رکھی تھی چہرے سے وہ تھکی تھکی لگتی تھی جیسے کسی پارٹی یا فنکشن سے واپس آٸی ہو۔۔۔۔۔

”آصف۔۔۔۔۔“

اس نے دھیرے سے آواز لگاٸی۔۔۔۔

صوفے کے پیچھے سے نکل آٶ۔۔۔۔۔

تحکم بھرے لہجے میں کہتے ہوۓ اس نے رخ پھیر کے اس طرف دیکھا۔۔۔۔۔

آصف کا نیم رخ ظاہر ہوا پھر وہ پنجوں کے بل باہر نکل آیا۔۔۔۔

وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔

”تم یہاں کیوں چھپ جاتے ہو۔۔۔۔۔“؟؟

انگلیوں پہ نیل پینٹ لگاتے ہوۓ اس نے سہمے ہوۓ پانچ چھ سال کے بچے سے پوچھا۔۔۔۔۔جو اس وقت سادہ سی پینٹ شرٹ پہنے ڈرا ہوا لگتا تھا۔۔۔۔۔۔

”مجھے بابا کے بغیر خوف آتا ہے ماما۔۔۔۔۔“

اس چھوٹے بچے نے ڈرتے ہوۓ کہا تھا پھر سر جھکا دیا

”تو کیا تم بھی اس کے پاس جانا چاہتے ہو“؟؟

اس کی ماں نے نیل پینٹ ایک طرف رکھتے ہوۓ کہا اب پوری توجہ سے وہ اس طرف متوجہ تھی

اس بچے نے دھیرے سے سر اٹھایا

کسی امید کے تحت اس کی آنکھیں چمکی۔۔۔۔

”جی۔۔۔۔“

کچھ ڈرتے کچھ ہچکچاتے ہوۓ اس نے کہا

اس کی ماں نے چونک کے اسے دیکھا پھر اس کے تاثرات بگڑے۔۔۔۔چہرے پہ سختی در آٸی

جھٹ سے اس کا بازو دبوچا۔۔۔۔۔۔

وہ مذید سہم گیا۔۔۔۔

”تم بھی مجھے چھوڑ کے جانا چاہتے ہو۔۔۔۔۔“

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ غراٸی۔۔۔۔۔

وہ سہمی ہوٸی نظروں سے اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔۔

”تمہیں کس بات سے خوف آتا ہے ہاں تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہاری حفاظت نہیں کر سکتی میں تم پہ ظلم کرتی ہوں۔۔۔۔۔“

وہ ہذیانی کیفیت میں چلاٸی

”سن لو ایک بات تم مجھے چھوڑ کے اپنے باپ کے پاس نہیں جاسکتے۔۔۔۔۔۔“

اگر تم نے ایسا سوچا بھی تو میں ۔۔۔۔۔۔

اس نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں دبوچا۔۔۔۔۔۔

ساٸیڈ پہ پڑی فوڈ باسکٹ سے چھری نکالی۔۔۔۔۔۔

خوف اس چھوٹے بچے کی آنکھوں سے چھلک رہا تھا۔۔۔۔۔۔

اور اس عورت کی آنکھوں سے وحشت۔۔۔۔۔

”تو میں تمہاری جان لے لوں گی چاقو کی نوق اس بچے کے گال میں پیوست کرتے ہوۓ اس نے کہا تو اس کے منہ سے ایک گھٹی گھٹی چیخ نکلی۔۔۔۔۔۔خون کی ایک پتلی سی لکیر اس کے گال سے لڑھکتی ہوٸی نیچے ٹپک گٸ۔۔۔۔۔

وہ عورت ہنوز وحشت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔

ایک جھٹکے سے اس نے اسے خود سے پرے دھکیل دیا۔۔۔۔۔

”رضیہ رضیہ۔۔۔۔“

چلاتے ہوۓ وہ ملازمہ کو آواز دے رہی تھی۔۔۔۔

جاٶ اسے اسٹور روم میں بند کردو اور رات تک اسے کچھ کھانے کو مت دینا۔۔۔۔۔“

اس نے خون آشام نظروں سے اسے گھورتے ہوۓ چلا کے کہا

تو رضیہ اس سہمے ہوۓ بچے کو افسوس سے دیکھتے ہوۓ وہاں سے لے گٸ۔۔۔

”تم میرا آخری مہرہ ہو میں تم سے تمہارے باپ کو شکست دوں گی اسے سزا بھگتی پڑے گی

وہ عورت وہی بیٹھی اپنا سر دونوں ہاتھوں میں گراۓ بڑبڑا رہی تھی

اور شام کی سیاہی گہری ہو چکی تھی۔۔۔۔۔

رات کی سیاہی میں جیسے ہی یہ بنگلہ ڈوبا پورا بنگلہ اندر جلی بتیوں سے جگمگا اٹھا۔۔۔۔۔بنگلے کے اندر چلے جاٶ تو الرٹ سے ملازم کام کرتے ہوۓ دیکھاٸی دے رہے تھے۔۔۔۔رات کے کھانی کی تیاری کی جارہی تھی۔۔۔۔باورچی خانے میں کھڑی ملازمہ سامنے چولہے پہ رکھے سوپ میں سبزیاں ڈال رہی تھی ۔۔۔۔۔جب اس نے کچن کے اندر قدم رکھا پھر وہی رک گٸ ایک ملازمہ دوسری ملازمہ سے مخاطب تھی۔۔۔۔

”تمہیں پتہ چلا آروی صاحب اپنے ساتھ ایک لڑکی لاٸیں ہیں۔۔۔۔اس نے محتاط نظروں سے یہاں وہاں دیکھتے رازداری سے کہا تو دوسری ملازمہ یوں اچھل پڑھی جیسے اسے دو سو والٹ کا کرنٹ لگا ہو اس کے چہرے پہ حیرت واضح تھی۔۔۔۔جیسے یہ کوٸی انہونی بات ہے نھار کو یہ دیکھ کہ کچھ عجیب سا لگا لڑکی لانے میں کیا حیرت کی بات تھی۔۔۔۔۔۔

”نہیں نہیں تمہیں کوٸی غلط فہمی ہو رہی ہوگی میم کی موت کے بعد آج تک اس گھر میں کوٸی عورت نہیں آٸی اور نہ ملک سر کے ہوتے ہوۓ کوٸی عورت آسکے گی۔۔۔

وہ دبلی پتلی لڑکی جس نے منی اسکرٹ پہن رکھی تھی جو شاید یہاں کی ہر ملازم لڑکی کا یونیفارم تھا وہ سرے سے یہ بات ماننے سے انکاری تھی۔۔۔۔۔۔

اب پلٹ کے سلاد کے لیے تیزی سے کھیرے کاٹ رہی تھی۔۔۔۔

”تو جولی یہی بات تو حیرت کی ہے ۔۔۔۔کہ سر ایک لڑکی کو گھر تک لے آٸیں ہیں۔۔۔۔۔

دوسری دراز قد لڑکی نے آگے بڑھ کے پھر اسے یقین دلانا چاہا۔۔۔۔۔

”میں جب تک نہیں دیکھوں گی خود اپنی آنکھوں سے میں یقین نہیں کروں گی۔۔۔۔“

اس لڑکی نے پلٹے بغیر کہا ساتھ تیزی سے وہ سلاد بھی تیار کر رہی تھی

”تمہاری مرضی ۔۔۔۔۔“

دوسری ملازمہ محض کندھے اچکا کر آگے بڑھ گٸ۔۔۔۔۔

اور نھار بھی الٹے قدموں واپس پلٹی اور کسی کی چوڑی چھاتی سے ٹکرا گٸ

سر اٹھاۓ بغیر بھی وہ جان سکتی تھی کہ وہ کس سے ٹکراٸی ہے

کچھ ڈرتے ڈرتے اس نے سر اٹھایا تو سامنے آروی کھڑا تھا