Shoq Zawal by Eman Khan NovelR50404 Shoq Zawal Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Shoq Zawal Episode 14
Shoq Zawal by Eman Khan
جس وقت اس کی گاڑی اس بنگلے کے سامنے رکی تب تک دھوپ گہری اور صبح باسی ہو چکی تھی وہ تیزی سے گاڑی سے باہر نکلا وہ اس وقت سادہ سے ٹراوزر شرٹ اور بکھرے بالوں کے ساتھ فکرمند سا لگتا تھا جیسے وہ ویسا کا ویسا ہی اٹھ کے آگیا ہو تیزی سے بنگلے میں داخل ہونے کے بعد وہ سڑھیاں چڑھنے لگا۔۔۔۔۔دروازے کے بالکل پاس ۔۔۔۔وہی چاٸینز نقوش والی لڑکی کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔
اس نے وہی کھڑے کھڑے ایک دو دفعہ دستک دی لیکن کوٸی جواب نہ آیا اس کی پریشانی میں اور اضافہ ہو گیا۔۔۔۔۔
اس کی حالت اس کے چہرے سے عیاں تھی۔۔۔۔
ابھی وہ وہی کھڑا اگلی حکمت عملی سوچ رہا تھا جب پورچ میں ایک اور گاڑی رکنے کی آواز سناٸی دی۔۔۔۔۔
اس نے پلٹ کر دیکھا تو ملک داخلی دروازے سے اندر داخل ہو رہا تھا
ملک سیڑھیوں پہ آصف کو کھڑا دیکھ کے ٹھٹک گیا۔۔۔۔۔
اس کے چہرے کے زاویے بگڑے اسے اسماریہ پہ جی بھر کے غصہ آیا اگر وہ کچھ دیر کے لیے نہیں آسکا تھا تو کیا آصف کو بلانا ضروری تھا
آصف نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔۔۔تو ملک گیٹ پہ کھڑا تھا
آصف کو اپنی طرف دیکھتا پا کے وہ بھی فکرمندی چہرے پہ سجاۓ اوپر کی طرف آیا
اور اس چاٸینز لڑکی کو ایک گھوری سے نواز کے آصف کی طرف پلٹا
”کیا ہوا ہے نھار میڈم دروازہ کیوں نہیں کھول رہی۔۔۔۔۔“؟؟
اس نے دروازے کا جاٸزہ لیتے ہوۓ فکرمندی سے کہا۔۔۔۔۔
”نہیں جانتا میں۔۔۔۔“
آصف نے فکرمندی چھپاتے ہوۓ خود کو نارمل کمپوز کرنے کی کوشش کی پھر کچھ سوچ کے اسماریہ کی طرف پلٹا
”کیا تم نے پیچھلی کھڑکی سے چیک کیا ہے۔۔۔۔۔“؟؟
اس کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ لہجے میں بھی چمک ابھری
ملک نے بغور اسے دیکھا
”نو سر۔۔۔۔۔“مجھے پریشانی میں یاد نہیں رہا۔۔۔۔“
اسماریہ نے خفیف سا عضر پیش کیا پھر ڈرتے ہوۓ سر اٹھا کے ملک کی طرف دیکھا
جس کی آنکھیں میں برف جیسی ٹھنڈک تھی اور چہرے پہ سردمہری۔۔۔۔
وہ نظر چرا گٸ۔۔۔۔۔
”آصف تیزی سے سیڑھیاں اتر گیا ملک بھی اس کی پیروی میں اس طرف بڑھا۔۔۔۔۔“
آصف ٹی وی لاٶنچ سے ہوتا ہوا باہر کی طرف گیا اور وہاں سے لان کی پچھلی طرف گیا
وہی کھڑے کھڑے دیکھا تو اس کے کمرے کی کھڑکی ٹوٹی ہوٸی تھی
یہ دیکھ کے اس کی تشویش میں مذید اضافہ ہو گیا وہ پلٹ کے دھواں دھواں ہوتے چہرے کے ساتھ ملک کی طرف دیکھ رہا تھا
اور ملک آنکھیں چھوٹی کیے کھڑکی کی حالت دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
آصف کا رنگ لٹھے کی مانند سفید ہو چکا تھا جیسے کسی نے ایک ہی لمحے میں اس کے جسم سے جان نکال لی تھی
”خالد سیڑھی لاٶ۔۔۔۔۔“
وہ چوکیدار کو چیختے ہوۓ بلا رہا تھا
وہ اردگرد کی ہر چیز کو ایسے فراموش کر چکا تھا جیسے وہاں کوٸی تھا ہی نہیں جیسے نھار کو بچانے کے سوا کوٸی کام ضروری نہیں۔۔۔۔۔۔
ملک خاموشی سے یہ سب کارواٸی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
خالد سیڑھی لے آیا تھا۔۔۔۔
وہ اب بلی کی طرح ہاتھ سیڑھی پہ جماۓ اوپر کی طرف جارہا تھا وہاں اونچے ٹیرس سے ہوتے ہوۓ نھار کے کمرے کی کھڑکی کھلتی تھی
تھوڑی دیر بعد وہ ٹیرس پہ موجود تھا
اس کا دل بری طرح سے ڈھڑک رہا تھا اسے کسی انہونی کا احساس بری طرح جھکڑ رہا تھا
لیکن اس کے سست سست قدم اس طرف بڑھ رہے تھے
اس نے آگے بڑھ کے کھڑکی کے ٹوٹے ہوۓ شیشے کو تھوڑا دھکیلا تو کھڑکی کھل گٸ لیکن ٹوٹا ہوا کانچ اس کے ہاتھ میں اتر گیا تھا اور ابل ابل کے باہر آرہا تھا لیکن اسے پرواہ نہیں تھی
درد تو کبھی بھی آصف شاہ کو نہیں ہوتا تھا لیکن آج صورتحال اور تھی۔۔۔۔۔
وہ کھڑکی میں سے چھلانگ لگا کے اندر داخل ہوا تو اندر کی صورتحال ذیادہ تکلیف دہ تھی
کمرے میں ہر چیز یوں بکھری ہوٸی تھی جیسے یہاں بہت وقت کوٸی اپنی جان بچانے کی تک و دو کرتا رہا ہے
ایک طرف نیچے اوندھے منہ نھار پڑی تھی اور خون کی اس کے ماتھے سے ہوتا ہوا ذمین پہ بہہ رہا تھا۔۔۔۔
وہ وہی گھٹنوں کے بل ذمین پہ بیٹھا اس کا چہرا موڑ کے دیکھا اس کی رنگت ذرد ہو چکی تھی اور آنکھیں بند تھی
اس نے ایک بھی لمحہ ضاٸع کیے بغیر اسے سہارا دیتے ہوۓ اٹھایا اور تیزی سے دروازہ کھولتے ہوۓ باہر نکلا۔۔۔۔۔
باہر ملک اور اسماریہ منتظر نظروں سے آصف کو دیکھ رہے تھے
یہ صورتحال دیکھ کے اسماریہ کے منہ سے دبی دبی چیخ نکلی جس کا گلا اس نے منہ پہ ہاتھ رکھ کے گھونٹ دیا
اور ملک کے چہرے پہ الجھن اور تشویش ابھری
آصف انہیں نظر انداز کرتا سیڑھیاں اتر رہا تھا خون پہلے ہی بہہ چکا تھا۔۔۔۔
ملک اس کے پیچھے گیا۔۔۔۔
”آصف یہ سب کیسے ہوا۔۔۔۔۔“؟؟
وہ تیزی سے پیچھے چلتے ہوۓ استفسار کرنے لگا
”نھار پر حملہ ہوا ہے ملک۔۔۔۔“؟؟
آصف نے عجلت سے کار کا دروازہ کھولتے ہوۓ کہا
اور ملک اس ایک ہی بات پر اٹک کر رہ گیا
”نھار پر حملہ ہوا ہے۔۔۔۔“؟؟
ملک کا ذہن تانے بانے ترتیب دینے لگا اس کا ذہن اب تیزی سے چل رہا تھا
”آصف نے نھار کا سر اپنی گود میں رکھتے ہوۓ چابیاں ملک کی طرف بڑھاٸی تو ملک کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا۔۔۔۔۔۔“
ملک نے چابیاں ہاتھ میں لیتے ہوۓ بے دلی سے قدم فرنٹ سیٹ کی طرف بڑھا دیۓ۔۔۔۔
نھار کی سانسیں بہت مدہم چل رہی تھی اور یہی بات اس کی تکلیف میں اضافہ کر رہی تھی
ہسپتال کے سامنے اس نے گاڑی پارک کی اور دروازہ تیزی سے کھول کے وہ باہر نکلا
نھار کو بازٶں میں بھر رکھا تھا
آہستگی سے دروازہ کھول کے ملک بھی گاڑی سے باہر نکلا لیکن اس کی رفتار سست تھی
راہداری سے ہوتا ہوا وہ ہسپتال کے اندر داخل ہوا۔۔۔۔۔مریضہ کی اس قدر خراب حالت دیکھ کے ڈاکٹرز نے نھار کا ٹریٹمنٹ شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔
لیکن آصف کے چہرے پہ پریشانی ہنوز تھی۔۔۔۔
ملک خاموشی سے اس کے پیچھے آکے کھڑا ہوگیا تھا ہمیشہ آصف خاموشی سے اس کے پیچھے آکے چھپ جایا کرتا تھا
لیکن آج آصف اس سے دو قدم آگے کھڑا تھا۔۔۔۔
ماضی کا ایک بھولا بسرا منظر اس کی یادوں کے پردے پہ لہرایا۔۔۔۔
وہ جیسے ہی دروازے سے اندر داخل ہوا چھوٹا آٹھ نو سال کا بچہ تیزی سے اس طرف آیا اور اس کی ٹانگوں سے کچھ یوں لپٹ گیا جیسے وہ اس کے وجود کے پیچھے چھپ گیا ہو۔۔۔۔
وہ اس وقت بہت گھبرایا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
تھری پیس سوٹ میں ملبوس اس شخص نے کچھ تعجب سے اس کی یہ حرکت دیکھی۔۔۔۔“
”آصف تم میرے پیچھے آکے کیوں چھپ گۓ ہو۔۔۔۔۔“؟؟
ملک نے تھوڑا جھک کے اسے خود سے الگ کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔
لیکن اس کی گرفت اور مضبوط ہو گٸ۔۔۔۔۔
”ملک تم مجھے ممی سے بچا لو پلیز۔۔۔۔۔“
اس نے مری مری آواز میں التجا کی۔۔۔۔۔
”اٹھو آصف “
”تمہیں میرے ہوتے ہوۓ کوٸی کچھ نہیں کہہ سکے گا۔۔۔۔“
اس نے نرمی سے اسے خود سے الگ کرتے ہوۓ پچکارا۔۔۔
اس چھوٹے بچے کی آنکھیں چمک اٹھی۔۔۔۔۔
”آج کے بعد میں تمہاری حفاظت خود کروں گا میں ہی تمہارا سرپرست ہوں اور میں ہی تمہارا محافظ۔۔۔۔“
اس نے گھٹنوں کے بل اس کے مقابل بیٹھتے ہوۓ اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوۓ جیسے اسے نصیحت کی۔۔۔۔“
اس بچے نے سر ہلا دیا۔۔۔۔
”تمہیں ذندگی میں ہر انسان دھوکہ دے سکتا ہے لیکن تمہیں کبھی ملک نہیں دھوکہ دے سکتا۔۔۔۔۔“
اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ پختہ لہجے میں کہا۔۔۔۔
”بچہ بغور اس کا چہرا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
”لیکن تم نے بھی ذندگی میں ایک بات یاد رکھنی ہے“
”تمہیں ذندگی میں کبھی ملک پر کسی کو ترجیح نہیں دینی۔۔۔۔۔“
اس نے اسے تنبہہ کی تھی۔۔۔۔
”ان الفاظوں کی بازگشت اسے ہنوز سناٸی دے رہی تھی
ہسپتال میں ابھرتی آوازوں نے اس کی سوچوں کا تسلسل توڑا تھا۔۔۔۔
اس نے سر جھٹک کے دیکھا ڈاکٹر وارڈ سے باہر آرہا تھا۔۔۔۔
وہ آصف کے پاس کھڑا اب کوٸی ہدایات دے رہا تھا اور آصف محض سر ہلا رہا تھا۔۔۔۔
پھر آصف وارڈ کا دروازہ کھول کے اندر چلا گیا اور وہ وہی رہ گیا
”اکیلا۔۔۔۔“
وہ جیبوں میں ہاتھ ڈالے چلتا چلتا آصف کے پیچھے گیا۔۔۔۔
اندر وہ آنکھیں بند کیے لیٹی تھی۔۔۔سر پہ پٹی بندھی تھی۔۔۔۔۔
ہاتھ سوٸیوں سے جھکڑے ہوۓ تھے۔۔۔۔
کسی کے قدموں کی آہٹ سن کے اس نے آنکھیں کھولی تھی۔۔۔۔۔
اور اپنے سامنے آصف کو کھڑا دیکھ کے وہ حیران ہوٸی تھی
آصف نے نرمی سے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی تھی۔۔۔۔
اور ملک پھر ایک طرف کھڑا بس دیکھ رہا تھا
کچھ دیر وہاں کھڑا ہونے کے بعد وہ آصف کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ جانے کے لیے پلٹا۔۔۔۔۔
نھار کا دماغ بیدار ہونے لگا
اس کی نظر ملک کی گردن پہ بنے نشان پہ جم گٸ ۔۔۔۔
”سیاہ بچھو کا نشان۔۔۔۔“
وہ اس نشان کو پہچانتی تھی آج سے نہیں بہت سالوں سے۔۔۔“
”بعض اوقات ایک چیز ہماری آنکھوں کے سامنے بہت سالوں سے ہوتی ہے لیکن ہم اس چیز کو نہیں پہچان پاتے۔۔۔۔۔“
بس زاویہ نظر بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے اور پھر گھتیاں خود ہی سلجھنے لگتی ہے۔۔۔۔۔“
اگلی صبح پچھلے دنوں کی نسبت ذیادہ گرم تھی ہوا میں حبس تھی۔۔۔۔ایسے میں اسلام آباد میں پوش علاقے میں بنا وہ بنگلہ دھوپ میں جھلس رہا تھا۔۔۔۔۔۔
یہاں سے اندر جاٶ تو الرٹ سے ملازم تیزی سے صاف صفاٸی میں مصروف تھے۔۔۔۔
اوپر بنے اس پرآساٸش سے کمرے میں عجیب سی خاموشی تھی سامنے صوفے پہ ہاتھ تھوڑی تلے ٹکاۓ ٹانگ پہ ٹانگ جماۓ ملک بیٹھا تھا جس نے ابھی تک ناٸیٹ سوٹ پہن رکھا تھا ۔۔۔۔۔بال بکھرے ہوۓ تھے اور چہرے پہ پتھریلے تاثرات تھے ۔۔۔۔پرسوچ نگاہیں سامنے دیوار پر مرکوز کر رکھی۔۔۔۔۔
سامنے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگاۓسفید رنگ کی ٹی شرٹ نیچے بلیک ٹراٶزر پہنے شاہان بیٹھا تھا ایک ہاتھ میں چپس کا پیک پکڑ رکھا تھا۔۔۔۔۔۔اور کچھ تشویش سے اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔وقفے وقفے کے بعد چپس نکال کے منہ میں ڈال رہا تھا۔۔۔۔۔
یہاں سے تھوڑا دور جاٶ تو آصف نھار کو سہارا دے کے گاڑی میں بیٹھا رہا تھا اس نے وہی لباس پہن رکھا جس پہ جگہ جگہ خون کے دھبے واضح تھے سر پہ ہنوز پٹی تھی اور چہرا پر سکون تھا ۔۔۔۔
اسے پچھلی سیٹ پہ بیٹھا کے وہ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولنے لگا تو۔۔۔۔نھار نے اسے بغور دیکھا۔۔۔۔۔
اس کی آنکھیں سرخ تھی اور سوجی ہوٸی تھی ۔۔۔۔۔چہرا ہنوز سپاٹ تھا اس کے لباس پہ بھی جگہ جگہ خون کے دھبے واضح تھے۔۔۔۔کانوں سے تھوڑے نیچے آتے بال بکھرے ہوۓ تھے۔۔۔۔۔اس کی پیٹھ کے پیچھے سورج چھپ گیا تھا اور اس کی تیز شعاعیں اب نھار تک نھیں پہنچ رہی تھی وہ جیسے اس کی ڈھال تھا
وہ اب دروازہ کھول کے گاڑی کے اندر بیٹھ رہا تھا۔۔۔۔۔
”ڈیڈ آپ کو کیا لگتا ہے“؟؟اس لڑکی پر حملہ کس نے کروایا ہوگا۔۔۔۔۔“؟؟
شاہان کی آواز نے سکوت کو توڑا لیکن ملک لاتعلق سا بیٹھا کچھ سوچتا رہا
”شاید اس انسان نے جو آصف کو دھمکیاں دے رہا تھا۔۔۔۔“
اس نے ایک چپس پیک میں سے نکالتے ہوۓ اندازہ لگایا تو ملک نے پلٹ کر اسے تاسف سے دیکھا۔۔۔۔
”اس لڑکی پر حملہ نہیں ہوا۔۔۔۔“
ملک کے لہجے میں تپش گھل گٸ۔۔۔۔۔
تیز چلتی گاڑی سے وہ ۔۔۔۔۔شیشے سے باہر دیکھ رہی تھی چہرا پہ سکون تھا۔۔۔۔۔۔
”یہ کیا بول رہی ہیں ڈیڈ۔۔۔۔“ہم سب جانتے ہیں آصف کو دھمکیاں مل رہی تھی۔۔۔۔۔“
شاہان بیڈ سے اچھل پڑا پھر اپنی بات پر ذور دے کے بولا۔۔۔۔۔
ملک استہزاٸیہ مسکرایا۔۔۔۔۔
”آصف کو وہ دھمکی بھرے مسیجز میں بھیج رہا تھا ۔۔۔۔۔“لیکن ظاہر ہے میں نے نھار پر حملہ نہیں کروایا۔۔۔۔۔“
ملک کے اس اقرار پر شاہان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔۔۔
چلتی گاڑی میں خاموشی تھی۔۔۔۔
اور نھار کے ذہن کے پردوں پہ کل کے دن کا عکس لہرایا۔۔۔۔
”آصف کے جانے کے بعد وہ یہاں سے وہاں ٹہل رہی تھی اسے کچھ بھی کر کے آصف کے پاس واپس جانا تھا
چلتے چلتے اس کے ہاتھ کے ساتھ کچھ ٹکرایا اور وہ ذمین بوس ہوا
اس نے جھک کر دیکھا تو وہ ایک گلاس تھا
اور اگلے ہی لمحے اس کے ذہن میں ایک خیال آیا اس میں تھوڑا خطرہ ضرور تھا
لیکن وہ یہ جانتی تھی کہ یہ بہت سے مساٸل کا حل تھا اور اس وقت کم از کم نھار کے پاس ایک ہی حل تھا۔۔۔۔
اگلے ہی لمحے اس نے ٹیبل پہ پڑا گلدان اٹھایا اور پوری قوت سے کھڑکی پر دے مارا
اس کا کمرا اوپر تھا تیسری منزل پر یہاں سے آواز بامشکل نیچے جاتی تھی اور اگلے ہی لمحے اس نے وہ گلدان اپنے سر پر دے مارا۔۔۔۔۔۔“
خون کا فوارہ ابل پڑا اور وہ توازن نہ برقرار رکھتے ہوۓ وہ ذمین بوس ہوٸی۔۔۔۔“
”نھار“
آصف کے پکارنے پر وہ چونک گٸ۔۔۔۔
”تم اب میرے ساتھ گھر واپس جارہی ہو۔۔۔“
دھیان سے گاڑی چلاتے ہوۓ اس نے پتہ نہیں پوچھا تھا یا بتایا تھا لیکن نھار کی خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی اس نے بامشکل اپنے تاثرات چھپاۓ تھے۔۔۔۔۔
”لیکن آپ آصف کو کیوں دھمکیاں دلوا رہے تھے۔۔۔۔۔“؟
کچھ توقف کے بعد ۔۔۔۔شاہان نے مرے مرے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔
”تاکہ اس لڑکی سے جان چھوٹ جاۓ۔۔۔۔۔“
ملک نے چڑ کر جواب دیا
”اور اگر آپ نے نھار پر حملہ نہیں کروایا تو کس نے کروایا۔۔۔۔۔“؟؟
اس نے چپس کا پیک ایک طرف بے دلی سے رکھتے ہوۓ پوچھا
تو ملک نے پلٹ کر شعلہ بار نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔
”اس پر کسی نے حملہ نہیں کروایا ہے یہ سب اس نے خود کیا ہے۔۔۔۔۔“
آگ اگلتی نظروں سے اسے دیکھتے ملک نے ایک ایک لفظ پہ ذور دیتے ہوۓ کہا تھا
”اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ ایسا ہے جو میری نظروں سے مخفی ہے “ اور جو وہ جان گٸ ہے اور جسے حاصل کرنے کے لیے وہ اس گھر میں آنا چاہتی ہے۔۔۔۔۔۔“
ملک نے پرسوچ نظروں سے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوۓ کہا
اور اپنے باپ کی ذومعنی باتیں اس کے سر سے گزر گٸ تھی
ملک اپنی جگہ سے اٹھ کے چلتا چلتا اب کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھنے لگا تھا
چہرے پہ سوچ کے گہرے ساۓ تھے۔۔۔۔
اور شاہان نے ایک دفعہ پھر چپس کا پیک اٹھا لیا تھا
وہ اپنے باپ کی طرح ذہین نہیں تھا اسے مایوسی ہوٸی تھی
دو دن پہلے
کراچی کے اس مصروف علاقے میں بنا یہ کیون دھوپ میں جھلس رہا تھا کراچی میں عموماً بھی موسم ذیادہ گرم رہتا ہے اور اواٸل جون کے دنوں میں سورج آگ اگل رہا تھا تیسری منزل پہ بنا یہ شیشوں کا بنا کیون آگ میں جھلس رہا تھا۔۔۔۔۔اندر اے سی کی یک بستہ ہواٶں کی وجہ سے عجیب سی ٹھنڈک کے ساتھ ساتھ حبس بھی تھی
شیشے کی ٹیبل پہ یہاں وہاں کاغذ بکھرے ہوۓ تھے اور ان کے درمیان وہ بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔۔سفید رنگ کے ملجگے سے لباس میں چہرے پہ تھکان تھی اور آنکھیں رت جگے کی عمازی کر رہی تھی۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا تھا اور وردی میں ملبوس ایک خوش شکل نوجوان کمرے میں داخل ہوا۔۔۔
انزق نے نظر اٹھا کر دیکھا تھا تو آنے والے شخص جس کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ پکڑا تھا اس کے چہرے پہ دبا دبا جوش تھا۔۔۔۔
انزق نے تعجب سے اسے دیکھا۔۔۔۔
”سر یہ دیکھیں میرے ہاتھ کیا لگا ہے۔۔۔۔۔“
اس نے لیپ ٹاپ اس کی طرف بڑھاتے ہوۓ کہا
انزق نے نظریں لیپ ٹاپ پہ جما لی۔۔۔۔۔
”جہاں اسکرین پر ایک تصویر چمک رہی تھی۔۔۔۔
اس چہرے کو وہ پیچھلے کٸ سالوں سے جانتا تھا اس تصویر کو دیکھتے ہوۓ اس کا چہرا ہر قسم کے تاثر سے پاک تھا۔۔۔۔۔
وہ بس یک ٹک دیکھے جارہا تھا۔۔۔۔
”اس کے کانوں میں برسوں پہلے کہے گۓ اپنے باپ کے جملے گونجنے لگے۔۔۔۔۔
”وہ ایک شیطان ہے“ شیطان سمجھتے ہو تم“؟؟
”شیطان وہ ہوتا ہے جس کو مہلت دی جاتی ہے۔۔۔۔۔اتنی مہلت دی جاتی ہے جو کسی عام انسان کو نہیں دی جاتی۔۔۔۔۔“اس میں ہر بری حصلت پاٸی جاتی ہے۔۔۔۔۔“اور اس کی براٸی صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتی بلکے وہ ہر انسان کو اپنی اس براٸی میں شریک کر لیتا ہے۔۔۔۔۔“
وہ شیطان ہے اور شیطان کا مقابلہ تم نہیں کر سکتے میرے بچے۔۔۔“
”سر“؟
اس لڑکے نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا تو وہ چونک گیا تھا۔۔۔۔
”سر آپ ٹھیک ہیں۔۔۔۔”؟
وہ لڑکا اس سے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔۔
ہاں میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔“تم بتاٶ کیا انفارمیشن لاۓ ہو۔۔۔۔“
اس نے غاٸب دماغی سے کہا۔۔۔۔۔
”سر باوثوق ذراٸع سے پتہ چلا ہے کہ یہ بندہ آصف کا راٸیٹ ہینڈ ہے۔۔۔۔۔“یعنی یہ سمجھ لیں کہ آصف محض اس شخص کے ہاتھوں کا ایک مہرہ ہے “ آصف اپنے دماغ سے ذیادہ اس شخص کے دماغ سے سوچتا ہے۔۔۔۔۔“۔
وہ پکچرز آگے کرتے ہوۓ پیشہ ورانہ انداز میں بتا رہا تھا
سامنے مختلف تصویروں میں وہ شخص آصف کے ساتھ کھڑا تھا۔۔۔۔
”آصف کے ساتھ یہ بہت سالوں سے ہے مافیہ میں جتنے بھی غلط کام ہوتے ہیں وہ اس شخص کی سرپرستی میں ہوتے ہیں۔۔۔۔“
”دنیا میں اسے کٸ ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔۔۔۔”جیسے tyrant devil ,(ظالم شیطان) poisonous weasel (زہریلا نیولا) one eyed devil (ایک آنکھ والا شیطان)
(Lucifer) باٸیبل کی کتاب میں شیطان کا تذکرہ اس نام سے کیا گیا ہے
بہت سے ممالک میں صرف وہ ان ناموں سے جانا جاتا ہے ۔۔۔۔۔
اسے بہت کم لوگوں نے دیکھ رکھا ہے
وہ ایک تصویر کو زوم کرتے ہوۓ بتا رہا تھا۔۔۔۔۔
”وہ ایک چھلاوا ہے ۔۔۔۔جو پل میں نظروں کو دھوکہ دے کے گزر جاتا ہے۔۔۔۔۔“
ابھی تک وہ پوری دنیا کی سو سے زاٸد ایجینسیز کو دھوکہ دے چکا ہے۔۔۔۔
”انڈیا میں وہ مطلوب ہے۔۔۔۔۔“اور امریکہ نے باقاعدہ اس کے سر کی قیمت رکھ دی ہے۔۔۔۔“
اس پہ بہت سے لوگوں کا قتل کا الزام ہے۔۔۔۔۔“
1989 میں اس پہ فوج سے بغاوت کا الزام لگا تھا اس نے بہت سے حساس راز دشمن تک پہنچانے تھے۔۔۔۔۔
وہ لڑکا ایک سلاٸیڈ اوپن کرتے ہوۓ بتا رہا تھا
انزق کی نظریں اسکرین پر جمی تھی۔۔۔ اور ذہن ماضی میں گھوم رہا تھا۔۔۔۔۔
”1999 میں اس نے میجر فیض عالم کو شہید کر دیا تھا۔۔۔۔۔“
انزق کی آنکھوں میں نفرت اور تکلیف ایک ساتھ ابھری۔۔۔۔۔اس نے میٹھیاں بھینچ لی۔۔۔۔
اسے یاد آیا وہ اپنے باپ کی لاش کے پاس بیٹھ کے رو رہا تھا۔۔۔۔
وہ لڑکا نیا تھا انزق کے بارے میں ذیادہ نہیں جانتا تھا۔۔۔۔
اور پھر وہ یہاں سے بھاگ گیا تھا۔۔۔۔
2003 میں امریکہ نے یہ دعوی کیا تھا کہ one eyed devil ایک آپریشن میں مارا گیا ہے۔۔۔۔۔
لیکن 2005 میں نیپال کی خفیہ ایجنیسیوں نے امریکہ کا دعوی غلط ثابت کرتے ہوۓ یہ دعوی کیا تھا کہ انہوں نے اسے نیپال میں دیکھا ہے۔۔۔۔۔اور ساتھ یہ تصویریں بھی شاٸع کی تھی۔۔۔۔۔“
تصویر میں ایک شخص نے اندھیرے میں منہ چھپا رکھا تھا۔۔۔۔۔
2008 کے آخر میں ۔۔۔۔۔پاکستان نے یہ دعوی کیا تھا کہ ملک ”آروی کے لیے کام کرتا ہے۔۔۔۔
اس وقت پاکستان میں پہلی دفعہ آروی کا نام سنا گیا تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ نام پوری دنیا میں پھیل گیا تھا۔۔۔۔۔“
دیگر ممالک آروی کے بارے میں کسی بھی قسم کی کوٸی راۓ نہیں دیتے۔۔۔۔
”بعض لوگوں کو یہ ایک فرضی کردار لگتا ہے۔۔۔۔“ اور بعض لوگوں کو لگتا ہے کہ ملک اپنا ملبہ کسی فرضی کردار کے سر تھوپ کے لوگوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔“
اس لڑکے کے ہاتھ تیزی سے لیپ ٹاپ پر چل رہے تھے
وہ ماہر انداز میں انفارمیشن دے رہا تھا
اسے ISI کے نیو بیچ سے ادھر انزق کے کہنے پر بھیجا گیا تھا اور یہ لڑکا واقعی ہی بہت ذہین تھا
انزق پہلے سے یہ سب باتیں جانتا تھا
ایجسینسز چاہیۓ جو بھی کہیں لیکن یہ صرف انزق جانتا تھا کہ
ابتسام ملک اور آصف شاہ کوٸی فرضی نہیں بلکے حقیقی کردار تھے۔
