Shoq Zawal by Eman Khan NovelR50404 Shoq Zawal Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Shoq Zawal Episode 8
Shoq Zawal by Eman Khan
موسم کی یہ تبدیلی ۔۔۔۔۔نھار کے لیے کچھ نٸ نہیں تھی لیکن اس کے باوجود اسے بخار اور ہلکے سے نزلے نے آن گھیرا تھا
آروی کے ساتھ اس کے بعد اس کی ملاقات نہیں ہو سکتی تھی
لیکن جس طرح سے اس کا خیال رکھا جا رہا تھا یوں۔۔۔۔لگتا تھا کہ آروی نے اس بارے میں مخصوص۔۔۔۔ہدایات دے رکھی تھی۔۔۔۔۔
شام کی مدہم مدہم روشنی اب شام کے اندھیرے میں لپٹنے لگی تھی
بڑے بنگلے کی تمام بتیاں روشن ہو رہی تھی
کچن میں کام کرتی ملازماٶں کے ہاتھ تیزی سے چل رہے تھے۔۔۔۔۔
کتھراٸن نے نگاہیں اٹھا کے متلاشی نظروں سے۔۔۔۔۔ٹینا کو ڈھونڈھنے کی کوشش کی
جو ایک ہندو ملازمہ تھی اور کچھ دن پہلے ہی ملک کی سفارش پہ یہاں آٸی تھی
اور اسے سارا کام کتھراٸن ہی سمجھا رہی تھی
اسے وہ کہیں بھی نظر نہیں آٸی تھی
وہ سر جھٹک کے ایک دفعہ پھر اپنے کام کی طرف متوجہ ہو چکی تھی
وہاں سے نیچے کی طرف جاٶ تو بڑا کمرہ بھی یونہی روشنیوں میں نہایا ہوا تھا۔۔۔۔۔
قیمتی سے صوفے پہ وہ بلیک تھری پیس سوٹ پہنے ٹانگ پہ ٹانگ جماۓ بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔
دونوں انگلیوں میں جلتا سگار دبا رکھا تھا۔۔۔۔۔۔
چہرے پہ آج مسکراہٹ کی جگہ سخت سا تاثر تھا
اس کی دوسری طرف سادہ سی ٹی شرٹ پہنے دونوں ٹانگیں ٹیبل پہ پھیلاۓ وہ گھنگریالے بالوں والا لڑکا لیپ ٹاپ پہ مصروف تھا۔۔۔۔۔۔
ملک کے بالکل سامنے
وہ سانولی سی رنگت والی لڑکی مٶدب سی کھڑی تھی
سفید شرٹ نیچے پینٹ پہنے اوپر کالا نپیکن باندھے وہ ملازمہ محسوس ہوتی تھی۔۔۔۔۔بالوں کی چٹیا بنا رکھی تھی
”تمہارا باپ ذات کا موچی تھا۔۔۔۔۔۔“لیکن بھلا آدمی تھا۔۔۔۔۔اس نے ایک دفعہ میری جان بچاٸی تھی
اپنے باپ کے ذکر پر اس لڑکی نے سر اٹھا کے دیکھا پھر سر جھکا دیا۔۔۔۔۔۔
شاہان نے بھی گردن ترچھی کر کے تاسف سے باپ کو دیکھا
ذات کا ذکر کرنا ضروری تھا۔۔۔۔۔“؟؟
سوچ کے وہ پھر کام کی طرف متوجہ ہو گیا
”بدلے میں میں نے بھی اس پہ بہت سے احسانات کیے تھے۔۔۔۔۔“
سگار کا دھواں اوپر ہوا میں تحلیل ہو رہا تھا۔۔۔۔۔
اس لڑکی نے محض سر ہلا دیا
اس کے بعد وہ جتنے وقت ذندہ رہا وہ ایک ہی بات بولا کرتا تھا کہ میرے آنے والی نسلیں بھی آپ کی غلامی کریں گی۔۔۔۔۔۔“
ایک تواتر سے کہتے ہوۓ رک کے اس لڑکی کے تاثرات دیکھے وہ ہنوز تابعداری سے کھڑی تھی۔۔۔۔۔
”آج مجھے ایک ضروری کام کے لیے جب کسی کی ضرورت پڑی تو مجھے سب سے پہلے تم یاد آٸی۔۔۔۔۔“
اس نے ایش ٹرے میں سگار مسلتے ہوۓ۔۔۔۔۔آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا
شاہان کو سمجھ نہیں آرہی تھی اسکا باپ کیا کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔
”کیا تم میرے احسانات کا بدلہ چکاٶ گی۔۔۔۔۔“؟؟
اس نے مسکراتے ہوۓ اسے دیکھا۔۔۔۔
وہ لڑکی بھی سر کو تھوڑا خم کر کے مسکراٸی۔۔۔
شاہان نے ان دونوں کو ایک نظر دیکھتے ہوۓ لیپ ٹاپ بند کر کے ایک طرف رکھا وہ اب گلاس میں پانی انڈھیل رہا تھا۔۔۔۔
”ایک لڑکی کا قتل کرنا ہے۔۔۔۔“؟؟
سگار کو مسلتے ہوۓ اس نے بے رحمی مگر پرسکون لہجے میں کہا
لڑکی کو حیرت کا شدید جھٹکا لگا اس کے ماتھے پہ پسینے کے ننھے ننھے قطرے چمکنے لگے۔۔۔۔
شاہان کا ہاتھ بھی وہی ساکت ہوا وہ منہ کھولے اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
”تمہاری ماں کینسر کی مریضہ ہے اور تمہاری دو بہنیں بھی گھر پر کنواری بیٹھی ھیں۔۔۔۔“؟؟اور تم چاہتی ہو تمہارے بھاٸی اچھے سکول میں تعلیم حاصل کریں۔۔۔۔“
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور ابھی دونوں جیبوں میں ہاتھ ڈالے ایک ابرو اٹھاۓ اسے دیکھ رہا تھا
میں تمہارے یہ سب کام کروا دوں گا لیکن بدلے میں تمہیں صرف میرا ایک کام کرنا ہے۔۔۔۔۔
اس نے شہادت کی انگلی اٹھا کے اپنی بات پر ذور دیا
لڑکی ابھی تک شاکڈ سی کھڑی تھی۔۔۔۔۔
تمہارے پاس دس منٹ ہے سوچ لو ۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں چھوٹی کر کے اس لڑکی کو دیکھنے لگا جو تذبذب کا شکار لگ رہی تھی۔۔۔۔
شاہان ہنوز شاکڈ سا بیٹھا تھا
اس کا باپ کیا کرنا چاہتا تھا وہ سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔۔۔
”ٹھیک ہے صاحب۔۔۔۔۔آپ کے میرے بابا پہ بہت احسانات ہیں اور میرے بابا نے مرنے سے پہلے مجھے ہدایت کی تھی کہ جب بھی کبھی ملک صاحب کو تمہاری ضرورت ہوٸی تم ان کے کام ضرور آٶ گی۔۔۔۔۔“
اس نے سر اٹھا کے ایک عزم سے کہا
شاہان اس لڑکی کی ہمت پہ دھنگ رہ گیا تھا اور وہی دوسری طرف۔۔۔۔۔ملک کی آنکھیں فوراً چمکی تھی۔۔۔۔
لب شاطر مسکان میں ڈھل گۓ۔۔۔۔۔
مجھے تم سے یہی امید تھی
اس نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا
”بہت جلد۔۔۔۔۔تمہیں میں سب سمجھاٶں گا
ساتھ ہی ہاتھ جھلا کے اسے جانے کا اشارہ کیا
اور خود پلٹ کے شاکڈ سے بیٹھے شاہان کو دیکھا پھر ایک ابرو سوالیہ اٹھایا۔۔۔۔
”آپ کس کا قتل کروانا چاہتے ہیں بابا۔۔۔۔۔“؟؟
وہ شاک اور غصے کی کیفیت میں استفسار کر رہا تھا۔۔۔۔
”اُس ٹانگ برابر لڑکی کا۔۔۔۔“
ایک گہرا سانس لیتے ہوۓ وہ دوبارہ صوفے پہ بیٹھ گیا۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں نفرت چھلکی۔۔۔۔
شاہان اچھل پڑا تھا۔۔۔۔۔
”اگر یہ آروی کو پتہ چلا تو وہ ہمیں نہیں چھوڑے گا بابا۔۔۔۔۔
وہ گھبرا کے بولا وہ اپنے باپ کو آنے والے خطرے سے آگاہ کرنا چاہ رہا تھا
وہ اپنے باپ کا اشارہ سمجھ گیا تھا
وہ یقیناً نھار کی بات کر رہا تھا
اس کے چہرے سے پریشانی چھلک رہی تھی
”تم نے نیولے کا نام سن رکھا ہے شاہان۔۔۔۔“؟؟
تھوڑا آگے کی طرف جھک کے اس نے تاسف سے اپنے بیٹے کو دیکھتے ہوۓ سوال پوچھا
شاہان سٹپٹا کے رہ گیا
کہاں وہ آروی کا ذکر کر رہا تھا اور اس کا باپ نیولے کا۔۔۔۔۔
”نیولے کا مطلب ہوتا ہے ”جڑ میں رہنے والا۔۔۔۔۔“
”اور یہ ایک واحد جانور ہے جس پہ سانپ کا زہر اثر نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔“
بات کرتے ہوۓ اس کی نظریں ہنوز شاہان کے چہرے پر جمی ہوٸی تھی
”نیولا سانپ پر بھی تیزی سے حملہ کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔لیکن دیگر سانپ (viper) جیسے سانپوں پہ حملہ کرتے ہوۓ اسے دشواری پیش آتی ہے۔۔۔۔۔“
ملک کی آنکھیں چمک رہی تھی پر چہرہ سپاٹ تھا
شاہان کچھ الجھن کچھ ناسمجھی سے سن رہا تھا
”اس کی سونگھنے کی حس بہت تیز ہوتی ہے خطرے کو فوراً سے بھانپ لیتا ہے۔۔۔۔۔“
”وہ بہت ظالم شکاری ہے اگر اس کے منہ کو ایک دفعہ خون لگ جاۓ تو پھر وہ پرندے یوں غاٸب کرتا ہے کہ کسی کو سمجھ تک نہیں آتی۔۔۔۔۔۔“
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سفاکیت سے غرایا تو شاہان ایک جھٹکے سے ہوش میں آیا۔۔۔۔
”تم اس لڑکی کو ایک سانپ سمجھو۔۔۔۔۔۔“
جو مجھے ڈسنا چاہتی ہے۔۔۔۔۔
”لیکن تمہارا باپ ایک ظالم نیولا ہے۔۔۔۔۔جس پہ زہر اثر نہیں کرتا۔۔۔۔۔“
وہ صوفے کے ساتھ ٹیک لگا کے پرسکون انداز میں بول رہا تھا۔۔۔۔۔
شاہان۔۔۔۔۔الجھا سا بیٹھا ابھی بھی اس کی باتوں کے متعلق سوچ رہا تھا۔۔۔۔۔
@@@@@
سورج سوا نیزے پہ چمک رہا تھا ایسے میں چوتھی منزل پہ بنا یہ چھوٹا سا شیشے کا کیون۔۔۔۔۔جھلس رہا تھا۔۔۔۔ٹیبل پہ کاغذوں کا انبار لگا تھا۔۔۔۔۔مختلف سفید کاغذ۔۔۔۔۔اور ان کے درمیان وہ بیٹھا تھا۔۔۔۔۔وردی میں ملبوس۔۔۔۔۔بالوں کو ہمیشہ کی طرح ایک طرف سیٹ کر رکھا تھا۔۔۔۔چہرے پہ سنجیدگی نمایاں تھی۔۔۔۔۔
گلاس ونڈو سے دھوپ چھن سے اندر آرہی تھی۔۔۔۔۔۔دھوپ کا عکس اس پر واضح تھا لیکن وہ بے خبر سا لیپ ٹاپ پہ تیزی سے انگلیاں چلا رہا تھا
اسی لمحے دروازے پہ ہلکی سی دستک ہوٸی اس نے سر اٹھا کے دیکھا
چوکیدار کھڑا تھا۔۔۔۔۔
”انزق صاحب یہ آپ کے لیے لفافہ آیا ہے۔۔۔۔۔“
چوکیدار نے لفافہ اس کی طرف بڑھاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔۔
”کون دے کر گیا ہے۔۔۔۔“؟؟
خاکی لفافہ اس کے ہاتھ سے لیتے ہوۓ اس نے سرسری پوچھا۔۔۔۔۔
”ایک بندا تھا بول رہا تھا عدالت سے آیا ہوں۔۔۔۔۔۔“
لفافے کو الٹ کر دیکھتے ہاتھ یکدم ساکت ہوۓ تھے
دل عجیب سے انداز میں دھڑکا تھا ۔۔۔۔۔
اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوٸی تھی
اس نے خود کو نارمل کرتے ہوۓ چوکیدار کو جانے کا اشارہ کیا
اور اگلے ہی لمحے اس نے لفافے کو پھاڑ ڈالا
اس کا شک درست تھا
اسے عدالت سے خلا۶ کا نوٹس آیا تھا۔۔۔۔۔
ایک ساتھ غم اور غصے کے جذبات ابھرے لیکن وہ دبا گیا
اسے سمجھ نہیں آرہی تھی ایلاف یہ سب کیوں کر رہی ہے
وہ خود کو اس وقت بے بسی کی انتہا۶ پہ محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔۔
کچھ سوچ کے اس نے موباٸل اٹھایا
اور ایلاف کا نمبر ڈاٸل کرتے ہوۓ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
وہ چہرے سے بہت پریشان اور الجھا ہوا لگ رہا تھا
رنگ جارہی تھی لیکن کوٸی کال پک نہیں کر رہا تھا
طیش میں آکے اس نے موباٸل ٹیبل پہ پٹھ دیا
اور خود اضطرابی کیفیت میں سگریٹ سلگا لی
سگریٹ کا دھواں اس کا اضطراب ختم کرنے کے لیے ناکافی تھا۔۔۔۔۔
کسی کے قدموں کی چاپ سن کے کتھراٸن کے تیزی سے سبزیاں کاٹتے ہاتھ ساکت ہوۓ پلٹ کے دیکھا تو ٹینا اسے کافی الجھی الجھی سی نظر آٸی
اس دن کے بعد سے وہ اکثر اسے یوں ہی گم سم لگی تھی ۔۔۔۔
کتھراٸن ایک یہودی عورت تھی ۔۔۔جس کا شوہر ایک کار حادثے میں مارا گیا تھا اس کی موت کے بعد اپنے اکلوتے بیٹے جیکن کی ۔۔۔۔۔اکلوتی کفیل وہ خود تھی۔۔۔۔
وہ بھورے بالوں والی عورت کافی حساس طبیعت کی تھی اور دوسروں کی پریشانی کو جلدی بھانپ لیتی تھی
وہ سبزیاں چھوڑ کے ٹینا کی طرف گٸ جو ابلتے ہوۓ دودھ پہ نظریں جماۓ کھڑی تھی۔۔۔۔۔
اس نے ٹینا کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تو وہ بری طرح چونکی۔۔۔۔۔
”تم ٹھیک ہو ٹینا۔۔۔۔۔“؟؟
اس نے شستہ انگلش میں اس سے پوچھا تھا
”جی میم میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔“
وہ کافی گھبراٸی ہوٸی لگ رہی تھی
اس کے باوجود زبردستی مسکراٸی تھی
کتھراٸن مطمٸین نہیں ہوٸی تھی پھر بھی آگے بڑھ گٸ تھی۔۔۔۔۔
کتھراٸن میم۔۔۔۔۔ملک صاحب۔۔۔۔۔۔کا آرڈر ہے کہ نھار میڈم کو دودھ کا گلاس ان کے کمرے میں بھیجا جاۓ۔۔۔۔۔ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔۔“
ایک ملازمہ نے کچن میں داخل ہوتے ہی طابعداری سے کہا۔۔۔۔
ٹینا نے پلٹ کے اسے دیکھا اس کے چہرے پہ گھبراہٹ کے گہرے ساۓ لہراۓ ۔۔۔۔۔۔اور پھر پلٹ کے دودھ گلاسوں میں انڈھیلنے لگی
کتھراٸن نے بہت گہری نظروں سے اسے دیکھا تھا۔۔۔۔۔
تھوڑا اوپر کی طرف جاٶ تو وہاں منظر کافی مختلف تھا۔۔۔۔۔
نھار ۔۔۔۔۔کمبل میں دبکی بیٹھی تھی۔۔۔۔۔آنکھیں سرخ اور سوجی ہوٸی محسوس ہو رہی تھی ناک بھی لال ہو رہی تھی یوں محسوس ہوتا تھا جیسے۔۔۔۔۔وہ صدیوں کی بیمار ہو
اور یہ کوٸی نٸ بات نہیں تھی۔۔۔۔جب بھی موسم بدلتا تھا اس کی یہی حالت ہوتی تھی
لیکن اس وقت اس کا خیال رکھنے والے بہت لوگ ہوتے تھے۔۔۔۔۔۔لیکن اب ایسا کچھ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔
اس کے بھاٸی کی موت کے ساتھ ہی سب ختم ہو گیا تھا
اس کی آنکھیں ایک دفعہ پھر بھیگنے لگی تھی
اس سے پہلے کے وہ مذید کچھ سوچتی دروازے پہ دھیرے سے دستک ہوٸی۔۔۔۔۔
اس نے پلٹ کر دیکھا
ایک ملازمہ ہاتھ میں ٹرے پکڑے کھڑی تھی
کمرے میں نیم اندھیرہ تھا وہ ملازمہ کو ٹھیک سے پہچان نہیں پاٸی تھی۔۔۔۔۔
”آصف صاحب نے آپ کے لیے دودھ بھیجا ھے۔۔۔۔“
اس لڑکی نے دودھ کا گلاس ٹیبل پہ رکھتے ہوۓ اسے بتایا
اس نے کچھ حیرت سے اسے دیکھا
یعنی آصف کو اس کی خراب طبیعت کا علم ہو چکا تھا
اسے اس کا خیال ہے اور اگر ایسا ہے تو۔۔۔۔۔وہ خود کیوں نہیں آیا
بہت سے خیال اس کے ذہن میں ابھرنے لگے۔۔۔۔
ملازمہ جاچکی تھی
اس نے کچھ سوچ کے دودھ کا گلاس اٹھایا
اور مسکرا کے لبوں کے ساتھ لگا لیا۔۔۔
ٹینا اپنی گھبراہٹ چھپاتی ہوٸی کمرے سے باہر نکلی اور کسی سے بری طرح ٹکراٸی
اگلے ہی لمحے اس کے اوسان خطا ہو گۓ تھے۔۔۔۔
وہ اس چیز کی توقع نہیں کر رہی تھی
آصف اس کے بالکل سامنے کھڑا۔۔۔۔۔تھا
اور اس کو یوں گبھراتا دیکھ کے وہ کچھ الجھن سے اسے دیکھ رہا تھا
”تم ادھر کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔“؟؟
آصف نے اسے یوں گھبراتا دیکھ کے پوچھا تھا
تھوڑی دیر وہ یوں ہی کھڑی رہی
جب بولی تو ٹوٹے پھوٹے الفاظ ہی ترتیب دے سکی
”وہ نھار میڈم کی طبیعت خراب ہے تو میں انہیں دودھ دینے آٸی تھی
گھبراہٹ کے مارے اس کی زبان لڑکھڑا رہی تھی
وہ کچھ دیر الجھن سے اسے دیکھتا رہا
پھر ہاتھ سے اسے جانے کا اشارہ کیا
وہ چلتا چلتا نھار کے کمرے تک آیا
دروازہ کھلا تھا
اس نے ہلکی سی دستک دی لیکن کوٸی جواب نہ آیا
وہ کچھ دیر منتظر سا کھڑا رہا
پھر پلٹنے لگا
اس سے پہلے کے وہ پلٹتا
آدھ کھلے دروازے سے جو منظر اسے نظر آیا وہ تیزی سے دروازہ کھول کے اندر کی طرف بھاگا
اس کا بے جان سا وجود بیڈ سے نیچے لڑھکا ہوا تھا۔۔۔۔
اور اس کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا۔۔۔۔
اس نے آگے بڑھ کے نھار کا چہرا تھتھپایا
اس کی نبض پر ہاتھ رکھا
نبض چل رہی تھی
اس کی جان میں جان آٸی۔۔۔۔۔
وہ اب چلا چلا کے نوکروں کو آوازیں دے رہا تھا
پورے بنگلے میں ہل چل مچ گٸ تھی
اور نھار ایک طرف بے جان سی پڑی تھی
