Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Shoq Zawal Episode 16

Shoq Zawal by Eman Khan

کچھ سال پہلے۔۔۔۔۔

بڑے سے شیشوں کے بنے اسے کیون میں موت سا سناٹا تھا بڑی میز کے اردگرد نشستوں پہ براجمان نفوس کے چہرے پر سختی کے ساتھ ساتھ رعب بھی تھا۔۔۔۔۔ذرد مدہم روشنی میں کیون کا اندر کا حصہ واضح تھا کیون مختلف کسی کی واٸیرنگز سے آراستہ تھا جو بڑی ایل ای ڈی سے جاکے جڑتی تھی ایل ای ڈی روشن تھی جس پہ پاکستان کا نقشہ واضح تھا۔۔۔۔۔

اس کے پاس وردی میں ملبوس ایک ادھیڑ عمر مگر رعب دار مرد کھڑا تھا جس کی وردی پہ مختلف رینکس ستاروں کی صورت چمک رہے تھے

اس کے چہرے پر غصہ تھا۔۔۔۔

پھر وہ چلتا چلتا ٹیبل کی طرف آیا جہاں دونوں ہاتھ ٹیبل پر جماۓ ایک شخص بیٹھا تھا سر جھکا ہوا تھا۔۔۔

ساری نظریں اسی شخص کی جانب اٹھی ہوٸی تھی۔۔۔۔۔

ان نظروں میں نفرت غصہ شک پتہ نہیں کیا کیا تھا۔۔۔۔

”ابتسام ملک آپ پر جو غداری کا الزام میجر فیض عالم کی طرف سے لگایا گیا ہے کیا وہ سچ ہے۔۔۔۔۔“؟؟

ان کی آواز اونچی لہجہ رعب دار تھا۔۔۔۔

ملک نے سر نہیں اٹھایا تھا۔۔۔۔

”وہاں بیٹھی ہر نظر اس کے جواب کی منتظر تھی۔۔۔۔۔“

”ہم آپ سے پوچھ رہے ہیں یہ خاموشی آپ کو سزا سے نہیں بچا سکتی۔۔۔۔۔“

میجر ۔۔۔۔۔حمدان کی آواز۔۔۔۔۔۔اونچی ہوٸی لہجے میں سختی در آٸی۔۔۔۔

”نہیں یہ جھوٹ ہے مجھ پر الزام ہے۔۔۔۔۔“

اس نے اسی طرح سر جھکاۓ ہوۓ سپاٹ لہجے میں کہا

تو اس کے بالکل سامنے بیٹھے سانولی سی رنگت والے اس شخص کی نظروں میں تاسف در آیا۔۔۔

وہ کس قدر صفاٸی سے جھوٹ بولتا تھا۔۔۔۔

”لیکن میجر فیض عالم اور میجر احسن شاہ کے پاس آپ کے خلاف ٹھوس ثبوت ہیں۔۔۔۔۔“

میجر حمدان نے اپنے سامنے بیٹھے وردی میں ملبوس دو الرٹ سے نوجوانوں کی طرف دیکھا تو انہوں نے بھرپور اعتماد سے سر ہلا دیا

”میجر فیض عالم۔۔۔۔کیا آپ وہ ثبوت ہمیں دکھانا پسند کریں گے۔۔۔۔“

میجر حمدان نے اس صاف رنگت والے قدآور سے نوجوان کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا

تو وہ طابعداری سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔

سر جھکا کے بیٹھے اس شخص نے پہلی دفعہ سر اٹھایا تھا۔۔۔۔اس کی آنکھوں میں ملامت واضح تھی۔۔۔۔اور تپش بھی

صاف رنگت والا وہ نوجوان اب سلاٸیڈذ پہ کچھ تصاویر دکھا رہا تھا جس میں ملک ۔۔۔۔خفیہ ایجنسیز کے کچھ لوگوں کے ساتھ مشاورت کر رہا تھا۔۔۔۔۔

میجر حمدان نے پلٹ کر جتانے والی نظروں سے ملک کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔

وہ اپنے حصے کا ثبوت دکھا کر دوبارہ اپنی نشست کی طرف بڑھ گۓ تھے

میجر حمدان نے اب احسن شاہ کی طرف اشارہ کیا تھا

ملک نے اب کی بار سر نہیں اٹھایا تھا

وہاں بیٹھے باقی سب نفوس کی نظریں اسکرین پر جمی تھی

بعض نظروں میں بے یقینی کچھ میں نفرت اور کچھ نظروں میں غصہ تھا

احسن شاہ اب ملک کے میلز دکھا رہا تھا جس کے ذریعے اس نے خفیہ معلومات شیٸر کی تھی

”اور کوٸی ثبوت چاہیۓ کیا آپ کو ابتسام ملک۔۔۔۔“یہ ایک حقیقت ہے کہ آپ غدار ہیں۔۔۔۔۔“

وہ خشک لہجے میں اونچی آواز میں بولے

وہاں بیٹھے سب لوگوں نے تاٸیدی انداز میں سر ہلایا۔۔۔۔

اور پھر ملک کو وہاں سے گرفتار کر لیا گیا تھا۔۔۔۔۔

ملک نے اس دن ہر نظر میں اپنے لیے صرف نفرت اور تذلیل دیکھی تھی ۔۔۔۔

اسے جب سڑک سے گزار کر ۔۔۔۔گاڑی تک لے جایا گیا تھا تو وہ لوگوں کی کثیر تعداد اکھٹی ہوچکی تھی

وہاں ہر نظر میں اس کے لیے ذلت تھی

اس کی خفیہ انفارمیشن شٸیر کرنے کی وجہ سے۔۔۔شہر میں دو جگہوں پر دھماکے ہوۓ تھے جس کے نتیجے میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ شہید ہوۓ تھے

لوگوں کے اندر غم اور غصہ تھا لوگوں کا اشتغال کسی صورت کم نہیں ہو رہا تھا

اسے جوتے مارے گۓ تھے پتھر مارے گۓ تھے۔۔۔۔۔

اسے تین سال کی سزا ہوٸی تھی لیکن وہ جیل میں صرف تین ماہ رہا تھا۔۔۔۔

بڑے بڑے ممالک کی ایجنسز کے پریشر کی وجہ سے وہ وقت سے پہلے ہی باہر نکل آیا تھا

لیکن اب وہ پہلے والا ملک نہیں رہا تھا

اس نے ان سب لوگوں سے بدلہ لینا تھا جنہوں نے اسے ذلیل کروایا تھا

اس کی اپنی بیوی اس صدمے سے مر گٸ تھی اس کا بیٹا یتیم خانے میں تھا

دنیا اسے نفرت کی نظر سے دیکھتی تھی اور ان سب لوگوں کی ذندگیاں پرسکوں تھی جنہوں نے اس کی ذندگی میں آگ لگاٸی تھی

اس دن ملک نے اپنے ساتھ ایک وعدہ کیا تھا وہ تب تک چین سے نہیں بیٹھے گا جب تک وہ ہر انسان کی ذندگی موت سے بدتر نہیں کر دے گا جس نے اسے اس حال تک پہنچایا تھا

یہاں سے ملک کی خود ساختہ جنگ کا آغاز ہوا تھا۔۔۔۔۔

”ملک ابتسام ، فیض عالم ، احسن شاہ۔۔۔۔۔یہ تین نام ایسے نام تھے جن کی دوستی سے شاید ہی گاٶں کا کوٸی شخص بے خبر ہو گاٶں میں جب بھی دوستی یا وفاداری کی مثال دینی ہوتی تو ان کا حوالہ دیا جاتا۔۔۔۔۔ان کے دودھ کا دانت ٹوٹنے سے پہلی دفعہ اسکول جانے تک ہر چیز ساتھ ساتھ تھی انہوں نے اسکول ایک ساتھ ختم کیا پھر وہ اعلی تعلیم کے لیے لاہور کے ایک مشہور کالج میں چلے گۓ انہوں نے وہی سے کمیشن کا ٹیسٹ پاس کیا اور ساتھ ہی آرمی جواٸن کی۔۔۔۔۔

وقت تیزی سے گزرنے لگا اور کچھ عرصے بعد۔۔۔۔احسن شاہ کی ملاقات لاہور کی ابھرتی ہوٸی ماڈل۔۔۔۔نگین شیخ کی خوبصورت بیٹی جویرہ سے ہوٸی۔۔۔۔۔اور پہلی نظر میں ہی وہ احسن شاہ پر دل و جاں سے فدا ہو گٸ ۔۔۔۔۔اور پھر اس کی محبت کب دیوانگی اختیار کر گٸ کسی کو بھی خبر نہ ہو سکی۔۔۔۔ان کی پہلی ملاقات ایک پریڈ میں ہوٸی تھی بلاشبہ وہ بہت خوبصورت تھی احسن اس کی خوبصورتی کے مقابلے میں کچھ نہیں تھا لیکن جویریہ اس پہ یوں مر مٹی تھی جیسے احسن کے علاوہ کوٸی اور مرد اس دنیا میں نہیں ہے۔۔۔۔وہ احسن کو ہر وقت محبت بھرے پیغامات قیمتی تحفے تحاٸف بجھوایا کرتی تھی۔۔۔۔۔احسن شاہ اس کی ان حرکتوں سے اکثر چڑ جایا کرتا تھا وہ جویریہ کی دیوانگی سے واقف تھا اس لیے خود بھی فاصلہ رکھتا تھا لیکن جویریہ تو جیسے اب کسی کی سننے کے لیے تیار نہ تھی۔۔۔۔نگین شیخ ابتدا۶ میں اس رشتے کے سب سے ذیادہ خلاف تھی کہاں اس کی پھول سی نازک بیٹی اور کہاں یہ گاٶں کا معمولی سی شکل و صورت والا۔۔۔۔کیپیٹن۔۔۔۔لیکن جب ان کی بیٹی کی حالت ذیادہ خراب ہونے لگی تو انہیں گھٹنے ٹیکنے ہی پڑے وہ خود احسن سے بات کرنے گٸ تھی اس کی منت کی تھی اور وہ آخر مان گیا تھا۔۔۔۔اور اسی طرح جویرہ اپنے ماڈل بننے کے خواب کو روندتے ہوۓ احسن شاہ کی دلہن بن گٸ تھی اسے تو جیسے دنیا میں جنت مل گٸ تھی احسن نے بھی اس کے سارے وسوسوں کو غلط ثابت کر دیا تھا وہ بہت میچور انسان تھا۔۔۔۔۔لیکن اس کا بہت خیال رکھتا تھا اس کی محبت کی قدر کرتا تھا فیض عالم کی بچپن میں ہی اس کی خالہ ذاد فرح سے نسبت طے ہو چکی تھی اور احسن کی شادی کے کچھ عرصے بعد ہی ان کی بھی شادی ہو گٸ تھی ملک نے اپنی ایک پرانی کلاس فیلو انیتا سے شادی کی تھی جو کافی لبرل قسم کی عورت ثابت ہوٸی تھی وہ کسی این جی او کا حصہ تھی

ان تینوں کی شادی کے بعد بھی ان کی دوستی ہنوز پہلے دن جیسی ہی تھی البتہ تبدیلی یہ آٸی تھی اب وہ ایک دوسرے کے گھروں میں بھی آنے جانے لگے تھے ۔۔۔۔۔فرح گاٶں کی سیدھی سادھی صحت مند سی لڑکی تھی جو کافی کم گو تھی ۔۔۔۔۔اس کے بال ہمہ وقت ایک چٹیا میں بندھے رہتے تھے وہ کافی سادہ سنجیدہ مگر نفاست پسند عورت تھی ۔۔۔۔۔اور جویرہ کو اس سے اول روز سے ہی کافی چڑ تھی یوں بھی وہ کچھ مغرور اور مطلبی طبیعت کی تھی اس لیے فرح کے ساتھ اس کی نہیں بن سکی فرح خود بھی ان سے کم ملتی تھی البتہ انیتا کے ساتھ اس کی اچھی خاصی دوستی تھی بیویوں کے تعلقات سے انہیں فرق نہیں پڑتا تھا وہ آج بھی اول روز کی طرح ہی ساتھ تھے۔۔۔۔۔

ذندگی یوں ہی اپنی ڈگر پہ رواں دواں تھی کچھ عرصے بعد۔۔۔۔۔الّٰلہ نے ارحم کی صورت میں جویریہ کی جھولی خوشیوں سے بھر دی۔۔۔۔۔یہ ان سب لوگوں کی ذندگیوں میں ایک خوبصورت اضافہ تھا اس لیے ۔۔۔یہ احسن کے ساتھ ساتھ ملک اور فیض کا بھی بہت لاڈلا تھا کیونکہ ان دونوں کی ذندگیوں میں ابھی تک اولاد کی خوشی نہیں تھی۔۔۔۔وقت گزرتا گیا اور ارحم چھ سال کا ہو گیا اور جویریہ کو ایک دفعہ پھر ماں بننے کی خوشی ملی لیکن اس دفعہ اس خوشی میں فرح اور انیتا بھی شامل تھی جویریہ کے ہاں اس دفعہ بھی بیٹا ہی ہوا تھا جس کا نام اس نے آصف رکھا تھا اور فرح کے بیٹے کا نام انزق رکھا تھا البتہ انیتا کی دفعہ کچھ پیچدگیوں کی وجہ سے اب وہ دوبارہ ماں نہیں بن سکتی تھی لیکن خدا نے اسے بھی اس دفعہ بیٹے کی نعمت سے نوازا تھا جس کا نام شاہان رکھا تھا اور یہ تینوں بچے ان تینوں کے لیے ہی خوش قسمت ثابت ہوۓ تھے۔۔۔۔۔وہ تینوں اب کپٹین سے میجر بن چکے تھے

سب کی ذندگیاں نارمل تھی جب کسی ایک کی ذیادہ کی لالچ نے سب تباہ کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔ان دنوں ملک کے مشاغل کچھ مشکوک تھے ابتدا۶ میں ان دنوں نے کچھ خاص توجہ نہ دی لیکن ایک دن احسن شاہ کے ہاتھ کچھ ایسا لگا جو نہیں لگنا چاہیۓ تھا ایک میل جس میں بہت سی حساس معلومات تھی جو امریکہ کی ایجسنی کو شیٸر کی گٸ تھی اس نے ملک سے بات کرنے کی کوشش کی تو ملک نے صاف انکار کر دیا انہیں دنوں فیض کے ہاتھ بھی بہت کچھ لگا۔۔۔وہ دنوں جان چکے تھے کہ ملک اب وہ ملک نہیں رہا وہ غدار بن چکا تھا

لہازہ ان دونوں نے ملک کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ باضد تھا اور یوں ان تینوں کے درمیان جھگڑے بڑھنے لگے اور نوبت لاتعلقی سے ہوتے ہوۓ قانونی کارواٸی پر پہنچ گٸ

ملک کو تین سال سزا ہوٸی تھی لیکن وہ تین ماہ بعد ہی نکل آیا تھا اور کوٸی نہیں جانتا تھا کہ۔۔۔۔۔وہ اب کیا کرنے والا ہے۔۔۔۔۔

”تمہیں بتاٶں سب سے خطرناک دشمن کون ہوتا ہے“؟؟

”جو کبھی تمہارا دوست رہ چکا ہو۔۔۔۔۔“

جیل سے نکلنے کے بعد اس نے سب سے پہلے میجر فیض عالم کو ٹارگٹ کیا تھا اس کا ہدف احسن بھی تھا لیکن اس کی خوش قسمتی تھی کہ وہ بچ نکلا تھا

فیض کو اس کے سامنے ہی گولیاں لگی تھی اور وہ اپنے ہاتھوں سے اسے ہسپتال لے کے گیا تھا اور وہاں اپنی ذندگی کی آخری سانسوں میں اس نے احسن سے جو وعدہ لیا تھا۔۔۔۔اس نے بہت کچھ بدل دیا تھا

احسن جویریہ کی دیوانگی سے اچھی طرح واقف تھا لیکن وہ اپنے دوست سے وعدہ کر چکا تھا۔۔۔۔

ان دنوں فرح امید سے تھی لیکن پیدا ہونے والا بچہ اپنے باپ کے ساۓ سے محروم ہوچکا تھا

اور پھر احسن نے کچھ بھی سوچے سمجھنے بغیر فرح کی عدت ختم ہونے کے بعد اس سے نکاح کر لیا تھا وہ اس کے نتاٸج جانتا تھا اور توقع کے مطابق ایسا ہی ہوا تھا۔۔۔

جب جویریہ کو پتہ چلا تھا تو وہ جیسے پاگل ہی ہو گٸ تھی۔۔۔۔۔ہذیانی کیفیت میں اس نے فرح کے گھر میں توڑ پھوڑ کی تھی اور احسن کو اپنے اور فرح میں سے کسی ایک کے انتخاب کا کہا تھا اور یہ فیصلہ احسن شاہ کی ذندگی کا سب سے مشکل فیصلہ تھا پھر اس نے اپنا وعدہ نبھایا تھا اور۔۔۔۔۔جویریہ کو چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔ان دنوں اللہ نے فرح کو بیٹی جیسی رحمت سے نوازا تو اس کے دکھوں میں کمی آٸی احسن کے لیے یہ بہت خوشی کی بات تھی اس کی اپنی کوٸی بیٹی نہیں تھی اور یہ چھوٹی گڑیا اس کے دوست کی آخری نشانی تھی۔۔۔۔۔جس کا نام اس نے نھار رکھا تھا

احسن شاہ اور جویریہ کی طلاق کے بعد اس نے ارحم کو اپنے پاس رکھ لیا تھا اور آصف جویریہ کے پاس تھا۔۔۔۔

احسن اس بات سے بے خبر تھا کہ جویریہ کے دل میں بدلے کی آگ بھڑک رہی ہے جس کے لیے اس نے ملک کے ساتھ رابطہ کیا تھا اس وقت ملک کے علاوہ اس کی کوٸی مدد نہیں کر سکتا تھا

اور یہاں سے ایک نٸ کہانی کا آغاز ہوا تھا

وہ آصف کو اپنے مذموم ارادوں کے لیے استعمال کرنے لگی تھی اس کے اور ملک کے مفادات ایک تھے مگر ملک آصف کو اس مقصد میں استعمال کرنے کے خلاف تھا لیکن جویریہ احسن شاہ کو آصف سے توڑنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔

لیکن اس کی ان نادانیوں نے آصف کی ذات پر بہت گہرا اثر کیا تھا

وہ دوسرے بچوں سے مختلف تھا کم گو۔۔۔۔۔لے دے کے رہنے والا اسے بہت کم لوگوں نے ہنستا ہوا دیکھا تھا

اور ارحم کے چلے جانے کے بعد وہ یوں بھی ذیادہ افسردہ ہو گیا تھا

ابتدا۶ میں وہ احسن کے پاس جانے کی ضد کرتا تھا لیکن کچھ وقت بعد وہ ملک کے ساتھ کافی اٹیچڈ ہو گیا تھا۔۔۔۔۔

اور ملک اس سے

اور یہ ملک کی برین واشنگ کا ہی نتیجہ تھا کہ۔۔۔۔۔جیسے جیسے وہ بڑا ہو رہا تھا اس کے دل میں احسن شاہ کے لیے نفرت پیدا ہو رہی تھی

البتہ۔۔۔۔۔ارحم کے لیے اس کے جذبات ویسے ہی تھے وہ دونوں اکثر۔۔۔۔۔اسکول کے بعد ملا کرتے تھے۔۔۔۔اور اس وقت ارحم کے ساتھ آصف کا ہی ہم عمر ایک صحت مند بچہ اور ایک گول مٹول چھوٹی سی بچی ہوا کرتی تھی۔۔۔۔۔۔

بچی کی عمر بہت کم تھی بامشکل تین سال۔۔۔۔۔

آصف کو ان بچوں سے شدید چڑ تھی پھر وہ ان کی موجودگی میں وہ ارحم سے بھی نہیں ملتا تھا

لیکن وہ ارحم سے ملتا ضرور تھا اور یہی بات ملک کو کھٹکتی تھی

اسے اندیشہ تھا کہ اگر وہ دونوں یوں ہی ملتے رہے تو بہت جلد آصف ۔۔۔۔احسن کے پاس لوٹ جاۓ گا اور یوں اس نے ایک نٸ چال چلی تھی آصف کے دل میں انزق کے لیے نفرت پیدا کرنے کی۔۔۔۔۔

وہ ایک افسردہ سی دوپہر تھی۔۔۔۔۔جب۔۔۔۔۔انزق اور ارحم اور نھار آور ٹاٸم کے لیے۔۔۔۔اسکول میں بیٹھے تھے۔۔۔۔اسکول تقریباً ویران ہو چکا تھا وہ دونوں ڈراٸیور کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔۔

آصف باہر گاڑی میں بیٹھا ارحم کے اسکول سے باہر نکلنے کا انتظار کر رہا تھا ایسے میں کوٸی اور دھاک لگاۓ بیٹھا تھا۔۔۔۔

ملک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اندر اسکول کے اس کمرے کی کھڑکی کی جانب بڑھا اور کھڑکی پھلانگ کے اندر داخل ہوا۔۔۔۔ارحم کے ساتھ ساتھ انزق اور نھار بھی اس نقاب پوش کو دیکھ کے دبک کے پیچھے ہٹ گۓ ۔۔۔۔۔۔ملک کے ہاتھ میں پستول تھا جس کے تین فاٸر اس نے ارحم کے سینے میں کیے تھے ملک کی نھار کی طرف پیٹھ تھی۔۔۔۔نھار کی آنکھوں میں خوف ابھرا۔۔۔۔اور ارحم کی دلخراش چیخوں سے پورا ۔۔۔۔۔اسکول گونج اٹھا

ملک وہی پستول انزق کے قریب پھینک کے کھڑکی پھلانگ کے جاچکا تھا۔۔۔۔

فاٸر کی آواز سن کے آصف کے سمیت بہت سے لوگ اس طرف بڑھے تھے

اور اندر کا منظر تکلیف دہ تھا۔۔۔۔

وہی کرسی پہ ارحم کی خون آلودہ لاش تھی اور پاس انزق کھڑا تھا۔۔۔۔۔

”میری بات سنو آصف تمہیں غلط لگ رہا ہے۔۔۔۔“میں نے ایسا کچھ نہیں کیا

اس نے ہاتھ اٹھا کے صفاٸی دی۔۔۔۔۔

لیکن آصف کی نظریں وہی جمی تھی۔۔

آصف کے سمیت سب لوگ انزق کو ہی قاتل سمجھ رہے تھے

لیکن صرف نھار جانتی تھی کہ اصلی قاتل وہ شخص تھا جس کی گردن پہ کالے بچھو کا نشان تھا

احسن شاہ بہت مشکل سے قانونی کارواٸیوں سے نبٹے تھے وہ جانتے تھے یہ سب کون کر رہا ہے لیکن ان کے پاس کوٸی پختہ ثبوت نہیں تھا اور نہ ہی وہ جانتے تھے کہ ملک اب کدھر ہے۔۔۔۔“؟؟

انہوں نے انزق کو بچا لیا تھا اور اس بات نے آصف کی نفرت میں اضافہ کیا تھا۔۔۔۔۔وہ انزق کو اپنے بھاٸی کا قاتل سمجھتا تھا۔۔۔۔

احسن شاہ نے انزق پہ اسی طرح محنت کی تھی جیسے انہیں ارحم پہ کرنی تھی۔۔۔۔

اور یہ انہیں کی محنتوں کا نتیجہ تھا کہ وہ آرمی میں کپٹین کی حیثیت سے اپاٸنٹ ہوا تھا

اس بات سے بے خبر کہ ۔۔۔۔اس کا اپنا بیٹا آصف مافیہ کا ایک جانا پہچانا نام بن چکا تھا۔۔۔۔

جویریہ اس پہ بھی مطمٸین تھی کم از کم ان کا بیٹا احسن شاہ سے بدلہ لینے کے لیے تیار تھا اس نے آصف کی ذمہ داری ملک کو سونپ دی تھی اور یہاں سے ایک نیا کھیل شروع ہوا تھا

ملک اب جویریہ میں قطرہ قطرہ زہر انڈھیلنے لگا تھا وہ جویریہ کو اس قسم کی زہر دیتا تھا جو اندر ہی اندر اسے ختم کر رہی تھی۔۔۔۔۔

اور جس کی وجہ سے وہ اکثر چڑچڑی رہتی تھی۔۔۔۔۔

اور آصف کو یہ لگتا تھا شاید وہ ڈپریشن کا شکار ہے۔۔۔۔

وہ زہر انہیں اندر سے ختم کر گٸ اور ایک رات وہ ایسا سوٸی کہ صبح اٹھی ہی نہیں۔۔۔۔۔

آصف نے اور ملک نے جب پوسٹ مارٹم کروایا تو ڈاکٹر یہ جان گیا تھا لیکن ملک نے پیسے دے دلا کے یہ بات یہ کہہ کر ختم کروا دی۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔یوں ڈاکٹر نے خودکشی کی رپورٹس بنا کے آصف کے حوالے کر دی

آصف کو آج تک محض یہ پتہ تھا کہ انہوں نے نیند کی گولیاں کھا کے خودکشی کی ہے۔۔۔۔۔

آصف نے وہ گھر اپنی ماں کی وفات کے بعد چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔۔

جب اچانک ایک روز اس کی۔۔۔۔۔لڑکیوں کی اسمگلنگ پکڑی گٸ۔۔۔۔

اس دن ملک کے ذریعے اسے کپٹین انزق کا پتہ چلا تھا

یہ نام اس کے لیے جانا پہچانا تھا

ابتدا۶ میں ایلاف کو لانے کا مقصد صرف مطالبات منوانا تھا

لیکن جب وہ اس بات کی گہراٸی میں گیا تو اس پر انزق کی حقیقت واضح ہوٸی اور وہاں سے یہ دشمنی نفرت میں بدل گٸ۔۔۔۔

ملک ابتدا۶ سے انزق کو جانتا تھا اس نے جان کے اس دن اسمگلنگ رکواٸی اور نام انزق پہ دے دیا

وہ صرف آصف کو انزق سے اور انزق کو آصف سے متعارف کروانا چاہتا تھا اور وہ اس میں کافی حد تک کامیاب بھی ہو چکا تھا۔۔۔۔

لیکن نھار کے آنے کے بعد سب خراب ہونے لگا تھا۔۔۔۔۔

انزق کا نکاح اس کی خالہ ذاد ایلاف سے ہو چکا تھا سب ٹھیک تھا جب ایک دن نھار کو اس کے کالج کے باہر سے اغوا۶ کر لیا گیا تھا ۔۔۔۔۔وہ اغوا۶ کاروں کی گرفت سے بچ نکلی لیکن وہ ایک ایسے خاوند بیوی کے ہاتھ لگ گٸ جنہوں نے خود کو اس کے ماں باپ بنا کے کوٹھے میں بیچ دیا تھا اور یہاں سے وہ ایک دفعہ پھر آصف شاہ کی طرف لوٹ گٸ تھی۔۔۔۔

آصف اور نھار دونوں اس بات سے بے خبر تھے لیکن ملک کسی کھوج میں تھا اور آخر کار اسے وہ سوراخ مل گیا تھا وہ جان چکا تھا کہ نھار فیض عالم کی بیٹی ہے۔۔۔۔

لیکن تب تک دیر ہو چکی تھی۔۔۔۔وہ آصف کے دل میں جگہ بنا چکی تھی۔۔۔۔۔

آصف اسے لاکھ جھٹلاۓ لیکن ملک جانتا تھا کہ آصف اس کے لیے کوٸی جذبات رکھتا ہے۔۔

اس کا بنیادی مقصد اب۔۔۔۔”نھار“ سے پیچھا چڑھانا تھا تو دوسری طرف نھار ملک کی اصلیت آصف کے سامنے لانا چاہتی تھی اور ایک طرف انزق ”آصف“ کی جان لینا چاہتا تھا اور آصف ہر بات سے بے خبر تھا

کمرے میں سکون بھری خاموشی چھاٸی ہوٸی تھی۔۔۔۔بیڈ پہ آلتی پالتی مارے نھار بیٹھی تھی پرسوچ نظریں صوفے پہ بیٹھے مصروف سے آصف پر جما رکھی تھی۔۔۔۔۔

جو ٹراٶزر اور شرٹ پہنے بکھرے بالوں کے ساتھ پرسکون سا نظر آرہا تھا۔۔۔۔۔

کسی کی نظروں کی تپش محسوس کر کے اس نے سر اٹھایا تھا تو نھار کو اپنی طرف دیکھتا پا کہ چونک گیا۔۔۔۔۔

کچھ کہنے کے لیے زبان کھولی پھر نظر انداز کر کے دوبارہ موباٸل پر مصروف ہو گیا

لیکن کچھ دیر بعد بھی جب اس نے نظریں نہ ہٹاٸی تو۔۔۔۔۔اس نے دوبارہ سر اٹھایا۔۔۔۔

”نھار میرے چہرے پر کیا کچھ ایسا ہے جو دوسرے انسانوں سے مختلف ہے۔۔۔۔“؟؟

موباٸل ایک طرف اچھالتے ہوۓ اس نے بظاہر سنجیدگی سے کہا تھا لیکن اس کے لہجے سے لگ رہا تھا وہ چڑ چکا ہے۔۔۔۔۔

”ہاں آپ کی ناک۔۔۔۔۔تھوڑی بڑی ھے۔۔۔۔“

اس نے بھی بڑی سہولت سے جواب دیا

آصف اس کی جرأت دیکھ کر حیران ہو گیا

”ایک منٹ میرے پاس کچھ ہے جو میں آپ کو دیکھانا چاہتی ہوں۔۔۔۔“

اسے حیرت ذدہ چھوڑ کر وہ بیڈ سے اٹھنے لگی پھر الماری کھول کر اس میں سے ایک تہہ شدہ پیپر نکال کر آصف کے سامنے رکھا

آصف نے ایک ابرو سوالیہ اٹھا کر پہلے نھار کو پھر کاغذ کو دیکھا پھر اٹھا کر پڑھنے لگا اور جیسے جیسے وہ پڑھتا گیا اس کی آنکھیں حیرت سے پھیلنے لگی۔۔۔۔

”اور تم چاہتی ہو میں اس پہ ساٸن کروں۔۔۔۔“

اس نے سر اٹھا کے اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر پوچھا

نھار سمجھ نہ سکی کہ وہ پوچھ رہا ہے یا طنز کر رہا ہے

اس نے اعتماد سے سر ہلا دیا

”اور تم کیوں چاہتی ہو میں اس پر ساٸن کرو۔۔۔۔“؟؟

اس نے ہاتھ باندھ کر بڑی فراغت سے پوچھا۔۔۔۔۔

”کیونکہ مجھے آپ پر اعتبار نہیں ہے۔۔۔۔۔“

اس نے کچھ ہچکچاتے ہوۓ کہا کہیں وہ غصہ نہ کر جاۓ۔۔۔۔۔

اور اس نے اس دفعہ کچھ طنزیہ سی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ اسے دیکھا پھر اس نے ساٸیڈ ٹیبل کا دراز کھول کے ایک پن نکالا اور بغیر پڑھے اس پر ساٸن کر دیا

نھار حیران سی کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔

وہ اس چیز کی توقع نہیں کر رہی تھی اسے لگ رہا تھا آصف اس سے اور سوال پوچھے گا ۔۔۔“لیکن اس نے بغیر پڑھے ہی ساٸن کر دیا تھا

وہ اب اس کی طرف کاغذ بڑھا رہا تھا۔۔۔۔

”آپ اسے پڑھ تو لیتے۔۔۔۔“

کاغذ ہاتھ میں لیتے ہوۓ اس نے اپنی حجالت چھپاتے ہوۓ کہا۔۔۔۔

اس کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ مجھے تم پر اعتبار ہے۔۔۔۔“

بہت نارمل سے لہجے میں کہتے ہوۓ اس نے ایک دفعہ پھر موباٸل ہاتھ میں پکڑ لیا تھا

اور نھار نے اس کے لہجے میں چھپا طنز تلاشنے کی کوشش کی پر مایوس ہو گٸ۔۔۔۔

وہ وہی شرمندہ شرمندہ سی کھڑی رہ گٸ۔۔۔۔

آصف شاہ کو سمجھنا مشکل تھا

کیونکہ وہ عجیب تھا، بہت عجیب۔