Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes NovelR50560 Professor Shah (Last Episode)Part 3
Rate this Novel
Professor Shah (Last Episode)Part 3
Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes
حیدر اب کافی بہتر تھا۔پولیس نے حیدر کا بیان لے لیا تھا جبکہ ان لوگوں نے بہارے گل کو بیان نہیں دینے دیا تھا۔ شازل انھیں لیتا گھر چھوڑ آیا تھا۔
اسے عسکری نے کال کرکے دانین کے مل جانے کی خوشخبری بھی دے دی تھی جسے سن کر اسے سکون مل گیا تھا۔ اس سب کاموں میں اسے صبح کے پانچ بج گئے تھے۔وہ واپس اپارٹمنٹ جاتا نورے کو دانین کت مل جانے کا میسج کرتا کچھ دیر کے لیے سو گیا تھا۔ اس کا ارادہ صبح اٹھ کر فورا نورے کو لینے جانے کا تھا۔
وہ فریش ہوتا سب کو بتاتا وہاں سے نکل گیا تھا۔اس کا ارادہ نورے کے ساتھ دانین کو ہوسپٹل دیکھنے جانے کا تھا۔باقی گھر والے بھی دانین سے ملنے جانے والے تھے۔
شاہزیب کے گھر پہنچتے وہ گارڈ کو دیکھتا سر ہلاتا اندر جا رہا تھا جب اسے چیخنے کی اونچی اونچی آوازیں سنائی دینے لگی تھیں۔جس میں واضح آواز فاطمہ بیگم اور نورے کی تھیں۔
“یہ میرے بھائی کا گھر ہے میرا جب دل چاہے گا میں یہاں آوں۔۔آپ ہوتی کون ہیں مجھے تانے دینے والی۔۔اپنی حد میں رہیں۔۔”
نورے چیختی ہوئی بولی تھی۔افرحہ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو وہ سو رہی تھی اس لیے وہ خود ہی ناشتہ کرنے نیچے آگئی تھی۔شاہزیب اور میر شاہ آفس گئے ہوئے تھے اور سب کی غیر موجودگی میں فاطمہ بیگم ناگن بنی ہوئی تھیں۔
“تم بدذات۔۔ لڑکوں کو پھنسانے والی بدکردار لڑکی مجھے میری حد بتاو گی۔۔”
وہ غلاظت بکتی نورے کو تھپڑ مارنے لگی تھیں جب شازل نے ان کا ہاتھ پکڑتے جھٹکے سے انھیں نورے سے دور دھکیلا تھا۔وہ لڑکھڑاتی ہوئی بمشکل گرنے سے بچی تھیں۔
“دوبارہ میری بیوی کے سو فٹ کے قریب بھی آپ بھیٹکتی ہوئی دکھائی دیں تو اسالٹ کے کیس میں جیل بھجوا دوں گا۔۔ساری زندگی وہاں سڑتی رہیں گی اور اگر ایسا نہ ہوا تو خود میں آپ کی زندگی حرام کردوں گا۔۔یہ میں جو لحاظ کر رہا ہوں صرف شاہزیب کی وجہ سے کر رہا ہوں ورنہ آپ جیسے لوگ عورت کہلانے کے لائق نہیں ہوتے۔۔”
وہ نورے کو اپنے قریب کرتا انگلی اٹھا کر سرد پن سے بولا تھا۔شازل کی باتوں اور جنونی اندازہ سے خوفزدہ ہوتی وہ پھر بھی اپنی زبان روک نہیں پائی تھیں۔
“پھر اپنی اس بیوی کو رکھو اپنے پاس بار بار ہمارے پاس کیوں چھوڑ دیتے ہو۔۔”
وہ زہر خند لہجے میں بولی تھیں۔
“یہ کیا ہو رہا ہے یہاں؟”
اس سے پہلے کے شازل جواب دیتا افرحہ نے نیند سے بھری آواز میں پوچھا تھا۔چیخنے اور چلانے کی وجہ سے وہ اٹھ گئی تھی۔
“بھابھی شاہزیب کو بتا دینا جس گھر میں یہ عورت رہے گی اس گھر میں اب میری بیوی دوبارہ قدم نہیں رکھے گی۔۔اگر اسے ملنا ہوا تو ہمارے گھر آکر نورے سے مل لے مگر اب وہ یہاں نہیں آئے گی۔۔”
شازل سنجیدگی سے بولا تھا۔
“اچھا بھائی آپ بیٹھیں تو صحیح۔۔”
وہ فاطمہ بیگم کو دیکھتی ساری بات سمجھ گئی تھی۔
“نہیں ہم بس جا رہے ہیں۔۔”
شازل منع کرتا نورے کا سارا سامان اس کے کمرے سے پیک کرکے منٹوں میں ہی لے آیا تھا۔وہ فاطمہ بیگم کو اگنور کرتا افرحہ کی طرف دیکھ کر احترام سے سر ہلاتا چلا گیا تھا۔
“آپ کو بھی سکون نہیں ملتا آنٹی۔۔آپ جو ہوگا وہ آپ کی اپنی وجہ سے ہوگا۔۔”
افرحہ ان کی طرف دیکھتی نفی میں سر ہلاتی واپس اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔
اور واقع اس کے بعد ان کے گھر بہت بڑا حشر ہوا تھا۔نورے نے بچپن میں کی گئی فاطمہ بیگم کی ساری زیادتیاں شاہزیب کو بتا دیں تھیں۔اس نے ساری باتیں میر شاہ کو بھی بتائیں تھی مگر وہ یقین کرنے کو تیار نہیں تھے۔۔شاہزیب نے افرحہ کی سیفٹی کے لیے الگ گھر لے لیا تھا۔جس میں وہ دونوں خوش تھے۔فاطمہ بیگم کی وجہ سے جو تناو رہتا تھا وہ اس سے آزاد ہوگئے تھے۔میر شاہ اور شاہزیب صرف آفس میں بات چیت کرلیا کرتے تھے۔اس کے علاوہ ان دونوں کا رشتہ پہلے جیسا ہوگیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
(ایک مہینے بعد)
دانین اللہ پاک کے کرم سے بالکل صحت یاب ہوتی واپس آچکی تھی۔ گھر کا ماحول کافی اچھا ہو گیا تھا۔سب ہی پرسکون نظر آرہے تھے۔زرکشہ اور احمد کافی حد تک ایڈجسٹ ہوگئے تھے۔
زرکشہ نے ایک دن ہمت کرکے شاہزیب کو فون کرکے ڈینیل کا پوچھا تھا جس سے اسے اس کے مرنے کی کنفرم نیوز ملی تھی۔وہ تو یہ خبر کنفرم ہونے پر گم صم سی ہوگئی تھی اسی دوران اسے پتا چلا تھا شاہزیب شازل کی بیوی نورے کا بھائی ہے۔۔جس سے اسے کافی حیرت ہوئی تھی۔
وہ ڈینیل کو جتنا بھولانے کی کوشش کر رہی تھی اس کی یادیں اتنا ہی اس کے سر پر سوار ہورہی تھیں۔ملائکہ اور باقی گھر والوں کی وجہ سے اس کا دھیان کافی بھٹک جاتا تھا مگر آخر رات کو پھر اس کی یادیں اس پر قابض ہوجاتی ہیں۔
احمد کو انھوں نے آگے کالج میں ایڈمیشن لے دیا تھا اور زرکشہ کو بھی یونیورسٹی میں داخل کروا دیا تھا۔
صب لوگ خوشی خوشی باہر لان میں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔جب اچانک گیٹ کھلنے کی آواز سنتے سب کا دھیان بائیں طرف گیا تھا۔حیدر کو دیکھتے سب دوبارہ اپنی باتوں میں مصروف ہوگئے تھے جب اچانک گل خان نے چائے پیتے دوبارہ اس کی طرف دیکھا تھا اور چائے کا کپ ان کے ہاتھوں سے زمین پر گر گیا تھا۔
“ب۔۔بہار؟”
“ب۔۔بہارے؟”
وہ کانپتی آواز میں بولی تھی سب کا دھیان بہارے گل کی طرف گیا تھا سب کے ہی چہروں کے رنگ اڑ گئے تھے۔
“ہماری بیٹی ہی ہے بیگم۔۔”
محب خان کی بات پر وہ کانپتی ہوئی اٹھ کر اس کی طرف بھاگی تھیں۔اس کے قریب جاتے ہی انھوں نے اسے گلے لگاتے اس کا منہ ور ہاتھ چومنا شروع کر دیے تھے۔۔
“مما۔۔آئی ایم سو سوری۔۔”
وہ ان کو زور سے گلے سے لگاتی ہوئی روتے ہوئے بولی تھیں۔دانین ساکت سی روحان کے ساتھ کھڑے بہارے گل کو دیکھ رہی تھی۔
“ی۔۔یہ کیسے ممکن ہے۔۔؟؟ تم کہا تھی اتنا عرصہ۔۔؟”
انھوں نے اسے مضبوطی سے تھامتے روتے ہائے پوچھا تھا جب پیچھے سے آتے محب خان نے انھیں پکڑتے سنبھالا تھا۔
“بہارے کی حفاظت کے لیے ہم نے اسے سب سے دور رکھا تھا۔۔ باقی میں آپ کو بعد میں بتا دوں گا۔۔”
محب خان کی بات پر گل خان نے مڑ کر انھیں شکوہ کن نظرو سے دیکھا تھا۔
“مما پلیز بابا کو کچھ مت کہیے گا یہ میرا فیصلہ تھا۔”
“بالکل مما۔۔ یہ آپ کی گڑیا کا فیصلہ تھا۔۔”
شازل نے مسکراتے ہوئے بول کر اسے سینے سے لگایا تھا۔حملے کے بعد سے وہ ساری ناراضگیاں بھول گیا تھا۔
“بھابھی کیسی ہیں آپ؟”
شازل سے مل کر بہارے گل نے نورے کو گلے لگایا تھا جس سے وہ تین چار بار مل چکی تھی۔
“میں ٹھیک۔۔ جناب آپ تو دن با دن خوبصورت ہوتی جارہی ہیں ماشااللہ “
بہارے گل کو ملتے نورے نے اس کی تعریف کی تھی جس پر وہ مسکرا اٹھی تھی۔اس کے بعد بہارے گل آغا خان سمیت باقی سب سے ملی تھی سوائے دانین کے۔۔آغا خان کو شیر زمان کے واقعہ کے بعد محب خان نے سب کچھ بتا دیا تھا جس کی وجہ سے اس کے زندہ ہونے کا علم آغا خان سمیت ملائکہ کو بھی تھا جن کا رشتہ کافی بہتر جا رہا تھا وہ دونوں ایک دوسرے کو موقع دے رہے تھے۔
“بہار۔۔”
دانین نے اسے پکارا تھا۔وہ اس کی طرف بڑھ رہی تھی جب ہاتھ اٹھاتے اس نے دانین کو روک دیا تھا۔
“مجھے معاف کردو پلیز۔۔”
دانین التجائیہ بول رہی تھی سب خاموش کھڑے تھے کیونکہ یہ ان دونوں کے درمیان کا معاملہ تھا۔
“میں تمھیں کبھی معاف نہیں کرپاوں گی دانین۔۔۔ کیونکہ وہ اذیت اب تک میرے ساتھ ہیں۔۔تمھاری وجہ سے سب سے زیادہ تقصان میرے حصے میں آیا تھا اور یہ میں بھول نہیں سکتی۔۔”
بہارے گل اسے معاف نہیں کرنا چاہتی تھی اس بات سے بےخبر کے آنے والے وقت میں کیسے ان کے بچے ایک دوسرے کا وقت بدلیں گے۔۔جہاں آج دانین تھی وہاں ان کی اولاد کی وجہ سے بہارے گل ہوگی۔
اس کی بات سنتے دانین کی آنکھوں سے بےساختہ آنسو نکلنے لگے تھے۔اسے پتا چل گیا تھا بہارے گل کبھی اسے معاف نہیں کرے گی۔۔اس کا سیاہ مرضی ساری زندگی اس کے ساتھ رہے گا۔۔
روحان دانین کو چپ کرواتا اندر لے گیا تھا جبکہ باقی سب باتوں میں دوبارہ مصروف ہوگئے تھے۔یہ اختلاف تو اب ساری زندگی رہنا تھا۔۔
“شازل بات سنو۔۔”
حیدر کے بولنے پر وہ زرا سائیڈ پر ہوگئے تھے۔
“تمھیں یاد ہے تم نے بتایا تھا کہ فیاض کو کسی نو سال کے بچے نے قتل کیا تھا؟”
“ہاں۔۔پتا نہیں کون تھا عسکری کو اس کے بارے میں کچھ ہتا نہیں چل پایا تھا۔” شازل نے جواب دیا تھا۔
“مجھے پتا ہے وہ کون ہے۔۔”
حیدر نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے کہا تھا۔
“کون ہے؟”
“جب میں نے بہار کو بچایا تھا تو وہاں ایک اور وکٹم تھی۔۔وہ اس کا چھوٹا بھائی حازم ہے۔۔ میں نے پتا کروایا ہے۔۔”
حیدر نے گہرا سانس لیتے کہا تھا۔
“تمھیں ہتا ہے وہ بچہ کہاں ہے؟ اگر تمھیں پتا ہے تو بتا دو۔۔ میں اس کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔۔”
شازل نے فورا پوچھا تھا۔
“ہاں۔۔چوری کے جرم میں جیل میں ہے۔۔” حیدر نے پریشانی سے بتایا تھا۔
“تم مجھے ڈیٹیل دے دو۔۔ میں شاہزیب سے کہوں گا اپنے اے ایس پی دوست کی مدف لے کر اس بچے کو چھڑوا دے۔۔”
شازل کی بات پر حیدر نے سر ہلایا تھا۔اسے تھوڑا سکون ملا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
(ایک سال بعد)
آج زرکشہ کے نکاح کا دن تھا۔انھیں ایک بہت اچھا رشتہ زرکشہ کے لیے ملا تھا جس کی انھوں نے زرکشہ سے پوچھ کر ہاں کردی تھی۔
زرکشہ سکن گولڈن جوڑے میں تیار ہوئی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ڈینیل کی یادوں نے اس کا اب تک پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔وہ رو رو کر اللہ سے اس کی حفاظت کی دعائیں مانگتی رہتی تھی کہ کاش وہ زندہ ہو۔۔مگر وہ کاش صرف کاش ہی رہا تھا۔
گھر والوں نے اسے لڑکے کی تصویر دکھانے کی کوشش کی تھی مگر اسے دیکھنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی تھی۔
“بہت پیاری لگ رہی ہے میری گڑیا۔۔”
ملائکہ نے اس کا ماتھا چومتے پیار سے کہا تھا جس پر وہ دھیرے سے مسکرائی تھی۔
“وقت ہوگیا ہے بڑی مما۔۔”
نورے نے اندر آتے کہا تھا۔ گولڈن کامدار فراک میں وہ دمک رہی تھی۔ اس کے ساتھ افرحہ نے بھی سیم فراک پہنا ہوا تھا دونوں کی میچنگ تھی۔
اس کے پیچھے ہی دانین اندر آئی تھی۔جس نے ٹی پنک میکسی پہنی ہوئی تھی۔
سب اسے تھامتے نیچے لے گئے تھے۔
“میں لیٹ تو نہیں ہوگئی۔۔”
جلدی سے ان کے قریب آتے بہارے گل نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا جس پر نورے نے نفی میں سر ہلایا تھا۔ زرکشہ کو بیٹھاتے نکاح کی رسومات شروع ہوئی تھیں۔آغا خان اس کے والد کی حیثیت سے ان کے ساتھ تھے۔جبکہ احمد بائیں جانب اس کے پاس کھڑا تھا۔
دیکھتے ہی دیکھتے اس کا نکاح ہوگیا تھا۔
“موسی بھائی جلدی سے دلہن کو دیکھ لیں۔۔”
کسی کزن نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔
پھولوں کی لڑیاں ہٹاتے موسی نے بہارے گل کا گھونگھٹ ہٹاتے اس کے ماتھے کو چوما تھا۔زرکشہ آنکھیں جھکاتے بری طرح کانپ رہی تھی۔
“ماشااللہ۔۔!!”
“You are looking so beautiful my love!”
جانی پہنچانی آواز سن کر زرکشہ نے جھٹکے سے سر اوپر اٹھایا تھا۔ اس کی آنکھیں پھیل گئی تھی۔
“ڈ۔۔ڈینیل۔۔”
“یس مسز۔۔ مگر اب اس بندہ ناچیز کو موسی کہتے ہیں۔۔”
وہ مسکراتا ہوا انگلش میں بولتا اسے بہت حسین لگا تھا۔اس کی آنکھیں بےاختیار آنسو سے بھرنے لگی تھیں۔سب اس کے جذبات سمجھ سکتے تھے کیونکہ ڈینیل عرف موسی انھیں سب کچھ بتا چکا تھا۔اور احمد تو زرکشہ کی حالت سے واقف تھا۔وہ موسی کے ساتھ راضی تھا۔
“ایکسکیوز می۔۔”
موسی بولتا ہوا سب کی ہوٹنگ کی آوازوں میں زرکشہ کو ان سب سے دور لے آیا تھا۔
“کہاں تھے آپ اور موسی؟ کیا اب آپ مسلم ہیں؟”
اس نے حیرت سے پوچھا تھا۔
“ہاں الحمداللہ میں مسلم ہوں اب۔۔”
وہ مسکراتا ہوا بولا تھا پھر اس نے اسے بتایا تھا کیسے بروقت اس کے آدمیوں نے وہاں پہنچ کر اسے بچالیا تھا مگر اس کی حالت ناساز ہونے کی وجہ سے انھوں نے سب سے چھپا کر رکھا تھا۔وہ ٹھیک ہونے کے بعد اپنا سب کچھ اپنے سیکنڈ ہینڈ کے نام کرکے پاکستان آگیا تھا۔اس نے پاکستان آکر شاہزیب سے رابطہ کیا تھا۔وہ زرکشہ سے ملنا چاہتا تھا مگر اسے اسلام کے بارے میں تجسس تھا جس کے بارے میں اس نے جاننا شروع کیا تھا اور پورے چھ مہینوں بعد اس نے اسلام قبول کرلیا تھا وہ چار مہینوں سے مسلمان تھا اور ساری عبادات سیکھ چکا تھا۔۔
“جب مجھے لگا میں تنھارے قابل ہوں تب میں نے شاہزیب کی مدد سے تمھارے لیے رشتہ بھیجا تھا۔سب جانتے تھے میں تم سے محبت کرتا ہوں۔۔ مگر آغا خان نے پھر بھی مجھ سے سخت امتحان لینے کے بعد ہی مجھے ہاں کیا تھا۔۔”
اس کی آخری بات پر مسکراتی وہ روتے ہوئے زور سے اس کے گلے لگی تھی۔
“آئی مس یو سو مچ اینڈ آئی لو یو سو مچ موسی۔۔ آپ کے بنا ہر دن مشکل لگتا تھا۔۔ میں رو رو کر الله پاک سے آپ کے زندہ ہونے کی دعائیں مانگتی رہی ہوں اور دیکھ لیں الله پاک نے میری سن لی آج آپ میرے محرم کی حیثیت سے میرے ساتھ ہیں۔۔”
اس کی بات پر موسی نے اس کے گرد اپنی بازوں کا گھیرا تنگ کیا تھا۔
“آئی لو یو ٹو۔۔کوئی دن ایسا نہیں تھا جب میں نے تمھیں یاد نہ کیا ہو۔۔تم تو میری زندگی کا روشن ستارہ ہو جسے الله پاک نے میرے لیے بنایا تھا۔”
موسی اس کا ماتھا چومتا بولا تھا۔
“پہلے تم میرے قریب نہیں آتی تھی اب دیکھو کیسے چپک رہی ہو۔۔”
موسی نے اسے چھیڑا تھا جس پر وہ شرمندہ ہوتی دور ہٹنے لگی تھی مگر موسی سے بچنا اتنا آسان نہیں تھا۔موسی نے اس کی کمر کے گرد گھیرا تنگ کرتے اس کے کپکپاتے ہونٹوں کو شدت سے چھوا تھا۔موسی کا لمس محسوس کرتے وہ آنکھیں میچ گئی تھی۔اس کے سرسراتے اور نرم ہونٹ اپنے لال ہوتے گالوں پر محسوس کرکے وہ سمٹ گئی تھی۔پاک محبت کا لمس کتنا سکون دہ تھا وہ اسے موسی کے لمس سے محسوس ہوا تھا۔
“مائی لو۔۔”
اس کا شرماتا چہرہ دیکھتے ڈینیل نے اس کا ماتھا آخر میں چومتے اسے سینے سے لگا لیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“یہ چھوٹا شیطان پکا تم پر گیا ہے افرحہ۔۔”
شاہزیب اپنے بیٹے شازم شاہ کو بیڈ پر لیٹاتے کہا تھ۔
“اب کیا کردیا میرے معصوم بیٹے نے؟”
افرحہ نے جیولری اتارتے پوچھا تھا۔
“ڈائپر چینج کر رہا تھا اور میرے ہی اوہر جناب نے کام ہلکا کرلیا۔۔”
شاہزیب کی بات سنتی وہ بےساختہ ہنسنے لگی تھی۔
“یہ تو میرا بیٹا ہی کرسکتا ہے۔۔”
افرحہ کی بات ہر شاہزیب نے اسے گھورا تھا۔
“مجھ سے زرا بچ کر رہو۔۔ میں اس شہزادے کو آج اس کی نانی کو دینے جا رہا ہوں۔۔”
“کیوں؟؟”
افرحہ نے منہ بناتے پوچھا تھا۔
“کیونکہ میں کچھ لمحے اس شیطان کے رونے کے بغیر اپنی بیوی کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں۔۔انکل آگئے ہیں جلدی سے مل لو اپنے لاڈلے کو۔۔”
شاہزیب نے کال اٹھاتے تیزی سے اس کا بیگ اٹھایا تھا۔
“میرا بےبہ۔۔مما آپ کو مس کریں گی۔۔”
اس کا منہ چومتے افرحہ نے اسے شاہزیب کو دیا تھا جسے وہ فورا اس کے نانا اور نانی کے حوالے کر آیا تھا۔
“اب تمھاری خیر نہیں افرحہ بیگم۔۔”
شاہزیب نے کمرے میں داخل ہوتے کہا تھا۔
“پہلے مجھے پکڑ کر دکھائیں۔۔”
وہ مسکراتی ہوئی بیڈ پر چڑھ گئی تھی۔
“افرحہ ایک بچے کی ماں بن گئی ہو مگر تمھارا بچپنا اب تک نہیں گیا۔۔فورا نیچے اترو۔۔”
“بالکل نہیں۔۔”
افرحہ کی بات پر اس نے ایک ہی جست میں اسے جھپٹ لیا تھا۔
“تمھیں میں بتاتا ہوں۔۔آج ہوری رات تمھاری یہ شیطانیوں کا علاج کروں گا میں۔۔”
اس کے گردن میں منہ دیتے شاہزیب نے اس کی گردن ہر اپنا دہکتا لمس چھوڑا تھا۔
“س۔۔سوری شاہزیب۔۔”
وہ منمنائی تھی۔مگر اب کیا فائدہ وہ بری طرح پھنس چکی تھی۔شاہزیب نے اس کی گردن ہر جابجا لمس چھوڑتے اس کے چہرے کو نشانہ بنایا تھا۔اس کے لپ اسٹک سے لال ہونٹوں کو اس نے شدت سے چوما تھا۔اس کے لمس کو محسوس کرتی افرحہ اپنی آنکھیں نرمی سے میچ گئی تھی۔
وہ دونوں خوش تھے اور شازم شاہ کی موجودگی نے ان کی زندگی میں چار چاند لگا دیے تھے۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“کیا ہوا جب سے فنکشن سے آئی ہو خاموش سی ہو۔۔؟”
روحان نے دانین کا ماتھا چومتے ہوئے پوچھا تھا۔وہ لوگ زرکشہ کے نکاح کے لیے پاکستان آئے ہوئے تھے۔
“روحان کیا میں کبھی ماں بن پاوں گی؟”
اس نے روحان کی طرف دیکھتے پریشانی سے پوچھا تھا۔
“ہاں بالکل۔۔”
“تم نیگیٹو مت سوچو۔۔۔ابھی ہماری شادی کو وقت ہی کتنا ہوا ہے صرف چند مہینے۔۔”
روحان کی بات پر اسے تھوڑی تسلی ملی تھی۔وہ سب کو ان کے بچوں کے ساتھ دیکھ کر شدت سے اپنی اولاد چاہتی تھی۔
“م۔۔میں کسی سے حسد نہیں کر رہی روحان۔۔”
وہ سر نفی میں ہلاتی بولی تھی۔
“ارے میری جان۔۔ مجھے پتا ہے۔۔ کیا ہوگیا ہے تمھیں۔۔”
“باقی باتیں چھوڑو اور مجھے میری پیاری سی بیوی کی تعریف کرنے دو۔۔”
روحان کی بات پر وہ بےساختہ مسکرا اٹھی تھی۔
“اس کے علاوہ بھی آپ کو کوئی کام آتا ہے مسٹر؟”
اس نے آنکھیں چھوٹی جرکے روحان کو تنگ کرتے ہوئے پوچھا تھا۔
“جس کی اتنی حسین بیوی ہو اس کا دل کیا خاک کسی کام میں لگے گا۔۔”
روحان نے اس کے روئی جیسے گال گلابی ہوتے دیکھ کر جھٹ سے چوم لیے تھے۔ جس پر وہ دھیرے سے مسکرا اٹھی تھی۔
“تم آج اتنی خوبصورت لگ رہی تھی۔۔کہ میری نظر تم سے ایک پل کو بھی ہٹ نہیں رہی تھی۔”
“آپ کو ویسے بھی شوق ہے مجھے ہر جگہ تکتے رہنا۔۔پتا وہ ایک آنٹی بھی کہہ رہی تھیں اپنے شوہر سے کہو اتنا نہ دیکھا کرے۔۔”
دانین روحان کا گال کھینچتے ہوئے بولی تھی۔
“اب ان کو کیا ہرابلم ہے؟ میری بیوی میں جتنا مرضی دیکھوں۔۔ انھیں بل آتا ہے؟”
وہ دانین کی ناک چومتا ہوا بولا تھا۔ اس حادثے کے بعد روحان دانین کو ایک پل کے لیے بھی اپنی نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتا تھا۔ دانین کو کھل کر مسکراتا دیکھ کر اس نے نرمی سے اس کے ہونٹوں کو چھوتے اس کے گڑیا جیسے چہرے پر جا بجا اپنا محبت بھرا لمس چھوڑا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“چھوڑ دو اس کی جان۔۔ اب اپنے اس معصوم شوہر کو بھی دیکھ لو۔۔”
حیدر نے بہارے گل کی کمر کے گرد بازو باندھتے سرگوشی میں کہا تھا۔
“شش۔۔ سو گیا ہے ارتسام۔۔”
وہ مسکراتی ہوئی بولی تھی۔وہ ایک سال کا تھا۔مگر بے حد روتا تھا۔ اپنی ماں کے بغیر تو اسے سکون ہی نہیں ملتا تھا۔
“اب مجھ پر توجہ دو۔۔”
حیدر نے اس کا چہرہ ہونٹوں سے چھوتے سرگوشی میں کہا تھا۔
اس کو ارتسام کے بیڈ سے دور لے جاتے حیدر نے اسے بیڈ پر بیٹھایا تھا۔ اس کی کلائی تھامتے حیدر نے اس کی چوڑیاں اتارنا شروع کی تھیں۔اس کی چوڑیاں اتارتے حیدر نے اس کی دوبوں کلائیوں کو ایک ایک کر کے نرمی سے چوما تھا۔
“آپ تو ارتسام سے بھی بڑے بےبی ہے۔۔”
وہ حیدر کے چہرے پر ہاتھ رکھتے مسکراتے ہوئے بولی تھی۔
“بالکل کیونکہ تم پر پہلا حق میرا ہے۔۔”
وہ حیدر کی بات ہر مسکرا اٹھی تھی حیدر نے نرمی سے اس کے ماتھے کو چوما تھا۔
“ایسا کریں مجھے آدھا آدھا بانٹ لیں۔۔”
وہ مسکراتی ہوئی بولی تھی۔
“یہ ممکن نہیں ہے مجھے میری بیوی مکمل چاہیے۔۔”
حیدر نے اس کا گال چھوتے محبت سے کہا تھا جس پر وہ دھیمی آواز میں ہنس پڑی تھی۔ حیدر نے اس کا نیکلس اتارتے اس کی گردن کو محبت سے چھوا تھا۔ جس پر وہ بلش کرگئی تھی۔اسے شرماتے دیکھ کر حیدر نے اس کے ہونٹوں کو شدت سے چوما تھا۔
ابھی وہ مزید کچھ کرتا کہ اس کا بیٹا اٹھ کر رونے لگا تھا۔
“افف جاو تمھارا شہزادہ اپنی ملکہ کو بلا رہا ہے۔۔”
حیدر کی بات ہر ہنستی وہ حیدر کا ماتھا چومتی ارتسام کی طرف بڑھ گئی تھی جو اس کی گود میں آتے ہی چپ ہوگیا تھا۔حیدر ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر کھل کر مسکرا اٹھا تھا وہ دونوں اس کی کل کائنات تھے۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“بریرہ یہ میری بیٹی تم پر کیسے چلی گئی؟”
عادل نے اپنے بیٹی کا میک اپ سے لپٹا چہرہ دھلواتے ہوئے پوچھا تھا۔وہ ڈیڑھ سال کی تھی اور انتہائی تیز تھی۔
“مجھ سے مت پوچھو۔۔ میرا سارا برینڈڈ میک اپ تباہ کرچکی ہے تمھاری شیزادی بیٹی عاتیکہ۔۔”
وہ رونے والے آواز میں بولی تھی۔عادل کو بے ساختہ اس ہر رحم آیا تھا جس کا سارا میک اپ یہ چھوٹی شیطان خراب کرچکی تھی۔
“بہت بری بات عاتیکہ آپ نے مما کا سارا میک اپ خراب کردیا جاو جاکر سوری کرو۔۔”عادل نے اس کا منہ صاف کرتے کہا تھا۔
“م۔مما ش۔۔شوری۔۔”
اس نے معصوم آواز میں کہا تھا۔ بریرہ فورا پگھل گئی تھی۔
” اب آپ نے مما کی کوئی چیز ٹچ نہیں کرنی بےبی۔۔”
بریرہ کی بات پر اس نے فورا سر ہلایا تھا۔
“میں اسے سولا کر آتا ہوں۔۔”
بریرہ کا سر چومتا عادل عاتیکہ کو اس کے روم میں لے گیا تھا۔
اسے سلانے کے بعد عادل اپنے روم میں آیا تھا جہاں بریرہ میک اپ کا سارا میس صاف کرچکی تھی۔
“میں نیا میک اپ لے دوں گا۔۔ پریشان مت ہو۔۔”
اس کو کمر سے تھامتے عادل نے محبت سے کہا تھا۔
“پرامس؟”
اس نے عادل کو دیکھتے پوچھا تھا۔
“پرامس جان۔۔”
“اب اس میک اپ کو چھوڑ کر مجھے اپنا وقت دو۔۔”
عادل اس کا گال چومتا بولا تھا۔
“اب میرا سارا وقت آپ کا ہی ہے مسٹر عادل۔۔”
“بالکل سچ کہا ہے۔۔”
اس کے گال کو چومتے عادل مسکرا اٹھا تھا۔
“آئی لو یو۔۔”
بریرہ نے اس کا گال چومتے مسکرا کر کہا تھا۔
“آئی لو یو ٹو جان۔۔”
اس کے ہونٹوں کو چومتے عادل نے جواب دیا تھا۔ اس کی مسکراہٹ دیکھ کر عادل بھی مسکرا اٹھا تھا۔
زندگی دن بہ دن حسین ہوتی جا رہی تھی۔بریرہ اور عاتیکہ نے اس کی فیملی مکمل کردی تھی اور کچھ وقت تک وہ پاکستان شفٹ ہونے والے تھے۔ جہاں ان کی فیملی اور دوست سب موجود تھے۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“عریش سو گیا شازل؟”
فریش ہوتے باہر نکلتے نورے نے شازل سے اپنے بیٹے کے بارے میں پوچھا تھا جو شازم شاہ کا ہم عمر تھا۔ دونوں ہی شرارتوں میں بادشاہ تھے۔۔
“بہت مشکل سے سلایا ہے۔۔اسے بالکل آرام نہیں ہے۔۔”
شازل نے تھک کر بیڈ پر گرتے کہا تھا۔
نورے نے اس کے پاس بیٹھتے نرمی سے از کا سر دبایا تھا۔
شازل نے اس کا وہ ہاتھ تھامتے اپنے ہونٹوں سے لگایا تھا۔
“کیسا رہا آج کا دن؟”
شازل نے نورے کو کھینچ کر خود پر گراتے پوچھا تھا۔
“بہت اچھا۔۔ مجھے بہت مزا آیا سب کے ساتھ۔۔دانین کی رخصتی کے بعد یوں دوبارہ سب کا اکٹھا کردینا خوش کردیتا ہے۔۔”
وہ مسکرا کر بولی تھی۔
“مجھے مس کیا؟”
شازل نے اسے اپنے ساتھ لیٹاتے اس کا گال چومتے جذباتوں سے چور لہجے میں ہوچھا تھا۔۔
“ہاں۔۔ تھوڑا سا۔۔”
وہ شازل کی طرف اپنے چہرے کا رخ کرتی مسکراتے ہوئے بولی تھی۔
شازل نے اس کے بولتے ہونٹوں کو شدت سے چھوا تھا۔ جس ہر وہ سمٹ سی گئی تھی۔
“میں نے بہت زیادہ کیا۔۔آج تم فراک میں قیامت ڈھا رہی تھی۔۔”
شازل کی تعریف پر اس کا دل بےساختہ دھڑک اٹھا تھا۔
“آپ بھی بہت ہینڈسم لگ رہے تھے۔۔”
وہ شازل کے ہونٹوں کو نرمی سے چھوتے بولی تھی۔اپنی حرکت پر شرماتے وہ خود ہی چہرہ جھکا گئی تھی۔شازل اس کی ادا پر ہنستے اس کا ماتھا چومتے اسے اپنے سینے میں چھپا گیا تھا۔
“عریش نے زیادہ تنگ تو نہیں کیا تھا؟ “
اس کے سینے پر سر رکھتے نورے نے پوچھا تھا۔
“نہیں بس اپنا کھانا میرے کپڑوں ہر نکال دیا تھا۔۔آئی سوئیر نور یہ شازم کا پکا دوست ہے۔۔دونوں نے ایک ساتھ ہی یہ کام کیا تھا۔شاہزیب تو بچ گیا لیکن میرے کپڑوں کی شامت آگئی۔۔”
اپنے بیٹے کی حرکتیں سن کر وہ کھل جر ہنس پڑی تھی۔شازم اور عریش واقع پکے دوست تھے ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے تو خوش رہتے اور باقی بچوں کو مارتے یا ان کے بال کھینچتے رہتے ان کی دوستی کا سوچ کر نورے کا چہرہ کھل گیا تھا۔
“تمھارے بغیر سانس لینے کا خیال بھی میرا دل بند کردیتا ہے۔۔”
اس کا کھلا چہرہ دیکھتے شازل نے اس کی ٹھوڑی کو چوم لیا تھا جس پر آج بھی کٹ کا نشان تھا۔اس کے اظہار پر وہ مزید کھل گئی تھی۔شازل کی محبت نے اسے دن بہ دن نکھار دیا تھا۔
شازل پچھلے سال سے محب خان کا بزنس سنبھالنے لگا تھا جبکہ آغا خان بھی اپنا بزنس پاکستان شفٹ کرچکے تھے۔۔جس میں شازل ان کی مدد کر رہا تھا جبکہ کینیڈا والی ان کی کمپنی روحان سنبھال رہا تھا ساتھ وہ اپنی مدر کی کمپنی کو بھی ہینڈل کر رہا تھا۔
شازل نے حازم نامی بچے کو جیل سے چھڑوا دیا تھا وہ شازل کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا تھا اس لیے شازل نے اسے ہوسٹل میں سیٹل کروا دیا تھا ساتھ وہ اب سکول جاتا تعلیم حاصل کر رہا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
(کئی سالوں بعد)
آج نورے اور شازل کی شادی کی اینورسری تھی جس کے لیے سب اکٹھا ہوئے تھے۔ کافی وقت گزر چکا تھا۔ فاطمہ بیگم کو فالج کا اٹیک ہوگیا تھا اس کے چار سالوں بعد وہ مرگئی تھیں جبکہ میر شاہ بھی اپنی زندگی کی زای ہار چکے تھے۔
افرحہ اور شاہزیب کے دو بچے تھے ایک بیٹا شازم شاہ اور ایک بیٹی روح شاہ۔۔
نورے اور شازل کے تین بچے تھے۔ عریش خان اور دو ٹونز بچے جس میں ایک بیٹی سوہانہ خان اور ایک بیٹا شاہ رخ خان تھا۔۔
حیدر اور بہارے گل کے دو بچے تھے۔ ایک بیٹا ارتسام حیدر اور ایک بیٹی پریام نور۔۔
روحان اور دانین کے دو بچے تھے ایک بیٹی جویریہ اور ایک بیٹا رویام مصطفی تھا۔۔ اللہ پاک نے انھیں بہت منتوں کے بعد شادی کے سات سال بعد اولاد سے نوازا تھا اور وہ وقت ان کے لیے بہت بڑی خوشی کا باعث تھا۔
بریرہ اور عادل کے تین بچے تھے دو بیٹیاں عاتیکہ اور ہنال اور ایک بیٹا معاز تھا۔۔
موسی(ڈینیل) اور زرکشہ کے ٹونز بچے تھے۔۔ھاد موسی اور ہادیہ موسی۔۔جبکہ احمد کینیڈا شفٹ ہوچکا تھا جس کا ایک بیٹا تھا وہاج۔۔
دانین اور بہارے گل کے درمیان اب بھی کچھ بہتر نہیں ہوا تھا وہ صرف بچوں کی خاطر کبھی کبھار بات چیت کرلیا کرتی تھیں مگر اس سے زیادہ ان کی بات نہیں ہوتی تھی۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
جویریہ سفید میکسی پہنے باہر لان کی طرف جا رہی تھی جہاں سارا انتظام کیا گیا تھا۔ایک دم کسی نے اس کا ہاتھ پکڑتے اسے کمرے میں کھینچا تھا اس کی چیخ کا گلا مردانہ ہاتھ نے سختی سے گھونٹ دیا تھا۔
“تمھاری سانس لینے کی بھی آواز مجھے نہ آئے۔۔”
جانی پہچانی آواز سن کر اس کی آنکھوں میں گہری اداسی چھا گئی تھی۔
“ا۔۔ارتسام بھائی۔۔”
“شٹ اپ۔۔ بھائی نہیں ہوں تمھارا۔۔ بیوی ہو تم میری۔۔”
غصے سے بولتا وہ اس کا منہ بند کروا گیا تھا۔
“پیچھے ہٹیں ہمیں اگر کسی نے دیکھ لیا تو اچھا نہیں ہوگا۔۔اگر آپ کی فیانسی نے دیکھ لیا تو ناجانے کتنا بڑا مسئلہ بن جائے گا۔۔”
وہ لب کاٹتے سختی سے بولی تھی۔
“فیانسی سے زیادہ مجھے اس وقت اپنی بیوی کی طلب ہورہی ہے۔۔”
اس کی بات پر جویریہ کی آنکھوں سے بےساختہ آنسو نکل پڑے تھے۔
“میرا اور آپ کا کوئی رشتہ نہیں ہے۔۔ اس زبردستی کاغذی رشتے کو میں نہیں مانتی۔۔”
وہ ارتسام کے سینے ہر ہاتھ رکھتی اسے دور کرنے کی کوشش کرتی سخت لہجے میں بولی تھی۔نازک تو وہ دانین کی طرح تھی مگر ڈٹ کر مقابلہ کرنا اسے آتا تھا۔
“تم کیا چاہتی ہو اس کاغذی رشتے کو آج مکمل رشتہ بنا دیں۔۔”
اس کے ہونٹوں پر لگی لپ اسٹک اپنے انگوٹھے سے مسلتا وہ ظلمانہ انداز میں بولا تھا۔
“بالکل نہیں۔۔”
وہ ارتسام کا ہاتھ جھٹکتی غصے سے بولی تھی۔
“میرے اور آپ کے درمیان صرف ایک رشتہ ہے اور وہ ہے نفرت کا۔۔اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے ہمارے درمیان۔۔ میں بہت جلد سب کو بتا دوں گی جو آپ نے میرے ساتھ کیا تھا۔۔۔”
وہ نم آنکھوں سے ارتسام کی آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی۔
“ہاہاہا۔۔ آو میرے ساتھ بتاو سب کو۔۔ میں بھی دیکھتا ہوں کون تمھاری بات پر یقین کرتا ہے۔۔”
وہ اس کا چہرہ تھام کر اپنے چہرے کے بے حد قریب کرتا ایسے بول رہا تھا کہ اس کے ہونٹ جویریہ کے نازک ہونٹوں کو چھو رہے تھے۔
ارتسام کی نظر بےساختہ اس کے چہرے سے بھٹکتی اس کی مٹی ہوئی لپ اسٹک والے ہونٹوں پر ٹھہر گئی تھی۔
“ڈونٹ۔۔ ارتس۔۔”
وہ اسے منع کرنے ہی لگی تھی جب ارتسام نے جھک کر اس کے باقی الفاظ اپنے ہونٹوں میں قید کرلیے تھے۔
اس کے لمس پر مقابل کانپنے لگی تھی۔آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی طرح بہنے لگے تھے۔
ارتسام اس کے ہونٹوں کو چھوتا اس میں کھونے لگا تھا۔اس کی کمر کو تھامتے ارتسام نے اس کی گردن پر جھک کر جابجا اپنا لمس چھوڑنا شروع کیا تھا۔
“مم۔۔میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔”
جویریہ کی کانپتی آواز سنتا وہ ہوش کی دنیا میں آیا تھا۔ اسے ایک جھٹکے سے چھوڑتا وہ پیچھے ہٹا تھا۔
“آئیندہ کے بعد میں نے تمھیں میک اپ میں دیکھا تو اس سے بھی برا حال کروں گا۔۔”
وہ اسے وارن کرتا باہر نکل گیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
سب کے آجانے کے بعد نورے اور شازل نے کیک کاٹا تھا۔ہوٹنگ کی آواز پر سب بڑے مسکرانے لگے تھے۔بچے کب بڑے ہوجاتے ہیں انھیں پتا ہی نہ چلا تھا۔
“یہ جویریہ کہاں گم ہے زرا اسے لے آو۔۔فیملی فوٹو بننے لگی ہے۔۔”
دانین کے کہنے پر کوئی اندر بھاگا تھا جب وہ خود ہی باہر چلی آئی تھی۔
“میں آگئی ہوں مما۔۔”
وہ مسکراتی ہوئی آگئی تھی۔اس کی نظریں بھٹکتی ہوئی ارتسام کی طرف گئی تھیں جو اپنی فیانسی کے ساتھ ہنس کر بات کر رہا تھا اس نے کبھی جویریہ سے ایسے بات کی ہی نہیں۔۔
“ڈیڈ ہمیں اپنی لو سٹوری سنائیں ہمیں وہ سننی ہے۔۔”
شاہ رخ خان نے اونچی آواز میں کہا تھا۔
“کتنی بار سنو گے؟ ہر اینورسری پر سن کر تھکتے نہیں ہو۔۔؟”
عریش نے اس کے گلے میں بازو ڈالتے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا۔
“بالکل نہیں بالکہ مجھے بہت مزا آتا یے کیوں نہ ہر بار کی طرف شاہزیب انکل سے یہ کہانی شروع کی جائے۔۔وہ مسکرا کر بولا تھا۔جس ہر سب بچوں نے حامی بھری تھی۔
“اچھا اچھا شاہزیب سے شروع ہوگی کہانی سب بیٹھ جاو۔۔”
شازل کی آواز پر سب کرسیاں لے کر بیٹھ گئے تھے۔
“تو کہاںی کا آغاز ایسا ہوتا ہے کہ ایک کھڑوس پروفیسر ہوتا ہے اور اس کی ایک شرارتی سٹوڈنٹ۔۔۔
ختم شد!
