Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes NovelR50560 Professor Shah (Episode 31)
Rate this Novel
Professor Shah (Episode 31)
Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes
“مجھ سے ناراض ہو؟”
شازل محب خان سے بات کرکے سیدھا روم میں آیا تھا جہاں منہ پھولا کر بیٹھی اپنے لیپ ٹاپ کھول کر اسائمنٹ بناتی نورے کو دیکھ کر وہ دھیرے سے مسکرایا تھا۔۔
“نہیں۔۔”
یک لفظی جواب دیا گیا۔۔
“میں تھکا ہوا ہوں۔”
دھیمی آواز میں کہا گیا تھا۔۔
“سوجائیں۔۔”
سپاٹ انداز میں جواب دیا گیا تھا۔
“اب اپنے شوہر ساتھ ایسا سلوک کرو گی؟”
اس کے قریب جاتے شازل نے اس کی ٹھوڑی تھام کر پوچھا تھا۔
“میں ساری رات آپ کا انتظار کرتی رہی۔۔آپ کو ڈھیروں کالز کی۔۔کم سے کم میری ایک کال کا ہی جواب دے دیتے شازل۔۔”
وہ سرخ آنکھوں سے شازل کو دیکھتی بولی تھی۔اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر شازل بری طرح شرمندہ ہوا تھا۔
“میرا موبائل اوف تھا مجھے اون کرنے کا یاد نہیں رہا تھا۔۔”
وہ نورے کے چہرے پر جھکتا اس کی دونوں آنکھیں چومتا محبت سے بولا تھا۔
“آئیندہ کے بعد کم سے کم مجھے جواب ضرور دے دیا کیجیے گا۔۔اس سے زیادہ میں آپ سے کچھ نہیں پوچھوں گی۔۔”
نورے نرمی سے بولتی دوبارہ اپنی اسائمنٹ پر جھک گئی تھی مطلب صاف تھا وہ اب بھی ناراض تھی۔شازل نے ماتھا مسلتے اپنا موبائل اون کیا تھا۔وہ اسے چارج پر لگانے کا سوچ کر نورے کے ساتھ دن گزارنے کا سوچ رہا تھا جب اچانک عسکری کی کال آنے پر وہ رک گیا تھا۔
“نورے میں ایک ضروری کام سے جا رہا ہوں اپنا خیال رکھنا اور پریشان مت ہونا۔۔”
وہ تیزی سے واپس آتا نورے کو بتاتا اس کے ماتھے کا بوسہ لیتا وہاں سے نکل گیا تھا۔
عسکری نے اسے بتایا تھا کہ فیاض کے جنازے کے لیے شفیق رضوان نے اپنے گاوں جانا ہے جہاں کے راستے میں وہ اسے اٹھوا سکتے تھے۔۔جس کے لیے شازل بھی راضی ہوگیا تھا مگر مصیبت یہ تھی کہ اس کے ارد گرد سکیورٹی کافی زیادہ ہونی تھی۔
“دیکھو شازل مجھے پتا چلا ہے صرف گارڈز کی ایک گاڑی شفیق رضوان کے ساتھ ہوگی اس کا انتظام کرنے کا میں سوچ چکا ہوں۔۔اس میں تمھیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں میری ٹیم سارا کام سنبھال لے گی اور شام تک شفیق رضوان ہمارے پاس ہوگا۔۔”
عسکری کی بات پر وہ تھوڑا مشکوک ہوا تھا۔
“اگر اس پلان میں کچھ گڑبڑ ہوگئی تو؟”
شازل نے اسے گھورتے پوچھا تھا۔
“کچھ نہیں ہوگا ٹرسٹ می۔۔”
عسکری کی بات پر وہ خاموش پڑ گیا تھا۔
شفیق رضوان اپنے فارڈز کی ایک گاڑی کے ساتھ گاوں کی طرف جا رہا تھا جب راستے میں عسکری کے ساتھیوں کے بچھائے گئے کیلوں کی وجہ سے شفیق رضوان کے گارڈز کی آگے جاتی گاڑی کے ٹائر پنکچر ہوگئے تھے۔فیاض کے جنازے کا وقت ہونے والا تھا۔شفیق رضوان کو گاوں جلد جانے اور آنے کی جلدی تھی چونکہ اس نے اپنے کچھ ساتھیوں سے ملنا تھا مگر گارڈز کی وجہ سے دیری ہورہی تھی۔وہ دو گارڈز اپنے ساتھ گاڑی میں لیتا باآسانی سفر کے لیے دوبارہ روانہ ہوچکے تھے جب اچانک ایک سنسان سڑک پر ان کی گاڑی کے بھی ٹائر پنکچر ہوگئے تھے۔گارڈز باہر نکل کر گاڑی ٹائرز دیکھ رہے تھے شفیق رضوان کو کسی گڑ بڑ جا احساس ہو رہا تھا جب اچانک اس کے ڈرائیور کے سر میں گولی لگی تھی ساتھ ہی اس کی گاڑی پر فائرنگ سٹارٹ ہوئی تھی وہ گاڑی سے نکل کر بھاگنے کا سوچ رہا تھا جب کسی بھاری چیز کے لگنے پر وہ اپنت یوش و حواس کھو چکا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
شفیق رضوان جب ہوش میں آیا تو اس نے خود کو ایک سنسان بلڈنگ میں موجود پایا تھا۔وہ خود کو کرسی سے بندھا پاکر گھبرا گیا تھا۔جب اچانک شازل چلتا ہوا اس کے سامنے آیا تھا۔
وہ اسے غور سے دیکھتا پہچان چکا تھا۔وہ آکر مشہور بزنس مین محب خان کا بیٹا تھا اور ساتھ ہی وہ اس کی بہن کے بارے میں بھی جانتا تھا جس کی موت میں ان کا ہاتھ تھا۔شازل کے ہاتھ میں چاقو دیکھ کر وہ گھبرا گیا تھا۔
“م۔۔میں نے کچھ نہیں کیا۔۔”
وہ گھبراتا ہوا بولا تھا۔
“ابھی تو میں نے کچھ بولا ہی نہیں۔۔”
شازل اسے سرد نظروں سے گھورتا ہوا بولا تھا۔
“م۔۔میں نے کچھ نہیں کیا تم مجھے ایسے اٹھا کر نہیں لاسکتے تم جانتے نہیں میں ایم این اے شفیق رضوان ہوں۔۔”
اس کی بکواس سنتے شازل نے چاقو اس کے دائیں کندھے میں گھسا دیا تھا جس پر وہ تکلیف سے تڑپ اٹھا تھا اس کی چیخ کی آواز اس خالی اور سنسان فکٹری میں گونچی تھی۔
“تم سب کتوں کو تڑپا تڑپا کر ماروں گا۔۔”
شازل نے اس کے پیٹ اور منہ پر مکے جڑتے کہا تھا۔جب اچانک شفیق رضوان کی بات نے اسے ساکت کر دیا تھا۔
“اس آخری شخص کا نام نہیں جاننا چاہو گے جس کے لیے تم ترس رہے ہو؟”
شفیق رضوان نے اپنے منہ سے نکلتا خون تھوکتے ہوئے پوچھا تھا۔
شازل خان نے اسے غضب ناک نظروں سے دیکھا تھا۔وہ جاننا چاہتا تھا آخر وہ شخص ہے کون جس کا نام اسے کوئی بھی بتا نہیں رہا تھا۔
“مجھے مار دو گے تو تم کبھی جان نہیں پاو گے۔۔”
شفیق رضوان نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بتایا تھا۔
“کون ہے وہ شخص؟؟”
اس نے شفیق رضوان کا گریبان پکڑتے ہوئے اس کے منہ پر مزید مکہ جڑتے پوچھا تھا۔
“تم بہت بےوقوف ہو۔۔ہاہاہا۔۔ وہ شخص تمھارا بہت قریبی ساتھی ہے۔۔”
“تمھارا بچپن کا دوست۔۔”
“تمھارا ساتھی۔۔”
“تمھارا دوست۔۔”
“حیدر سلطان۔۔”
شازل اس کے منہ سے نام سنتا ششد رہ گیا تھا۔
“بکواس کر رہے ہو تم۔۔”
غصے سے شازل کی رگیں پھول پڑی تھیں۔اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا۔کیسے یقین کر لیتا ؟ وہ تو اس کا بچپن کا دوست تھا۔۔وہ ایسا کبھی نہیں ایسا کرسکتا تھا۔
“حیدر سلطان کی وہاں موجودگی کے بارے میں صرف مجھے پتا تھا۔وہاں سب لوگوں کے مرنے کے بعد ہم سب کے درمیان ایک کنٹریکٹ ہوا کہ کوئی کسی کا نام نہیں بتائے گا۔۔حیدر کا کسی کو نہیں پتا تھا کیونکہ اسے میں نے بلایا تھا۔اگر یقین نہیں تو اس سے جاکر پوچھ لو۔۔”
شفیق رضوان کی باتیں اسے اپنے دماغ میں ہتھوڑے کی مانند لگتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔
“دیکھو اب میں نے تمھیں سچائی بتا دی ہے مجھے جانے دو۔۔”
شفیق رضوان اس کے تاثرات دیکھ کر تیزی سے بولا تھا جب اس کی بات سن کر شازل نے اسے سپاٹ انداز میں دیکھتے اپنی گن نکالتے سیدھی اس کی آنکھوں کے درمیان کا نشان لیتے اس کا قصہ ختم کیا تھا۔
چاقو اس کے کندھے سے نکالتا وہ اس کی شرٹ سے صاف کرتا الٹے قدموں سے وہاں سے نکل گیا تھا۔
گاڑی میں بیٹھتے اس نے عسکری کو کال ملا کر باڈی کو ٹھکانے لگوانے کا کہا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
وہ وہاں سے سیدھا حیدر کے گھر گیا تھا۔شفیق رضوان کی باتوں پر اسے یقین نہیں آرہا تھا مگر شفیق رضوان کو حیدر کا پتا کیسے ہوسکتا تھا ؟ اس کے علاوہ کے خود حیدر نے اس سے ذکر کیا ہو۔۔۔
“سر حیدر سر گھر نہیں ہیں۔۔”
گارڈ نے اسے گھر کے باہر روکتے ہوئے کہا تھا۔
“پھر کہاں ہے حیدر؟”
“مجھے اس سے ایک ضروری کام ہے جلدی بتاو وہ کہاں ہے؟”
شازل کے روعب دار لہجے میں بولنے پر وہ اسے حیدر کے فلیٹ کا ایڈریس بتا چکا تھا جو شہر کی مہنگی ترین جگہ پر موجود تھا۔گارڈ شازل کو جانتا تھا تبھی وہ آسانی سے اسے حیدر کا پتا بتا گیا تھا۔ورنہ حیدر نے اسے کسی کو بھی اس جگہ کا بتانے سے سختی سے منع کیا تھا۔
وہ ایک گھنٹے کا سفر چالیس منٹ میں طے کرتا مطلوبہ ایڈریس پر پہنچ چکا تھا۔
گارڈ کے بتائے گئے اپارٹمنٹ کے باہر کھڑے ہوتے اس نے ایک گہرا سانس بھرا تھا۔بیل پر ہاتھ رکھتے وہ مٹھیاں بھینچے کھڑا تھا۔جب کچھ ہی دیر بعد ہنستے ہوئے حیدر نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے دروازہ کھولا تھا۔اپنے سامنے شازل کو دیکھتے اس کی آنکھیں پھیل گئی تھیں جبکہ اس کے چہرے کی مسکراہٹ بالکل سمٹ گئی تھی۔
اس کی شکل دیکھتے ہی شازل نے ایک زور دار مکہ اس کے چہرے پر جڑا تھا۔حیدر لڑکھڑاتا ہوا پیچھے ہوتا بری طرح زمین بوس ہوا تھا۔اس کے منہ سے خون نکلنے لگا تھا۔
“شازل یہ کیا پاگل پن ہے؟”
حیدر نے اپنے منہ سے خون صاف کرتے پوچھا تھا۔
“تم دوست نہیں آستین کا سانپ ہو۔۔تم ایسا کیسے کرسکتے ہو حیدر؟؟۔۔۔میری بہن تھی بہارے گل۔۔”
وہ چیختا ہوا حیدر کو مارنے لگا تھا حیدر اسے روکنے کی کوشش کر رہا تھا جب اسے کسی چیز نے پتھر کا کر دیا تھا۔
“حیدر۔۔”
نسوانی آواز سن کر شازل نے نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا تھا۔۔جہاں کھڑی بہارے گل کو دیکھتا وہ لڑکھڑاتا ہوا حیدر سے پیچھے ہٹا تھا۔
“لالا۔۔”
بہارے گل نے پھیلی آنکھوں سے اسے دیکھا تھا۔
شازل بےیقینی سے اسے دیکھ رہا تھا۔اس کی نظریں بہارے گل کے چہرے پر ہی ٹکی ہوئی تھیں جو بری طرح پزل ہونے لگی تھی۔حیدر نے کھڑے ہوتے اس کے کندھے کے گرد بازو پھیلاتے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا۔
شازل نے آنکھیں چھوٹی کرکے اس کی حرکت کو بغور دیکھا تھا۔
“لٹ می ایکسپلین شازل۔۔”
حیدر اپنے بائیں ہاتھ سے خون صاف کرتا بھاری آواز میں بولا تھا۔
شازل کی خاموشی سے ان دونوں کو وحشت سی محسوس ہورہی تھی۔
“لالا۔۔”
بہارے گل کی نرم آواز سن کر وہ لڑکھڑاتا ہوا پیچھے ہٹتا تیزی سے وہاں سے نکل گیا تھا۔
“شازل۔۔شازل۔۔”
اپنے پیچھے سے حیدر کی آواز کو اگنور کیے وہ لفٹ میں داخل ہوچکا تھا۔اپنی گاڑی میں بیٹھتے اس نے اپنے بال مٹھیوں میں بھینچ لیے تھے۔
اسے اب سب کچھ دھندھلا نظر آنے لگا تھا۔کیا حقیقت تھی ؟ اور کیا جھوٹ تھا؟ وہ نہیں جانتا تھا۔بہارے گل کو تین سال بعد زندہ اور صحیح سلامت دیکھ کر وہ شاک میں آگیا تھا۔
وہ بہن جس کے مرنے کے بعد وہ پل پل گلٹ اور بدلے کی آگ میں بھڑک رہا تھا۔وہ مزے سے ایک نئی زندگی شروع کرچکی تھی۔
وہ فل سپیڈ گاڑی چلاتا کافی دیر سڑکوں کی خاک چھانتا رہا تھا۔پھر رات کو جاکر واپس گھر کو لوٹا تھا۔اسے مسلسل عسکری اور نورے کی کالز آرہی تھیں مگر وہ اگنور کرتا اپنا موبائل ہی بند کرچکا تھا۔
اسے کچھ وقت چاہیے تھے ساری چیزیں سوچنے کے لیے اور اب سوچ سوچ کی اس کی دماغ کی رگیں پھٹنے والی ہوگئی تھیں۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
وہ گھر میں داخل ہوتا سیدھا ڈائیننگ روم کی طرف گیا تھا جہاں سب بیٹھے ڈنر کر رہے تھے۔اسے دیکھتے ہی نورے نے سکون کا سانس خارج کیا تھا۔
وہ خاموشی سے آتا اپنی جگہ پر بیٹھ گیا تھا۔اس کی خاموشی محسوس کرتے اور اس کا بکھرا حلیہ دیکھ کر سب کی نظریں اس کی جانب متوجہ ہوگئی تھیں۔
“شازل۔۔۔”
محب خان کی آواز سنتے اس نے سرخ آنکھوں سے ان کی طرف دیکھا تھا۔
“کیا ہوا ہے؟”
محب خان کے پوچھنے پر وہ عجیب انداز میں مسکرایا تھا۔
“کیا آپ جانتے تھے حیدر اور بہارے گل کے بارے میں؟”
اس نے محب خان کی آنکھوں میں دیکھتے پوچھا تھا۔محب خان کے چہرے کا اڑا رنگ دیکھ کر اسے اپنا جواب مل گیا تھا۔ اس نے غصے میں اٹھتے ڈائینگ ٹیبل پر پڑی چیزیں ہاتھوں سے زمین پر گرائی تھیں۔اس کے غصے کو دیکھتے سب تیزی سے اپنی نشستوں سے اٹھ گئے تھے۔سب کی سوالیہ نظریں محب خان اور شازل پر مرکوز تھیں۔محب خان ابھی بھی اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔جب کہ ان کے منہ سے ایک بھی لفظ نہیں نکلا تھا۔
“شازل۔۔کالم ڈاون۔۔”
نورے نے اس کا سرخ چہرہ دیکھ کر نرمی سے کہا تھا۔
“جسٹ سٹے آوے فرام می نورے۔۔”
وہ بنا نورے کی جانب دیکھے بولا تھا۔نورے اس کی آواز میں سرد پن محسوس کرتی لب بھینچ کر بےساختہ پیچھے ہٹی تھی۔
“شازل بیٹا کیا بات کر رہے ہو تم؟”
گل خان نے پریشانی سے پوچھا تھا
“آپ جانتے تھے نہ؟”
“آپ سب جانتے تھے۔۔پھر کیوں مجھ سے چھپایا۔۔؟”
وہ اونچی آواز میں چلایا تھا۔۔اتنا بڑا جھوٹ؟ وہ کیسے برداشت کر لیتا؟ محب خان بری طرح شرمندہ ہوئے تھے۔مگر کچھ بولے نہیں تھے۔
“آپ نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا ڈیڈ۔۔مجھے اتنے سال بےوقوف بنائے رکھا۔۔”
وہ جبڑے بھینچ کر سپاٹ نظروں سے انھیں دیکھتا بولا تھا۔
“کوئی مجھے بتائے گا بھی آپ دونوں کس بات پر لڑ رہے ہیں؟”
گل خان نے دونوں کی طرف دیکھ کر جھنجھلا کر پوچھا تھا۔
“اپنے شوہر سے پوچھیں آپ کو سارے جواب مل جائیں گے۔۔”
وہ لب بھینچ کر بولا تھا۔
“میں فلحال اس گھر میں ایک پل بھی مزید نہیں رہ سکتا۔۔میں کچھ دنوں کے لیے اپنے اپارٹمنٹ میں شفٹ ہو رہا ہوں۔۔”
وہ گل خان سے بولتا نورے کا ہاتھ پکڑتا اسے وہاں سے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔
سب کی نظریں خود پر محسوس کرتے محب خان بھی وہاں سے اٹھتے اپنے کمرے میں بند ہوگئے تھے۔
“میں پوچھتا ہو کیا بات ہے آپ فکر مت کریں۔۔”
آغا خان کی بات پر گل خان نے ایک گہرا سانس بھرا تھا۔شازل غصے میں تھا اور وہ جانتی تھی وہ غصے میں کسی کی نہیں سنتا تبھی انھوں نے اسے روکا نہیں تھا۔
“سب ٹھیک ہوجائے گا گل۔۔”
ملائکہ نے گل خان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر انھیں تسلی دی تھی۔جس پر وہ صرف سر ہلا کر رہ گئی تھیں۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“شازل مجھے ڈر لگ رہا ہے پلیز گاڑی کی سپیڈ کم کریں۔۔”
اسے اندھا دھند ڈرائیونگ کرتے نورے بوکھلاتی ہوئی بولی تھی۔
اس کے غصے کی وجہ سے اسے ویسے ہی شازل سے بہت ڈر لگ رہا تھا۔
شازل نے نورے کی خوف زدہ آواز سن کر بےساختہ گاڑی کی سپیڈ لو کر دی تھی۔اسے اپنے گھر والوں پر جتنا بھی غصہ ہو وہ اسے نورے پر نہیں اتارنا چاہتا تھا۔
پارکنگ لاٹ میں گاڑی روکتے شازل نورے کو لیے اپارٹمنٹ میں داخل ہوا تھا۔اسے لاونچ میں چھوڑتا وہ اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے شاور لینے چلا گیا تھا۔
نورے اس کو جاتے دیکھ کر اس کے لیے کچھ بنانے کا سوچتی کیچن میں آئی تھی۔فریج کھول کر دیکھا تو وہ خالی پڑی تھی۔ اسے خود بھی بھوک لگی تھی مگر خود پر ضبط کرتی وہ کاونٹر کے پاس پڑا سٹال کھینچ کر اس پر بیٹھ چکی تھی۔
ناجانے کب کاونٹر پر سر رکھے وہ سو گئی تھی۔شازل کی انگلیوں کا لمس اپنے بالوں میں محسوس کر اس کی آنکھیں کھلی تھیں۔
“نورے اٹھ جر فریش ہوجاو میں نے کھانا آرڈر کیا ہے بس پہنچنے والا ہے۔۔”
اس کی بات سنتی وہ اٹھ بیٹھی تھی۔
“آپ ٹھیک ہیں؟”
اس نے شازل کا بازو پکڑتے نرمی سے پوچھا تھا۔
“ہاں۔۔تم جاو جلدی سے فریش ہوجاو پھر ڈنر کرتے ہیں۔۔”
شازل اس کی ٹھوڑی چومتا نرم لہجے میں بولا تھا وہ جانتا تھا اس کی وجہ سے نورے دو دن سے بےچین اسر پریشان تھی۔
“شازل آپ اگر چاہیں تو مجھ سے شئیر کرسکتے ہیں۔۔”
نورے نے لب کاٹتے کہا تھا۔
“ڈنر کے بعد میں تمھیں سب کچھ بتا دوں گا۔۔”
شازل کی بات پر اس نے سر ہلایا تھا۔
ڈنر کے بعد وہ دونوں صوفے پر بیٹھے تھے جب شازل نے اسے ماضی کے بارے میں اور جو آج ہوا اس کے بارے میں بتایا تھا۔
“مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا ہے میری وہ بہن جس کے لیے میں پچھلے تین سالوں سے گلٹ اور پچھتاوا کے ساتھ بدلے کی آگ میں جھلس رہا تھا وہ باخوشی اپنی زندگی گزار رہی تھی۔وہ بھی میرے بچپن کے دوست کے ساتھ۔۔۔”
وہ طنزیہ ہنستا ہوا بولا تھا۔
“اس کی کوئی وجہ ہوگی شازل۔۔آپ کو اس کی بات ایک بار ضرور سننی چاہیے۔۔”
نورے جو اس کے سینے پر سر ٹکائے بیٹھی تھی وہ نرمی سے بولی تھی۔شازل نے ہنکار بھرتے اس کے گرد اپنا حصار تنگ کر دیا تھا۔
“میں سوچ رہا ہوں کچھ دنوں کے لیے ہم کہیں گھومنے چلیں میں ابھی یہاں سے کہیں دور جانا چاہتا ہوں۔۔”
وہ نورے کے بالوں سے کھیلتا ہوا بولا تھا۔
“میرا بھی دل ہے کہیں گھومنے چلتے ہیں۔۔”
نورے کے مسکرا کر کہنے پر اس کا موڈ بھی فریش ہو گیا تھا۔اسے باہوں میں بھرتے اس نے اپنی آنکھیں موند لی تھیں۔
