Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Professor Shah (Episode 22)

Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes

وہ ریش ڈرائیونگ کرتا سیدھا واپس گھر لوٹا تھا۔غصے سے اس کی حواس سلب ہوچکے تھےبس بار بار ایک ہی بات ذہن میں آرہی تھی وہ اسے چھوڑ کر جا چکی ہے اور اس کی وجہ صرف و صرف دانین ہے۔۔

سفید شلوار قمیض میں سر پر دوپٹہ لیے دانین جو گل خان کے پاس جارہی تھی شازل کو دیکھتی گھبرا کر رک گئی تھی۔

دانین کو دیکھتا وہ سیدھا اس پر جھپٹا تھا اسے گردن سے دبوچتے اس نے دیوار سے لگایا تھا۔گھر میں اس وقت گھر میں کوئی مرد نہیں تھا تبھی گل خان پریشان سی اس کی جانب بڑھی تھیں۔

“یہ سب کچھ اس کا کیا دھڑا ہے پہلے میری بہن کی جان لے گئی یہ ڈائن اور اب میری محبت کو مجھ سے چھین لیا ہے۔۔”

وہ غصے سے دھاڑا تھا۔

“شازل کیا فضول بول رہے ہو۔۔؟ چھوڑو دانین کو۔۔”

اس کے بازو کو پکڑتی گل خان اسے دانین سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی تھیں۔مگر وہ اس کے قابو میں نہیں آرہا تھا۔

“مجھ سے دور ہٹ جائیں مما۔۔ میں آج اس کی جان لے لوں گا۔۔”

وہ دانین کا سرخ چہرہ دیکھتے سفاکیت سے بولا تھا۔دانین نے اکھڑتے سانسوں اور اس کی انگلیوں کے لمس سے تڑپتے اس کے ہاتھ پر ناخن چبھوئے تھے۔

“شازل چھوڑ دو اسے۔۔ مر جائے گی وہ۔۔”

گل خان کی باتوں کا اس پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔

“وہ مجھے اس۔۔ اس کی وجہ سے چھوڑ کر چلی گئی۔۔”

وہ غصے میں بڑبڑاتا اس کے گلے پر مزید دباو بڑھاتا چلا جا رہا تھا جب اچانک پیچھے سے کسی نے اسے پکڑتے بری طرح جھٹکا تھا اس کی گرفت دانین پر ڈھیلی پڑ گئی تھی جو زرد چہرے کے ساتھ بری طرح کھانس رہی تھی۔

“دور رہو میری بیوی سے۔۔”

روحان نے اس کے کالر سے پکڑتے اسے دانین سے دور کر دیا تھا۔دانین دیوار سے کھسکتی کھانستی ہوئی زمین پر بیٹھ گئی تھی۔گل خان نے تیزی سے اسے تھام لیا تھا۔

“اوہ۔۔ دیکھیں زرا کون آیا ہے ہمارے گھر میں۔۔روحان صاحب آئیں ہیں۔۔”

وہ استہزایہ لہجے میں اسے گھورتا ہوا بولا تھا اس کی مداخلت اسے ایک آنکھ نہیں بھائی تھی۔

“تم کیا سمجھتے ہو بہت نیک بیوی ہے تمھاری ؟ “

“بہت معصوم ہے یہ ؟ “

وہ ہنستا ہوا روحان کے سپاٹ چہرے کی طرف دیکھتا طنزیہ بولا تھا۔

“مجھے اپنی بیوی کے بارے میں تم سے کچھ جاننے کی ضرورت نہیں ہے مجھے دانین پر بھروسہ ہے۔۔۔”

روحان سنجیدگی سے بولا تھا۔

“ہاہاہا۔۔ “

شازل طنزیہ ہنسا تھا۔

“جس دن تمھیں اپنی نیک پارسا بیوی کے کرتوت پتا چلے تمھیں خود اس سے نفرت محسوس ہوگی۔۔”

“اس کی معصومیت کے نقاب کے پیچھے ایک ایسی شاطر اور بےحیا عورت چھپی ہے جس نے میری بہن کو برباد کر دیا۔۔”

“تمھاری یہ معصوم بیوی میری سولہ سالا بہن کی قاتل ہے۔۔”

وہ روحان کے روبرو کھڑا ہوتا پھنکارا تھا۔روحان اس کی بات سنتا ساکت ہوگیا تھا۔آنکھوں میں بےساختہ بےیقینی سمٹ آئی تھی۔

“شازل خاموش ہوجاو۔۔”

گل خان اپنی بیٹی کا ذکر سنتی تڑپ کر بولی تھیں۔

“مجھے تم پر یقین نہیں جھوٹ بول رہے ہو تم۔۔!!”

روحان کی بات پر اس کی آنکھوں میں سرد تاثر نمایا ہوا تھا۔

” اگر اتنا یقین ہے تو اپنی بیوی سے پوچھنا سفیان کون ہے؟”

وہ کاٹ دار لہجے میں بولتا لمبے لمبے ڈھگ بھرتا گھر سے نکل گیا تھا۔

روحان نے اس کے جانے کے بعد بنا کچھ کہے دانین کو سہارا دے کر اٹھایا تھا اور اسے کمرے میں لے گیا تھا۔گل خان غمگین سی اپنی بیٹی کو یاد کرتی کمرے میں چلی گئی تھیں۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

“نورے اگر کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجھک مجھے بول دینا۔۔”

اسے روم دیکھاتے بریرہ نے نرم لہجے میں کہا تھا تھوڑی دیر پہلے ہی عادل اسے ائیر پورٹ سے لے کر یہاں آیا تھا۔اس کی سرخ آنکھیں اور سوجے پپوٹے دیکھ کر بریرہ خاموشی ہی رہی تھی۔

“اوکے آپی میں ابھی جسٹ ریسٹ کرنا چاہتی ہوں۔۔”

کمرے کو دیکھتے نورے نے سادہ انداز میں کہا تھا۔

“اچھا یہ سیل فون لے لو اور شاہزیب کو کال کر لو۔۔”

بریرہ نے اسے فون پکڑاتے کہا تھا اسے پتا چلا تھا کہ نورے اپنا فون استعمال نہیں کر رہی۔۔نورے کے فون پکڑنے پر بریرہ خاموشی سے باہر نکل گئی تھی۔

خود کو اکیلا محسوس کرتے نورے نے گہرا سانس لیا تھا اس نے میسج کرکے شاہزیب کو انفارم کردیا تھا وہ پہلی بار کسی غیر ملک میں آئی تھی اس لیے عجیب سا محسوس کر رہی تھی۔

شازل کا خیال پل پل ذہن میں آرہا تھا جسے وہ جھٹک رہی تھی۔فریش ہوکر کپڑے چینج کرتے اس نے موبائل اٹھایا تھا جب تاریخ دیکھتے اسے یاد آیا تھا آج شازل کا نکاح تھا۔وہ وہاں سے بھاگ تو آئی تھی لیکن سوچیں ابھی بھی وہاں ہی اٹکی ہوئی تھی۔

اس کی دوسری شادی کے خیال سے بےچین ہوتی وہ بےچینی سے اٹھ بیٹھی تھی دل میں آگ سی لگ گئی تھی۔دماغ میں عجیب عجیب سوچیں آرہی تھیں۔

“شازل خان۔۔آپ نے میرے ساتھ بہت بڑی زیادتی کردی ہے۔۔”

وہ بیڈ پر چت لیٹی نم آنکھوں سے چھت کو گھورتی ہوئی بولی تھی۔

“محبت میں شرک برداشت نہیں ہوتا۔”

“میری جان لے لیتے۔۔۔ مگر دوسری شادی کا نہ سوچتے۔۔”

وہ منہ میں بڑبڑاتی خیالوں میں اس بےرحم سے مخاطب تھی جس نے اسے پلٹ کر جاتے دیکھا بھی نہیں تھا۔

“آپ بہت تڑپیں گے۔ یہ میری بددعا ہے۔۔”

وہ تکلیف کی شدت سے بولتی فوری اپنے لب کاٹ گئی جبکہ زور سے دانتوں تلے دبانے سے خون اس کے ہونٹوں سے نکلتا منہ میں گھل گیا تھا۔

“یااللہ آپ تو میری کیفیت سمجھتے ہیں نہ؟ مجھے ہمت دیں۔۔”

وہ آنکھیں بند کرکے نرمی سے بولتی آنکھیں میچ گئی تھی۔مگر ایک پل کو بھی چین نصیب نہیں تھا۔

کچھ دیر بعد اس کے دروازے پر ناک ہوا تھا بریرہ کے اندر آتے ہی وہ اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔

“نماز کا ٹائم ہوگیا ہے میں نے سوچا تمھیں بھی اٹھا دوں۔۔”

بریرہ نے مسکرا کر اسے کہا تھا۔وہ سر ہلاتی اٹھ گئی تھی یہ نہیں تھا کہ وہ نماز نہیں پڑھتی مگر کبھی اس نے پابندگی سے نہیں پڑھی تھی۔

وضو کرتے نماز پڑھ کر وہ باہر نکل آئی تھی مگر دل میں ابھی بھی ادھم مچا ہوا تھا اس کی نظر بےساختہ بریرہ کے چہرے پر گئی تھی۔اس کے چہرے پر کھلتی مسکراہٹ اور سکون کو نورے نے رشک سے دیکھا تھا۔

“نورے آو بیٹھو میں کھانا لگانے لگی تھی۔۔”

اسے دیکھتے بریرہ نے منہ کھولتے عادل کو گھور کر دیکھتے کہا تھا۔جس پر عادل اپنی مسکراہٹ دباتا خاموش ہوگیا تھا۔

نورے کے بیٹھنے پر عادل بریرہ کے ساتھ مل کر ڈائیننگ ٹیبل پر کھانا رکھنے لگا تھا۔نورے خاموشی سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔جو ہنستے مسکراتے ایک دوسرے کو چھیڑتے اسے آئیڈیل کپل لگ رہا تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

دو دن سے وہ اس کمرے میں بند تھی اب تو اس کا سانس گھٹنے لگا تھا ڈینیل اسے لا کر یہاں بند کرچکا تھا۔کمرے میں ایسی کوئی چیز نہیں تھی جس کا استعمال کرکے وہ یہاں سے نکل سکتی۔۔بس تین ٹائم اسے کھانے دینے کے لیے ایک گارڈ آتا تھا جسے دیکھ کر ویسے ہی اس کا سانس سکھ جاتا تھا۔اسے سب سے زیادہ ٹینشن احمد کی تھی کہ ناجانے وہ کس حال میں ہوگا۔۔یہ ہی پریشانی اسے اندر ہی اندر نڈھال کر رہی تھی۔

اپنی بےچینی کم کرنے کے لیے اس نے وضو کیا تھا۔یہاں جائے نماز تو نہیں تھا لیکن وہ کمفرٹر اتار کر اسے فولڈ کرتی جائے نماز بنا کر استعمال کر رہی تھی۔

وہ سجدے میں تھی جب دروازہ کھولتا ڈینیل روم میں داخل ہوا تھا۔وہ کسی شخص کی موجودگی محسوس کرچکی تھی مگر اپنی عبادت میں مصروف سجدے میں تھی۔

“Ohh Girl…! Damn it…!! Are you alright??”

وہ زرکشہ کو سجدے میں دیکھ کر شاید غلط سمجھ بیٹھا تھا۔تبھی اسے دیکھ کر وہ تیزی سے بولتا اس کے قریب گیا تھا جب وہ سجدے سے اٹھتی سلام پھیر چکی تھی۔

“تم مجھے بےوقوف بنا کر بےہوش ہونے کا ناٹک کر رہی تھی۔۔؟”

وہ انگریزی زبان میں اسے گھورتا ہوا بول رہا تھا حجاب میں چھپا زرکشہ کا چہرہ دیکھ کر وہ مٹھیاں بھینچ گیا تھا۔

“میں نماز پڑھ رہی تھی۔ مطلب عبادت کر رہی تھی۔۔”

وہ نرم لہجے میں بولی تھی اس کا یوں الزام لگانا اسے ایک آنکھ نہ بھایا تھا۔مگر وہ سمجھ سکتی تھی اس جیسے شخص کو عبادت یا اسلام کے بارے میں کچھ نہیں پتا ہوسکتا تھا۔

“یس۔۔ عادل بھی عبادت کرتا ہے۔۔”

وہ اپنے مسلم ساتھیوں کا سوچتا عادل کے بارے میں سوچ کر بولا تھا۔

“میرا بھائی کہاں ہے؟”

اس نے نظریں جھکاتے پوچھا تھا۔ڈینیل پنجوں کے بل اس کے پاس بیٹھ چکا تھا۔

“وہ جہاں بھی ہے ٹھیک ہے۔۔”

اس نے سرد لہجے میں جواب دیا تھا۔

“ہمیں جانے دیں۔۔ ہم نے آپ لوگوں کا کیا بگاڑا ہے؟”

وہ اپنی شرٹ کے ڈیزائن پر انگلی پھیرتی بولی تھی۔ڈینیل نے بےساختہ ہاتھ ہوا میں بلند کرتے اس کے روشن چہرے کو چھونا چاہا تھا جب وہ بدک کر پیچھے ہٹی تھی۔

“ڈونٹ ٹچ می۔۔”

وہ سخت لہجے میں بولی تھی۔ڈینیل نے عجیب انداز میں مسکرا کر اسے دیکھا تھا۔

“تمھارے باپ نے تمھیں بیچ دیا ہے۔۔”

اس کے منہ سے نکلے الفاظ سن کر زرکشہ ساکت رہ گئی تھی۔

“آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔”

وہ کانپتی آواز میں چیخی تھی۔وہ جانتی تھی اس کا باپ اسے پسند نہیں کرتا مگر بیچنا ؟ اسے یقین نہیں آرہا تھا۔

“تمھیں میرا احسان مند ہونا چاہیے ورنہ تمھارا باپ جتنے لوگوں کا قرض دار ہے اب تک تم اور تمھارے بھائی کی باڈی بھی نہیں ملنی تھی۔۔یہ آخری دن ہے جتنا آرام کرنا ہے کرلو کل سے تم باقی ملازمین کے ساتھ کام کیا کرو گی۔۔”

اس کی بات پر زرکشہ نے بےساختہ اپنی سنہری آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔

“یہاں اگر رہنا ہے تو کام بھی کرنا پڑے گا۔۔ تمھیں آخر اپنے باپ کا قرض بھی تو چکانا ہے۔۔ اور ہاں شام تک تمھیں تمھارے ڈریسز مل جائیں گے۔۔اور یہاں سے بھاگنے کا سوچنا بھی مت۔۔اگر تم گھر سے باہر نکل بھی گئی تو چاروں طرف جنگلات کے علاوہ صرف تمھیں جنگلی جانور ملیں گے۔۔”

بولتے بولتے اس کی آواز انتہائی سرد ہو گئی تھی۔زرکشہ کو اپنے رونگٹھے کھڑے ہوتے محسوس ہو رہے تھے۔وہ سر ہلاتی تیزی سے مزید کھسک کر اس سے دور ہوگئی تھی۔ڈینیل ایک دم اس کے چہرے کے قریب جھکتا اس کی پھیلی آنکھوں میں دیکھتا ونک کرتا محظوظ سا وہاں سے نکل گیا تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

“عسکری نورے کا نمبر ٹریس کرکے بتاو اس وقت اس کی لوکیشن کیا ہے؟”

شازل نے اپنے بال مٹھیوں میں دبوچتے عسکری کو کال ملا کر کہا تھا۔

“اوکے باس دو منٹ لگے گیں۔۔”

عسکری نے اپنا لیپ ٹاپ ان کرتے نورے کا نمبر ٹریس کرنے کی کوشش کی تھی۔

“اس کا نمبر بند ہے۔۔اور آخری لوکیشن دو دن پہلے اس کے گھر کی شو ہو رہی ہے۔۔”

عسکری کے بتانے پر اس نے زور سے مکا سٹئیرینگ ویل پر مارا تھا وہ جان گیا تھا۔ نورے دو دن پہلے ہی یہاں سے جاچکی تھی۔

“تم میرا ایک کام کرو۔۔فیاض ہر نظر رکھو۔۔حیدر کی مدد لے لو۔۔میں کچھ دن مصروف رہوں گا۔۔ٹیم کو انولو مت کرنا فلحال تم بذاتِ خود ہینڈل کرو سب کچھ۔۔فیاض کی کمزوری ڈھونڈو۔۔اس کی عادتیں اور اڈیکشن ڈھونڈو۔۔یہ ایک کام کرو تمھیں ڈبل پے کروں گا۔۔”

شازل سنجیدگی سے بولا تھا۔

“شٹ اپ برو۔۔ میں سب سنبھال لوں گا۔۔ تم بےفکر رہو اوف یہ پیسوں کی بات دوبارہ مت کرنا منہ توڑ دوں گا تمھارا۔۔”

عسکری بنا اس کی بات سنے اپنی سناتا کال بند کر گیا تھا۔

وہ گہری سانس بھرتا اپنا موبائل ڈیش بورڈ پر پھینکتا کار سے باہر نکل آیا تھا۔وہ اس وقت سڑک کنارے کھڑا تھا۔اس کا دم گھٹ رہا تھا یہ سوچ سوچ کر کہ نورے اسے چھوڑ چکی ہے۔۔

“صحیح کیا ہے اس نے۔۔۔ میں اسی قابل ہوں۔۔ میں اسے ڈیزرو ہی نہیں کرتا۔۔”

“شٹ۔۔”

اس نے زور سے گاڑے پر مکا مارتے وہاں ڈنٹ ڈال دیا تھا۔

“بالکل نہیں۔۔میں اسے ایسے خود سے دور جانے نہیں دوں گا۔۔”

وہ گاڑی پر مکے مارتا اپنا ہاتھ زخمی کرچکا تھا۔اس کی انگلیوں سے خون نکلنے لگا تھا۔

“جسٹ ویٹ نورے۔۔ بس کچھ دن کھل کر سانس لے لو۔۔میں تمھیں پھر کبھی خود سے دور نہیں جانے دوں گا۔۔”

وہ منہ میں بڑبڑاتا گاڑی میں بیٹھتا شاہزیب سے بات کرنے کا سوچتا اس کے آفس چل دیا تھا۔

شاہزیب جو اپنے کام میں مصروف فائل پر جھکا ہوا تھا نورے کا میسج دیکھ کر اس نے سکون کا سانس لیا تھا۔وہ کرسی سے ٹیک لگاتا بیٹھا تھا جب شازل زبردستی اس کے آفس میں گھس آیا تھا۔

“کمینے انسان تمھاری جرت کیسے ہوئی میرے سامنے آنے کی؟”

شاہزیب آگ بگولا ہوتا اپنی جگہ سے اٹھتا سیدھا شازل پر جھپٹا تھا۔پھر دونوں کی ایسی لڑائی شروع ہوئی کہ باہر موجود لوگ بھی گھبرا گئے تھے۔

شاہزیب کے پی اے نے فوری سکیورٹی کو بلایا تھا۔شازل اپنا غصہ شاہزیب پر نکال رہا تھا جبکہ شاہزیب نورے کی تکلیوں کا بدلہ شازل سے لے رہا تھا۔اور یقینا اس بار پلرا بھی شاہزیب کا بھاری تھا۔

دونوں ایک دوسرے کو مارتے منہ ، ہاتھ اور ناجانے کیا کیا زخمی کرچکے تھے۔سکیورٹی نے ان دونوں کے درمیان آتے بمشکل ان دونوں کو الگ کیا تھا

“میری بیوی کہاں ہے؟ مجھے فورا بتا دو ورنہ تمھاری بیوی بھی غائب کروا دوں گا۔۔”

شازل غصے میں پاگل ہوتا چیخا تھا۔

“مرد ہو تو خود ڈھونڈ کر دکھاو اپنی بیوی کو اور خبر دار میری بیوی کو اس سب کے بیچ لائے۔۔ورنہ ابھی جو اپنی بہن کے معاملے میں تھوڑا صبر کر رہا ہوں اپنی بیوی کے معاملے میں تمھاری جان لے لوں گا۔ “

شاہزیب سلگتے لہجے میں پھنکارا تھا۔

“ایک ہفتے کے اندر اندر میں اسے ڈھونڈ نکالوں گا اور پھر بھول جانا تم کبھی اپنی بہن کی شکل بھی دیکھ پاوں گے۔۔”

وہ اپنے ہونٹوں سے نکلتا خون صاف کرتا زہر خند لہجے میں پھنکارا تھا۔

“جاو پہلے اسے ڈھونڈ کر نکالو پھر بات کرنا۔۔ ڈھونڈ بھی لیا نہ تو وہ تیری طرف دیکھے گی بھی نہیں۔۔اور اب میری بہن کی یاد کیوں آرہی ہے۔۔جاو جاکر اپنی نئی بیوی کے ساتھ خوشیاں مناوں۔۔بس میری بہن کی جان چھوڑ دو۔۔”

شاہزیب غصے میں بولتا آخری میں تپ کر بولا تھا۔

“کوئی شادی نہیں کی میں نے۔۔وہ سب ایک ڈرامہ تھا۔۔ اور میں نورے کو کبھی نہیں چھوڑوں گا ایک بار وہ مجھے مل جائے اس کے بعد وہ میرے ساتھ میرے گھر جائے گی۔ “

وہ انگلی اٹھا کر شاہزیب کو بولتا لمبے لمبے ڈھگ بھرتا باہر نکل گیا تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

“کون ہے سفیان؟”

اس کے ریلکس ہونے کے بعد روحان نے سنجیدگی سے اس سے پوچھا تھا۔

“میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی۔۔۔بلکہ سب سے بڑا گناہ۔۔ پچھتاوا۔۔۔نقصان۔۔”

وہ نم لہجے میں بولی تھی۔

“وہ کون ہے؟”

روحان نے سپاٹ لہجے میں پوچھا تھا۔جیسا شازل کا ریکشن تھا اسے یہ معلوم ہوگیا تھا کہ بات کوئی چھوٹی نہیں ہے۔۔

“میں اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتی۔۔”

وہ خشک پڑتا حلق محسوس کرتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔

“جب تک مجھے تم میرے سوالات کے جواب نہیں دے دیتی تم یہاں سے کہیں نہیں جاو گی۔۔”

وہ لب بھینچ کر اس کو کندھوں سے تھامتا بولا تھا۔دانین نظریں چڑاتی اس کے ہاتھ بری طرح جھٹک گئی تھی۔اسے ڈر تھا سچائی جاننے کے بعد مقابل بھی اسے کہیں دھتکار نہ دے اس ڈر کی وجہ سے وہ اسے کچھ بھی بتا نہیں پا رہی تھی۔

“میں ابھی آپ کو کچھ نہیں بتا سکتی پلیز سمجھنے کی کوشش کریں۔۔”

وہ نم آنکھوں سے بولتی روحان کو نرم ہونے پر مجبور کر گئی تھی۔روحان لب بھینچتا خاموش ہوگیا تھا۔

“آج نہیں تو کل تمھیں مجھے حقیقت بتانی ہی پڑے گی۔۔دانین سچائی کبھی چھپتی نہیں ہے۔۔اور اب میں تمھارا شوہر ہوں تمھارا لباس ہوں۔۔”

روحان نے اس کا سہما چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے کہا تھا۔جس پر وہ آنسو بہاتی آنکھیں میچ گئی تھی۔اس کی آنکھوں کے سامنے ڈھائی سال پہلے کا منظر نمایا ہوا تھا۔

ماضی:

“میری بہار کہاں ہو تم جلدی آجاو۔۔ پھر ہمیں ڈرائیور لینے آجائے گا۔۔”

بہارے گل کو پکارتی دانین ایکسائیٹڈ سی بولی تھی۔بہارے گل اور اس کی عمر میں ایک سال کا فرق تھا مگر اس کے مقابلے میں بہارے کافی معصوم اور سنجیدہ بچی تھی۔

“آپی مجھے ٹیچر نے سٹاف روم میں بلایا ہے انھیں مجھ سے کام ہے۔۔آپ جاکر چاٹ کھا لیں میرے لیے پیک کروا لیں میں راستے میں کھا لوں گی۔۔”

بہارے گل نرم لہجے میں بولتی اندر چلی گئی تھی۔دانین نے اس کے جاتے ہی اپنا بیگ اٹھایا تھا اور سکول سے باہر نکل گئی تھی انھیں چھٹی ہوچکی تھی۔وہ چاٹ کھانے کے لیے سٹال کی طرف بڑھ رہی تھی جب ایک گاڑی تیزی سے اس کے قریب آکر رکی تھی وہ چونک سی گئی تھی جب گاڑی میں بیٹھے ایک ہینڈسم سے مرد کو دیکھتی وہ اپنی جگہ جم سی گئی تھی اس مرد نے ایک کارڈ اس کی جانب بڑھایا تھا جو وہ ناسمجھی میں پکڑ چکی تھی۔وہ اسے سمائل پاس کرتا جتنی تیزی سے آیا تھا اتنی تیزی سے نکل گیا تھا۔اسے سمجھ نہیں آیا تھا یہ ہوا کیا ہے۔۔

اس نے کارڈ کو ایک نظر دیکھا تھا جس پر سفیان انٹرپرائز لکھا ہوا تھا نیچے اس کا نمبر موجود تھا وہ سر جھٹکتی بنا دھیان دیے وہ کارڈ بیگ میں ڈال چکی تھی۔اسے پتا تھا وہ شازل کی منگ ہے۔ مگر اسے شازل شروع سے ہی پسند نہ تھا سہ ہر وقت غصے میں رہتا تھا اور اسے تو منہ تک نہیں لگاتا تھا جبکہ اس کی دوستیں جو میٹرک میں تھیں ان میں سے چند ایک کی انگیجمنٹ اور کچھ کے بوائے فرینڈز تھے جو بہت فخر سے سب سہلیوں کو بتاتی تھیں کہ ان کو آج کیا ملا کتنے پیار سے ان کے بوائے فرینڈز ان سے بات کرتے ہیں اور صبح شام وہ ان کی فکر کرتے رہتے ہیں۔

یہ سن کر وہ شازل کی جانب سے مزید دل پھیر گئی تھی۔اس نے شازل کے رویے سے تنگ آکر اپنی دوستوں کو ساری صورتحال بتا دی تھی۔اس کی دوستوں نے سجیسٹ کیا تھا وہ شازل سے دو ٹوک بات کرے۔۔اس وقت وہ سکول کی لڑکیاں جنھیں اپنے فیوچر کی فکر ہونی چاہیے وہ خود بخود باخوشی تباہی کی طرف جاتے ہوئے فخریہ کارنامے اپنی دوستوں کو بتاتی اپنے مستقبل کو تباہ کر رہی تھیں۔

“شازل۔۔بات سنیں۔۔”

اس نے ہمت کرتے آج شازل سے بات کرنے کا سوچ ہی لیا تھا جو اسے گھاس تک نہیں ڈالتا تھا وہ کینیڈا سے کچھ دنوں کے لیے آیا ہوا تھا۔ وہ آغا خان کے ساتھ کینیڈا میں اپنی سٹڈیز کمپلیٹ کرنے کے بعد بزنس سنبھال رہا تھا۔

شازل جو عجلت میں تھا اس کے یوں بلانے پر رک گیا تھا۔

“مجھے بھائی پکارا کرو۔۔ تمیز نہیں سکھائی تمھیں کسی نے۔۔؟”

وہ اس سے نو سال بڑا تھا اور اس کا یہ بےتکلف انداز اسے بالکل پسند نہیں آیا تھا وہ باہر کے ماحول میں پلنے کے باوجود بھی اپنے رسم و رواج کو نہیں بھولا تھا۔اس کے مطابق جب تک ان کا نکاح نہیں ہو جاتا تب تک وہ اس کا بھائی ہی ہے اور جتنی اس کی ایج تھی وہ ایسے کوئی خرافات اس کے دماغ میں ڈال کر اسے پڑھائی سے نہیں ہٹانا چاہتا تھا تبھی وہ اس سے دور رہتا تھا۔اس کی نظروں میں دانین اور بہارے گل ایک جیسی اس کی بہنیں تھیں۔اور اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا اپنے سے اتنی چھوٹی بچی سے شادی کرنے کا۔۔

“اب میں آپ کو بھی بھائی بلاوں گی؟”

دانین آنکھیں گھماتی بدتمیزی سے بولی تھی۔شازل نے غصے سے اسے گھور کر دیکھا تھا۔

“کہنا کیا چاہتی ہو تم؟”

شازل نے سختی سے پوچھا تھا۔

“آپ میرے فیانسی ہے۔۔لیکن مجال ہے جو آپ کو میری قدر ہو۔۔کبھی میری تعریف کی یے؟ کبھی مجھ سے پیار سے بات کی ہے۔۔ آپ تو میرے میسج سین کرکے چھوڑ دینے ہیں میری دوست کا فیانسی تو ایسا نہیں کرتا وہ ساری رات اس سے بات کرتا ہے اسے تحائف دیتا ہے اس کی تعریفیں کرتا ہے۔۔”

اس کی باتیں سن کر شازل کو اس سے مزید الجھن ہوئی تھی جبکہ اس کا غصہ سوانیزے پر پہنچ گیا تھا۔

“کیا فضول بکے جارہی ہو تم؟ “

“یہ سیکھنے جاتی ہو سکول تم؟ تمھاری یہ فضول باتیں میں ملی کو بتاتا ہوں۔۔تمھیں زرا لگام ڈالیں دن بدن بےشرم ہوتی جارہی ہو۔۔”

شازل غصے سے سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ زہر خند لہجے میں بولا تھا۔جبکہ احساسِ ذلت سے دانین کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔

“ایسی بھی کوئی بری بات نہیں کہی میں نے۔۔جائیں جسے بتانا ہے بتادیں کسی سے نہیں ڈرتی میں۔۔اور نہ ہی وہ ملی میرا کچھ بگاڑ سکے گی۔۔”

وہ انتہائی بدتمیزی سے بولتے اپنے کمرے میں بھاگ گئی تھی۔شازل غصے سے مٹھیاں بھینچتا لمبے لمبے ڈھگ بھرتا حیدر سے ملنے چلا گیا تھا جو گھر کے باہر اس کا انتظار کر رہا تھا۔

“لالی سکول کیسا جارہا ہے؟”

رات کا وقت تھا سب ڈنر کرنے کے لیے ٹیبل پر موجود تھے سوائے دانین کا۔۔جس کی طرف شازل نے بالکل بھی دھیان نہیں دیا تھا۔

“لالا میری پڑھائی بہت اچھی جارہی ہے دیکھنا آپ ایک دن میں ڈاکٹر بنوں گی پھر آپ فخر سے بولا کریں گے میری لالی ڈاکٹر بن گئی ہے۔۔”

بہارے گل نے اس کے جواب میں خوشی سے کہا تھا۔وہ نویں میں تھی اور ایک لائق سٹوڈنٹ تھی۔

“إن شاء اللّٰه”

گل خان اپنی بیٹی کی بات سنتے مسکرا کر بڑبڑائی تھیں۔محب خان بھی اپنی بیٹی کا جوش و جذبہ دیکھ کر فخر محسوس کر رہے تھے۔

“لالی یہ سکول میں ہی پڑھائی کا شوق رہتا ہے ایک بار سکول سے نکلو گی اور پڑھائی مشکل ہوتی جائے گی۔۔پھر تم کہو گی مجھے ڈاکٹر نہیں بننا لالا۔۔۔”

شازل اسے تنگ کرنے کے لیے چراتا ہوا بولا تھا۔

“ایسے مت کہیں بھائی۔۔میں إن شاء اللّٰه ڈاکٹر بنوں گی۔۔ میرا خواب ہے لوگوں کی خدمت کرنا۔۔ اور ہاں میں پشاور میں جوب کروں گی۔۔”

وہ مسکرا کر بولتی شازل کے چہرے پر بھی مسکراہٹ بکھیر گئی تھی۔

“یہ نالائق اپنی خصوصیات تمھیں بتا رہا ہے۔۔”

محب خان اپنے دائیں جانب بیٹھے شازل کا کان مڑورتے بولے تھے۔ان کی بات پر سب ہنس پڑے تھے۔جبکہ شازل چیخ پڑا تھا۔

“ڈیڈ آپ کے یہ بیٹا ایک دن آپ کا نام روشن کرے گا۔۔بس ابھی میرا کان چھوڑ دیں۔۔اگر میرا کان ٹھیک نہیں رہا تو مجھے سنائی نہیں دے گا۔۔اور اگر مجھے سنائی نہیں دیا تو میں کامیاب انسان کیسے بنوں گا اگر کامیاب انسان نہ بنا تو آپ کا نام کیسے روشن کروں گا۔۔؟”

وہ ڈرامائی انداز میں بڑبڑاتا سب کو ہنسنے پر مجبور کر گیا تھا۔سب کے چہروں پر بکھری مسکراہٹ دیکھتے وہاں سے کچھ فاصلے پر کھڑی دانین نے حسد سے اپنی مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔شازل کو یوں مسکراتے دیکھ کر اسے مزید غصہ چڑھا تھا۔وہ پاوں پٹھکتی تیزی سے واپس اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *