Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes NovelR50560 Professor Shah (Episode 29)
Rate this Novel
Professor Shah (Episode 29)
Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes
“روحان۔۔”
وہ گلابی ہونٹوں کو کاٹتی کانپتی آواز میں بول رہی تھی۔روحان کے چہرے پر ناقابلِ فہم تاثرات تھے۔اس نے روحان کو چھونے کے لیے ہاتھ اٹھایا تھا۔
لیکن روحان دو قدم اٹھاتا پیچھے ہٹ گیا تھا۔
“روحان پلیز۔۔۔”
وہ کسی انہونی کے احساس سے التجائیہ بولی تھی۔
“مجھے کچھ ٹائم چاہیے۔۔”
وہ بھاری آواز میں بولا تھا۔اس کی معصوم شکل کو دیکھتے وہ نظریں پھیر گیا تھا۔اس کی باتیں سن کر اسے اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آرہا تھا۔
اسے لگتا تھا وہ اس وجہ سے گھبراتی ہے کہ شاید اس کے ساتھ کوئی برا حادثہ پیش آیا ہوگا۔۔مگر اس کا مکمل ماضی جان کر وہ ششد رہ گیا تھا۔
“پ۔۔پلیز روحان ایسا نہ کریں۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے آپ کو۔۔۔مجھ سے کچھ بات کریں۔۔اگر غصہ ہیں تو ڈانٹیں ماریں۔۔یہ آپ کی خاموشی مجھے مار رہی ہے۔۔”
وہ نم ہوتی پلکوں کو میچتی تیز تیز سانس بھرتی بولی تھی۔
“دانین میں ابھی کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔۔”
اس کے سرد انداز ، بےتاثر چہرہ اور نافہم تاثرات کو دیکھتے دانین کی دھڑکنیں مدہم پڑنے لگی تھی۔
“روحان پلیز۔۔میری طرف تو دیکھیں۔۔”
وہ اسے نظریں چڑاتے دیکھ کر تکلیف کی شدت سے چیختی ہوئی بولی تھی۔وہ اسے کھونا نہیں چاہتی تھی۔تبھی وہ اسے اپنا ماضی بتانے سے ڈرتی تھی۔وہ سیاہ ماضی جو اس کا بخت سیاہ کرگیا اس کے ہاتھوں کو ایک معصوم کے خون سے بھر گیا۔۔وہ سیاہ ماضی جو اسے ہر روز ایک سانپ کی طرح ڈستا ہے۔۔وہ سیاہ ماضی جس نے بہارے گل کی جان لے لی۔۔وہ سیاہ ماضی جو محبت سے اعتبار اٹھا گیا تھا۔وہ سیاہ ماضی جو اس کے اور بہارے گل کے خوابوں کو سیاہ کر گیا تھا۔اب وہ ہی سیاہ ماضی اس سے اس کی پاکیزہ محبت دور کردینے والا تھا۔
“کیوں دیکھوں تمھاری طرف؟ تمھاری خودغرضی نے کسی کی جان لے لی ہے تم سمجھتی ہو یہ کتنی بڑی بات ہے؟ تمھاری غلطی کی سزا کسی معصوم کو ملی ہے۔۔”
وہ دانین کی نم آنکھوں میں دیکھتا چیخا تھا۔ایک وقت تھا جب وہ اس کی معصومیت پر دل ہار بیٹھا تھا اور اب یہ وقت تھا جب وہ اسے صرف ایک خودغرض لڑکی دکھائی دے رہی تھی۔
“روحان غلطیاں تو سب سے ہی ہوتی ہیں نہ۔۔”
وہ اس کے چیخنے پر لب کاٹتی نم آواز میں بولی تھی۔
“تم نے غلطی نہیں گناہ کیا ہے دانین۔۔”
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا سرد لہجے میں بولا تھا۔
“کب تک میں اپنے ماضی کی وجہ سے تکلیف میں رہوں گی؟ کیا مجھے جینے کا حق نہیں؟”
وہ حلق کے بل چلائی تھی۔روحان کے چہرے پر اب بھی سرد تاثرات تھے۔
“تمھاری اس بچکانہ خواہش نے کسی کو مار دیا ہے۔۔اور تم اب بھی جینا چاہتی ہو؟؟”
روحان ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالتا الٹے قدم اٹھاتا تیزی سے اس کے کمرے سے نکل گیا تھا۔دانین تو ششد ہی رہ گیا تھا۔اس کی آنکھوں سے بہتا پانی اس کے چہرے کو بھگو گیا تھا۔
“آہہہ۔۔۔یااللہ۔۔ “
وہ چیختی ہوئی زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی روحان کو کھونے کے ڈر سے دل پھٹنے لگا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“نورے۔۔”
شازل نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اسے اٹھایا تھا۔نورے نے نیند سے بھری آنکھیں کھولتے شازل کو دیکھا تھا۔
اس کے چہرے کو دیکھتے نورے کے چہرے پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔
“مارننگ۔۔”
وہ اٹھ کر بیٹھتی اپنی آنکھیں مسلتی بولی تھی۔شازل نے اس کے سر پر محبت سے بوسہ لیا تھا۔جس پر وہ دھیرے سے مسکرا اٹھی تھی۔
“زوجہ محترمہ دوپہر ہوچکی ہے۔۔”
شازل کی بات سنتے اس کی آنکھیں پھیل گئی تھیں۔اس نے تیزی سے موبائل اٹھا کر دیکھا تھا جہاں دن کے ایک بج رہے تھے۔
“ہائے اللہ۔۔۔سب لوگ ناجانے کیا سوچ رہے ہوں گے ؟ آپ نے مجھے اٹھایا کیوں نہیں؟؟”
وہ برہمی اور شرمندگی کے ملے جلے تاثرات محسوس کرتی سرخ ہوتی بولی تھی۔
“میں نے موم کو بتا دیا تھا تم سفر سے تھکی ہوئی ہو اس لیے سو رہی ہو۔۔”
شازل کی بات پر اس نے سکون کا سانس بھرا تھا۔
“آپ کہاں جارہے ہیں؟”
اس نے شازل کو تیار دیکھ کر پوچھا تھا۔
“میں کہیں نہیں جارہا بلکہ واپس آیا ہوں۔۔تم اٹھو اور فریش ہوکر کچھ کھا پی لو اور میرے لیے ایک چائے کا کپ سٹڈی روم میں لے آو۔۔”
وہ اسے سٹڈی روم کے دروازے کی طرف اشارہ کرتا بولا تھا۔
“اوکے جائیں آپ کام کریں۔۔”
نورے اٹھتی الماری سے اپنا سوٹ نکالتی فریش ہوتی اپنے بالوں کو باندھتی ہلکا سا تیار ہوتی لب کاٹتے نروس سی کمرے سے نکلی تھی۔اسے شازل کے گھر والوں سے تھوڑا ڈر لگ رہا تھا کہ ناجانے وہ اس کے بارے میں کای سوچ رہے ہوں گے؟
“نورے۔۔”
وہ اپنی ہی سوچوں میں مگن تھی جب اسے کسی نے پکارا تھا۔
“مارننگ آنٹی۔۔”
وہ گل خان کو دیکھتی ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بولی تھی۔
“مارننگ بیٹا۔۔آپ مجھے آنٹی کی جگہ مما بلایا کریں۔۔اب تو آپ اس گھر کی بیٹی ہیں۔۔”
گل خان نے اس کے سر پر محبت سے ہاتھ رکھتے کہا تھا جس پر نورے کھل کر مسکرا اٹھی تھی۔ان کی میٹھی اور شفقت سے بھری آواز سن کر اسے ایک دم فاطمہ بیگم کے ظلم یاد آئے تھے وہ اپنا سر جھٹکتی گل کے ساتھ کیچن میں چلی آئی تھی۔
“و۔۔وہ مجھے پتا نہیں چلا میں اتنی دیر کیسے سوتی رہی۔۔مما۔۔”
وہ شرمندہ سی بولی تھی۔
“اٹس اوکے بچے۔۔آو میں آپ کو کچھ کھانے کے لیے بنا دیتی ہوں۔۔”
گل خان کی محبت پر وہ ہلکے سے مسکرائی تھی۔
“نہیں مما اب میں لنچ ہی کروں گا بس اب جوس پیوں گی اور شازل کے لیے چائے بنانے لگی ہوں۔۔”
وہ نرمی سے بولی تھی۔
“شازل کا تو دماغ سٹھیا گیا ہے کیا کوئی نئی نویلی دلہن کو پہلے ہی دن کیچن میں بھیجتا ہے؟ رکو میں اس کے زرا کان کھینچتی ہوں۔۔”
گل خان برہمی سے بولی تھیں۔
“نہیں نہیں مما۔۔بس چائے ہی تو بنانی ہے اس میں کونسا زیادہ کام ہے۔۔”
نورے کے اسرار کرنے پر گل خان نرم پڑ گئی تھیں۔مگر بعد میں شازل کے کان کھینچنے کا وہ مکمل ارادہ کر چکی تھی۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
وہ بھاری سر کو تھامتی بمشکل اٹھ کر بیٹھی تھی۔سر میں تکلیف سے ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔
“فائینلی تمھیں ہوش آ ہی گیا۔۔”
اپنے دائیں جانب سے ڈینیل کی بھاری آواز سنتے اس کے منہ سے ایک چیخ نکلی تھی۔
“م۔۔۔میں۔۔ “
وہ کانپتے ہونٹوں سے بمشکل ایک لفظ ادا کر پائی تھی جب ایک ہی جست میں اس کے قریب پہنچتے ڈینیل نے اس کے گلابی ہونٹوں پر انگلی رکھی تھی۔اس کا مردانہ لمس محسوس کرتی وہ ایک پل کو سن پڑ گئی تھی۔پھر اچانک بری طرح اس کا ہاتھ جھٹکتی پیچھے ہٹنے لگی تھی جب ڈینیل نے اس کے چہرے کو اپنے گرفت میں لیا تھا۔
“تمھیں کیا لگا تھا مجھ سے بچ کر بھاگ جاو گی؟”
“کینیڈا میں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں تم مجھ سے چھپ سکو۔۔”
وہ اس کے چہرے کے قریب جھکتا سرد لہجے میں بولا تھا۔زرکشہ کو اس سے بےحد خوف محسوس ہو رہا تھا اس کا دل کر رہا تھا یہاں سے کہیں دور بھاگ جائے اس نے خوف اور گھبراہٹ میں اپنے ناخن زور سے ڈینیل کے ہاتھ میں چبھو دیے تھے۔ڈینیل نے اپنے ہاتھ پر جلن محسوس کرتے ہوئے بھی اس کا چہرہ نہیں چھوڑا تھا۔
“Wild Kitten”
وہ اپنے دوسرے ہاتھ سے اس کے ہاتھ کو تھامتا تپا دینے والی مسکراہٹ کے ساتھ بولا تھا۔
زرکشہ نے غصے سے اسے گھورا تھا۔
“ڈونٹ ٹچ می۔۔۔”
وہ حلق کے بل چلائی تھی۔ڈینیل کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی تھی۔اس کی جگہ سرد تاثرات نے لے لی تھی۔
“شٹ اپ۔۔”
وہ تیز آواز میں بولا تھا۔
“میں جو چاہے وہ کروں گا تم مجھے روک نہیں سکتی۔۔تمھارے باپ نے تمھیں اپنے قرض کی جگہ مجھے دیا ہے۔۔جب تک میرا دل نہیں بھر جاتا تم اس گھر میں رہو گی۔۔”
“اور اب تمھاری اس حرکت کی سزا تمھارے بھائی کو ملے گی۔۔”
ڈینیل کی آخری بات پر وہ طنزیہ ہنسی تھی۔
“میرا وہ بھائی جو بھاگ گیا ہے؟”
اس کے لہجے میں چھپا طنز محسوس کر کے ڈینیل نے اس کے منہ پر گرفت سخت کی تھی۔زرکشہ کو اس کی انگلیاں اپنی گالوں کے اندر دھنستی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
“تمھارا بھگوڑا بھائی تم سے بھی کم وقت میں پکڑا گیا تھا۔۔”
“وہ اس وقت بیسمنٹ میں ہے اور اپنی حرکت کی سزا لے رہا ہے۔۔اب تمھاری سزا بھی اسے ملے گی۔۔”
اس کا چہرہ جھٹکے سے چھوڑتے ڈینیل نے استہزایہ ہنستے کہا تھا۔
“ج۔۔جھوٹ بول رہے ہو تم۔۔”
وہ بےیقینی سے بولی تھی۔
“تمھارا جو دل کرے مان لو۔۔مگر تمھارے بھائی کو اب سزا ضرور ملے گی۔۔”
زرکشہ کو ڈینیل کی بات سنتے اس سے سخت نفرت محسوس ہوئی تھی۔
“کیا بگاڑا ہے ہم نے۔۔؟ کیوں میرے بھائی کو سزا دے رہے ہو؟ کیوں ہمیں قید کیا ہوا ہے؟ جو سزا دینی ہے وہ میرے باپ کو دو۔۔میرے بھائی کو بخش دو۔۔”
وہ چیخی تھی۔
“تم اب اس کمرے سے نہیں نکلو گی۔۔اور ہاں۔۔ تمھاری غلطی یہ ہے کہ تم اس شخص کی بیٹی ہو۔۔”
ڈینیل اس کی جانب ایک نظر دیکھتا تیزی سے باہر نکل گیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
شازل کو چائے دینے کے بعد اس نے گل کے ساتھ لنچ بنانے میں مدد کروائی تھی محب خان اور آغا خان آفس گئے ہوئے تھے جبکہ ملائکہ ان کے ساتھ ہی تھی اور دانین اپنے کمرے میں بند تھی۔روحان کا کوئی اتا پتا ہی نہیں تھا۔
ابھی نورے لنچ کے لیے فریش ہونے آئی تھی جب ایک بار پھر شازل نے چائے بنانے کا کہا تھا۔اور پھر ایک ہی دن میں اس نے شازل کو ناجانے کتنی بار چائے پلائی تھی۔اب تو اسے غصہ ہی آنے لگا تھا۔
رات کے گیارہ بج رہے تھے اور اسے ابھی بھی چائے پینی تھی چونکہ وہ ابھی تک کام میں ہی مصروف تھا۔
“ہر وقت چائے ، چائے اور بس چائے۔۔۔میری کوئی فکر ہی نہیں ہے سارا دن چولہے کے آگے کھڑی رہتی ہوں خود تو چٹی چمڑی ہے اور مجھے کالا بنانا چاہتا ہے۔۔”
وہ چائے کپ میں ڈالتی عاجز آتی بولی تھی۔غصے اور گرمی سے سرخ پڑتی اس نے چائے کا کپ لاتے شازل کے آگے پھینکنے کے سے انداز میں رکھا تھا۔شازل نے نظریں اٹھاتے اسے حیرت سے دیکھا تھا۔
“آپ نہ ایک کام کریں چائے کی ایک ڈرپ لگوا لیں اس طرح ہر وقت چائے آپ کی نسوں میں بھرتی رہے گی۔۔اتنی چائے میں ایک ہفتے میں نہیں پیتی جتنی آپ نے ایک دن میں مجھ سے بنوائی ہے۔۔”
“مجھے تو لگتا ہے خون کی بجائے چائے آپ کی رگوں میں ابلتی ہے تبھی ہر وقت غصے سے بھرے ہر ایک کو گھورتے رہتے ہیں۔۔”
وہ بولنے پر آئی تو بولتی چلی گئی تھی۔شازل نے ریلکس ہوتے چائے کا کپ پکڑتے اسے ایک ائبرو اچکاتے اسے دیکھا تھا جیسے پوچھ رہا ہو اور کچھ رہ گیا ہے؟
“آپ کو میری زرا پرواہ نہیں ہے۔۔پہلے دن کی بیوی سے کوئی ایسے کام کرواتا ہے؟ اور جیسے آپ نے مجھے چائے بنانے پر لگایا ہے بہت جلد میرا رنگ بھی خراب ہوجائے گا۔۔آپ تو چاہتے ہی یہ ہیں لوگ آپ کی تعریف کریں۔۔اور میری برائی۔۔”
وہ اس کی گوری رنگت کو دیکھتی منہ پھولا کر بولی تھی۔
“لوگوں کا تو کام بولنا ہے۔۔مگر ایک بات یاد رکھنا۔۔”
“اس چٹے کے دل پر ایک سانولی کی حکومت ہے۔۔”
وہ چائے کا گھونٹ بھرتا اپنے دل کی طرف اشارہ کرتا بولا تھا۔
نورے کے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ بکھر پڑی تھی۔
شازل نے پیار سے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا۔وہ چلتی ہوئی اس کے سامنے چلی آئی تھی۔
شازل نے اس کی کمر کے گرد ہاتھ باندھتے اس کے پیٹ کے ساتھ اپنا سر ٹکایا تھا۔اس کے پاس سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبو محسوس کرتے اسے اپنے حواسوں پر سکون چھاتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
“میں اتنے پیار سے تیار ہوئی تھی آپ نے تعریف بھی نہیں کی۔۔”
وہ ناز سے بولی تھی۔
“تمھیں تیار ہونے کی ضرورت ہی نہیں مجھے تم سادہ بھی بہت پسند ہو۔۔”
وہ اس کے گرد حصار تنگ کرتا بولا تھا۔دانین کی حرکت کے بعد اسے کبھی یہ یقین نہیں تھا کہ کوئی لڑکی اس کے سرد دل کو پگھلا سکتی ہے مگر اس نے یہ کام کر دکھایا تھا۔
“زیادہ مکھن لگانے کی ضرورت نہیں۔۔”
وہ شازل کے بالوں میں انگلیاں چلاتی بولی تھی۔شازل کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھری تھی۔وہ خاموشی سے اسے اپنے مزید قریب کھینچتا اس کی مہک خود میں اتارنے لگا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
صبح سے وہ کمرے میں بند تھی ملائکہ اسے دو تین بار بلانے آئی تھی مگر وہ اسے بھی واپس بھیج چکی تھی۔رات سے رو رو کر آنکھیں سوچ چکی تھی۔نیند کی کمی کی وجہ سے آنکھوں میں سرخ ڈورے دکھائی دے رہے تھے۔
اسے لگا تھا روحان دوبارہ اس سے بات کرنے آجائے گا اس کی حالت دیکھتے اسے پیار سے سمیٹ لے گا۔مگر یہ صرف اس کا خواب ہی رہا تھا۔کیونکہ نہ تو روحان آیا تھا نہ ہی اس نے اس کے آنسو پونچھے تھے۔
روحان کی بےرخی اور کٹیلا انداز سوچ کر اس کی رگیں پھٹنے والی ہوگئی تھیں۔اذان کی آواز سنتی وہ آنسو صاف کرتی وضو کرتی نماز پڑھنے لگی تھی۔
نماز پڑھ کر الله تعالیٰ کے سامنے دعا کے لیے اٹھائے گئے اس کے ہاتھ کانپ اٹھے تھے۔لب ہل رہے تھے مگر الفاظ ادا نہیں ہو پارہے تھے۔وہ بےبسی سے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی۔
“الله پاک مجھے معاف کر دیں۔۔میں مزید یہ تکلیفیں برداشت نہیں کرسکتی مجھے میرے رب صبر دے۔۔مجھے صبر دیں الله پاک۔۔”
“اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد مانگو ، بے شک اللہ صابروں کے ساتھ ہے”
(البقرہ : 153)
“اللہ تعالٰی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا “
(البقرہ : 286)
وہ روتے ہوئے بمشکل کانپتی آواز میں بولی تھی۔بےشک اس کا رب اسے معاف کر دے گا کیونکہ وہ رحیم ہے کریم ہے۔۔ مگر یہ دنیا والے اسے اس کا ماضی کبھی بھولنے نہیں دیں گے۔۔
وہ الله پاک کو اپنی پریشانیاں بتاتی اب کافی حد تک پرسکون ہوگئی تھی تبھی نماز پڑھنے کے بعد بھوک کے احساس سے کچھ کھانے چلی آئی تھی۔ملائکہ اسے دوپہر میں کھانا دے گئی تھی لیکن اس نے کچھ بھی نہیں کھایا تھا۔
“روحان۔۔”
کیچن میں کھڑے روحان کو دیکھتی وہ رونے سے بھاری ہوئی آواز میں بولی تھی۔روحان نے بالوں میں ہاتھ ہھیرتے اس کی جانب دیکھا تھا۔وہ شکل سے ہی تھکا یوا لگ رہا تھا۔
“دانین۔۔”
وہ لب بھینچ کر بولا تھا۔
“پلیز مجھ سے کچھ بات تو کریں۔۔؟”
وہ التجائیہ انداز میں بولی تھی۔
روحان چند قدم چلتا اس کے قریب آیا تھا۔اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالتے اس نے موبائل نکالتے اس کا لاک کھول کر دانین کو تھمایا تھا۔
دانین نے ناسمجھ انداز میں اس سے موبائل پکڑا تھا موباِئل میں موجود اپنی سکول کے یونیفارم میں سفیان کی گاڑی میں باہر سے بنائی گئی تصویر دیکھ کر اس کے ہاتھ کانپ اٹھے تھے۔اسے سفیان کی شکل دیکھ کر سخت نفرت ہوئی تھی وہ لاکھ شکر ادا کرتی تھی وہ مر گیا ہے ایسے شیطان صفت انسان سے اس نے کبھی محبت بھی کی تھی؟ یہ سوچ کر اس کا دل بند ہوجاتا تھا۔
“ی۔۔یہ آپ کو کہاں سے ملی؟”
اس نے کانپتی آواز میں پوچھا تھا۔
“کسی ان ناوئن نمبر سے صبح ہی مجھے یہ تصویر ملی تھی اسی کا پتا کروانے گیا تھا۔لیکن کچھ پتا نہیں چل سکا۔۔تم اب گھر سے باہر کچھ دن مت نکلنا۔۔۔”
اس کا سرد انداز اور پتھریلا لہجہ محسوس کرتے وہ بمشکل اپنی سسکی روک پائی تھی۔دل پھٹنے والا ہوچکا تھا۔
“روحان۔۔۔۔”
اس نے بات کرنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا جب روحان اسے درمیان میں ٹوک گیا تھا۔
“میں کافی تھک گیا ہوں ابھی سونا چاہتا ہوں۔۔”
وہ سرد لہجے میں بولتا تیزی سے وہاں سے نکل گیا تھا۔دانین کی حسرت بھری نظروں نے اس کا دور تک پیچھا کیا تھا۔جبکہ اس کی پلکیں ایک بار پھر نم پڑ گئی تھیں۔روحان نے خود کو بمشکل اس کے قریب جانے سے روکا تھا اس کی سرخ آنکھیں اسے بےچین کر گئی تھیں۔مگر ابھی وہ تھوڑی سپیس چاہتا تھا تاکہ سوچ سمجھ کر کچھ فہصلہ کر سکے۔۔
جاری ہے۔۔
