Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes

وہ افرحہ کو لینے کے لیے پارکنگ لاٹ میں کب سے ویٹ کر رہا تھا مگر وہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔کچھ دیر بعد اسے میسج ملا تھا وہ اپنے سر سے اپنا فائنل پراجیکٹ کے بارے میں ڈسکس کر رہی ہے۔
شاہزیب گاڑی سے نکلتا اسے میسج کرکے پوچھ چکا تھا وہ اس وقت کہا موجود ہے۔۔مطلوبہ روم میں پہنچ کر وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھا۔اس کے قدموں کی آواز سن کر افرحہ اس کی جانب مڑتی ہلکا سا مسکرائی تھی۔
"بس پانچ منٹ ویٹ کر لیں۔۔"
افرحہ نے شاہزیب کو کہا تھا جس پر وہ سر ہلاتا رحمان کو گھورنے لگا تھا جو مسلسل افرحہ کو گھور رہا تھا۔
اس نے ایک بار گلا کھنگارتے اسے وارن کرنا چاہا تھا جسے وہ گھور رہا ہے وہ اس کی بیوی یے مگر اس کی نظروں کا مطلب وہ اچھے سے سمجھ رہا تھا آخر خود بھی تو مرد تھا اور مرد کی فطرت سے اس سے زیادہ کون واقف ہوسکتا تھا۔
اپنے غصے پر قابو نہ رکھ پانے پر وہ لمبے لمبے ڈھگ بھرتا اس کے سر پر جا پہنچا تھا۔
"تمھیں میں نے وارن کیا تھا میری بیوی سے دور رہو۔۔"
شاہزیب نے رحمان کے مکہ مارتے ہوئے کہا تھا جو بظاہر تو افرحہ سے بات کر رہا تھا مگر اسے گہری نظروں سے بھی دیکھ رہا تھا۔جو افرحہ کو بھی محسوس ہو رہا تھا مگر وہ نظر انداز کر رہی تھی۔
"شاہزیب چھوڑیں کیا کر رہے ہیں۔۔"
افرحہ نے آنکھیں پھیلاتے شاہزیب کو تھامنا چاہا تھا جو بھپرے شیر کی مانند رحمان پر جھپٹا ہوا تھا۔
"آج میں اس کی آنکھیں نکال دوں گا۔جس سے تمھیں یہ بار بار گھور رہا تھا۔۔"
وہ غراتے ہوئے بولا تھا۔رحمان اس سے اپنا گریبان چھڑوانے کی کوشش کر رہا تھا جب شاہزیب نے ایک مکہ اور اس کے مارا تھا۔
"چھوڑو مجھے۔۔"
رحمان نے بھی شاہزیب کو مکہ مارنا چاہا تھا جو اچانک افرحہ کے آگے آنے سے پوری شدت سے اس کی کمر میں بج گیا تھا اور بس یہاں ہی شاہزیب کا تھوڑا بہت کنٹرول بھی ختم ہوگیا تھا۔
"آہ۔۔"
افرحہ کے منہ سے ایک درد بھری سسکی نکلی تھی۔شاہزیب نے اسے پیچھے ہٹاتے رحمان کے مکے مارنا شروع کیے تھے۔افرحہ نے اسے کئی بار روکنے کی کوشش کی تھی مگر شاہزیب کے سر پر تو جنون سوار تھا وہ تو کبھی خود بھی اسے تکلیف نہ دیتا تھا تو اسے کہا منظور تھا کہ کوئی اس کی بیوی کو مارے۔۔
شور سنتے کافی لوگ اکٹھے ہوگئے تھے۔بڑی مشکل سے سٹوڈنٹس نے شاہزیب کو رحمان سے دور کیا تھا جس کی حالت ابتر تھی۔
شاہزیب کے خود بھی ہاتھ زخمی ہوچکے تھے۔وہ سب سے خود کو چھڑواتا افرحہ کو نرمی سے تھام کر وہاں سے نکل گیا تھا۔
"آئی ایم سوری۔۔ میری وجہ سے تمھیں چوٹ لگی ہے۔۔"
شاہزیب نے پارکنگ لاٹ میں رکتے نرمی سے اس کا چہرہ تھاما تھا۔
"میں ٹھیک ہوں شاہزیب پلیز چلیں یہاں سے۔۔"
وہ شاہزیب کا ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں سے لگاتی اس کے گرم خون کو پل میں ٹھنڈا کر گئی تھی۔
شاہزیب نے گاڑی کھولتے اسے اندر بیٹھاتے اس پر جھکتے اس کی سیٹ بیلٹ باندھتے اس کے گال پر شدت سے بوسہ لیا تھا۔افرحہ نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا۔جو اب بالکل ایسا ہو گیا تھا جیسے کچھ منٹ ہہلے وہ ایک شخص کا حشر بگاڑ کر نہ آیا ہو۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *