Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes NovelR50560 Last updated: 4 March 2026
Rate this Novel
Professor Shah (Episode 01)Professor Shah (Episode 02)Professor Shah (Episode 03)Professor Shah (Episode 04)Professor Shah (Episode 05)Professor Shah (Episode 06)Professor Shah (Episode 07)Professor Shah (Episode 07)Part 2Professor Shah (Episode 08)Professor Shah (Episode 09)Professor Shah (Episode 10)Professor Shah (Episode 11)Professor Shah (Episode 12)Professor Shah (Episode 13)Professor Shah (Episode 14)Professor Shah (Episode 15)Professor Shah (Episode 16)Professor Shah (Episode 17)Professor Shah (Episode 18)Professor Shah (Episode 19)Professor Shah (Episode 20)Professor Shah (Episode 21)Professor Shah (Episode 22)Professor Shah (Episode 23)Professor Shah (Episode 24)Professor Shah (Episode 25)Professor Shah (Episode 26)Professor Shah (Episode 27)Professor Shah (Episode 28)Professor Shah (Episode 29)Professor Shah (Episode 30)Professor Shah (Episode 31)Professor Shah (Episode 32)Professor Shah (Episode 33)Professor Shah (Episode 34)Professor Shah (Episode 35)Professor Shah (Episode 36)Professor Shah (Episode 37)Professor Shah (Episode 38)Professor Shah (Episode 39)Professor Shah (Last Episode)Part 1,2Professor Shah (Last Episode)Part 3
Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes
وہ افرحہ کو لینے کے لیے پارکنگ لاٹ میں کب سے ویٹ کر رہا تھا مگر وہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔کچھ دیر بعد اسے میسج ملا تھا وہ اپنے سر سے اپنا فائنل پراجیکٹ کے بارے میں ڈسکس کر رہی ہے۔
شاہزیب گاڑی سے نکلتا اسے میسج کرکے پوچھ چکا تھا وہ اس وقت کہا موجود ہے۔۔مطلوبہ روم میں پہنچ کر وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھا۔اس کے قدموں کی آواز سن کر افرحہ اس کی جانب مڑتی ہلکا سا مسکرائی تھی۔
"بس پانچ منٹ ویٹ کر لیں۔۔"
افرحہ نے شاہزیب کو کہا تھا جس پر وہ سر ہلاتا رحمان کو گھورنے لگا تھا جو مسلسل افرحہ کو گھور رہا تھا۔
اس نے ایک بار گلا کھنگارتے اسے وارن کرنا چاہا تھا جسے وہ گھور رہا ہے وہ اس کی بیوی یے مگر اس کی نظروں کا مطلب وہ اچھے سے سمجھ رہا تھا آخر خود بھی تو مرد تھا اور مرد کی فطرت سے اس سے زیادہ کون واقف ہوسکتا تھا۔
اپنے غصے پر قابو نہ رکھ پانے پر وہ لمبے لمبے ڈھگ بھرتا اس کے سر پر جا پہنچا تھا۔
"تمھیں میں نے وارن کیا تھا میری بیوی سے دور رہو۔۔"
شاہزیب نے رحمان کے مکہ مارتے ہوئے کہا تھا جو بظاہر تو افرحہ سے بات کر رہا تھا مگر اسے گہری نظروں سے بھی دیکھ رہا تھا۔جو افرحہ کو بھی محسوس ہو رہا تھا مگر وہ نظر انداز کر رہی تھی۔
"شاہزیب چھوڑیں کیا کر رہے ہیں۔۔"
افرحہ نے آنکھیں پھیلاتے شاہزیب کو تھامنا چاہا تھا جو بھپرے شیر کی مانند رحمان پر جھپٹا ہوا تھا۔
"آج میں اس کی آنکھیں نکال دوں گا۔جس سے تمھیں یہ بار بار گھور رہا تھا۔۔"
وہ غراتے ہوئے بولا تھا۔رحمان اس سے اپنا گریبان چھڑوانے کی کوشش کر رہا تھا جب شاہزیب نے ایک مکہ اور اس کے مارا تھا۔
"چھوڑو مجھے۔۔"
رحمان نے بھی شاہزیب کو مکہ مارنا چاہا تھا جو اچانک افرحہ کے آگے آنے سے پوری شدت سے اس کی کمر میں بج گیا تھا اور بس یہاں ہی شاہزیب کا تھوڑا بہت کنٹرول بھی ختم ہوگیا تھا۔
"آہ۔۔"
افرحہ کے منہ سے ایک درد بھری سسکی نکلی تھی۔شاہزیب نے اسے پیچھے ہٹاتے رحمان کے مکے مارنا شروع کیے تھے۔افرحہ نے اسے کئی بار روکنے کی کوشش کی تھی مگر شاہزیب کے سر پر تو جنون سوار تھا وہ تو کبھی خود بھی اسے تکلیف نہ دیتا تھا تو اسے کہا منظور تھا کہ کوئی اس کی بیوی کو مارے۔۔
شور سنتے کافی لوگ اکٹھے ہوگئے تھے۔بڑی مشکل سے سٹوڈنٹس نے شاہزیب کو رحمان سے دور کیا تھا جس کی حالت ابتر تھی۔
شاہزیب کے خود بھی ہاتھ زخمی ہوچکے تھے۔وہ سب سے خود کو چھڑواتا افرحہ کو نرمی سے تھام کر وہاں سے نکل گیا تھا۔
"آئی ایم سوری۔۔ میری وجہ سے تمھیں چوٹ لگی ہے۔۔"
شاہزیب نے پارکنگ لاٹ میں رکتے نرمی سے اس کا چہرہ تھاما تھا۔
"میں ٹھیک ہوں شاہزیب پلیز چلیں یہاں سے۔۔"
وہ شاہزیب کا ہاتھ پکڑ کر ہونٹوں سے لگاتی اس کے گرم خون کو پل میں ٹھنڈا کر گئی تھی۔
شاہزیب نے گاڑی کھولتے اسے اندر بیٹھاتے اس پر جھکتے اس کی سیٹ بیلٹ باندھتے اس کے گال پر شدت سے بوسہ لیا تھا۔افرحہ نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا۔جو اب بالکل ایسا ہو گیا تھا جیسے کچھ منٹ ہہلے وہ ایک شخص کا حشر بگاڑ کر نہ آیا ہو۔۔
