Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Professor Shah (Episode 15)

Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes

“نورے میری وجہ سے تکلیف میں ہے؟ کیا صرف میں ہی وجہ ہوں؟”

اس کے لہجے میں دکھ تھا۔افرحہ بےساختہ اس کا ہاتھ تھام گئی تھی۔

“شازل سے آپ کا جو مسئلہ ہے اسے نورے کو درمیان میں لائے بغیر ڈسکس کریں۔۔”

افرحہ نے مشورہ دیا وہ خاموش ہوگیا۔۔

“مجھے سمجھ نہیں آرہی کیا ہو رہا ہے؟ مائنڈ ماوف ہورہا ہے۔۔”

وہ اضطراب کی کیفیت میں اٹھتا سگریٹ سلگا چکا تھا۔

“آپ اس سے بات کرنے کی کوشش کریں۔۔”

وہ شاہزیب کو سگریٹ پیتے دیکھ کر بیڈ پر بیٹھی منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی تھی۔اچانک اس کی طرف دیکھتے شاہزیب نے فورا سگریٹ بھجا دی تھی۔اضطراب کی کیفیت میں اس کے ذہن سے نکل گیا تھا افرحہ کو سگریٹ کے دھواں کی وجہ سے سانس لینے میں مشکل ہوتی ہے۔۔

“سوری جاناں۔۔”

وہ افرحہ کے قریب آتا اس کا چہرہ تھام کر بولا تھا۔

“اٹس اوکے۔۔آپ ابھی پریشان مت ہوں صبح نورے سے بات کیجیے گا۔۔”

اس نے شاہزیب کا ہاتھ تھامتے اس کی ہتھیلی پر لب رکھتے نرمی سے کہا تھا۔شاہزیب اس کی بات پر سر ہلا گیا تھا۔

وہ نورے سے صبح بات کرنے کا سوچتا افرحہ کے ساتھ سو گیا تھا۔

وہ نورے کے لیے کچھ سپیشل کرنا چاہتا تھا تبھی افرحہ کی مدد سے اس نے صبح اس کے لیے ناشتہ تیار کیا تھا۔فاطمہ بیگم ناک چڑھاتی اس کو دیکھ رہی تھیں جنھیں افرحہ اور شاہزیب نے بھرہور طریقے سے اگنور کیا تھا۔

“تم ناشتہ کرلینا جاناں۔۔”

وہ افرحہ کے بالوں پر لب رکھتا ٹرے اٹھا کر نورے سے بات کرنے چلا گیا تھا۔

دروازہ ناک کرتا وہ روم میں داخل ہوا تھا۔نورے فریش ہوکر نکلتی شاہزیب کو اپنے کمرے میں دیکھ کر رک گئی تھی۔

“آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔؟”

اس نے بیڈ پر بیٹھتے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔

“میں تمھارے لیے ناشتہ لے کر آیا ہوں۔۔”

شاہزیب نے ٹرے میز پر رکھتے اس کے ساتھ بیٹھتے کہا تھا۔نورے اس کے جواب پر خاموش ہوگئی تھی۔

“نورِ دل۔۔”

اس کے پیار سے پکارنے پر نورے نے اس کی جانب دیکھا تھا۔

“میں تمھیں تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا نورے۔۔بس شازل کو دیکھ کر مجھ سے کنٹرول نہیں ہوتا۔۔وہ جب تمھارے بارے میں کچھ کہتا ہے تو میرا دل کرتا ہے اس کا منہ توڑ دوں۔۔”

شاہزیب مٹھیاں بھینچتا سنجیدگی سے بولا تھا۔

“اس میں میرا کیا قصور ہے بھیا؟ اگر آپ دونوں کو کوئی پرابلم ہے تو مل کر سولو کرلیں مگر پلیز میری ذات کا تماشا سب کے سامنے مت بنائیں۔۔”

وہ شاہزیب کی آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی۔شاہزیب نے اس کے کندھے کے گرد ہاتھ پھیلاتے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا۔

“میرا بچہ۔۔”

شاہزیب نے نرمی سے اس کے سر پر لب رکھے تھے۔

“میں نے ایک فیصلہ کیا ہے۔۔”

وہ گہرا سانس لیتا بولا تھا۔نورے نے اس کی جانب سر اٹھا کر سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا۔

“میں تمھارے اور شازل کے پرسنل میٹر میں دخل اندازی نہیں کروں گا لیکن اگر اس نے تمھارے بارے میں کچھ الٹا سیدھا کہا تو میں خاموش نہیں رہوں گا۔۔”

اس نے گہرا سانس بھرتے کہا تھا۔نورے اس کی بات سنتی گہرا سانس خارج کرتی پرسکون ہوگئی تھی۔

“پلیز بابا کو بھی کہیں وہ اس معاملہ میں مت بولیں۔۔میں سوچ سمجھ کر فیصلہ لینا چاہتی ہوں۔۔”

وہ دھیمی آواز میں بولی تھی۔

“اوکے نورِ دل میں بابا سے بات کرلوں گا وہ بھی کچھ نہیں بولیں گے تم بس اپنا خیال رکھو اور سٹڈی پر فوکس کرو۔۔”

شاہزیب اس کے بال سہلاتا نرم لہجے میں بولا تھا۔بہن کے لیے تو دل ویسے ہی موم کا ہوگیا تھا۔لیکن شازل کا خیال آتے ہی اس کا خون جل اٹھا تھا۔

“تھینک یو بھیا۔۔”

وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بولی تھی۔

“باقی باتیں بعد میں کرنا پہلے ناشتہ کرلو۔۔ٹھنڈا ہو رہا ہے۔۔”

شاہزیب کے کہنے پر وہ نورے ٹرے لاتی ان دونوں کے درمیان بیڈ پر رکھتی بیٹھ گئی تھی۔

“کیا آپ نے ناشتہ بنایا ہے؟”

اس نے چائے کا گھونٹ بھرتے پوچھا تھا۔

“ہاں۔۔کیوں اچھا نہیں بنا کیا؟”

وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا پوچھ رہا تھا نورے نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تھا۔

“تمھارے زخم کیسے ہیں زیادہ پین تو نہیں ہورہی ؟”

شاہزیب نے اس کے بازوؤں کو دیکھتے پوچھا تھا۔

“نہیں اب بہتر ہوں۔۔”

تھینک یو بھیا ناشتہ بہت مزے کا تھا۔”

وہ ناشتہ ختم کرتی مسکرا کر بولی تھی۔شاہزیب اس کے خوش ہونے پر مسکرا اٹھا تھا۔

“آج یونی مت جانا ریسٹ کرو۔۔”

شاہزیب نے ٹرے اٹھاتے کہا تھا جس پر وہ سر ہلاتی واپس لیٹ گئی تھی۔اس کا آج خود ارادہ نہیں تھا کہیں جانے کا۔۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

“کیا ہوا بھابھی ؟ پریشان لگ رہی ہیں؟”

نورے جو شاہزیب کے جانے کے بعد کمرے میں آرام کرلے بور ہونے کے بعد باہر نکلی تھی افرحہ کو دیکھتی اسے پوچھنے لگی تھی۔

“وہ ایکچولی شاہزیب کا کل برتھ ڈے ہے۔۔”

اس نے لب کاٹتے بتایا تھا۔وہ لان میں پڑے جھولے پر بیٹھی ہوئی تھی اس کے ساتھ ہی نورے بھی بیٹھ گئی تھی۔شاہزیب کے برتھ ڈے کا سنتے اس نے اپنے سر پر ہاتھ مارا تھا چونکہ وہ بھول چکی تھی۔

“اس میں پریشانی والی کیا بات ہے؟”

نورے نے ناسمجھی سے پوچھا تھا۔

“میں شاہزیب کے برتھ ڈے پر کچھ سپیشل کرنا چاہتی ہوں۔۔”

وہ منہ پھولا کر بولی تھی۔

“میرے پاس ایک آئیڈیا ہے۔۔”

نورے نے جھک کر اسے بتایا تھا اس کا پلان سنتے وہ خوش ہوگئی تھی۔

“شاہزیب کو بارہ بجے تک بزی کون روکھے گا؟”

ایک اور پریشانی۔۔

“وہ میں سنبھال لوں گی آپ جائیں اور کام سٹارٹ کریں میں بھی آپ کی ہیلپ کرواتی ہوں۔۔”

نورے نے جھٹ سے سلیوشن نکالا تھا۔

“نہیں تم ریسٹ کرو پہلے ہی بیمار ہو۔۔”

افرحہ نے پریشانی سے کہا تھا۔

“افف بھابھی میں ٹھیک ہوں جلدی چلیں اب تو دوپہر بھی ہوگئی ہے اور بہت سا کام کرنے والا ہے۔۔”

نورے اسے ہاتھ سے پکڑے کر اٹھاتی تیزی سے اندر لے گئی تھی۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

رات کا وقت تھا وہ سب لوگ ڈنر کرکے فارغ ہوچکے تھے۔افرحہ نے شاہزیب کو وپر کی جانب بڑھتے دیکھ کر نورے کو اشارہ کیا تھا جو اس کے اشارے کو سمجھتی شاہزیب کو پکارنے لگی تھی۔

“بھیا۔۔”

“کیا آپ کچھ دیر میرے ساتھ لڈو کھیلیں گے ؟ پلیز میرا بہت دل کر رہا ہے۔۔”

وہ آنکھیں پٹپٹاتی معصوم شکل بنا کر بولتی شاہزیب کا دل پگھلا گئی تھی۔فاطمہ بیگم نخوت سے انھیں دیکھتی کمرے میں چلی گئیں تھیں۔میر شاہ بھی صبح کے تھکے سونے چلے گئے تھء۔

“اوکے بچے جلدی سے لڈو لے آو۔۔”

شاہزیب نورے سے بولتا لاونچ میں بیٹھ گیا تھا۔

“افرحہ تم ہمارے ساتھ نہیں کھیلو گی؟”

اسے اوپر جاتے دیکھ کر شاہزیب نے پوچھا تھا۔

“میں تھک گئی ہوں شاہزیب ریسٹ کرنا چاہتی ہو۔۔”

اس نے اپنی مصنوعی جمائی روکتے کہا تھا۔شاہزیب اس کی بات پر سر ہلا گیا تھا۔وہ سکون کا سانس بھرتی تیزی سے اوہر چلی گئی تھی۔اس نے اپنے کمرے کے ساتھ موجود خالی کمرے میں پڑی چیزیں تیزی سے اٹھا کر کمرے میں سیٹ کردی تھیں۔یہ کام کرتے اسے گیارہ بج گئے تھے سارا کام سمیٹتے وہ تیزی سے فریش ہوتی تیار ہوگئی تھی۔

نورے کے لڈو لانے کے بعد وہ اس کے ساتھ کھیلنے لگا تھا گیم میں مصروف انھیں وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا تھا۔

“کافی دیر ہوگئی ہے اب ہمیں گیم روک دینی چاہیے۔۔”

شاہزیب ساڑھے گیارہ کا ٹائم دیکھتا بولا تھا۔مگر نورے نے اسے روک دیا تھا۔

“بس ایک بار پھر کھیل لیں میں جیت جاوں تب چلے جائیے گا۔۔”

اس کے بولنے پر وہ مسکراتا ہوا دوبارہ کھیلنے لگا تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

وہ نورے کو کمرے میں بھیجتا تھکا ہوا کمرے میں داخل ہوا تھا۔مسلسل بیٹھنے سے وہ کافی تھک گیا تھا۔دروازہ کھولتے وہ جیسا ہی اندر داخل ہوا تھا گلابوں کی بھینی بھینی خوشبو نے اس کے حواس معطر کیے تھے۔کمرے میں جلتی گولڈن کینڈل لائٹس نے فسوں خیز ماحول بنا دیا تھا۔

“ہیپی برتھ ڈے ٹو یو شاہزیب۔۔”

بلیک سلک کا فراک جس کا اپری حصہ اور بازو نیٹ کے تھے ساتھ بالوں کو سٹریٹ کرکے کھولا چھوڑے وہ میک اپ کے نام پر سرخ لپ اسٹک لگائے شاہزیب کا دل زور سے دھڑکا گئی تھی۔

شاہزیب گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا افرحہ اس کی نظروں سے نروس ہوتی سرخ ہوچکی تھی۔

“کیا آپ کو پسند نہیں آیا؟”

وہ شاہزیب کو خاموش دیکھتی لب کاٹنے لگی تھی۔

“ائی ایم سرپرائزڈ۔۔”

وہ سر جھٹکتا گھمبیر لہجے میں بولا تھا۔

“جلدی ادھر آئیں اور کیک کٹ کریں۔۔”

وہ ٹیبل پر پڑے کیک کی طرف اشارہ کرتی بولی تھی۔شاہزیب خاموشی سے اس کے کہنے پر بازو کے کیف فولڈ کرتا اس کے پاس آگیا تھا۔

اس نے افرحہ کو کمر سے تھام کر اپنے سامنے کرتے اس کے ہاتھ میں نائف پکڑاتے خود اس کا ہاتھ تھامتے کیک کٹ کیا تھا۔

شاہزیب کے سینے پر سر ٹکائے وہ بےحد خوش نظر آرہی تھی۔

افرحہ نے کیک کا ایک چھوٹا سا پیس کٹ کرکے شاہزیب کی جانب مڑتے اس کے ہونٹوں کی طرف بڑھایا تھا۔

شاہزیب نے تھوڑا سا کیک اس کے ہاتھ سے لے کر کھایا تھا باقی کیک اس کے ہونٹوں کی جانب بڑھا دیا تھا۔کمرے کی فسوں خیز خاموشی میں ان کی آنکھیں اور دھڑکنیں باتیں کر رہی تھیں۔

اس کی کیک سے بھری انگلیوں کو اپنے ہاتھ سے تھامتے شاہزیب نے اپنے ہونٹوں کے قریب کرتے اس کی انگلیاں صاف کی تھیں۔افرحہ کے گلابی گال کچھ مزید سرخ پڑ گئے تھے۔جبکہ دھڑکنیں ڈھول کی مانند کانوں میں بجتی سنائی دے رہی تھی۔

اس کی کلائی کو چھوڑتے وہ اس پر جھکا تھا۔اس کے کندھے سے بال سمیٹ کر سائیڈ پر کرتے افرحہ کے کان میں مخمور لہجے میں بولا تھا۔

“You are all the thoughts in my head and all the love in my heart Janaa”

“Thank you for making my birthday special love”

شاہزیب اس کی کان کی لو کو ہونٹوں سے چھوتا گھمبیر لہجے میں بولا تھا۔افرحہ کو اپنا حلق خشک ہوتا محسوس ہورہا تھا اس کے اظہار سے دھڑکنیں پاگل سہی ہورہی تھیں۔اپنی پشت پر وہ شاہزیب کی مدھم دھڑکن محسوس کرتی نرمی سے آنکھیں بند کر گئی تھی۔

شاہزیب نے دھیرے سے اس کی گردن پر جھکتے اپنے لب رکھے تھے وہ اس کے لمس پر کانپ گئی تھی۔شاہزیب کی گرم سانسیں اپنی گردن پر محسوس کرتے وہ اس کے بازو کو بےساختہ پکڑ گئی تھی۔

ایک دلکش مسکراہٹ شاہزیب کے چہرے پر بکھری تھی۔اس کی گردن پر ٹھوڑی اٹکاتے شاہزیب نے اس کے سرخ گلابی گالوں کو چھوتے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے جھٹکے سے اس کا رخ اپنی جانب کیا تھا۔

“شاہزیب۔۔”

وہ شاہزیب کے کندھے پر ہاتھ رکھتی پھولے سانس کے ساتھ بولی تھی۔بلیک ہیلز میں وہ اس کے کندھے تک بمشکل پہنچ رہی تھی۔شاہزیب نے اس کی کمر پر گرفت مضبوط کرتے اسے اوپر اٹھایا تھا۔اس کے سرخ لپ اسٹک سے سجے نازک ہونٹوں پر جھکا وہ اس کا سانس بند کرگیا تھا۔اپنا شدت بھرا لمس اس کے ہونٹوں پر چھوڑتا وہ اس کا سانس بحال کر گیا تھا۔افرحہ نے شرماتے ہوئے گہرے سابس بھرتے اس کے سینے میں منہ چھپایا تھا مگر اس کا سرخ اناری چہرہ شاہزیب کی عقابی نظروں سے چھپ نہیں سکا تھا۔

“تمھارا یوں شرمانا مجھے کسی دن مار دے گا۔۔”

وہ جذبات کی شدت سے مخمور لہجے میں بولتا افرحہ کی جان نکال گیا تھا۔افرحہ نے بےساختہ اس کے ہونٹوں پر اپنی ہتھیلی ٹکا دی تھی۔

“شاہزیب۔۔ دوبارہ ایسی بات کبھی اپنے منہ سے مت نکالیے گا۔۔”

وہ برہمی سے بولی تھی۔شاہزیب اس کی بات پر مسکراتا نرمی سے اس کی ہتھیلی کو ہونٹوں سے ہٹاتا اس کی لکیروں کو دیکھنے لگا تھا۔پھر اس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑتے وہ محبت سے چوم گیا تھا۔

“تمھاری وجہ سے میں اس وقت یہاں ہوں ورنہ ناجانے اس وقت کونسے کلب میں ڈرگز لے کر اس دنیا جہاں سے غافل ہوتا۔۔میری زندگی میں آکر اسے سنوارنے کا شکریہ جاناں۔۔”

وہ افرحہ کا چہرہ تھامتا اس کی صبیح پیشانی پر اپنے لب رکھتا بولا تھا۔افرحہ نے اس کی بات پر مسکراتے ایک کانپتی سانس خارج کی تھی۔

شاہزیب نے اس کے ماتھے سے ماتھا ٹکاتے اس کے وجود سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبو خود میں اتاری تھی۔

“I am also lucky to have you in my life.”

شاہزیب کی گردن میں بازو ڈالتے وہ شاہزیب کا چہرہ جھکاتی اس کے گال پر رکھتی اسے مسرور کرگئی تھی۔

“تم بہت حسین لگ رہی ہو۔۔”

“میری نیت خراب کر رہی ہو۔۔”

“قاتل حسینہ کی طرح “

وہ ٹھہر ٹھہر کر بولتا افرحہ کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا تھا جو شاہزیب کی آنکھوں میں محبت کا ٹھاٹھے مارتا سمندر دیکھتی اپنی نظریں شرم و حیا سے جھکا گئی تھی۔

“میرے ساتھ ڈانس کرو گی؟”

شاہزیب نے اسے روم کے درمیان میں لے جاتے پوچھا تھا۔

“مجھے نہیں آتا۔۔”

وہ منہ پھولا کر بولی تھی۔

“میں ہوں نہ۔۔پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بس اپنہ ہیلز اتار دو۔۔”

شاہزیب نے اپنا موبائل نکالتے سونگ چوز کرتے ہوئے کہا تھا جس پر افرحہ نے بات مانتے فوری پیلز اتار دی تھیں جس میں اس کے پیر دکھنے لگے تھے۔

جادو ہے نشہ ہے مدہوشیاں ہیں

تجھ کو بھلا کر اب جاوں کہاں؟

وہ کوئی پرانہ سونگ تھا جس کو پلے کرتے شاہزیب نے افرحہ کو کمر سے تھام کر اس کے پیروں کو اپنے پیروں پر رکھتے اسے باہوں میں بھرتے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ڈانس کرنا شروع کیا تھا۔

جادو ہے نشہ ہے مدہوشیاں ہیں

تجھ کو بھلا کر اب جاوں کہاں؟

دیکھتی ہیں جس طرح سے تیری نظریں مجھے

میں خود کو چھپاوں کہاں ؟

جادو ہے نشہ ہے مدہوشیاں ہیں

تجھ کو بھلا کر اب جاوں کہاں؟

افرحہ مسمرائز سی اس کی گہری سیاہ آنکھوں کو دیکھتی مسکراتی ہوئی اس کے سینے پر سر ٹکا گئی تھی اس کی معمول سے تیز دھڑکن سن کر اس نے اچنبھے سے سر اٹھا کر شاہزیب کو دیکھا تھا جو دھیرے دھیرے موو کرتے ہوئے اسے اپنے نظروں کے حصار میں لیے ہوئے تھے۔

دیکھتی ہیں جس طرح سے تیری نظریں مجھے

میں خود کو چھپاوں کہاں ؟

جادو ہے نشہ ہے مدہوشیاں ہیں

تجھ کو بھلا کر اب جاوں کہاں؟

یہ پل ہے اپنا تو اس پل کو جی لے

شعولو کی طرح زرا جل کر جی لے

پلک جھپکتے کھو نہ جانا

چھو کر کرلوں یقین

ناجانے یہ پل پائیں کہاں؟

شاہزیب نے اپنے دونوں ہاتھ اس کی کمر پر رکھتے اس کو کمر سے اٹھاتے گھمایا تھا۔افرحہ نے ہلکی چیخ مارتے اس کی جانب آنکھیں پھیلا کر دیکھا تھا جو ہنستا ہوا اسے گھما رہا تھا۔

باہوں میں تیری یوں کھو گئے ہیں

ارمان دبے سے جگنے لگے ہیں

جو ملے ہو آج ہم کو دور جانا نہیں

مٹا دو سب یہ دوریاں

جادو ہے نشہ ہے مدہوشیاں ہیں

تجھ کو بھلا کے اب جاوں کہاں؟

دیکھتی ہیں جس طرح سے تیری نظریں مجھے

میں خود کو چھپاوں کہاں ؟

شاہزیب کے نیچے اتارنے پر وہ اپنی رقص کرتی دھڑکنوں نو سنتی شاہزیب کو گھور کر دیکھنے لگی تھی جو مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا۔وہ افرحہ کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے سہ اس کی کل کائنات ہے جو سچ بھی تھا۔

“I love you soo much Janaa”

شاہزیب اسکے چہرے کو تھامتے اس کے ماتھے کو چومتا بولا تھا

“My Lifeline”

شاہزیب نے اس کی بند آنکھوں کو چوما تھا۔

“My Love”

شاہزیب نے اسکے حیا سے سرخ ہوئے گالوں کو شدت سےچوما تھا۔

“My Everything”

شاہزیب نے اس کی چھوٹی سی ناک پر لب رکھے تھے۔

“My Janaa”

وہ س کے سرخ ہونٹوں کو شدت سے چومتا اس کے ہاتھوں کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنساتا اسے کھینچ کر سینے سے لگا چکا تھا۔وہ اس کی شدتوں سے گھبراتی گہرے گہرے سانس بھر رہی تھی۔

شاہزیب نے اسے جھٹکے سے باہوں میں اٹھایا تھا وہ تیزی سے سانس لیتی اس کے گلے میں بازو ڈال گئی تھی۔ اس کے ارادے سمجھتے افرحہ کے پسینے چھوٹ پڑے تھے۔کانوں سے دھواں نکلتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔شاہزیب کی جھلسا دینے والی سانسیں اسے بےحال کر رہی تھیں۔اس کے آنکھوں کے جذبات ، اس کے لمس کی شدت نے افرحہ کے چودہ طبق روشن کردیے تھے۔

کمرے میں پھیلے گلاب اور کینڈل لائٹس نے کمرے کے ماحول کو رومینٹک بنا دیا تھا۔تازہ گلابوں کی خوشبو اپنی سانسوں میں اترتی محسوس کرکے وہ گہرے سانس بھرنے لگی تھی۔

شاہزیب نے اسے نرمی سے لے جاکر بیڈ پر لیٹا دیا تھا۔وہ بیڈ پر لیٹتی سختی سے بیڈ شیٹ کو مٹھیوں میں بھینچ گئی تھی۔شاہزیب نے اس کی مٹھیاں پکڑتے کھول کر اس کی ہتھیلی کو چوما تھا۔

“ریلکس جاناں۔۔”

“میں تمھیں کھاوں گا نہیں حالانکہ تم بہت ٹیسٹی لگ رہی ہو۔۔”

وہ اس کے ہونٹوں پر پھیلی لپ اسٹک دیکھتا ذو معنی لہجے میں بولتا افرحہ کو گردن تک سرخ کر گیا تھا کالے رنگ میں وہ دمک رہی تھی اس کا نازک سراپا شاہزیب کے ہوش اڑا رہے تھے۔

“شاہزیب۔۔”

وہ اس کی بات پر شرمندہ سی چیخی تھی جس پر وہ ہنس پڑا تھا۔

“یس لو؟”

اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے اس نے اپنے ہونٹوں کو تر کرتے پوچھا تھا۔افرحہ اس کے ارادے سمجھتی اسے تنگ کرنے کے لیے بیڈ کی دوسری جانب بھاگنے لگی تھی جب شاہزیب نے اس کو پاوں سے پکڑتے اپنی جانب کھینچا تھا۔

افرحہ کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی تھی۔اسے اپنے قریب کھینچتے شاہزیب بیڈ پر چڑھتا اس کے ہاتھوں کو تھام کر سر کے اوپر کرتا اپنے ایک ہاتھ سے پکڑ چکا تھا۔

وہ بری طرح اس کی گرفت میں مچل رہی تھی۔

“تمھیں لگتا یے تم شاہزیب میر حاتم شاہ کی پناہوں سے آزاد ہوپاو گی؟”

وہ افرحہ کے چہرے پر جھکا پوچھ رہا تھا۔افرحہ بےساختہ اپنی انکھیں جھکا گئی تھی۔

“بہت چالاک ہیں آپ”

وہ منہ پھولا کر بولتی شاہزیب کو ضدی بچی لگ رہی تھی۔شاہزیب نے اس کے ہاتھوں کو چھوڑتے اس کے دونوں ہھولے گالوں کو پکڑتے زور سے کھینچا تھا۔

“اوہ میرا بےبی مجھ سے ناراض ہو گیا ہے؟”

وہ مسکراتے ہوئے اسے تنگ کر رہا تھا۔

“شاہزیب۔۔نہ کریں پلیز۔۔”

وہ اس کے بازو پر چٹکی کاٹتی دبی دبی آواز میں چیخی تھی۔

“میری معصوم بیوی جنگلی بیوی بن رہی ہے۔۔”

وہ جھک کر افرحہ کے گال پر ہولے سے دانت گاڑھتا بولا تھا۔افرحہ نے سرخ چہرے سے شاہزیب کو گھورا تھا جو اسے تنگ کرتا محظوظ ہورہا تھا۔

“میں نہیں بول رہی آپ سے دور ہٹیں۔۔”

وہ نروٹھے پن سے بولی تھی۔شاہزیب کے تاثرات ایک دم سنجیدہ ہوئے تھے اس نے افرحہ کی ٹھوڑی تھامتے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا تھا۔

“تم جو کہو گی میں کرنے کے لیے تیار ہوں مگر خود سے دور جانے کا کبھی مت کہنا۔۔”

“یہ جو میرا دل ہے صرف تمھاری وجہ سے دھڑک رہا ہے۔۔”

وہ اس کا ہاتھ تھام کر اپنے دل کے مقام پر رکھتا افرحہ کو سانس روکنے ہر مجبور کر گیا تھا۔افرحہ نے ہلکے سے اوپر اٹھتے شاہزیب کے دل کے مقام پر اپنے لب رکھے تھے۔

“مزاق کر رہی تھی سیریس مت ہوا کریں۔۔میں کبھی آپ کو چھوڑ کر نہیں جاوں گی۔۔”

وہ شاہزیب کی آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی۔

“مجھ سے اسے مزاق مت کیا کرو۔۔تمھارے دور جانے کا سن کر سانس روکتا ہوا محسوس ہونے لگتا ہے۔”

وہ اہنے جذبات ظاہر کرتا بنا اسے کچھ بولنے کا موقع دیے اس کی ہاتھوں کی انگلیوں میں انگلیاں پھنساتا تکیے سے لگاتا اس کے ہونٹوں پر جھک گیا تھا۔

اس کے جذباتوں کو سمجھتی وہ پرسکون سی آنکھیں بند کر گئی تھی اس کا شدت بھرا لمس اسے شرمانے پر مجبور کر رہا تھا۔وہ شرماتی ، جھجھکتی سرخ پڑتی شاہزیب کے سینے میں منہ چھپا گئی تھی۔شاہزیب نے اپنے لمس سے اس کے پور پور کو اپنے رنگ میں رنگ دیا تھا۔اس کے لمس میں بےحد نرمی تھی۔

اسے کہاں منظور تھا اس کی سانسوں میں خوشبو کی طرح بستی افرحہ کو زرا سی بھی تکلیف پہنچے؟

جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *