Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Professor Shah (Last Episode)Part 1,2

Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes

“انکل آپ فکر نہ کریں یہ ڈیل ہمیں مل جائے گی۔۔ “

روحان نے کوٹ اتار کر ہاتھ میں پکڑتے محب خان سے کہا تھا۔

“تھینک یو بیٹا۔۔”

محب خان نے اس کا کندھا تھپتھپاتے کہا تھا۔

“میں اب گھر جارہا ہوں انکل۔۔ کوئی اور کام تو نہیں۔۔؟”

اس نے پوچھا تھا۔

“نہیں۔۔نہیں تم جاسکتے ہو۔۔”

محب خان کے جواب دینے پر وہ اپنی چیزیں پکڑتا وہاں سے نکل گیا تھا۔

اس نے فون ڈیش بورڈ پر پھینکا ہی تھا۔ جب اسے شازل کی کال آنے لگی تھی۔ فون کو بلو ٹوتھ سے کنکٹ کرکے اس نے کال اٹھائی تھی۔

“کہاں ہو؟”

“آفس سے نکل رہا ہوں بس۔۔ خیریت؟”

شازل کا یوں پوچھنا اسے بری طرح کھٹکا تھا۔

“فورا گھر پہنچو۔۔”

اسے مزید کچھ بتائے شازل نے کال بند کردی تھی۔ اسے شازل کی حرکت پر شدید غصہ آیا تھا مگر وہ صبر کے گھونٹ بھر گیا تھا۔

دوسری طرف شازل نورے اور گل خان کے ساتھ گھر واپس لوٹا ہی تھا۔ جب گھر کا کھلا دروازہ اور سکیورٹی گارڈ کی غیر موجودگی دیکھ کر اسے کچھ گڑبڑ لگی تھی۔

“گاڑی کے اندر ہی رہو۔۔اور اسے لاک کر لو۔۔”

شازل نے اردگرد دیکھتے کہا تھا۔

“کیا ہوا؟”

گل خان نے پریشانی سے پوچھا تھا جب کہ نورے بھی پریشانی ہوگئی تھی۔

“کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا مجھے۔۔ یہاں سے باہع مت نکلیے گا۔۔جب تک میں واپس نہ آوں۔۔”

وہ تنبیہہ کرتا گاڑی سے باہر نکلتا گھر کے اندر جانے لگا تھا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر ٹائل پر لگے خون کی طرف گئی تھی۔ تھوڑا آگے جاتے ہی اس کی نظر ملازمہ کی ڈیڈ باڈی پر پڑی تھی۔

“دانین۔۔!!”

“دانین۔۔!!”

اس نے پولیس کو کال ملاتے تیزی سے سارے کمرے چیک کیے تھے۔مگر جگہ جگہ لگے خون کے داغ اسے ساری کہانی بتا گئے تھے۔

پولیس کو کال کرنے کے بعد وہ تیزی سے باہر بھاگا تھا۔جہاں نورے اور گل خان اس کی بےصبری سے منتظر تھیں۔

“کیا ہوا ہے؟”

گل خان نے فورا پوچھا تھا۔

“پولیس آرہی ہے۔۔ ملازمہ کی ڈیڈ باڈی پڑی ہے اندر۔۔”

وہ لب بھینچ کر بولا تھا۔نورے اور گل خان کے چہرے سفید پڑ گئے تھے۔

“دانین۔۔؟ دانین کہاں ہے؟”

گل خان نے تیزی سے پوچھا تھا۔

“وہ اندر نہیں ہے۔۔”

شازل کے جواب پر وہ کانپتی سانس بھر کر رہ گئی تھی۔ ان کے ہاتھ بری طرح کانپنے لگے تھے۔

“مجھے اسے اکیلا چھوڑ کر جانا ہی نہیں چاہیے تھا۔۔”

وہ زارو قطار روتی ہوئی بولنے لگی تھیں۔

“میں روحان اور بابا کو کال کرنے لگا ہوں آپ سنبھالیں خود کو۔۔”

شازل نے انھیں حوصلہ دیتے روحان اور محب خان کو کال کردی تھی۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

روحان جب گھر پہنچا تو ہر طرف پولیس ہی پولیس تھی۔ اس کا دل بری طرح دھڑکا تھا۔ وہ گاڑی سے اترتا تیزی سے اندر بھاگا تھا۔ لاونچ میں خون کے نشان دیکھ کر اس کے قدم ڈگمگائے تھے۔

“دانین۔۔!!”

وہ چیخا تھا۔ اس کی نظر زمین پر پڑے بےتحاشہ خون کی طرف گئی تھی۔ بھاری قدم اٹھاتا وہ اس طرف گیا تھا۔ جہاں لاش دیکھتے ہی اسے دانین کا خیال آیا تھا۔

“دانین۔۔؟”

“ملازمہ ہے وہ۔۔”

شازل نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا۔

“دانین کہاں ہے؟”

اس نے ارد گرد دیجھتے پوچھا تھا۔

“جب میں آیا تو یہاں دانین نہیں تھی۔۔”

شازل کے جواب پر اس کی بےساختہ نظر خون کے قدموں پر پڑی جو سیڑھیوں کی طرف جارہے تھے پھر وہاں سے ہوتے وہ گھسیٹتے ہوئے نیچے آرہے تھے۔ لاونچ میں صوفے کے پاس آنے کے بعد وہ غائب ہوگئے تھے۔

“نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔۔ و۔۔وہ صبح تو یہاں تھی۔۔”

وہ نفی میں سر ہلاتا بول رہا تھا۔

“سنبھالو خود کو روحان۔۔”

“شٹ اپ۔۔ جسٹ شٹ اپ۔۔”

وہ شازل کی بات پر بےقابو ہوا تھا۔ شازل اس کے غصے ہر لب بھیبچ گیا تھا۔ اسے روحان کے اموشنز کا اندازہ تھا کیونکہ وہ بھی یہ فیس کرچکا تھا۔ پولیس کے آتے ہی وہ عسکری کے ساتھ ایک لیڈی آفسر اور ایک میل آفسر کو گل خان اور نورے کو شازل کے اپارٹمنٹ میں بھجوا چکا تھا۔ساتھ ہی وہ حیدر کو دانین کے غائب ہونے کی خبر دیتا بہارے گل کے ساتھ رہنے کا بول چکا تھا۔ اس لیے حیدر بہارے گل کے ساتھ اپارٹمنٹ میں ہی تھا جبکہ وہ نورے اور گل خان کے لیے ڈبل سکیورٹی کا انتظام بھی کر رہا تھا۔

“میں نے تمھیں کہا تھا۔ اس میسج کرنے والے شخص کو ڈھونڈنے میں میری ہیلپ کردو مگر تمھیں اپنے کاموں سے فرصت ہی نہیں ملی اب دیکھو وہ لے گیا نہ میری بیوی کو۔۔”

وہ شازل کا گریبان پکڑتا غصے سے بول رہا تھا۔ شازل نے اس کو جھٹکا دیتے اسے خود سے دور کیا تھا۔

“میں ٹرائے کررہا تھا مگر مجھے اس کے بارے میں کوئی انفارمیشن نہیں ملی۔۔”

شازل لب بھیبچ کر بولا تھا۔اتنی دیر میں محب خان بھی آچکے تھے۔

“کس بارے میں آپ دونوں بات کر رہے ہیں ہمیں بتائیں۔۔”

اے ایس پی رضوان نے ان کی باتیں سنتے ان سے پوچھا تھا۔ شازل نے دانین کے ماضی کا واقعات اور روحان نے حال کے واقعات سارے پولیس کو بتا دیے تھے جس کے فورا بعد انویسٹیگیشن اور دانین کی تلاش جارہی ہوچکی تھی۔

“تم تو چاہتے ہی یہ تھے کہ وہ مرجائے۔۔ اب تم خوش ہو؟”

وہ محب خان کے سامنے شازل کو بولتا ہوا اوپر کمرے میں چلا گیا تھا۔ جبکہ شازل ساکت رہ گیا تھا۔ اس نے طنزیہ نظروں سے محب خان کو دیکھا تھا۔

“پولیس کے علاوہ ہمیں خود کوشش کرنی پڑے گی ڈیڈ۔۔۔”

“ابھی روحان غصے اور جزبات سے بھرا ہڑا ہے اسے تھوڑا وقت دیں۔۔”

“بڑے پاپا کو بھی بتا دیں ان کا حق بنتا ہے۔۔”

شازل ٹھہر ٹھہر کر بول رہا تھا۔

“ایک بار پھر ہم اسے مشکل میں پھنسنے سے بچا نہیں سکے بابا۔۔ اس لیے بہتر ہے اس کے ملتے ہی اسے اس کے شوہر ساتھ رخصت کردیں کیونکہ ہم اس کی حفاظت کبھی نہیں کر پائیں گے۔۔”

شازل کڑوے لہجے میں بولتا پولیس کے ساتھ کوپریٹ کروانے لگا تھا۔ ان کے دوسکیورٹی گاردز کی لاشیں لان سے ملی تھیں۔جبکہ ایک گارڈ غائب تھا۔جس کی تلاش پولیس نے جاری کردی تھی۔

لیکن سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ انھیں یہ نہیں پتا تھا۔کہ دانین کے پیچھے پڑا کون ہے۔۔؟

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

ڈینیل کے دیے گئے ایڈریس پر احمد اور زرکشہ پہنچ چکے تھے۔

“احمد ڈینیل کو کچھ ہوگا تو نہیں؟”

ان کے گھر کے قریب پہنچتے زرکشہ نے پوچھا تھا۔

“زری بس کریں پلیز۔۔”

وہ سنجیدگی سے بولتا زرکشہ کو چپ کروا گیا تھا۔زرکشہ اسے یہ نہ بتا سکی کہ وہ کتنی تکلیف میں ہے دل اندر ہی اندر پھٹ رہا تھا۔

“احمد ہم صحیح ایڈریس پر آئے ہیں ؟”

اپنے سامنے اتنا بڑا گھر دیکھ کر زرکشہ نے حیرت سے پوچھا تھا۔

“ہاں یہی ایڈریس ہے۔۔”

احمد نے کہتے ہی بل بجائی تھی جب گارڈ نے احمد کا نام سنتے گیٹ کھول دیا تھا۔ زرکشہ کا ہاتھ تھامتے وہ اندر کی طرف بڑھ گیا تھا۔

“احمد واپس چلو۔۔ میرا اندر جانے کو دل نہیں ہے۔۔”

“اب بیٹا ادھر تک آئی ہیں تو اندر بھی آجائیں۔۔”

آغا خان گارڈ کا میسج ملتے ہی باہر نکل آئے تھے۔ زرکشہ اور احمد دونوں ایک دم خاموش ہوگئے تھے۔

“اندر چلیں آپ سے کوئی بہت بے چین۔۔ یقین رکھیں میں کچھ نہیں کروں گا۔۔ بے شک یہ فون رکھ لو اگر کوئی بھی ہرابلم ہوئی تو بلا جھجھک پولیس کو کال کر لینا۔۔”

آغا خان کی آفر پر احمد نے وہ فون فورا پکڑ لیا تھا۔ آغا خان آہستہ سے سر ہلاتے انھیں اندر لے گئے تھے۔

ملائکہ جو بےصبری سے لاونچ میں چکر لگا رہی تھیں انھیں دیکھتے ہی رک گئی تھیں۔

“ز۔۔زرکشہ۔۔ میری بیٹی۔۔”

وہ تیزی سے زرکشہ کے قریب آتے اسے سینے سے لگا چکی تھی۔جبکہ زرکشہ حیران پریشان تھا۔ وہ زرکشہ کا کبھی منہ اور کبھی ہاتھ چوم رہی تھیں۔

“کون ہیں آپ؟”

اس نے ان کے چھوڑنے پر دو قدم پیچھے لیتے پوچھا تھا۔

“م۔۔میں آپ کی مم۔۔مما۔۔ آپ کو یاد نہیں۔۔؟”

وہ شاکڈ سی بولی تھیں۔

“مجھے دس سال کی عمر سے پہلے کچھ یاد نہیں ہے میرا ایکسڈینٹ ہوا تھا جس میں ہماری مما کی ڈیتھ ہوگئی تھی اور میری میمری لاسٹ ہوگئی تھی۔”

وہ لب دبا کر بولی تھی۔

“اگر آپ میری مما ہیں تو پھر وہ کون ہیں جن کے ساتھ میں رہتی تھی؟”

“کیا احمد میرا بھائی نہیں ہے؟”

زرکشہ منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئی بول رہی تھی۔

“ملائکہ آپ کی مما ہیں اور احمد آپ کا بھائی نہیں ہے۔۔ میں نے ملائکہ سے ضد میں آکر آپ کو اس سے الگ کرکے احمد کی فیملی کو دے دیا تھا۔”

آغا خان شرمندگی سے بولے تھے۔

“مگر کیوں؟”

سچائی سن کر اسے شدید جھٹکا ملا تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

(ماضی)

آغا خان اور ملائکہ کی ملاقات یونیورسٹی میں یوئی تھی ملائکہ ہمیشہ خاموش رہنے والی تھی۔ کلاس میں بیٹھے ہوئے بھی اس کی آواز تک نہیں آتی تھی۔شاید یہ ہی وجہ تھی کہ وہ کبھی کسی کی نظروں میں بھی نہیں آئی تھی۔

مگر ناجانے کیسے وہ آغا خان کی نظروں میں آگئی تھی۔ اپنی خوبصورتی اور سنجیدگی کی وجہ سے وہ ساری کلاس میں مشہور تھا۔

ایک دن آغا خان کے دوست نے شرارت کرتے ہوئے ایک لو لٹر لکھ کر آغا خان کے نام سے ملائکہ کو دے دیا تھا۔ اس کا یوں ملائکہ کو خط دینا سب کے سامنے اسے بہت شرمندہ کر گیا تھا۔ خط کو ہڑھے بغیر وہ خاموش لڑکی غصے سے بپھری آغا خان کے سر پر جا پہنچی تھی۔

“آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھے یہ خط بھیجنے کی؟”

وہ آغا خان کے سر پر کھڑی غصے سے بولی تھی۔

“What do you mean?”

آغا خان نے ناسمجھی سے پوچھا تھا۔ جب وہ خط پھاڑ کر آغا خان کے منہ پر پھینک چکی تھی۔

“ایسی چیپ حرکت دوبارہ کرنے کی کوشش بھی مت کیجیے گا ورنہ ایچ او ڈی کو شکایت لگا دوں گی۔۔”

وہ بنا اس کا جواب سنے راکٹ کی طرح ارد گرد کھڑے ہجوم کو چیڑتی وہاں سے نکل گئی تھی۔

“سوری یار میں نے پرینک کیا تھا۔۔”

ماحول میں تناو دیکھتے اس کا دوست منمنایا تھا۔ آغا خان نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔ وہ اپنا بیگ اٹھاتا وہاں سے نکل گیا تھا۔

اس کے بعد ایسا سلسلہ شروع ہوا تھا کہ آغا خان اور اس کی کسی نہ کسی بات پر بحث اور لڑائی ہوتی رہتی تھی۔

لڑائی سے ہوتی ان کی باتیں کب نوکھ جھوک سے ہوتی محبت میں بدل گئی انھیں پتا ہی نہ چلا تھا۔

“Why are you so beautiful?”

ملائکہ کو دیکھتے آغا خان نے بےخودی میں کہا تھا۔ملائکہ نے مسکرا کر کلاس میں ادھر ادھر دیکھتے اسے گھورا تھا۔

“کوئی سن لے گا۔۔”

وہ گھور کر بولی تھی۔

“یہ چھوڑو اور یہ بتاو تمھارے گھر رشتہ کب بھیجوں؟”

آغا خان نے اس کا ہاتھ پکڑتے اس کی انگلی میں انگوٹھی پہناتے پوچھا تھا۔

“م۔۔میں گھر میں پوچھ کر بتاوں گی۔۔”

ملائکہ نے دھیرے سے مسکرا کر ہچکچاتے ہوئے کہا تھا۔

اور یہ آخری بار تھا کب آغا خان نے اسے مسکراتے دیکھا تھا اس کے بعد وہ جیسے غائب ہوگئی تھی۔اس کے گھر کا ایڈریس بھی کسی کو نہیں آتا تھا وہ یہاں ہوسٹل میں رہتی تھی۔

دو سال گزر جانے کے بعد ملائکہ کا کوئی نام و نشان نہیں ملا تھا۔ آغا خان اپنے گھر والوں کے کہنے پر مجبورا شادی کرنے پت مجبور ہوگئے تھے۔ اس طرح ان کی پہلی بیگم سے شادی کے ایک سال بعد دانین پیدا ہوئی تھی۔مگر ان کی بیوی زندہ نہ بچ پائی تھی۔

اسی طرف آٹھ سال گزر گئے تھے۔جس میں دانین کی پرورش انھوں نے خود کی تھی مگر ہر گزرتا دن مشکل ہوتا جا رہا تھا۔

ملائکہ کی یادوں نے ابھی بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔سچ کہتے تھے پہلی محبت مرد کبھی نہیں بھولتا تھا۔وہ بھی بھول نہیں پائے تھے۔

جہاں وقت آغا خان کے لیے مشکل تھا وہاں ملائکہ کے لیے زندگی ہر گزرتے دن کے ساتھ تنگ سے تنگ ہوتی جا رہی تھی۔

آغا خان کی ملاقات دوبارہ ملائکہ سے ملاقات ایک سیمنار میں ہوئی تھی۔وہ اسے دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔اس کی خوبصورتی میں زرا کمی نہیں آئی تھی۔

مگر انھیں تکلیف تب ہوئی تھی جب ملائکہ کے ساتھ کھڑے شخص نے ملائکہ کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے ساتھ لگایا تھا۔

ان کے قدم بےساختہ اس طرف بڑھنے لگے تھے۔

“ہیلو مائی سلف آغا خان۔۔ آئی ایم آ بزنس مین اینڈ یور وائفز کلاس فلیو۔۔”

آغا خان نے اس شخص کی آنکھوں میں دیکھتے کہا تھا۔

“اوہ ہائے مائی نیم از داکٹر کیف زمان۔۔ زمان ہوسپٹلز کا اونر۔۔ اور یہ میری وائف ہیں مسز کیف زمان۔۔”

وہ ملائکہ پر گرفت مضبوط کرتا بولا تھا۔ ملائکہ نے ایک نظر اٹھا کر آغا خان کو دیکھتے ہلکی سی مسکراہٹ دی تھی۔ اس کی بےرونق آنکھیں دیکھ کر آغا خان کا دل سکڑ گیا تھا۔

“ایکسکیوز می آپ سے ملاقات ہوتی رہے گی۔۔ ہمیں گھر جلدی جانا ہے ہماری بیٹی انتظار کر رہی ہوگی۔۔”

کیف زمان نے طنزیہ مسکراہٹ دیتے ملائکہ کو مضبوطی سے پکڑا تھا اور لے گیا تھا۔ جبکہ آغا خان پتھر سے ہوگئے تھے۔ انھیں اپنا سانس ببد ہوتا محسوس ہورہا تھا۔

اپنا کوٹ اتارتے شرٹ کے اوپری بٹن کھولتے وہ وہاں سے تیزی سے نکل گئے تھے۔

دوسری طرف ملائکہ کے گھر والے جنھوں نے بمشکل اسے پڑھنے کی اجازت دی تھی جب اس نے آغا خان سے شادی کا اظہار کیا تو انھوں نے اسے مار کٹ کر فورا کیف زمان کے ساتھ رخصت کر دیا تھا۔

وہاں سے ملائکہ کی زندگی کا تاریک باب شروع ہوگیا تھا۔ کیف زمان کی وجہ سے اس نے جو سہا تھا۔ وہ بتا نہیں سکتی تھی۔ کیف زمان شرافت کی کھال اوڑھے حیوان تھا۔

آغا خان نے اس دن کے بعد کیف زمان کے بارے میں ساری معلومات نکالنا شروع کردی تھی۔ اسے پتا چلا تھا۔ کیف زمان کا بڑا بھائی شیر زمان ہے اور دونوں ہر طرح کے کام میں ملوث ہیں۔

اسے اس کے انویسٹیگیٹر نے ایسی تصویریں دی تھیں جنھیں دیکھ کر وہ سن پڑ گیا تھا۔

اس نے زمان ہوسپٹلز میں ایک بہت بڑی ڈونشنز دی تھی جس کی وجہ سے اسے زمان فیملی فنکنشن میں انوائیٹ کرنے لگی تھی۔ وہ کسی بھی بہانہ سے ملائکہ کے ساتھ بات کرنا چاہتا تھا۔

جس کا موقع اسے تین مہینے بعد ملا تھا۔ شیر زمان کی اینورسری تھی جس پر آغا خان بھی انوائیٹڈ تھا۔ وہ بہت ہی گرینڈ پارٹی تھی۔ کیف زمان ملائکہ کے ساتھ ایسا چپکا تھا کہ اسے ایک پل بھی خود سے دور نہیں ہونے دے رہا تھا۔

آغا خان نے ایک ویٹر کو ملائکہ کے کپڑوں پر ڈرنک گرانے کا کہا تھا۔ تاکہ وہ کیف سے الگ ہوسکے۔

ایسا ہی ہوا تھا۔ملائکہ کے کپڑوں پر ڈرنک گرنے کی وجہ سے وہ کیف سے ایکسکیوز کرتی واشروم کی طرف بڑھ گئی تھی۔ادھر ادھر دیکھتے آغا خان بھی احتیاط سے اس کے پیچھے جانے لگا تھا۔ راہداری میں پہنچتے ہی آغا خان نے اس کا ہاتھ پکڑتے ملائکہ کو کچھ سمجھنے کا موقع دیے بغیر پہلا کمرہ کھولتے اس کے اندر کیا تھا۔

“یہ کیا بدتمیزی ہے مسڑ خان۔۔”

وہ آغا خان سے ہاتھ چھڑواتی غصے سے بولی تھیں۔

“کیا یہ سچ ہے؟”

آغا خان نے چند تصویریں اپنے موبائل میں کھولتے اسے دکھاتے پوچھا تھا۔ جس میں صاف کیف ملائکہ پر ہاتھ اٹھا رہا تھا۔ تصویریں ایسی لی گئی تھیں جیسے کسی نے بہت چھپ کر لی تھیں۔

“کیا کیف تمھیں مارتا ہے؟”

آغا خان نے پوچھا تھا۔

“نہیں۔”

وہ مسکراتی ہوئی بولی تھی۔ جبکہ اس کی آنکھیں وحشت زدہ سی لگ رہی تھیں۔

“جھوٹ مت بولو مجھ سے۔۔ اور ایسے مت مسکراو۔۔ وحشت محسوس ہو رہی ہے۔۔”

اس کے خاموشی رہنے پر آغا خان نے اسے کندھوں سے پکڑتے جھنجھوڑا تھا۔

“آنسر می ڈیم اٹ۔۔!!”

“ہاں وحشی ہے وہ شخص مارتا ہے مجھے۔۔ اسے سکون ملتا ہے میری تکلیف سے جلاتا ہے وہ مجھے۔۔”

اپنی شرٹ کے بازو اوپر کرتے اپنے سگریٹ سے جلے بازو دکھاتے وہ پھٹ پڑی تھی۔ آغا خان اس کے بازودیکھ کر لڑکھڑا گئے تھے۔

“یہ تو کچھ بھی نہیں ہے آغا خان۔۔ تم تو صرف یہ بازو دیکھ کر گھبرا گئے ہو۔۔ میرے پورے وجود پر اس شخص کی حیوانیت کے نشان موجود ہیں۔۔”

وہ سرد لہجے میں بولی تھی۔آغا خان بولنے کے قابل ہی نہیں رہے تھے۔

“تمھاری بیٹی کہاں ہے؟”

آغا خان نے اسے دیکھتے پوچھا تھا۔

“ہاں آغا خان جو آپ سوچ رہے ہیں سچ ہے وہ حیوان اپنی بیٹی کو بھی نہیں بخشتا۔۔ اور وہ میری بیٹی نہیں ہے میں ماں نہیں بن سکتی۔۔ اس حیوان نے مجھ سے ماں بننے کا حق بھی چھین لیا۔۔ چار بار اپنی اولاد کھونے کے بعد مزید حوصلہ نہیں تھا اور یہ نعمت ہی ہے کہ اب میں ماں نہیں بن سکتی۔۔”

وہ تکلیف دہ لہجے میں بولتی آغا خان کو لڑکھڑانے ہر مجبور کر گئی تھیں۔

“میں تمھیں یہاں سے جلد ہی نکال لوں گا۔۔یہ میرا تم سے وعدہ ہے۔۔”

ملائکہ کے ماتھے کو نرمی سے چھوتے انھوں نے وعدہ کیا تھا۔

“میں اپنی بیٹی کو نہیں چھوڑسکتی۔۔”

وہ اٹل لہجے میں بولی تھیں۔

“مگر وہ کیف کی بیٹی ہے تمھاری نہیں۔۔”

“وہ جب سے پیدا ہوئی ہے میں نے ہی اسے سنبھالا ہے۔۔وہ میری بیٹی ہے۔ “

وہ سختی سے بولی تھیں۔زرکشہ کیف کی دوسری بیوی سے اولاد تھی جو انھوں نے چھپا کر رکھی ہوئی تھی۔

“اوکے۔۔ اپنا خیام رکھنا۔۔ یہ فون رکھ لو۔۔ اگر حالات زیادہ خراب ہوجائیں تو مجھے فورا کال کرنا۔۔ میں جلد سے جلد تم لوگوں کو یہاں سے لے جاوں گا۔۔”

اسے ایک فون تھماتے آغا خان نے کہا تھا۔

اس کے بعد آغا خان نے دن رات ایک کرکے سارے کالے دھندے اور برے کام کیف کے نکال لیے تھے۔ وہ اپنے ہوسپٹل میں ایلگل طور پر لوگوں کے مختلف پارٹس نکال کر بیچتا تھا۔ اور بہت سے غلط کاموں میں ملوث تھا۔

آغا خان ملائکہ کی کال کے انتظار میں تھے مگر اس کی کال نہیں آئی تھی۔ وہ خود کال نہیں کرنا چاہتے تھے تاکہ ملائکہ کہیں پھنس نہ جائے۔۔

آغا خان نے زمان ہاسپٹلز اور کیف کی ساری ایلگل کام نیوز میں وائرل کر دیے تھے۔

اسی رات آغا خان کو ملائکہ کی کال آئی تھی۔

“آغا م۔۔مجھے اور میری بیٹی کو بچا لیں کیف ہمیں مار دے گا۔۔”

وہ روتے ہوئے بول رہی تھی اس کے پیچھے سے چیزیں ٹوٹنے کی آوازیں آرہی تھیں۔

آغا خان تیزی سے اپنی چیزیں اٹھاتے باہر بھاگے تھے۔

“ملائکہ میری بات سنو۔۔ کیا تمھاری بیٹی تمھارے ساتھ ہے؟”

آغا خان نے گاڑی میں بیٹھتے تیزی سے پوچھا تھا۔

آغا خان کے ساتھ اس کا وفادار گارڈ تھا۔ جو گاڑی کو ڈرائیو کر رہا تھا۔

“ہاں میرے ساتھ ہے۔۔”

اس نے کانپتی آواز میں جواب دیا تھا۔

“تم دونوں کونسی جگہ پر ہو۔۔؟”

آغا خان نے تیزی سے پوچھا تھا۔

“میں گراونڈ فلور پر ایک کمرے میں بند ہوں مجھے لگتا ہے کیف یہ دروازہ توڑ دے گا۔۔”

“میں بس پہنچ رہا ہوں تن جلدی سے اٹھ کر واشروم میں چلی جاو اور اسے لاک لگا لو۔۔اور مجھے یہ بتاو گھر میں کتنے لوگ ہیں اور کتنے سکیورٹی گارڈز ہیں؟” اس نے پوچھا۔

“گھر کے اندر کوئی نہیں ہے اور اس وقت دو گارڈز ہیں صرف کیف کو زیادہ سکیورٹی پسند نہیں۔۔” ملائکہ نے جواب دیا تھا۔

“اوکے میں پہنچ رہا ہوں تم موبائل اون رکھو۔۔”

ابھی آغا خان بول ہی رہے تھے۔ جب کیف کے دروازہ توڑنے کی آواز آئی تھی۔

“وہ واشروم کا دروازہ توڑ رہا ہے آغا۔۔”

وہ کانپتی آواز میں بول رہی تھی ملائکہ نے تیزی سے اٹھتے زرکشہ کو کیبنٹ کے اندر چھپا دیا تھا۔

“آہہ۔۔ ” اچانک دروازہ توڑ کر اندر آتے کیف نے ملائکہ کو بالوں سے دبوچتے باہر گھسیٹنا شروع کیا تھا۔

دوسری طرف آغا خان کی جان نکل رہی تھی ملائکہ کی چیخیں سن کر۔۔کیف ملائکہ کو باہر کھینچ کر زمین پر پھینکتے اس کے پیٹ میں ٹانگے مارنے لگا تھا۔ ملائکہ تکلیف سے دوہری ہوتی تڑپ اٹھی تھی جب اچانک کیچن کے راستے سے اندر آتے آغا خان نے کیف کو گردن سے پکڑ کر منہ پر مکہ مارا تھا۔

کیف نے خود کو چھڑواتے آغا خان کو مکا مارا تھا۔

“مجھے پتا تھا یہ بدچلن عورت ہے۔۔سالی بغیرت۔۔***”

وہ گالیاں نکال رہا تھا جب اچانک آغا خان کے گارڈ نے پہچھے سے اسے پکڑتے اس کے گلے کی نس دبائے تھے۔ آغا خان نے تیزی سے ایک انجکشن نکالا تھا اور تڑپتے ، مچلتے کیف کی گردن میں لگا دیا تھا۔

“ی۔۔یہ کیا کیا؟”

“کچھ نہیں یہ زہر ہے جو دس منٹ میں تمھارا دل بند کردے گا مگر کسی کو پتا نہیں لگے گا۔۔ابھی تم اہنے جسم کو بےجان محسوس کرنے لگو گے۔۔”

“اسے لے کر او اس کمرے میں۔۔”

گارڈ اسے گھسیٹتا آغا خان کے ساتھ کمرے میں لے گیا تھا۔

باتھ تب بھرتے انھوں نے اسے پانی میں لیٹاتے چاقو سے اس کی دوبوں نسیں کاٹ دی تھیں۔وہ خوف زدہ آنکھوں سے انھیں دیکھ رہا تھا جب آغا خان مسکرایا تھا۔

“تجھ جیسوں کا یہ ہی انجام ہوتا۔ “

آغا خان اسے بولتے تیزی سے ملائکہ کی مدد کرکے اسے اٹھاتے زرکشہ کو کیبن سے نکال کر پکڑتے پچھلے رستے سے باہر نکل گئے تھے جہاں کوئی نہیں تھا۔ گارڈ نے بھی تیزی سے اپنا کام پورا کیا تھا۔

وہ تیزی سے وہاں سے نکلتا آغا خان کے ساتھ وہاں سے چلا گیا تھا۔

آغا خان نے ملائکہ کا چیک اپ وغیرہ کروایا تھا۔ان کے کچھ چوٹیں لگی تھیں۔جس کے لیے ڈاکٹر نے پین کلرز دے دی تھیں۔ساتھ ہی زرکشہ کو بھی ڈاکٹر نے چیک کر لیا تھا۔ اس کے پیٹ اور ٹانگوں پر سگریٹ سے جلانے کے نشان تھے۔

کیسا وحشی انسان تھا جس نے چھوٹی سی بچی کو بھی نہیں چھوڑا تھا۔ اس کے بعد ملائکہ نے اپنی عدت پوری کی تھی۔

کیف کے نس کاٹنے سے سب کو یہ ہی لگا تھا کہ اس نے خود کشی کی ہے جبکہ ان کے سارے ہوسپٹلز بھی بند کردیے گئے تھے۔

آغا خان ملائکہ سے شادی کا خواہش مند تھا اور وہ چاہتا تھا کہ ملائکہ ساری توجہ دانین کو دے اس کے علاوہ زرکشہ کو شیر زمان ساری کمجگہ ڈھونڈ رہا تھا۔

اگر وہ یہاں ریتی تو یقینا شیر زمان نے اسے ڈھونڈ لینا تھا تبھی اس نے زرکشہ کو دوسری فیملی کے پاس بھجوا دیا تھا اور ملائکہ کو بلیک میل کرتے اس سے نکاح کر لیا تھا۔

“آپ نے میری بیٹی کو جو مجھ سے دور کیا ہے اس کی سزا آپ کو ضرور ملے گی۔۔”

وہ روتی ہوئی بولی تھیں۔

“اب سے تمھاری ایک ہی بیٹی ہے دانین۔۔ زرکشہ سے تمھارا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔۔”

آغا خان نے سختی سے کہتے نرمی سے ملائکہ کا ماتھا چوما تھا۔ مگر اس دن کے بعد ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی ہوگئی تھی۔ آغا خان نے نہ ہی کبھی ملائکہ کے ساتھ رشتہ سب لوگوں کے سامنے قبول کیا بلکہ انھیں ملازمہ کی حیثیت سے رکھا جس پر ملائکہ دن بدن ان سے بدزن ہوتی اپنی مکمل توجہ دانین پر دینے لگی تھی۔

آغا خان نے کینیڈا میں ایک مسلمان فیملی کو زرکشہ دے دی تھی۔ ان کا ایک چھوٹا بیٹا بھی تھا انھیں امید تھی زرکشہ کا دل لگا رہے گا۔ وہ مہینے کا خرچہ بھی اس فیملی کو بھجواتے تھے۔اور شروع میں کافی نظر بھی رکھتے مگر آہستہ آہستہ زرکشہ کو خوش دیکھ کر انھوں نے اس پر نظر رکھنا چھوڑ دی تھی یہ ہی وجہ تھی کہ انھیں پھر اس فیملی کے بارے میں زیادہ انفورمیشن نہیں تھی۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

(حال)

آغا خان نے زرکشہ کو ساری حقیقت بتا دی تھی سوائے س بات کے کہ وہ ملائکہ کی حقیقی ماں نہیں تھی۔

“آپ نے مجھے میری مما سے کیوں الگ کیا؟”

“اگر آپ کی بیٹی کو مما کی ضرورت تھی تو کیا مجھے نہیں تھی؟”

زرکشہ چیخی تھی۔

“حقیقت تو یہ ہی زرکشہ میں نہیں چاہتا تھا تمھیں کسی بھی طرح شیر زمان یا اس کا کوئی اور فیملی ممبر ڈھونڈ لے تبھی میں نے تمھیں کسی اور فیملی کو دیا تھا۔”

وہ لب دبا کر دھیمی آواز میں بولے تھے۔

“جو ہوگیا اسے چھوڑو۔۔ بیٹا تم آو بیٹھو۔۔”

آغا خان کی بات سنتے ملائکہ نے زرکشہ کا ہاتھ تھاما تھا۔

“مجھے آپ کے بارے میں کچھ یاد نہیں۔۔!”

وہ ملائکہ کو دیکھتی آہستہ سے بولی تھی۔فلحال اسے سب سمجھنے اور ہضم کرنے میں وقت لگنا تھا۔

“یہ میرا بھائی احمد ہے۔۔۔اور جہاں میں جاوں گی یہ میرے ساتھ ہی جائے گا۔۔”

احمد کا ہاتھ پکڑتی وہ ڈٹ کر بولی تھی۔

“بالکل ضرور کوئی مسئلہ نہیں۔۔”

ملائکہ ایک نظر آغا خان پر ڈالتے فورا بول پڑی تھی۔

“ہم یہاں زیادہ دن نہیں رک سکتے میں نے سنا ہے تمھاری جان کو خطرہ ہے۔۔”

آغا خان اپنا ماتھا مسلتے بولے تھے۔

“کس سے خطرہ ہے ؟”

ملائکہ نے پریشانی سے پوچھا تھا۔

“وہ-“

آغا خان جواب دینے ہی لگے تھے جب انھیں محب خان کی کال آئی تھی۔

جیسے جیسے محب خان بولتے گئے تھے۔ آغا خان کا رنگ اڑھتا جا رہا تھا۔

“ایسے کیسے اسے کوئی لے گیا محب؟”

“تم سب لوگ کہاں تھے۔۔؟”

“محب۔۔ میری بیٹی کو ڈھونڈ لو پلیز۔۔ اس بار اگر کچھ ہوا تو وہ زندہ نہیں بچ پائے گی۔۔”

وہ التجائیہ لہجے میں بولی تھی۔ سب کا دھیان ان کی طرف گیا تھا۔

“ابھی کچھ پتا نہیں چل رہا بھائی صاحب ہم پوری کوشش کر رہے ہیں۔۔”

محب خان کے جواب پر ان کے دل میں گہرا درد اٹھا تھا۔ ملائکہ نے قریب آتے ان کا ہاتھ تھام کر حوصلہ دینے کی کوشش کی تھی جبکہ ملائکہ اور احمد ناسمجھی سے سب سن رہے تھے۔

“ہیلو بڑے پاپا میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں میں نے دانین پر حملے کرنے والے سے پوچھ گچھ کی تھی اس نے کسی “شیر” نامی شخص کا نام لیا تھا کیا آپ جانتے ہے وہ کون ہے اس وقت ہمارے پاس اس نام کے علاوہ کوئی سراغ نہیں۔۔”

وہ نام سنتے ہی ساکت ہوگئے تھے۔

“ہاں میں جانتا ہوں۔۔ شیر زمان نام ہے اس کا۔۔ مگر وہ کافی سالوں پہلے غائب ہوچکا تھا۔۔ وہ زمان ہوسپٹلز کا مالک تھا۔ملائکہ کے پہلے شوہر کا بڑا بھائی تھا۔ مجھے لگتا ہے وہ اپنی بھائی کی موت کا بدلہ میری بیٹی سے لے رہا ہے شازل۔۔”

وہ اپنے بال کھینچتے سوچتے ہوئے بولے تھے۔

“آپ فکر نہ کریں پاپا میں اسے ڈھونڈ نکالوں گا۔۔ آپ بس جلد سے جلد واپس آجائیں۔۔”

شازل کی بات پر وہ کچھ نہیں بول سکے تھے۔

“ہم آج رات کو ہی واپسی کے لیے نکل رہے ہیں۔۔ “

وہ فون بند کرتے سپاٹ لہجے میں بولے تھے اولاد کی تکلیف سے دل پھٹ رہا تھا۔

“کیا ہوا ہے دانین کو؟”

ملائکہ نے انھیں ہلاتے ہوئے پوچھا تھا۔

“تم ہمشہ کہتی تھی نہ میں نے تمھارے ساتھ بہت بڑی زیادتی کی زرکشہ کو تم سے دور کرکے اگر یہ آج ہمارے ساتھ ہوتی تو شیر زمان دانین کی بجائے اسے چھیننے کی کوشش کرتا اور ناجانے کیا کرتا۔۔ تمھیں زرکشہ سے دور ہونے کی تکلیف کیا ہوئی تھی وہ مجھے اب محسوس ہورہی ہے ملائکہ۔۔وہ حیوان صفت میری بیٹی کو مار دیں گے۔۔ اس کی جان لے لیں گے۔۔”

وہ بےبسی سے بولے تھے۔

“بچے آپ دونوں روم میں جائیں یہاں سے سیدھا جائین تو پہلے دو کمرے آپ لوگوں کے لیے ہی سیٹ کروائے ہیں۔۔”

ملائکہ احمد اور زرکشہ کو بولتی آغا خان کو پکڑتی روم میں لے گئی تھی۔ انھیں بیڈ پر بیٹھاتے وہ ان کے ساتھ بیٹھ گئی تھیں۔

“دانین کو کچھ نہیں ہوگا خان جی حوصلہ رکھیں۔ایسے ہمت نہ ہاریں۔۔”

ان کا زرد پڑتا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ملائکہ نے پیار سے کہا تھا۔

“اس کی جگہ وہ مجھے مار دیتا۔۔ میری بیٹی کا کیا قصور تھا ملائکہ؟”

وہ ملائکہ کو سینے سے لگاتے ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولے تھے۔

“اگر اب کچھ غلط ہوا تو وہ ٹھیک نہیں ہو پائے گی۔۔ میرے سارے گناہوں کی سزا اسے مل رہی ہے ملائکہ۔۔ میں اسے کیسے بچاوں ملائکہ۔۔؟”

وہ ملائکہ کو مضبوطی سے تھامے بول رہے تھے اور یہ دوسری بار تھا جب ملائکہ نے اس پہاڑ جیسے مضبوط شخص کو ٹوٹتے ہوئے دیکھا تھا۔

جاری ہے۔۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ#Professor_Khan💕

#Zanoor_Writes

#Episode_40(Last_Episode)_Part_2

(Series 2 in Professor Shah Novel)

“شازل کچھ پتا چلا دانین کا؟”

نورے نے اسے دیکھتے ہی پوچھا تھا۔ وہ کافی دیر بعد اپارٹمنٹ میں آیا تھا۔

“نہیں۔۔”

“تم ٹینشن مت لو تمھاری صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہے ہے۔۔ دانین جلد مل جائے گی۔۔”

وہ اسے جھوٹی تسلیاں دیتا فریش ہونے چلا گیا تھا۔

اس نے عسکری کو شیر زمان کے بارے میں ساری معلومات نکلوانے کا کہا تھا۔

وہ شاور لے کر نکلا ہی تھا جب اچانک اسے کچھ یاد آیا تھا۔

“ڈیڈ۔۔ میں نے ایک مینی کیمرہ ٹی وی لاونچ میں سیٹ کروایا تھا۔۔وہ اپنے وہاں سے ہٹوایا تو نہیں تھا؟”

وہ اپنے کمرے سے نکلتا سیدھا محب خان کے پاس گیا تھا جو گل خان کو حوصلہ دے رہے تھے جبکہ روحان عسکری کے گھر ر اس کے پاس موجود تھا اسے ایک پل کا بھی چین نہیں آرہا تھا۔پ

“کونسا کیمرہ؟”

محب خان نے ناسمجھی سے پوچھا تھا۔

“وہ چھوٹا سا کیمرہ تھا میں نے کورنر میں لگوایا تھا۔۔”

“نہیں مجھے اس بارے میں کچھ نہیں پتا۔۔”

محب خان کی بات پر وہ تیزی سے اپنا فون لیتا باہر بھاگا تھا۔

“میں عسکری پاس جا رہا ہوں۔۔”

وہ بولتا ہوا تیزی سے اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا تھا۔ عسکری کے گھر پہنچتے ہی اس نے اپنا فون اس کے آگے کیا تھا۔

“میں نے ایک کیمرہ لاونچ کی کورنر میں لگوایا تھا۔کینیڈا سے واپس آکر تاکہ مما اور ڈیڈ کو دیکھتا رہا ہوں۔۔ اس کیمرے کی ویڈیو نکالو آج کے دن کی۔۔”

شازل کی بات پر انھیں کچھ امید ملی تھی۔

“اچھا بیٹھو میں نکالتا ہوں۔۔”

عسکری نے بولتے ہی اس کے کیمرے کی پاسٹ ریکارڈنگ نکال لی تھیں۔

“زرا فاسٹ فاروڈ کردو ویڈیو کو۔۔”

روحان نے بےچینی سے کہا تھا۔

ویڈیو صاف نہیں تھی مگر یہ نظر آرہا تھا کہ سب کے جانے کے بعد دانین ٹی وی دیکھنے لگی تھی پھر اسے بند کرتے وہ کیچن میں چلی گئی تھی۔اس کے بعد انھوں نے دیکھا کیسے خاموشی سے ایک ماسک میں چھپا شخص اندر داخل ہوا ہے ہے اور ملازلہ کو پیچھے سے پکڑتے اس کا گلا کاٹ دیا ہے وہ بے جان سی زمین پر گر گئی ہے۔۔ وہ جو بھی تھا دانین کے باہر نکلنے کا انتظار کر رہا تھا اس کے نکلتے ہی جو ہوا وہ دیکھ کر سب نے سابس روک لیا تھا اس کی وحشت ناک چیخیں اور التجائیہ انداز اس کی روحان ، شازل اور آغا خان کے لیے پکار نے ان کی روح کانپنے پر مجبور کر دیا تھا۔

اس شخص نے دانین کو گھسیٹ کر اس کے سر پر زور سے بندوق سے وار کیا تھا جس سے وہ بے ہوش ہوگئی تھی اس کے بعد وہ اسے وہاں سے اٹھاتا لے گیا تھا۔

روحان کا دل پھٹ رہا تھا۔اس حیوان کی بازوں میں دانین کو دیکھ کر۔۔وہ شخص جیسے ہی مڑا تھا اس کا باقی آدھا چہرہ نمودار ہوا تھا جو ماسک کے بغیر تھا۔

“یہ تو۔۔ مر نہیں گیا تھا؟”

شازل نےشاکڈ سا پوچھا تھا۔

“یہ زندہ ہے اور دانین سے بدلہ لینے واپس آیا ہے۔۔”

وہ اس شخص کو منٹوں میں پہچان گئے تھے شاءد اس لیے کہ وہ ایک خوفزدہ خواب تھا جو لوٹ آیا تھا۔

“اس کو ڈھونڈو عسکری۔۔”

روحان اپنے بال کھینچتا بولا تھا۔

اس کا پورا نام لیتے عسکری نے ڈیٹا بیس میں چیک کیا تھا۔

“اس کا یہ نام نہیں ہے۔۔”

اس کی بات پر روحان نے واس اٹھاتے ہی غصے سے زمین پر دے مارا تھا۔شازل اور عسکری خاموش رہے تھے۔۔

“ت۔۔تصویر سے کیا کام ہوجائے گا۔۔؟”

وہ اپبے بال کھینچتا بولا تھا۔

“ہاں اس سے کام ہوجائے گا۔۔”

“میرے موبائل میں اس کی ایک تصویر ہے اس نے خود ہی چند دن پہلے بھیجی تھی۔۔”

اس نے بولتے ہوئے فون نکال کر دانین اور سلمان کی تصویر عسکری کو بھیجی تھی۔

“نو ریکارڈ۔۔”

عسکری نے مکا مارتے کہا تھا۔

“ویٹ وہ ویڈیو دکھاو دوبارہ۔۔”

شازل کے کہنے پر انھوں نے دوبارہ وہ ویڈیو کھولی تھی۔

“یہ۔۔ دیکھو اس کے حلیہ اسسے کافی مختلف لگ رہا ہے تصویر میں بدلاو کرو رنگ تھوڑا کالا کرو اور ساتھ داڑھی ایڈ کرو۔۔ اور اس کی گردن پر ٹیٹو بھی ہے۔۔”

شازل کی بات پر تصویر میں چینجز کرکے عسکری نے دوبارہ سرچ کیا تھا۔

روحان بے چینی سے اپنا ماتھا مسل رہا تھا۔

“گاٹ اٹ۔۔!!”

عسکری چیخا تھا۔

“اس کا نام ہے فضل زمان۔۔ اور ہاں تم نے ٹھیک کہا تھا اس نے اپنی ایڈیٹ کی ہوئی تصویریں روحان کو بھیجی ہیں۔۔”

“فضل زمان۔۔ اس کے فادر کا نام شیر زمان ہے؟”

شازل نے فورا پوچھا تھا۔

“نہیں فادر کیف زمان ہے۔۔”

اس کی بات سنتے ہی شازل سن رہ گیا تھا۔ وہ کچھ دیر پہلے ہی ساری کہانی محب خان سے سن کر آیا تھا۔

” عسکری تم اس کی اور اس کے باپ کی لوکیشن کا پتا لگاو۔۔فورا۔۔ میں نہیں چاہتا دانین زید ان کے پاس رہے۔۔”

روحان کی بات پر وہ فورا چوکنا یوگیا تھا۔

شازل نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے اسے حوصلہ دیا تھا اس کے علاوہ حوصلہ دینے کے لیے اس کے ہاس کوئی اور الفاظ نہیں تھے۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

وہ کمرے میں بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کا دماغ گھوم رہا تھا۔ دو دن سے ہونے والے واقعات نے اسے جیسے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس نے ڈینیل کا دیا گیا بیگ کھولا تھا۔ اس میں پاسپورٹس ، پیسے اور اس کے فرینڈ کا کنٹکٹ تھا۔

اس نے کانہتے ہاتھوں سے وہ اٹھا کر دیکھا تھا۔ جس میں شاہزیب میر حاتم شاہ کا نام لکھا ہوا تھا۔

اس نے ایک نظر دیکھ کر اسے فولڈ کرکے واپس رکھ دیا تھا۔ آغا خان سے بھی نہیں پوچھ سکتی تھی وہ خود پریشان تھی۔ اسے رہ رہ کر ڈینیل کی فکر ستا رہی تھی۔

“یہ کیا ہے۔۔؟”

اس نے بیگ میں سے ایک فولڈڈ سکارف نکالتے منمناتے ہوئے کہا تھا۔ اس کے اندر سے ایک کاغذ نکل کر اس کی گود میں گرا تھا۔

وہ سفید رنگ کا سکارف تھا۔ اسے ایک سائیڈ پر رکھتے اس نے وہ کاغذ اٹھایا تھا۔

“آئی ایم سوری فور ایوری تھنگ۔۔”

“میری طرف سے یہ سکارف گفٹ سمجھو۔۔”

صرف دو لائینیں اس پر لکھی ہوئی تھیں۔وہ سن ہوکر رہ گئی تھی۔اس کی آنکھ سے چند قطرے بےساختہ کاغذ پر گرے تھے۔۔ کاغذ کو آہستے سے فولڈ کرتی وہ سکارف کو پکڑتی اسے شدت سے سینے سے لگا چکی تھی۔

“زری۔۔؟”

احمد کے ناک کرنے پر اس نے اپنا چہرہ جلدی سے صاف کیا تھا۔

“کیا ہوا آپ رو رہی تھیں؟”

احمد نے پریشانی سے اس کا سرخ چہرہ دیکھتے پوچھا تھا۔

“ارے نہیں نہیں۔۔ تم بتاو تمھیں کیا کسی نے کوئی نقصان تو نہیں پہنچایا تھا۔؟”

وہ احمد کو دیکھتی فورا بولی تھی۔

“نہیں زری۔۔ انھوں نے بس مجھ ٹریننگ دی تھی۔۔”

وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا بولا تھا۔

“مجھے پتا چلا ہے ڈینیل کی ڈیتھ ہوگئی ہے۔۔۔”

احمد ٹھہر کر بولا تھا۔

“ج۔۔جھوٹ ب۔۔بول رہے ہو نا تم؟”

احمد کی طرف جھکتی اس کا بازو تھامتے وہ کانپتے ہوئے بولی تھی۔

“انکل نے پتا کروا کر بتایا ہے۔۔”

اس کو تھامتے احمد نے بتایا تھا۔

“می۔۔میری وجہ سے وہ مرگیا ہے احمد۔۔ میری بےوقوفی کی وجہ سے۔۔”

وہ روتے ہوئے بولی تھی۔

“میں بہت منحوس ہوں احمد پہلے اپنی ماں کی زندگی برباد کی۔۔ پھر تم سے تمھاری ماں چھین لی ا۔۔اور اب ڈینیل بھی میری وجہ سے مرگیا ہے۔۔”

“کیا بکواس کر رہی ہیں زری۔۔ بس کریں۔۔ یہ ڈینیل کا فیصلہ تھا۔۔پلیز چپ کریں۔۔”

احمد اسے کافی دیر دلاسے دیتا رہا تھا مگر وہ تو جیسے سن پڑ گئی تھی۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

تیرہ گھنٹے کی فلائٹ کی بعد وہ لوگ پاکستان پہنچے تھے۔ سب خاموش تھے۔کسی کے پاس بولنے کو کچھ تھا ہی نہیں۔۔

جب تک وہ گھر پہنچے تھے دانین کو گم ہوئے ایک دن سے زیادہ ہوگئے تھے۔

گھر میں عجیب تناو چھایا ہوا تھا۔ زرکشہ اور احمد خاموشی سے آغا خان اور ملائکہ کے پیچھے چل رہے تھے۔

“بھائی صاحب۔۔”

محب خان نے آغا خان کو دیکھتے ہی انھیں گلے لگا لیا تھا۔

“گل بچوں کو کسی کمرے میں لے جاو تھک گئے ہوں گے۔۔”

محب خان سے دور ہٹتے آغا خان نے زرکشہ اور احمد کے تھکن زدہ چہروں کو دیکھتے کہا تھا۔ گل ان کی بات سنتی ان دونوں کو ایک کمرے میں لے گئی تھی۔

“کچھ پتا چلا ؟”

آغا خان نے امید سے پوچھا تھا۔

“جی۔۔ سلمان زندہ ہے۔۔اور وہ شیر زمان کا بیٹا ہے اس کا نام فضل زمان ہے۔۔فضل ہی دانین کو لے کر گیا ہے۔۔”

محب خان نے تفصیل سے انھیں بتا دیا تھا۔

“یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟ و۔۔وہ تو مرگیا تھا۔۔”

آغا خان نے شاکڈ ہوتے پوچھا تھا۔

“نہیں۔۔ زندہ ہے وہ۔۔”

“عسکری ان کی لوکیشن ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہے مگر ابھی تک کامیاب نہیں ہوا۔۔”

محب خان کے بتانے پر وہ ڈھ گئے تھے۔ انھوں نے اپنے سینے کو مسلنا شروع کیا تھا۔

“بھائی۔۔”

“خان جی۔۔” انھیں سینہ ملتے دیکھ کر محب خان اور ملائکہ ایک ساتھ چیخے تھے۔

“آپ بیٹھیں میں ڈاکٹر کو کال کرتا ہوں۔۔”

محب خان نے تیزی سے بولتے ملائکہ کو اشارہ کرتے کال ملائی تھی۔

“یہ لیں پانی پیے”

ملائکہ نے پانی ڈالتے انھیں جلدی سے تھمایا تھا۔آغا خان نے دو گھونٹ بھرتے گلاس اسے واپس تھماتےصوفے سے ٹیک لگاتے آنکھیں میچ لی تھیں۔

“خان جی۔۔”

“میں ٹھیک ہوں ملائکہ۔۔” آغا خان نے ان کا ہاتھ تھامتے سپاٹ لہجے میں کہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر نے آتے ہی ان کا چیک اپ کرتے انھیں میڈسن دیتے کسی بھی قسم کی ٹینشن لینے سے منع کیا تھا۔

آغا خان شازل اور روحان سے ملنے کی ضد کر رہے تھے مگر محب خان نے زبردستی انھیں کچھ دیر کے لیے آرام کرنے کے لیے لیٹا دیا تھا مگر وہ ہر پل بےچین تھے۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

“حیدر کیا ہوا پریشان لگ رہے ہیں؟”

بہارے گل نے حیدر کے پہلو میں بیٹھتے پوچھا تھا۔

“کچھ نہیں تم بتاو۔۔ آج کمر میں درد تو نہیں ہوئی۔۔؟”

اس کے کندھے کے گرد بازو پھیلاتے حیدر نے محبت سے پوچھا تھا۔

“میں نے آپ کی اور لالا کی باتیں سن لی تھیں۔۔ مجھے پتا ہے کچھ ہوا ہے۔۔تبھی کل سے آپ میرے پاس سے ہلے تک نہیں ہیں اور آفس بھی نہیں گئے۔۔”

وہ حیدر کی آنکھوں میں دیکھتی دھیرے سے بولی تھی۔

“تم چھپ کر میری باتیں سنتی ہو۔۔؟”

حیدر نے اس کی ناک دبا کر پوچھا تھا۔

“آپ بھی تو مجھ سے باتیں چھپا رہے ہیں۔۔”

وہ نروٹھے پن سے بولی تھی۔

“تمھیں میں کوئی ٹینشن نہیں دینا چاہتا تھا اس لیے نہیں بتایا تھا۔۔”

حیدر نے اس کے گال کو نرمی سے سہلاتے کہا تھا۔

“کیا ہوا ہے بتائیں؟ نہیں لیتی ٹینشن۔۔”

بہارے گل کے اسرار پر اس نے آدھی بات چھپاتے اسے بتا دیا تھا۔

“دانین کا ابھی تک کچھ پتا نہیں چلا؟”

اس نے پریشانی سے پوچھا تھا۔

“نہیں تم دعا کرو۔۔ اللہ پاک نے چاہا تو جلدی مل جائے گی۔۔”

اس کی طرف دیکھتے حیدر نے سنجیدگی سے کہا تھا۔

“تم نے کیا تھا تم ٹینشن نہیں لو گی۔۔”

حیدر نے اس کا چہرہ دیکھتے کہا تھا۔ جس پر وہ لب دبا کر سر ہلا گئی تھی۔

“جیسے ہی کوئی خبر ملے تو مجھے ضرور بتائیے گا۔۔”

وہ حیدر کے ہاتھ کو تھامتی بولی تھی۔ حیدر نے اس کے ماتھے کو چومتے سر ہلایا تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

دانین نے گھومتے سر سے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولی تھی۔وہ بیڈ سے بندھی ہوئی تھی۔حرکت کرنے سے اس کے سر میں درد کی ایک تیز لہر اٹھی تھی۔ وہ مچلتی خود کو آزاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی مگر اسے بہت مضبوطی سے باندھا گیا تھا۔

اس نے چیخ مارنے کے لیے منہ کھولنے کی کوشش کی تھی مگر اس کا منہ کسی کپڑے سے مضبوطی سے بند کیا گیا تھا۔اسے اندھیرے کمرے کی ویرانی میں وحشت محسوس ہو رہی تھی۔

“فائنلی۔۔ دانین صاحبہ کو ہوش آہی گیا۔۔”

سلمان کی آواز سنتے ہی اس کے رونگٹھے کھڑے ہوگئے تھے۔

اس کے لائٹ اون کرنے پر دانین نے فورا آنکھیں بند کر لی تھیں۔

“آنکھیں کھولو۔۔”

اس نے اونچی آواز میں کہا تھا۔دانین نے اس کی بات اگنور کرتے اپنی آنکھیں مزید مضبوطی سے بند کرلی تھیں۔

“میں نے کہا آنکھیں کھولو۔۔”

دانین کے بال پکڑتے اس نے اس بار غصے سے کہا تھا۔ دانین نے ڈر کر فورا آنکھیں کھول دی تھی۔ مگر اس کا آدھ بری طرح جلا چہرہ دیکھتے اس نے خوفزدہ ہوتے چیخ ماری تھیں جو اس کے منہ میں ہی دبی رہ گئی تھیں۔ اس نے آنکھیں دوبارہ میچ لی تھیں۔

“کمینی تیری وجہ سے میرے چہرے کا یہ حال ہوا ہے میں تجھے چھوڑوں گا نہیں۔۔”

وہ غصے سے اس کا منہ نوچتا بولا تھا۔ دانین نے سر بری طرح ہلاتے اس کی گرفت سے آزاد ہونے کی کوشش کی تھی مگر ناکام رہی تھی۔

“ہاہاہا جو کام اس دن مکمل نہیں کر پایا میں وہ آج کروں گا۔۔”

اس کی بات سنتے دانین کی روح کانپ کر رہ گئی تھی۔

سلمان اس پر حاوی ہوتا جھکنے لگا تھا جب اس نے آنکھیں کھولتے بنا کچھ سوچے سمجھے اپنا گھٹنہ اس کے منہ پر مارا تھا۔اسے کسی چیز کے ٹوٹنے کی آواز آئی تھی جبکہ اس کے خود کے گھٹنے میں بھی درد ہونے لگا تھا۔

“*گالی* تجھے میں چھوڑوں گا نہیں۔۔”

سلمان کی ناک ٹوٹ گئی تھی اس نے غصے میں آتے دانین کے چہرے پر ایک زور دار مکہ مارتے اس کے پیٹ میں بھی مکے مارے تھے۔ تکلیف سے تڑپتی دانین دوہڑی ہوتی گئی تھی۔ کچھ دیر بعد اپنا غصہ اتارتا وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔ مگر دانین کا بہت برا حال کر گیا تھا۔دانین کو بس یہ ہی سکون تھا کہ اس نے اسے دوبارہ چھوا نہیں تھا۔

تکلیف سے تڑپتے اور سسکتے کب اس کی آنکھ لگی اسے پتا نہیں چلا تھا۔سلمان جاتے ہوئے لائٹ بند کرگیا تھا۔اسے بالکل نہیں پتا تھا۔دن کیسے گزر رہے تھے۔ نہ اسے پانی دیا گیا تھا نہ ہی کچھ کھانے کو۔۔ اب تو اس کے پیٹ نے احتجاج کرتے ہوئے بھی بس کردی تھی۔ اسے نہیں پتا تھا کہ کتنے دن گزر گئے تھے بس وہ ایک ہی دعا کر رہی تھی روحان اسے اس حیوان سے بچا لے۔۔۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

“نورے میں چاہتا ہوں تم کچھ دنوں کے لیے شاہزیب کے پاس چلی جاو۔۔اگر تم یہاں رہی تو ٹینشن لیتی رہو گی جو تمھارے لیے اچھی نہیں ہے۔۔”

شازل جو آغا خان سے ملنے آیا تھا اس نے نورے کو پریشان دیکھ کر کہا تھا۔

“میں ایسے کیسے جاسکتی ہو شازل۔۔؟ سب گھر والے پریشان ہیں میں انھیں ایسے چھوڑ کر جا نہیں سکتی۔۔”

اس نے دو ٹوک جواب دیا تھا۔

“مجھ سے بحث مت کرو نورے۔۔ مجھے تم دونوں کی فکر ہے اس لیے بول رہا ہوں۔۔”

شازل نے سنجیدگی سے کہا تھا۔

“جب آپ مجھے اس حالت میں اکیلا چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ کیا تب آپ کو یہ احساس نہیں ہوا تھا۔”

اس کے منہ سے بے ساختہ شکوہ نکلا تھا۔

“شازل میرا یہ مطلب نہیں تھا۔”

اسے ساکت دیکھ کر وہ شرمندہ ہوگئی تھی۔

“شاہزیب تمھیں لینے آرہا ہے جو چیزیں چاہیے بتا دو وہ میں پیک کردوں۔۔”

اس نے اپنا ماتھا مسلتے سنجیدگی سے کہا تھا۔

“شازل۔۔ سوری میرا آپ کو ہرٹ کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔”

وہ شازل کا بازو تھامتی آہستہ سے بولی تھی۔

“اٹس اوکے نورے۔۔ لیکن یاد رکھنا تم دونوں سے دور رہنا میرے لیے بھی آسان نہیں تھا۔”

وہ لب بھینچ کر بولتا اس کے کپڑے پیک کرنے لگا تھا۔

“شازل آئی نو۔۔اب آپ ناراض ہوگئے ہیں تو میں کیسے جاوں گی۔۔”

وہ شازل کا رخ اپنی طرف کرتی پریشانی سے بولی تھی۔

“نہیں ہوں ناراض بس دانین کی وجہ سے کافی پریشانی ہے اور میں نہیں چاہتا تمھیں کچھ ہو۔۔ شاہزیب تمھاری مکمل حفاظت کر سکتا ہے تبھی میں تمھیں اس کے ساتھ بھیج رہا ہوں۔۔”

اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامتے شازل نے اس کے ماتھے کو چومتے ہوئے نرمی سے کہا تھا۔

“اوکے۔۔ مجھے بتاتے رہیے گا۔۔ اور اپنا خیال رکھیے گا۔۔”

وہ گہرا سانس بھرتی بولی تھی۔جس پر شازل اس کا گال نرمی سے چھوتا تیزی سے اس کا بیگ پیک کرنے لگا تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

تین دن گزر گئے تھے پولیس اپنی پوری کوشش کر رہی تھی مگر ناکام رہی تھی۔

“روحان۔۔!! شازل۔۔!!”

روحان اور شازل جو پولیس کے ساتھ شیر زمان کی ہر پروپرٹی کی چھان بین کرکے گھر واپس آرہے تھے انھیں عسکری نے چیختے ہوئے بلایا تھا۔

“مجھے فضل زمان(سلمان) کا ایڈریس مل گیا ہے۔۔ جو تم نے نمبر دیا تھا۔ وہ اس بےوقوف نے ایک گھنٹے پہکے اون کیا ہے۔۔”

عسکری کی بات پر روحان کو اتنے دنوں بعد پہلی بار سانس آیا تھا۔

“کہاں کی لوکیشن ہے ہمیں فورا نکلنا چاہیے۔۔”

روحان نے بےصبر سے کہا تھا۔

“یہ لوکیشن یہاں سے ایک گھنٹے دور فارم ہاوس کی ہے۔۔”

عسکری نے جواب دیا۔

“ہمیں پولیس کو انفارم کردینا چاہیے۔۔”

روحان بولا تھا۔

“عسکری یہ فارم ہاوس کس کے نام ہے پتا لگوانا؟”

شازل نے اپنی بڑھی ہوئی داڑھی کھجاتے کہا تھا۔

“ویٹ۔۔”

عسکری نے بولتے ہوئے سرچ کرنا شروع کیا تھا۔

“زمان شیخ کے نام ہے۔۔”

“زمان شیخ۔۔ تو انھوں نے اپنا نام بدل کر یہ کرلیا ہے۔۔اس کی ساری پروپرٹیز نکالو۔۔”

شازل کے کہنے پر اس نے تیزی سے سرچ کیا تھا۔

“دو مزید ہیں ایک حیدر کی اپارٹمنٹ بلڈنگ میں ہے اور دوسری شہر سے باہر ہے۔۔”

“شٹ۔۔ میں حیدر پاس جا رہا ہوں۔۔ پولیس کو کال کرو روحان وہ دونوں جگہ جائیں تم اس جگہ جاو جہاں موبائل اون تھا اور عسکری تم اور بڑے پاپا دوسری ٹیم ساتھ جاو اور ایک ٹیم حیدر کی بلڈنگ میں بھیجیں اور ڈیڈ کو کہو وہ اپارٹمنٹ میں ہی رہیں اور سکیورٹی سخت رکھیں۔۔”

شازل تیزی سے وہاں سے بھاگا تھا۔

اس نے گاڑی میں بیٹھتے کال ملائی تھی۔

“پک اپ دا فون۔۔ڈیم اٹ۔۔”

وہ گاڑی کی سپیڈ بڑھاتا بولا تھا۔

“ہیلو حیدر لسن ٹو می۔۔ ڈونٹ اوپن دا ڈور۔۔”

وہ تیز آواز میں بولا تھا۔

“کیا ہوا شازل؟”

حیدر نے پریشانی سے پوچھا تھا۔

“ان کی ایک پروپرٹی تمھاری بلڈنگ میں ہے حیدر۔۔ تم سمجھ رہے ہو میری بات۔۔سلمان کا اپارٹمنٹ تمھاری بلڈنگ میں ہے۔۔ ڈونٹ اوپن دا ڈور۔۔دروازے کو اندرسے لاک لگا لو۔۔ پولیس آرہی ہے اور میں بھی آرہا ہوں۔۔ بہارے گل اور تم کسی کمرے میں چلت جاو اور اسے اندر سے لاک کر لو۔۔ جب تک میں کال نہ کروں دروازہ مت کھولنا۔۔”

شازل کی بات سنتے ہی حیدر نے تیزی سے ہر ونڈو اور دروازے کو لاک لگا دیا تھا۔ بہارے گل اس سے پوچھتی رہی کیا ہوا ہے مگر وہ بنا اسے جواب دیے صوفہ کھینچ کر اپارٹمنٹ کے دروازے کے آگے لگاتا سارے کمروں کی لائٹ اوف کرتا انھیں باہر سے لاک لگاتا خود بہارے گل کے ساتھ ایک کمرے میں جاتا اسے اندر سے لاک لگاتا خود کو اور بہارے گل کو اندر بند کرچکا تھا۔

“حیدر کیا ہوا ہے آپ مجھے ڈرا رہے ہیں۔۔”

وہ ڈرتے ہوئے بولی تھی۔

“شش۔۔ کچھ نہیں ہوا۔۔ یہاں بیٹھو۔۔شازل آرہا ہے۔۔”

حیدر نے اسے بیڈ پر بیٹھاتے اس روم کی الماری کھولتے اس میں سے گن نکالی تھی جسے دیکھ کر وہ مزید ڈر گئی تھی۔اسے لگ رہا تھا کچھ بہت برا ہونے والا ہے۔

کچھ ہی دیر بعد ان کے گھر کے دروازے پر بیل ہوئی تھی۔بہارے گل کی آنکھیں پھیل گئی تھی کمرے کے اندھیرے میں وہ حیدر ساتھ چپک کر بیٹھی تھی۔

“شش۔۔کچھ نہیں ہوگا۔۔”

“مجھے ڈر لگ رہا ہے حیدر۔۔”

وہ حیدر کو مضبوطی سے تھامتی کانپتی ہوئی بولی تھی۔

دروازے پر مسلسل بیل ہو رہی تھی اس کے بعد ایک دم سکوت چھا گیا تھا?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *