Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes NovelR50560 Professor Shah (Episode 16)
Rate this Novel
Professor Shah (Episode 16)
Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes
کلاس میں داخل ہونے سے پہلے اسے جو منظر دکھا تو وہ بری طرح جل اٹھی سامنے ہی شازل سونیا سے بات کرتا ہوا نظر آرہا تھا۔سونیا کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر نورے کا دل اس کا منہ نوچنے کو کیا تھا۔
“نورے ؟ تم آئی نہیں کل؟ اور نہ ہی میرے میسج کا جواب دیا۔۔”
اعمار کی آواز سنتی وہ اس کی جانب مڑی تھی۔
“میرا دل نہیں کر رہا تھا یونی آنے کو۔۔”
اس نے لب بھینچ کر جواب دیا ساتھ ہی کلاس میں داخل ہوتی بنا اعمار کی جانب دیکھتی آخر پر ایک لڑکی کے ساتھ موجود خالی کرسی پر جاکر بیٹھ گئی تھی۔اپنا موبائل نکال کر استعمال کرتی وہ اعمار کو مکمل طور پر اگنور کر گئی تھی جو اس سے بات کرنے کو پرتول رہا تھا۔
“تمھیں پتا ہے کل چئیر پرسن کا قاتل پکڑا گیا ہے۔۔”
اس کے آگے والی کرسی پر بیٹھتے اعمار نے اس کے علم میں اضافہ کیا تھا۔نورے کے چہرے پر حیرت واضح ہوئی تھی۔
“کون تھا؟”
اس نے بےتاثر انداز میں پوچھا تھا۔
“کوئی باہر کا بندہ ہی تھا اس کی چئیر پرسن سے ذاتی دشمنی تھی۔”
اعمار کے بتانے پر وہ سر ہلا گئی تھی شازل کے آتے ہی سب سیدھے ہوکر بیٹھ گئے تھے۔سونیا ایک طنزیہ مسکراہٹ نورے کو اچھالتی فرنٹ رو میں بیٹھ گئی تھی۔نورے نے مٹھیاں بھینچتے جلتی آنکھوں سے شازل کو دیکھا تھا جس نے ایک نگاہِ غلط بھی اس کی جانب نہیں ڈالی تھی۔اس کی رگوں میں شرارے سے دوڑنے لگے تھے دل کر رہا تھا اس کی پسٹل نکال کر اسی سے شازل کی جان لے لے۔۔
اپنی خطرناک سوچوں کو جھٹکتی وہ لیکچر کی طرف متوجہ ہوئی تھی جس کا ایک لفظ بھی اس کو سمجھ نہیں آرہا تھا۔
لیکچر ختم ہونے کے باوجود بھی وہ بیٹھی رہی تھی نظروں کا مرکز سونیا تھی جو اب اٹھ کر شازل سے بات کرنے لگی تھی۔نورے ساکت نظروں سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
“نورے چلو چلیں۔۔”
اعمار نے اسے خاموش بیٹھے دیکھ کر کہا تھا۔
“تم چلو میں آتی ہوں۔۔”
اس نے سرد لہجے میں کہا تھا۔
“لگتا ہے سونیا اور سر کا کوئی چکر چل رہا ہے۔۔”
اسے اپنے پاس سے گزرتی لڑکیوں کی سرگوشیوں نے سلگا دیا تھا۔غصے سے سفید رنگ میں سرخیاں گھلنے لگی تھیں۔ہونٹوں کو سختی سے بھینچے وہ شازل کو دیکھ رہی تھی۔
جو سونیا کے ساتھ اپنا لیپ ٹاپ اٹھائے نکل گیا تھا بنا اس کی طرف دیکھے۔۔
وہ جل ہی اٹھی تھی آنکھوں میں مرچیاں سی چبھنے لگی تھیں۔اپنا فون پکڑتی وہ گہرا سانس خارج کرتی کلاس روم سے باہر نکلی تھی جب اس کا سامنا سونیا سے ہوا تھا۔
“اوہ۔۔۔ بےبی کو غصہ آرہا ہے؟؟”
وہ نورے کو دیکھتی طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بولی تھی۔
“تم کبھی بھی شازل کو حاصل نہیں کرپاو گی۔۔”
سونیا کی بات پر وہ ہنس پڑی تھی۔سونیا نے اچنبھے سے اسے دیکھا تھا جس کا شاید دماغ گھوما ہوا لگ رہا تھا۔
“تم لیٹ ہوگئی ہو تھوڑا۔۔مجھے اسے حاصل کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔۔وہ پہلے ہی میرے پیچھے پاگل ہے۔۔”
نورے تمسخرانہ مسکراہٹ کے ساتھ بولتی اسے جلا گئی تھی۔
“شٹ اپ۔۔ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔شازل صرف مجھے پسند کرتا ہے۔۔”
سونیا چیخ کر بولی تھی۔
“ہاہاہا۔۔ نائس جوک۔۔”
وہ ہنستے ہوئے اچانک سنجیدہ ہوتی زہر خند لہجے میں پھنکاری تھی۔
“میرے شوہر سے دور رہو۔۔ورنہ اپنے ہاتھوں سے تمھاری سانسیں بند کردوں گی۔۔یہ نورے شازل خان کا خود سے وعدہ ہے۔۔جو بھی ہمارے بیچ آئے گا اسے میں ختم کردوں گی۔۔”
اس کے لہجے میں چھپا پاگل پن ، اس کا جنونی انداز سونیا کو ڈرا گیا تھا۔نورے اس کے شاکڈ چہرہ دیکھ کر مسکراتی ہوئی وہاں سے سیدھا شازل کے آفس کی جانب بڑھ گئی تھی تاکہ اپنے شوہر کو بھی نکیل ڈال سکے۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
بنا ناک کیے وہ دھڑلے سے شازل کے آفس میں داخل ہوئی تھی جو اسی کی تاک میں تھا وہ ٹیبل پر جھکا سگریٹ کا پیکٹ اٹھاتا سٹل ہوا تھا۔ساتھ ہی اسے چھوڑتے وہ نورے کی جانب مڑا تھا جو بھپری شیرنی کی مانند اس پر جھپٹنے کے لیے تیار تھی۔شازل کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری تھی جس پر نورے جل بھن اٹھی تھی۔غصے کی شدت سے وہ کانپنے لگی تھی۔
“خبر دار جو مجھے جیلس کروانے کی کوشش کی۔۔”
وہ انگلی اٹھاتی اس کے سینے پر مارتی غصے کی شدت سے سرخ پڑتی چیخی تھی۔اس کے انداز میں جنونیت تھی۔
“شی از جسٹ مائی سٹوڈنٹ۔۔اور تمھیں کیوں فرق پڑ رہا ہے؟ میں جس سے چاہے بات کروں۔۔”
وہ اس کی جیلس ہونے پر محظوظ ہوتا بولا تھا۔نورے نے زور سے اپنی مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔
“میں اچھے سے سمجھ رہی ہو آپ کیا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔”
وہ چیخ کر بولتی پیچھے ہٹنے لگی تھی جب شازل نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے اسے دور ہونے سے روکا تھا۔
“میں بھی تمھارے غصے کو سمجھ رہا ہوں۔۔”
وہ اس کی جانب جھکتا ٹھہر کر بولا تھا۔
“تم جیلسی فیل کر رہی ہو۔۔”
وہ لب بھینچ کر اپنی مسکراہٹ چھپا کر بولتا نورے کو سخت زہر لگا تھا۔
“آ۔۔آپ بات بدلنے کی کوشش بھی مت کیجیے گا۔۔۔”
وہ گھبراتے ہوئے انگلی اٹھا کر چیختے ہوئے بولی تھی۔اس کے جذبوں کی شدت محسوس کرتا وہ مغرور سا ہوگیا تھا۔اتنی شدت سے چاہے جانے کے احساس سے نے رگ رگ میں سرور سا بھر دیا تھا۔
اس کے حسین چہرے کو دیکھتے شازل کے ہونٹ ہلکے سے اوپت اٹھے تھے۔
“تم پر شدت سے پیار آرہا ہے مجھ سے زرا بچ کر رہو۔۔”
وہ جھک کر نورے کان میں گھمبیر لہجے میں بولتا اسے پلکیں جھکانے پر مجبور کر گیا تھا۔
“ایک بات یاد رکھیے گا۔۔”
اس نے آنکھیں اٹھا کر شازل کی گہری نیلی آنکھوں میں دیکھا تھا۔
“آپ میری ملکیت ہیں اور آپ کے معاملے میں بڑی خود غرض لڑکی ہوں۔”
اس نے شازل کے دل پر انگلی رکھتے دھیمے مگر مضبوط لہجے میں کہا تھا۔وہ پل میں اس کے لفظوں کے سحر میں قید ہوا تھا ہونٹوں پر مسکراہٹ گہری ہوئی تھی۔
“دوبارہ سونیا کے پاس جانے کی کوشش بھی مت کیجیے گا اس کی ہڈیوں کا سرمہ بنا دوں گی۔۔”
وہ اس کی مسکراہٹ کو دیکھتی چبا چبا کر بولی تھی۔مقابل کے دبنگ اظہار نے روم روم مہکا دیا تھا۔نورے کے بالوں میں ہاتھ ڈالتے اس نے جھک کر اس کے ادھ کھولے ہونٹوں کو شدت سے قید کرتے اس کی سانسیں بند کی تھی۔
وہ غصے سے اس کے سینے پر مکے مارتی اسے دور ہٹانے کی کوشش کر رہی تھی جو ہلنے کے لیے بالکل بھی تیار نہ تھا۔نورے کو اپنی سانسیں بند ہوتی محسوس ہورہی تھیں۔اس کی شدت سے آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھاتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔
اس کی حالت پر رحم کرتے شازل نے اس کی سانسوں کو آزاد کیا تھا وہ گہرے گہرے سانس کھینچتی فورا اس سے دور ہٹتی پیچھے دیوار سے جالگی تھی۔سینے پر ہاتھ رکھے سانس بھرتے اس کی نظر شازل پر گئی تھی جو مسکرا رہا تھا۔نورے شرمندہ سی سرخ چہرہ کے ساتھ نظریں پھیرتی تیزی سے وہاں سے نکل گئی تھی مگر اپنے پیچھے سے شازل کا قہقہہ سن کر از کا خون مزید جل اٹھا تھا۔
اس کے آفس سے کچھ فاصلے پر کھڑی سونیا اس کا سرخ چہرہ اور ہونٹ دیکھتی غصے سے مٹھیاں بھینچ گئی تھی۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“تم کہاں گم ہوگئی تھی؟”
اعمار نے اسے دیکھتے ہی پوچھا تھا۔
“کہیں نہیں۔۔”
وہ اپنا دوپٹہ کندھے پر ٹھیک کرتے ہوئے بولی تھی۔
“تمھارے چہرے کو کیا ہوا ہے؟ ایسا لگ رہا ہے کسی سے تھپڑ کھا کر آئی ہو۔۔”
اعمار کی بات سنتے اس نے جھٹ سے اپنے گالوں پر ہاتھ رکھ لیے تھے۔
“ک۔۔کچھ نہیں ہوا۔۔”
وہ اسے گھورتے ہوئے بولی تھی۔شرمندگی سے گال کچھ مزید سرخ پڑ گئے تھے۔
“اچھا چھوڑو یہ بتاو ہماری ویلکم پارٹی ہے تم آوگی؟”
اعمار نے گھبرا کر اس کے ساتھ چلتے بات بدلتے پوچھا تھا۔
“کب ہے؟”
اس نے سرسری انداز میں پوچھا تھا۔اس کے بات بدلنے پر اسے سکون کا سانس لیا تھا۔
“نیکسٹ ویک اینڈ پر ہے۔۔”
اعمار نے بتایا۔۔
“نہیں میں نہیں آوں گی۔۔”
اس نے ناک چڑھاتے جواب دیا تھا۔
“سارے پروفیسرز آرہے ہیں پارٹی میں پروفیسر خان بھی آرہے ہیں تم نہیں آو گی؟”
اس نے حیرت سے پوچھا تھا۔وہ شازل کا نام سن کر ٹھٹھکی تھی۔
“میں سوچ کر بتاوں گی۔۔”
وہ بات ختم کرتے ہوئے بولی تھی۔
اگلا سارا ویک شازل اپنے کاموں میں مصروف رہا تھا اور وہ بھی اپنے پیپرز کے لیے تیاری کرنے لگی تھی جو پیپرز کے ایک ہفتے بعد مگر مجال تھا جو اسے کچھ سمجھ آجاتا۔۔
“اففف۔۔ مصیبت لگتا ہے فیل ہوکر ہی رہوں گی۔۔”
وہ غصے سے کتابیں پلٹتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔اپنے لیے چائے بنانے کا سوچتے وہ نیچے چلی آئی تھی۔سب لوگ آرام سے اپنے اپنے کمروں میں تھے۔
وہ چائے بناتی اپنے لیے سینڈوچ بناتی اور کچھ سنیکس لیتی کمرے میں آگئی تھی۔وہ مزے سے چائے پیتی سنیکس کھاتی لطف اندوز ہورہی تھی جب اچانک دروازہ کھلنے پر اس کا دھیان دائیں طرف گیا تھا جہاں شازل کو دیکھ کر اس نے آنکھیں گھمائی تھیں۔
“آپ کو کوئی اور کام نہیں ؟ جب دیکھیں منہ اٹھا کر چلے آتے ہیں۔۔اور آکر یہاں میرے بھائی یا باپ کے ساتھ لڑ کر میری ذات کا تماشا بناتے ہیں۔۔”
وہ شازل کو دیکھتی ہی طنزیہ بولی تھی۔شاہزیب کے بعد شازل سے وہ اب اس معاملے کے متعلق بات کرنا چاہتی تھی۔
“کوئی اپنے شوہر سے ایسے بات کرتا ہے ؟”
وہ اس کے ساتھ بیٹھتا اس کی چائے کا آدھا کپ اٹھاتا ایک ہی گھونٹ میں اپنے اندر اتار چکا تھا۔نورے منہ کھول کر دکھی سی اپنے چائے کے خالی کپ کو دیکھنے لگی تھی جو اسے منہ چڑھا رہا تھا۔
“آپ سمجھتے کیا ہیں خود کو؟”
وہ چیخ کر غصے سے گلابی ہوتی بولی تھی۔
“تمھارا شوہر۔۔”
لاپرواہ سے انداز میں جواب دیا گیا۔
وہ اس کے انداز پر سلگ اٹھی تھی۔
“آپ کو کسی نے یہ نہیں بتایا دوسرے کی چیزوں کو بنا پوچھے ہاتھ نہیں لگانا چاہیے۔۔”
وہ دبا دبا سا چیخی تھی۔
“میں نے کونسا کسی غیر کی چیز کو ہاتھ لگایا ہے۔۔تمھاری چائے پی ہے اور ویسے بھی تم میری ہی ہو تو تمھاری چائے بھی میری ہوئی۔۔”
وہ صوفے سے ٹیک لگاتا سکون سے بولتا اسے جلا گیا تھا۔
“میرا سر بہت درد کر رہا ہے جاو اچھی بیوی کی طرح میرے لیے ایک کپ چائے کا بنا کر لاو۔۔”
وہ اسے دوبارہ منہ کھولتے دیکھ کر اس کے گلابی ہونٹوں پر انگلی رکھتا خاموش کروا گیا تھا۔
“آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟؟”
وہ سینے پر ہاتھ باندھتی پوچھ رہی تھی۔شازل نے بےساختہ اس کا بازو پکڑتے اس کے زخم دیکھے تھے جو اب کافی حد تک ٹھیک ہو گئے تھے۔
“کیا میں تم سے ملنے نہیں آسکتا ؟”
وہ اس کے چہرے پر پھونک مارتے ہوئے پوچھنے لگا تھا۔
“نہیں اس کی ضرورت نہیں جب آپ یونیورسٹی میں میری شکل دیکھ لیتے ہیں۔۔”
وہ سینڈوچ اٹھا کر کھانے لگی تھی جب اس کے ہاتھ سے اچکتے وہ بھی شازل کھا چکا تھا۔
“شازل خان!!!”
وہ اپنا سینڈوچ ختم ہوتے دیکھ کر اب کی بار اٹھتے ہوئے چیخی تھی۔شازل نے اپنی مسکراہٹ دباتے اس کی کلائی سے اسے اپنی جانب کھینچا تھا وہ کٹی ڈالی کی طرح اس پر آگری تھی۔
“ایک سینڈوچ ہی تھا کیوں چیخ کر میرا سر درد بڑھا رہی ہو؟”
وہ اس کو قابو کرتا سنجیدگی سے بولا تھا وہ اس کے اوپر گری شرمندہ سی لب بھینچ گئی تھی۔
“مجھے بھوک لگی ہوئی تھی۔”
وہ بچوں کی طرح منہ پھولاتے ہوئے بولی تھی شازل کو اس پر بےساختہ پیار آیا تھا۔
“اب میرے لیے چائے بنانے جارہی ہو تو اپنے لیے بھی کچھ کھانے کو بنا لینا۔۔میں تمھاری سٹڈیز میں مدد کرنے کے لیے آیا ہوں۔”
اس کی ناک پر لب رکھتے وہ اس پر گرفت ڈھیلی کر گیا تھا۔نورے اپنے خشک ہونٹوں کو تر کرتی اس کی گرفت سے آزادی پاتی فورا کمرے سے نکل گئی تھی۔
کیچن میں کھڑے ہوکر اس کے لیے چائے بناتی وہ خوب اس کو صلوتیں سنا رہی تھی۔اس نے فریزر میں پڑے کچھ نگٹس اور کباب نکال کر فرائی کر لیے تھے چونکہ اسے مزید بھوک لگ گئی تھی۔
“یہ آپ کے لیے چائے۔۔”
وہ اس کے سامنے چائے رکھتے ہوئے بولتی اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھتی خود بھی چائے پینے لگی تھی۔
“ایسے ہی شوہر کی خدمت کیا کرو ثواب ملے گا۔۔”
وہ چائے پیتا نورے کو شکریہ کی جگہ یہ بولتا اسے جلا گیا تھا۔نورے نے چائے ہیتے غصے سے منہ میں کباب اور نگٹس ٹھوسنا شروع کیے تھے۔
“کبھی بیوی کی بھی خدمت کرلیا کریں۔۔”
وہ چائے ختم کرتی منہ بنا کر بولی تھی۔
“اپنی نالائق بیوی کی خدمت ہی کرنے آیا ہوں اس کی پڑھائی میں مدد کرکے۔۔”
وہ چائے ختم کرتا بولا تھا۔
“میں تھک گئی اب مجھے کچھ نہیں پڑھنا جائیں۔۔”
وہ بارہ بجے کا وقت دیکھتی اپنی جمائی روکتی بولی تھی۔
“کل میں جلدی آوں گا پہلے ہی اپنی نیند پوری کر لینا ورنہ مجھے نیند اور ہوش دونوں اڑانے آتے ہیں۔۔”
وہ کھڑا ہوتا اس کے چہرے پر جھک کر مخمور لہجے میں بولتا اسے ساکت کر گیا تھا۔وہ مسکرا کر اس کی حالت سے محظوظ ہوتا وہاں سے نکل گیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“شازل کیا تم نے کسی کو وقار محمود کے قتل کی ذمہ داری لینے کا کہا تھا؟”
وہ عسکری اور حیدر سلطان کے ساتھ اس وقت اپارٹمنٹ میں موجود تھا۔جب عسکری نے پوچھا تھا۔
“ایم این اے شفیق رضوان نے یہ کروایا ہے اسے پتا تھا کیس مزید چلا تو سب کے کالے چٹھے کھل جائیں گے۔۔”
وہ لب بھینچ کر سگریٹ سلگاتا بولا تھا۔
“اب آگے کیا کرنا ہے کون ہے ہمارا اگلا ٹارگٹ؟”
حیدر نے سگریٹ کا دھواں ہوا میں چھوڑتے شازل کی جانب دیکھتے پوچھا تھا۔
“اس نے مجھے تین لوگوں کا نام بتایا تھا دو لوگوں کے نام ابھی بھی مجھے نہیں پتا۔۔ان تینوں کو ٹارگٹ کریں گے ابھی وہ لوگ چوکنا ہوں گے ہمیں سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا۔۔”
“اپنی بہن کے مجرموں کو میں تڑپا تڑپا کر ماروں گا۔۔”
وہ ختم ہوئی سگریٹ مسلتا جنونی انداز میں بولا تھا اپنی چھوٹی شہزادی بہن کا سوچتے ساری یادیں اور زخم تازہ ہوگئے تھے۔
“سب سے پہلے شفیق رضوان کے بھیتجے فیاض کی انفارمیشن نکالو اس کا کام ختم کریں گے باقیوں کو ابھی تھوڑی دیر مزید جینے دو۔۔”
شازل کے بولنے پر عسکری نے سر ہلایا تھا۔
“حیدر میں چاہتا ہوں تم اس فیاض کی پل پل کی خبر رکھو وہ کہاں جاتا ہے؟ کیا کرتا پے ؟کس کو پسند کرتا ہے ؟کس سے تعلق ہے؟ مجھے ہر چھوٹی سے بڑی انفارمیشن چاہیے اور دھیان رہے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے اسے موت میں اپنے ہاتھوں سے دوں گا۔۔اور عسکری تم اس کی ساری کالز اور چیٹ سمیت اس کے گھر کے کیمروں کو ہیک کرلوں اس کی پل پل کی انفارمیشن مجھے چاہیے ایک بھی چیز مس نہیں ہونی چاہیے۔۔”
شازل نے سپاٹ لہجے میں دونوں کو سمجھایا اور بتایا تھا۔
“اوکے باس۔۔ میں کل سے کام سٹارٹ کرتا ہوں۔۔”
عسکری نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے جواب دیا تھا۔
“اور تم اپنی جوب کب چھوڑ رہے ہو؟”
حیدر سلطان نے اس سے پوچھا تھا۔
“میں اگلے مہینے یہ جوب چھوڑ دوں گا۔۔اور عسکری ٹیم سے کہو پتا لگوائیں ارسل نے کس کو نورے کے بارے میں بتایا تھا؟ اور دو گارڈز نورے کی حفاظت کے لیے یونیورسٹی سے لے کر اس کے گھر تک سائے کی طرح اس کی حفاظت کرنے چاہیے۔۔خیال رکھنا وہ نورے کی نظروں میں نہ آئیں ورنہ کیا پتا غصہ میں انھیں ہی حفاظت کی ضرورت پڑ جائے۔۔”
وہ بولتا ہوا آخر میں نورے کا سوچتا ہلکا سا مسکرا اٹھا تھا۔
“ویسے شازل ایک بات ہے۔۔تم اور تمھاری بیوی دونوں ایک جیسے ہی ہو پاگل۔۔”
حیدر سلطان کے بولنے پر عسکری نے بمشکل اپنی مسکراہٹ روکی تھی جبکہ شازل نے اپنے پاس پڑا کشن اٹھا کر اس کے منہ پر مارا تھا جس پر وہ ہنس پڑا تھا۔
“شٹ اپ زیادہ بکواس مت کیا کرو۔۔”
شازل نفی میں سر ہلاتا دونوں پر ایک نظر ڈالتا روم میں چلا گیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
آج ان کی ویلکم پارٹی تھی جو چئرپرسن کے قتل کے بعد لیٹ ہوگئی تھی۔اس کا پارٹی پر جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر اسے اعمار سے خبر ملی تھی شازل بھی پارٹی پر موجود ہوگا تب ہی وہ جانے کے لیے راضی ہوئی تھی۔شاہزیب سے وہ پہلے ہی جانے کی پرمیشن لے چکی تھی جس پر اب وہ سکون سے تیار ہو رہی تھی۔
پچھلے ایک ہفتے سے وہ اس کی پڑھائی میں مدد کر رہا تھا مگر دو دونوں سے اس کا کچھ اتا پتا نہیں تھا۔وہ اسے پڑھانے بالکل بھی نہیں آرہا تھا۔اور یونیورسٹی سے بھی غائب تھا اسے امید تھی شاید آج وہ وہاں موجود ہو۔۔
وہ تیار ہوتی خود پر پرفیوم چھڑک رہی تھی آج اس کا ارادہ شازل کو ہوش اڑانے کا تھا تبھی سہج سہج کر تیار ہوئی تھی۔اچانک کسی کی موجودگی اپنے پیچھے محسوس کرکے اس کی سانسیں ساکت ہوئی تھیں۔
“کیا میرے جنون کو برداشت کر پاو گی۔”
اپنے کان کے بےحد پاس شازل کی سرگوشی سن کر وہ لرز اٹھی تھی۔دل کی تیز ہوتی دھڑکن کانوں میں دھک دھک کرتی ڈھول کی مانند بج رہی تھی۔
بلیک میکسی میں جوڑے کی شکل میں بال باندھے ہلکے سے میک اپ میں وہ بےحد پرکشش لگ رہی تھی۔کالی گہری آنکھوں میں سرخ ڈورے اس کی آنکھوں کی کشش کو مزید بڑھا رہی تھی۔
“اصل سوال تو یہ ہے کیا آپ میری جنونی محبت برداشت کرپائیں گے؟”
مقابل کی جانب مڑتے اس نے ائبرو اچکاتے پوچھا تھا۔اس کی کمر میں بےساختہ ہاتھ ڈال کر شازل نے اسے اپنے قریب کھینچتے اس کی گردن میں منہ چھپاتے اس کی خوشبو خود میں اتاری تھی۔
“اتنا تیار کس کے لیے ہوئی ہو؟”
بنا نورے کے سوال کا جواب دیے اس نے نیا سوال بھاری گھمبیر آواز میں پوچھا تھا۔نورے نے بےساختہ اس کے کھینچنے پر اپنا ہاتھ اس کے سینے پر رکھ دیا تھا۔
دھیرے سے چلتی اس کی دھڑکن کو محسوس کرتی اور شازل کا لمس اپنی گردن پر محسوس کرتی وہ جی جان سے کانپ اٹھی تھی۔اس کی انگلیاں اپنی کمر پر سرکتی محسوس کرکے نورے کا سانس سوکھ گیا تھا۔
شازل نے اس کی گردن پر ناک رگڑتے شدت سے اس کے کندھے ہر موجود تل کو دیکھتے اسے چوما تھا۔نورے نے بےساختہ اس کی شرٹ اپنی مٹھی میں دبوچ لی تھی۔
“آپ کے لیے تو بالکل بھی نہیں ہوئی۔۔”
اس کا دھیان ہٹانے کے لیے وہ تیز ہوتے تنفس کو بمشکل برقرار رکھے بول رہی تھی۔شازل اس کی گردن پر اپنا لمس چھوڑتا ایک دم ساختہ ہوا تھا۔
اس کی انگلیاں نورے کی کمر سے سرکتی اس کے بالوں تک گئی تھی۔جھٹکے سے اس کے جوڑے میں بندھے بال دبوچ کر شازل نے اس کی گردن سے منہ اٹھاتے اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔
“تم کسی کے بارے میں سوچنے کی کوشش بھی مت کرنا نورے۔۔”
دوسرا ہاتھ اس کی کمر سے ہٹاتے شازل نے اپنی گن نکال کر اس کی گردن پر رکھ دی تھی۔نورے بےخوف انداز میں اس کی آنکھوں میں دیکھتی مسکرائی تھی۔
“کیوں ؟ جب آپ دنیا جہاں کی لڑکیوں کے ساتھ گھوم سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں گھوم سکتی؟”
وہ سلگتے لہجے میں بولی تھی۔شازل نے اس کی سرخ ڈورے والی کالی آنکھوں کو گھور کر دیکھا تھا۔جس میں جنونیت اور پوزیسیونس صاف دکھائی دے رہی تھی۔
“ڈونٹ۔۔ایسا سوچنا بھی مت۔۔ساری دنیا تہس نہس کردوں گا۔۔اگر اعمار سے تمھیں بات کرنے دیتا ہوں تو اسے میرا ظرف سمجھو ورنہ تمھارے ارد گرد آج کی پارٹی میں کوئی بھی لڑکا دکھائی دیا تو اس کے موت کی ذمہ دار تم ہوگی جانِ من۔۔”
وہ اس کی صبیح پیشانی کو چومتا شدت سے بولتا اسے ڈرنے پر مجبور کر گیا تھا۔
“میرے سارے بال خراب کر دیے ہیں آپ نے۔۔اب چھوڑ دیں۔۔”
شازل کی نظر بےساختہ اس کے جوڑے پر گئی تھی جو شاید ڈھیلا تھا تبھی کھل گیا تھا۔نورے نے ملامتی نظروں سے اسے دیکھا تھا۔
“اتنا تیار ہونے کی کوئی ضرورت نہیں سپملی بالوں کو پونی ڈال لو۔۔”
شازل کے مشورے نے اسے مزید طیش دلایا تھا۔
“آپ تو چاہتے ہی یہ ہیں۔۔جان بوجھ کر میرے بال خراب کیے ہیں نہ ؟”
اس کے بولنے پر شازل نے بھنویں بھینچتے سپاٹ نظروں سے اسے دیکھا تھا۔اس کے کوئی جواب نہ دینے پر اس سے دور ہٹتے نورے نے اپنے بالوں کو کھول کر دوبارہ جوڑا بنانے کی کوشش کی تھی جس میں وہ بری طرح ناکام ہوئی تھی پھر غصے سے شازل کو گھورتے اس نے بالوں کو کسی بھی طرح ڈھیلے انداز میں باندھ لیا تھا شکر تھا آگے سے اس کا ہئیر سٹائل ٹھیک تھا۔
“دوبارہ میرے بالوں کو ہاتھ لگانے کی کوشش بھی مت کیجیے گا۔۔”
وہ سرخ چہرے کے ساتھ بولی تھی۔
“اچھا۔۔۔چلو اب ہم لیٹ ہو رہے ہیں تم لڑکیاں تیار ہونے میں گھنٹوں لگا دیتے ہو۔۔”
اس کے جواب پر نورے کا منہ کھل گیا تھا۔جو بلیک تھری پیس سوٹ میں انتہائی ہینڈسم اور ڈیشنگ لگ رہا تھا مگر نورے کا دل کر رہا تھا اس کے بال نوچ لے۔۔جو اپنی غلطی کا ملبہ اس کے سر ڈال رہا تھا۔
“میں ڈرائیور کے ساتھ چلی جاوں گی آپ جائیں۔۔”
وہ لب بھینچ کر منہ پھولا گئی تھی۔شازل نے بغور اسے دیکھا تھا۔
“سیدھی طرح چلو گی یا اپنے انداز میں اٹھا کر لے چلوں؟”
اس کی دھمکی پر وہ ہار مانتی اپنا ہینڈ بیگ لیتی اس کے ساتھ چل پڑی تھی۔
