Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Professor Shah (Episode 18)

Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes

اس نے اٹھ کر بیٹھتے شازل کو کال ملائی تھی جو اس بار پہلی ہی بیل میں اٹھا لی گئی تھی۔

“پانچ منٹ ہیں آپ کے پاس شازل خان۔۔یہاں پہنچ جائیں۔۔۔ورنہ انجام کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔۔”

جنونی انداز، بکھرا حلیہ ، سرخ آنکھیں وہ ہوش و حواس میں نہیں لگ رہی تھی۔اس کے لہجے میں چھپا پاگل پن وہ اپنی مصروفیات میں سمجھ نہیں پایا تھا۔

“یہ کیا پاگل پن ہے نورے۔۔۔ڈونٹ کال می اگین آئی ایم ورکنگ۔۔”

شازل نے جھنجھلا کر کہا تھا۔

“چار منٹ۔۔”

وہ دھیرے سے سائیڈ ٹیبل کا دراز کھولتی اس میں سے ایک فولڈ کاغذ نکال چکی تھی۔جو اس نے بیت پہلے یہاں چھپا کر رکھا ہوا تھا۔

“میں نہیں آرہا نورے۔۔۔”

اس نے اس بار خاصہ زور دے کر کہا۔۔

“تین منٹ۔۔”

وہ کاغذ کو کھولتی بولی تھی۔نظریں سامنے لگے کلاک پر ہی تھیں۔۔

“سٹاپ اٹ نورے۔۔”

شازل غصے سے بولا تھا۔

“دو منٹ۔۔”

اس نے کاغذ سے بلیڈ نکالتے کہا تھا۔

“میں کال بند کر رہا ہوں میرے پاس تمھاری ان فضول باتوں کے لیے وقت نہیں ہے۔۔”

شازل نے سرد لہجے میں بولتے ہی کال کاٹ دی تھی۔جب ساتھ ہی نورے نے اسے ویڈیو کال کی تھی۔

اپنا غصہ ضبط کرتے اس نے کال پک کی تھی۔۔

“کیا چاہتی ہو نورے تم ؟ ڈیم اٹ ایک کام بھی سکون سے نہیں کرنے دے رہی۔۔”

وہ اکھڑے لہجے میں بولا تھا۔وہ جتنا اسے کچھ دنوں سے خود سے رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔وہ آج اتنا ہی ضد کر رہی تھی۔

نورے کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری تھی۔اس نے موبائل کو تکیے کے سہارے رکھ کر ویڈیو کیمرے کا رخ اپنی طرف کر لیا تھا۔

“تیس سیکنڈ ہیں آپ کے پاس۔۔ ورنہ میں خود کو ختم کرلوں گی۔۔”

اس نے بلیڈ اپنی کلائی پر رکھا تھا۔شازل جو اسے کھڑی کھڑی سنانے لگا تھا۔وہ ساکت رہ گیا تھا۔

“تمھاری جان میں خود اپنے ہاتھوں سے لوں گا۔۔خبردار جو تم نے خود کو نقصان پہنچایا نورے۔۔”

وہ اس کے پاگل پن کو دیکھتا تیزی سے اپنی کار کی طرف بھاگا تھا۔۔

“آپ کچھ نہیں کر پائیں گے۔۔”

اس نے اذیت سے ہنستے بلیڈ کو ہلکے سے اپنے بازو پر رکھا تھا جس سے بازو پر دباو پڑنے سے تیز بلیڈ اس کی جلد کو چیر گیا تھا۔ہلکی خون کی لکیر نکلتی اس کے بازو پر بہہ گئی تھی۔

“نورے آئی سوئیر میں تمھاری جان اپنے ہاتھوں سے نکالوں گا۔۔”

وہ گاڑی فل سپیڈ سے ڈرائیو کرتا دھاڑا تھا۔ غصے سے اس کی رگیں پھول گئی تھیں۔

دل تو کر رہا تھا اس پاگل دیوانی کا گلا خود اپنے ہاتھوں سے دبا دے۔۔اور جتنا وہ غصے میں تھا ناجانے کر بھی ڈالتا۔۔

“آپ کی کھوکھلی دھمکیوں سے مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔”

وہ فون میں چیخی تھی۔شازل نے غصے سے مٹھیاں زور سے بھینچ لی تھیں.۔

“آج تمھیں ان سب دھمکیوں کو سچ کرکے دکھاوں گا نورے شازل خان۔۔جسٹ ویٹ اینڈ واچ۔۔”

وہ سرد سپاٹ لہجے میں بولتا نورے کو ڈرا گیا تھا۔نورے کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوتی محسوس ہوئی تھی۔

وہ شازل کی بات سنتی کال کاٹتی بلیڈ سائیڈ پر رکھتی آرام سے اسے بےسکون کرکے لیٹ گئی تھی۔

شازل کی لاتعداد کالز اسے آرہی تھی مگر مجال تھی جو اس نے ایک بھی پک کی ہو دوسری طرف شازل کا پریشانی سے برا حال تھا۔

وہ پچھلے دنوں سے فیاض پر باذاتِ خود نظر رکھے ہوئے تھے وہ نورے سے اس کے دور تھا اور کوئی رابطہ نہیں رکھ رہا تھا تاکہ وہ محفوظ رہے اس کی وجہ سے نورے کو کوئی نقصان نہ پہنچے مگر وہ پگلی کہاں سمجھنے والی تھی۔اسے تو یہ ہی لگ رہا تھا وہ اسے چھوڑ کر چلا گیا ہے۔۔

اس نے زندگی میں شاید ہی کبھی اتنی ریش ڈرائیونگ کی ہوگی۔۔جتنی وہ اس وقت کر رہا تھا۔فون کان سے لگائے وہ بار بار نورے کو کال ملا رہا تھا مگر دوسری جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہو رہا تھا۔پریشانی سے اس کی ماتھے کی رگیں پھول گئی تھیں۔

آدھے گھنٹے کا سفر اس نے کیسے پورا کیا تھا یہ صرف وہ ہی جانتا تھا تھا اس نے پاس شاہزیب کا بھی نمبر نہیں تھا ورنہ وہ یقینا اسے کال کرکے فورا نورے کے پاس جانے کا بول دیتا۔۔

ان کے گھر کے سامنے گاڑی روکتے وہ بنا کار کو بند کیے دروازہ کھولتے اندر بھاگا تھا۔شاہزیب اور باقی سب گھر والے لاونچ میں بیٹھے نورے کے بارے میں ہی بات کر رہے تھے جب شازل کو بھاگ کر آتے دیکھ کر ایک دم کھڑے ہوئے تھے۔اس کے چہرے کا اڑا رنگ دیکھ کر شاہزیب کو کسی انہونی کا احساس ہوا تھا۔

شازل بنا کسی کی طرف دیکھےے سیدھا اوپر نورے کے کمرے کی جانب بھاگا تھا۔نورے کے کمرے کے پاس پہنچتے ہی اس نے جھٹکے سے دروازہ کھولا تھا۔نورے دروازہ کھلنے کی آواز پر فورا اس جانب مڑی تھی۔شازل نے اسے صحیح سلامت دیکھ کر ایک گہری سانس خارج کی تھی۔

” کیا ہوا ہے تم پاگلوں کی طرح کیوں بھاگ کر آئے ہو؟”

اپنے پیچھے سے شاہزیب کی آواز سن کر وہ اس کی جانب مڑا تھا۔

“میں کچھ دیر اپنی بیوی سے اکیلے بات کرنا چاہتا ہوں۔۔”

وہ شاید پہلی بار اس سے اتنی تمیز سے بول رہا تھا۔

“اوکے۔۔مگر نورے کو نقصان پہنچانے کا سوچنا بھی مت۔۔”

شاہزیب انگلی اٹھا کر بولتا ایک نظر نورے پر ڈالتا باہر نکل گیا تھا۔اگر اس نے نورے کو اس معاملے میں نہ پڑنے کا وعدہ نہ کیا ہوتا تو شاید وہ کبھی بھی شازل کو یوں اکیلے میں اس سے بات کرنے نہ دیتا۔۔

شاہزیب کے باہر نکلتے ہی شازل نے دروازہ فورا اندر سے لاک کیا تھا۔نورے اس کا خطرناک موڈ دیکھتے سیدھی ہوکر بیٹھ گئی تھی۔شازل دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا اس کی جانب بڑھتا گہری نظروں سے اس کا جائزہ لے رہا تھا۔

“یہ حالت کیوں بنا رکھی ہے؟ “

انتہائی سنجیدگی سے پوچھا گیا تھا۔نورے نے بولنے کے لیے منہ کھولا تھا مگر شازل کی طرف دیکھتی وہ خاموش ہوگئی تھی۔

“میرے سوال کا جواب دو۔۔”

شازل نے زور سے دیوار میں مکہ مارتے پوچھا تھا۔

“م۔۔م۔۔مجھے س۔۔سونیا کی وجہ سے یونیورسٹی سے سسپینڈ کردیا گیا ہے می۔۔میری ساری محنت ضائع چلی گئی۔۔”

وہ کانپتی آواز میں بولی تھی۔شازل نے سختی سے لب بھینچتے دو قدم پیچھے لیے تھے۔

“کھڑی ہو۔۔”

اس کے بولنے پر نورے ویسے ہی بیٹھی رہی تھی۔شازل نے اسے بازو سے پکڑتے کھڑا کیا تھا۔

“یہ سب پاگل پن اس وجہ سے تھا؟”

اس نے نورے کا چہرہ دبوچتے پوچھا تھا۔راستے میں جو اس کی حالت تھی وہ شاید کبھی لفظوں میں بیان نہ کر پاتا۔۔۔

“ن۔۔نہیں۔۔”

وہ شازل کی سرخ آنکھوں میں دیکھتی نفی میں سر ہلا گئی تھی۔

“پھر کیا وجہ تھی؟”

اس نے نورے کی آنکھوں سے آنکھیں ملاتے پوچھا تھا۔

“آپ کو میری کوئی فکر نہیں ہے۔۔اتنے دنوں سے غائب تھے ایک بار بھی کال نہیں کی اور آج جب میں نے آپ کو اپنی پریشانی بتانے کی کوشش کی آپ نے ڈانٹ کر کال بند کردیا اس وقت جتنی تکلیف مجھے ہوئی اس کا اندازہ آپ نہیں لگا سکتے۔۔”

وہ رونے سے سوجی آنکھوں سے شازل کو دیکھتی ڈٹ کر بولی تھی۔

“صحیح۔۔تو کیا جب میں مصروف ہوں گا تو مجھ پر فرض ہے تمھاری کال پک کرنا تم سے محبت بھری باتیں کرنا۔۔نکل آو اس فیز سے نورے۔۔میرے پاس اتنا فضول وقت نہیں ہے میں تمھارے پاس بیٹھ کر محبت بھری باتیں کروں تمھارے ناز نخرے اٹھاوں۔۔”

وہ سخت غصے میں لگ رہا تھا۔اس کی باتوں نے نورے کو شدید تکلیف پہنچائی تھی۔

“میں نے کبھی ایسی کوئی ڈیمانڈ نہیں کی۔۔”

وہ شازل کے خاموش ہونے پر چیخ کر بولی تھی۔

“آپ کا میری زندگی میں آنا میری لیے سب سے بڑی سزا ہے۔۔”

وہ شازل کی طرف دیکھتی چیخی تھی۔

“بلیڈ کہاں ہے؟”

شازل نے سرد لہجے میں پوچھا تھا۔نورے خاموش ہی رہی تھی۔شازل نے اسے سائیڈ کرتے بیڈ کے سائیڈ ٹیبل سے کاغذ نکالا تھا اسے تیزی سے کھولا تھا جس میں سے چند بلیڈ نکلے تھے۔نورے آنکھیں پھیلائے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔جو بلیڈ تھامے اس کی جانب بڑھی تھی۔

“ی۔۔یہ کیا کر رہے ہیں آپ ؟”

اس نے کانپتی آواز میں پوچھا تھا۔شازل نے اس کا ہاتھ ہکڑتے اس کی کلائی پر لگا چھوٹا سا کٹ دیکھا تھا۔

“تمھیں پتا ہے اسے دیکھ کر مجھے کیسا محسوس ہوا تھا۔؟”

شازل کے سپاٹ لہجے میں پوچھنے پر نورے کو اس سے شدید خوف محسوس ہوا تھا۔

وہ نورے کا ہاتھ چھوڑتا چند قدم پیچھے ہٹتا بلیڈ پکڑتا اپنے ہاتھ پر تیزی سے پھیر چکا تھا۔نورے کا دل اچھل کر حلق میں آگیا تھا۔ایک زور دار چیخ اس کے حلق سے نکلی تھی۔

“شازل۔۔”

اس کی آنکھوں میں تیزی سے آنسو آئے تھے۔۔وہ شازل کی جانب بڑھنے لگی تھی۔جب شازل نے اسے روک دیا تھا۔

“ایک بھی قدم میری طرف مت بڑھانا اسی بلیڈ سے اپنی نس کاٹ لوں گا۔۔”

وہ پیچھے ہٹتا صوفے پر جاکر اب اس کی بےسکون حالت کو ساکت نظروں سے دیکھ رہا تھا۔چند منٹوں پہلے اس سے بھی بدتر حالت اس کی تھی۔

“شازل پلیز۔۔ دیکھیں کتنی تیزی سے خون نکل رہا ہے۔۔”

نورے کی آنکھوں سے آنسو نکلتے اس کے زرد گالوں کو بھگونے لگے تھے۔وہ باقاعدہ کانپ رہی تھی۔اس نے ایک قدم شازل کی جانب بڑھانے کی ناکام سی کوشش کی تھی جب شازل نے وہ بلیڈ اٹھاتے اپنی کلائی پر رکھا تھا۔نورے اپنی جگہ پر منجمد ہوگئی تھی۔

“آئی ایم سوری۔۔ اب میں کبھی ایسا نہیں کروں گا۔۔پلیز سٹاپ اٹ۔۔”

وہ روتے ہوئے گھٹنوں کے بل زمین پر گر گئی تھی۔مزید کھڑا رہنے کی سکت نہیں تھی۔شازل چند منٹ اسے روتے دیکھنے کے بعد کھڑا ہوا تھا اس کے قریب آتے اس نے نورے کی ٹھوڑی تھامتے اس کی بھیگی آنکھوں کو شدت سے چوما تھا۔وہ بےساختہ اس کے لمس پر آنکھیں بند کرگئی تھی۔سکون کی ایک لہر اس کے وجود میں سرایت کرگئی تھی۔

“جاو فرسٹ ایڈ باکس لے کر آو۔۔”

شازل کی بات پر وہ تیزی سے فرسٹ ایڈ باکس لے آئی تھی۔شکر تھا کٹ گہرا نہیں تھا۔اس نے نرمی سے شازل کا زخم صاف کرتے اس کے بینڈیج کردی تھی۔

“دوبارہ میری توجہ اس طریقے سے حاصل کرنے کی کوشش بھی مت کرنا نورے۔۔اس بار آسانی سے چھوڑ رہا ہوں اگلی بار تم سوچ بھی نہیں سکتی میں کیا کرسکتا ہوں۔۔”

وہ نورے کے بینڈیج کرنے کے بعد اپنے دائیں ہاتھ سے اس کے بالوں کو پکڑتا اس کا چہرہ اپنے چہرے کے بےحد قریب کرتا سفاکیت سے بولا تھا۔

“مجھے اچھا سمجھنے کی کوشش بھی مت کرنا۔۔بہت برا ہوں تمھیں اس سے بھی زیادہ تکلیف دے سکتا ہوں۔۔”

وہ نورے کے بھیگے گالوں کو صاف کرتا سرد لہجے میں بولا تھا۔نورے خاموش سے اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔

“آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں آپ یونیورسٹی چھوڑ چکے ہیں۔۔”

اس نے شازل کے گال پر ہاتھ رکھتے بھاری آواز میں پوچھا تھا۔

“یونیورسٹی میں میرا کام ختم ہوچکا ہے۔۔اور تمھارے ساتھ جو سونیا نے کیا ہے اسے اس کی سزا ضرور ملے گی۔۔ اس کے لیے اب پریشان مت ہونا۔۔”

وہ سنجیدگی سے انگوٹھے سے نورے کے گال کو سہلاتا بولا تھا۔

“کیا اب آپ مجھ سے ملا بھی نہیں کریں گے؟”

اس نے شازل کے چہرے پر نظریں جمائے پوچھا تھا۔

“تمھیں لگتا ہے تم مجھ سے ملے بنا رہ سکو گی؟ یا مجھے رہنے دو گی؟”

وہ اس کی بھیگی پلکوں کو چھوتا طنزیہ پوچھ رہا تھا جس پر وہ مسکرا اٹھی تھی۔

“مجھ سے دور جانے کا سوچیے گا بھی مت۔۔”

وہ شازل کی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑتی شدت سے بولی تھی۔

“میں کچھ عرصہ تم سے مل نہیں پاوں گا مجھے امید ہے تم دوبارل ایسا کوئی پاگل پن کرنے کی کوشش نہیں کرو گی۔۔”

وہ سختی سے بول رہا تھا۔وہ اب مکمل طور پر فیاض کو ختم کرنے کی طرف توجہ دینا چاہتا تھا اس کے پاس نورے کے پاگل پن اور اس کی محبت کے لیے وقت نہ تھا۔وہ جلد سے جلد اپنا کام کرنا چاہتا تھا۔

“اچھا۔۔”

وہ خاموشی سے شازل کو ایک نظر دیکھتی چہرے کا رخ پھیر گئی تھی۔

“میں اب چلتا ہوں بعد میں ملاقات ہوگی دوبارہ کوئی پاگل پن مت کرنا۔۔ میں تم سے کچھ عرصہ تک مل نہیں پاوں گا اپنا خیال رکھنا۔۔”

وہ نورے کے ماتھے کو چومتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔نورے آنکھیں پھیلائے اسے دیکھ رہی تھی۔

“آپ روزانہ مجھ سے بات کریں گے۔۔”

اس نے ضدی انداز میں کھڑے ہوتے شازل کی شرٹ کو پکڑتے کہا تھا۔

“اوکے۔۔”

شازل نے سر ہلاتے جواب دیا۔

“مجھے روزانہ صبح گڈ مارننگ کا میسج کریں گے؟”

اس نے مان بھرے انداز میں پوچھا تھا۔

“ہاں۔۔”

شازل نے اس کے چہرے پر آتی آوارہ لٹوں کو کان کے پیچھے اڑسا تھا۔

“مجھ سے پیار سے بات کریں گے؟”

وہ شازل کی آنکھوں میں دیکھتی بولی تھی۔

“بالکل۔۔”

اس نے سر کو خم دیتے جواب دیا۔

“مجھے رات کو گڈ نائیٹ بولا کریں گے۔۔”

اس نے بچوں کی طرح فرمائش کی تھی شازل بےساختہ ہنس پڑا تھا۔اس کی کمر کے گرد بازو پھیلاتے اس نے نورے کو سینے سے لگا لیا تھا۔

“تم جو کہو گی میں کردوں گا دوبارہ کبھی مجھے ایسے مت ڈرنا۔۔اوکے؟”

شازل نے اس کے بالوں پر ہونٹ رکھتے کہا تھا جس پر مسکرا اٹھی تھی۔یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی اسے خوش کردیتی تھیں۔

“آج یونیورسٹی میں جو ہوا وہ میں کل کال پر ڈٹیل سے پوچھ لوں گا اپنا خیال رکھنا۔۔۔”

وہ اس کا سر چومتا پیچھے ہٹ گیا تھا۔نورے نے آنکھیں پھیلا کر اسے دروازے کی جانب جاتے دیکھا تھا۔

وہ دروازے کے پاس جاتا اچانک رک گیا تھا تیزی سے واپس آتے اس نے سارے بلیڈ اٹھائے تھے اور واشروم میں جاتے فلش کردیے تھے۔نورے بس خاموشی سے دیکھتی رہی تھی۔

“لاسٹ بار وارن کر رہا ہوں نورے دوبارہ ایسی گھٹیا حرکت کرکے مجھے بلیک میل مت کرنا ورنہ تم اچھے سے جانتی ہو میں کیا کر سکتا ہوں۔۔”

بلیڈز دیکھ کر اسے ایک بار پھر شدید غصے آیا تھا تبھی نورے کی گردن میں ہاتھ ڈالتے وہ سختی سے بولا تھا۔

“جواب دو ڈیم اٹ۔۔”

شازل کے چلانے پر وہ سہم گئی تھی۔

“میں اب ایسا کچھ نہیں کروں گی۔۔”

وہ لب تر کرتے بولی تھی شازل کی نظر بےساختہ اس کے ہونٹوں کی طرف گئی تھی۔وہ شدت سے اس کے ہونٹوں پر جسارت کرتا باہر نکل گیا تھا۔پیچھے وہ اسے اپنے لمس کے حصار میں قید کر گیا تھا۔

“نورے ٹھیک ہے؟”

شازل کے باہر نکلتے ہی شاہزیب نے پوچھا تھا۔اس کی نظر بےساختہ شازل کے ہاتھ کی طرف گئی تھی۔وہ اسے سائیڈ کرتا کمرے میں داخل ہوا تھا نورے کو صحیح سلامت دیکھتے دوبارہ باہر نکلا تھا۔

“اس کے پاس بلیڈز تھے وہ اپنی کلائی کاٹنے لگی تھی اگر میں اس سے ملنے نہ آتا۔۔”

وہ لب بھینچ کر شاہزیب کو بتا رہا تھا۔

“کیا بکواس کر رہے ہو تم؟”

شاہزیب نے شاکڈ کی کیفیت میں پوچھا تھا۔

“یہ تم خود اپنی بہن سے پوچھ لینا۔۔میں بس اتنا کہوں گا بہنیں بہت انمول ہوتی ہیں اس کا خیال رکھو ایسا نہ ہو وقت ہاتھ سے نکل جائے اور بس پچھتاوا رہ جائے۔۔”

شازل سنجیدگی سے بولتا لمبے لمبے ڈھگ بھرتا نکل گیا تھا اسے اس وقت شدت سے اپنی بہن کی یاد آرہی تھی۔دل میں تکلیف اٹھتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔

“نورے تم نے مجھے بہت مایوس کیا۔۔”

شاہزیب نے نورے سے جاکر کہا تھا۔

“کیا یہ حرکت کرنے والی تھی اور بلیڈز کہاں سے آئے تمھارے پاس؟”

شاہزیب نے سختی سے پوچھا تھا۔

“س۔۔سوری بھیا اب ایسا کچھ نہیں ہوگا۔۔”

وہ شاہزیب سے ڈانٹ سنتی شدید شرمندہ ہوگئی تھی۔

“آئیندہ کے بعد کوئی بھی سٹریس ہوا تو میرے پاس آجایا کرو نورے یوں الٹی سیدھی حرکتیں مت کیا کرو۔۔میں تمھیں کھونا نہیں چاہتا۔۔”

شاہزیب نے اسے پکڑ کر سینے سے لگایا تھا۔

“آج کا دن ہی برا تھا میں کافی ڈیپریس فیل کر رہی تھی اب ایسا کبھی نہیں کروں گی۔۔”

نورے کی بات پر شاہزیب نے سر ہلاتے اسے اپنی گرفت سے آزاد کیا تھا۔

“تم نے کھانا نہیں کھایا ؟”

شاہزیب کی نگاہ بےساختہ ٹیبل پر پڑی ڈھکی ہوئی ٹرے پر گاءی تھی۔نورے نے خاموشی سے سر نفی میں ہلایا تھا۔

“چلو شاباش فورا کھانا کھالو۔۔”

شاہزیب کی بات پر وہ ہاتھ دھو کر کھانا کھانے لگی تھی۔شاہزیب اس کے کھانے کے بعد اسے ریسٹ کرنے کا بول کر چلا گیا تھا۔

نورے شازل کو دیکھنے کے بعد پرسکون ہوگئی تھی اب اسے پتا تھا وہ کم سے کم اسے روزانہ میسج تو کءا کرے گا۔۔

جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *