Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes NovelR50560 Professor Shah (Episode 38)
Rate this Novel
Professor Shah (Episode 38)
Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes
“شازل کہاں ہے؟”
اس نے آنکھ کھولتے ہی سب سے پہلے شازل کے بارے میں پوچھا تھا۔
“وہ تھوڑی دیر تک آجائے گا تم ریسٹ کرو۔۔”
شاہزیب نے اسے تسلی دی تھی۔
“کب آئیں گے ؟؟ تین دن گزر گئے ہیں۔۔کوئی مجھے کچھ بتا بھی نہیں رہا۔۔بھیا کہاں ہے شازل؟ “
اس نے زور دیتے ہوئے پوچھا تھا۔شاہزیب ایک پل کو خاموش ہوگیا تھا۔
“وہ ٹھیک تو ہیں نہ؟”
نورے نے کمفرٹر کو مٹھیوں میں جکڑتے پریشانی سے پوچھا تھا۔
“تم ٹنشن مت لو۔۔ وہ بالکل ٹھیک ہے۔۔”
شاہزیب نے اسے کندھے سے تھامتے کہا تھا۔
“بھیا مجھے شازل سے بات کرنی ہے ابھی اور اسی وقت۔۔”
وہ نم آنکھوں سے بولی تھی۔
“یہ ابھی ممکن نہیں ہے نورے۔۔”
شاہزیب نے لب بھینچ کر کہا تھا۔
“مجھے کچھ نہیں سننا۔۔ مجھے شازل سے بات کرنی ہے ابھی اور اسی وقت۔۔”
وہ شاہزیب سے دور ہوتی چیخ کر بولی تھی۔
“گڑیا۔۔”
شاہزیب نے اس کی حالت بگڑتی دیکھتے پیار سے کہا تھا۔
“بھیا۔۔ انھیں بلائے نہ۔۔ مجھے گھٹن ہورہی ہے۔۔ اتنے دنوں سے شازل کو دیکھا تک نہیں۔۔ مجھے ایسے لگ رہا ہے میں ایک پل مزید شازل سے دور رہی تو خود کو کچھ کر لوں گی۔۔ بھیا مجھے کچھ ہوجائے گا۔۔”
وہ شاہزیب کا ہاتھ تھامتے سسک پڑی تھی۔جبکہ شاہزیب بےبسی سے ہونٹ بھینچ گیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
دن کب ہفتوں میں بدل گئے اسے علم ہی نہ ہوا۔۔آنکھیں تو اب شازل کے انتظار میں خشک ہوگئی تھیں۔ سب نے بڑا سمجھایا تھا کہ وہ جلد لوٹ آئے گا مگر وہ تو کسی کی سننے کو ہی تیار نہیں تھی۔
اس کے جانے سے وہ سب سے روٹھ بیٹھی تھی۔ کھانا کھاتی بھی تو خود کو زندہ رکھنے کے لیے۔۔
“نورے۔۔”
اپنے نام کی پکار سن کر اس نے نظریں اٹھا کر اپنے سامنے کھڑی افرحہ کو دیکھا تھا جو کھانے کی ٹرے لیے اس کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
“ش۔۔شازل؟”
اس نے کانپتے ہونٹوں سے پوچھا تھا۔
“وہ بھی جلد لوٹ آئیں گے تم کھانا کھاو تمھارے لیے آج میں نے خود کوفتے بنائے ہیں۔۔”
اس کے پاس ٹرے رکھتے افرحہ نے نرمی سے کہا تھا۔
“آپ کی تو خود آج کل حالت ٹھیک نہیں ہوتی بھابھی۔۔”
وہ افرحہ کا ہاتھ تھامتی نرمی سے بولی تھی۔ افرحہ بھی امید سے تھی جس کا انھیں کچھ دنوں پہلے ہی پتا چلا تھا۔
“میں ٹھیک ہوں میری جان۔۔ شاہزیب میرا کافی خیال رکھتے ہیں۔۔”
وہ نورے کے سر پر ہاتھ پھیرتی محبت سے بولی تھی۔ شاہزیب اسے واپس گھر لے آیا تھا۔ اور اس کا خود خیال رکھ رہا تھا۔
“آپ ایسے تکلف مت کیا کریں بھابھی مجھے شرمندگی ہوتی ہے۔۔”
وہ افرحہ کا ہاتھ تھامتی اسے اپنے قریب بیٹھاتی بولی تھی۔
“شرمندگی کس بات کی پاگل۔۔ تم تو میری چھوٹی بہن کی طرح ہو۔۔”
افرحہ کے مسکرا کر بولنے پر وہ بھی ہلکا سا مسکرا اٹھی تھی۔
“بھابھی کیا آپ کو لگتا ہے وہ لوٹ آئیں گے۔۔؟”
اس نے کھانے کی طرف دیکھتے پوچھا تھا۔
“وہ شاہزیب سے وعدہ کر کے گئے ہیں۔۔ وہ تمھارے لیے ضرور واپس آئیں گے۔۔”
افرحہ کی بات پر وہ گہرا سانس بھر کر کھانا کھانے لگی تھی۔
اتنا وقت گزر گیا تھا مگر شازل کی اسے کوئی کال تک نہیں آئی تھی۔ ناجانے اس نے کب لوٹ کر آنا تھا اس کی تو آنکھیں ترس اٹھی تھیں شازل کو دیکھنے کے لیے۔۔
مگر اسے امید تھی کہ شازل لوٹ کر ضرور آئے گا۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
ایک مہینہ اور دس دن ہوچکے تھے۔ وہ تب سے ایس پی فراز شیخ پر نظر رکھے بیٹھا تھا۔ نورے کی اسے بے حد یاد آرہی تھی مگر وہ فلحال اپنا مکمل فوکس ایس پی فراز شیخ پر رکھ رہا تھا۔ یہ وہ آکری شخص تھا جو دانین اور بہارے گل کا مجرم ہونے کے ساتھ نورے کا بھی مجرم بن چکا تھا۔ وہ جب بھی اسے دیکھ رہا تھا اس کا خون کھول اٹھ رہا تھا دل کر رہا تھا اسے دیکھتے ہی کام ختم کردے مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ اپنے ساتھ حد سے زیادہ سکیورٹی لیے پھر رہا تھا۔ جو وقت گزرنے کے ساتھ کم ہوتی جارہی تھی۔
اس کے ساتھ عسکری بھی وہاں موجود تھا وہ شازل کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا تبھی اس کے ساتھ یہاں آیا تھا۔
“ایک ہفتے بعد فراز شیخ کے گھر پارٹی ہے اس کے پرموشن کی خوشی میں۔۔ ہمیں اگر اسے پکڑنا چاہتے ہیں تو اسے اس کے گھر سے ہی اٹھانا ہوگا ورنہ اس کی سکیورٹی کے ہوتے ہوئے کچھ ممکن نہیں ہے۔۔ “
عسکری نے شازل کو چائے کا کپ تھماتے کہا تھا۔
“وہ مجھے پہچانتا ہوگا۔۔میں اس کے آس پاس بھی بھٹکوں گا تو وہ مجھے فورا پہچان جائے گا۔۔ کوئی اور طریقہ نہیں ہے؟”
شازل نے اپنے بالوں میں انگلیاں چلاتے پوچھا تھا۔
“میں نے سنا ہے وہ پارٹی میں لڑکیوں کو بلا رہا ہے۔۔ تم ان کے گروپ کے ساتھ اندر جاسکتے ہو۔۔ بس حلیہ تھوڑا چینج کرنا ہوگا۔۔”
عسکری نے سوچتے ہوئے کہا تھا۔
“اب تم کیا چاہتے ہو؟ میں لڑکی بن جاوں۔۔؟”
شازل نے اسے گھورتے ہوئے طنزیہ کہا تھا۔
“اگر ایسا ہوسکتا تو کیا ہی بات تھی۔۔”
وہ مسکراہٹ دباتا بولا تھا۔ شازل نے میز پر پڑا اخبار اٹھا کر عسکری کے سر پر مارا تھا۔
“فضول بکواس کروا لو تم سے جتنی مرضی۔۔”
“باس ظاہری سی بات ہے تم ان لڑکیوں کے استاد بن کر جاو گے۔۔ میک اپ ارٹسٹ کوئی میں ارینج کر لوں گا۔۔ اینٹری تو ہو جائے گی آگے کیا کرنا ہے؟”
عسکری نے شازل سے اخبار چھین کر ٹیبل پر پھینکتے کہا تھا۔
“مجھے بلٹ ہروف جیکٹ اور ایک گن چاہیے۔۔”
شازل نے سوچتے ہوئے کہا تھا۔
“گن اندر نہیں جا پائے گی۔۔ تمھاری چیکنگ ہوگی۔۔”
عسکری نے صوفے ریلکس ہوتے کہا تھا۔
“I need some weapons!! Damn it!!”
وہ چائے کا گھونٹ بھرتا بولا تھا۔
“کیوں نہ تم لڑکی بن کر میرے ساتھ پارٹی میں چلو؟”
شازل نے عسکری کو اوپر سے نیچے تک گھور کر دیکھتے کہا تھا
“بالکل نہیں!!”
فورا جواب آیا تھا۔
“چند گھنٹوں کی ہی بات ہے اوپر سے تم نے کلین شیو بھی کروا رکھی ہے آسانی ہوجائے گی۔۔”
شازل کے کہنے پر عسکری نے برا سا منہ بنایا تھا۔
“اس سے تمھیں کیا مدد ملے گی؟”
عسکری نے ناسمجھی سے پوچھا تھا۔
“وہ لڑکیوں کی چیکنگ اتنی سختی سے نہیں کریں گے۔۔ میں تمھارے پاس اپنی گن یا چاقو کچھ بھی رکھوا سکتا ہوں۔۔!!”
اس کے جواب پر عسکری نے سر ہلایا تھا۔
“ٹھیک ہے۔۔!!”
عسکری کی بات پر شازل نے چائے کا گھونٹ بھرتے اپنی مسکراہٹ چھپائی تھی۔جبکہ عسکری دل ہی دل میں اسے برا بھلا کہتا رہ گیا تھا۔
شازل کو بس گھر واپسی کا انتظار تھا نورے کا سوچتے ہی ہر دن اس کے بنا گزرنا اسے مشکل ترین لگنے لگا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
ملائکہ نے جو آغا خان کو ٹائم دیا تھا اس میں وہ ملائکہ کی بیٹی کے بارے میں پتا نہیں کروا سکے تھے تبھی وہ انھیں خلع کے کاغذات دے کر خاموشی سے کینیڈا چلی گئی تھیں۔
انھیں گئے دو ہفتے ہونے والے تھے۔شازل کے یوں اچانک بنا بتائے لاپتہ ہونے اور ملائکہ کے چلے جانے سے سب ہی دکھی اور پریشان تھے۔
“بابا۔۔”
دانین نے دروازے پر آہستے سے ناک کیا تھا۔ آغا خان خلع کے کاغذات لیے ان پر ملائکہ کے کیے گئے سائن کو دیکھ رہے تھے۔
دانین کے بولنے پر انھوں نے سر اٹھاتے اس کی طرف دیکھتے خلع کے پیپر بیڈ پر پھینک دیے تھے۔
“آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی بابا جان۔۔!!”
وہ ان کا زرد چہرہ دیکھ کر پریشانی سے بولی تھی۔
“بہت محبت کرتا ہوں میں اس سے دانین۔۔”
وہ گہرا سانس بھرتے بولے تھے۔
“ناجانے یہ محبت کب اس کا گلا گھونٹنے لگی!!”
“شاید میں اس کے قابل تھا ہی نہیں تبھی وہ کسی اور کے نصیب میں لکھی گئی تھی۔۔میں نے تو بس اسے چھین لیا تھا۔ اور کبھی سوچا ہی نہیں تھا قسمت میں یہ لکھا ہوگا۔۔”
وہ اپنے بالوں کو مٹھیوں میں دبوچے بولے تھے۔
“بابا انھیں آپ کی ضرورت ہے۔۔ ہار مت مانیں جائیں اور ان کی مدد کریں۔۔!!”
دانین ان کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھتی بولی تھی۔
“وہ میرا چہرہ بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔۔!! اگر اسے میری ضرورت ہوتی تو کبھی رات کے اندھیرے میں چھپ کر نہ جاتی۔۔!!”
آغا خان سرخ آنکھوں سے دانین کو دیکھتے بولے تھے۔
“آپ نے کونسا ان کے ساتھ اچھا کیا تھا بابا؟ آپ نے تو کبھی انھیں بیوی بھی سب کے سامنے تسلیم نہیں کیا تھا۔۔!!”
“آپ یوں سارا الزام ان پر ڈال کر ہار نہیں مان سکتے۔۔ آپ کی وجہ سے وہ اتنے سالوں اپنی اولاد سے دور رہیں آپ کا فرض بنتا ہے انھیں ان کی اولاد ڈھونڈ کر لوٹانے کا۔۔میں تو شاید کبھی ان کا احسان نہ اتار سکوں بابا انھوں نے جیسے مجھے سنبھالا تھا شاید میری اپنی مما بھی نہ سنبھال پاتی۔۔!!”
وہ ان کے ہاتھ تھامتی محبت سے بوسہ لیتی بولی تھی۔
“آپ کی ٹکٹ بک کروا دی ہے۔ آج رات کی ہے۔۔اب آپ کی مرضی ہے اگر آپ جانا چاہتے ہے تو چلیں جائے ورنہ ساری زندگی پچھتاوا آپ کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔۔ اور بابا یہ پچھتاوا بہت تکلیف دے ہوتا ہے کبھی پیچھا نہیں چھوڑتا۔۔”
وہ بہارے گل کا سوچتے تیزی سے اٹھ کھڑی ہوتی باہر نکل گئی تھی۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
(ماضی)
وعدے کے مطابق حیدر بہارے گل کو آوٹ آف کنٹری لے گیا تھا۔اس نے اپنے بزنس سے تین مہینے کی بریک لی تھی تاکہ بنا کسی مصروفیت کے وہ بہارے گل پر دھیان دے سکے۔۔
وہ لوگ مالدیپ آئے تھے۔ حیدر نے کاٹیج بک کروایا تھا جس میں ایک بیڈ روم ، واشروم ٹی وی لاونچ تھی جبکہ بالکونی تھی جو ساحل کی طرف تھی۔وہ چاہتا تھا بہارے گل کم سے کم اس کے ساتھ سپیس شئیر کرے وہ اسے فورس نہیں کرنا چاہتا تھا مگر جیسے وہ خود میں سمٹی تھی کبھی آگے نہیں بڑھ سکتی تھی۔
حیدر شاور لے کر باہر نکلا تھا۔ ابھی انھیں یہاں پہنچے دو گھنٹے ہی ہوئے تھے مگر ایک بیڈ روم دیکھتے بہارے گل خاموشی سے لب بھینچتی کاٹیج میں غائب ہوگئی تھی۔ حیدر اس کی پریشانی کی وجہ جانتا تھا مگر یہ سیزن تھا اسے بمشکل یہ کاٹیج ملا تھا۔
فریش ہوکر اس نے سارا سامان ان پیک کردیا تھا اس کے بعد وہ بہارے گل کو دیکھنے باہر نکلا تھا۔وہ باہر والی سائیڈ پر پانی میں ٹانگیں لٹکا کر آسمان کو دیکھنے میں مصروف تھی۔
وہ چونک کر پانی میں نہ گر جائے اس لیے حیدر نے اسے دسر سے ہی دھیرے سے آواز دی تھی۔
“بہار۔۔!!”
“ج۔۔جی؟”
وہ ناسمجھی سے حیدر کی طرف مڑی تھی۔
“کن سوچوں میں گم ہو ؟”
بہارے گل کی طرف بڑھتے اس نے پیار سے اس کے بالوں پر ہاتھ رکھا تھا۔ وہ بری طرح چونکی تھی۔
“ڈ۔۔ڈونٹ ٹچ می۔۔!!”
اس نے حیدر کا ہاتھ جھٹکا تھا۔حیدر لب بھینچ گیا تھا۔
“اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ ایک بیڈ پر سووں گی تو یہ آپ کی بہت بڑی بھول ہے مسڑ حیدر۔۔!!”
وہ کھڑی ہوتی چیخی تھی۔
“سٹاپ اٹ!!”
“جب تم میرے ساتھ اپارٹمنٹ میں اکیلی تھی میں نے تب تمھیں کبھی نہیں چھوا۔۔ تمھیں لگتا ہے میں یہاں تمھاری مرضی کے بغیر کچھ کروں گا۔۔ ب۔۔بہار تم۔۔ تم۔۔۔”
وہ ٹھہرا۔۔
“تم نے تو مجھے بہت گھٹیا انسان سمجھ رکھا ہے۔۔”
وہ طنزیہ مسکراہٹ ساتھ بولا تھا جب اچانک کاٹیج کی بل بجی تھی وہ بہارے گل کے جھکے چہرے پر نظر ڈالتا دروازے کی طرف بڑھ گیا تھا۔
بہارے گل نے سر اٹھا کر دروازے کی طرف دیکھا تھا جہاں ورکرز حیدر کے لیے ایکسٹرا میٹرس لاونچ میں سیٹ کر رہے تھے اسے اچانک شدید شرمندگی ہوئی تھی۔۔
“بزی ہونے کی وجہ سے ان کے پاس کوئی ولاء خالی نہیں تھا تبھی ایمرجنسی میں یہ کاٹیج بک کروایا تھا اگر مجھے پتا ہوتا میری موجودگی بھی تم اس کاٹیج میں برداشت نہیں کرسکتی تو میں تبھی دو کاٹیج بک کروا لیتا۔۔”
ورکرز کے جانے کے بعد حیدر بنا اس کی طرف دیکھے لب بھینچ کر بولتا وہاں سے چلا گیا تھا۔بہارے گل شدید شرمندہ ہوتی فریش ہونے چلی گئی تھی۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
حیدر نے بہارے گل کا ڈنر اس کے کمرے میں بھجوا دیا تھا۔ بہارت گل نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی تھی مگر وہ اسے اگنور کر گیا تھا جس پر چپ چاپ وہ کھانا کھا کر ریسٹ کرنے لگی تھی۔
“آہہہہ!!!”
بہارے گل کی چیخ کی آواز سن کر اس کی آنکھ کھلی تھی تیزی سے اٹھتا وہ اس کے کمرے کی طرف بھاگا تھا۔
کمرے میں اندھیرا دیکھتے اس نے فورا لائٹ چلائی تھی۔ بیڈ پر نظر پڑتے ہی وہ ساکن ہوگیا تھا۔
اپنے ارد گرد بازو باندھے آنسووں سے لبریز آنکھوں سے وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
“ح۔۔حیدر۔۔!!”
“م۔۔مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔!!”
اس کے منہ سے سسکی نکلی تھی۔حیدر نے تیزی سے اس کے قریب بڑھتے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا۔
“ششش میرے ہوتے ہوئے تمھیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔!!”
حیدر نے نرم آواز میں کہا تھا۔
حیدر کی خوشبو خود میں اتارتی وہ مزید اس میں سمٹ گئی تھی۔
“میں آپ کے قابل نہیں ہوں!! کیوں کی آپ نے مجھ سے شادی؟؟”
وہ اس کے سینے میں منہ چھپائے تکلیف دہ لہجے میں بولی تھی۔
“ڈونٹ!! ڈونٹ ٹرائے ٹو ڈس رسپیکٹ یور سیلف۔۔”
“تم میں کوئی کمی نہیں ہے اس بات کو جتنی جلدی اپنے ذہن سے نکال دو اتنا اچھا ہوگا۔۔”
حیدر کی بات پر وہ ہونٹ کاٹتی خاموش ہوگئی تھی۔
حیدر بیڈ سے ٹیک لگائے اس کے بالوں کو سہلانے لگا تھا ناجانے کب وہ حیدر کا سکون دہ لمس محسوس کرکے سو گئی تھی اسے معلوم ہی نہیں ہوا۔۔ بہارے گل کو سینے سے لگائے کب حیدر سو گیا اسے خود یہ علم نہیں ہوا۔۔
صبح بہارے گل کے ہلنے پر حیدر کی آنکھ کھلی تھی۔اس نے ادھ کھلی آنکھوں سے بہار کو دیکھا تھا جو بنا آواز پیدا کیے حیدر کے ہاتھ اپنی کمر سے ہٹا رہی تھی۔
وہ آہستہ سے حیدر کی انگلیاں ایک ایک کر کے کھول رہی تھی تاکہ اس کی نیند ڈسٹرب نہ ہو۔ حیدر نے اس کی کوشش پر دھیمے سے مسکراتے اس پر اپنی گرفت مضبوط کی تھی۔
“مجھ سے بھاگنے کی کوشش کر رہی ہو؟”
اچانک حیدر کی بھاری آواز سن کر بہارے گل بری طرح ڈر گئی تھی۔
“آہہہ!”
اس نے اپنے دل پر بے ساختہ ہاتھ رکھا تھا۔
“م۔۔مجھے فریش ہونے جانا۔۔”
وہ اس کی بولتی نظروں سے نظریں چراتی بولی تھی۔
حیدر نے اس کی ٹھوڑی پکڑ کر اس کی آنکھیں اپنی طرف کی تھی۔
“بہار۔۔”
اس کے ماتھے سے ماتھا ملاتے حیدر نے گہرا سانس بھرتے کہا تھا وہ بہارے گل کا ساکت ہونا محسوس کرچکا تھا تبھی اس کے ماتھے کو محبت سے چومتا پیچھے ہٹ گیا تھا۔اس کی گرفت ڈھیلی پڑتے ہی وہ تیزی سے اس کے لمس سے آزاد ہوتی واشروم میں بھاگی تھی۔
“اصل صبر کا امتحان تو تم مجھ سے لے رہی ہو بہار۔۔!!”
وہ سر نفی میں ہلاتا اپنی اکڑی گردن کو سہلاتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
دن تیزی سے گزر رہے تھے مگر بہارے گل کو ہر لمحہ حیدر کے ساتھ صدیوں برابر لگ رہا تھا۔اس کے برے خوابوں کی وجہ سے حیدر اس کے روم میں میٹرس بچھا کر وہاں سونے لگا تھا جس سے بہارے گل کو ساری رات سکون رہتا تھا۔
حیدر کو سویمنگ کرتے دیکھ کر اس کا دل ناجانے کیوں بری طرح دھڑکا تھا۔ پانی سے نکلتا تولیہ تھامے وہ بہارے گل کے قریب آیا تھا۔ اسے اتنے قریب سے بنا شرٹ کر دیکھ کر بہارے گل کے سفید گالوں پر گلال چھا گیا تھا۔
حیدر اس کے سر کر اوپر آکر کھڑا ہوگیا تھا۔
“مجھے اتنی دور سے بیوی تم دیکھ رہی تھی میں نے سوچا ایچ ڈی ویو میں دکھا دوں۔۔”
بہارے گل کی ٹھوڑی کو تھام کر اس کا چہرہ اٹھاتے وہ شرارتی انداز میں بولتا بہارے گل کو شرمندہ کر گیا تھا۔
حیدر کے بالوں سے پانی کے قطرے نکلتے بہارے گل کے چہرے پر گر رہے تھے۔
“ن۔۔نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔!!”
وہ سر نفی میں ہلاتی بولی تھی۔
“تمھارے لیے جو سویمنگ سوٹ منگوایا تھا وہ آگیا ہے جاو پہن کر آو ساتھ مل کر سویمنگ کرتے ہیں۔۔”
حیدر نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے نرمی سے کہا تھا جس پر وہ پگھل گئی تھی۔
“مجھے سویمنگ نہیں آتی۔۔”
وہ نظریں جھکاتی بولی تھی۔
“میں سکھا دوں گا بیوی آئیں تو سہی۔۔”
حیدر کی بات پر وہ چپ چاپ اٹھ کر چینج کرنے چلی گئی تھی۔
وہ موڈریٹ سویم سوٹ تھا جس میں بہارے گل ایزی محسوس کر رہی تھی۔حیدر نے اس کو کمر سے پکڑتے اپنے ساتھ پانی میں پھینکا تھا جس پر بہارے گل کی اچانک چیخ نکل گئی تھی۔
“حیدر۔۔!!”
وہ غصے سے حیدر کے کندھے پر تھپڑ مارتی چیخی تھی۔ساتھ ہی اس کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا کہ کہیں ڈوب نہ جائے۔۔ اس کے ہاتھ اپنی کمر پر محسوس کر اس کی دھڑکنیں منتشر ہونے لگی تھی کافی عرصے بعد اسے سکون ملنے لگا تھا کسی دوسرے انسان کے لمس سے۔۔ اور یہ صرف حیدر کی وجہ سے تھا۔
حیدر اس کے غصے پر ہنس پڑا تھا۔اس کو کھل کر ہنستے دیکھ کر بہارے گل بھی دھیرے سے مسکرا اٹھی۔
“سوری بیوی تمھیں تنگ کرنے میں بہت مزا آتا ہے۔۔!!”
وہ ہنستا ہوا بہارے گل کی ناک دباتا بولا تھا۔
اس کے بعد حیدر نے شرافت سے اسے سویمنگ سکھائی تھی۔ ایک عرصے بعد بہارے گل کو بہت اچھا اور فریش فیل ہو رہا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“بہارے جلدی کرو۔۔ فلائٹ کا ٹائم ہو رہا ہے۔۔!!”
وہ لوگ اب دو مہینے گزار کر اپنی اگلی ڈیسٹینشن سویزرلینڈ جا رہے تھے۔
بہارے نے تیزی سے اس کے قریب آتے اس کا ہاتھ تھام تھا۔
حیدر کی دھڑکنیں ایک پل کو تھم گئی تھیں یہ پہلی بار تھا کہ بہارے گل نے اس کو خود چھوا تھا۔
“چلیں۔۔؟”
اس کی طرف مسکرا کر دیکھتے بہارے گل نے پوچھا تھا۔ اسے کھل کر مسکراتے دیکھ کر حیدر نے جھک کر اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ رکھے تھے۔
“You are looking so mesmerizing.”
وہ مسکرا کر بولا تھا۔جس پر وہ مزید کھل گئی تھی۔
“اب کیا ہمیں لیٹ نہیں ہورہا ؟”
اس کی بات پر حیدر فورا سر ہلاتا اسے لے کر چل پڑا تھا۔
پاکستان سے دور رہ کر بہارے گل میں کافی خوشگوار چینج آگیا تھا۔ دو مہینے میں ہر ممکن کوشش کی کہ وہ اسے واپس پہلے کی طرف خوشحال کر دے جس میں وہ کامیاب بھی ہوگیا تھا۔
حیدر نے یہاں ہوٹل میں بکنگ کروائی تھی۔ جو کہ سویٹ تھا جہاں کیچن، لاونچ، واشروم، بالکونی، ایک روم اور پرائیوٹ پول تھا۔
“تم اس روم میں سو جانا میں لاونچ میں صوفے پر سو جاوں گا۔۔”
حیدر نے سامان پیک کرتے گل سے کہا تھا۔
“اس کی ضرورت نہیں۔۔ آپ بیڈ پر سو سکتے ہیں۔۔”
وہ لب کاٹتی بیڈ پر بیٹھتی بولی تھی۔اس نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا تھا۔ وہ زندگی میں آگے بڑھنا چاہتی تھی۔
اس کی بات سنتا حیدر اس کی طرف مڑا تھا۔
“نہیں تم صوفے پر کمفرٹیبل نہیں ہو گی یہاں ہی سونا تم۔۔”
حیدر کے بات پر اس نے ہاتھ مسلتے اپنا سر نفی میں ہلایا تھا۔
“میرا یہ مطلب نہیں تھا۔۔”
اس کی بات سمجھنے میں حیدر کو کچھ سیکنڈ لگے تھے۔
وہ کپڑے الماری میں پھینکتا شاکڈ سا بہارے گل کے سامنے آکر کھڑا ہوا تھا اس کی ٹھوڑی تھام کر اس نے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا تھا۔
“کیا تم نے سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے؟ کیونکہ میں نہیں چاہتا تم بعد میں پچھتاو۔”
وہ نرمی سے اس کے گال کو سہلاتا بولا تھا۔
“میں نے سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے حیدر۔۔ میں مزید ماضی کو اپنے ساتھ گھسیٹنا نہیں چاہتی۔۔میں آگے بڑھنا چاہتی ہوں۔”
وہ حیدر کا دوسرا ہاتھ تھامتی گہرا سانس بھر کر بولی تھی۔ حیدر نے مسکرا کر اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھتے ایک دم اسے کمر سے تھام کر فضا میں گھمایا تھا جس پر وہ ہنسنے لگی تھی۔
“My Brave Queen!”
ؓاس کی ہنسی سن کر حیدر کو سرور سا مل گیا تھا۔ اس کو بیڈ پر بیٹھاتے حیدر نے اس کے چہرے کو تھام کر محبت دے سرگوشی کی تھی۔۔جس پر بہارے گل کا چہرہ مزید کھل گیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
سرخ فلورل میکسی پہنے بہارے گل بازو پھیلائے آنکھیں بند کیے ٹھنڈے ہوا سے لطف اندوز ہورہی تھی۔ ارد گرد پانی کی لہروں کی آوازیں آرہی تھیں وہ لوگ لیک جنیوا آئے تھے۔ حیدر نے ان کے لیے بوٹ بک کروائی تھی جس میں صرف وہ دونوں اور کیپٹن تھا۔
“بیمار پڑ جاو گی ایسے۔۔”
حیدر نے اسے پیچھے سے اپنی باہوں میں سمیٹتے کہا تھا۔
“یہاں بہت سکون ہے حیدر۔۔ مجھے گھٹن محسوس نہیں ہوتی۔۔”
وہ اس کے سینے سے سر ٹکاتی مدہم آواز میں بولی تھی۔
“ہم نے فیصلہ کیا تھا اس بارے میں بات نہیں کریں گے۔۔”
حیدر نے اس کے ٹھنڈے ہاتھوں کو تھامتے سنجیدگی سے کہا تھا۔
“سوری۔۔”
“مجھے بھوک لگ رہی ہے یہاں کچھ کھانے کو ملے گا؟”
وہ گہرا سانس بھر کر ہلکا سا مسکرا کر بولی تھی۔
“ہاں آجاو کھانا لگ گیا ہے۔۔”
اس کا ہاتھ پکڑتے وہ اسے وہاں بنے ایک روم میں لے گیا تھا اس میں ایک روم اور اس کے ساتھ اٹیچڈ واشروم بھی تھا ساتھ چھوٹا سا کیچن بھی تھا۔
حیدر اسے روم میں لے کر آیا تھا جہاں کیپٹن نے ان کے لیے کھانا لگا دیا تھا۔
“بہت مزے کی خوشبو آرہی ہے۔۔”
وہ مسکرا کر بولتی تیزی سے بیڈ پر بیٹھ گئی تھی جہاں کھانا رکھا ہوا تھا۔حیدر بھی اس ساتھ بیٹھ گیا تھا۔
“شام ہونے لگی ہے۔۔”
وہ وہاں بنی چھوٹی سی کھڑکی سے باہر دیکھتے بولی تھی۔ کھانا وہ کب کا کھا چکے تھے۔ وہ کافی دیر مناظر سے بھی لطف اندوز ہوکر تھک کر روم میں آگئی تھی۔
“ہمم۔۔ بس واپس جا رہے ہیں”
واپس آتے انھیں رات ہوگئی تھی۔ بہارے گل شیشے کے سامنے کھڑی اپنی جیولری اتار رہی تھی جب حیدر نے اس کے قریب آتے اس کی کمر کے گرد بازو باندھتے نرمی سے اس کے کندھے پر ہونٹ رکھے تھے۔ اس کا لمس محسوس کر کہ وہ کانپ گئی تھی۔
“بیوی آج تو تم قیامت ڈھا رہی تھی۔۔”
اس کی بات پر وہ بے ساختہ مسکرا اٹھی تھی۔ حیدر نے اسے جھٹکے سے اپنی طرف موڑتے اس کے مسکراتے ہونٹوں کو بے خودی میں چوم لیا تھا۔ بہارے گل نے بےساختہ حیدر کی شرٹ اپنی مٹھی میں جکڑ لی تھی۔
“مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔”
حیدر کا لمس اپنے چہرے پر جا بجا محسوس کرتے وہ کانپتی آواز میں سرخ پڑتی بولی تھی۔
“مجھ سے؟”
حیدر نے اس کا گال دھیرے سے ہونٹوں سے چھوتے پوچھا تھا۔
“نہیں۔۔ ویسے ہی۔۔”
“تمھیں پتا ہے نہ میں تم سے بہت کرتا ہو بہارے گل تمھیں تکلیف دینا کا میں سوچ بھی نہیں سکتا۔۔ میں چاہتا ہو تم اس انسیڈنٹ سے مکمل طرح مو اون کر لو۔۔”
وہ اس کی نم آنکھوں میں دیکھتا سنجیدگی سے بولا تھا۔
“آئی نو۔۔”
وہ دھیرے سے ایڑھیوں کے بل اٹھتی حیدر کا گال ہونٹوں سے چھوتی بولی تھی۔ حیدر نے اس کا چہرہ تھام کر محبت سے اس کا ماتھا چوما تھا۔ پھر اس کے دونوں لال گالوں پر محبت سے اپنے ہونٹوں کے نشان چھوڑتے آخری میں اس کے کانپتے ہونٹوں کو محبت سے چھوتے اس کا پور پور محبت سے مسرور کرتے اسے ماضی کی ایک تکلیف دہ لمحے سے آزاد کردیا تھا۔ جس میں وہ پچھلے کئی مہینوں سے قید تھی۔ حیدر نے اسے پھولوں کی طرح چھو کر خود میں سمیٹ کر یہ ثابت کردیا تضا کہ صرف وہ ہی بہارے گل کے قابل ہے۔۔
اس کے بعد ان کا رشتہ مضبوط سےمضبوط تر ہوتا گیا تھا پھر ان کی شادی کے تقریبا ڈھائی سال بعد اللہ پاک انھیں اولاد سے نوازنے جا رہا تھا۔ بہارے گل پہلے بہت ڈر رہی تھی کہ شاید اس حادثے کے بعد وہ ماں نہیں بن پائے گی مگر حیدر کی محبت نے اس کو اندھیرے میں کبھی لوٹنے نہیں دیا تھا۔ تبھی وہ حال میں حیدر کے ساتھ کافی خوش تھی۔
وہ شازل اور گل خان سے اس لیے نہیں ملنا چاہتی تھی کہ اسے اس واقع کے بعد شرمندگی محسوس ہوتی تھی ان دونوں کا سامنا کرنے سے۔۔ پھر حیدر بھی نہیں چاہتا تھا کہ ابھی بہارے گل کا کسی کو پتا چلے تبھی اس کے زندہ ہونے کو راز رکھا گیا تھا۔
