Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Professor Shah (Episode 21)

Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes

سن ہوتی ہتھیلیوں کو آپس میں مسلتی وہ خاصی اضطراب کی کیفیت میں لگ رہی تھی ماتھے پر ڈھیروں سلوٹیں ، دل میں اٹھتا جذباتوں کا طلاطم۔۔۔

وہ آنے والے وقت کا سوچتی شدید گھبرا رہی تھی۔۔روحان کا سوچتے آنکھوں کے گوشے نم سے تھے۔۔دل میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔

“تمھارا شوہر تم سے ملنے آنے والا ہے دانین۔۔”

اسے ملائکہ کی دھیمی آواز سنائی دی تھی جس پر وہ بےساختہ سر ہلا گئی تھی۔اپنے حصے کے خسارے کا سوچ کر دماغ کی رگیں پھٹنے والی ہوگئی تھیں۔

وہ کھڑی ہوتی چند قدم اٹھاتی کھڑکی کے پاس جاکر کھڑی ہوگئی تھی۔دروازے کی جانب سے رخ پھیرنے کا مقصد مطلوبہ آنے والے شخص کا سامنا کرنے سے کترانا تھا۔

دروازہ کھلنے کی آواز پر اس کی ہتھیلیاں بھیگ گئی تھیں۔دھڑکنیں خوف سے مزید بڑھ گئی تھیں۔ماتھے پر پسینے کی بوندیں دکھائی دینے لگی تھیں۔

بھاری قدموں کو اپنے قریب آتے محسوس کرکے وہ اپنے لہنگے کو مٹھیوں میں بھینچ گئی تھی۔مقابل کی گہری گرم سانسیں اپنی گردن پر محسوس کرتے وہ سختی سے آنکھیں میچ گئی تھی۔

“تمھیں کیا لگا تھا میری حالت کا فائدہ اٹھا کر مجھ سے دور بھاگو گی تو میں تمھیں جانے دوں گا؟”

“بہت بڑی غلط فہمی کا شکار تھی۔۔ تمھارا پیچھا میں موت تک نہیں چھوڑوں گا۔۔”

جانی پہچانی آواز سنتے اس نے بےیقینی سے آنکھیں کھول کر جھٹکے سے پیچھے مڑتے روحان کو دیکھا تھا جو اس کے چہرے کو سپاٹ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

دانین نے بےیقینی کی کیفیت میں اپنا ہاتھ اس کے گال پر دھیرے سے رکھا تھا۔اس کو محسوس کرتے دانین نے ایک کانپتی سانس خارج کی تھی۔

اس کی نرم انگلیوں کا ٹھنڈا لمس محسوس کرکے بھی وہ بنا تاثر دیے کھڑا رہا تھا۔

“تم اس روپ میں جس قدر خوبصورت لگ رہی ہو اس کی تعریف میں چاہ کر بھی نہیں کرسکتا۔۔ پتا ہے کیوں؟”

وہ اس کے دونوں جانب بازو ٹکاتے اس کے چہرے پر جھکا تھا۔دانین کی آنکھوں میں ابھی تک بےیقینی تھی۔

“کیونکہ تمھارا یہ سجا سنورا روپ میرے لیے نہیں ہے۔۔”

وہ زور سے دائیں جانب موجود دیوار پر ہاتھ مارتا اس کے کان کے قریب پھنکارا تھا۔

“ر۔۔روحان۔۔”

اس کے منہ سے کانپتی آواز میں سرگوشی نکلی تھی۔

“ڈونٹ۔۔۔ دوبارہ میرا نام مت لینا۔۔”

وہ سرد ترین لہجے میں دھاڑا تھا۔غصہ ، شدت اور اس کی بےوفائی سوچ کر دماغ کی شریانیں پھٹنے والی ہوگئی تھیں۔

دانین کے چہرے پر گہرے سائے لہرائے تھے۔آنکھیں نمکین پانی سے بھرنے لگی تھیں۔اپنے سرخ لب کاٹتے اس نے اپنی آنکھیں شرمندگی سے جھکا لی تھیں۔

“آپ مجھے سمجھ نہیں پائیں گے۔۔”

وہ آنکھیں میچ کر کھولتی ہمت مجتمع کرتی روحان کی جانب دیکھتی دکھی لہجے میں بولی تھی۔

“سمجھاو مجھے۔۔۔ تمھیں شروع سے پتا تھا تم کسی اور کی منگیتر ہو۔۔ پھر بھی تم نے میرے جذبات سے کھیلا۔۔ پھر جب میں مکمل طور پر تمھارے پیچھے پاگل ہوگیا تو مجھے چھوڑ کر یہاں بھاگی چلی آئی۔۔”

وہ سرخ آنکھوں سے دھیمی آواز میں زہر خند لہجے میں پھنکارا تھا۔

“ی۔۔یہ سچ نہیں ہے۔۔”

وہ بڑبڑائی تھی۔

“یہ ہی حقیقت ہے دانین بی بی۔۔”

“لیکن ایک بات اپنے اس خالی دماغ میں بیٹھا لو تمھارا پیچھے میں اپنی موت تک نہیں چھوڑوں گا۔۔”

وہ اس کے ماتھے پر انگلیاں ٹکاتا بولا تھا۔

اس کے میک اپ سے سجے حسین چہرے کو دیکھ کر اسے شدید تپ چڑھ رہی تھی۔اس کا بازو اپنی گرفت میں لیتا وہ بنا لحاظ کیے اسے کھینچتا ہوا واشروم میں لے گیا تھا۔

“ی۔۔یہ کیا کر رہے ہیں روحان۔۔”

وہ دبا دبا سا چیخی تھی۔

روحان نے اسے شاور کے نیچے کھڑا کرتے شاور چلا دیا تھا۔ٹھنڈا پانی محسوس کرتی وہ سن پڑ گئی تھی۔

وہ ہوش میں آتی شاور سے باہر نکلنے لگی تھی جب روحان نے اسے کھینچتے واپس اندر کرتے اس کو مضبوطی سے کمر سے تھامتے اپنی مضبوط گرفت میں لیا تھا۔

“روحان پلیز۔۔”

“شش۔۔ اب کچھ مت بولنا۔۔”

وہ اس کے سرخ لپ اسٹک سے بھیگے ہونٹوں پر اپنی انگلی ٹکاتا بھاری آواز میں بولا تھا۔دانین اس کے گرم لمس پر خاموش ہوگئی تھی۔اس نے بھیگا چہرہ اٹھاتے روحان کو دیکھا تھا جس نے اپنا دوسرا ہاتھ استعمال کرتے اس کے ماتھے پر لگا ٹیکا کھینچ کر اتارا تھا۔

دانین کے منہ سے ایک سسکی نکلی تھی جسے اگنور کرتے روحان نے اس کا بھاری کامدار دوپٹہ اتارتے شاور سے باہر زمین پر پھینک دیا تھا۔

“ایسا مت کریں پلیز۔۔”

وہ دوپٹہ سے بےنیاز اپنے بھیگے کانپتے وجود کے گرد بازو باندھتی کانپتی آواز میں بولی تھی۔۔

“مجھ پر یقین نہیں؟”

اس نے سرد آواز میں پوچھا تھا۔دانین نے اپنے لب کاٹتے بےساختہ سر ہاں میں ہلایا تھا۔روحان نے اپنے بھیگے بالوں میں ہاتھ ہھیرتے انھیں اپنی پیشانی سے دور کرتے شاور بند کردیا تھا جبکہ اس دوران دانین کو اس نے اپنی گرفت سے آزاد نہیں کیا تھا۔

اسے شاور سے باہر نکلاتے اسے شیشے کے سامنے لاتے روحان نے اسے کمر سے تھام کر کاونٹر پر بیٹھایا تھا۔دانین کے منہ سے بےساختہ ہلکی سی چیخ نکلی تھی۔جسے اگنور کرتے روحان نے اس کے بھیگے چہرے سے چپکے بالوں کو نرمی سے چہرے سے ہٹایا تھا۔

ان دونوں کے درمیان گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔روحان کے مردانہ ہاتھوں کا لمس محسوس کرتے اس کی دھڑکنیں پاگل ہونے کو تھی۔وہ بری طرح گھبراتی پیچھے کو ہٹی تھی جب اچانک روحان نے اس کی کمر میں بازو ڈالتے اسے دوبارہ اپنی جانب کھینچ لیا تھا۔

“مجھ سے دور جانے کی کوشش تو کیا خیال بھی اپنے ذہن میں مت لانا۔۔ تمھاری سوچ سے زیادہ میں ہاگل ہوں۔۔”

روحان نے اس کی کانچ سی آنکھوں میں دیکھتے کہا تھا۔دانین نے بےساختہ اپنے سرخ ہونٹوں کو دانتوں تلے لے کر دبایا تھا۔روحان کی نظریں بھٹکتی ہوئی اس کے ہونٹوں کی جانب گئی تھیں۔جو دیکھنے میں انتہائی نازک اور نرم لگ رہے تھے۔

روحان نے بےساختہ اپنا انگوٹھا اٹھاتے اس کے ہونٹوں پر لگی سرخ لپ اسٹک کو نرمی سے مٹایا تھا۔لپ اسٹک اس کے گال پر پھیل سی گئی تھی۔۔شرمندگی سے دانین کے گالوں پر گلال سا بکھر گیا تھا۔آنکھوں میں حیا سی سمٹ آئی تھی۔

اس کے جھکے چہرے اور لرزتی پلکوں کو دیکھتے روحان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری تھی۔

“مجھ سے ڈر رہی ہو؟”

اس نے دانین کی گردن میں ہاتھ ڈالتے اس کا چہرہ جھٹکے سے اوپر اٹھاتے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔دانین نے بےساختہ اپنا سر ہاں میں ہلایا تھا۔

“گڈ۔۔ مجھ سے ڈرنا بھی چاہیے۔۔”

وہ اس کے گلابی گالوں کو انگوٹھے سے سہلاتا لب بھینچ کر بولا تھا۔

“آپ جائیں پلیز۔۔ “

دانین گھبراتے ہوئے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے دور ہٹاتے کہا تھا اس کی گرم سانسیں اپنے چہرے پر محسوس کرتے اس کی سانسیں سوکھ رہی تھیں۔

“کیا کہا ؟ دوبارہ کہنا ؟”

اس کے چہرے پر پتھریلے تاثرات آئے تھے۔اس کے پل میں بدلتے تاثرات اور جذبات کو دیکھتی وہ بےچین سی ہورہی تھی۔

“پلیز آئی ایم سوری۔۔”

وہ لرزتی پلکیں ، کپکپاتے ہونٹوں اور کانپتی آواز میں بولی تھی۔

“مجھے خود سے دور کرنے کا سوچنا بھی مت۔۔”

اس نے سخت آواز میں غراتے دانین کے گلے میں پہنے بھاری سیٹ کی ڈوری کو زور سے کھینچتے توڑ دیا تھا۔اپنی گردن پر جلن محسوس کرتے اس نے شکوہ کن نظروں سے روحان کو دیکھا تھا آنکھوں کے گوشے نم سے پڑ گئے تھے۔

“کیوں میرے دماغ کو خراب کر رہی ہو۔۔ جب جانتی ہو اس وقت میں کچھ سمجھنے کی حالت میں نہیں ہوں۔۔”

وہ اس کی نم پلکوں کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے چھوتا گھمبیر آواز میں بولا تھا۔اس کی حالت دیکھتے وہ نرم پڑنے لگا تھا مگر اس کا دھوکا بار بار ذہن میں آتے ہی اس کے دماغ کو شاٹ کر رہا تھا۔

روحان کا لمس محسوس کرتی وہ خود میں سمٹ سی گئی تھی۔

“آپ اگر میری جگہ ہوتے تو یقینا میں نے جیسا کیا ہے ویسے ہی کرتے۔۔”

اس نے روحان کا ہاتھ تھامتے نرمی سے کہا تھا۔اس کے لہجے میں التجا تھی۔

“میں چاہتا تھا ہماری شادی دھوم دھام سے ہو۔۔ نہ کہ ایسے جب تم کسی اور کے لیے سجی سنوری تھی۔۔”

وہ تکلیف سے بولا تھا۔اس نے دانین کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں بھر لیا تھا۔

“اور میں یہ بات کبھی نہیں بھولوں گا۔۔”

وہ بےرحمی سے بولا تھا۔اس کا دھوکا اتنی آسانی سے معاف کرنا اس کے بس کی بات نہیں تھی۔دانین نے بےبسی سے اپنے ہونٹوں کو کاٹا تھا۔روحان کی نظریں ایک بار پھر اس کے ہونٹوں کی طرف گئی تھی۔اس کی نظروں سے گھبراتی دانین نے فورا اپنے ہونٹوں کو آزاد کیا تھا۔اور ساتھ ہی اپنا چہرہ جھکا لیا تھا۔

روحان نے اس کی گردن میں ہاتھ ڈالتے جھٹکے سے اس کا چہرہ اوپر اٹھاتے اس کے سرخ ہونٹوں کو اپنی شدت کا نشانہ بنایا تھا۔وہ شاکڈ کی کیفیت میں بےساختہ روحان کے سینے پر ہاتھ رکھتی اسے دور دھکیلنے لگی تھی۔اس کی مزاحمت محسوس کرتے روحان اس کی سانسوں کو آزادی بخشتا دور ہٹا تھا۔

دانین سرخ چہرے سے گہری سانسیں لیتی کانپپتی ہوئی اپنی آنکھیں میچ گئی تھی۔روحان نے اس کا اپنے سینے پر دھڑا ہاتھ پکڑتے اس کی کلائی پر بوسہ دیا تھا۔

اس کی ہونٹوں کا بےرحم لمس بازو پر محسوس کرتی وہ اسے کھینچنے لگی تھی۔مگر روحان کی سخت نظریں محسوس کرتی وہ ساکت ہوگئی تھی۔

روحان نے گہری نظروں سے اسے دیکھا تھا جو بگڑے تنفس اور سرخ گالوں کے ساتھ سراپائے قیامت لگ رہی تھی۔اس نے ایک نظر اس کے وجود پر ڈالی تھی سہ گیلے کپڑوں میں کانپ رہی تھی۔اس کے بھیگے وجود کو دیکھتے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے روحان نے نظریں پھیر لی تھیں۔گیلا تو وہ بھی ہوگیا تھا مگر اسے اس وقت سوائے دانین کے کسی چیز کا کوئی خیال نہیں تھااس کا نازک کلیوں سا وجود اسے بہکانے لگا تھا تبھی وہ جھٹکے سے اس سے دور ہٹتا رخ پھیر گیا تھا۔دانین کو لگا تھا جیسے اس نے اسے دھتکار دیا ہو۔۔اس سے منہ موڑ لیا ہو۔۔

“کپڑے چینج کرلو۔۔ ٹھنڈ لگ جائے گی۔۔”

وہ بولتا ہوا واپس پلٹ کر جانے لگا تھا جب دانین کی بات نے اسے ساکت کر دیا تھا۔

“صاف کہیں میرے وجود سے کراہت محسوس ہونے لگی ہے۔۔”

وہ حلق کے بل چلائی تھی۔روحان کی آنکھوں میں غصے ایک بار پھر امڈ آیا تھا۔

وہ ایک ہی جست میں دانین کے پاس پہنچتا اس کے کھلے بالوں میں ہاتھ ڈالتا اسے اپنے بےحد قریب کرتا پھنکارا تھا۔

“کس چیز سے تمھیں لگا مجھے تم سے کراہت محسوس ہوئی ہے۔۔”

وہ شدید غصے میں پھنکارا تھا۔

“چھوڑیں مجھے۔۔ جہاں جارہے تھے جائیں۔۔”

وہ اس کے سینے پر پے در پے کئج مکے مارتی چیخی تھی۔

“تمھیں مجھ سے چھٹکارا نہیں ملے گا۔۔ ڈیم اٹ۔۔”

وہ اس کی سرخ ڈوروں والی آنکھوں میں چیخا تھا۔

“مجھے کچھ نہیں سننا۔۔ جھوٹے ہیں آپ۔۔”

وہ بنا ڈرے غصے میں چیخی تھی۔

روحان نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اسے کمر سے تھام کر مزید اپنے قریب کیا تھا۔وہ اب بھی کاونٹر میں بیٹھی تھی جبکہ اب روحان اس کے بالکل سامنے کھڑا تھا۔

“کیا چاہتی ہو؟ خود پر قابو کھو دوں۔۔ جس چیز کے لیے تم تیار نہیں ہو وہ کردو۔۔؟”

اس کی کمر پر لٹکتی ڈوری کو پکڑتا وہ سختی سے کھینچ کر توڑ چکا تھا۔ڈوری سے نکلتے موتی کاونٹر پر بکھرتے زمین پر گر گئے تھے۔جبکہ وہ سہمتی بےساختہ پیچھے ٹیک لگانے کی کوشش کرنے لگی تھی۔

“اب کیوں دور ہٹ رہی ہو۔۔؟”

“انسر می۔۔ڈیم اٹ۔۔”

وہ چلایا تھا۔وہ ڈرتی آنکھیں میچ گئی تھی۔اسے پتا چل گیا تھا وہ اسے واپس بلا کر بہت بڑی غلطی کرچکی تھی۔

“کب تمھیں میرے لمس سے محسوس ہوا مجھے تم سے کراہت محسوس ہورہی ہے۔۔انسر می۔۔”

وہ اپنی انگلیاں اس کی بیوٹی بون پر پھیرتا سختی سے پوچھ رہا تھا۔

“آپ مجھے ڈرا رہے ہیں۔۔”

وہ اس کے لمس پر کپکپاتی ہلکی آواز میں بولی تھی۔

“اور تم جو مجھے پاگل کر رہی ہو اس کا کیا؟”

“تمھارے منہ سے دوبارہ میں نے کوئی ایسی گھٹیا بات سنی تو کچھ بولنے کے قابل نہیں چھوڑوں گا۔۔”

وہ گہرا سابس خارج کرتا سنجیدگی سے بولا تھا۔دانین نے فورا سر ہلایا تھا۔

“میری بےوفا جانم۔۔”

“میری ہمسفری مبارک!”

روحان نے اس کی ٹھوڑی تھامتے اس کا چہرہ نرمی سے اوپر اٹھاتے اس کی صبیح پیشانی پر شدت سے اپنے لب رکھتے اس کے گرد حصار باندھتے اسے اپنے سینے سے لگاتے سنجیدگی سے کہا تھا۔

اس کے بےوفا بولنے پر وہ سختی سے آنکھیں میچ گئی تھی۔

“کل ملاقات ہوگی۔۔ میں جلد ہی کینیڈا کی فلائیٹ بک کروا دوں لوں گا۔۔اور رخصتی اسی ہفتے کے اندر ہوگی۔۔ تمھیں اگر کوئی اعتراض ہے بھی تو وہ ختم ہوجانا چاہیے۔۔ورنہ میں اپنے طریقے سے تمھارے سارے گلے شکوے ختم کردوں گا۔۔”

روحان کی بات پر اس نے دھیرے سے سر ہلا دیا تھا۔وہ یہ نہ کہہ سکی کہ ابھی وہ اس سب کے لیے تیار نہیں ہے۔۔روحان ایک آخری بار اس کی آنکھوں کا بوسہ لیتا تیزی سے اپنے بہکتے جذباتوں پر بندھ باندھتا وہاں سے نکل گیا تھا۔دانین اس کے جانے کے بعد کچھ دیر ویسے ہی سوچوں میں گم بیٹھی رہی تھی۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

رات کے ایک بجے وہ گھر میں داخل ہوا تھا۔براون سلکی بالوں میں کئی بار انگلیاں ہھیرنے کی وجہ سے وہ قدرے بکھرے ہوئے لگ رہے تھے۔بلیک پینٹ شرٹ پہنے شرٹ کے کف موڑے وہ مضبوط قدم اٹھاتا بنا ڈرے گھر میں داخل ہوا تھا۔

“مجھے پہلے ہی معلوم تھا تم جیسا سنکی انسان اتنی جلدی کبھی بھی دانین سے نکاح کے لیے مان نہیں سکتا تھا۔۔”

محب خان کی آواز سنتا وہ رک گیا تھا۔ہونٹوں پر ایک زہر خند مسکراہٹ ابھری تھی۔

“آپ کو کیا لگا تھا؟ میں اس سے شادی کروں گا؟ جس کی شکل تک سے مجھے نفرت ہے۔۔”

“وہ لڑکی اگر آپ کے بھائی کے بیٹی نہ ہوتی تو یقینا اس کا گلہ میں اپنے ہاتھوں سے دباتا۔۔”

اس کے لہجے کا زہر اور سچائی محسوس کرکے محب خان کے منہ پر چپی لگی تھی۔

“وہ اپنے حصہ کی سزا بھگت چکی ہے۔۔ چھوڑ دو اس کی جان۔۔”

محب خان عاجزی سے بولے تھے۔

“آپ اپنی بیٹی کو بھول سکتے ہیں لیکن میں اپنی بہن کو نہیں بھول سکتا ڈیڈ۔۔”

وہ لب بھینچ کر بولا تھا۔

“اس نے اپنے حصے کی سزا تو بھگت لی لیکن ابھی میری بہن کا حصہ باقی ہے۔۔ وہ جب تک یہاں رہے گی میں اس کا سانس لینا دو بھر کر دوں گا۔۔اسے مجھ سے بچا لیں ڈیڈ۔۔ میں اس کی زندگی عذاب بنا دوں گا۔۔ بہارے گل کے معاملے میں بالکل بھی رحم نہیں کھاوں گا۔۔”

اپنی بہن کا نام لیتے وہ لب بھینچ گیا تھا۔

“بھائی صاحب اپنی بیٹی کو تمھیں چھونے بھی نہیں دے گیں۔۔”

“اور تم پہلے ہی اپنا بدلہ لے چکے ہو اسے لوگوں کے سامنے رسوا کرکے۔۔”

محب خان سنجیدگی سے بولے تھے۔

“نہیں ڈیڈ وہ بدلہ نہیں تھا وہ تو جھلک تھی۔۔وہ واپس تو آگئی ہے لیکن یہاں سے اب کہیں نہیں جاسکے گی۔۔”

“دو سال پہلے میں نے اسے چھوڑ دیا تھا۔لیکن اب۔۔ اب کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بہارے گل کی ہر تکلیف کا ازالہ میں خود کروں گا۔۔”

وہ ان کی آنکھوں میں دیکھتا پتھریلے لہجے میں بولا تھا۔

“کیا کرو گے تم میری بیٹی کے ساتھ؟؟”

گہری خاموشی میں آغا خان کی آواز گونجی تھی۔

“بتاو کیا کرو گے میری بیٹی ساتھ؟”

آغا خان نے اس کے سینے پر ہاتھ مارتے اونچی آواز میں پوچھا تھا۔

“اسے برباد کردوں گا میں۔۔ اسے کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑوں گا۔۔”

“چٹاخ۔۔”

شازل کی بات سنتے غصے میں ابلتے آغا خان نے اس کے غصے سے سرخ چہرے پر ایک زور دار تھپڑ مارا تھا۔

“ہاہاہا۔۔ آپ کا یہ تھپڑ مجھے روک نہیں پائے گا۔۔”

وہ سرخ آنکھوں سے آغا خان کو دیکھتا دھاڑا تھا۔

“کہاں ہے وہ آپ کا داماد۔۔؟”

“بلائیں اسے۔۔”

“اسے بھی تو آپ کی پارسا بیٹی کے کرتوت پتا چلیں۔۔”

شازل اونچی آواز میں چلایا تھا اس کی آواز سنتے گل خان اہنے کمرے سے باہر نکل آئی تھیں۔شازل کو چلاتے دیکھ کر وہ بری طرح پریشان ہوئی تھیں۔ملائکہ بھی شور کی آواز سنتی اٹھ کر باہر چلی آئی تھی۔

“اپنی بکواس بند کرو شازل۔۔”

آغا خان چیخے تھے۔

“نہیں تو کیا کریں گے آپ؟؟ “

“قتل کریں گے مجھے؟؟”

وہ طنزیہ بولا تھا۔

“شازل خاموش ہوجاو۔۔”

محب خان پریشان سے شازل کی جانب بڑھتے اسے بازو سے تھام کر روکنے کی کوشش کرنے لگے تھے۔

“میں دیکھنا چاہتا ہوں آپ کیا کریں گے۔۔ یہ لیں گن چلائی مجھ پر۔۔ مجھے موت سے ڈر نہیں لگتا۔۔ لیکن یاد رکھیے گا بہارے گل کے ایک ایک خون کے قطرے کا بدلہ دانین خان کو اپنے خون سے چکانا پڑے گا۔۔”

شازل نے اپنی گن نکالتے آغا خان کی جانب بڑھاتے دھاڑتے ہوئے کہا تھا۔گل خان منہ پر ہاتھ رکھ گئی تھی۔جبکہ معاملہ بگڑتے دیکھ کر ملائکہ آغا خان کی جانب بڑھ گئی تھی۔

“میرے زندہ رہتے میں تمھیں اپنی بیٹی کو چھونے بھی نہیں دوں گا۔۔خون بہانہ تو بہت دور کی بات ہے۔۔”

وہ غصے سے سرخ چہرے کے ساتھ دھاڑے تھے۔

“خان صاحب۔۔ جانے دیں بچہ ہے۔۔”

ملائکہ نے ان کے بازو کو تھامتے کہا تھا۔

“جو شخص آج تک اپنی بیوی کو اس کا درجہ نہ دے سکا وہ اپنی بیٹی کی حفاظت کیسے کرسکے گا۔۔؟”

شازل نے ان کی دکھتی رگ پر وار کیا تھا۔کوئی ان دونوں کو دیکھ کر کہہ بھی نہیں سکتا تھا کہ دو سال پہلے تک وہ دونوں تایا بھانجے کی بجائے بیسٹ فرینڈز تھے۔۔

اس کی بات پر آغا خان نے بری طرح ملائکہ کا ہاتھ جھٹکا تھا وہ بری طرح لڑکھڑائی تھیں۔احساس ذلت سے ملائکہ کا چہرہ سرخ پڑا تھا۔ گل خان نے تیزی سے اس کی جانب بڑھتے ملائکہ کو پکڑا تھا۔

“محب تم اپنے بیٹے کو میری نظروں سے دور لے جاو ورنہ میں کچھ غلط کر جاوں گا۔۔”

وہ غصے میں بولتے لمبے لمبے ڈھگ بھرتے گھر سے ہی نکل گئ تھی۔ملائکہ شرمندہ سی تیزی سے اپنے کمرے میں بھاگ گئی تھی۔

“شازل تمھیں زرا شرم نہیں آئی ملائکہ کے بارے میں یہ بولتے ؟ تم دونوں کی لڑائی میں اس کا کوئی قصور نہیں تھا۔۔”

گل خان غصے میں بولتی واک آوٹ کرگئی تھیں۔

“جو ہمارے پاس چند قریبی رشتے ہیں تم ان کو بھی برباد کردو گے۔۔”

محب خان اسے ملامتی نظروں سے دیکھتے گل خان کے پیچھے کمرے میں چلے گئے تھے۔جبکہ اسے واقعی غصے میں بولے گئے اپنے آخری لفظوں پر پشیمانی ہوئی تھی۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

اس نے کھڑکی سے پردہ ہٹاتے باہر دیکھا تھا جہاں گھپ اندھیرا تھا سٹریٹ لائٹس کی روشنی میں اس نے ارد گرد جھانک کر اچھے سے دیکھتے خالی سڑک کو دیکھتے گہرا سانس لیا تھا۔

“احمد پیک یور بیگ۔۔ ہم ابھی اور اسی وقت یہاں سے جارہے ہیں۔۔”

زرکشہ نے کانپتے ہاتھوں سے اپنا سکارف ٹھیک کرتے اپنے سے سات سال چھوٹے بھائی کو کہا تھا جو پندرہ سال کا تھا مگر دیکھنے میں اپنی عمر سے بڑا لگتا تھا۔

“دی ڈریے مت جب تک میں زندہ ہوں آپ کو کچھ نہیں ہونے دوں گا۔۔”

احمد کی بات سنتے وہ ہلکا سا مسکائی تھی۔

“ہمارے پاس ابھی وقت نہیں ہے احمد پلیز جلدی سے اپنا بیگ پیک کرو۔۔”

وہ تیزی سے بولتی اپنے کمرے کی جانب چل دی تھی۔احمد بھی اس کی پیروی کرتا اپنے کپڑے پیک کرنے لگا تھا۔ان دونوں کا ارادہ یہ شہر جلد سے جلد چھوڑنے کا تھا جس کی سب سے بڑی وجہ ان کا باپ تھا۔جو پچھلے ایک ہفتے سے غائب تھا۔اس کا نام و نشان بھی نہیں پتا چل رہا تھا۔

“سب کچھ رکھ لیا نہ؟”

زرکشہ نے اپنے حجاب میں پن لگاتے پوچھا تھا جس پر احمد نے مثبت جواب میں سر ہلایا تھا۔

وہ دروازے کی جانب بڑھنے ہی لگے تھے جب جھٹکے سے دروازے کا لاک توڑتے دو لوگ اندر داخل ہوئے تھے۔

احمد نے فورا زرکشہ کو اپنے پیچھے کیا تھا۔زرکشہ کے چہرے پر خوف کے سائے لہرائے تھے۔اس نے بےساختہ احمد کا بازو زور سے پکڑ لیا تھا۔

“لڑکی کو ہمارے حوالے کر دو۔۔ورنہ تم جان سے جاو گے۔۔”

مقابل موجود غنڈے کی بات سنتے زرکشہ کے رنگ اڑ گئے تھے جبکہ وہ احمد کو مزید مضبوطی سے تھام گئی تھی۔

ان کے نہ ہلنے پر مقابل موجود غنڈے نے گن اٹھا کر احمد کا نشان لیا تھا۔گن چلنے کی آواز پر زرکشہ نے سختی سے آنکھیں میچ لی تھیں۔گہری خاموشی میں قدموں کہ چاپ سن کر اس نے دھیرے سے اپنی آنکھیں کھولی تھی اس کی نظر پہلے زمین پر گرے غنڈے کی طرف گئی تھی پھر چمچماتے کالے برینڈڈ شوذ کی طرف۔۔

اس نے دھیرے سے نظریں اٹھاتے سامنے دیکھا تھا۔جہاں کھڑے ڈینیل مارٹین کو دیکھتے اس کے سانس خشک ہوگئے تھے۔اس کے ہاتھ میں موجود گن دیکھتے زرکشہ نے ایک کانپتی سانس خارج کی تھی۔اسے دیکھتے ڈینیل نے گن اٹھاتے ایک اور فائر مقابل کے اندر اتار دیا تھا۔

زرکشہ اس کی حرکت پر ساکت رہ گئی تھی خون کے قطرے اسے اپنے پاوں پر محسوس ہوئے تھے جس پر وہ کانپ اٹھی تھی۔

“Hey Princess.”

وہ اپنی بھاری آواز میں بولا تھا۔ڈینیل کے اشارے پر اس کے ایک آدمی نے آگے بڑھتے احمد کو قابو کیا تھا۔زرکشہ کے منہ سے زور دار چیخ نکلی تھی۔

“نہیں چھوڑ دو میرے بھائی کو۔۔”

وہ خوف پر قابو پاتی چیخی تھی۔

“شش۔۔ شٹ یور ماوتھ گرل۔۔ یو آر کازنگ می ہیڈک۔۔”

اس نے آگے بڑھتے زرکشہ کے بازو کو دبوچا تھا وہ اس کے مردانہ انگلیوں کے لمس کو محسوس کرتی تڑپ اٹھی تھی۔

“پلیز۔۔ ڈونٹ ٹچ می۔ “

اس کی کسی بھی بات کا ڈینیل پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا وہ اسے کھینچتا ہوا لفٹ کے ذریعے نیچے لے گیا تھا۔

“میرا بھائی۔۔ اسے چھوڑ دیں پلیز۔۔”

احمد کو اس غنڈے کے ساتھی کے ساتھ جاتا دیکھ کر وہ دوبارہ چیخی تھی۔

“شٹ اپ۔۔ چپ چاپ گاڑی میں بیٹھو ورنہ تمھارے بھائی کو تمھارے ہاتھوں سے سیدھا اوپر کی کرش لیڈنگ کرواوں گا۔۔”

ڈینیل کی دھمکی پر وہ غصے اور بےبسی سے گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔ڈینیل اس کے ساتھ ہی کچھ فاصلے پر بیٹھ گئی تھی۔وہ کھسک کر دروازے کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی تھی۔

“کال دا کلینگ کریو۔۔”

اس نے ڈرائیور کو کہا تھا جس پر وہ سر ہلا گیا تھا۔

“میر۔۔”

“ڈونٹ سے اینی تھنگ۔۔”

وہ سخت لہجے میں بولتا اس کی بولتی بند کروا گیا تھا۔

Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ

وہ کافی دیر سے نورے کو کال ملا رہا تھا مگر اس کا فون مسلسل آف جارہا تھا۔اسے اپنے رویے پر پچھتاوا ہو رہا تھا۔جب نورے اس کے پاس آئی تب اس کا موڈ بری طرح خراب تھا۔جس کا نشانہ وہ بری طرح بنی تھی۔اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا دانین سے شادی کرنے کا بلکہ اسے تو دانین کے عکس سے بھی نفرت تھی۔لیکن وہ یہ جان چکا تھا اس نے نورے کو شدید تکلیف پہنچائی ہے۔۔جس ہر اسے مزید خود پر غصہ اور دانین کا گلا دبانے کا دل کر رہا تھا جس کے آنے سے اس کے دماغ میں شاٹ سرکٹ ہونے لگے تھے۔

اس نے تھک ہار کر غصے میں موبائل دیوار میں دے مارا تھا۔موبائل ٹوٹ کر زمین پر بکھر گیا تھا۔وہ اس وقت فلیٹ پر موجود تھا مگر سوچوں کا رخ بری طرح نورے کی جانب تھا وہ صبح ہوتے ہی یہاں آگیا تھا۔مگر ایک بھی پل وہ سو نہیں سکا تھا بار بار نورے کی باتیں ذہن میں آرہی تھی۔نیند سے سرخ آنکھوں کو مسلتے اس نے اس کے گھر جاکر اس سے ملنے کا فیصلہ کیا تھا۔

وہ چینج کرتا فریش ہوکر اس کو منانے کے لیے نکلا تھا۔دل میں عجیب سی کھلبی مچی ہوئی تھی۔اپنے ماتھے کو مسلتے اس نے گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی تھی۔ایک طرف نورے کی ٹینشن تو دوسری طرف فیاض نے اس کا دماغ گھما دیا تھا۔

شاہ پیلس کے سامنے گاڑی روکتے وہ ایک گہری سانس بھرتا اس کی ناراضی کا سامنا کرنے کے لیے باہر نکلا تھا۔

“تمھاری ہمت کیسے ہوئی ہمارے گھر میں قدم رکھنے کی؟”

میر شاہ کی اونچی آواز سن کر اس نے بےتاثر انداز میں ان کی جانب دیکھا تھا۔

“میں اپنی بیوی سے ملنے آیا ہوں۔۔”

وہ بےتاثر انداز میں جواب دیتا سیڑھیوں کی جانب بڑھنے لگا تھا جب میر شاہ ان کے سامنے کھڑے ہوئے تھے۔

“تم جیسا بےشرم شخص میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔۔ پہلے میری بیٹی کی زندگی تباہ کردی اب اس کے زخموں پر نمک چھڑکنے آئے ہو۔۔”

میر شاہ اونچی آواز میں چلائے تھے۔

“میں اپنی بیوی سے بات کرنے آیا ہوں آپ کو میں جواب دہ نہیں ہوں۔۔”

شازل کے جواب پر میر شاہ کے غصے میں اضافہ ہوا تھا۔

“کیوں دوسری بیوی نے منہ نہیں لگایا جو پہلی بیوی کہ یاد آگئی ہے۔۔”

فاطمہ بیگم جو نماز ادا کرتی باہر نکلی تھی اس کو چلاتے دیکھ کر طنزیہ بولی تھیں۔

وہ انھیں اگنور کرتا نورے کے روم میں جانے لگا تھا جب میر شاہ کی بات نے اسے ساکت کردیا تھا۔

“وہ جاچکی ہے یہاں سے۔۔”

میر شاہ سپاٹ لہجے میں بولے تھے۔نورے اگر جاتے ہوئے ان سے وعدہ نہ لے کر جاتی تو وہ اس وقت یقینا شازل کا خون بہا چکے ہوتے۔۔

شازل ان پر ایک نظر ڈالتا تیزی سے انھیں پیچھے ہٹاتا ایک وقت میں کئی سیڑھیاں پھلانگتا نورے کے کمرے کی جانب بھاگا تھا۔اس کے خالی کمرے کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں بےیقینی امڈ آئی تھی وہ تیزی سے اس کی الماری کی جانب بھاگا تھا اسے کھولتے ہی خالی الماری اسے منہ چڑھا رہی تھی۔اس کی شریانیں پھٹنے لگی تھیں۔وہ الٹے قدموں دوبارہ نیچے بھاگا تھا۔

“کہاں ہے میری بیوی؟”

وہ چلایا تھا۔

“ہمارے سامنے یہ ڈرامہ مت کرو۔۔ اس سے تم نورے کو بےوقوف بنا سکتے ہو ہمیں نہیں۔۔”

“اور اب کیوں پوچھ رہے ہو اس کا؟ دوسری بیوی ہے نہ تمھارے پاس جاو اس کے ساتھ ہنسی خوشی رہو اور میری بیٹی کی جان چھوڑ دو۔۔”

ان کی بات سن کر شازل نے سختی سے مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔

“میری بیوی کہاں ہے۔۔؟ مجھے فورا بتا دیں ورنہ مجھے آپ جانتے ہیں اس کی خاطر میں ہر حد سے گزر جاوں گا۔۔”

وہ دھاڑا تھا۔غصے سے سفید رنگت میں سرخیاں گھلنے لگی تھیں۔

“کیا کرو گے تم ؟ ہم پر گن تانوں گے؟ میں ڈرتا نہیں ہوں تم سے۔۔”

میر شاہ بھی غصے سے بولے تھے۔

“میں اسے ڈھونڈ لوں گا۔۔ وہ پیتال میں بھی ہوئی میں اسے وہاں سے نکلوا لاوں گا۔۔ اور پھر آپ اسے دیکھنے کے لیے بھی ترسیں گے۔۔ یہ میرے الفاظ یاد رکھیے گا۔۔”

غصے سے اس کی شریانیں پھول چکی تھیں۔آنکھیں مزید لال ہو گئی تھیں۔میر شاہ نے اس کی بات پر تمسخرانہ انداز میں اسے دیکھا تھا۔شازل ان پر ایک نظر ڈالتا لمبے لمبے ڈھگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔اس کا رخ اب خان ہاوس کی طرف تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *