Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes NovelR50560 Professor Shah (Episode 25)
Rate this Novel
Professor Shah (Episode 25)
Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes
“آپ کب تک دانین کہ رخصتی کریں گے ؟ “
روحان نے آغا خان کے سامنے بیٹھتے پوچھا تھا۔وہ کافی دنوں بعد ان کے گھر آیا تھا وہ بھی صرف رخصتی کی بات کرنے کے لیے۔۔
“میں تمھیں پہلے ہی بتا چکا ہوں فلحال یہ ممکن نہیں ہے۔۔”
“میری بیٹی کی جان کو خطرہ ہے وہ کینیڈا میں بالکل بھی محفوظ نہیں ہے۔۔”
آغا خان نے سپاٹ لہجے میں کہا تھا۔
“آپ کو کیا لگتا ہے وہ اس گھر میں محفوظ ہوگی؟ “
“وہ صرف و صرف میرے ساتھ محفوظ ہے۔۔”
روحان ہر لفظ پر زور دیتا بولا تھا۔
“تو پھر تم یہاں ہمارے ساتھ رہو۔۔۔اپنی بیوی کے لیے کچھ مہینے یہاں رہنا تمھارے لیے مشکل نہیں ہوگا۔۔”
آغا خان کی بات پر وہ لب بھینچ گیا تھا۔
“ٹھیک ہے پھر میں کل ہی یہاں شفٹ ہو رہا ہوں سسر جی۔۔”
وہ تپے ہوئے لہجے میں بولتا کھڑا ہوتا تیزی سے ان کے سٹڈی روم سے نکل گیا تھا۔
سٹڈی روم سے نکلتے ہی اس کی زوردار ٹکر دانین سے ہوئی تھی جو کان لگائے ان کی باتیں سننے کی کوشش کر رہی تھی۔
“تم یہاں کیا کر رہی ہو؟”
اس کے لڑکھڑاتے وجود کو مضبوطی سے اپنی باہوں میں تھامتے اس نے استفسار کیا تھا۔
“می۔۔میں بس آپ سے ملنے آئی تھی۔۔”
وہ ہلکی سی مسکراہٹ روحان کو پاس کرتی بولی تھی۔
روحان نے ائبرو اچکاتے اسے غور سے دیکھا تھا وہ آج خوش لگ رہی تھی۔
“کیوں؟”
روحان نے سنجیدگی سے سوال کیا تھا۔
“کیا میں اپنے ہبی سے نہیں مل سکتی؟”
اس نے اپنے گلابی لبوں کو کاٹتے نروس انداز میں پوچھا تھا۔
“بالکل مل سکتی ہوں لیکن یوں چھپ کر ملنے سے بہتر ہے سب کے سامنے ملا کرو۔۔تم میری بیوی ہو گرل فرینڈ نہیں ہو۔۔”
وہ سنجیدگی سے بولتا اس کی مسکراہٹ گہری کر گیا تھا۔
اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگاتے روحان نے اس کے بالوں پر لب رکھے تھے۔اس کی خوشبو کو خود میں اتارتے روحان کو سکون محسوس ہوا تھا۔
وہ اسے اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا اسے یہ نہیں معلوم تھا کون اسے مروانا چاہتا ہے مگر وہ یہ ضرور جانتا تھا دانین کی حفاظت کرنا اب اس کا فرض تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
وہ نورے کو چھوڑ کر اپنے دوست سے ملنے چلا آیا تھا جس لوگوں نے دانین پر حملہ کیا تھا اس میں سے ایک زندہ بچ گیا تھا وہ اس شخص سے مل کر پوچھنا چاہتا تھا اسے کس نے یہاں بھیجا ہے؟
“ڈیرک کیا اس نے تمھیں کچھ بتایا ؟”
شازل نے ڈیرک سے ہاتھ ملاتے پوچھا تھا۔
“نہیں کچھ نہیں بول رہا۔۔”
ڈیرک کے جواب پر وہ سر ہلاتا اپنی جیکٹ میز پر پھینکتا بازو کے کف فولڈ کرتا ڈیرک کے ساتھ چلتا اس روم کی طرف چل پڑا تھا جہاں وہ شخص بند تھا۔
وہ شخص بےہوش تھا شاید۔۔کرسی سے باندھے اس کے منہ سے خون کے قطرے زمین پر گر رہے تھے۔
“اسے ہوش میں لاو۔۔”
شازل نے اپنے کالر کے بٹن کھولتے ڈیرک سے کہا تھا جس نے ٹھنڈا پانی اس شخص کے چہرے پر گرایا تھا وہ ہڑ بڑا کر اٹھ گیا تھا۔
“مجھے جانے دو۔۔”
وہ شخص چیخا تھا۔
“ہمیں بس یہ بتا دو تمھیں کس نے بھیجا ہے تمھیں یہاں سے آزاد کر دیا جائے گا۔۔”
شازل سنجیدگی سے بولا تھا۔
“مجھے کچھ نہیں پتا۔۔”
وہ سر نفی میں ہلاتا بولا تھا۔
شازل نے ایک نظر اس پر ڈالتے سائیڈ پر پڑے ٹیبل سے کٹر اٹھایا تھا۔۔
“تمھیں کچھ نہیں پتا ؟”
شازل نے ڈیرک کو اس کا ہاتھ پکڑنے کا اشارہ کرتے پوچھا تھا جس پر وہ اس شخص کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ چکا تھا۔
“جلدی سے بتا دو کس نے دانین کو مارنے کا کہا تھا ورنہ ایک ایک کرکے ساری انگلیاں گنوا دوں گے۔۔”
شازل نے اس کی ایک انگلی کٹر سے کاٹتے سفاکیت سے کہا تھا۔اس شخص کی ایک زور دار چیخ کمرے میں گونجی تھی۔
“م۔۔میں بتاتا ہوں۔۔ “
“ہمیں نہیں پتا و۔۔وہ کون تھا۔۔ وہ بس یہ چاہتا تھا ہم لڑکی اور اس کے باپ کو مار دیں۔۔وہ کوئی پاکستانی تھا اس سے زیادہ ہمیں کچھ نہیں پتا اور وہ ہم سے خود بات نہیں کرتا تھا کوئی اور اس کی جگہ بات کرتا تھا۔”
وہ کانپتی آواز میں بول رہا تھا۔
“اس کا نام کیا تھا؟”
شازل نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے پوچھا تھا۔
“م۔۔مجھے نام نہیں پتا بس سب اسے شیر کہتے تھے۔۔”
جواب سنتے ہی شازل نے ڈیرک کو اشارہ کیا تھا ساتھ ہی وہ سیل سے نکل گیا تھا۔اپنے ہاتھ دھوتا وہ جیکٹ اٹھاتا وہاں سے نکل گیا تھا۔
“شیر۔۔”
اس کے ذہن میں یہ نام بری طرح گونج رہا تھا اس نے یہ نام سنا ہوا تھا لیکن یاد نہیں تھا کہاں؟ یا شاید یہ اس کا وہم تھا وہ سر جھٹکتا واپسی کے لیے نکل گیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“خان صاحب۔۔”
دروازے پر ناک کرتی ملائکہ ان کے روم میں داخل ہوئی تھی۔ملائکہ کی آواز سنتے آغا خان نے نظریں اٹھاتے انھیں دیکھا تھا۔
وہ انھیں ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ دیکھتی ان سے کچھ فاصلے پر بیڈ پر بیٹھ گئی تھیں۔
سکن رنگ کے سوٹ اور گہری براون شال لیے بالوں کو باندھے وہ بےحد خوبصورت لگ رہی تھیں۔
“ملائکہ۔۔کیسے یہاں آنا ہوا؟”
انھوں نے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔ان کے سوال پر ملائکہ دھیرے سے مزید مسکرا اٹھی تھیں۔آغا خان انھیں حیرت سے تک رہے تھے۔
“میں نے ایک فیصلہ کیا ہے امید ہے آپ میرے فیصلے کا احترام کریں گے خان صاحب۔۔”
وہ ان کی جانب دیکھتی دھیمے لہجے میں بولی تھیں۔
“آج سے کئی سال پہلے جب میں نے آپ سے محبت کی تھی مجھے معلوم نہیں تھا میری زندگی ایسے گزرے گی۔۔”
وہ انتہائی نرمی سے بول رہی تھیں۔
“ملائکہ۔۔”
“خان صاحب پہلے مجھے میری بات مکمل کرنے دیں شاید پھر ہمت جمع نہ کر پاوں۔۔”
وہ انھیں ٹوکتے ہوئے بولی تھیں۔۔
“آپ سے ملنا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔۔”
وہ ان کی آنکھوں میں دیکھتی بولی تھیں۔
“اگر میرے بس میں ہوتا تو میں وقت میں پیچھے جاکر خود کو آپ سے ملنے سے روک لیتی۔۔”
وہ نم لہجے میں بولی تھی۔آغا خان نے ان کی بات سنتے زور سے اپنی مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔
“آپ میری بربادی کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔۔جب جب آپ کو دیکھتی ہوں تو مجھے اپنی ذات کی بےمولی اور تباہی دکھتی ہے۔۔”
“محبت کرنا ہمارے بس میں نہیں تھا۔۔ اگر میں خود کو روک سکتی تو سب سے پہلے اپنے دل و دماغ سے آپ کے دماغ کو مٹاتی۔۔آپ میری زندگی کا سیاہ بخت ہیں۔۔”
بولتے ہوئے ملائکہ کی آنکھ سے آنسو نکلتے اس کی شفاف گال پر بہہ گیا تھا۔آغا خان کی نظر ان کے گال سے بہتے آنسو کی طرف گئی تھیں۔ملائکہ کے لہجے میں سالوں کا کرب چھپا تھا جسے آغا خان بخوبی محسوس کر پا رہے تھے۔
“آپ نے ہمیشہ مجھے بےمول کیا۔۔ ہمارے نکاح کو کسی گناہ کی طرح اپنی بیٹی سے چھپا کر رکھا۔۔مجھے میری بیٹی سے الگ کردیا اور زبردستی یہاں اپنے ساتھ اس بےنام رشتے میں باندھے رکھا۔۔لیکن اب میرے ضبط کی انتہا ہوگئی ہے خان صاحب۔۔ میں نے یہ قبول کرلیا ہے شاید اللہ پاک نے میری زندگی میں خوشیاں لکھی ہی نہیں ہیں۔۔میں نے کبھی اللہ سے شکوہ نہیں کیا لیکن جب جب آپ کو دیکھتی ہوں دل سے بےاختیار ایک شکوہ نکلتا ہے مجھے آپ جیسے شخص سے کیوں ملوایا؟ جسے نہ میرے جذباتوں کا خیال پے نہ ہی میرا۔۔”
ملائکہ کی باتیں سن کر وہ سختی سے آنکھیں میچ گئے تھے۔وہ سچ ہی بول رہی تھیں۔
“لیکن بس اب میں مزید برداشت نہیں کروں گی۔۔یہ خلا کے پیپرز ہیں۔۔میں سائن کرچکی ہوں۔۔”
وہ ہلکی مسکان کے ساتھ بولی تھیں۔ساتھ ہی اپنے ہاتھ میں فولڈ کاغذ آغا خان کی طرف بڑھائے تھے جو وہ پہلے دیکھ نہیں پائے تھے۔
“میں اب آزاد ہونا چاہتی ہوں۔۔ میں مزید آپ کے ساتھ اس بےنام رشتے میں باندھ کر نہیں رہنا چاہتی۔۔”
“کونسے رشتے میں؟”
دانین نے حیرانی سے دونوں کو دیکھتے پوچھا تھا وہ ان کے کمرے کے باہر سے گزر رہی تھی جب باتوں کی آوازیں سن کر اس طرف آئی تھیں۔
“دانین جاو یہاں سے۔۔”
آغا خان ملائکہ پر نظریں جمائے سخت لہجے میں بولے تھے۔
“بابا۔۔”
“میں نے کہا جاو یہاں سے۔۔”
آغا خان کے تیز لہجے کو سن کر وہ تیزی سے وہاں سے نکل گئی تھی۔
آغا خان نے ملائکہ کی آنکھوں سے آنکھیں ملاتے کاغذات کو پکڑا تھا۔
“مجھ سے آزادی چاہتی ہو؟”
آغا خان نے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔ملائکہ نے ان کی طرف دیکھتے ہاں میں سر ہلایا تھا۔آغا خان نے ان کی طرف دیکھتے خلا کے پیپرز کو درمیان سے دو ہندسوں میں پھاڑ دیا تھا۔
“یہ کیا کر رہے ہیں؟”
ملائکہ غصے سے بولی تھیں۔انھوں نے پیپرز اچھالتے ملائکہ کے قریب ہوتے ان کا چہرہ اپنی گرفت میں لیا تھا۔
“مجھے ایک موقع دو۔۔ سب سدھارنے کا۔۔ میں تمھاری بیٹی کو بھی ڈھونڈ نکالوں گا۔۔دانین کو بھی سب کچھ بتا دوں گا۔۔”
آغا خان ملائکہ کے ماتھے سے ماتھا جوڑتے سنجیدگی سے بولے تھے۔
“یہ ممکن نہیں۔۔”
وہ ان کی آنکھوں میں دیکھتی نرمی سے بولی تھی۔
“بس ایک آخری موقع۔۔ میرا دل تم سے جدائی برداشت نہیں کرپائے گا ملائکہ۔۔”
وہ جذب کے عالم میں بولے تھے۔
“آخری موقع خان صاحب۔۔”
وہ آغا خان کا لمس اپنی پیشانی پر محسوس کرتیں لب بھینچ کر اور آنکھیں بند کرکے بولی تھی۔وہ جانتی تھیں ایک بار پھر اپنا فیصلہ بدل کر وہ خود سے ناانصافی کر رہی تھیں۔مگر وہ انھیں ایک موقع دینا چاہتا تھیں۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“نورے۔۔۔”
شور کی آواز سے اس کی آنکھ کھلی تھی۔اپنے سامنے عادل اور کچھ آفیسرز کو دیکھتے اس کی آنکھیں فورا کھل گئی تھیں۔
“آر یو آلرائیٹ؟”
عادل نے پریشانی سے پوچھا تھا۔
“شازل کہاں ہیں؟”
اس نے آنکھیں جھپکاتے انجانے خوف کے زیرِ اثر پوچھا تھا۔
“وہ یہاں نہیں ہے کیا اس نے تمھیں کوئی نقصان پہنچایا ؟”
عادل نے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔
“نہیں۔۔وہ مجھے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔۔”
اس نے نفی میں سر ہلاتے فورا جواب دیا تھا۔
“سر۔۔”
عادل کا ساتھی ابھی اسے پکار ہی رہا تھا جب شازل تیزی سے سب کو اگنور کرتا اندر داخل ہوا تھا۔شازل کو دیکھ کر نورے نے ایک سکون کی سانس بھری تھی۔شازل وہاں موجودسب میل آفسرز کو غصےسے گھور رہا تھا۔
“اسے اریسٹ کرو فورا۔۔”
عادل کی بات پر نورے فورا چیخ اٹھی تھیں۔
“نہیں۔۔ آپ جائیں یہاں سے۔۔ ہمیں اکیلا چھوڑ دیں۔۔ میں واپس پاکستان جارہی ہوں۔۔ سوری بھائی آپ کو پریشان کیا۔۔”
وہ عادل کی طرف دیکھتی آخر میں شرمندہ سی بولی تھی۔
“میں تمھیں اس کے ساتھ جانے نہیں دے سکتا۔۔ پہلے تمھیں شاہزیب سے بات کرنی ہوگی وہ اجازت دے گا تو تم اس کے ساتھ یہاں سے چلی جانا۔۔”
عادل نے باقیوں کو باہر جانے کا اشارہ کرتے اپنا فون نکالتے شاہزیب کو کال ملائی تھی۔
عادل نے ساری سچوئیشن شاہزیب کو بتاتے فون نورے کو تھمایا تھا۔نورے ایک نظر شازل اور عادل پر ڈالتی فون تھام چکی تھی۔
شاہزیب اس سے سخت ناراض اور غصہ تھا۔لیکن وہ اپنی باتوں سے اسے تھوڑا بہت قائل کرچکی تھی۔
شاہزیب کے مثبت جواب پر نورے نے عادل کس وہاں سے جانے کا بول دیا تھا۔
“اٹھو اور فریش ہوکر کھانا کھاو۔۔”
سب لوگوں کے جاتے ہی شازل نے نورے کی جانب دیکھتے کہا تھا۔جانتا تھا صبح سے اس نے کچھ نہیں کھایا۔
“آپ نہیں کھائیں گے؟”
اس نے اٹھتے ہوئے پوچھا تھا۔
“نہیں میں پیکنگ کرنے لگا ہوں پھر شام کو وقت سے نکلنا بھی ہے۔۔”
وہ واشروم کی طرف بڑھتی نورے کو بازو سے تھام کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیتا بولا تھا۔نورے اس کے لمس پر دھیرے سے مسکراتی تیزی سے واشروم میں چلی گئی تھی۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟؟”
اسے صبح صبح گھر میں دیکھ کر دانین نے حیرت سے پوچھا تھا۔وہ آج آغا خان سے کل والے واقعے کہ بات کرنا چاہتی تھی مگر ان کے غصے کی وجہ سے ہمت نہیں تھی تبھی وہ ناشتہ کرتی لان میں والک کرنے آگئی تھی تاکہ مائینڈ فریش ہوجائے اپنے سامنے روحان کو دیکھ کر وہ چونک گئی تھی۔
“گھر داماد بننے کی تیاری کر رہا ہوں۔۔”
روحان کے جواب پر وہ بےاختیار ہنس پڑی تھی۔
“آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟”
اس نے ناسمجھی سے پوچھا تھا۔
“میں اس گھر میں شفٹ ہورہا ہوں۔۔”
وہ خان ہاوس کی طرف اشارہ کرتا بولا تھا۔
“کیوں؟”
اس نے لب کاٹتے پوچھا تھا۔
“اگر تم کہتی ہو تو واپس چلا جاتا ہوں۔۔”
روحان کے جواب پر وہ گڑبڑا گئی تھی۔
“نہیں میرا یہ مطلب نہیں تھا۔۔”
اس کے گھبرانے پر روحان محظوظ ہوا تھا۔
“اپنی جان سے پیاری بیوی سےدوری برداشت نہیں ہورہی تبھی انکل کے کہنے پر یہاں شفٹ ہورہا ہوں۔۔تاکہ تمھارے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزار سکوں۔۔”
اس کے جواب پر دانین بےساختہ مسکرا اٹھی تھی۔
اسے باہوں کے حصار میں بھرتا روحان اپنے ساتھ اندر لے گیا تھا۔
(ماضی)
وہ شازل کے رویے سے بےدل ہو گئی تھی اس کا دل شازل سے بالکل ہی اٹھ گیا تھا۔اگلے دن سکول سے چھٹی کے بعد وہ بہارے گل کے ساتھ جب سکول سے باہر نکلی تو اس کی نظر کچھ فاصلے پر گاڑی میں بیٹھے سفیان کی جانب اٹھی تھی جو مسکراتے ہوئے اسے تک رہی تھی۔
اس کے یوں تکنے پر وہ گھبرا گئی تھی جب کہ سفیان کے آنکھ ونک کرنے پر وہ شرمندہ ہوتی نظریں جھکاتی تیزی سے اپنے ڈرائیور کو دیکھتی بہارے گل کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔
وہ گھر آئی تو اس کی سوچوں پر سفیان بری طرح چھایا ہوا تھا۔وہ شازل جتنا خوبصورت تو نہ تھا لیکن خوش شکل ضرور تھا۔
“لالی۔۔ میرے اور حیدر کے لیے چائے بنا دو پلیز۔۔ موم گھر پر نہیں ہیں اور ملازمہ کے ہاتھ کی میں پینا نہیں چاہتا۔۔”
شازل نے ڈرائینگ روم سے نکلتے بہارے گل کو کہا تھا جو دانین کے ساتھ کھڑی تھی۔
“اوکے لالا میں ابھی فریش ہوکر بنا دیتی ہوں۔۔”
وہ مسکرا کر بولی تھی۔شازل اس کے سر پر ہاتھ رکھتا واپس چلا گیا تھا جبکہ اس دوران وہ دانین کو مکمل اگنور کر گیا تھا جو اسے بالکل بھی پسند نہیں آیا تھا۔
“دیکھا تمھارا بھائی کتنا بدتمیز ہے مجھے کس طرح اگنور کر کے گیا ہے۔۔”
وہ غصے سے بہارے گل سے بولی تھی جس پر وہ بری طرح گھبرا گئی تھی۔
“ایسی کوئی بات نہیں ہے دانین تم غلط سمجھ رہی ہو۔۔”
بہارے گل نرم لہجے میں بولی تھی۔
“آئی ہیٹ ہیم۔۔”
وہ نفرت سے پھنکارتی اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔
بہارے گل اسے پکارتی رہ گئی تھی مگر وہ رکی نہیں تھی۔
بہارے گل اسے بعد میں بات کرنے کا سوچتی فریش ہوکر چائے بنانے چلی گئی تھی۔
چائے کے ساتھ وہ فریزر سے کباب اور شامیوں کے ساتھ نگٹس فرائی کرچکی تھی۔اسے ٹرے میں رکھتی اپنا دوپٹہ سر پر اوڑھتی وہ ڈرائینگ روم کی طرف بڑھ گئی تھی۔اس کے پیچھے ملازمہ دوسری ٹرے اٹھائے چلی آرہی تھی۔
“السلام علیکم بھائی۔۔”
اس نے حیدر کی جانب دیکھا بنا دھیمی آواز میں کہا تھا۔حیدر نے بغور اسے دیکھا تھا جو پرپل سوٹ میں سفید دوپٹہ اوڑھے گڑیا لگ رہی تھی۔حیدر کی نظریں خود پر محسوس کرتے اس کے ہاتھ ہلکے سے کپکپا اٹھے تھے۔وہ اتنی بھی ناسمجھ نہیں تھی کہ مقابل کی نظروں کا مفہوم نہ سمجھ پائے۔۔شازل کوئی کال سن رہا تھا ورنہ حیدر کی ہمت نہیں تھی وہ اسے شازل کے سامنے نظر اٹھا کر بھی دیکھ لے۔۔
تیزی سے چیزیں رکھواتی اس نے کانپتے ہاتھ سے چائے کا کپ اٹھاتے حیدر کے سامنے رکھا تھا۔
“تھینک یو بہارے۔۔”
شازل بھاری آواز میں چائے کا کپ اٹھاتا بولا تھا۔بہارے گل سر ہلاتی اپنا دوپٹہ مضبوطی سے تھامتے تیزی سے پلٹ کر وہاں سے نکل گئی تھی۔اپنے دل پر ہاتھ رکھے اس نے اپنے ماتھے پر آیا پسینہ دھیرے سے صاف کیا تھا۔
“دانین بیٹا آپ کے لیے کھانا لے کر آوں۔۔؟”
ملائکہ نے اس کے کمرے میں داخل ہوتے پوچھا تھا۔
“اگر مجھے کچھ کھانا ہوا تو میں آپ کو بتا دوں گی۔۔ یوں بار بار میرے کمرے میں آکر مجھے ڈسٹرب مت کیا کریں۔۔”
وہ جس قدر بدتمیزی سے بولی تھی ملائکہ ایک پل کو خاموش ہوگئی تھی۔
“مجھے بس تمھاری فکر ہے دانین۔۔”
وہ نرمی سے بولی تھیں۔
“میری ماں بننے کی کوشش مت کریں اور جائیں یہاں سے۔۔”
اس کی بات نے ملائکہ کو بری طرح زخمی کیا تھا وہ خاموشی سے لب بھینچتی وہاں سے نکل گئی تھیں۔
وہ ملائکہ کے جاتے ہی منہ بگاڑتی موبائل پکڑے سوشل میڈیا پر سکرولنگ کرنے لگی تھی اچانک اسے وٹس ایپ پر کسی ان ناون نمبر سے میسج آِیا تھا۔
“Hey pretty girl!!”
میسج پڑھتے اس کے ماتھے پر بل پڑے تھے۔
“Who are you?”
اس نے بیڈ پر لیٹتے ریپلائے کیا تھا۔اب وہ اشیاق سے ریپلائے آنے کا انتظار کر رہی تھی۔
“آپ کو چاہنے والا۔۔”
اس کے ریپلائے کو پڑھ کر دانین کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھری تھی۔
“اوہ سیریسلی؟”
اس نے جوابا پوچھا تھا۔اوراس طرح ایک بےنام شخص سے بات کرتے ہوئے وہ مسکراتے ہوئے اپنی بربادی کی طرف پہلا قدم بڑھا چکی تھی۔
اور پھر اس انجان شخص سے بات کرنے کا ایک سلسلہ چل اٹھا تھا۔دانین ساری رات اس سے باتیں کرتی رہتی تھی۔اس نے گھر میں کسی کو یہ محسوس نہیں کروایا تھا کہ وہ ایک انجان شخص سے محبت کرنے لگی تھی۔
“میں تم سے ملنا چاہتی ہوں۔۔”
اس نے ایک رات میسج کیا تھا اس شخص نے نہ ہی اپنا نام بتایا ہوا تھا نہ ہی اپنی کوئی تصویر دانین کو دکھائی تھی وہ اس سے ملنے کے لیے بےحد بےتاب تھی۔
“کل میں تم سے ملوں گا سکول کے باہر۔۔”
اس شخص کا ریپلائے آیا تھا۔
“اوکے۔۔”
وہ جھٹ سے راضی ہوگئی تھی۔کل بہارے گل نے چھٹی کرنی تھی کیونکہ شازل واپس جارہا تھا اس نے شازل کوچھوڑنے ائیر پورٹ جانا تھا اور اس کے پاس سنہری موقع تھا اس شخص سے ملنے کا۔۔
اگلے دن وہ اچھے سے تیار ہوتی میک اپ کی چیزیں اور باڈی سپرے اپنے بیگ میں بھی رکھ چکی تھی۔چھٹی سے پہلے وہ اپنا میک اپ فریش کرچکی تھی ساتھ ہی اپنے بال بھی بنا چکی تھی۔
اس نے ڈرائیور کو لیٹ آنے کا ٹائم دیا تھا اس لیے وہ بےفکر سی سکول سے باہر نکلی تھی اور اپنے بیگ میں سے فون نکال کر اس شخص کو کال ملائی تھی ۔جب کچھ فاصلے پر موجود ایک گاڑی میں بیٹھے سفیان نے اس کی طرف دیکھتے ہاتھ ہلاتے فون کان سے لگایا تھا۔
“مجھے پہلے ہی شک تھا یہ تم ہو۔۔”
وہ خوشی سے چہکتے ہوئے بولی تھی۔
“ہاہاہا اب دیکھ لیا۔۔ خوش ہو؟”
اس نے دانین کا ہاتھ تھامتے پوچھا تھا۔اس کا یوں ہاتھ تھامنا دانین کو پسند نہیں آیا تھا لیکن وہ خاموش ہوگئی تھی۔
“یہ تمھارے لیے کچھ گفٹس۔۔”
سفیان نے تین باکس اس کے سامنے رکھے تھے۔دانین کی آنکھیں خوشی سے پھیل گئی تھیں۔
“انھیں کھول کر دیکھو۔۔”
سفیان کے بولنے پر وہ اشتیاق سے انھیں کھولنے لگی تھی جس میں سے ایک لاکٹ ، ایک مہنگا پرفیوم اور گولڈ بریسلیٹ نکلا تھا۔
“اوہ مائی گاڈ تھینک یوسو مچ سفیان۔۔”
وہ خوشی سے چہکتی بولی تھی۔
“آئی لو یو میری جان۔۔”
اس کے ہاتھ کو نرمی سے سہلاتا وہ بولا تھا۔دانین کی دھڑکنیں بےساختہ بڑھ گئی تھیں۔اس کے اظہار سے وہ آسمان پر اڑنے لگی تھی۔
سفیان سے باتیں کرتے اسے وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا تھا۔وہ سفیان سے دوبارہ ملنے کا وعدہ کرتی واپس چلی گئی تھی۔سفیان اسے جاتے دیکھ کر ایک دم سنجیدہ ہوتا اپنہ سگریٹ نکال کر سلگانے لگا تھا۔
“بےوقوف لڑکی۔۔”
وہ سگریٹ کے گہرے کش لیتا بڑبڑایا تھا۔دانین کو اگر اس کے ارادوں کی زرا بھی خبر ہوتی تو یقینا وہ اس پیارے چہرے کے پیچھے چھپے شیطان صفت انسان سے کوسوں دور بھاگتی مگر نئی نئی محبت کا نشہ سر چڑھ کر بولتا اس کی عقل پر پردے ڈال گیا تھا۔
