Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes NovelR50560 Professor Shah (Episode 33)
Rate this Novel
Professor Shah (Episode 33)
Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes
“نورے۔۔”
شازل کے پکارنے پر اس نے نیند سے بھری آنکھیں دھیرے سے کھولی تھی۔شازل کے چہرے پر ذومعنی مسکراہٹ دیکھتے وہ اپنا چہرہ کمفرٹر میں چھپا گئی تھی۔اس نے اسے ساری رات سونے نہیں دیا تھا۔ابھی اسے سوئے دو گھنٹے ہی ہوئے تھے۔
شازل نورے ک سرخ چہرہ دیکھ کر ہنس پڑا تھا۔اس کی ہنسی پر وہ مزید سرخ ہوئی تھی۔وہ اس وقت اسی کی شرٹ میں ملبوس تھی۔جو اس کی گھٹنوں تک پہنچ رہی تھی۔
“زوجہ اٹھنے کا کوئی ارادہ ہے؟”
شازل نے دھیرے سے کمفرٹر اس کے چہرے سے ہٹاتے پوچھا تھا۔
“مجھے نیند آرہی ہے شازل۔۔”
وہ آنکھیں میچتے معصومیت سے بولی تھی۔شازل نے دھیرے سے اس کی ناک کو دبایا تھا۔شرم و حیا سے مقابل کے گال سرخ ہوگئے تھے۔
“ہمیں واپسی کے لیے نکلنا ہے جلدی سے اٹھ کر فریش ہوجاو۔۔”
وہ اسے زبردستی اٹھاتا اس کے بالوں سے اٹھتی مہک سے سرور ہوتا بولا تھا۔
نورے منہ بنا کر اٹھ پڑی تھی۔شازل کا مائینڈ کافی حد تک فریش ہو گیا تھا اب وہ واپس گھر جاکر سکون سے محب خان سے بات کرنا چاہتا تھا کہ کیوں انھوں نے اس سے اور باقی سب سے بہارے گل کو چھپا کر رکھا تھا؟
دل میں خوشی بھی تھی کہ اکلوتی بہن زندہ اور صحیح سلامت ہے مگر کئی گلے بھی تھے۔۔۔
“شازل۔۔۔شازل۔۔”
اسے سوچ میں ڈوبے دیکھ کر نورے نے اس کے چہرے پر ہاتھ رکھا تھا شازل نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا تھا۔اس کا ہاتھ پکڑتا اپنے ہونٹوں سے لگاتے وہ اس کی جانب متوجہ ہوا تھا۔
“کہاں کھو گئے تھے؟”
وہ منہ پھولاتی پوچھ رہی تھی۔
“تمھارے خیالوں۔۔”
وہ اسے اپنے قریب کھینچتا اس کے ہونٹوں پر شدت بھری جسارت کرتا بولا تھا۔نورے کا چہرہ پل میں گلال ہوا تھا۔
“ناٹ فئیر۔۔”
وہ شازل سے دور ہٹ کر کھڑی ہوتی بولی تھی۔شازل نے لب بھینچتے گہری نظروں سے اس کا جائزہ لیا تھا جب نورے کی نظر بھی اپنے حلیہ پر گئی تھی۔وہ ہلکی سی چیخ مارتی تیزی سے واشروم میں بھاگتی بند ہو گئی تھی۔اپنے پیچھے شازل کی زور دار قہقہے کی آواز سن کر وہ اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا گئی تھی۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“مجھے زرکشہ سے ملنا ہے۔۔”
احمد نے جون سے کہا تھا جو ڈینیل کے کہنے پر ہر روز اسے ٹرین کرتا تھا۔مگر احمد ایسا کچھ نہیں چاہتا تھا وہ ایک بار بھاگنے کی کوشش بھی کرچکا تھا مگر ان لوگوں نے جلد ہی اسے پکڑ لیا تھا۔اس کے بعد اسے دو دن تک ان لوگوں نے کچھ کھانے کو نہیں دیا تھا۔
“باس کا حکم ہے تم اس سے نہیں مل سکتے۔۔”
جون نے بھاری آواز میں جواب دیا تھا۔
“تم میری کوئی مدد کر سکتے ہو؟ میں صرف اسے ایک نظر ہی دیکھنا چاہتا ہوں۔۔میں کچھ نہیں کروں گا اس کے علاوہ۔۔”
وہ لب دبا کر بولا تھا۔جون نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔
“مجھے باس کے ہاتھوں مرنے کا کوئی شوق نہیں ہے احمد۔۔”
وہ احمد کے کندھے پر ہاتھ رکھتا بولا تھا۔
“تمھارے لیے یہ ہی بہتر ہے کہ تم بوس کا حکم مانو اور اپنی ٹرینگ پر دھیان دو۔۔”
جون کے کہنے پر وہ لب بھینچتا واپس اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔اسے یہ تو پتا تھا زرکشہ گھر کے اندرونی حصہ میں ہے اب بس اسے کسی طرح اندر جانا تھا۔وہ رات ہوتے ہی آہستہ سے اپنے روم سے باہر نکلا تھا۔وہ مینشن کے اندرونی حصے کی جانب بڑھ رہا تھا جب ایک بھاری آواز نے اسے روکا تھا۔
“مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی احمد۔۔”
ڈینیل کی آواز سنتا وہ لب بھینچ گیا تھا۔
“مجھے زرکشہ سے ملنا ہے۔۔”
وہ اس کی جانب پلٹ کر بولا تھا۔
“ناٹ پاسبل۔۔ جب تک تم اپنی ٹرینگ مکمل نہیں کر لیتے تم زرکشہ سے نہیں مل سکتے۔۔اور اب دوبارہ مینشن کے اندر جانے کا سوچنا بھی مت ورنہ اس کی سزا تمھاری بہن کو ملے گی۔۔ناو گو بیک ٹو یور روم۔۔”
ڈینیل کے سخت لہجے میں کہنے پر وہ منہ پھولاتا تیزی سے اپنے کمرے میں بند ہو گیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
ّوہ لوگ واپسی کے لیے نکلنے لگے تھے جب ایک جگہ رکتے شازل اور نورے نے ناشتہ کیا تھا۔نورے کا کافی پینے کا دل تھا اس کے کہنے پے شازل کافی لینے گیا تھا۔
“سویٹ ہارٹ۔۔”
کسی کے سیٹی مار کر پکارنے پر نورے نے ماتھے پر بل ڈال کر نظریں اٹھا کر دائیں جانب دیکھا تھا جہاں کوئی سولہ سترہ سال کا لڑکا اسے چھیڑ رہا تھا۔شازل کچھ دور ہی کھڑا اس کے لیے کافی لے رہا تھا جب آواز سنتا وہ پیچھے کی جانب مڑا تھا۔
شازل کافی پکڑتا ایک ہی جست میں نورے کے پاس پہنچتا اس کو کافی تھما کر اسے کمر سے تھام چکا تھا۔نورے نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھ کر اس کی آنکھوں میں ابھرتا غصہ دیکھ کر اسے روک دیا تھا۔شازل اس لڑکے کو غصہ سے بھری نظروں سے دیکھتا نورے پر گرفت مضبوط کرگیا تھا۔
جب دوبارہ پیچھے سے طنزیہ سیٹی سنتے شازل نے جھٹکے سے اپنا بازو نورے سے چھڑوایا تھا۔نورے کے ہاتھ میں پکڑی کافی اس کے ہاتھ پر چھلک کر پڑتی زمین بوس ہوگئی تھی۔
“شازل۔۔”
حیرت کی زیادتی سے اس کی آنکھیں پھیل گئی تھیں۔شازل نے اس کے منہ پر زوردار مکہ مارا تھا۔
“بچہ ہے وہ شازل چھوڑ دیں اسے۔۔”
وہ اس کا بازو پکڑتے ہوئے بولی تھی۔شازل نے اس لڑکے کو کالر سے پکڑ کر جھنجھوڑ دیا تھا۔
“دوبارہ کبھی میں نے تمھیں کسی لڑکی کو چھیڑتے دیکھا تو تمھیں تمھارے گھر سے ڈھونڈ کر وہ حشر کروں گا دوبارہ سیٹی بجانے کے قابل نہیں رہو گے۔۔”
وہ نورے کی بات پر خود کو کنٹرول کرتا اس لڑکے کو دھمکا کر جھٹکے سے چھوڑ گیا تھا۔وہ لڑکا بھی سہم کر تیزی سے بھاگ گیا تھا۔
نورے کا ہاتھ پکڑتا وہ تیزی سے وہاں سے نکل گیا تھا جب اچانک نورے کے منہ سے سسکی سنتا وہ رکا تھا۔
“میرا ہاتھ۔۔”
وہ نرم آواز میں لب بھینچ کر بولی تھی شازل کی نظر بےساختہ اس کے ہاتھ کی طرف گئی تھی نورے کے ہاتھ کی سرخ جلد کو دیکھتے اس نے بےساختہ اس کے ہاتھ پر پھونک مارتے اسے ہونٹوں سے لگا لیا تھا۔
“سوری جانم۔۔ زیادہ درد تو نہیں ہو رہی؟”
گاڑی میں بیٹھتے شازل نے اس کا سرخ پڑتا ہاتھ تھامتے اس کے ہاتھ پر دھیرے سے پھونک مارنا شروع کی تھی۔
“آپ ہمیشہ اپنے غصے میں مجھے تکلیف پہنچا جاتے ہیں۔۔”
وہ شکوہ کن لہجے میں بولی تھی۔شازل شرمندہ ہوگیا تھا۔یہ بات سچ تھی وہ بھی اس سے اتفاق کرتا تھا۔
“تم میری زندگی کا ایک قیمتی اثاثہ ہو نورے۔۔”
وہ اس کی انگلیوں کی پوروں کو ہونٹوں سے چھوتا بولا تھا۔
“جانے انجانے میں تمھیں تکلیف دے جاتا ہوں۔۔”
“لیکن تمھارا حق بنتا ہے تم مجھ سے لڑو اور کبھی مجھے تکلیف پہنچاتے دیکھو تو مجھے بھی ویسی تکلیف دو۔۔ تاکہ مجھے اس بات کا احساس رہے میں تمھارے ساتھ زیادتی کر رہا ہوں۔۔”
وہ سنجیدگی سے بولتا نورے کو بے حد پیارا لگا تھا۔
“ٹھیک ہے مسٹر شازل خان۔۔اب چلیں ہمیں واپس بھی جانا ہے۔۔”
وہ شازل کا ہاتھ تھام کر پیار سے سہلاتی بولی تھی۔۔شازل سر ہلاتا واپسی کی جانب گامزن تھا جہاں نئے امتحان ان کے لیے کھڑے تھے۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“تم رات کو سوئی نہیں۔۔؟”
روحان نے اس کی آنکھوں کے گرد گہرے سیاہ ہلکے دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھا تھا۔ وہ خود بھی دانین کو لے کر آج کل کافی پریشان تھا۔
“آپ کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے میں جیوں یا مروں۔۔”
وہ روحان کی طرف اپنی پشت کرتی کھڑی ہوگئی تھی۔روحان نے اس کے جواب پر لب بھینچ لیے تھے وہ اس کے لیے کھانا لے کر آیا تھا ملائکہ سے اسے پتا چلا تھا وہ صحیح سے کھانا بھی نہیں آج کل کھا رہی۔۔ تبھی وہ اس کیے لیے کھانا لے کر آیا تھا۔
“اگر ایسی بات ہوتی تو میں کبھی تمھارے پیچھے سب کچھ چھوڑ کر پاکستان نہیں آتا۔۔”
وہ اسے بازو سے پکڑتا اپنے روبرو کرتا سنجیدگی سے بولا تھا۔دانین نے نظریں اٹھا کر اسے شکوہ کن نگاہوں سے دیکھا تھا۔
“پھر مجھے کیوں اگنور کر رہے ہیں؟”
“مجھے اپنے گناہوں کی سزا مل چکی ہے روحان بلکہ پل پل ملتی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ابھی میرا سانس بند ہوجائے گا۔۔روحان۔۔ مجھے صرف آپ سے ایسی امید نہ تھی کہ سچائی جاننے کے بعد آپ کو میرا وجود ناقابلِ برداشت لگنے لگے گا۔۔”
“مجھے ایسا لگنے لگا ہے میری ماضی کی سیاہی میرے حال میں داخل ہوگئی ہے میں سیاہ بخت ہوگئی ہوں روحان خوشیاں اب مجھے راس نہیں آتی۔۔”
وہ نم آنکھوں سے بولی تھی۔۔
“شش۔۔ ایسی فضول باتیں مت کیا کرو۔۔”
اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھتے وہ سنجیدگی سے بولا تھا۔
“مجھے کچھ سپیس چاہیے تھی سب سمجھنے میں دانین۔۔ تم میری زندگی کا ایک خوبصورت حصہ ہو۔۔ میں تم سے کبھی دور نہیں ہوسکتا۔۔تم سے دور رہ کر میں بھی خوش نہیں تھا۔۔”
وہ دانین کا چہرہ تھام کر بول رہا تھا۔دانین نے اس کی بات سنتے گہرا سانس لیا تھا۔نم آنکھوں سے چند قطرے گرتے اس کے چہرے کو نم کر گئے تھے۔
روحان نے اپنے ہونٹوں سے اس کے آنسو چن لیے تھے۔اسے سینے سے لگاتے وہ پرسکون ہوگیا تھا۔اس سے دور رہنے پر جو اتنے دنوں سے من میں کھلبلی مچی ہوئی تھی وہ ایک دم ختم ہوگئی تھی۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
صبح سے مینشن میں عجیب ہلچل مچی ہوئی تھی۔ ڈیزی نے زرکشہ کو ڈینیل کے کہنے پر کیچن میں ہیلپ کرنے کے لیے کہا تھا۔
“کیا یہاں کوئی آرہا ہے؟”
زرکشہ نے کھانے تیزی سے بناتی عورت سے پوچھا تھا۔
“باس کے کچھ دوست آرہے ہیں۔۔”
زرکشہ کی طرف دیکھے بنا اس عورت نے دھیمی آواز میں جواب دیا تھا۔
“اوہ اچھا۔۔”
وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی تھی۔وہ سوچ رہی تھی شاید ڈینیل کا کوئی دوست اس کی مدد کر سکے۔۔اسے اور اس کے بھائی کو اس جیل نما مینشن سے نکلوا سکے۔۔
“تم کہاں جا رہی ہو؟”
مہمانوں کے آتے ہی زرکشہ موقع دیکھتے ٹرے اٹھا کر باہر جانے لگی تھی جب ڈیزی نے اسے گھور کر روکا تھا۔
“میں۔۔ میں ڈرنکس سرو کرنے جا رہی تھی۔۔”
وہ اپنے ہونٹ تر کرتی ہوئی بولی تھی۔۔
“کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔ باقی سرونٹس کر لیں گے تم یہاں ہی رہو گی۔۔”
ڈیزی کی سخت آواز سنتے اس نے برا سا منہ بنایا تھا۔
“اوکے۔۔”
وہ اسے ٹرے تھماتی منہ بنا کر رخ پھیر گئی تھی۔
جیسے جیسے لنچ کا ٹائم قریب آتا جا رہا تھا کیچن میں رش بڑھتا جا رہا تھا۔
“افف۔۔تم یہ ٹرے پکڑو اور باہر لے کر جاو۔۔”
اسے فارغ دیکھتے کھانے کی ٹرے پکڑاتے کسی ملازمہ نے کہا تھا۔ وہ تو موقع کی طاق میں تھی فورا ٹرے تھام گئی تھی۔
“دھیان سے۔۔”
زرکشہ کو لڑکھڑاتے دیکھ کر وہ ملازمہ سختی سے بولی تھی۔اپنا کام زرکشہ کو دینے پر وہ کافی پرسکون لگنے لگی تھی۔
ٹرے کو پکڑے جیسے ہی وہ ڈائینگ روم میں اینٹر ہوئی تھی اس کی سانس خشک پڑ گئے تھے۔ تقریبا سب لوگ بلیک تھری پیس سوٹ میں تھے۔ روم میں تمباکو اور سگریٹ کی بدبو حد سے زیادہ پھیلی ہوئی تھی۔
وہ اپنی کھانسی روکتی بمشکل ٹیبل تک پہنچی تھی اس کے ہاتھ ہلکے ہلکے کپکپانے لگے تھے۔جب اچانک اسے محسوس ہوا روم میں گہری خاموشی چھا گئی ہے۔۔
اس نے نظریں اٹھا کر اوپر دیکھا تھا سب اسے گہری نظروں سے تاڑ رہے تھے۔ اسے اپنے ہاتھوں اور پیروں میں باقائدہ لرزش محسوس ہوئی تھی۔ وہ اپنے حجاب اور ڈریس کی وجہ سے سب سے مختلف لگ رہی تھی۔
“اوہ۔۔تم نے اسے تب سے کہاں چھپا کر رکھا ہوا تھا ڈینیل۔۔”
کسی نے سیٹی مارتے کمینی ہنسی ہنستے ہوئے پوچھا تھا۔
زرکشہ نے غلطی سے بھی ڈینیل کی طرف دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
ڈینیل نے غصے میں اپنی مٹھیاں بھینچ لی تھیں۔ وہ فنا کردینے والی نظروں سے زرکشہ کو گھور رہا تھا۔دل کر رہا تھا اسے زندہ زمین میں گاڑھ دے۔۔
زرکشہ خاموشی سے موڑتے وہاں سے تیزی سے جانے لگی تھی جب کسی نے اس کی کلائی تھامتے اسے اپنی جانب کھینچتے اسے اپنی گود میں بیٹھا لیا تھا۔زرکشہ ایک پل لے لیے سن پڑ گئی تھی۔
جب اچانک گولی چلنے کی آواز پر وہ ساکت ہوگئی تھی۔اسے اپنے منہ پر کچھ گیلا محسوس ہوا تھا ساتھ ہی اس کی کلائی پر گرفت ڈھیلی پڑ گئی تھی۔
اس نے سکتے میں اپنا سر دائیں طرف کیا تھا اس آدمی کے ماتھے کے درمیان میں گولی دیکھتے اس کے منہ سے زور دار چیخ نکلی تھی۔وہ کانپتی ہوئی تیزی سے اٹھتی زمین پر گری تھی۔
زمین پر گھسیٹتے ہوئے وہ پیچھے ہٹنے لگی تھی۔اپنے منہ پر ہاتھ لگاتے اس نے اپنی نظروں کے سامنے کیا تھا۔خون کے قطرے دیکھتے اس کی نظر بےساختہ ڈینیل کی طرف گئی تھیں۔جو غصے سے سرخ چہرے کے ساتھ گن تھامے اپنی سیٹ پر بیٹھا تھا۔
ہر کوئی اسے اگنور کیے ڈینیل کو دیکھ رہا تھا۔
“ڈونٹ ٹچ ہر۔۔”
“شی از مائی پروپرٹی۔۔”
وہ سرد آواز میں بولا تھا۔
“تم پاگل ہوگئے ہو تم نے ڈون کے بھائی کو مار دیا ہے۔۔”
ان میں سے ایک آدمی چیختا ہوا کھڑا ہوا تھا۔ جب ایک بار پھر وہاں گولی کی آواز گونجی تھی۔
“رومن نے ڈون کے بھائی کو مار دیا جس کا بدلہ لیتے میں نے رومن کو مار دیا۔۔”
وہ اٹل آواز میں بولا تھا سب نے فوری سر ہلائے تھے ملازمین بھی اپنا منہ بند کرتے سر ہلا گئے تھے۔
ڈینیل نے کھڑے ہوتے اپنی گن رومال سے صاف کرتے رومن کے زمین پر گرے وجود کے پاس بیٹھتے اس کے ہاتھ میں تھما دی تھی۔
“اس بات پر اگر کسی کو کوئء اعتراض ہے تو وہ بتا سکتا ہے۔۔؟”
ڈینیل نے کھڑے ہوتے سرد آواز میں پوچھا تھا مگر سب خاموش ہی رہے تھے۔
ڈینیل چلتا ہوا زرکشہ نے پاس آیا تھا اس کی پھیلی آنکھیں اور منہ پر خون کے چھینٹے دیکھ کر اس کا خون کھول اٹھا تھا۔اسے بازو سے پکڑتے وہ کھڑا کرتا اسے تقریبا اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے باہر لے گیا تھا۔
“ڈ۔۔ڈینیل۔۔”
وہ کانپتی آواز میں بولی تھی۔وہ جانتی تھی اگر ڈینیل نے اس آدمی کا یہ حشر کیا تھا تو نہ جانے وہ اس کے ساتھ کیا کرنے والا تھا۔ خوف سے اس کا دل کانپ اٹھا تھا۔
“شٹ اپ۔۔”
اس کا منہ دبوچتے وہ غرایا تھا۔اس وقت وہ اس کی فضول بکواس سننے کے موڈ میں بالکل بھی نہیں لگ رہا تھا۔
“آ۔۔آئی ایم۔۔”
وہ کانپتی ہوئی جواب دینے لگی تھی جب ڈینیل نے اس کے روم کا دروازہ کھولتے اسے اندر دھکا دیتے ڈور لاک کردیا تھا۔ ڈینیل کو اپنی جانب بڑھتا دیکھتے زرکشہ گھبراتی ہوئی پیچھے ہٹنے لگی تھی ڈینیل نے ایک ہی جھٹکے میں اسے پکڑتے کھینچا تھا وہ اسے لیتا واشروم میں داخل ہوا تھا۔کولڈ شاور کھولتے اس نے زرکشہ کو اندر دھکا دیا تھا۔
ٹھنڈا پانی سر پر پڑتے ہی وہ سن پڑ گئی تھی اس کے منہ سے ایک زور دار چیخ نکلی تھی۔
“اس کمرے سے ایک قدم بھی باہر نکلا تم نے تو زرکشہ آئی سوئیر تمھاری ٹانگیں توڑ دوں گا میں۔۔”
شاور بند کرتے اس نے حجاب میں لپٹے زرکشہ کے بالوں کو دبوچتے ہوئے سرد ترین لہجے میں کہا تھا۔
“تمھاری وجہ سے میں نے رومن اور ڈون کے بھائی کو مار دیا۔۔تمھاری وجہ سے نہ جانے اب میں کیا کرجاوں گا۔۔”
وہ غصے میں بولا تھا۔
“س۔۔سوری۔۔”
وہ کانپتی آواز میں بولی تھی۔
“شٹ اپ۔۔ مجھے یہ انتہائی زہر لفظ لگتا ہے۔۔ اور خبر دار اگر اب تم کچھ بولی تو تمھاری زبان کاٹ دوں گا۔۔”
وہ غصے میں دھاڑا تھا اپنے بالوں میں تکلیف محسوس کرتے زرکشہ کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا تھا۔
“تمھیں کیا لگتا ہے مجھے سمجھ نہیں آتا تم کیوں وہاں سرو کرنے آئی تھی۔۔”
وہ زہر خند لہجے میں دھاڑا تھا زرکشہ کی روح تک کانپ گئی تھی۔ زرکشہ کے بال چھوڑتے اس نے زرکشہ کا منہ دبوچ لیا تھا۔
“تمھیں مجھے سے رہائی کوئی نہیں دلا سکتا زرکشہ۔۔ اور جب تک میں نہ چاہوں تمھیں مجھ سے کوئی دور نہیں کرسکتا۔۔ یہ بات اپنے اس بےوقوف دماغ میں بیٹھا لو۔۔”
وہ جھٹکے سے اسے چھوڑتا وہاں سے لمبے لمبے ڈھگ بھرتا نکل گیا تھا۔اسے زرکشہ کے ڈرامے دیکھنے کے علاوہ بھی بہت کام تھے۔۔وہ جانتا تھا وہ ڈون کے بھائی کو مار کر کتنی بڑی غلطی کر چکا تھا۔ زرکشہ منہ پر ہاتھ رکھتی وہاں ہی زمین پر بیٹھ کر رونے لگی تھی۔ اسے اب احساس ہو رہا تھا وہ کتنا غلط سوچ رہی تھی کہ اسے کوئی یہاں سے نکال سکتا ہے اس کے اندر جو تھوڑی بہت امید جاگی تھی وہ ڈینیل کچل کر مٹی میں دفن کرکے جا چکا تھا۔
اگر کسی ایک نے بھی سچائی ڈون کو بتا دی تو یقینا وہ بہت بڑی مصیبت میں پھنس سکتا تھا۔ زرکشہ کی وجہ سے نہ صرف ڈینیل کی جان خطرے میں پڑ چکی تھی بلکہ وہ خود بھی بہت بڑی مصیبت میں پڑ چکی تھی مگر اسے اس بات کا اندازہ شاید ابھی وقت آنے پر ہی معلوم ہونا تھا۔
جاری ہے۔۔
