Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes NovelR50560 Professor Shah (Episode 39)
Rate this Novel
Professor Shah (Episode 39)
Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes
فراز شیخ کے گھر پارٹی تھی۔ شازل نے گندمی رنگ اور نکلی لمبی داڑھی لگا رکھی تھی جس سے وہ کافی مختلف لگ رہا تھا۔ اس کے ساتھ عسکری لڑکی کے حلیہ میں تھا۔
“مجھے بہت عجیب لگ رہا ہے۔۔”
وہ سرخ رنگ کا فراک کھینچتے ہوئے مردانہ آواز میں بولا تھا۔
“چپ کرو تمھاری مردانہ آواز نے ہمیں پھنسا دینا ہے۔۔”
شازل کی بات پر اس نے اسے کھاجانے والی نظروں سے دیکھا تھا۔
“الجھن ہورہی ہے مجھے اس ٹائٹ فراک میں۔۔”
وہ دانت پیستا بولا تھا۔
“تم بہت ہاٹ لگ رہے ہو اس فراک میں۔۔”
شازل نے مسکراہٹ دباتے اسے چھیڑا تھا۔
“کوئی نہیں بیٹا جب واپس جاکر اپنی بیوی کو مناو گے پھر میں بھی ایسے ہی طنز کروں گا۔۔”
وہ تپے انداز میں بولا تھا جس پر شازل نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا تھا۔نورے کو سوچ کر اس نے گہرا سانس بھرا تھا۔
“شٹ اپ۔۔ مجھے اپنے پرس سے لپ اسٹک نکال کر دو۔۔ اب سے بالکل بیس منٹ بعد تم نے یہاں سے نکل جانا ہے میرا انتظار مت کرنا گاڑی میں بس پانچ منٹ ویٹ کرنا پھر چلے جانا۔۔”
لپ اسٹک پکڑتے شازل نے اس کی بیک سائیڈ کھولتے دو بلٹس نکالی تھیں۔جبکہ باقی چھوٹی چھوٹی میک اپ کی چیزوں میں گن کے پارٹس چھپے تھے جنھیں وہ نکالتا تیزی سے واشروم کا پوچھتا وہاں سے نکل گیا تھا۔ اس گھر کا چپا چپا اسے یاد تھا۔
واشروم میں جاتے اس نے تیزی سے گن کو اسمبل کیا تھا۔پارٹی شروع ہونے والی تھی۔ گیسٹ آنے لگے تھے اس کے پاس زیادہ وقت نہیں تھا۔
وہ تیزی سے وہاں سے نکلتا فراز شیخ کے کمرے کی طرف بڑھنے لگا تھا جب ایک گارڈ نے اسے روکا تھا۔
“تم کون ہو اور یہاں کیا کر رہے ہو؟”
گارڈ نے اسے گھورتے ہوئے غصے سے پوچھا تھا۔
“وہ صاحب جی میں رستہ بھول گیا ہوں میں ناچنے والیوں کے ساتھ آیا ہوں۔۔!”
وہ اپنی آواز بدلتا بولا تھا۔ اس کے پاس صرف دو گولیاں تھیں وہ اس پر ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔
“اس طرف چلو۔۔”
گارڈ نے اپنی گن سے اسے دوسری طرف چلنے کا کہا تھا۔ شازل ہاتھ جوڑتا اس کے پیچھے چل پڑا تھا۔
اس نے ادھر ادھر دیکھتے گارڈ کے منہ پر ہاتھ رکھتے اس کی گردن مڑور دی تھی۔ اس کی گن پکڑتے وہ اسے تیزی سے گھسیٹ کر واشروم میں لے گیا تھا۔ اسے واشروم میں بند کرتا وہ باہر سے لاک لگا چکا تھا۔وہ گارڈ کے پاس موجود چاقو اور گن نکال چکا تھا۔
اس نے گھڑی میں ٹائم دیکھا تھا جہاں آٹھ منٹ گزر چکے تھے اس کے پاس صرف بارہ منٹ رہ گئے تھے۔ وہ تیزی سے وہاں سے چلتا فراز شیخ کے کمرے کی طرف بھاگا تھا۔ اس کے کمرے کے باہر ایک گارڈ کھڑا تھا۔ وہ اپنی چال بدلتا وہاں سےگزرنے کے انداز میں چل رہا تھا۔ جب گارڈ نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔
“رکو یہاں کیا کر رہے ہو؟”
وہ بولتا ہوا شازل کے قریب آیا تھا۔ شازل نے اس کے مکہ مارتے اس کے منہ پر ہاتھ رکھتے دوسرے ہاتھ سے گن اس کے ہاتھ سے جھٹک دی تھی۔
وہ شازل کی گرفت میں پھڑپھڑا رہا تھا جب شازل نے پہلا کمرہ دیکھتے اسے اپنے ساتھ اندر کھینچتے اس کے منہ پر مکہ مارا تھا۔ وہ کمرہ خالی تھی۔ اس گارڈ نے شازل کے منہ پر اپنی کوہنی زور سے ماری تھی جس سے شازل کی ناک سے خون نکلنے لگا تھا۔ اس کا سر ایک پل کو گھوم گیا تھا۔
شازل نے اپنا سر جھٹکتے اس کو ٹانگ مار کر گراتے بیڈ سے کمفرٹر اٹھاتے اس کے منہ کے گرد لپٹا کر اس کا سانس روک دیا تھا۔ وہ اس کی گرفت میں بری طرح پھڑپھڑاتا ٹانگیں اماور بازو بری طرح شازل کو مارنے لگا تھا آہستہ آہستہ وہ گارڈ نڈھال ہوتا گر گیا تھا۔ اسے چھوڑتے شازل نے وقت دیکھا تھا اس کے پاس بس سات منٹ باقی رہ گئے تھے۔
وہ تیزی سے وہاں سے نکلتا فراز شیخ کے کمرے میں داخل ہوا تھا جب اچانک فراز شیخ نے گن اس کے سر پر زور سے مارنے کی کوشش کی تھی مگر وہ بروقت سائیڈ پر ہٹ گیا تھا۔
“سالے۔۔!! حرام زادے مجھے مارنا چاہتا ہے۔۔؟”
فراز شیخ نے اس پر حملہ کرتے بھونکتے ہوئے کہا تھا۔
شازل نے اس کے پیٹ میں ٹانگ مارتے اس کے سر میں زور سے اپنا سر مارا تھا جس سے وہ زمین پر گر گیا تھا۔
“تجھ جیسے غلیظ کتوں کو مارنا میرا فرض ہے۔۔”
شازل اس کے پیٹ میں مکہ پر مکہ مارتے ہوئے بول رہا تھا۔
“تیری ہمت کیسے ہوئی میری بہنوں(بہارے گل اور دانین) کی زندگی برباد کرنے کے بعد میری بیوی پر نظر رکھنے کی۔۔”
شازل غصے سے بپھرا بولا تھا۔
“ہاہاہا۔۔ تیری بیوی زندہ نہیں بچے گی اگر تو نے مجھے کچھ کیا۔۔”
وہ شازل کو دھکا دے کر کھڑا ہوکر ہنستا ہوا بولا تھا۔
“تو زندہ رہے گا تو کچھ کر سکے گا۔۔”
شازل نے بولتے ہی اپنی جیب سے گن نکالتے اسے سوچنے سمجھنے کا موقع دیے بغیر اس کے سینے میں گولی مار دی تھی۔
گھٹنوں کے بل گرتے فراز شیخ نے اپنے سینے سے نکلتے خون کی طرف دیکھتے ہوئے اچانک شازل کو دیکھا تھا۔
“ت۔۔تو زندہ نہیں بب۔۔بچے گا۔۔ و۔۔وہ مار دیں گے تجھے۔۔”
“ک۔۔کسی کو نہیں چ۔۔چھوڑیں گے۔۔”
وہ طنزیہ ہنستا بولا تھا جب شازل کی گھڑی پر ٹائم پورا ہونے پر الارم بجنے لگا تھا شازل نے گن اٹھاتے بے شمار گولیا اس کے سینے میں اتارتے آخر میں اس کے سینے کا نشانہ لیا تھا۔
وہ تیزی سے گن واپس رکھتا اس کے کمرے میں موجود کھڑکی کھولتا وہاں سے کود گیا تھا۔ ارد گرد رات ہونے کی وجہ سے کوئی اسے دیکھ نہیں سکتا تھا جس کا فائدہ اٹھاتا وہ وہاں سے چھپتا ہوا پچھلے گیٹ کی طرف گیا تھا جہاں اچانک اندر سے آوازیں آنے پر وہ اندر بھاگے تھا مطلب کسی نے فراز شیخ کے مردہ وجود کو دیکھ لیا تھا وہ موقعے کا فائدہ اٹھاتے درخت پر آہستہ آہستہ چڑھتا دیوار پھلانگتا تیزی سے وہاں سے بھاگنے لگا تھا جہاں سے کچھ دور عسکری اس کا انتظار کر رہا تھا۔ گاڑی میں بیٹھتے وہ تیزی سے اپنا کام مکمل کرکے وہاں سے نکل گئے تھے۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“نورے جلدی اٹھو۔۔ یہ پکڑو کپڑے جلدی سے فریش ہوکر چینج کرو۔۔”
افرحہ نے تیزی سے بولتے اسے سفید فراک نکال کر پکڑایا تھا۔
“کیا ہوا بھابھی؟”
نورے نے پکڑتے پریشانی سے پوچھا تھا۔
“ان باتوں کا ٹائم نہیں جلدی تیار ہوجاو۔۔”
افرحہ نے تیزی سے اسے بولا تھا۔ جس پر وہ جلدی سے فریش ہونے لگی تھی۔
فریش ہوکر آتے ہی افرحہ نے تیزی سے اسے ہلکا سا تیار کرتے اس کے بال بنا دیے تھے۔۔
“بھابھی کچھ بتائیں تو سہی۔۔”
وہ ناسمجھی سے انھیں دیکھتے پوچھ رہی تھی۔
“یہ چوڑیاں پہن لو اور احتیاط سے سڑھیاں اترنا میں تمھاری شال لے کر آئی۔۔”
افرحہ کے بات گھمانے پر وہ لب کاٹتی آہستہ سے سیڑھیاں اترتی نیچے آئی تھی۔
میر شاہ اور فاطمہ بیگم دونوں نے اسے قطع کلامی کی ہوئی تھی۔ دونوں نے اسے بلانا بند کیا ہوا تھا۔
“آگئی میڈم اپنے محل سے نکل کر۔۔”
فاطمہ بیگم نے اسے دیکھتے ہی طنز کیا تھا۔
“یہ اتنا سج سنور کر کہا جارہی ہو؟ شوہر تو تمھارا چھوڑ چکا ہے تمھیں۔۔ کہیں باہر تو منہ مارنے نہیں جا رہی؟”
فاطمہ بیگم کی بات پر غصے سے اس کا چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔
“مجھے اپنی حرکت مت بتائیں۔۔ ایسی کام آپ کرتی ہیں خاندانی عورتیں نہیں۔۔”
وہ بلند آواز میں سخت لہجے میں بولی تھی۔
“تمم۔۔”
“بس کریں آنٹی۔۔”
افرحہ نے نیچے اترتے بحث سنتے سختی سے کہا تھا فاطمہ بیگم دونوں کو نفرت سے دیکھتی وہاں سے چلی گئی تھیں۔
“ان کی باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیا کرو اور جلدی کرو دیر ہورہی ہے۔۔”
نورے کے کندھے پر شال اوڑھتے افرحہ نے نورے کو باہر جانے کا کہا تھا۔
اسے کار میں بیٹھاتے افرحہ پیچھے ہٹ گئی تھی۔ نورے نے اب پوچھنا ہی گوارا نہیں کیا تھا جانتی تھی افرحہ جواب نہیں دے گی۔
سیٹ سے ٹیک لگاتے وہ آنکھیں بند کر گئی تھی۔ شازل کا سوچ کر دل میں درد سا اٹھا تھا۔ کتنے دن مزید وہ اسے خود سے دور رکھ کر سزا دے گا۔۔؟
وہ نڈھال سی سوچ رہی تھی جب ایک گھر کے باہر گاڑی رکی تھی۔
“اندر چلی جائیں میم۔۔”
وہ سر ہلاتی ڈرائیور کے ہاتھ سے چابی پکڑتی گھر کے اندر چلی گئی تھی۔ اس نے ارد گرد دیکھا تھا جہاں کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ افرحہ کا سوچتی وہ اندر چلی گئی تھی جانتی تھی وہ کبھی اسے تکلیف نہیں دے سکتی تھی۔
“کوئی ہے یہاں۔۔؟”
وہ آگے بڑھتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔مگر کوئی جواب نہیں آیا تھا اچانک لائٹس آن ہوئی تھیں۔
“نورے۔۔”
وہ شازل کی آواز سن کر ساکت رہ گئی تھی۔وہ دھیرے سے پیچھے کی طرف مڑی تھی۔ جہاں وائٹ شلوار قمیض پہنے وہ کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
اسے دیکھتے ہی بےساختہ اس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے تھے۔
“خبر دار جو میرے قریب آئے۔۔”
وہ سسکی لیتی چیخ کر بولی تھی۔شازل جو اس کی طرف قدم بڑھا رہا تھا مٹھیاں بھینچتا رک گیا تھا۔
“آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھے ہوسپٹل چھوڑ کر غائب ہونے کی۔۔”
وہ سرخ ہوتی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتے بولی تھی۔
“میں بیوی تھی آپ کی اتنا تو حق بنتا تھا کہ میرے اٹھنے کا انتظار کر لیتے۔۔”
وہ روتے ہوئے بول رہی تھی۔
شازل ایک ہی جست میں اس کے پاس پہنچتے اسے اپنے سینے سے لگا چکا تھا۔اس سے مزید دوری برداشت نہیں ہورہی تھی۔
“چھوڑیں مجھے۔۔”
“دور رہیں۔۔”
“آئی ہیٹ یو۔۔”
“ہمیشہ مجھے تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔۔”
وہ شازل کی باہوں میں مچلتی بھاری آواز میں بول رہی تھی۔
“شش۔۔ “
اس کی کمر سہلاتے شازل نے اس کے سر پر ہونٹ رکھے تھے۔
“آئی ایم سوری۔۔۔ مگر میں تمھیں اور اپنی اولاد کی جان کو مزید خطرے سے بچانا چاہتا تھا۔ میری غلطی کی وجہ سے کو تمھیں تکلیف اور زخم ملے تھے میں ان کا بدلہ لیے بغیر ایک پل بھی سکون سے نہیں رہ سکتا تھا۔”
وی نورے کا چہرہ تھامتا اس کے سرخ گالوں سے نرمی سے آنسو صاف کرتا بولا تھا۔
“میں نے آپ کو بہت مس کیا تھا۔۔”
وہ سسکی لیتی بولی تھی۔
“میں نے بھی۔۔”
شازل نے دھیرے سے مسکراتے اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھے تھے۔
“اتنی آسانی سے آپ کو مافی نہیں ملے گی۔۔”
اس کی آنکھوں میں دیکھتی وہ نروٹھے پن سے بولی تھی۔
شازل نے دھیرے سے مسکراتے اس کی دونوں آنکھوں کو چوما تھا۔
وہ اس کا لمس محسوس کرتی سرشار سی ہوگئی تھی۔
“تمھیں سینے سے لگا کر سکون مل گیا ہے۔۔”
شازل اس کی کمر کے گرد حصار تنگ کرتے دھیمی آواز میں بولا تھا۔
“میری بات کو اگنور مت کریں۔۔”
وہ منہ بناتے بولی تھی جب شازل نے جھک کر اس کے ہونٹوں کو نرمی سے چوم لیا تھا۔
“تمھیں میں نے کتنا مس کیا ہے ابھی بتاتا ہوں۔۔”
اسے احتیاط سے اپنی باہوں میں بھرتے شازل نے اس کے گال کو شدت سے چومتے کہا تھا۔
“شازل۔۔”
وہ شرماتی گھبراتی اس کی گردن میں منہ چھپا گئی تھی جس پر شازل بےساختہ ہنس پڑا تھا۔
“اب تم ایک بچے کی ماں بننے والی ہو ابھی بھی مجھ سے شرما رہی ہو؟”
شازل کی بات پر وہ سر تا پیر سرخ ہو گئی تھی۔
“شازل”
اس نے چلاتے ہوئے شازل کے سینے پر تھپڑ دے مارا تھا۔ جس کا انتقام شازل نے ساری رات اس کے لمس سے حاصل کیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“دانین یہاں کیوں کھڑی ہو؟”
اس کی کمر کے گرد بازو باندھتے روحان نے پوچھا تھا۔
“روحان۔۔۔!!! آپ کب واپس آئے؟”
وہ روحان کو دیکھتی خوش ہوتی بولی تھی روحان دو ہفتوں سے کینیڈا میں تھا اس کی مدر کی طبیعت تھوڑی خراب تھی جس کی وجہ سے اسے واپس جانا پڑا تھا۔
“ابھی آیا ہوں۔۔”
روحان نے اس کا گال چومتے اس کا رخ اپنء طرف پھیرا تھا۔
“بہت چھپے رستم ہیں اب مجھ سے باتیں چھپانے لگے ہیں۔۔”
وہ روحان کو آنکھیں چھوٹی کرکے دیکھتی ہوئی بولی تھی۔
“اچھا یہ بتاو یہاں اکیلی ٹیرس پر کیا کر رہی تھی؟”
روحان نے بھنویں بھینچتے پوچھا تھا۔
“کچھ نہیں بس بابا کا سوچ رہی تھی۔ ناجانے ملی مانے گی یا نہیں۔۔”
وہ روحان کی طرف دیکھتی بولی تھی۔ پچھلے مہینے سے روحان اور اس نے دوبارہ ماضی کے بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی۔ روحان اسے اس کی ماضی میں ہونے والی غلطیوں کی سزا نہیں دینا چاہتا تھا تبھی وہ اس بارے میں بات نہیں کرتا تھا۔
“اگر انھیں ان کی بیٹی مل گئی تو ستر فیصد چانسز ہیں وہ مان جائیں گی۔۔”
“اور یہ تمھاری ہڈیاں کیوں نکل آئی ہیں کیا تم کچھ کھا پی نہیں رہی تھی۔۔؟”
روحان نے اس کو ایک نظر اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔
“بس گھر میں ٹینشن کی وجہ سے کچھ کھانے پینے کا دل نہیں کرتا۔۔”
وہ لب دبا کر بولی تھی۔
“بہت بری بات ہے۔۔”
روحان نے اسے دیکھتے سر نفی میں ہلاتے کہا تھا۔
“اچھا چھوڑیں یہ بتائیں آنٹی کیسی ہیں؟”
دانین نے بات بدلتے پوچھا تھا۔
“ہاں اب کافی بہتر ہیں وہ سی ای او کی پوزیشن چھوڑنے لگی ہیں مجھے ایک منتھ تک واپس جانا ہوگا۔۔”
روحان نے اسے جواب دیتے کہا تھا۔
“اور بات مت بدلو چلو نیچے تمھیں کھانا کھلاوں۔۔”
روحان کی بات پر وہ ہلکے سے مسکراتی نیچے کی طرف جانے لگی تھی۔ روحان موبائل پر میسج آنے کی وجہ سے رک گیا تھا۔
میسج کھولتے ہی اس کے چہرے سے مسکراہٹ ہٹ گئی تھی۔
“ماضی کے گناہ تمھاری بیوی کا پیچھا کبھی نہیں چھوڑیں گے۔۔”
اس لائن کے ساتھ دانین کی تصویر تھی جس پر سرخ کراس کا نشان تھا۔
“روحان۔۔ آجائیں۔۔”
دانین کی آواز سنتا وہ وہ موبائل پاکٹ میں ڈالتا اس کے پیچھے چل پڑا تھا جبکہ ذہن میں اب بھی وہ میسج گھوم رہا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“ڈون کو کوئی شک تو نہیں ہوا؟”
ڈینیل کو آج دو ہفتوں بعد اپنے سامنے دیکھ کر وہ کانپتی آواز میں پوچھ رہی تھی۔ ڈینیل کی آنکھوں کے گرد گہرے سیاہ ہلکے تھے وہ شکل سے ہی تھکا ہوا لگ رہا تھا۔
“نہیں۔۔”
“تم کسی کے ساتھ اس بارے میں کوئی بات نہیں کرو گی چاہے وی تمھیں کتنا ہی اکسائے۔۔”
ڈینیل نے بیڈ پر بیٹھتے سرد لہجے میں کہا تھا۔
“مجھے پتا نہیں تھا میری موجودگی سے یہ سب ہوجائے گا۔۔”
وہ دھیمی آواز میں بولی تھی۔
“ایک بار یہ سارا میس سمٹ جائے پھر میں تمھیں جانے دوں گا۔۔ تم جہاں چاہو گی میں تمھیں بھجوا دوں گا۔۔”
ڈینیل نے چہرہ اٹھاتے اس کی آنکھوں میں دیکھتے سرد پن سے کہا تھا۔
“احمد۔۔”
” وہ بھی تمھارے ساتھ جائے گا۔۔”
ڈینیل نے اس کی بات سمجھتے جواب دے دیا تھا۔
“تم میرے لیے بہت بڑا امتحان ثابت ہوئی زرکشہ۔۔”
ڈینیل نے سگریٹ نکالتے اپنی انگلیوں کے درمیان گھماتے سپاٹ لہجے میں کہا تھا۔
“اسے مت پئیں۔۔”
وہ ڈینیل کے ہاتھ میں سگریٹ دیکھتے جھٹ سے بول اٹھی تھی۔
“آپ پہلے ہی بیمار لگ رہے ہیں۔۔”
وہ کانپتی آواز میں بولی تھی۔
“تمھیں میری فکر کب سے ہونے لگی؟”
“مجھے اپنا خیال رکھنا آتا ہے”
” بچپن سے خود ہی اپنا خیال رکھتا آیا ہوں اس کے لیے تمھاری ضرورت نہیں ہے۔۔”
وہ سرد پن سے بولتا سگریٹ سلگانے لگا تھا۔
“ادھر آو میرے پاس بیٹھو۔۔”
سگریٹ کا کش لیتے فضا میں دھواں چھوڑتے ڈینیل نے سے گہری نظروں سے دیکھتے کہا تھا جس پر وہ نفی میں سر ہلا گئی تھی۔
ڈینیل نے اٹھتے سگریٹ بجھا کر پھینکتے اپنا کوٹ اتارنا شروع کیا تھا۔
“ی۔۔ یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟”
وہ دیوار ساتھ لگی کپکپاتی پوچھ رہی تھی۔
ڈینیل جواب دیے بغیر اسے کھاجانے والی نظروں سے گھور رہا تھا۔
“میرا سر دباو۔۔”
وہ کوٹ ایک سائیڈ پر رکھتا جوتے اتارتا بیڈ پر لیٹ گیا تھا۔
“جلدی کرو۔۔”
ڈینیل کے تیز آواز میں کہنے پر وہ فورا اس کے قریب آتی بیڈ پر بیٹھ کر اس کا سر دبانے لگی تھی۔
اس کے ٹھنڈے نرم ہاتھ اپنی پیشانی پر محسوس کرتے ڈینیل نے سکون کی سانس خارج کی تھی۔وہ صرف کچھ دیر کے لیے لیٹا تھا لیکن ناجانے کب اس کی آنکھ لگ گئی تھی۔
جب اس کی آنکھ کھلی تو صبح ہونے والی تھی۔ اسے کچھ دیر لگی تھی سمجھنے میں۔۔وہ اکیلا بیڈ پر تھا اس نے اپنے ارد گرد نظر دوڑائی تو زرکشہ کو زمین پر چادر بچھائے لیٹے دیکھ کر اس کا دل سکڑ گیا تھا۔
اس کے قریب جاکر دو زانو بیٹھتے ڈینیل نے محبت سے بال اس کے چہرے سے ہٹائے تھے۔
“What is so attractive about you?”
“میں نے ہر قسم کا حسن دیکھا ہے مگر تم جیسی کشش کسی میں نہیں ہے۔۔”
وہ اس کے معصوم چہرے کو دیکھتے بڑبڑایا تھا۔ اس کے ہلنے پر وہ فوری دور ہوگیا تھا۔ اسے دوبارہ سٹل ہوتے دیکھ کر اس نے نرمی سے اس کا گال سہلایا تھا۔
اسے نرمی سے اپنی باہوں میں اٹھاتے ڈینیل نے اسے بیڈ پر لیٹا دیا تھا ایسا کرنے سے اس کا حجاب ڈھیلہ پڑ گیا تھا حجاب سے نظر آتے اس کے ریشمی بالوں سے ڈینیل نے فورا نظر ہٹا لی تھی وہ اس کی پرائیویسی کا احترام کرتا تیزی سے اپنء چیزیں لیتا وہاں سے چلا گیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
ڈینیل پر ڈون کا بہت پریشر تھا وہ آج کل ڈینیل پر سخت نظر رکھے ہوئے تھا اسے یہ بات بار بار کھل رہی تھی کہ ڈینیل نے رومن کو اس کے حوالے کرنے کی بجائے خود کیوں مار دیا تھا؟
وہ جانتا تھا کہیں نہ کہیں گڑبڑ ضرور ہے تبھی وہ اس پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھا۔
ڈینیل اپنے گھر والے آفس میں بیٹھا کام کر رہا تھا جب اس کا ایک ورکر بھاگتے ہوئے اندر آیا تھا۔
“سر خبر ملی ہے ڈون۔۔ آپ کے گھر کا جائزہ لینے آرہا ہے اور سب سٹاف سے بھی ملنا چاہتا ہے۔۔”
“باقی سب کو خبردار کر دو اور سارے سٹاف کو بھی وارننگ دے دو میں زرکشہ کو بھی ان کے ساتھ بھیجتا ہوں۔۔زرکشہ کے لیے ورکرز کا یونیفارم لے کر آو۔۔”
وہ تیزی سے بولتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
یونیفارم ملتے ہی وہ اس کے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔
“زرکشہ بات سنو۔۔ جلدی سے یہ ڈریس پہن لو اور اپنا حجاب اتار دو۔۔ ڈون آرہا ہے گھر کا جائزہ لینے اور سب سے انویسٹیگین کرنے۔۔”
ڈینیل نے اجلت میں کہا تھا۔
“میں یہ نہیں پہن سکتی اس سے میرا جسم واضع ہوگا۔۔”
وہ پریشانی سے بولی تھی۔
“گاڈ ڈیم اٹ۔۔ تم نے اگر ڈریس چینج نہ کیا تو ڈون کو تم پر شک ہوجائے گا۔۔ بس کچھ منٹوں کی بات ہے پلیز۔۔”
اس کی پریشانی دیکھ کر وہ مان گئی تھی۔ وہ ڈریس اس کے گھٹنوں سے نیچے تک آتا تھا اس نے ہچکچاتے ہوئے حجاب ریمو کیا تھا۔ ڈینیل نے فورا اس سے نظریں پھیر لی تھیں۔
“تم فکر مت کرو۔۔ کوئی میل تمھاری طرف جان بوجھ کر نہیں دیکھے گا۔۔اور اگر ڈون پوچھے تم اس دن کہاں تھی تو تم کہو گی کہ تم کیچن میں تھی۔۔اور کچھ مت بولنا۔۔”
ڈینیل نے بولتے ہی کانپتی ہوئی زرکشہ کا ہاتھ پکڑا تھا ڈان پہنچنے والا تھا وہ تیزی ست زرکشہ کو پکڑتا کیچن میں لے گیا تھا۔
“تم یہاں کام کرتی ہو بس یہ یاد رکھنا۔۔ اور گھبرانا مت۔۔”
اس کا ہاتھ دبا کر چھوڑتا ڈینیل اپنے آفس میں جاکر بیٹھ گیا تھا۔ جب تھوڑی دیر بعد اس کے آفس کا دروازہ کھلا تھا اور ڈان اندر اینٹر ہوا تھا۔
“ڈون۔۔ یہاں کیسے آنا ہوا۔۔”
دینیل نے کھڑے ہوتے مصنوعی حیرانی کا اظہار کیا تھا۔
“چیکنگ کرنے آیا ہوں اپنے سارے سٹاف کو باہر بلاو مجھے اب سے سوال کرنے ہیں۔۔”
“اوکے۔۔”
اس نے پرسکون لہجے میں جواب دیتے ہیڈ سٹاف کو فون کرکے سب کو اکٹھا کرنے کا کہا تھا۔
سب ایک لائن میں کھڑے تھے۔زرکشہ درمیان میں کھڑی تھی ماحول میں چھائی سرد پن کی لہر نے سب کو کانپنے پر مجبور کیا ہوا تھا۔
“میرے بھائی کا اس گھر میں قتل ہوا ہے اور میں جاننا چاہتا ہوں اس وقت سب لوگ کہاں تھے۔۔؟”
“سب لوگ ایک ایک کرکے بتاتے جائیں گے۔۔”
ڈون کے بولتے ہی سب نے بتانا شروع کردیا تھا۔
“میں ڈائیننگ ہال میں تھی۔۔میں کھانا سرو کرنے لگی تھی جب اچانک آپ کے بھائی نے سامنے بیٹھے شخص سے کچھ کہا تھا جس سے غصہ ہوتے اس نے گن نکال کر سامنے والے کے گولی مار دی تھی اس سے پہلے وہ باقیوں پر حملہ کرتا سر نے اسے ماردیا تھا۔”
اس نے رٹا رٹایا جواب کانپتی آواز میں دیا تھا اس کی بات پر باقی لوگ بھی بتانے لگے تھے۔ جب زرکشہ کی باری آئی تو وہ ٹھہر سا گیا تھا۔
“میں کیچن میں کام کر رہی تھی۔”
اس نے نظریں جھکائے کانپتی آواز میں جواب دیا تھا۔ ڈون نے اس کا گہری نظروں سے جائزہ لیا تھا۔
“تم تو بہت خوبصورت ہو۔۔ یہاں کیچن میں کام کرکے اپنا حسن ضائع کیوں کر رہی ہو؟”
اس کے قریب آتے ڈون نے اس کا چہرہ چھونے کی کوشش کرتے پوچھا تھا جب وہ فوری پیچھے ہٹ گئی تھی۔
“اس میڈ کو میرے گھر پہنچا دینا ڈینیل۔۔مجھے یہ پسند آگئی ہے۔۔”
ڈون ہنستا ہوا بولا تھا۔
“یہ ممکن نہیں۔۔ڈون۔۔ یہ لیگل ایمپلوئے ہے بہت بڑا مسئلہ ہوجائے گا۔۔ اور آپ جانتے ہیں میں ایسا کام نہیں کرتا۔۔”
وہ اٹل لہجے میں غصہ دباتا بولا تھا۔ ڈون نے اس کی بات پر ہنستے سر نفی میں ہلایا تھا۔
“یہ کہو ڈینیل تمھارا خود اس پر دل ہے۔۔”
وہ کمینگی سے ہنستا بولا تھا۔ زرکشہ کو اس کی نظروں سے وحشت سی ہورہی تھی۔حیدر نے بمشکل اپنا غصہ قابو کیا ہوا تھا۔
“میں چکر لگاتا رہوں گا اس حسن کو بار بار دیکھنے کے لیے۔۔”
ڈون ہنستا ہوا وہاں سے چلا گیا تھا۔ اس کے جاتے ہی زرکشہ فورا اپنے کمرے میں بھاگ گئی تھی۔
“اسے آپ پر شک ہوگیا ہے۔۔”
ڈینیل کے ساتھی نے اس کے قریب کھڑے ہوکر کہا تھا۔
“سب ملازمین پر نظر رکھو کوئی منہ کھولنے کی جرت بھی نہ کرے۔۔”
وہ سرد لہجے میں بولتا وہاں سے چلا گیا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“ملائکہ میری بات پر یقین کرو میں نے ہر انویسٹیگیر تمھاری بیٹی کو ڈھونڈنے کے لیے ہائر کیا ہوا ہے تھوڑا صبر کر لو جہاں تم نے اتنی دیر کیا تھوڑا اور صحیح پلیز۔۔”
ملائکہ کے سامنے چٹان بن کر کھڑے ہوتے آغا خان نے التجائیہ لہجے میں کہا تھا۔
“مجھے آپ کی کوئی بات نہیں سننی ہٹیں میرے رستے سے میں خود اسے ڈھونڈ لوں گی۔۔”
“اور چھوڑ دیں اب میرا پیچھا۔۔ آپ کی باتیں اب مجھے صرف اریٹیٹ کرتی ہیں”
وہ غصے سے بولی تھیں۔
“ایک بار صرف آخری بار۔۔ مجھے ایک موقع دے دیں۔۔ پلیز۔۔”
وہ ملائکہ کے ہاتھ تھامتے بولے تھے۔
“جب میری بیٹی مل جائے گی پھر میں آپ کو اس بات کا جواب دوں گی۔۔”
وہ دو ٹوک لہجے میں بولی تھیں۔
“مجھے پتا چل گیا ہے وہ کہاں ہے ملائکہ۔۔”
وہ گہرا سانس بھرتے بولے تھے۔
“کہاں ہے وہ؟”
ملائکہ نے ان کا بازو پکڑتے پوچھا تھا۔
“یہ میں تمھیں نہیں بتا سکتا۔۔ بس تم دعا کرو۔۔”
وہ لب بھینچ کر بولے تھے۔
“اگر میری بیٹی کو کچھ بھی ہوا نہ۔۔ تو آغا خان آپ کو میں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔”
وہ چیخ کر بولی تھیں۔
“وہ بالکل ٹھیک ہے۔۔ بس ایک بہت بڑی مصیبت میں پھنسی ہوئی ہے اور اسے میں وہاں سے نکال لوں گا۔۔”
آغا خان نے ان کی گال پر بہتے آنسو دیکھ کر لب بھیبچ لیے تھے۔
“وعدہ کریں مجھ سے۔۔ اسے کچھ نہیں ہونے دیں گے۔۔”
ان کا ہاتھ پکڑتے وہ التجائیہ بولی تھیں۔
“یہ میرا آپ سے وعدہ ہے۔۔”
وہ ان کے رونے سے کانہتے وجود کو سینے سے لگاتے اٹل لہجے میں بولے تھے۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
وہ کب سے لیٹی ہوئی تھی مگر اسے نیند نہیں آرہی تھی۔اسے اچانک اپنے کمرے کے باہر سے کچھ آوازیں سنائی دی تھیں۔
وہ اٹھ کر دروازے کے قریب جانے لگی تھی جب اچانک دروازہ کھلا تھا اور احمد نے اندر آتے ہی اسے گلے لگایا تھا۔
“زری میں نے آپ کو بہت مس کیا۔۔”
احمد نے اسے زور سے گلے لگاتے پوچھا تھا۔
“تم ٹھیک ہو نہ؟”
اس نے پیچھے ہٹتے اس ک اوپر سے لے کر نیچے تک جائزہ لیا تھا۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں مجھے بس آپ کی فکر تھی۔۔”
وہ زرکشہ کے ہاتھ تھام کر بولا تھا۔
“ہمارے پاس وقت نہیں ہے ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا۔۔”
ڈینیل کی آواز پر اس نے زرکشہ نے اس کی طرف دیکھا تھا۔
“کیا مطلب؟”
زرکشہ نے ناسمجھی سے پوچھا تھا۔
“میں تم دونوں کو چھوڑنے جا رہا ہوں۔۔تمھاری فیملی نے مجھ سے کنٹکٹ کیا ہے۔۔”
وہ لب بھیبچ کر بول رہا تھا۔
“پاپا نے؟”
“نہیں وہ تمھارے رئیل فادر نہیں ہے۔۔ میرا مطلب تمھاری برتھ مدر۔۔”
“یہ کیا بول رہے ہیں آپ؟”
اس نے ناسمجھی سے پوچھا تھا۔
“یہ تم ان سے پوچھ لینا ہمارے لیے یہاں سے فورا نکلنا ضروری ہے۔۔”
“ڈون کو تم پر شک ہوگیا ہے۔۔اور اس سے شاید میں تمھیں بچا نہ پاوں۔۔”
ڈینیل نے لب بھینچ کر جواب دیا تھا۔
“جلدی چلو ٹائم نہیں ہمارے پاس۔۔”
ڈینیل کے کہنے پر وہ تیزی سے اس کے ساتھ نکل گئی تھی۔
“زری ٹینشن نہ لیں ہمیں سب پتا چل جائے گا فلحال آپ کو یہاں سے نکالنا ضروری ہے۔۔”
احمد نے اس کے کندھے کے گرد بازو پھیلاتے جواب دیا تھا۔
ڈینیل انھیں پچھلے رستے سے لے کر باہر نکلا تھا جہاں ایک گاڑی پہلے ہی موجود تھی۔اس نے ایک بیگ پکڑتے احمد کو پکڑایا تھا۔
“اس بیگ میں تمھارا اور زرکشہ کا پاکستان کا پاسپورٹ ہے۔۔اگر وہ تمھاری رئیل فیملی نہ ہوئی تو اس میں میرے ایک دوست کا نمبر ہے وہ تم لوگوں کو وہاں سیٹل ہونے میں مدد کردے گا۔۔”
اس کی بات سنتے زرکشہ نے اس کی طرف دیکھا تھا جو پتھر بن کر بیٹھا تھا۔
“ہم تو بھاگ جائیں گے آپ کا کیا ہوگا؟”
اس نے پریشانی ست پوچھا تھا۔
“اس سے تمھیں کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے۔۔”
وہ سپاٹ لہجے میں بولا تھا۔ دل میں تہلکہ مچا ہوا تھا۔ ڈون سے دشمنی کا انجام موت تھی۔۔ مگر پہلی دفع اسے زندگی میں جینےبکی خواہش ہوئی تھی جو شاید زرکشہ کے جانے کے بعد دوبارہ مرنے والی تھی۔
“میں نہیں چاہتی ہماری وجہ سے آپ کو کچھ ہو۔۔ آپ بھی ہمارے ساتھ آجائیں۔۔”
وہ التجائیہ بولی تھی۔
“یہ ممکن نہیں ہے۔۔ شٹ۔۔ نیچے جھکو دونوں۔۔”
وہ گاڑی کی سپیڈ بڑھاتا تیزی سے چیخا تھا۔
ان کے پیچھے دو گاڑیاں تیزی سے آرہی تھیں۔
“احمد یہ پکڑو گن۔۔”
“بیگ کو سنبھال کر رکھو اس میں پاسپورٹس ہیں۔۔”
ان کی گاڑی پر تیزی سے گولیاں چل رہی تھیں۔
ڈینیل نے گن نکالتے گاڑی سے بازو نکالتے پہلی گاڑی کا نشانہ لیا تھا۔اس کے ٹائر پر گولی بجی تھی مگر پھر بھی وہ گاڑی رکی نہیں تھی وہ دونوں طرف سے ان پر حملہ کر رہے تھے۔
“ڈینیل۔۔”
زرکشہ ڈر کر چیخی تھی۔ ڈینیل نے پھر گاڑی سے نکل کر گولی چلائی تھی جو ایک ڈرائیور کے سر پر لگی تھی وہ گاڑی بےقابو ہوتی الٹ گئی تھی۔
“میں آگے جاکر جنگل کے قریب گاڑی روک دوں گا تم دونوں دائیں طرف سیدھا جانا وہاں تم لوگوں کو ایک چھوٹا سا گاوں مخ جائے گا وہ تم لوگوں کی مدد کردیں گے۔۔”
“میں ان کا دھیان تم لوگوں سے ہٹاتا ہوں۔۔”
“نہیں ہم آپ کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔۔”
“شٹ اپ زرکشہ میں جیسا کہہ رہا ہوں تم لوگ ویسا ہی کرو گے۔۔”
“نہیں بالکل نہیں۔۔”
وہ چیخی تھی۔
ان کی گاڑی کے ٹائر پر گولی بجی تھی۔اور وہ لڑکھڑاتے ہوئے درخت میں بجنے لگی تھی جب ڈینیل نے زور سے بریک لگائی تھی۔
“جاو فورا۔۔”
ڈینیل باہر نکلتا چیخا تھا۔
احمد نے زرکشہ کو پکڑتے باہر نکالا تھا۔وہ زبردستی اسے کھینچتا جنگل کی طرف لے جانے لگا تھا جب اچانک کسی نے زرکشہ کی طرف نشانہ لیتے گولی چلائی تھی۔
“زرکشہ۔۔”
ڈینیل بھاگتے ہوئے اس کے آگے ڈھال بن گیا تھا۔ گولی چیڑتی ہوئی اس کے کندھے میں گھس گئی تھی۔اور تیزی سے خون نکلنے لگا تھا۔
“ڈینیل۔۔۔!!!!!!”
وہ چیخی تھی۔
“گو احمد!!”
ڈینیل نے گہرا سانس لیتے کہا تھا جب ساتھ ہی دوسری گولی ڈینیل کو بجی تھی۔۔احمد زبردستی زرکشہ کو گھسیٹتا وہاں سے جنگل کی طرف لے گیا تھا۔ ڈینیل کو مردہ حالت میں گرتے دیکھ کر زرکشہ بری طرح رونے لگی تھی۔ احمد اسے گھسیٹتا ہوا وہاں سے بھاگ رہا تھا۔ ایک یا دو گھنٹے بعد انھیں ایک جگہ آبادی دکھنے لگی تھی۔
“وہ میری وجہ سے مرد گیا۔۔ احمد۔۔”
وہ احمد کو پکڑتی بری طرح کانپتے ہوئے بولی تھی۔
“یہ ان کا اپنا فیصلہ تھا زری۔۔ خود کو سنبھالو۔۔”
احمد نے اسے جھنجھوڑتے ہوئے کہا تھا۔ جس پر وہ ساکت ہوتی رونے لگی تھی۔
“کیوں کیا تھا اس نے ایسا؟ کیا وہ اس کے لیے اتنا پاگل تھا؟”
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
سب لوگ باہر گئے ہوئے تھے۔ دانین اکیلی گھر میں تھی۔ شازل ، گل خان اور نورے ہوسپٹل گئے ہوئے تھے نورے کے چیک اپ کے لیے جبکہ روحان ایک میٹنگ کے سلسلے میں محب خان کے ساتھ آفس گیا ہوا تھا۔
شازل کے واپس آتے ہی گھر کا ماحول کافی خوشگوار ہوگیا تھا۔ دانین کو یہ بھی کافی خوشی تھی کہ شازل اب اس سے پہلے کی طرح ظلمانہ طریقے سے نہیں بلکہ قدرے نرمی سے بات کر رہا تھا۔
اس کے ساتھ چند ملازمین وہاں موجود تھے۔وہ کیچن سے کافی بنا کر گنگناتی ہوئی باہر نکل رہی تھی۔ جب اچانک اس کا پاوں گیلی چیز پر لگا تھا۔
وہاں ان کے گھر کی ملازمہ خون میں بھیگی مردہ پڑی تھی۔اس سے ہوتی اس کی نظر کسی شخص کے بوٹوں پڑ پڑی تھی جہاں سے ہوتے ہوئے اس شخص کے چہرے ہر نظر پڑتے ہی کافی کا مگ اس کے ہاتھ سے چھوٹ جر نیچے گر گیا تھا۔
“آہہہہہہ۔۔۔!!!!!”
وہ زور دار چیخ مارتی وہاں سے بھاگی تھی مگر خون کی وجہ سے وہ پھسل گئی تھی۔ وہ شخص طنزیہ ہنسا تھا۔
دانین تیزی سے اٹھتی سیڑھیاں پھلانگتی اوپر بھاگ رہی تھی۔ جب چند ہی قدموں میں اس کے پاس پہنچتے اس شخص نے دانین کو بالوں سے پکڑ کر سیڑھیوں سے گھسیٹنا شروع کیا تھا۔
“ن۔۔نہیں چھوڑو مجھے۔۔۔”
دانین اس کے ہاتھ پر ناخن مارتی اپنے بال بری طرح چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔
“تمھیں اور تمھارے گھر کے ہر شخص کو میں ختم کردوں گا۔۔”
وہ ہنستا ہوا بولا تھا۔
“کوئی میری مدد کرو۔۔ روحان۔۔ شازل۔۔ بابا”
“ہاہاہا چیخو۔۔ اور اونچی آواز میں۔۔”
وہ ہنستا ہوا بولا تھا۔
“روحان۔۔۔!!!”
“روحان۔۔۔!!!”
“شازل۔۔۔!!!”
“بابا۔۔!! مجھے بچا لیں اس حیوان سے۔۔”
وہ چیختے ہوئے بول رہی تھی جب اچانک ایک بھاری چیز اس کے سر پر لگی تھی اور اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا تھا۔
جاری ہے۔۔
