Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes NovelR50560 Professor Shah (Episode 19)
Rate this Novel
Professor Shah (Episode 19)
Professor Shah Season 2 by Zanoor Writes
“فیاض بہت تیز ہے اس نے چند دن پہلے اپنے ارد گرد سکیورٹی ڈبل کرلی ہے۔۔”
حیدر کی میز پر پھینکی گئی تصویریں اٹھا کر دیکھتا شازل ماتھے پر بل ڈالے بولا تھا۔
“تمھیں اور چوکنا رہنا چاہیے۔۔وہ پہلے ہی چئیر پرسن کے اصل قاتل کی تلاش میں ہیں۔۔”
عسکری نے اپنے لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلاتے جواب دیا تھا۔
“ہمم۔۔اور اس کی کالز پر کچھ سننے کو ملا؟”
شازل نے ماتھے پر بل ڈالے پوچھا تھا۔
“ہاں وہ آج کل کسی گرینڈ سیلبریشن کی بات کر رہے ہیں۔۔جو شاید ایک مہینے بعد ہوگی۔۔”
عسکری نے سر ہلاتے جواب دیا تھا۔
“اس پارٹی کے بارے ساری انفارمیشن نکالو اس کے گھر کے گرد جتنی سکیورٹی ہے ہم اسے وہاں ہاتھ بھی نہیں لگا سکیں گے۔۔”
شازل نے سگریٹ سلگاتے ہوئے سنجیدگی سے کہا تھا۔
“تم کل رات کو فیاض کے گھر کے ارد گرد کا معائنہ کرنے گئے تھے نہ؟ “
حیدر نے اچانک پوچھا تھا۔شازل نے گہرا سانس بھرا تھا۔
“ایک ضروری کام کی وجہ سے مجھے کہیں جانا پڑا تھا۔”
شازل نے سگریٹ کا دھواں فضا میں چھوڑتے کہا تھا۔
“کہیں وہ ضروری کام نورے تو نہیں تھی۔۔”
حیدر سلطان کی بات پر وہ ایک دم سیدھا ہوتا اس کی جانب مڑا تھا۔
“مجھے پسند نہیں تم بار بار اس کا ذکر محفل میں کرو۔۔وہ کوئی ایری غیری لڑکی نہیں ہے۔۔میری بیوی ہے۔۔”
وہ انگلی اٹھاتا حیدر سلطان کو سخت لہجے اور سرد انداز میں وارن کرگیا تھا۔
“اس کی وجہ سے تم مشن سے ہٹ رہے ہو۔۔”
اب کی بار عسکری ہلکی آواز میں منمنایا تھا۔شازل نے تیز نظروں سے اسے دیکھا تھا۔
“میں تم دونوں کو جواب دینے کا پابند نہیں ہوں۔۔”
وہ سگریٹ زمین پر پھینکتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
“اور تم دونوں اپنی حد میں رہو اس سب میں نورے کو دوبارہ بیچ میں لانے کی کوشش بھی مت کرنا ورنہ سارے لحاظ بھول جاوں گا۔۔”
وہ اپنے براون بالوں میں ہاتھ پھیرتا سپاٹ لہجے میں انھیں وارن کرگیا تھا۔عسکری خاموش ہوگیا تھا جانتا تھا وہ اپنی مرضی کا مالک ہے۔۔
“ہم صرف اتنا چاہتے ہیں تم اس مشن کے دوران اس سے دور رہو ورنہ اگر وہ لوگوں کی نظروں میں آگئی تو اسے بچانا مشکل ہوجائے گا۔۔”
حیدر نے کھڑا ہوتے سنجیدگی سے کہا تھا۔
“اس کی حفاظت میں کرسکتا ہوں۔۔”
شازل نے سرد لہجے میں کہا تھا۔
“وہ تو تم اپنی بہن کی بھی کرسکتے تھے۔۔”
حیدر کی بات پر غصے سے شازل کی رگیں ابھر آئی تھی۔ایک ہی جھٹکے میں حیدر کے پاس پہنچتے وہ ایک زوردار مکہ اس کے چہرے پر جڑ چکا تھا۔
“سچ برداشت نہیں ہورہا۔۔؟”
حیدر اپنے پھٹے ہونٹ کو صاف کرتا طنزیہ بولا تھا۔عسکری معاملہ سنگین ہوتا دیکھ کر کھڑا ہو گیا تھا۔
“اپنی حد میں رہو۔۔”
شازل اس کا کالر دبوچتا غصے سے سرخ ہوتا غرایا تھا۔
“شازل کالم ڈاون۔۔حیدر سٹاپ اٹ۔۔”
عسکری نے بمشکل شازل کے فولاد وجود کو حیدر سے دور دھکیلا تھا۔
“تم جتنا مرضی چھپاو سچ یہ ہی اپنی آزادی کے لیے تم اپنی ذمہ داریوں سے آزاد ہوگئے تھے۔اس کی بربادی کی وجہ تم بھی تھے۔۔تمھاری لاپرواہی اور ضد کی وجہ سے یہ سب ہوا۔۔”
حیدر سلطان غصے میں چیخ رہا تھا۔شازل ساکت سا ہوگیا تھا۔اپنی بہن کو وہ بچا سکتا تھا یہ سوچتے ہی ایک کسک اس کے دل میں اٹھی تھی۔
“حیدر شٹ اپ۔۔”
اب کی بار عسکری بھی اس کی باتوں پر بھڑک اٹھا تھا۔
“مجھے تو خاموش کروا لو گے مگر حقیقت سے منہ نہیں موڑ سکتے اب یہ پھر اپنی خودغرضی میں ایک بےقصور لڑکی کی زندگی تباہ کرنے لگا ہے جبکہ یہ جانتا ہے وہ ارسل نامی شخص پہلے ہی اس کے بارے میں ناجانے کس کس کو بتا چکا ہے۔۔”
حیدر غصے سے شازل کو گھورتا ہوا بولا تھا۔شازل اس کی باتوں پر جیسے پتھر کی مورت بن گیا تھا۔
“اس سب کی جو وجہ ہے اس کا پل پل میں عذاب بنا دوں گا۔۔تم غلط ہو حیدر یہ سب میری وجہ سے نہیں ہوا۔۔جو اس کی وجہ ہے اسے اس سب کی سزا ضرور ملے گی۔۔”
وہ سرد لہجے میں بولتا اپنی گاڑی کی چابیاں اٹھاتا لمبے لمبے ڈھگ بھرتا وہاں سے نکل گیا تھا۔
“تم نے یہ سب کیوں کیا حیدر ؟ اب وہ جلد بازی میں کوئی نہ کوئی غلط فیصلہ کرلے گا۔۔”
عسکری نے غصے سے پوچھا تھا۔
“وہ اصل مقصد بھول رہا تھا۔اسے یاد دلانا ضروری تھا۔”
حیدر سپاٹ لہجے میں بنا اس کی جانب دیکھے بولا۔۔
“تم پاگل ہو۔۔یہ کوئی طریقہ تھا؟ “
عسکری غصے سے بڑبڑاتا اپنا لیپ اٹھاتا اپنے گھر چلا گیا تھا۔وہاں صرف حیدر ہی رہ گیا تھا۔وہ سختی سی آنکھیں میچ گیا تھا۔اس کی آنکھوں کے سامنے چھن سے ایک نازک سراپا لہرایا تھا۔درد کی ٹیسیں اس کے دل میں بےساختہ اٹھی تھی۔اس نے بےبسی سے زور سے اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ لیا تھا۔وہ بس اتنا چاہتا تھا شازل جلد سے جلد سب مجرموں کو ختم کردے تاکہ اس کے سلگتے دل کو بھی تھوڑی راحت مل جائے۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
وہ کوئی کتاب نکال اس کے اوراق پلٹنے میں مصروف تھی مگر سوچوں کا مرکز شازل خان تھا۔صبح اس کے میسج پر وہ نہال سی ہوگئی تھی۔تبھی سارا دن پرسکون سا گزرا تھا۔
وہ اس سے کال پر بات کرنا چاہتی تھی مگر لگتا تھا شازل مصروف ہے۔تبھی اس کا میسج تک بھی نہیں آیا تھا۔وہ کچھ دیر مزید انتظار کرتی بےزار سی فریش ہوتی سونے کی تیاری کرنے لگی تھی۔
گھڑی رات کے ایک بجا رہی تھی وہ نائٹ بلب اون کرتی سونے لگی تھی جب دروازہ کھلنے کی آواز پر اس کی کچی نیند سے آنکھیں کھل گئی تھیں۔اس نے فورا اٹھ کر بیٹھتے لائٹ اون کی تھی۔دل میں فورا شازل کا خیال آیا تھا۔
“شازل”
اس نے مسکرا کر شازل کو دیکھا تھا مگر جلد ہی اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی تھی۔وہ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔اس کا چہرہ شدید زرد دکھائی دے رہا تھا۔
“آپ ٹھیک ہیں؟”
اس نے گھبرا کر بیڈ سے کھڑے ہوتے پوچھا تھا۔شازل چند قدم اٹھاتا سائیڈ پر پڑے صوفے پر گر گیا تھا۔
“ہاں۔۔”
فقط ایک لفظی جواب دیا گیا تھا۔وہ اس کی حالت پر پریشان سی ہوگئی تھی۔
“کوئی پریشانی ہے شازل؟”
اس نے شازل کے ساتھ بیٹھتے نرمی سے پوچھا تھا۔
“میں ابھی کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔۔”
شازل نے سرد لہجے میں کہتے اپنا سر صوفے کی پشت سے ٹکالیا تھا۔حیدر کی باتیں اس کے دماغ میں ہتھوڑے کی مانند بج رہی تھیں۔ابھی نورے کو اپنے قریب پاکر اس کے بھڑکتے دل کو تھوڑا سکون ملا تھا۔مگر حیدر کی کاٹ دار باتیں ابھی بھی کانوں میں گونج رہی تھیں۔
وہ سختی سے آنکھیں موند گیا تھا۔نورے نے اسے دیکھتے نرمی سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلانا شروع کی تھیں۔وہ اس کی انگلیوں کا نرم لمس محسوس کرتا ایک ٹھنڈی سانس خارج کرتا ریلکس ہوگیا تھا۔
“سر میں درد ہو رہا ہے؟ چائے بنا دوں؟”
اس نے نرم سے شازل سے پوچھا تھا۔
“نہیں میں بس کچھ دیر سکون سے گزارنا چاہتا ہوں۔۔”
وہ سپاٹ لہجے میں بولتا نورے کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگاچکا تھا۔اسے کھو دینے کی احساس سے دل بےہنگم انداز میں دھڑک رہا تھا۔اسے سینے سے لگاتے سکون کی ایک لہر اس کے وجود میں اتر سی گئی تھی۔نورے اس کی طبیعت کا خیال کرتی خاموشی سے اس کے سینے پر سر رکھتی اس کی مدھم دھڑکنوں کے شور کو سننے لگی تھیں۔
وہ اس کی خوشبو خود میں اتارتا کچھ ہی دیر میں گہری نیند کی وادیوں میں کھو گیا تھا۔نورے کچھ پل جاگتی رہی تھی مگر جلد ہی وہ بھی سو گئی تھی۔
صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی جبکہ شازل کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں تھا جس پر وہ خاصا مایوس ہوگئی تھی۔وہ شاید جلدی میں تھا جو اسے بھی جاتے ہوئے بتانا ضروری نہیں سمجھا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
“ہیلو پروفیسر۔۔ اوہ سوری اب تو آپ ہمارے پروفیسر نہیں رہے۔۔شازل۔۔”
سونیا اپنے بال کانوں کے پیچھے اڑستی معصنوعی معصومیت کا مظاہرہ کرتی کرسی کھینچ کر اس کے رو برو بیٹھ گئی تھی۔
شازل نے اپنے سامنے پڑی چائے کو پیتے آنکھیں چھوٹی کرکے اس چالاک لڑکی کو گھورا تھا۔اس کے منہ سے اپنا نام سن کر اسے اپنا نام ہی زہر لگنے لگا تھا۔
“پیپرز کیسے ہورہے ہیں؟”
اس نے سرسری انداز میں پوچھا تھا۔ویٹر کے آتے ہی سونیا نے اپنے لیے جوس آرڈر کیا تھا۔شازل کا سوال سنتی وہ مسکرا اٹھی تھی۔
“بہت اچھے ہورہے ہیں۔۔بس آپ کو مس کر رہی ہوں۔۔”
اس کی بےباکی پر شازل نے سختی سے جبڑے بھینچ لیے تھے۔اس کی نظروں کے سامنے نورے کا آنسووں سے تر چہرہ لہرایا تھا۔وہ چائے کے کپ پر اپنی گرفت مضبوط کرگیا تھا۔اس نے پیپر کے بعد سونیا کو یونیورسٹی کے کیفے سے کچھ دور ملنے کے لیے بلایا تھا۔
“میں نے سنا نورے کو سسپینڈ کردیا گیا ہے۔۔ کیا یہ سچ ہے؟”
شازل نے چائے کا گھونٹ بھرتے سرد لہجے میں پوچھا تھا۔سونیا کے چہرے سے مسکراہٹ سمٹی تھی۔
“ج۔۔جی وہ چیٹنگ کر رہی تھی۔ واٹ آ ڈمب گرل۔۔”
سونیا تمسخرانہ انداز میں بولی تھی۔نورے کو پھنسا کر نکلوانے پر اسے سکون مل گیا تھا۔
“کیا تم نے وہ چیٹنگ والا پیپر اس کے پاس پھینکا تھا۔؟”
شازل کے پوچھنے پر وہ گھبرا گئی تھی۔
“میں ایسا کیوں کروں گی؟”
سونیا نے معصوم بنتے ہوئے پوچھا تھا۔
“کیا تم نے وہ پیپر پھینکا تھا ہاں یا نہیں؟”
شازل نے اپنی ویسٹ سے گن نکالتے اس کے سامنے رکھی تھی سونیا کا سانس سوکھ گیا تھا۔شازل کے لہجے میں چھپی وارننگ محسوس کرکے اس کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمک پڑی تھیں۔
“شا۔۔شازل۔۔”
اس نے آنکھیں پھیلا کر شازل کی جانب دیکھا تھا۔
“شٹ اپ اپنے منہ سے میرا نام دوبارہ مت لینا۔۔اس کا حق صرف میں نے اپنی بیوی کو دیا ہے۔۔اب بتاو ہاں یا ناں؟”
اس نے گن کی سیفٹی ہٹاتے سخت لہجے میں کہا تھا۔
“ہ۔۔ہاں م۔۔میں نے پھینکا تھا وہ پیپر۔۔”
اس نے کانپتی آواز میں شازل کی جانب دیکھتے جواب دیا تھا اس کے چہرے کے سرد تاثرات دیکھ کر سونیا کے چہرے کا رنگ فق ہوچکا تھا۔
“کیوں؟”
اس نے سرد لہجے میں سونیا کے چہرے کی جانب دیکھتے پوچھا تھا۔
“م۔۔مجھے نہیں پسند اس کا آپ کی طرف دیکھنا بھی۔۔ جو ہمارے درمیان آئے گا میں اس کے ساتھ ایسا ہی کروں گی۔”
وہ جنونی انداز میں بولی تھی۔
شازل اس کی بات سنتا ہنس پڑا تھا۔سونیا اسے حیرانی سے ہنستے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
“ہمارے درمیان ایسا کوئی رشتہ ، تعلق یا واسطہ نہیں جو تم ایسا بولنے کا حق رکھو۔۔”
“وہ کوئی عام لڑکی نہیں ہے۔۔جسے تمھارا دل کیا اپنے راستے سے ہٹا دو گی۔۔”
“وہ میری بیوی ہے۔۔”
“اسے نقصان پہنچانے والے کسی بھی شخص کو میں آسانی سے نہیں چھوڑوں گا۔۔”
“نورے شازل خان کو تکلیف پہنچانے والے ہر شخص سے میں سود سمیت اس کے آنسووں کا بدلہ لوں گا۔”
وہ انتہائی سنجیدگی سے گن کو میز پر گھوماتا بول رہا تھا۔اس کے منہ سے نورے کو بیوی تسلیم کرنے کا سن کر اس نے سختی سے لب بھینچ لیے تھے۔اس کی نگاہ گن کی طرف سے ہٹتی ارد گرد گئی تھی جہاں کیفے میں چند لوگ ہی تھے جو اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔
“میں نے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔۔”
وہ گردن اکڑاتی اپنے ڈر کو چھپاتی بولی تھی۔مگر وہ بھی شازل خان تھا مقابل کے کانپتے ہاتھ ، بگڑے تنفس اور اڑے رنگ نے اس کے کیفیت ظاہر کر دی تھی۔
“تمھاری وجہ سے اس کی ساری محنت ضائع ہوگئی اسے یونیورسٹی سے سسپینڈ کردیا گیا۔۔اس نے تمھاری وجہ سے خود کو نقصان پہنچایا۔۔”
“اور تمھیں لگتا ہے تم نے کچھ نہیں کیا؟”
شازل نے غصے سے بھری نظروں سے اس کی جانب دیکھتے پوچھا تھا۔ سونیا لاجواب سی ہوگئی تھی۔
“تم صبح یونیورسٹی جاکر سب سے اپنے جرم کا اعتراف کرو گی۔۔ورنہ جو اتنی آسانی سے بخش رہا ہوں اس سے کئی زیادہ اذیت دوں گا۔۔اور مجھے مزاق میں لینے کی کوشش بھی مت کرنا۔۔نورے کے معاملے میں ، میں بالکل بھی رحم دل نہیں ہوں۔۔”
وہ اپنی گن ویسٹ میں رکھتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔اس کی بات پر سونیا کا سانس سوکھ گیا تھا۔اس نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا اس کی چال اس پر ہی الٹی پڑ سکتی ہے۔۔
“اٹھارہ گھنٹے ہیں تمھارے جو بھی فیصلہ کرو گی سوچ سمجھ کر کرنا۔۔اگر کل تک میری بیوی کو یونیورسٹی سے کال نہ آئی تو تمھارے گھر والوں کو تمھارے غائب ہونے کی کال ضرور چلی جائے گی۔۔”
وہ سفاکیت سے بولتا اپنے والٹ سے چند نوٹ نکال کر میز پر پھینکتا بے لمبے ڈھگ بھرتا وہاں سے نکل گیا تھا۔اس کو جاتے دیکھ کر سونیا نے اپنا سر ہاتھوں میں گرا لیا تھا۔شازل کے انداز سے اسے پتا چل گیا تھا وہ مزاق بالکل بھی نہیں کر رہا تھا۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
وہ کچھ دنوں سے موقع کی طاق میں تھا کہ کب اسے وقت ملتا ہے اور کب وہ دانین سے کھل کر بات کرتا ہے۔۔وہ کافی دنوں سے اسے دکھائی بھی نہیں دی تھی جس کی وجہ سے اسے عجیب بےچینی ہورہی تھی۔ملائکہ بھی عجیب خاموش سی ہوگئی تھی اس سے وہ جب بھی دانین کے بارے میں کچھ پوچھتا وہ کوئی جواب نہ دیتی۔۔آج آغا خان میٹنگ کے سلسلے میں آوٹ آف سٹی گئے ہوئے تھے مگر ملائکہ گھر ہی تھی وہ رات ہونے کا انتظار کر رہا تھا تاکہ دانین سے بات کرسکے۔۔
رات کے کھانے کے بعد وہ اپنے ساتھیوں سے ایکسکیوز کرتا گھر کے اندر داخل ہوا تھا۔ملائکہ کے کمرے کی لائٹ آف دیکھتے اس نے سکون کا سانس بھرا تھا وہ بنا آواز پیدا کیے قدم آگے بڑھانے لگا تھا۔
“اس طرح چھپ کر جانے سے بہتر تھا تم مجھ سے ایک بار پوچھ لیتے روحان۔۔”
ملائکہ کی آواز سنتا وہ ایک دم ساکت ہوگیا تھا۔
“میں بس ایک بار اس سے بات کرنا چاہتا ہوں۔۔”
وہ ملائکہ کی طرف رخ کرتا التجائیہ انداز میں بولا تھا۔
“کیا بات کرو گے؟”
“وہ اپنے باپ پر گئی ہے تمھاری کوئی بات نہیں سنے گی اب جو اس نے ٹھان لیا ہے وہ کرکے رہے گی۔۔”
ملائکہ بےتاثر انداز میں بولی تھی۔روحان نے ٹھٹھک کر اس کی جانب دیکھا تھا۔
“آپ کہنا کیا چاہتی ہیں؟ “
“جو بات ہے صاف صاف بتا دیں۔۔”
روحان نے لب بھینچ کر کہا تھا۔
“تمھیں میری بات سمجھ آجائی گی جاو اس سے بات کرلو لیکن تمھارے پاس صرف پندرہ منٹ ہے اس کے بعد میں کمرے میں آجاوں گی۔۔اور اسے کوئی نقصان پہنچانے کی جرت بھی مت کرنا۔۔”
ملائکہ نے اسے وارن کیا تھا۔
“آپ کو لگتا ہے میں اسے نقصان پہنچاوں گا؟”
غصے سے روحان کے ماتھے کی رگیں ابھر آئیں تھیں۔
“میرا مرد ذات سے بھروسہ اٹھ چکا ہے اب مجھے تم بھی سب مردوں جیسے لگتے ہو۔۔”
ملائکہ کی بات پر وہ لب بھینچ کر خاموشی سے سیڑھیاں پھلانگتا اس سے بات کرنے چلا گیا تھا۔ملائکہ گہرا سانس خارج کرتی وہاں لاونج میں ہی بیٹھ گئی تھی۔
وہ ناک کرتا اس کے روم میں داخل ہوا تھا۔دانین کو لگا تھا ملائکہ ہوگی مگر اس کی جگہ روحان کو دیکھتے وہ حیرانی سے اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئی تھی۔
“کیا کوئی ہے آپ کو؟”
اس نے پل میں اپنے چہرے کے تاثرات پتھریلے کرتے روحان سے پوچھا تھا۔
“میرے ساتھ یوں اجنبیوں والا بہیو کیوں کر رہی ہو؟”
اس نے ماتھے پر بل ڈالے پوچھا تھا۔
“کیسا بہیو ؟”
اس نے سینے پر بازو باندھتے سخت لہجے میں پوچھا تھا۔
“تم جانتی ہو میں کیا بات کر رہا ہوں۔۔”
روحان نے اس کی جانب ایک قدم بڑھاتے مٹھیاں بھینچتے کہا تھا۔
“اپنی لمٹ میں رہیں مسٹر روحان۔۔ میں آپ کو کسی بات کے لیے جوابدہ نہیں ہوں۔۔”
وہ پیچھے قدم اٹھاتی سپاٹ انداز میں بولی تھی۔
“تم میرے جذبات کے ساتھ یوں کھیل نہیں سکتی دانین۔۔”
وہ غصے سے دھاڑا تھا۔
“کیسے جذبات ؟ کونسے جذبات کی بات کر رہے ہیں آپ؟”
وہ اس کے غصے سے بنا ڈرے بولی تھی۔
روحان اس کی بات سنتا ایک ہی جھٹکے میں اس کے قریب پہنچتا اس کے بازوؤں کو مضبوطی سے پکڑ گیا تھا۔
“میں تم سے پیار کرتا ہوں ڈیم اٹ۔۔”
“مجھ سے نہیں برداشت ہورہا تمھارا یہ سرد رویہ۔۔”
وہ اسے جھنجھوڑتا چیخا تھا۔
“خاموش ہوجائیں۔۔ مجھے کچھ نہیں سننا نکل جائیں میرے کمرے سے اس سے پہلے میں چیخ کر سب کو بلا لوں اور آپ کو اس کمرے سے دھکے دے کر باہر نکلواوں۔۔”
وہ روحان کے بازوں جھٹکتی زور سے چیختی روحان کو ساکت کر گئی تھی۔
“اگر تم نے ایسا ہی کرنا تھا تو کیوں میرے قریب آئی ؟ کیوں جانتے بوجھتے میرے جذباتوں سے کھیلی۔۔؟”
وہ دوبارہ اس کے بازووں کو تھامتے اسے جھنجھوڑتا ہوا پوچھنے لگا تھا۔
“مجھے نہیں پتا تھا آپ میری نرمی کو میری محبت سمجھ لیں گے۔۔”
“میری سب سے بڑی غلطی آپ سے ملنا تھا جان بوجھ کر میرے سر پر سوار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔کتنی بار بول چکی ہوں نہیں کرتی آپ سے کوئی محبت میں۔۔چھوڑ دیں میرا پیچھا۔۔آپ کی موجودگی سے بس اب میرا دم گھٹتا ہے۔۔فورا نکل جائیں میرے کمرے سے۔۔”
اسے روحان کی انگلیاں اپنے بازوؤں میں کھبتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں۔روحان اس کے منہ سے زہر خند باتیں سن کر سناٹے کی زد میں آگیا تھا۔
“ہاہاہا۔۔”
وہ اسے جھٹکے سے چھوڑتا ہنسنے لگا تھا۔
“بہت چالاک لڑکی ہو تم۔۔یہ ٹراما کا ڈرما کرکے معصوم بننے کی کوشش کر رہی ہو۔۔۔مگر اب مجھے سب واضح ہوگیا ہے کیسی لڑکی ہو تم۔۔ تم تو سانپ سے بھی زیادہ زہریلی ہو۔۔”
وہ اس کا جبڑا دبوچتا سفاکیت سے بولا تھا۔دل کرچی کرچی ہوچکا تھا۔
“اچھا ہوا جلدی تم سمجھ گئے۔۔”
وہ اپنے آنسووں گلے میں اتارتی بولی تھی۔وہ اسے کیا بتاتی وہ کس حال سے گزر رہی ہے۔۔وہ جو بھی کررہی تھی وہ اس کے بھلا کے لیے کر رہی تھی۔
روحان اسے جھٹکے سے چھوڑتا جانے کے لیے مڑا تھا جب اس کی کھڑکی سے اندر آتی لال روشنی کو دیکھتا ساکت ہوا تھا۔دانین اس کے چھوڑتے ہی رخ پھیر گئی تھی۔
“دانین نیچے جھکو۔۔”
وہ اونچی آواز میں چیخا تھا۔دانین ناسمجھی سے پیچھے مڑی تھی جب روحان اس پکڑتا زمین پر گرا تھا۔بجلی کی تیزی سے ایک گولی کھڑکی کے شیشے کو توڑتی اندار داخل ہوئی تھی۔دانین کے منہ سے ایک زور دار چیخ نکلی تھی۔
“We are under attack sir..”
اپنے کورڈینیٹ کی بات اپنے کان میں لگے بلوٹوتھ میں سنتا وہ تیزی سے سیدھا ہوا تھا۔
“Call the emergency backup.”
وہ بولتا ہوا اپنی گن نکال چکا تھا۔
“تم ٹھیک ہو؟”
اس نے سنجیدگی سے دانین سے پوچھا تھا جس پر وہ دھیرے سے سر ہلا گئی تھی۔اس کی بےچین نظریں روحان کو دیکھ رہی تھیں کہ کہیں اسے کوئی چوٹ تو نہیں لگی مگر وہ بھی ٹھیک تھا۔
“شش۔۔بیڈ کے نیچے جاو۔۔اور کچھ بھی سنو مگر باہر مت نکلنا۔۔”
روحان سرد لہجے میں بولا تھا۔
“روحان۔۔”
دانین نے اسے پکارا تھا۔
“شٹ اپ جو بول رہا ہوں خاموشی سے وہ کرو۔۔”
اس بار وہ درشتگی سے بولتا دانین کو ڈرا گیا تھا۔دانین لب بھینچتی خاموشی سے بیڈ کے نیچے گھس گئی تھی۔روحان نے نیچے جھکتے اپنے پیچھے موجود دیوار پر لگے سوئچ کو آف کردیا تھا جس سے کمرے میں اندھیرا چھا گیا تھا۔وہ تیزی سے اٹھتا کھڑکی والی دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا تھا۔
اس نے پردہ ہٹاتے باہر جھانکا تھا مگر وہاں کوئی بھی نظر نہیں آرہا تھا۔
“باہر سچوئیشن کیسی ہے؟”
اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا تھا۔
“سر ہم گھر کے اندر بیک ڈور والی سائیڈ پر ہیں ملائکہ ہمارے ساتھ سیف ہے بیک اپ کال کرلیا گیا ہے ٹوٹل پانچ لوگ فرنٹ گیٹ پر ہیں۔۔”
“اوکے۔۔تم ملائکہ کے ساتھ بیک ڈور سے باہر نکل جاو۔۔میری فکر مت کرنا میں ٹھیک ہوں دانین بھی ٹھیک ہے تم وہاں سے نکلتے ہی باہر جو پہلی گاڑی ہے اس میں بیٹھ کر چلے جانا اور پیچھے مت مڑنا۔۔ملائکہ کو کسی سیف جگہ پہنچاو۔۔”
وہ پردے سے باہر جھانکتا تیزی سے بولا تھا۔
“بٹ سر ہم آپ کو کیسے چھوڑ کر جاسکتے ہیں؟”
اس کے ساتھی نے اعتراض کیا۔۔
“اٹس مائی آرڈر لیو دا ہاوس ناو۔۔”
وہ سختی سے بولا تھا۔
“سر آپ بھی آجائیں ہمارے ساتھ۔۔”
اس کے ساتھی نے بولا تھا۔
“اتنا ٹائم نہیں ہے ڈیم اٹ۔۔ویسے بھی گولیاں چل رہی ہیں دانین زخمی ہوسکتی ہے۔۔۔سارے گھر کی پاور بھی آف کردو اور باہر نکل جاو۔۔ہمارا سڑیٹ کے کارنر پر انتظار کرو۔۔اوکے؟ میں کسی بھی طرح دانین کو باہر نکلوا کر بھیجتا ہوں۔۔دانین نے آتے ہی یہان سے نکل جانا۔۔میرا انتظار مت کرنا”
وہ باہر کے دروازے پر چلتی گولیاں سنتا تیز لہجے میں بولتا تیزی سے دانین کی طرف بڑھتا اسے بازو سے پکڑتا تیزی سے بیڈ کے نیچے سے نکالتا باہر کی جانب بھاگا تھا اس کے ساتھی ساری پاور کٹ کرگئے تھے جس کی وجہ سے گھر میں اندھیرا چھا گیا تھا۔گولیوں کی آواز سن کر دانین کانپنے لگی تھی۔روحان اسے پکڑتا تیزی سے ٹیریس کے دروازے کی جانب بھاگا تھا۔وہاں بنے چھوٹے سے کمرے سے نکل کر چھت کا راستہ آتا تھا جہاں ٹائلز لگی ہوئی تھیں۔
“سٹے کوائیٹ۔۔”
“اوپر چڑھو۔۔”
اس کے بولنے پر وہ کانپتی ٹانگوں سے تیزی سے اس چھوٹے سے روم میں چڑھ گئی تھی۔باہر دروازہ ٹوٹنے کی آواز سن کر دانین نے منہ سے بےساختہ چیخ نکلی تھی۔روحان نے بےساختہ اس کے منہ پر ہاتھ رکھا تھا۔
“بےوقوف لڑکی تم ہم دونوں کو مرواو گی۔۔”
اس کے بولنے پر دانین اپنی زبان دانتوں تلے دبا گئی تھی۔
“یہاں سے نکلو اور احتیاط سے بنا آواز پیدا کیے ٹالز کو تھامتے ہوئے پچھلے راستے کی جانب بنی بالکونی میں کود کر نیچے اتر جانا اور یہاں سے نکلتے ہی سیدھا کارنر پر کھڑی گاڑی کے پاس چلی جانا۔۔”
روحان نے اسے ہدایت دی تھی۔
“آپ۔۔؟”
اس نے سوالیہ نگاہوں دے اسے دیکھا تھا۔روحان اس کی بات اگنور کر گیا تھا اسے اس کے ایک ساتھی نے بتایا تھا وہ لان میں چھپا ہوا ہے جس پر اس نے نیا پلان بنایا تھا۔
“میں انھیں ڈسٹریکٹ کر رہا ہوں۔۔یہ والکی ٹالکی لے لو اس کے ذریعے تم میرے ساتھیوں سے بات کرسکو گی۔۔مجھے ابھی کین نے بتایا ہے وہ پچھلے لان میں چھپا تمھارا انتظار کر رہا ہے۔۔تمھارا بس اتنا کام ہے تم نے کسی بھی طرح اس کے پاس پہنچنا ہے اور پیچھے مڑنے کی غلطی بھی مت کرنا۔۔جاو اب۔۔”
روحان کی بات پر وہ سر ہلا گئی تھیں۔کتنی باتیں تھیں جو وہ اس سے کرنا چاہتی تھی۔کتنے جذبات تھے جو وہ چھپائے بیٹھی تھی۔کتنے ادھورے جملے تھے جو وہ اسے بتانا چاہتی تھی۔سب کے سب اس کے ہونٹوں میں دبے رہ گئے تھے۔روحان کے بولنے پر وہ آہستہ سے وہاں بنے چھوٹے سے راستے سے باہر ٹیریس پر نکل آئی تھی۔قدموں کی چاپ قریب آتے محسوس کرتے اس روم کا دروازہ بند کرتے روحان نے اپنی گن نکال لی تھی۔اس کے پاس ایک ہی گن تھی جس میں صرف چھ گولیاں تھیں۔اس کے پاس ایکسٹرا بلٹس بھی نہیں تھیں اسے پتا تھا اسے بس انھیں بیک اپ کے آنے تک روکے رکھنا تھا بیک اپ کے آنے میں بھی دس سے پندرہ منٹ لگ جانے تھے۔اب تک وہ بس کچھ دور ہی تھے۔روحان کے پاس والکی ٹالکی بھی نہیں رہا تھا جس سے اس کا بلوٹوتھ کونیکٹ تھا۔
وہ خاموشی سے دروازہ بند کرتا وہاں سے نکلتا ساتھ والی دیوار سے چپک گیا تھا جب سامنے سے ٹارچ لے کر آتے آدمی کو دیکھ کر وہ مزید اندھیرے میں چھپتا اپنی سانس روک گیا تھا۔
اس آدمی کے قریب آتے ہی اس کو پیچھے سے گردن میں بازو ڈالتے اس نے اسے اٹھا کر وہاں بنی لکڑی کی گرل جس سے لاونچ کا منظر نظر آتا تھا نیچے پھینک دیا تھا۔
“چار۔۔”
وہ بڑبڑایا تھا ساتھ ہی اس نے گن نکالتے اپنی جانب آتے دو لوگوں پر تیزی سے فائر کیا تھا ساتھ ہی وہ گرل کے ساتھ موجود بڑے سے پلر کے پیچھے چھپ گیا تھا وہ دونوں میں سے ایک کے بازو پر گولی لگی تھی دوسرا صحیح سلامت تھا۔تبھی وہ دونوں تیزی سے فائر کرتے اس کی جانب بڑھ رہے تھے۔وہ بس اتنا ہی چاہتا تھا۔بس دانین یہاں سے بحفاظت نکل جائے۔۔
دوسری جانب دانین کانپتی ٹانگوں سے بمشکل ٹائلز پر چل رہی تھی۔خوف ، گھبراہٹ اور روحان کا سوچ کر اس کے سانس خشک ہوچکے تھے۔۔وہ اپنی سوچوں میں گم بری طرح ٹائل میں الجھتی گرتی ہوئی نیچے جانے لگی تھی جب عین وقت پر اس نے وہاں موجود ایک ٹائل کو تھام لیا تھا۔شور کی آواز سے نیچے موجود ایک آدمی چوکنا ہوا تھا وہ دانین کی کھڑکی سے باہر نکلتا پائپ کے سہارے اوپر چڑھنے لگا تھا۔
دوسری جانب ان کے قریب آتے ہی روحان نے ایک بار پھر اپنی گن چلائی تھی اب کی بار ایک کے سر میں سیدھی گولی لگی تھی۔دوسرا جس کا بازو زخمی تھا اس نے روحان پر تیزی سے فائر کیا تھا۔ایک گولی روحان کے کان کی لو کو چیرتی پیچھے پیوست ہوگئی تھی۔روحان بہت مشکل سے بچا تھا۔خون اس کی لو سے نکلتا تیزی سے اس کی گردن پر بہنے لگا تھا۔اس کا کان گولی لگنے سے بند ہوگیا تھا۔عجیب سٹیوں کی آواز سنائی دینے لگی تھی۔وہ ایک تکلیف دہ سانس بھرتا پیچھے کو پلر کے ساتھ ٹیک لگا گیا تھا۔اس کی گن میں صرف ایک گولی رہ گئی تھی۔دماغ تیزی سے گھوم رہا تھا۔وہاں گری ٹارچ لائٹ سے اسے عکس دکھائی دے رہا تھا۔
اس نے گہرا سانس بھرتے اپنا سر جھٹکتے عکس کو دیکھتے تیزی سے باہر نکلتے وہ گولی اپنے قریب آتے شخص کے گلے پر چلا دی تھی۔جس سے وہ موقع پر گر گیا تھا۔اب اس کی گن میں کوئی گولی نہیں تھی جبکہ ایک اور شخص سامنے سے ٹارچ لائٹ کے ساتھ آتا دکھائی دے رہا تھا۔
اس نے زور سے گن زمین پر پھینکی تھی اور ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنی جانب آنے کا اشارہ کیا تھا اس شخص کے پاس چاقو تھا وہ ٹارچ لائٹ زمین پر پھینکتا تیزی سے حملہ کرنے کے لیے روحان پر جھپٹا تھا۔روحان نے اس کے پیٹ میں کک مارتے اس کے ہاتھ پر بازو سے جھٹکا دیا تھا۔مقابل نے روحان کے سینے پر چاقو پیوست کرنے کی کوشش کی تھی جب روحان نے اس کے سر پر زور سے سر مارتے اس کے ہاتھ سے چاقو چھڑوا کر نیچے پھینکنے کی کوشش کی تھی۔۔مگر مقابل بھی ہوشیار تھا اپنی دائیں ٹانگ کا استعمال کرتے اس نے زور سے روحان کو نیچے گرایا وہ اس افتاد پر بری طرح چونک گیا تھا جس کا فائدہ اٹھاتے اس آدمی نے روحان کے کندھے میں وہ چاقو پیوست کردیا تھا۔
دوسری جانب وہ شخص پائپ کے ذریعے اوپر چڑھتا تیزی سے دانین کو تلاش کرنے لگا تھا جو زیادہ مشکل نہیں تھا۔اس نے تیزی سے دانین پر نشانہ باندھتے گولی چلائی تھی۔ مگر دانین اسے دیکھ چکی تھی تبھی چیختی ہوئی نیچے جھک گئی تھی۔گولی اس کے بےحد قریب سے گزر کر گئی تھی۔پچھلی جانب چھپے شخص نے باہر نکلتے کسی انجان شخص کو دیکھتے گولیاں چلانی شروع کی تھیں۔دانین نیچے جھکتی تیزی سے اس سے بچتی دوسری جانب بھاگنے لگی تھی وہ روحان کے ساتھی سے بات کرنے کے لیے والکی ٹالکی اپنی ڈریس کی جیب سے نکالنے لگی تھی جب اسے خالی دیکھ کر اس کا سانس پھول گیا تھا اس کے نیچے گرنے کی وجہ سے شاید وہ اس کی جیب سے نکلتا نیچے گر گیا تھا۔
وہ پیچھے سے گولیوں کی آواز سنتی فرنٹ سائیڈ کی طرف تیزی سے ٹائلز کو تھامتی جانے لگیں تھیں۔جب سائرن کی آواز سنتے اس نے سکون کا سانس لیا تھا تبھی اس کا پاوں پھسلا تھا وہ بل کھاتی ہوئی سیدھا نیچے والی بالکونی میں گر گئی تھی۔
سائرن کی آواز سنتے ہی روحان نے سکون کا سانس لیا تھا جبکہ وہ شخص روحان سے خود کو چھڑواتا تیزی سے وہاں سے بھاگ گیا تھا مگر نیچے جاتے ہی اسے سکیورٹی نے پکڑ لیا تھا اسی طرح چھت پر موجود شخص بھی گولی لگنے کی وجہ سے بل کھاتا نیچے گرگیا تھا۔
روحان کے زخم سے خون نکلتا اس کی کالے کوٹ کے نیچے چھپی سفید شرٹ کو بھگو گیا تھا۔وہ اپنی آنکھوں کے آگے آتا اندھیرا جھٹکتا کھڑا ہوا تھا۔
“روحان۔۔”
اپنے نام کی پکار سنتا وہ سر جھٹکتا پیچھے مڑا تھا دانین کو صحیح سلامت دیکھ کر اس نے ایک سکون کا سانس لیا تھا۔ٹیم نے آتے ہی ساری لائٹس اون کردی تھیں۔روشنی میں روحان کی حالت دیکھتے وہ ساکت ہوگئی تھی۔ٹیم کے قدموں کی آواز سنتا روحان ہمت ہارتا زمین پر گر گیا تھا ساتھ ہی اس کی آنکھیں بند ہوگئی تھیں۔دانین کے حلق سے ایک زور دار چیخ نکلی تھی۔آنسووں اس کی آنکھوں سے نکلتے گالوں کو بھگونے لگے تھے اس کی ساکت نظریں زمین پر بےجان ہڑے روحان جے وجود پر ٹکی ہوئی تھیں۔۔
Ⓩⓐⓝⓞⓞⓡ Ⓦⓡⓘⓣⓔⓢ
وہ کتنی خوش تھی جب اسے اگلے دن صبح صبح یونیورسٹی سے کال آئی تھی۔اس کے دوبارہ پیپرز ہورہے تھے۔جو چھوٹ گئے تھے وہ آخر میں اس کے سب سے الگ ہونے تھے۔اسے یہ بھی پتا چلا تھا سونیا کو سسپینڈ کردیا گیا ہے اس نے خود اعتراف کیا تھا کہ اس نے نورے کو جیلسی کی وجہ سے پھنسایا تھا۔
ایک ہفتہ کیسے پیپرز میں گزر گیا اسے پتا ہی نہیں چلا تھا۔اس نے شازل کو کال کرکے اس کا شکریہ بھی ادا کیا تھا وہ جانتی تھی یہ کام شازل کا ہی ہے۔۔آخر اس کے سارے طریقوں سے وہ باخبر تھی۔
آج اس کے پیپرز فائنلی ختم ہوگئے تھے وہ فریش ہوتی نیچے آئی تھی جب لاونچ میں سب لوگوں کو بیٹھے دیکھ کر وہ ان کے پاس آئی تھی۔ماحول میں چھائی عجیب فضا کو محسوس کرتے اس نے حیرانی سے افرحہ کی جانب دیکھا تھا جو اس پر ایک نگاہ ڈالتی افسوس سے نظریں جھکا گئی تھی۔اس نے سب کی جانب دیکھا تھا فاطمہ بیگم کے علاوہ سب اسے دکھ سے دیکھ رہے تھے۔
“کیا ہوا ؟ سب مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں جیسے میں نے کوئی چوری کرلی ہے؟”
اس نے ہلکے پھلکے لہجے میں کہا تھا۔شاہزیب نے کھڑے ہوتے تیزی سے اسے سینے سے لگا لیا تھا۔
“کیا ہوا بھیا ؟ کچھ بتائیں گے مجھے۔۔؟”
اس نے حیرانی و کچھ پریشانی سے پوچھا تھا۔
شاہزیب نے آنکھیں میچ کر کھولتے اپنے کوٹ سے ایک فینسی انوئیٹیشن کارڈ نکالتے اس کی جانب بڑھایا تھا۔
نورے نے ایک نظر شاہزیب کے چہرے پر ڈالتے کارڈ اس کے ہاتھ سے پکڑا تھا اس کا دل عجیب انداز میں دھڑک رہا تھا۔انجانے خوف سے اس کے ہاتھ ہلکے ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے۔
“ی۔۔یہ کیسا مزاق ہے بھیا۔۔؟”
اس نے کارڈ کھول کر پڑھتے فق چہرے کے ساتھ شاہزیب کی جانب دیکھتے پوچھا تھا۔
“نورے۔۔”
شاہزیب نے اسے تھامنا چاہا تھا جب وہ بےساختہ پیچھے ہٹ گئی تھی۔کارڈ پر سنہری حروف میں شازل کے ساتھ انجانی لڑکی کا نام دیکھ کر اس کے سانسیں بند ہونے لگی تھیں۔وہ کارڈ نکاح کا تھا جو آج سے چار دن بعد تھا۔
“بھیا بول دیں یہ جھوٹ ہے۔۔”
وہ بےیقینی سے پوچھ رہی تھی۔کانپتی آواز نم آنکھیں اسے اپنی آنکھوں پر بھی یقین نہیں آرہا تھا۔سب کچھ تو اتنا اچھا چل رہا تھا پھر یہ کیا ہوگیا۔۔
“آج ہی مجھے یہ ملا ہے نورے۔۔میرا دل کر رہا تھا اس شخص کا منہ توڑ دیتا میں صرف و صرف تم سے کئے گئے وعدے کی وجہ سے رک گیا ہوں۔۔”
شاہزیب لب بھینچ کر بولا تھا۔
“م۔۔میں کچھ دیر اکیلی رہنا چاہتی ہوں۔۔”
وہ کانپتے ہاتھوں سے وہ کارڈ مضبوطی سے تھامتی سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگی تھی۔
“نورے۔۔تمھیں فیصلہ کرنا ہوگا۔۔”
میر شاہ نے کھڑے ہوتے اسے روکا تھا۔
“بابا ابھی وہ اس حالت میں نہیں ہے جانے دیں اسے۔۔”
شاہزیب نے میر شاہ کو خاموش کروایا تھا۔
“چچ۔۔ ایسا ہی ہوتا ہے جب یونیورسٹی میں جاکر لڑکے پھنساو گے اور گھر والوں کے خلاف جاکر شادی کرو۔۔ایسے لڑکوں کا جب ایک سے دل بھر جاتا ہے تب دوسری یاد آ جاتی یے ویسے بھی اس نے کونسا دنیا کے سامنے اس سے نکاح کیا تھا۔چھپ کر کی گئی شادی کی یہ ہی اوقات ہوتی ہے۔۔”
فاطمہ بیگم کی بات نے اس کے زخموں پر نمک چھڑک دیا تھا۔
“بس۔۔ خاموش ہوجائیں میری بہن کے بارے میں مزید ایک لفظ بھی برداشت نہیں کروں گا۔۔”
شاہزیب غصے سے بولا تھا۔افرحہ نورے کو کانپتے دیکھ کر اس کی جانب بڑھی تھی مگر کانپتے ہاتھ کے اشارے سے اس نے افرحہ کو روک دیا تھا۔
“فاطمہ تم کمرے میں جاو۔۔”
میر شاہ کی بات پر وہ ایک تمسخرانہ نظر نورے پر ڈالتی کنرے میں چلی گئی تھی۔نورے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی سیڑھیوں کی جانب بڑھنے لگی تھی۔دماغ میں مختلف باتیں گردش کر رہی تھیں۔اس نے کانپتے ہاتھوں سے گرل کو تھامتے قدم اٹھائے تھے۔
کیا ملا تھا اسے شازل سے محبت کرکے؟ دھوکا، رسوائی ، تکلیف ، آنسو۔۔وہ جان مانگتا تو وہ جان بھی دے دیتی مگر اپنی محبت میں شراکت داری؟ اسے اپنے گلے میں پھندے کی طرح لگ رہی تھی۔
اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگے تھے۔اس کی گرل سے گرفت ڈھیلی پڑی تھی سیڑھیوں پر پاوں رکھتے اس کے قدم ڈگمگائے تھے۔وہ سب کی نظروں کے سامنے چندھ سیڑھیوں سے بری طرح لڑکھڑاتی ہوئی نیچے گری تھی۔اپنی محبت کی بےوفائی دل میں کانٹے کی طرح چبھ رہی تھی۔آخر شازل خان بھی اس کے لیے باقیوں کی طرح ظالم اور سفاک ثابت ہوا تھا۔اس کا آج ہر رشتے سے بھروسہ اٹھ گیا تھا۔
