Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261

Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261 Pahari Ka Qaidi (Episode 15) Last Episode

51.5K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pahari Ka Qaidi (Episode 15) Last Episode

Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed

منیر ملک کے گردوں نے کام کرنا چھوڑ دیا ۔

علی احمد کرو کی حالت جیل میں بگڑ گئی ۔”

شاہد صدیقی کو گھر سے بے دخل کر دیا گیا۔“ ” منصف اعلا کے بچوں کو گھر کے برآمدے میں آنے کی اجازت بھی نہیں ہے۔”

اور یہ قوم اطمینان سے ان خبروں کو سن کر ان پر تبصرہ کرتی ہے، کھانا کھاتی ہے، پھر سو جاتی ہے اور جب صبح اٹھتی ہے تو روتا بلکتا بالاج اور اس کا باپ اس قوم کے ذہن سے محو ہو چکا ہوتا ہے۔

اندھیرے میں ڈوبی کالونی کی جانب بڑھتے ہوئے میرے قدم رک گئے ۔ میں نے گردن موڑ کر دیکھا پیچھے روشنی تھی زندگی کی روشنی اور سامنے موت کا سا سناٹا اور اند ھیرا تھا۔

میں آج اگر اپنے پیچھے موجود روشنیوں میں ڈوبے کسی بھی گھر کے مکینوں سے عادل اور اس کے ساتھ ساتھیوں کے متعلق پوچھتی تو ہر شخص ان کا نام عزت و احترام سے لیتا ، ان کو سلیوٹ کرتا ، ان کو زبر دست خراج تحسین پیش کرتا ، ان کو میر کا رواں “ اور ”امام خمینی قرار دیتا۔

۔اور جب میں یہ پوچھتی کہ آپ نے ججز کی بحالی کے لیے کیا کیا؟

کیا آپ سڑکوں پر نکلے؟ رکاوٹیں عبور کر کے ججز کے گھروں تک جا پہنچے؟ تو مجھے یقین ہے کہ ہر شخص سر جھکا کر کہتا

ریلیوں پر پولیس لاٹھی چارج کرتی ہے، اگر میں مارا گیا تو میرے بچوں کا کیا ہو گا؟“ عادل واقعی احمق تھا۔ وہ اس قوم کے لیے اپنے اصولوں کے سامنے اور بچوں کو پس پشت ڈال رہا

تھا جو اس سے اپنی اولاد سے زیادہ محبت نہیں رکھتے۔“ میں نے ایک تاسف بھری نگاہ ان روشنیوں پر ڈالی۔ شاید ہم لوگ اس قابل ہی نہیں ہیں کہ کوئی عادل منصف ہمیں ملے، اور کوئی وجیہ الدین جیسا قابل ذہین اور ایمان دار شخص ہمارا صدر ہو۔ شاید ہم اتنے گنہگار ہیں کہ ہمارے لیے امپورٹڈ وز یر اعظم باوردی صدر جسے لوگ ہی مکافات عمل ہیں۔ کالونی کے دہانے پر خاردار تاروں کی باڑ لگی ہوئی تھی۔ پولیس اور رینجرز کی ایک بھاری تعداد وہاں تعینات تھی یوں لگتا تھا جیسے خاردار تاروں کے اس پار گوانتانا موبے تھا جس میں عالمی دہشت گرد مقید تھے۔ ۔۔۔۔

میں آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ان خاردار۔ تا روں کے قریب جانے لگی۔ مجھے دیکھتے ہی پہرے پر موجود مسلح افراد چوکنے ہو گئے۔ سب سے آگے کھڑے سپاہی نے اپنی بندوق سیدھی کر لی۔ ” مجھے آگے جانا ہے۔ میں نے رینجر سے درخواست کی۔ اس رینجر نے قدرے تاسف سے مجھے دیکھا۔ حکم نہیں ہے بی بی!

اللّٰہ کا حکم مانو ، فرعون کا نہیں ۔

تمہیں تو اللہ ہی کو حساب دینا ہے نا ؟ میری آنکھوں سے آنسو چھلکنے لگے

” کیا نام ہے تمہارا بی بی؟

دوسرے سپاہی نے آگے بڑھ کر کڑی نگاہوں سے مجھے گھورتے ہوئے استفسار کیا

میرا کوئی نام نہیں ہے۔ میں ۔ میں ایک ماں ہوں۔ عادل نے میرے بچے کی جان بچائی تھی ۔“ آنسو میرے چہرے پر پھسلتے جارہے تھے۔

اس کا بچہ بیمار ہے، اس نے چار مہینوں سے دوائی نہیں لی۔ معذور بچے کی آہ مت لو “ مجھے بہت شدت سے جعفر آباد جھیل یاد آئی تھی۔ جاؤ بی بی ۔ پولیس افسر آگے بڑھا۔ اس کے ہاتھ میں بندوق تھی۔ میں نے بے بسی سے اسے دیکھا

تھکے شکستہ قدموں سے میں پلٹ آئی۔ عدی کی انگلی پکڑے کتنی ہی دیر میں اندھیروں میں ڈوبی کا لونی سے مخالف سمت میں چلتی رہی، یہاں تک کہ میرا وجود اسلام آباد کی روشنیوں میں نہا گیا مگر میرا دل ابھی تک اس اندھیرے میں گھرے سرخ چھت والے گھر میں تھا۔ میری روح کا ایک ٹکڑاہ وہی کہیں پہاڑی کے اس

قیدی کے پاس رہ گیا تھا۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہ تھی کہ ملک ڈکٹیٹر شپ سے چلتا ہے یا جمہوریت سے۔ مجھے اس بات کی بھی کوئی پریشانی نہ تھی کہ کس کا اقتدار ہے، کس نے جانا ہے اور کس نے اب آنا ہے۔ میری تو صرف ایک آرزو تمنا اور خواہش تھی ، صرف ایک دعا تھی کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہم غریبوں کے ساتھ عدل کرنے والا وہ واحد انسان اپنے منصب عدل پر واپس آ جائے۔ مجھے تو صرف یہ یاد تھا کہ اس شخص نے میرے بچے کی جان بچائی تھی ۔ آج اس کا اپنا بچہ انہی حالات کا شکار تھا اور میں۔ میں اتنی کم ظرف تھی کہ اس کا احسان بھی نہیں اتار رہی تھی۔ وہ میر امحسن تھا، اور آج میں بے بسی

—–

سے اس کا تما شادیکھ رہی تھی۔ بے بسی ، بے چارگی ، مظلومیت۔ یہ مجھے اور میری قوم کو ورثہ میں ملا تھا۔ مجھے نہیں پتا میں کدھر جارہی تھی۔ عدی کی انگلی تھامے شکست خوردہ قدموں سے فٹ پاتھ پر چلتی ہوئی میں جانے کب سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے آگئی

جب وہ شخص اس سفید عمارت میں اپنے چیمبر پر بٹھتا تھا تو میں روز وہاں سے گزرتے ہوئے فٹ پاتھ پر اس ملک کے معصوم شہریوں کو کھڑے دیکھتی تھی۔ وہ لوگ ہر صبح اس جگہ اپنے عزیزوں کی تصویریں اٹھائے کھڑے ہوتے۔ ان کے چہروں پر دکھ کے ساتھ امید بھی رقم ہوتی تھی جب اسے کسی جھوٹے سرکاری آفسر کا جھوٹا بیان ملتا تو وہ اس فائل کو وہی اس کے منہ پر مارنے کی شہرت رکھتا تھا آج وہ فٹ پاتھ ویران تھا۔ وہاں صرف خاموشی تھی۔ خاموشیوں کے درمیان دم توڑتی امیدوں کی آخری سسکیاں سنائی دے رہی تھیں۔ اس کے ٹمٹماتے بجھتے دیے کا سایہ مجھے اس پتھریلی فٹ پاتھ پر صاف دکھائی دے رہا تھا۔ میں نے ایک نظر اس سفید مرمریں عمارت پر ڈالی ۔ رات کے اس پہر سفید دیواروں کے پار عادل کے چیمبر میں گہرا سناٹا محیط ہو گا۔ اس کی کرسی، اس کا ڈیسک ، قلم، فائلیں، درخواستوں کا پلندہ، اس کی فیکس مشین ، سب خاموشی سے رور ہے ہوں گے۔ مجھے ان کی سسکیاں واضح سنائی دے رہی تھیں۔ میں اور عدی تھک ہار کر اس فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے۔ میری نظریں عمارت پر بنے ترازو پر مرکوز ہو گئیں۔

فاحکم بین الناس بالعدل ۔”

میں نے ایک تھکی تھکی نگاہ اللہ کے اس حکم پر ڈالی۔ اس حکم پر عمل کرنے والا شخص دور کہیں اس اونچی پہاڑی پر بنے سرخ چھت والے گھر میں قید تھا۔ میری آنکھوں سے ایک دفعہ پھر آنسو بہنے لگے۔🥹🥲🥲

—————————-ختم شدہ ————————–