Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261 Pahari Ka Qaidi (Episode 09)
Rate this Novel
Pahari Ka Qaidi (Episode 09)
Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed
اس کا علاج کیوں نہیں کراتے ؟ اس کا زخم خراب ہو رہا تھا۔ ایک اجنبی آواز نے ماحول پر چھپایا سکوت توڑا تھا۔ مجھے پروا نہیں تھی ، میری نگاہیں عدی پر تھیں۔ اس کے لب نیلے پڑ رہے تھے۔ باہر کوئی جوابا کچھ کہہ رہا تھا۔
سکیورٹی پرابلم ہے۔ اس کو کوئٹہ نہیں لے جاسکتے اور ویسے بھی یہ صرف چند دن …
شٹ اپ
کوئی زور سے دھاڑا تھا۔ ” تم لوگ اسے انسان نہیں سمجھتے ؟ کل کو تم نے مرنا نہیں ہے ؟ اللہ کو منہ نہیں دکھانا ؟“ “
مجھے باہر صحن میں موجود اس غضب ناک ہوتے اجنبی پر ہنسی بھی آئی تھی اور رونا بھی ۔ وہ جانوروں کو
_____انسانیت کا درس دے رہا تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اس جیل کے پورے عملے نے مرنا نہیں تھا۔ وہ سب خدا تھے، انہوں نے کسی کو قبر میں نہیں جانا تھا۔ مرنا تو صرف عدی اور عدی کی ماں کو تھا۔ باہر موجود شوراب بلند ہوتا جار ہا تھا۔ وہ اجنبی کسی پر برس رہا تھا۔ میں نے عدی کی نبض کو ہاتھ میں لیا۔ اس کی نبض کی رفتار ہر گزرتے لمحے ایب نارمل ہوتی جارہی تھی۔ میرے دل کو کچھ ہوا۔ یوں لگتا تھا، کوئی آہستہ آہستہ مجھے برچھیوں سے ذبح کر رہا ہے۔ عدی ! میری جان، میرا بیٹا میرے سامنے تڑپ رہا تھا مگر کوئی اس کی مدد کو نہیں آ رہا تھا۔ کھولو یہ تالا – ” کوئی میری کوٹھڑی کے قریب آکر حکمیہ لہجے میں بولا۔ میں نے سر نہیں اٹھایا، میں اپنے بچے کو اس کے آخری سانس تک دیکھتی رہنا چاہتی تھی۔ میری اب جیل کے عملے سے امید میں ختم ہو چکی تھیں۔
اس کو پکڑ کیوں رکھا ہے؟ وہی اجنبی آواز کسی سے پوچھ رہی تھی ۔
عدی ایک دم کھانسنے لگا۔ یہ آخری نشانی تھی اب بھی اس کو ان ہیلر نہ متا تو وہ مر جاتا۔ ایک پولیس افسر میرے متعلق اس شخص کو کچھ بتا رہا تھا، جب عدی کی کھانسی دیکھ کر وہ چونکا۔ اس بچے کو کیا ہوا ہے؟“ میں نے سراٹھا کر پہلی بار اسے دیکھا۔
استھما کا اٹیک ہوا ہے یہ اس کو دوائی نہیں دے رہے۔“ میں بھی کسی سے شکایت کر رہی تھی ، وہ بھی غالبا جیل کا کوئی اور آفیسر تھا، باقیوں کی طرح بے حس اور خود غرض۔ ااستھما اٹیک ہوا ہے؟ وہ یکدم باور دی پولیس آفیسر جس کے کندھے پر تلوار بنی تھی ، کی جانب مڑا۔ یہاں فوراً فرسٹ ایڈ بھجواؤ کدھر ہے جیل کا ڈاکٹر ؟ بچے کو استھما اٹیک ہے اور تم لوگ آرام سے بیٹھے ہو۔ اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی دو اہل کار برق رفتاری سے باہر کی جانب بھاگے تھے۔ کوئی میرے وجود میں نئی روح پھونک رہا تھا۔ میں نے نیم جاں ہوتی امید کو سہارا دیا۔
کس منہ سے جاؤ گے اللہ کے پاس تم لوگ ؟
وہ ایک دفعہ پھر شروع ہو گیا تھا۔ ان ہی دواہل کاروں کے ساتھ جیل کا ڈاکٹر بھاگا بھاگا اندر داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں ان ہیلر تھا۔ اس نے باری باری عدی کو دوائی کے چارپف دیے۔ عدی کی بگڑی حالت قدرے سنبھلی، اس کے چہرے کی رنگت واپس آنا شروع ہو گئی۔ آہستہ آہستہ ناخنوں اور ہونٹوں کی نیلا ہٹ ، سرخی میں بدل گئی اس کا تنفس اور
——–نبض ، دونوں بحال ہو چکے تھے۔ میں نے ایک دکھ بھری نگاہ ڈاکٹر پر ڈالی۔ جب میں چیخ رہی تھی ، چلا رہی تھی تو وہ نہیں آیا تھا اور اب
اس شخص کے حکم سے فورا آ گیا تھا۔ پہلی دفعہ میں نے کوٹھڑی میں کھڑے افراد کی جانب دیکھا۔ آدھے تو ان میں جیل کے افسران تھے، ایک کے کندھے پر تلوار بنی تھی ، یقیناوہ آئی جی بلوچستان تھا۔ ڈی آئی جی بھی ساتھ ہی تھا۔ ان سب میں سادہ کپڑوں والا صرف وہی تھا جس کے حکم پر ڈاکٹر نے میرے بیٹے کو ان ہیلر دیا تھا۔
میں نے غور سے اسے دیکھا۔ وه دراز قد ، صاف رنگت اور بڑی آنکھوں والا خوب صورت ، وجیہ اور باوقار مردسیاہ سوٹ میں ملبوس تھا۔ اس شخص میں ضرور کوئی ایسی بات تھی کہ انتہائی بدلحاظ اور ظالم جیل انتظامیہ اس کے سامنے میمنوں کی طرح کھڑی گھنگھیا رہی تھی۔
اس عورت کو جیل میں کیوں رکھا ہے، اس کا جرم کیا ہے؟ اگر اس کا کوئی جرم ہے تو عدالت میں پیش کرو، مجھے پوری رپورٹ چاہیے کہ اس کی حالت کیسی ہے۔ اگر یہ بچہ مر گیا تو یاد رکھنا آئی جی میں تم سے لے کر اس جیل کا پو را عملہ معطل کروا کر اسی جیل میں ڈال دوں گا۔ اگر اس بچے کو کچھ ہو گیا تو مجھے ساری رات نیند نہیں آئے گی ۔ خدا کے قہر سے نہیں ڈرتے تم لوگ ، انسانوں کو جانوروں کی طرح رکھا ہوا ہے۔“ وہ اور بھی بہت کچھ کہ رہا تھا مگر مجھے اس کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ میرا دماغ سوچوں کے بھنور میں پھنسا ہوا تھا۔
یہ کون تھا ؟ یہ کیوں میرے بیٹے کے لیے انتظامیہ پر برس رہا تھا ؟ میں نے تو اس سے عدی کے علاج یا زندگی کے لیے کوئی منت سماجت نہیں کی تھی عدی میرا بیٹا تھا، آج تک کسی نے اس کی پر وا نہیں کی تھی اور اب، ایک اجنبی آکر یہ کہ رہا تھا کہ اگر عدی کو کچھ ہو گیا تو اس کو ساری رات نیند نہیں آئے گی ؟ کیا ایک معذور، ایب ناریل اور بیمار بچہ اتنا اہم تھا کہ اس با رسوخ اور پر وقار انسان کو اس کی وجہ سے نیند نہیں آئے گی ؟ لوگ تو کہتے تھے، عدی مرتا ہے تو مر جائے ۔ عدی کی ماں تھی جو ساری زندگی عدی کے لیے لڑی تھی، ساری عمر اسی کوشش میں گزاردی کہ کوئی تو عدی سے محبت کرے اسے انسان خیال کرے اور آج ایک انجان شخص جس کو میں نے عدی کی ذہنی حالت کے متعلق کوئی وضاحتیں نہیں دی تھیں، عدی کی پروا کر رہا تھا۔ اس
____کے علاج کے لیے جیل انتظامیہ اور بلوچستان کے اعلیٰ ترین پولیس افسران کو ڈانٹ رہا تھا ؟ وہ کون تھا ؟ کون سی طاقت اس شخص کے پاس تھی جو وہ اعلیٰ عہدیداران ان کے سامنے ہاتھ باندھے سر جھکائے کھڑے تھے؟ دو پولیس اہلکار عدی کو باہر لے جانے لگے تو میں بھی ان کے ہمراہ ہوئی ۔ پتا نہیں کیوں میں شکریے کا. ایک لفظ بھی اس آدمی سے نہ کہ سکی جو میرے بیٹے کے لیے فرشتہ بن کر آیا تھا۔ اس شخص میں کوئی ایسا رعب و دبد بہ تھا کہ اس کے سامنے بولنے کی ہمت میں خود میں نہیں پائی تھی۔ صحن کا احاطہ عبور کر لینے کے بعد میں نے ایک نظر گردن پھیر کر اس شخص پر ضرور ڈالی تھی۔ وہ ابھی تک ان افسران پر برس رہا تھا۔
