Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261 Pahari Ka Qaidi (Episode 03)
Rate this Novel
Pahari Ka Qaidi (Episode 03)
Pahari Ka Qaidi By Nimra Ahmed
۔ مگر عدی ایسا کرنے سے قاصر تھا۔ روز کی طرح وہ کھڑ کی والی سیٹ کی طرف بیٹھ گیا اور شیشے سے باہر دوڑتے مناظر دیکھنے لگا۔
ماما۔ طوطا
اس نے یکدم میرا کندھا جھنجھوڑ کر مجھے کھڑکی سے باہر ایک دکان کے سامنے لگے پنجرے میں قید طوطے کی جانب متوجہ کیا اس کو تمام پرندے با لعموم اور بالخصوص پسند تھے مگر اس کے استھما کی وجہ سے میں اسے پرندوں اور جانوروں کے قریب نہیں جانے دیتی تھی۔ بس سست رفتاری سے چل رہی تھی میں نے قدرے فکر مندی سے کلائی سے بندھی گھڑی کو دیکھا۔ ایک دم مجھے احساس ہوا کہ کوئی میرے ساتھ کھڑا ہے۔ میں نے سراٹھا کر دیکھا۔ ایک چالیس پنتالیس سالہ خاتون aisle پر کھڑی تھیں، جھٹکوں سے بچاؤ کے لیے انہوں نے راڈ پکڑ رکھی تھی۔ میں فوراً اٹھ کھڑی ہوئی “
آپ بیٹھ جائیں۔
نہیں ۔ آپ … “ وہ انکار کرنے لگیں۔
ارے نہیں پلیز آپ بیٹھ جائیں۔ میں اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ مشکور نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئے سیٹ پر
بیٹھ گئیں۔ پھر ہاتھ میں پکڑا اخبار کھول کر پڑھنے لگیں۔
عدی نے گردن گھما کر ان خاتون کو دیکھا پھر ان کے اخبار کو اخبار پر بنی تصویر دیکھ کر وہ میری طرف
چہرہ کر کے پوچھنے لگا ۔ ماما یہ کون ہے؟”
میں نے اخبار کی جانب دیکھا۔ یہ قائد اعظم ہیں۔“
وہ کون ہے؟“ بعد میں بتاؤں گی عدی ! مجھے یوں کھڑے ہو کر بولنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ وہ میری طرف خاموشی سے دیکھتارہا۔ وہ کسی بھی بات کو دیر سے سمجھتا تھا۔ ہمارا اسٹاپ آگیا، ہم دونوں باہر نکلے اور اسی طرح ہاتھ میں ہاتھ ڈالے چند قدم کے فاصلے پر موجود سرکاری اسکول کی عمارت کی جانب چل دیے۔ ہم اچھے والے اسکول کب جائیں گے؟ وہ مجھ سے پوچھ رہا تھا۔ میں بچوں کو پڑھالوں۔ پھر
! اچھا؟“
اچھا۔“
اس نے میری بات دُہرائی۔
عدی کو میری پرنسپل صاحبہ کی جانب سے خصوصی اجازت تھی کہ وہ میرے ساتھ اسکول ٹائمنگ میں بیٹھ سکتا تھا۔ میں تیسری اور چوتھی جماعت کو معاشرتی علوم جبکہ باقی پرائمری کلاسز کو اردو اور اسلامیات پڑھاتی تھی۔ میں نے صرف بی۔ اے تک تعلیم حاصل کی تھی۔ جلد ہی شادی ہوگئی اور کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ یوں نوکری کرنا پڑے گی۔ اگر عدی کے بابا کا ڈیڑھ سال پہلے انتقال نہ ہو جاتا تو شاید میں ابھی گھر میں بیٹھی ہوتی ۔ مگر
زندگی میں وہی کچھ تو نہیں ہوتا جو سوچا جاتا ہے۔ چوتھی کلاس کا پیریڈ لینے میں عدی کے ہمراہ کلاس میں داخل ہونے ہی والی تھی کہ عدی کے چہرے پر تکلیف کے آثار دکھائی دیے۔ میں فورا کلاس سے باہر رک گئی اور جلدی سے اپنے چار سال پرانے پرس سے اس کا ان ہیلر نکالا۔
سانس لو ۔ ان ہیلر کو بلاتے ہوئے میں نے ہدایت جاری کی ۔ وہ سانس باہر نکالنے لگا۔ اس کو ان ہیلر کے دو پف دینے کے بعد اسے لیے کلاس روم میں داخل ہوئی۔ عدی … ادھر بیٹھ جاؤ۔ کرسی کی جانب اشارہ کر کے یہ بات کہتی تھی مگر جس دن نہ کہتی اور اسی
طرح دروازے میں کھڑا ٹکر ٹکر سب کو دیکھتا رہتا۔ میری بات پر وہ خاموشی سے اپنی مخصوص کرسی پر جا بیٹھا۔ میں نے کتاب کھول لی۔ جب میں سیکنڈ کلاس میں اپنا تیسرا پیریڈ لے رہی تھی تو عدی اس کلاس میں اپنی مخصوص نشست سے اٹھ کر میرے قریب آیا۔
باہر جانا ہے۔ ان ہیلر چاہیے۔“ میں نے پرس سے اس کا ان ہیلر نکال کر اس کے حوالے کیا۔ اسی دوران میری حتی المقدور کوشش رہی تھی کہ سیکنڈ کلاس کے بچے اس ان ہیلر کو نہ دیکھیں کیوں کہ مجھے ان کے چہروں پر اپنے بیٹے کے لیے امڈ کر آنے والا تاسف زہر لگتا تھا۔ مگر بچے دیکھ چکے تھے اور ان کے چہروں پر میرے ناپسندیدہ تاثرات بھی تھے۔ تیسرا پیریڈ پڑھا کر میں باہر آئی تو عدی مجھے کہیں دکھائی نہ دیا۔ مجھے یکدم فکر ہوئی ۔ وہ روزانہ اسکول میں موجود پلے گراؤنڈ دراصل ایک خالی گول قطعہ اراضی تھا جہاں اسکول کا ہر گیم منعقد ہوتا تھا۔ عدی مجھے اس
کے وسط میں بیٹھا نظر آیا۔ عدی میں بھاگ کر اس تک گئی ۔ ” تم ادھر ہو ۔ میں تمہیں ڈھونڈ رہی تھی۔”
وہ دونوں گھنٹوں کے گرد بازوؤں کا حلقہ بنا کر سر جھکائے بیٹھا تھا۔ عدی ! کیا ہوا ہے؟ اس کے جھکے سرکو دیکھ کر مجھے پریشانی ہوئی۔ میں وہیں اس کے سامنے بیٹھ گئی اس نے سراٹھا کر مجھے دیکھا۔ اس نے بھنویں ناراضی کے عالم میں سیکٹر رکھی تھیں اور ماتھے پر بل تھے۔
” کیا ہوا ہے؟ کسی نے کچھ کہا ہے ؟”
اس نے میرا ان ہیلر چھین لیا ہے۔ وہ رونے کے قریب تھا۔ کس نے ؟ میں نے دہل کر پوچھا۔ یہ اس کا مہینے میں چوتھا ان بیلر تھا جوگم ہوا تھا۔ وہ لڑکا۔ اس نے مجھے مارا بھی ہے وہ ہے۔ ادھر ۔ اس نے اپنے سرخ گال کی جانب اشارہ کیا۔ آنسو اس کے چہرے پر پھسل رہے تھے ۔ میں نے غصے اور بے بسی سے اپنے اطراف میں دیکھا کہ شاید مجھے وہ لڑکا نظر آ جائے مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔ تو تم نے اسے اپنا ان ہیلر چھینے کیوں دیا؟ تم بھی اسے مارتے ۔ “ میں قدرے غصے میں کہتے ہوئے یکدم رونے لگی تھی۔ ہر دوسرے دن وہ ان ہیلر توڑ دیتا یا گم کر بیٹھتا تھا، میرے پاس پیسے ختم ہونے کے قریب تھے ۔ “میرے اللہ میں اس کا ان ہیلر کہاں سے لاؤں گی ۔ بے بسی سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ماما۔ روتی کیوں ہو؟“ میں نے آنسوؤں سے تر چہرہ اٹھا کر اس کی جانب دیکھا۔ اس کی آنکھوں
میں بھی آنسو تھے۔ میں نے پہلے اس کے آنسو صاف کیے پھر اپنے۔
چلو عدی !
ہم نیا ان ہیلر لے لیں گے ۔ میری بات پر وہ مسکرا دیا۔ میں مسکر ا بھی نہ سکی۔ سیکنڈ لاسٹ پیریڈ میں جب ہم ون کلاس میں داخل ہوئے تو میں نے عدی کو حسب معمول اس کی جگہ پر بیٹھنے کو کہا مگر وہ نہیں بیٹھا
بیٹھو نا عدي
ماما یہ اس نے ۔ اس نے درمیانی روو کے آخری پہینچ پر بیٹھے لڑکے کی جانب اشارہ کیا۔ ا
ماما یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا ان ہیلر وہ ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں مجھے کیا بتاناچاہ رہا تھا میں اچھی طرح سمجھ چکی تھی۔ غصے کی ایک لہر
نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
ادھر آؤ تم ! نہایت تیز لہجے میں میں نے آصف کو اشارہ کیا ، اس کا رنگ فق ہو چکا تھا۔
میرے عدی کا ان ہیلر تم نے لیا ہے؟“
عدی جھوٹ نہیں بولتا۔ عدی نے اس کی بات پر چلا کر کہا۔
نکالوان ہیلرور نہ میں میڈم کے پاس چلی جاؤں گی۔ میں نے لہجے کو مزید سخت بنا کر کہا۔ وہ گھبرا کر نفی میں سر ہلانے لگا۔ عثمان، اس کا بیگ لاؤ ادھر عثمان نے قدرے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا بیگ اٹھایا۔ میں نے اس کا بیگ کھولا، سامنے عدی کا ان ہیلر پڑا تھا۔ طمانیت کی لہر نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا۔ یہ دیکھو۔ میں نے ان ہیلر نکال کر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا ۔ یہ ہے عدی کا ان ہیلر اور عدی جھوٹ نہیں بولتا۔ آئندہ خبر دارتم نے عدی کو تنگ کیا۔ میں تمہارے ہاتھ توڑ دوں گی ، اگر تم نے پھر ایسی
حرکت کی تو
عدی اپنا ان ہیلر پا کر بہت خوش تھا۔ خود میں بھی بے حد پر سکون تھی ۔ اسکول سے واپسی پر جب ہم دونوں بس میں بیٹھے تھے ، عدی کو کچھ یاد آ گیا۔ ماما ! وہ کون ہے؟ مجھے یاد آیا اس نے کچھ پوچھا تھا۔ قائد اعظم ہے، پاک تان بنایا ۔ قائد اعظم ہے، پاکستان بنایا۔ “ وہ حسب معمول میری بات
دہرانے لگا۔
ہم اچھے والے اسکول میں کل جائیں گے عدی ! میں اس کو ایک دفعہ پھر جھوٹی تسلی دینے لگی۔ البتہ دل میں ایک امید ضرور تھی۔ آج رضیہ کے ذریعے میں نے میڈم تک سفارش پہنچائی تھی کہ عدی کو ہمارے اسکول میں ہی داخلہ مل جائے۔ امید کا ایک ٹمٹماتا ہوا دیا میرے اندر جل بجھ رہا تھا۔
اس نے میری بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ۔ ہم لوگ خاموشی سے چلتے ہوئے اس کھلے میدان کے دہانے پر پہنچ گئے۔ سیاہ چادر میں لپٹی مسز مہدی مجھے اپنی جانب آتی دکھائی دیں۔ مسز مہدی نے پچھلے ماہ ہمارے اسکول
کی نوکری چھوڑی تھی ۔ ان کو یوں سر راہ دیکھ کر مجھے خوش گوار حیرت ہوئی۔ وہ اسی علاقے میں رہتی ہیں، یہ تو میں جانتی تھی مگر عدی کی وجہ سے زیادہ آتی جاتی نہیں تھی۔
کیسی ہے مسز مہدی آپ ؟
ان کو گلے لگاتے ہوئے میں نے گرم جوشی سے پو چھا۔ عدی خاموشی سے قدرے فاصلے پر کھڑا ہم دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ بالکل ٹھیک تم کیسی ہو؟ تم نے تو پلٹ کر خبرہی نہیں لی ۔ ان کی زبان سے ہلکا سا شکوہ ادا ہوا۔ میں جھینپ کر مسکرادی۔ بس۔ یہ عدی اتنا بزی رکھتا ہے۔ میں نے عدی کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔ وہ اب ہمارے بجائے گراونڈ میں کھیلتے اپنے ہم عمر بچوں کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ جاؤ عدی! ان سے کہو تمہیں بھی اپنے ساتھ کھلا ئیں ۔ مجھ سے اپنے بیٹے کی آنکھوں میں چھپی یہ حسرت دیکھی نہ جاتی تھی۔ اس لیے میں نے فورا کہہ دیا۔ میری بات پر وہ پورے دل سے مسکراد یا اور ان لڑکوں
کی جانب بڑھ گیا۔ اور سناؤ ، ابھی تک جاب کر رہی ہو؟ مجھ پوچھ رہی تھیں۔ میں نے گہری سانس لی
جی ، ابھی تک تو کر رہی ہو۔“
عدی کو کہیں داخل کروایا ؟
جی ، اپنے اسکول میں ہی میڈم سے بات کی ہے
، شاید چند دنوں میں اس
کا داخلہ ہو جائے ۔“
میں ان کو یہ بات نہیں بتاسکتی تھی کہ میڈم تو کیا، کئی دوسرے اسکول بھی انکار کر چکے تھے۔ اگر بتا دیتی
تو وہ سمجھتیں کہ میرابیٹا واقعتا ایب نارمل ہے، عدی میں صرف تھوڑی کمی تھی اور مجھے یقین تھا کہ وہ ایک دن عام
لوگوں کی طرح زندگی گزار سکے گا۔
مسز مہدی سے کھڑے کھڑے چند باتیں کرنے کے بعد میں انہیں خدا حافظ کہہ کر مڑی تو عدی مجھے اکیلا گراؤنڈ پار کر کے گھر کی جانب جاتا دکھائی دیا۔ مجھے حیرت کا جھٹکا لگا۔ عدی کبھی میرے بغیر کہیں نہیں جاتا تھا۔
سے
۔
عدی ! کہاں جا رہے ہو؟ پھولتے ہوئے سانس کے ساتھ میں اس کے قریب پہنچی اور اس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر اس کا رخ اپنی جانب کیا۔
عدی تم تم رو کیوں رہے ہو ؟ اس کی آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھ کر میرا دل ڈوبنے لگا۔ روتے ہوئے میرے ہاتھوں کی گرفت سے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ چھڑانے لگا۔ عدی۔ میرا بیٹا کیا ہوا ہے؟ اس کے ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑے میں نے فکر مندی سے پوچھا۔ چھوڑو مجھے ۔ وہ ہاتھ چھڑاتے دبی دبی سکیوں کے ساتھ رورہا تھا۔ عدی ! پلیز بتاؤ مجھے ۔ میری آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے۔ وہ مجھے نہیں کھیلاتے ۔ وہ سسکیوں کے درمیان کہہ رہا تھا۔ وہ کیوں نہیں کھیلاتے ؟ میرا دل بیٹھا جارہا تھا۔
وہ کہتے ہیں، میں لنگڑا ہوں، میں پاگل ہوں اور میرامنہ ٹیڑھا ہے۔ وہ اب اونچی آواز میں رونے لگا تھا۔ عدی ! میں نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ مگر عدی تو جھوٹ نہیں بولتا نا؟ رو نہیں ۔ ماما کھلونا بھی لے کر دی گی ۔ اس کا ماتھا چوم کر میں نے اسے کے آنسو صاف کیے۔ میری بات پر اس نے رونا بند کر دیا تھا۔
چلو آؤ۔ اس کا ہاتھ پکڑ کر میں نے پیار سے کہا اور اسے ساتھ لیے اپنے گھر کی جانب چل دی۔
