Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261

Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261 Pahari Ka Qaidi (Episode 11)

51.5K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pahari Ka Qaidi (Episode 11)

Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed

تو وہ اس کو عادل کہتا تھا، اور میں سمجھتی تھی ، وہ اپنا نام لیتا ہے۔ میں نے ایک دفعہ پھر اس تصویر کو دیکھا۔ وہ وجیہہ، باوقار مرد ایک بڑے صوفے پر بیٹھا تھا۔ اس کے مقابل صوفے پر آمر وقت پورے تکبر سے برا جہان تھا۔ میں نے قدرے حیرت سے انہیں دیکھا، اور پھر ہیڈ لائن پڑھی۔ محتسب اعلی معطل، اختیارات کے ناجائز استعمال کا ریفرنس دائر ” میرا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ اس نے بسنت پر پابندی لگا کر سینکڑوں بچوں کی جانیں بچائی تھیں۔ مجھے میری ایک ساتھی ٹیچر نے بتایا تھا کہ جب بسنت کے رسیا با وروی سربراہ مملکت نے اس پابندی کے جواب میں نیا آرڈینینس پیش کیا تو اس قاضی وقت نے وہ آرڈی نینس والا کاغذ اٹھا کراچی کے منہ پر مارا تھا۔ لوگوں کے بچے مرتے ہیں اور گالیاں ہمیں پڑتی ہیں ۔

یہ شخص میرا مسیحا، میری مدد کر نے والا اس ملک کا محتسب اعلیٰ تھا ؟ مجھے یاد آرہا تھا۔ پچھلے چند ماہ میں، میں نے اس کے متعلق ڈھیر ساری خبریں سنی تھیں۔ مجھے یاد آیا اس شخص نے کوڑیوں کے مول بیچی جانے والی اسٹیل مل کا فیصلہ دے کر کراچی کے 15 ہزار افراد کی نوکریاں کراچی سے 15 بچائی تھیں ۔

میں نے اپنی ساتھی ٹیچرز سے ، ہمسایوں سے اسکے متعلق بہت کچھ سنا تھا، مگر یہ مجھے معلوم نہ تھا کہ یہ وہی شخص ہے جو میرے بچے کو اس اند ھیری کوٹھڑی سے نکال لایا تھا۔ اس نے میرے بچے کی جان بچائی تھی۔ میں نے بڑی مشکل سے اپنے حواس مجتمع کرتے ہوئے اخبار دوبارہ پڑھا۔ وہ گورنر کا پروٹو کول لیتے تھے ۔ مرسڈیز استعمال کرتے تھے۔ نقاب پوش محافظ رکھتے تھے۔ ان کی گاڑی کے آگے اور پیچھے ایک ایک گاڑی محافظوں کی ہوتی تھی۔ انہوں نے سفر کے لیے حکومت کے ہیلی کا پٹرز

استعمال کیے تھے۔ میں نے بے حد حیرت سے اس خبر کو پڑھا۔ مجھے یاد آیا، ٹھیک دو ماہ پہلے عدی کا ان ہیلر ختم ہونے کے باعث میں رات کو کیمسٹ سے دوائی لینے گئی تھی۔ واپسی پر میں نے وزیرا عظم کی سواری دیکھی تھی ۔ وہ منظر میرے ذہن پر نقش ہو گیا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد تھا کہ وزیراعظم کی بلٹ پروٹ مرسڈیز کے آگے اور پیچھے کل پینتالیس سیاہ رنگ

@@@#@

کی مرسڈیز اور پیراڈ وز تھیں۔ پینتا لیس گاڑیوں کے علاوہ ایک فائر بریگیڈ اور چند ایمبولینس بھی اس قافلے کا حصہ تھیں اور یہ بتانا مشکل تھا کہ وزیراعظم کسی گاڑی میں ہیں۔ اور اب وہی وزیر اعظم اس عادل وقت پر، جس کا عہدہ اور رتبہ اس سے بڑا تھا، یہ الزام عائد کر رہا تھا کہ وہ گاڑیاں رکھتا تھا۔ مجھے اس تپتی دوپہر میں ٹین کی چھت کے نیچے کھڑا وہ شخص یاد آگیا، وہ شخص کسی کاحق نہیں مار سکتا تھا۔ کسی نا جائز کام کا حصہ نہیں بن سکتا تھا۔ وہ جو اس وقت ملک کی سب سے بڑی عدالت کا محتسب اعلا تھا۔ اس کو کیا پڑی تھی کہ آئی جی ڈی آئی جی، اسٹنٹ کمشٹر وغیرہ تک کو اس جہنم کی مانند جیل میں گھسیٹ لائے اور قیدیوں کے مسائل سنے ؟ وہ آرام سے گھر بیٹھ کر تنخواہ کھاتا رہتا، اس کا کیا جاتا تھا اگر ہزاروں عدی ان ہیلر نہ ملنے کے باعث جعفر آباد اور

مچھ جیل جیسی دوزخوں میں مر بھی جاتے تو ؟ مگر وہ شخص خوف خدا رکھتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اسے روز حشر اللہ کو حساب دینا ہے۔ اسی اخبار سے مجھے معلوم ہوا کہ اس شخص نے کل 26 ہزار مقدمات ان ایک سال اور آٹھ ماہ میں نمٹائے تھے۔ جن میں دس ہزار سوموٹو نوٹس تھے۔ وہ کیس لٹکانے سے منع کرتا تھا ، بڑے بڑے سرکاری افسران اور وزراء کو عدالت میں بلا کر انہیں لتاڑتا تھا۔ وہ عام لوگوں کی صاف کاغذ پر کچی پنسل سے لکھی درخواست پر بھی فوراً ایکشن لیتا تھا۔ اس کی فیکس مشین پر ہر دوسرے منٹ درخواستیں آرہی ہوتی تھیں ۔ اس کے کولیگز اور اسٹاف کے مطابق وہ شخص مشین کی طرح کام کرتا تھا اور رات گئے تک آفس میں جاگتا رہتا تھا۔ مجھے تو بس اتنا یاد تھا کہ اس شخص نے میرے بچے کی جان بچائی تھی ، اسے اللہ نے عدی کے لیے اس وقت فرشتہ بنا کر بھیجا تھا جب میری تمام امید میں دم تو ڑ چکی تھیں۔

اس روز مجھے لگا تھا، اللہ ہے اور ابھی اللہ کی اس سرزمین پر عادل ختم نہیں ہوئے۔ اور آج آج مجھے لگ رہا تھا کہ سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ حکمرانوں نے اس شخص کو بھی عوام سے دور کر دیا تھا جو اس روئے زمین پر انصاف کے حصول کے لیے ان کی آخری امید تھا۔ جو ایک مغویہ کے بازیاب نہ ہونے پر پورا کا پورا پو لیس حملہ معطل کر دیتا تھا۔ جو عوام کو یہ یقین دلاتارہا تھا کہ عدالتیں موجود ہیں، تم عدل کا دروازہ کھٹکھٹاؤ تو سہی۔

——++—-

میں بے اختیار رونے لگی۔ سات سال بعد میرے دل میں وہ خوف پھر سے عود کر آیا تھا۔ میں نے سختی سے عدی کو اپنے ساتھ لگا لیا۔ مجھے لگ رہا تھا ایک دفعہ پھر کوئی اعجاز نثار مجھے پولیس کے حوالے کر کے جعفر آباد جیل بھیج دے گا اور اس وقت جب عدی کے لب استھما اٹیک کے باعث نیلے پڑرہے ہوں گے تو کوئی عادل اس ننھے قیدی کو چھڑانے نہیں آئے گا۔

_____&&

اس روز جب میں اور عدی اسکول سے واپس آرہے تھے، تو مجھے راستے میں سڑک پر سفید کپڑوں اور سیاہ کوٹوں میں ملبوس مرد و خواتین پر امن احتجاجی مظاہرہ کرتے دکھائی دیے۔ انہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھارکھے تھے۔ عادل کے حق میں نعرے درج تھے۔ گھر جانے کے لیے رکشہ لینے کے بجائے میں عدی کی انگلی تھا مے اس جم غفیر میں شامل ہوگئی ۔ ایک پلے کارڈ مجھے بھی دے دیں۔ دو خاتون وکلاء کو جو آپس میں باتیں کرتے ہوئے چل رہی تھیں میں نے شائستگی سے مخاطب کیا۔ دونوں نے چونک کر مجھے دیکھا، پھر دونوں نے ہی اپنے پلے کارڈز مجھے دے دیے۔

میں نے ایک عدی کو پکڑا دیا، اور دو سر خود پکڑ لیا۔ ہم دونوں جلوس کے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ سنا ہے فل کورٹ بن رہا ہے ۔ میرے ساتھ موجود خاتون وکیل کہہ رہی تھی۔ بس خدا کرے، بن ہی جائے ۔ ورنہ وز یر اعظم صاحب نے تو اسٹیل مل کیس کا بدلہ لیا ہے۔” اور نہیں تو کیا۔ پانچ گھنٹے محبوس رکھ کر استعفیٰ دلوانے کی کوشش کرتے رہے مگر وہ مرد حق تو ڈٹ گیا کہ استعفی نہیں دوں گا۔ خاتون وکیل کے لہجے میں ستائش تھی۔

________

میں خاموشی سے ان کی باتیں سنتی رہی۔ مجھے کسی بات سے غرض نہ تھی۔ میں تو بس یہ چاہتی تھی کہ غریبوں اور بے کسوں کے زخموں کا علاج کرنے والا مسیحا اپنے منصب عدل پر ایک دفعہ پھر براجمان ہو جائے۔ اس روز کے بعد تو گویا معمول بن گیا۔ ہم روز کسی نہ کسی پر امن احتجاجی جلوس میں شامل ہو جاتے ، آہستہ آہستہ جلوسوں کا حجم بڑھتا جارہا تھا۔ وکلاء کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی بھی اس جم غفیر میں شامل ہوتی جا رہی تھی۔ لوگ نعرے لگاتے تھے۔ پھر پولیس سے لاٹھیاں کھاتے تھے اور اس کے بعد ایک دفعہ پھر نعرے۔ لگاتے تھے ، پھر لاٹھی کھاتے تھے مگر رکتے نہیں تھے۔ میں نے بڑے بڑے لیڈروں کی ریلیوں میں ان پڑھ اور جاہل لوگوں کو نعرے لگاتے دیکھا تھا۔ اور میری ان ہی آنکھوں نے اس عادل کو ریلیوں میں انتہائی پڑھے لکھے لوگوں کو نعرے لگاتے اور

پولیس کا تشدد سہتے دیکھا تھا۔ فل کورٹ بن گیا ، بند کمرے کی پیشی کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا اور یوں پوری دنیا کے سامنے عادل کے مقدمے کی سماعت ہونے لگی۔ ایک محتسب اعلا انصاف کے حصول کے لیے سرگرداں تھا۔ عوام کا ایک سمندر عادل کے ساتھ تھا۔ لاکھوں افراد اس کے ساتھ ہوتے۔ اس پر گورنر کا پروٹوکول لینے کا الزام تھا۔ میں نے لوگوں کو اسے شہنشاہ کا پروٹوکول دیتے دیکھا تھا۔ اس پر گاڑیاں استعمال کرنے کا الزام تھا۔ میں نے ہزاروں افراد کو اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر اس کی متیں کرتے دیکھا کہ وہ ان کی گاڑی میں بیٹھ جائے۔ میں نے لوگوں کو اس کے قدموں میں اپنی پیراڈوز اور لینڈ کروزرز کی چابیاں گراتے دیکھا تھا۔

اس پر محافظ لینے کا الزام تھا، میں نے پوری قوم کو اس میر کارواں کا محافظ بنتے دیکھا تھا۔ ۔ لوگ اس سے صرف اس لئیے محبت نہیں کرتے تجے کہ اس نے امر وقت کے سامنے جھکنے سے انکار کیا تھا لوگ اس سے اس لئیے محبت کرتے تھے کہ وہ غریب لوگوں کو انصاف دلواتا تھا وہ عادل تھا ۔

میری ایک ساتھی ٹیچر بتاتی تھیں کہ ان کی کزن کی دوست کو رشتے کے تنازعے پر گھر والوں نے زندہ جلا ڈالا تھا، ان کی کزن نے عادل کو خط لکھا، جس پر عادل نے فوری ایکشن لیتے ہوئے اس مقدمے میں ملوث ایک ایک شخص کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجا تھا۔

سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کرتے ہوئے ایک خاتون نے مجھے بتایا۔ امجد میرا اکلوتا بیٹا تھا، مسجد میں اذان دیتا تھا۔ اس کی عمر صرف انیسں برس تھی ۔ ایک روز پکڑ کر غائب کر دیا گیا۔ اس بات کو چار سال بیت چکے مگر میرے بیٹے کا کچھ پتا نہیں چلا۔ میں نے ایک معمول کاغذ پر کچی پنسل سے ایک درخواست لکھ کر بھیجی ۔ ٹھیک تیسرے دن عادل نے میرے بیٹے کی گمشدگی کا نوٹس لیا۔ عادل نے انتظامیہ کو سات دن کے اندر اندر میرے بیٹے کو چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ اب مجھے بتاؤ، میں کس کے پاس جاؤں؟ میرا بیٹا کون مجھے لا کر دے گا؟“