Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261

Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261 Pahari Ka Qaidi (Episode 05)

51.5K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pahari Ka Qaidi (Episode 05)

Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed

خانہ خراب کا بچہ یہ ساٹھ روپے والا گلدان توڑ دیا ہے، ریڑھی والے کی بات سن کر میرے
رہے ہے اوسان بھی جاتے رہے۔ معاف کردو بابا بچہ ہے غلطی ہوگئی۔ ہم یہ پچیس روپے میں ہی لے لیتی ہوں۔” پہلے اس کے تو ساٹھ روپے دو۔ وہ بگڑے تیوروں سے کہ رہا تھا۔
میں نے مرے مرے ہاتھوں سے اپنے پرس میں سے ساٹھ روپے نکال کر اس کے حوالے کیے اور پھر عدی کی انگلی تھام کر تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔ شاید عدی کی قسمت میں کھلونا بھی نہیں تھا۔🥹🥲


” تھینک یوسویچ میم ! میری خوشیوں کا ٹھکانہ نہیں تھا، جب میڈم نے کہا کہ وہ عدی کو اسکول میں رکھنے پر تیار ہیں اس رضیہ جیسی سینئر ٹیچر کی سفارش کام کر گئی تھی۔ میں عدی کو لے کر نرسری آئی اس کی ٹیچر مس ناز سے ملی ، ان سے اس کا خاص خیال رکھنے کا کہا اور پھر
عدی کو وہیں بٹھا دیا۔
عدی ! اب یہ تمہاری کلاس ہے۔“
اچھی والی کلاس۔ ماما ؟”
ہاں ۔ ” میں مسکرادی۔ اچھی والی کلاس “
اس کو اس کا ان ہیلر تھما کر اپنی کلاس میں واپس چلی آئی ۔ تمام فکریں، پریشانیاں میرے ذہن سے محو
ہو چکی تھیں۔


نہایت خوشگوار موڈ میں، میں نے کلاس کو پڑھایا ، ان سے سبق سنا۔ اور پھر انہیں کام لکھواتی رہی۔ اگلے دو پیریڈ بھی اسی طرح ہنستے بولتے گزرے۔
چوتھے پیریڈ میں مس نازیہ میرے پاس آئیں
آپ ذرا میرے ساتھ آئی۔ وہ مجھے بلانے آئی تھیں ۔ میرا دل یکدم دھک دھک کرنے لگا، پتہ نہیں کیوں میری ہر خوشی عارضی ہوتی تھی۔ عدی ٹھیک ہے مس؟ ان کے ہمراہ کاریڈور میں چلتے ہوئے میں نے دھڑکتے دل سے پوچھا۔ عدی نے فرحان کو مارا ہے۔ انہوں نے آہستگی سے بتایا۔ فرحان نے ضرور کچھ کہا ہوگا، ورنہ عدی مارنے والا بچہ نہیں ہے۔ میں نے فورا اپنے بیٹے کا دفاع کیا
۔
مس ناز خاموش رہیں۔ عدی کی کلاس میں پہنچ کر میں نے دیکھا، ناراض ناراض سا لگ رہا تھا۔ عدی ! میں اس کی جانب لیگی ” کیا ہوا ہے بیٹا۔
” ماما
مجھے دیکھ کر اس نے سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔
عدی
! تم نے کیوں مارا فرحان کو؟ عدی تو اچھا بچہ ہے۔ اچھے بچے مارتے تو نہیں ہیں۔ میں نے
اسے پچکارا۔
ماما فرحان کہتا ہے میرامنہ ٹیڑھا ہے۔ اس نے بھیگی آواز میں بتایا۔ عدی کے ہونٹ پیدائشی قدرے ٹیڑھے سے تھے جیسے عموماً ایب نارمل بچوں کے ہوتے ہیں۔ اس کے قریب کھڑے فرحان کو مخاطب کر کے میں نے کہا۔ ” آپ نے عدی کو ایسا کیوں کہا؟“ آپ تو بہت اچھے بچے ہیں عدی آپ کا بھائی ہے، اس سے دوستی کرو۔ اس کے ساتھ کھیلا کرو۔ ہر کسی کو اللہ تعالٰی نے بتایا ہے کسی کا مذاق اڑانے سے ہم اللہ تعالی کی بنائی ہوئی چیزوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ یہ بہت غلط بات ہے بیٹا! میری بات پر فرحان نے قدرے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔ چلو فرحان! ہاتھ ملاؤ بھائی سے۔ میں نے ہولے سے فرحان کا گال تھپتھپا کر کہا تو وہ مسکراتے ہوئے بڑھا اور عدی سے ہاتھ ملایا۔ عدی بھی کھل کر مسکرایا۔😊
شاباش۔ اور دیکھو اب کوئی عدی سے نہیں لڑے گا ۔‘ ان دونوں نے فوراً اثبات میں سر ہلا دیا۔ ایک خاموش نگاہ ان پر ڈال کر میں وہاں سے چلی آئی۔ میرے بچے سے کوئی محبت نہیں کرتا، کوئی اس کی پرواہ نہیں کرتا ، اس بات میں مجھے کوئی شک نہیں نہ رہا تھا۔
سانس لواب اس کے ہونٹوں کے ساتھ ان ہیلر لگاتے ہوئے عادتا میرے منہ سے یہ فقرہ نکلا۔ وہ آہستہ آہستہ سانس اندر کو کھنچنے لگا، جب دوائی اس کے گلے تک پہنچ چکی تو میں نے ان ہیلر ہٹا کر اس کا ڈھکن بند کر دیا۔
جاؤ عدی منہ دھو کر آؤ۔ روز میں اس کا منہ دھلاتی تھی مگر آج میں اس کی خود انحصاری چیک کرنا
چاہتی تھی۔ وہ خاموشی سے میرے ساتھ بیٹھا ہتھیلیوں کو دیکھتا رہا۔ میں نے ایک طویل سانس اندر کھینچی۔ آؤہ منہ دھلاؤں تمہارا۔ اسکا ہاتھ پکڑ کر میں اسے باتھ روم میں لے گئی۔
اس کا منہ ہاتھ دھلوانے کے بعد میں سلا چکی تو نا چاہتے ہوئے بھی پرس میں موجود رقم دیکھی ۔ حالانکہ مجھے اچھی طرح معلوم تھاوہاں کتنے پیسے پڑے ہیں۔ تین سو دس روپے دیکھ کر میرے دل کو کچھ ہوا تھا۔ میں نے ایک تاسف بھری نگاہ عدی کی مصنوعی ٹانگ پر ڈالی ۔ یہ ٹانگ قریبا ڈیڑھ سال پہلے عدی کے بابا نے آفس سے قرضہ لے کر اسے لگوائی تھی ۔ آفس سے لیا جانے والا قرضہ سات ہزار تھا اور گزشتہ ایک برس سے میری اس قرضے کو ادا کرنے کی کوشش کے باوجود
وہ سود کے باعث وہیں کا وہیں کھڑا تھا۔ گزشتہ چار مہینے سے میں قرضے کی ایک قسط بھی نہیں دے پائی تھی ۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ پیسے کہاں سے اکٹھا کروں ۔ عدی کے بابا کے آفس سے نوٹس پر نوٹس آرہے تھے، وہ لوگ مجھے دھمکیاں دے رہے تھے مگر میری تمام راہیں مسدود تھیں۔ مجھ سے اپنی قلیل تنخواہ کے باعث گھر کے خرچے ہی پورے نہیں ہوتے تھے، میں یہ قرضہ کہاں سے ادا کرتی سود ادا کرتے کرتے میں نڈھال ہو چکی تھی۔ تمام رات بے چینی سے کروٹیں بدلتے گزری۔ ویسے بھی مجھے چھ ساڑھے چھ گھنٹے کی مکمل نیند لیے بھی تین چار برس سے زیادہ عرصہ ہو گیا تھا۔ عدی کی وجہ سے میں کبھی ٹھیک سے نہیں سو پائی تھی اور اب تو یوں لگتا میں انسومینیا کا شکار ہوتی جا رہی ہوں ۔۔۔۔۔