Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261

Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261 Pahari Ka Qaidi (Episode 10)

51.5K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pahari Ka Qaidi (Episode 10)

Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed

ماما عدی نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے پکارا۔ اس کے انداز میں خوف تھا۔ میں جانتی تھی وہ جیل کے تجربے سے ڈر گیا ہے۔ حالانکہ اب پولیس ہمیں چھوڑ چکی تھی اور اس شخص کے کہنے پر عدی کو کوئٹہ کے بہترین اسپتال میں شفٹ بھی کیا جا چکا تھا مگر پھر بھی عدی سراسیمہ تھا۔

عدی میری جان گندے لوگ اب نہیں آئی گے۔ ڈرومت ” میں نے اس کے گال پر پیار

کرتے ہوئے نرمی سے بتایا، میں اس کا ڈر ختم کرنا چاہتی تھی۔ ماما اب تو وہ ہمیں پکڑیں گے ؟ اس نے معصومیت سے میری جانب دیکھتے ہوئے ہو چھا۔ نہیں بیٹا! وہ جو بندہ تھانا ، اب وہ ان کو نہیں نہیں پکڑنے دے گا ۔ میں نے پیار سے سمجھایا تھا۔ ماما! وہ کون تھا ؟‘عدی کی آنکھوں کے سامنے یقینا اس کی تصویر گھوم رہی تھی ، میں سمجھ گئی۔ عدی کو

چہرے یادرہتے تھے۔

بس عدی! ایک اچھا بندہ تھا۔ اس کے بھورے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے میں نے

ہولے سے کہا تھا۔ ایک عادل۔“

عادل تھا ؟ عدی عدی ہے ماما عدی عادل وہ اپنی ہی زبان میں اپنا نام دہرا رہا تھا۔ میں نے مسکرا کر اسے دیکھا، پھر اس کے ماتھے پر آئے بال ہٹائے۔

ہاں ، عدی عادل ہے۔“ یہ کہتے ہوئے میرا دماغ ایک دفعہ پھر جعفر آباد جیل پہنچ گیا تھا۔۔۔۔۔

Aaaa@@@@@@

======================================

ماماطوطا لینا ہے۔ فٹ پاتھ پر میرے ساتھ چلتے ہوئے عدی نے ایک دم کہا۔ وہ اپنے سےکچھ

فاصلے پر ایک فال نکالنے والے کے طوطے کو دیکھ کر کہ رہا تھا۔ بیٹا ! طوطا استھما خراب کرتا ہے۔ ہمیشہ کی طرح میں نے سمجھانا چاہا۔ میری بات پر وہ خاموش ہو گیا ، مگر اس کی نگا ہیں طوطے پر تھیں۔ جب ہم فال والے نجومی کو کراس کر کے آگے بڑھ گئے، تب بھی وہ مڑمڑ کر حسرت سے طوطے کو دیکھتا رہا۔ اس کے یوں دیکھنے سے مجھے افسوس ہوا تھا۔ مگر میں کیا کرسکتی تھی ۔ عدی کو طوطا لینے سے روک سکتی تھی ، طوطا د یکھنے سے تو نہیں منع کر سکتی تھی۔ جب طوطا نگاہوں سے اوجھل ہو گیا تو وہ تھک کر آگے دیکھتے ہوئے قدم اٹھانے لگا۔ وہ بہت

چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا تھا، اس لیے مجھے بھی آہستہ چلنا پڑتا تھا۔ میں نے ایک نظر اس کی پینٹ سے ڈھکی مصنوعی ٹانگ پر ڈالی۔ یہ ٹانگ میں نے دو برس پہلے ایک خیراتی ادارے سے لگوائی تھی ہم پتا نہیں کیوں، جب بھی میں عدی کی مصنوعی ٹانگ کو دیکھتی، مجھے وہ بھدی،

لکڑی کی ٹانگ یاد آجاتی جس کی وجہ سے ہمیں جعفر آباد جیل جانا پڑا تھا۔ جعفرآباد جیل سے رہا ہوئے ہمیں کتنے سال ہو گئے تھے؟ میں نے یاد کرنے کی کوشش کی۔ “سات یا پو نے سات برس مگر ان سات برسوں میں وہ تنگ اور تھکن بھری کوٹھڑی مجھے نہیں بھولی تھی۔ وہ خوف ناک رات، پرازیت گرمی اور عدی کی زندگی کا بدترین استھما اٹیک، مجھے کچھ بھی نہیں بھولا تھا۔ اس جیل میں ایک رات گزارنے کے بعد میری نہ صرف نوکری چھٹی، بلکہ جعفر آباد بعد ازاں ہمیں چھوڑنا پڑا۔ جعفر آباد والا مکان چھوڑ کر اسلام آباد آگئی تھی۔ یہاں ایک پرانی دوست سے مل کر میں نے دو کمروں کا فلیٹ لیا تھا۔ گزارے لائق ہی سہی مگر سر چھپانے کے لیے کافی تھا۔ شمائلہ کی وساطت سے مجھے نوکری اور عدی کو اسکول میں داخلہ مل گیا تھا۔ پچھلے سال شمائلہ کو اس کے شوہر نے قطر بلوالیا تھا ، وہ اپنا فلیٹ میرے حوالے کر کے جا چکی تھی۔ زندگی اب بھی ویسی ہی تھی۔ سات برسوں میں کچھ بھی نہیں بدلا تھا۔ میری زندگی کا محور اب بھی میرا

بیٹا عدی تھا۔ عدی کی گروتھ بہت ست رفتاری سے ہورہی تھی۔ ذہنی طور پر وہ اب بھی اپنے ہم عمر لڑکوں سے بہت

@@@@@

پیچھے تھا اسے اب بھی لوگوں کے چہرے یاد ہو جاتے تھے۔ وہ فقرے بھی دہراتا تھا اور جب بچے اسے کھیل میں شامل نہیں کرتے تھے تو وہ روتے ہوئے میرے پاس آتا تھا۔ زندگی ویسی ہی تھی جیسی جعفر آباد میں ہوا کرتی تھی مگر اب وہ بے چینی و اضطراب میرے وجود سے ختم ہو گیا تھا۔ ایک عجیب سا سکون میری ذات کا حصہ بن گیا تھا۔ مجھے احساس ہوا تھا کہ ظلم اور بے انصافی پر کوئی

آواز اٹھانے والا بھی ہے۔

ماما کھلونا ۔ عدی نے ایک کھلونے والی دکان کے سامنے سے گزرتے ہوئے مچل کر کہا۔ آؤ چلو کچھ لیتے ہیں۔ چونکہ وہ مہینے کے اولین دن تھے اور میرے پاس کافی رقم تھی ، اسی لیے

میں اسے شاپ کے اندر لے آئی۔ کیا لینا ہے؟“ اردگر د دیکھتے ڈھیروں کھلونوں کو دیکھ کر میں نے سوالیہ انداز میں عدی کی جانب دیکھا۔ اس نے فوراً سامنے رکھا ایک بھالو اٹھا لیا۔ اس کے ہاتھ سے بھالو لے کر میں نے قیمت پڑھی۔ ایک سو بیسں روپے

ایک گہری سانس بھر کر میں نے پرس سے رقم نکالی، دکان دار کو تھمائی ، بھالولیا اور یوں ہم دونوں خوشی خوشی دکان سے باہر آ گئے

۔ میں نہیں پڑھنا۔ شام کو جب میں عدی کو پڑھانے بیٹھی تو اس نے منہ بسور کر کہا۔ میں نے قدرے فکر مندی سے اسے دیکھا۔ پڑھو گے نہیں تو بڑے کیسے ہو گے؟“ مجھے پیسے دیں۔

ایک دم چہرے پر معصویت طاری کر کے فرمائش کرنے لگا۔ میں نے دلچسپی سے اسے دیکھا۔

پیسے کیوں چاہئیے ؟

اوه.. ” مجھے قائد اعظم لینا ہے۔” وہ چہکا۔ عدی ! میں نے گہری سانس لی۔ ”قائد اعظم بازار میں تو نہیں ملتے “ میری بات پر اس نے بھنویں سکیڑ کر کچھ دیر سوچا۔ پھر کہاں سے لوں؟ اوں ہوں۔” میں بظاہر سوچنے لگی ۔ قائد اعظم تو بنا جاتا ہے۔ جو بندہ بہت اچھا ہوتا ہے، وہ

@@@قائد اعظم بنتا ہے۔“

ماما اچھا کیسے ہوتا ہے؟

” عدی ! یوں کہو کہ اچھا کیسے بنا جاتا ہے۔

میں نے تصیح کی ۔ جب ہم کسی مشکل میں کسی کی ہیلپ کر تے ہیں تو اچھے بن جاتے ہیں ۔ ” اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

میرے دماغ کی رو بھٹک کر دور بہت دور جعفر آباد جیل جا پہنچی تھی۔ ٹین کی نہایت جھکی ہوئی چھت کے نیچے کھڑا وہ باوقار، وجیہہ مرد جس کا جسم پسینے میں بھیگ چکا تھا مگر اسے پروا نہیں تھی ، وہ ایک اجنبی معذور بچے کی مدد کرنے کے لیے بے چین ہو گیا تھا۔ یہ وہ شخص تھا جو میرے بچے کی جان بچانے کا

وسیلہ بنا تھا۔ اس شخص کو میں نے گزرے برسوں میں ہر روز یاد کیا تھا۔ ہر نماز میں اس کے لیے دعا کی تھی۔ پتا نہیں وہ کون تھا ؟ انسان تھا یا فرشتہ۔ جانے وہ کہاں سے آیا تھا۔ اس کا نام کیا تھا، میں کچھ بھی تو نہیں جانتی تھی ، اگر یاد تھا، تو بس اتنا کہ میرا محسن تھا۔ وہ مجھے بہت عزیز تھا۔ ہوتا ہے نا ایسے ، بعض لوگوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا مگر وہ آپ کی دعاؤں میں چپکے سے شامل ہو جاتے ہیں۔ ایسے کہ آپ کو خود بھی نہیں پتا چلتا اور آپ ان کے لئیے دعا کرنے لگ جاتے ہیں۔ ایسا ہی ہوا تھا میرے ساتھ بھی۔

ماما——مامامیں کمرے میں بیٹھی لیکچر کے لیے نوٹس تیار کر رہی تھی جب عدی مجھے پکارتا ہوا اندر

کمرے میں آیا۔ ماما … عادل اچھا لگ رہا ہے نا؟ وہ میرے قریب آکر معصومیت سے بولا۔ میں نے سراٹھا کر

اسے دیکھا اور بے اختیار مسکرادی۔

جی ، عادل بہت اچھا لگ رہا ہے۔“

وہ کچھ دیر تک الجھی ہوئی نظروں سے میری جانب دیکھتا رہا، پھر میرا بازو پکڑ کر ہلایا۔ ما ما ۔ عادل اچھا لگ رہا ہے۔“

عدی بیٹا ، مجھے کام کرنے دو۔ میں نے بازو چھڑوانا چاہا مگر وہ مجھے کرسی سے اٹھانے کی کوشش کر

@@@

رہا تھا۔

ما ما عادل۔ اچھا عادل۔“

میں نے کتاب بند کی اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کمرے سے باہر چھوٹے سے لاؤنج

میں لے آیا۔

لاؤنج کے عین وسط میں رکھے صوفے پر اس نے مجھے بٹھا دیا۔ ماما عادل اچھا لگ رہا ہے۔ وہ میرا ہاتھ پکڑے کہ رہا تھا۔ میں نے مسکرا کر اسے دیکھا۔ ماما عادل کو دیکھو۔ اس نے پھر اصرار کیا۔ دیکھ تو رہی ہوں تمہیں ۔ ” مجھے اس تکرار سے اب کنفیوژن ہورہی تھی۔ میں نہیں ماما عادل وہ جیسے مجھے کچھ سمجھانا چاہ رہا تھا۔

عدی عادل نہیں ہے؟”

نہیں ماما اس نے میز پر رکھا اخبار میری گود میں رکھ دیا۔ یہ دیکھو۔ میں نے قدرے الجھ کر اخبار کھولا۔ ہمارے گھر اخبار نہیں آتا تھا، یہ یقیناً میری ہمسائی ثمینہ کا اخبار تھا

جواکثر اخبار والا غلطی سے ہمارے گھر دے جاتا تھا۔ کیا دیکھوں اس میں ؟ میں نے پہلے صفحہ پر نظر ڈالی۔ صفحے کے عین وسط میں ہیڈ لائن سے نیچے ایک تصویر تھی ۔ عدی نے اس تصویر پر انگلی رکھ دی۔ میں نے ایک نظر اس تصویر پر ڈالی مگر ایک دم میرے لبوں سے چیخ نکلی۔ مجھے لگا پوری چھت میرے سر پر آن گری ہے۔

اس تصویر میں وہی تھا۔ وہی شخص جو جعفر آباد جیل میں میرے اور عدی کے لیے فرشتہ بن کر آیا تھا۔ وہ بالکل ویسا ہی لگ رہا تھا جیسا سن 2000 کے جون میں تھا۔ اس نے آج بھی سیاہ سوٹ پہن

رکھا تھا۔ میں نے شاکڈ نظروں سے عدی کو دیکھا۔ اسے چہرے یاد رہتے تھے ، میں جانتی تھی۔ اسے چہرے اتنی دیر تک یا درہتے تھے، یہ میں نہیں جانتی تھی

۔ ماما عادل اچھا لگ رہا ہے نا ؟‘

عدی پوچھ رہا تھا۔