Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261

Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261 Pahari Ka Qaidi (Episode 02)

51.5K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pahari Ka Qaidi (Episode 02)

Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed

گھر کی صفائی کرکے میں نے کپڑے تبدیل کیئے منہ ہاتھ دھو کر اپنے روکھے بالوں میں کنگھی کی اور ایک تنقیدی نگاہ خود پر ڈالتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ جہاں عدی سور ہا تھا۔ عدی… بیٹا ! اٹھ جاؤ۔ اسے نہایت نرمی سے آواز دے کر میں نے اٹھایا۔ وہ ایک ہی آواز پر اٹھ جانے والا بچہ تھا۔ سو اس وقت بھی آنکھیں ملتا اٹھ بیٹھا۔ اسے اٹھا کر میں باتھ روم لے گئی اسے نہلایا اور نہایت اچھی طرح ٹوتھ برش کرایا، کیونکہ ان ہیلر کے پف کے بعد اگر حادثاتی طور پر دوائی کا کوئی قطرہ اس کے منہ میں رہ جا تا تو اندر فنگس پیدا کر سکتا تھا میں اس کی صحت کے بارے میں ہمیشہ سے کانش رہا کرتی تھی۔ اسکو نہلا دھلا کر صاف نیکر شرٹ پہنا کر میں نے اسے برآمدے میں چارپائی پر بٹھا دیا اور خود کچن میں آکر ناشتہ بنانے لگی۔ ماما۔ بھوک لا گئی ہے۔ عدی ہمیشہ ہر لفظ کو کھنچ کھینچ کر بولتا تھا۔ ہر بات کرنے سے پہلے بہت سوچتا تھا اور کسی بھی بات کو دیر سے سمجھتا تھا۔ آئی۔ میری جان ! جلدی جلدی تینوں تو س سینک کر شہد کا جار اٹھایا اور فورا باہر آ گئی۔

یہ لو ۔ میں نے دوٹوسٹوں پر شہد لگا کر اس کی جانب بڑھایا اور تیسرا اپنی پلیٹ میں رکھا۔ اس نے ایک شہد لگا توس اٹھایا اور منہ کی جانب بڑھایا۔ اوں ہوں۔” میں نے فورا رو کا ” پہلے اس کو فولڈ کرو ۔ اس نے سراٹھا کر میری جانب دیکھا کچھ دیر مجھے دیکھتا رہا پھر تو س کو دیکھا۔

اسے فولڈ کرو جیسے ماما کرتی ہیں۔ عدی کو مینرز سکھانا خاصا مشکل کام تھا۔ اس نے غور سے تو س کو دیکھا پھر دونوں ہاتھوں سے اسے فولڈ کر دیا۔ میں بے اختیار مسکرادی۔

میرا اچھا بیٹا! چلو اب بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ۔“ اس نے بسم اللہ پڑھ کر اسے کھانا شروع کر دیا۔ میں اپنے تو س کو ہاتھ لگائے بغیر اندر بڑھی اور چند سیکنڈ بعد ہیر برش لے کر باہر آئی۔ جب تک عدی اپنا پہلا تو س ختم کر کے دوسرا شروع کر چکا تھا۔ مگر اس نے اس کو فولڈ نہیں کیا تھا۔

عدی بیٹا ! پہلے اس کو فولڈ کرو میرے کہنے پر اس نے آہستہ سے تو س کو فولڈ کیا اور کھانے لگا۔ میر بیٹا آج شہزادہ لگ رہا ہے۔ اس کے بھورے بالوں میں کنگھی کرتے ہوئے میں نے بہت

پیار سے کہا۔ وہ تو س کھاتا رہا۔ ” آج ہم عدی کو اسکول میں داخل کرائیں گے ۔ ہاں اسکول کے ذکر پر اس نے سر اٹھا کر مجھے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں وہی چمک آگئی جو ہر دفعہ اسکول کے ذکر پر اس کی آنکھوں میں آجاتی تھی مگر جلدی

ہی اس کا چہرہ مرجھا گیا۔ وہ مجھے نہیں داخل کرتے ۔ اس نے مایوسی سے کہا تھا۔ میرا دل کٹ کر رہ گیا۔ نہیں عدی ! وہ تمہیں داخل کر لیں گے ۔ میں نے کہا۔ ” تم دیکھنا! آج ہم اچھے والے اسکول میں

جائیں گے ۔”

وہ بڑا ہورہا تھا محسوس کر سکتا تھا کہ اسے روز ہی کسی نہ کسی اسکول سے ریجیکٹ کر دیا جاتا ہے اور تو اور میرے اپنے اسکول نے عدی کو داخلہ نہیں دیا تھا۔ یہ گندے والے اسکول ہیں۔ وہ نفی میں سر ہلا کے بولا ۔ ” مجھے گندا بچہ کہتے ہیں۔ میں گندا بچہ نہیں ہوں۔“ نہیں عدی تو بہت اچھا بچہ ہے۔ چلو عدی! اب جوتا پہنو۔ دل پر پتھر رکھ کر میں نے آخری فقرہ کہا تھا۔ عدی کے چہرے پر تکلیف کے آثار نمودار ہوئے ۔ اس نے منہ بنا کر نفی میں زور زور سے سر ہلا دیا۔

مجھے جوتا نہیں پہنا ۔ عدی۔ پلیز بیٹا ! ماما کی بات مانتے ہیں۔“ میں نے اسے پیار سے پکارنا چاہا مگر اندر میر ادل خون کے آنسو رورہا تھا۔ یہ والا جو تانہیں پہننا ۔ اس نے بدستور نفی میں سر ہلایا۔ کیوں نہیں پہننا، عدی ؟“

ماما اور کوئی بھی یہ والا نہیں پہنا صرف میں پہنتا ہوں۔ سب کے پاس اپنے جوتے ہیں مجھے اللہ میاں نے کیوں نہیں دیا ؟ وہ میرے ہاتھ میں موجود لکڑی کے مصنوعی پاؤں کی جانب اشارہ کر کے کہہ رہا تھا۔ عدی پیدائشی طور پر بائیں پاؤں سے معذور اور ذہنی طور پر اب نارمل تھا۔ دمہ کا مرض اسے بہت بچپن سے تھا لیکن صرف یہی ہوتا تو گزارہ اتنا مشکل نہیں تھا، اس کی معذوری اور ایب نار ملٹی نے اسے دوسرے بچوں سے بہت پیچھے دھکیل دیا تھا۔ اسے کسی بھی عام اسکول میں داخلہ نہیں ملتا تھا۔ ہر سکول کا پہلا اعتراض یہی ہوتا تھا کہ وہ معذور ہے۔ اگر کوئی اسکول اس کی مصنوعی ٹانگ پر مطمئن ہو بھی جاتا تب بھی کوئی اس کے ایب

نارمل ہونے پر اٹک جاتی تھی۔ وہ پانچ سال کا ہورہا تھا مگر اس کو پچھلے ایک برس سے کسی اسکول میں داخلہ نہیں مل رہا تھا۔ ہر ماں کی طرح میری بھی یہی خواہش تھی کہ میرا بیٹا شہر کے سب سے اچھے اسکول میں پڑھئے مگر اسے تو سرکاری اسکول بھی رکھنے کو تیار نہیں تھے۔ نہایت ذہین اور عقل مند انسانوں کی دنیا میں مینٹلی ریٹائرڈ ہونا ایک سنگین جرم تھا۔

اللہ میاں نے عدی کو لکڑی والا جوتا تو دیا ہے نا عدی اتنا گندہ بچہ تو نہیں ہے کہ اللہ میاں کی دی ہوئی

چیز نہ پہنے؟”

یہ وہ دلیل تھی جو پچھلے کئی ہفتوں سے ہر دوسری صبح میں عدی کو دیتی تھی۔ وہ صرف اس بات پر جوتا پہنے کو تیار ہو جاتا تھا۔ حالانکہ مجھے اتنا اندازہ تھا کہ عدی کو میری بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔

اس نے نہ سمجھتے ہوئے بھی اثبات میں سر ہلا دیا۔ میں نے لکڑی کا مصنوعی پاؤں نہایت مہارت کے ساتھ عدی کی پندلی سے جوڑ دیا۔ اس کے اوپر جوتا پہنایا اور پھر پیار سے اس کا ماتھا چوما۔ عدی کو اچھے والے اسکول میں داخلہ ملے گا۔ اپنے بیٹے کو امید دلا کر میں خود بھی پر امید ہوگئی تھی۔

ماں تھی نا نا امید نہیں ہو سکتی تھی۔ اپنا دوسرا توس ختم کر کے عدی نے میری پلیٹ میں رکھے تو س کی جانب ہاتھ بڑھایا۔ میں نے جلدی سے وہ توس اٹھا کر شہد لگا یا اور عدی کو تھما دیا۔ وہ اسے فولڈ کیے بغیر کھانے لگا۔ اب کی بار میں نے اسے کچھ نہیں کہا بس مسکرا کر اسے دیکھتے ہوئے یہ بھول جانے کی کوشش کی کہ میں نے رات کو کھانا نہیں کھایا تھا اور یہ بھی کہ آج میں چائے بھی نہیں پی تھی۔ مگر کیا فرق پڑتا تھا، میرے بیٹے کا پیٹ بھرا ر ہے مجھے اس سے زیادہ کچھ نہیں

چاہیے تھا۔ میں عدی کے ہمراہ گھر سے باہر نکلی۔ دروازے پر تالا ڈالا اور اس کی انگلی تھام کر گلی سے ہوتی ہوئی سڑک پر آگئی۔

ہمارے محلے کی بے پناہ غربت اور زبوں حالی کے باوجود ایک اچھی بات تھی کہ یہاں شریف لوگ رہتے تھے اور مجھ جیسی بیوہ اور معذور بچے کی ماں سے ہمدردی رکھتے تھے۔ وہاں لوگ میرے بچے پر ترس تو کھاتے تھے اس سے ان کو بے پناہ مخلصانہ قسم کی ہمدردی بھی تھی، مگر وہ اس سے پیار نہیں کرتے تھے۔ مجھے علم تھا کہ میرے علاوہ پوری دنیا میں کوئی شخص عدی سے پیار نہیں کرتا۔ شاید اسی لیے میں اسے ایسا بنانا چاہتی تھی کہ

لوگ اس پر ترس کھانے کے بجائے اس سے محبت کریں۔ بس اسٹاپ تک کا فاصلہ ہم پیدل طے کیا کرتے تھے ۔ میں عدی کو گود میں نہیں اٹھاتی تھی، میں اسے خود انحصاری سکھانا چاہتی تھی۔ وہ کسی کا محتاج ہو مجھے گوارا نہ تھا۔

ماما بارش ہے؟ وہ غالباً پوچھنا چاہ رہا تھا کہ بارش ہوئی ہے؟ میں نے مسکرا کر اسے دیکھا۔ وہ نیچے گیلی زمین کو دیکھتے ہوئے قدم اٹھارہا تھا۔

نہیں بیٹا! یہ پانی پھینکا ہے کسی نے ۔ عدی کو بارش کی میں نے صرف کہانیاں سنائی تھیں اپنی زندگی میں اس نے جعفر آباد میں صرف رم جھم دیکھی تھی وہ بھی بہت کم۔ اس کو صرف ایک موسم کا نام آتا تھا۔ اگر ، جعفر آباد میں دوسرا کوئی موسم نہیں ہوتا تھا۔

بس اسٹاپ کے رستے میں ایک کھلا میدان آتا تھا۔ ہم روز جب اسکول سے واپس آرہے ہوتے تو اس میدان میں لڑکے کرکٹ کھیلتے دکھائی دیتے ۔ عدی بہت حسرت سے ان کو دیکھتا تھا۔ میدان پار کر کے ہم بڑی سڑک پر آگئے ۔ بس اسٹاپ پر لوگوں کا رش خاصا کم تھا۔ میں اور عدی

ایک جانب کھڑے ہو کر بس کا انتظار کرنے لگے۔ اس فٹ پاتھ پر ایک فقیر بیٹھتا تھا۔ عدی اس کو بھی دل چسپی کبھی خوف سے دیکھا کرتا۔ میں انتظار کر تی کہ کبھی تو وہ اس کے بارے میں مجھ سے سوال کرے گا۔ مگر عدی سوچنے اور سمجھنے کی حس سے معذور تھا۔ یہ کون ہے عدی؟ اس دن مجھ سے رہا نہ گیا تو میں نے اس سے پوچھ ہی لیا۔ جواب میں وہ خاموشی سے مجھے دیکھتا رہا۔

یہ فقیر ہے عدی یہ پیسے مانگتا ہے۔ کون ہے یہ ؟

فقیر فقیر۔ اس نے دہرایا۔ اور ایک بات عدی میں حیران کن تھی کہ چاہے وہ جتنا کند ذہن تھا

اس کو لوگوں کی شکلیں ضرور یادر ہتی تھیں۔ بس آچکی تھی ہم دونوں اس کی جانب لپکے۔ بس اسٹاپ پر موجود لوگوں میں سے اکثریت کو معلوم تھا کہ عدی ایک معذور بچہ ہے سو وہ ہم دونوں کے لیے راستہ چھوڑ دیا کرتے تھے۔ مجھے ان کا راستہ چھوڑ نا اچھا لگتا تھا مگر ان کی آنکھوں میں ترس اور رحم دیکھ کر اتنا ہی غصہ چڑھتا تھا۔ کبھی کبھی میرا دل کرتا وہ لوگ ہمارے لیے راستہ نہ چھوڑا کریں اور عدی بھی کسی دن چھلانگ لگا کر بس میں داخل ہو جائے تا کہ ان کو پتا چلے کہ عدی محتاج نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔