Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261

Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261 Pahari Ka Qaidi (Episode 06)

51.5K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pahari Ka Qaidi (Episode 06)

Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed

مجھے لگتا تھا کہ میں انسومینیا کا شکار ہوتی جارہی ہوں۔

عدی پڑھتا نہیں ہے۔ میری پریشانیاں کیا کم تھیں، جو صبح اسکول میں مس ناز نے مجھے گھیر لیا۔

ایک تھکی تھکی نگاہ ان پر ڈال کر میں نے کہا۔

وہ بہت ذہین نہیں ہے مس ناز ! میرے لہجے میں تھکاوٹ تھی۔ ایک بات کہوں آپ سے وہ قدرے جھجک کر بولیں ۔ آپ عدی کو کسی اسپیشل چلڈرن کے

ادارے میں داخل کرادیں۔ وہ عام بچوں کے ساتھ بھی ٹھیک سے نہیں پڑھ سکے گا۔” ناز ! میری آنکھوں میں مرچیں ہی بھر نے لگی تھیں ۔ ” اس کو صرف استھما ہے اور … اور اس کی ٹانگ نہیں ہے۔ وہ اپنی طور پر معذور نہیں ہے۔ بے شک اس کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے مگر ڈاکٹرز کہتے ہیں اس کا آئی کیو عام بچوں سے کم کسی مگر وہ مینٹلی ریٹائرڈ نہیں ہے۔ لوگوں کو یہ یقین دلاتے دلاتے اب میں تھک چکی تھی ۔ ایسے بچے کو مینٹلی ریٹائرڈ ہی کہتے ہیں۔

وہ دھیرے سے بولیں۔

عدی ایب ناریل نہیں ہے، جسمانی طور پر لاکھ بیماریاں ہوں …. دہنی طور پر بھی بے شک وہ دوسرے بچوں سے سو گنا پیچھے ہے مگر مگر ایب نازل نہیں ہے۔ ” آنسوؤں کا گولہ میرے حلق میں پھنس کر رہ

گیا تھا۔ مس ناز نے سر بلا یا مگر مجھے معلوم تھا انہوں نے میری بات پر یقین نہیں کیا۔ گھر پہنچ کر میں پہلی دفعہ عدی پر غصہ ہوئی تھی۔ تم پڑھتے کیوں نہیں ہو ؟ ” جب اس کو اپنے سامنے کرسی پر بٹھا کر میں نے قدرے غصے سے کہا تو و سہم کر مجھے دیکھنے لگا۔ تم پڑھنے نہیں ہو اور اور لوگ کہتے ہیں عدی ایب ناریل ہے۔ میری بات پر کیوں کوئی یقین نہیں کرتا؟ میں ڈاکٹرز کی رپورٹ بھی دکھا دوں تب بھی وہ یہی کہیں گے کہ عدی پاگل ہے۔ تم پڑھتے کیوں نہیں؟” آنسوؤں نے میرا گلا بند کر دیا۔

میں نے آج اسکول میں پڑھا ہے۔“ وہ بے ربط انداز میں مجھے بتا رہا تھا، میں روتے ہوئے سراٹھا

کر اسے دیکھنے گئی۔

”میرے اللہ ! میرے بیٹے کا کیا بنے گا؟ میں ان قرضوں اور پریشانیوں میں ہی مرگئی تو عدی کہاں جائے گا ؟

——————–

ماما روتی کیوں ہو؟ وہ پوچھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت و استعجاب تھا۔ میرے دل نے کہا مس ناز کو کھینچ کر ادھر لاؤں اور دکھاؤں کہ عدی پاگل نہیں ہے۔ اگر پاگل ہوتا تو کبھی اپنی ماں کے آنسوؤں کی

وجہ نہ پوچھتا۔ ماما ! وہ میرے قریب آکر اپنے ننھے منے ہاتھوں سے میرے گالوں پر بہتے آنسو صاف کرنے

لگا۔ میں آنسوؤں کے درمیان بہت اذیت سے مسکرائی۔ چلو عدی ! کھانا کھا ئیں ۔ آنسو صاف کرتے ہوئے میں اٹھ کھڑی ہوئی۔ اسے کھانا کھلا کر میں اسے پڑھانے بیٹھ گئی۔ اللہ یہ کیا ہے ؟ جلی حروف میں لکھے الف پر انگلی رکھ کر میں نے اس سے پوچھا تھا۔ وہ گردن قدرے ترچھی کر کے قاعدے کو دیکھتا رہا۔ عدی ! یہ الف ہے ۔ پڑھو الف الف اس کی خاموشی پر میں نے بتایا۔ ہاں۔ شاباش اور یہ کیا ہے ؟ میں نے اب ب انگلی رکھی۔ اس نے خاموشی سے قاعدے کو دیکھا اور پھر مجھے

۔ پڑھو ہے۔“

” ہے ۔ وہ دہرانے لگا۔ اچھا یہ کیا تھا؟ میں نے واپس الف پر انگلی رکھی۔

بے۔۔۔۔

نہیں عدی! جو میں نے بے سے پہلے بتایا تھا۔ وہ کیا ہوتا ہے؟“ قائد اعظم نے پاکستان بنایا۔ وہ ایک دم یاد کرتے ہوئے بولا۔ نہیں عدی ! اچھا یہ کیا ہے؟ میں نے پھر سے ”بے کی جانب اشارہ کیا۔

اس نے شانے اچکا دیے۔ میں نے ایک تھکی تھکی نگاہ اس پر ڈالی۔

اگلے آدھے گھنٹے تک میری سر توڑ کوشش کے باوجود وہ کوئی لفظ یاد نہ کر سکا۔ ایک پڑھ کر اگلے پر جاتا تو پچھلا بھول جاتا ، اگر ایک ہی حرف کئی دفعہ دہرائی تو بھی چند لحوں بعد وہ الف۔ الف کہنے کی بجائے وہ قائد اعظم کی گردان شروع کر دیتا۔ تھک ہار کر میں نے کتابیں ہی بند کر دیں۔ عدی یقیناً پڑھ سکتا ہے مگر شاید مجھ جیسی نا اہل اور جاہل ماں میں پڑھانے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ ہمیشہ کی طرح میں نے خود کو مورد الزام ٹھہرایا۔ عدی ذہنی طور پر معذور ہے، یہ بات تو میں ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں تھی ۔۔۔———-

محترمہ یہ پانچواں مہینہ ہے، اگر آپ نے اٹھائیس تاریخ تک قسط نہ دی تو ہم پولیس سے رابطہ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔ عدی کے بابا کی کمپنی کا مینیجر انتہائی درشت لہجے میں مجھ سے بات کر رہا تھا۔

تھوڑی سی مہلت اور دے دیں۔ میں نے منت کی۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اعجاز نثار نے زورسے میز پر ہاتھ مارا۔ میرے ساتھ والی نشست پر بیٹھا عدی سہم کر پیچھے ہوا۔

مگر اعجاز صاحب یہ اتنی بڑی رقم تو نہیں ہے عدی کی ٹانگ لگوائی ہے اور صرف سات ہزار تو تھی ۔ سات ہزار تھی اب تک 35 ہزار بن چکی ہے۔ وہ بے نیازی سے بولا اور میرے قدموں تلے زمین سرک گئی تھی۔

عدی اب اپنے ہاتھ میں پکڑی دس روپے والی اس سم سم بال سے کھیل رہا تھا، جو میں نے راستے میں اسے خرید کر دی تھی۔ وہ بھی ہم تم کو دائیں ہاتھ سے بائیں میں اچھالتا اور واپس منتقل کرتا اور کبھی اوپر نیچے کی

جانب اچھال کر خوش ہوتا۔

کیوں حرام سود کھاتے ہیں آپ لوگ میں پھٹ پڑی تھی۔ اسی حرام سود پر قرضہ لیا تھا آپ نے بی بی ! میں کہاں سے لاؤں پچیسہ؟ مجھے لگا اگر میں نے کچھ اور ضبط کیا تو شاید حواس کھو دوں۔ یہ آپ کا مسئلہ ہے۔“ پینتالیس سالہ بد شکل اعجاز نثار کے لہجے میں تمسخر تھا۔ میں شکست خوردہ قدموں سے واپس آگئی۔

____________

اٹھا ئیس تاریخ میں دو دن باقی تھے۔ میرا دماغ سوچ سوچ کرسن ہو رہا تھا۔ مجھے یاد آیا رقم میرے پاس ختم ہونے کو تھی ۔ میں تین ہزار کی قسطیں کہاں سے دوں گی ؟ اس معاملے پر میں جتنا سوچتی، دماغ اتنا الجھ جاتا۔ پتا نہیں کس طرح میں الجھا ہوا دماغ لے کر عدی کے ہمراہ گھر تک پہنچی۔ عصر کی اذانیں ہو رہی تھیں، جب عدی کو سوتا چھوڑ کر بستر سے اٹھی۔ وضو کر کے نماز پڑھی۔ دماغ اتنا بری طرح الجھا ہوا تھا کہ آنسو بہہ ہی نہ سکے۔ پتا نہیں میرا کیا قصور تھا جس کی سزا میں پچھلے ایک برس سے کاٹ رہی تھی۔ وہ ایک آزمائش تھی جس میں صبر اور ہمت سے مجھے اترنا تھا مگر نہیں ۔ عدی کو تو میں نے کبھی آزمائش بھی نہیں سمجھا تھا۔ وہ میرا بیٹا تھا، میرے جسم کا ٹکڑا، میری محبت میری زندگی ، وہ مجھے بہت پیارا تھا اور شاید اس دنیا میں ، میں وہ واحد انسان تھی، جسے عدی پیارا تھا ، جسے عدی کی فکر تھی۔

ہر دوسرے شخص نے عدی کے ساتھ ہمدردی تو کی تھی مگر اسے کبھی نارمل انسان کا درجہ نہیں دیا تھا۔ مختلف اسکولوں کی انتظامیہ ہو، یا مس ناز، بس اسٹاپ کے قریب گراؤنڈ میں کھیلنے والے بچے ہوں یا اعجاز نےنثار جیسے سود خور ۔ سب عدی کو معاشرے پر ایک بوجھ سمجھتے تھے، کسی نے آج تک نہیں کہا تھا کہ عدی بھی محبت کے لائق ہے۔ مجھے لگتا تھا یہ لوگ عدی کو ایب نارمل بناڈالیں گے۔اس دنیا کے باشعور عقل مند اور بے پناہ ذہانت رکھنے والے باسیوں کے دل میں عدی جیسے کم ذہن بچے کے لیے کوئی جگہ نہ تھی ۔ اگر عقل اور دانش یہی سکھاتی

ہے تو میرا عدی ان بے حس لوگوں سے بہت بہتر تھا۔ پچھلے ایک برس سے میں نے جس طرح گزارا کیا تھا، وہ میں جانتی تھی یا میرا اللہ اگر پچھلے ایک سال میں اتنی پریشان تو میں کبھی بھی نہیں ہوئی تھی جتنی آج تھی۔

میرے اسکول نے مجھے قرضہ نہ دیا جتنی ٹیچرز سے میری سلام دعا تھی، میں نے سب کے آگے ہاتھ

پھیلا یا مگر کسی نے مدد نہ کی۔ کبھی میں سوچتی تھی کہ مر جاؤں گی مگر کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گی لیکن آج

قرض کے لیے ہی سہی، میں جھولی پھیلا رہی تھی ۔ اولا د انسان کو بہت مجبور کر دیتی ہے۔ اور جب اعجاز نثار نے یہ کہا کہ اسے آج ہر قیمت پر دس ہزار روپے چاہئیں تو میرے اندر پچھلے ایک برس سے ابلنے والا لاوا پھٹ پڑا تھا۔

______________

”میرے پاس بیچنے کو سونا ہے، نہ کوئی قیمتی سامان، خود کو بیچوں یا اپنے بچے کو ۔ کوئی تو انصاف کر ہے۔ میرا سانس اتھل پتھل ہو رہا تھا۔ ” کیا اس ملک میں کوئی عادل نہیں ہے جو مجھے انصاف دے؟ میرا بچہ معذور ہے، میں اس کی ضرورتیں پوری کروں یا آپ کا سود اتاروں؟ اتنا تو قرضہ اتار چکی ہوں، مگر پھر بھی آپ کے سات ہزار ختم نہیں ہوتے ؟ اب کیا کروں میں ، آپ بتا ئیں مجھے ؟ عدی نے یک دم سر اٹھا کر مجھے دیکھا اور پھر میرا بازو ہلایا۔ ”ماما۔ ماما! میں عادل“ اس نے میری ” عادل والی بات پر رد عمل ظاہر کیا تھا۔ اس کا خیال تھا میں اس کا نام لے رہی ہوں ۔ چپ کرو عدی ! میں نے ڈپٹ کر اسے خاموش کرا دیا۔

اعجاز نثار نے ایک نا پسندیدہ نگاہ عدی پر ڈالی۔ کر تو تم بہت کچھ سکتی ہو ۔ اس کی گہری نگاہیں مجھے اپنے جسم کے پار ہوتی محسوس ہوئیں ۔ میں نے خوف زدہ سی ہو کر اپنی سیاہ چادر پیشانی پر اور بھی سختی سے لپیٹ لی۔ حد میں رہ کر بات کریں آپ ۔ وہ جو قدرے آگے کو جھکا ہوا تھا، ایک دم بے مزہ سا ہو کر واپس سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔

بی بی ایسے تو جمع کرواؤ اور نہ میں پولیس کو بلواتا ہوں۔ پولیس؟ میرا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ میں نے میں نے کیا کیا ہے ؟ کس کو قتل کیا ہے؟

” پیسے لائی ہو یا نہیں ؟ اس کے لہجے کی کرختگی مجھ ڈرا رہی ہے۔

میں نے کون سے خزانے لوٹ لیے ہیں، ہاں؟

آپ مجھے پولیس کے حوالے نہیں کر سکتے ۔ یہ ایک شہری کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔“

کون سے بنیادی حقوق ؟ میری آنکھوں کے آگے ہاتھ نچا کر وہ تمسخر سے ہنسا۔ ملک میں مارشل لا لگا ہوا ہے، وزیر اعظم تو سات آٹھ ماہ پہلے ہی جیل جاچکا ہے۔ اتنے بڑے لوگ جیل جاسکتے ہیں تو تم کیا چیز

ہو؟

میرا منہ حیرت اور خوف کے عالم میں پورا کھل گیا۔ عدی نے اس کے لہجے سے خوف زدہ ہو کر میرا ہاتھ سختی سے پکڑ لیا۔ مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی میرے سر پر ہتھوڑے برساتے ہوئے مجھے زمین کے اندر دھکیل رہا ہے۔

______________

دروازہ کھلنے کی آواز پر میں نے اپنے حواس کو مجتمع کرتے ہوئے پیچھے مڑکر دیکھا۔ اندر داخل ہونے والے دو باور دی پولیس افسران اور ایک لیڈی کا نسٹیبل کو دیکھ کر میرے رہے سہے اوسان بھی جاتے رہے۔ میں نے گھبرا کر اعجاز نثار کو دیکھا۔

مم میں واپس کردوں کی پیسے ۔ “میرے حلق سے پھنسی پھنسی آواز نکل رہی تھی۔ سر! اس عورت نے پچھلے پانچ ماہ سے تنگ کر رکھا ہے۔ ہماری رقم واپس نہیں کر رہی۔ آپ ذرا اس سے ہماری رقم تو نکلوا دیں۔ میرے سامنے تلخ لہجے میں بات کرنے والے اعجاز نثار کی آواز میں یک دم شیرینی

گھل گئی تھی۔ کیوں بی بی ؟ شریف لوگوں کے پیسے کھانے کا کیا شوق ہے تمہیں ہاں؟ بل کھاتی مونچھوں پر

عادتا ہاتھ پھیرتے ہوئے انسپکٹر بولا ۔ خوف کی ایک لہر نے میرے پورے وجود کو اپنے حصار میں لے لیا تھا۔ “مم میں نے کسی کے پیسے نہیں کھائے ۔ خدارا! میرا یقین کرو۔ میں ایک معمولی ٹیچر ہوں، میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ میرا بچہ بیمار ہے۔ میں نے روتے ہوئے ان کے آگے ہاتھ جوڑے تھے۔ انسپکٹر نے لیڈی کانسٹیبل کو اشارہ کیا ، اس نے جھٹ آگے بڑھ کر میرے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگا دی۔ میں نے کیا کیا ہے؟ کتنے ارب روپے قرضے کی نادہندہ ہوں ؟ میں چیخ رہی تھی، چلارہی تھی مگر

وہ میری نہیں سن رہے تھے۔ عدی نے میرے بازو کو سختی سے پکڑ لیا ۔ جس وقت وہ مجھے کمرے سے لے جا رہے تھے مجھے اچانک یاد آیا عدی کا ان ہیلر اعجاز نثار کی میز پر رہ گیا تھا وہ میرے پرس میں تھا اور پرس میں نے بے دھیانی میں میز پر

رکھا تھا۔

”میرا پرس مجھے لینے دو۔ اس میں میرے بیٹے کا ان ہیلر ہے۔ تمہیں اللہ کا واسطہ، رسول کا واسطہ میں اپنے ہتھکڑیوں والے ہاتھ ان کے سامنے جوڑنے لگی۔ تنگ مت کرو۔ خاموش رہو ۔ “ نہایت اکتاہٹ سے اس بھاری بھر کم لیڈی کانسٹیبل نے مجھے

جھڑ کا۔

“خدا کے لیے مجھے..