Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261 Pahari Ka Qaidi (Episode 13)
Rate this Novel
Pahari Ka Qaidi (Episode 13)
Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed
اس کی بات پر میں ہولے سے مسکرائی مگر اپنی مسکراہٹ مجھے بھی پھیکی لگ رہی تھی۔ اچھا میں چلتی ہوں۔ اب تم سے چھٹیوں کے بعد ہی ملاقات ہو گی ، وہ اٹھتے ہوئے کہنے لگی ، آج ہمارے سمر کیمپ کا آخری دن تھا۔ اس نے مجھ سے مصافحہ کیا مگر میں ذہنی طور پر اتنی البھی ہوئی تھی کہ ٹھیک سے اس کو خدا حافظ بھی نہ کہہ سکی۔ واپسی پر سارا راستہ میں اس کے متعلق سوچتی رہی تھی۔ وہ سات سالہ بچہ بالاج ، وہ بھی معذور تھا۔ عدی کی طرح، میرے دل کو کچھ ہورہا تھا۔ کیا عدی کی طرح اس سے بھی اس کے گھر والوں کے علاوہ کوئی پیار نہیں کرتا ہو گا ؟ کیا سب کو اس بچے پر صرف ترس آتا ہوگا ؟
جو محبت میں عدی کے لیے دل میں رکھتی تھی ، وہی محبت مجھے اس بچے کے لیے محسوس ہورہی تھی۔ میں ماں تھی، میرا اپنا بچہ معذور تھا۔ میں سمجھ سکتی تھی کہ انصاف کے اعلا ترین منصب پر بیٹھا وہ شخص جو آج پاکستان میں سب سے زیادہ چاہا جاتا ہے، اپنے دل کے اندر کیسانہ ختم ہونے والا دکھ رکھتا ہوگا۔ یہ دکھ میرے اندر بھی تھا۔ میں یہ بھی جانتی تھی کہ عدی کبھی ٹھیک نہیں ہو گا مگر پھر بھی میں ہر کوشش کرتی تھی، عدی کے لیے جتنا کرسکتی تھی کرتی تھی۔
میں سمجھ سکتی تھی کہ بالاج کا باپ کیسے دکھ سے __دوچار ہے۔
یہ مٹھائی کھاؤ” میں اپنے فلیٹ کے دروازے پر پہنچی ہی تھی کہ فوزیہ اپنے فلیٹ سے نکل کر سیدھی میری جانب آکر بولی۔ اس کا چہرہ کسی انجانی خوشی سے دمک رہا تھا۔
میں نے خوشگوار حیرت سے مٹھائی کے ڈبے کو دیکھا، پھر ایک ٹکڑا اٹھالیا۔ مگر یہ کس خوشی میں ؟”
گلاب جامن منہ میں رکھتے ہوئے میں نے پوچھا۔
عدی تم بھی کھاؤنا۔ اس نے جھک کرا ڈبہ عدی کے آگے کیا۔ جس نے قدرے شرماتے ہوئے برفی اٹھائی۔ وہ سیدھی ہو کر میری جانب متوجہ ہوئی۔
”میرے ایک رشتہ کے ماموں ہیں۔ ان کی شادی ہونے والی تھی۔ شادی میں چار دن تھے کہ دو سال پہلے انہیں پکڑ کر سکی نا معلوم مقام پر شفٹ کر دیا گیا تھا۔ ماموں کے گھر والوں نے انہیں کہاں کہاں نہیں ڈھونڈامگر وہ نہ ملے۔ پولیس نے ہیلپ کی نہ کسی انسانی حقوق کی تنظیم نے۔ چار دن پہلے ماموں کے بھائی نے عادل کو خط لکھا اور کل انہوں نے سپریم کورٹ میں سیکرٹری داخلہ کو طلب کر کے حکم دیا۔ مجھے یہ بندہ رات آٹھ بجے سے پہلے اسلام آباد میں چاہیے۔”
اور یقین کرو ماموں رات آٹھ بجے سے پہلے اسلام آباد میں تھے۔ ہم سب بہت خوش ہیں۔ اللہ انہیں زندگی دے، میں ذرا یہ مٹھائی باقی گھروں میں بھی دے آؤں۔“
وہ خوشی خوشی کہتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔
————&—
میں نے اطمینان سے اسے جاتے دیکھا۔ اب تو یہ اطمینان میرے وجود کا حصہ بن چکا تھا۔ اس
روئے زمین پر کوئی تھا جو اللہ کے حکم سے عدل کرتا تھا۔
جس دیس کے کوچے کوچے میں موت آوارہ پھرتی ہو جو دھرتی دکھ اگلتی ہو اور دکھ فلک سے گرتا ہو جہاں بھو کے نگے بچے راہوں پر پل جاتے ہوں جہاں سچائی کے مجرم بھی زنداں میں ڈالے جاتے ہوں جہاں محسنوں اور لیڈرز کو بموں سے مارا جاتا ہو جہاں پر کرسی کی خاطر کچھ بھی کر ڈالا جاتا ہو اس دیس کی مٹی برسوں سے دیکھ جگر پر سہتی ہے اور اپنے دیس کے لوگوں کو نئے غم سناتی رہتی ہے جانے کیوں ۔ قدرت کو کبھی میرا مطمئن و آسودہ ہونا منظور نہ تھا۔ میرا اطمینان ہمیشہ چند دن زندہ رہ کر مر جا تا تھا۔ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا تھا۔
وہ اطمینان اور سکون جو میرے ارد گرد پھیل سا گیا تھا صرف تین ماہ بعد ختم ہو گیا۔ تین نومبر کو سب کچھ ختم ہو گیا۔ ایک سیلاب سا آیا تھا، پانی کا منہ زور ریلا ، اپنی طاقت کے نشے میں گم ، اندھا دھند آیا اور پھر امید، آس اور خوش گمانیوں کے کتنے ہی گھر اپنے ساتھ بہا کر لے گیا۔ جب وہ چلا گیا تو پیچھے کچھ بھی نہ بچا تھا۔ ہر شے ختم چکی تھی۔
اب اس ملیا میٹ ہوئی جگہ پر جھوٹے عدل کی نئی عمارتیں قائم ہونے لگیں ، نئے فیصلے دیے جانے گئے، انصاف کی مصلحت زدہ تشریح مارکیٹ میں آگئی اور عدل – عدل تو ساٹھ گھروں میں کسی قیدی کی طرح بند ہو کر رہ گیا۔
میں نے آمر وقت کا بیان اخبار میں پڑھا۔ چیف جسٹس کو اللہ نے بہت عزت دی تھی، مگر انہیں عزت راس نہیں آئی ۔ ہونہہ۔۔۔۔۔ عزت راس نہ آنے کی بات وہ لوگ کر رہے تھے، جنہوں نے خود کبھی عزت محبت اور عقیدت کی شکل تک نہیں دیکھی تھی۔ وو شخص سزا کا مستحق تھا۔ اس نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف اتنی بڑی سازش کی تھی جو شاید پورے ساٹھ برسوں میں کوئی نہ کر سکا۔ اس بد عنوان “بیج کے خلاف دودھ میں دھلی حکومت کا ریفرنس بالکل صحیح تھا۔ بھلا وہ ایک قانون دان کون ہوتا تھا اسٹیل مل کے معاملے میں ٹانگ اڑا نے والا ؟ اس کو کس نے یہ حق–دیا تھا کہ ایک گروہ کو پاکستان کا اثاثہ بیچنے سے روکے؟ اس کی کیا مجال جو امریکہ کو بیچے جانے والے پاکستانیوں سے متعلق پولیس کو کٹہرے میں لاکر جرح کرے؟ پاکستانی عوام اور پاکستانی اثاثے بیچنے کے لیے تو بنے تھے۔ ان کو کھانے کا حق نہایت آئینی طریقے سے بننے والے صدر اور شفاف طریقے سے بننے والی حکومت کو پیدائشی طور پر حاصل تھا۔
60
میرے منہ تک جاتا نوالہ ایک جھٹکے سے پلیٹ میں واپس گرا۔ میں ساکت ہی ہو کر اخبار میں لگی سرخی پڑھ رہی تھی۔
وہ ایک تیسرے درجے کے گھٹیا انسان اور زمین کی غلاظت ہیں۔” یہ بیان تھا میرے اعلا، با کردار، پاکستان کے لیے قدرت کے انمول تحفے کا۔ میں ان الفاظ کو دیکھ کر رہ گئی۔
و شخص گند اور غلاظت تھا جس نے میرے بچے کو جیل کی کوٹھڑی سے باہر نکال کر اسپتال پہنچایا تھا ؟ وہ شخص تیسرے درجے کا انسان تھا، جو عوام کے ساتھ عدل کرتا تھا ؟ کیا کوئی گالی اس سے بڑی بھی ہو سکتی ہے جو آمر وقت نے میرے عادل کو دی تھی۔ ایسی زبان، یہ لب ولہجہ ایک اعلا عہدے والے شخص کے لیے کتنا غیر موزوں تھا، پاکستان کا بچہ بچہ جانتا تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا، تو وہ یہ کہنے والا تھا۔ میں سوچ رہی تھی ، عادل کو اس کے خلاف ایک مذمتی بیان تو جاری کرنا چاہیے ۔ اس کو حکمرانوں کو یہ بتانا چاہیے کہ وہ خود کتنے پانی میں ہیں۔ لیکن جب میں نے اگلے دن کے اخبارات میں پڑھا۔ انہوں نے بات کو ہنس کر ٹال دیا اس کا جواب دینا میرے عہدے کی شان کے خلاف ہے۔“ تو میں بے اختیار رو پڑی۔ مجھے آج انداز ہوا تھا کہ عظمتوں کی بلندی کو چھونے والا انسان کیسا ہوتا ہے
1
ماما۔ میں کھود (خود) نہاؤں گا۔ عدی کے یوں کہنے پر میرے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی ۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے سامنے کیا اور سیدھا اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے شرارت چھپا کر بولی۔
تو میرا بیٹا اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ خود نہا سکے؟” پلکیں سکیڑ کر میں نے پو چھا تو عدی نے فورا اثبات میں
سر ہلا دیا۔ ماما۔ عدی کھو د نہائے گا۔ ماماعدی جھوٹ نہیں بولتا۔ جب عدی کو یہ کہنا ہوتا کہ وہ صحیح کہہ رہا ہے، وہ
کہتا عدی جھوٹ نہیں بولتا ۔ “
چلو۔ آج میرا بیٹا خود نہائے گا۔ میں نے پیار سے اس کا گال تھپتھپایا اور پھر الماری سے اس کے
کپڑے نکالنے لگی۔ ایک جینز اور شرٹ نکال کر میں نے بیڈ پر رکھی ، وہ خاموشی سے یہ تمام کارروائی دیکھتا رہا۔
عدی۔ ان ہیلر تو نہیں چاہیے نا؟ سانس ٹھیک آرہا ہے الماری سے صاف تولیہ نکال کر جب میں
ہاتھ روم میں لٹکارہی تھی تو یکدم کسی خیال کے تحت میں نے وہیں سے بلند آواز میں پوچھا۔
نہیں۔ ماما
اس نے وہیں کمرے سے اونچی آواز میں جواب دیا۔ گڈ بوائے ۔ میں واپس کمرے میں آئی، اس کے کپڑے اٹھائے اور اس کی انگلی پکڑ کر اسے ہاتھ
روم میں لے آئی۔ شاور چلا کر میں نے گرم پانی سیٹ کیا۔
” تم صابن لگاؤ میں آتی ہوں۔” میں مطمئن ہی ہو کر واپس کچن میں آگئی۔
دیگچی میں گھی گرم ہو رہا تھا، میں نے پلیٹ میں کٹی پیاز اس میں ڈال دی۔ ” مجھے بجٹ کنٹرول کرنا پڑے گا۔ خود کلامی کے سے انداز میں بڑبڑاائی۔ مہینہ ابھی ختم نہیں ہوا
تھا اور میری تنخواہ ختم ہونے والی تھی۔ مجھے کچھ ٹیوشنز لے لینی چاہئیں ۔ میں نے جیسے خود سے فیصلہ کیا تھا۔ کفگیر میں نے سائیڈ پر رکھا اور دوپٹے سے ہاتھ پوچھتی عدی کے پاس آگئی۔ دروازے کی چوکھٹ پر ہاتھ باند ھے اور مسکراہٹ دبائے میں کھڑی اسے دیکھتی رہی۔ وہ خود جسم پر صابن لگا رہا تھا۔ میں نے مسکراتے ہوئے سر جھٹکا۔ ماما۔ عدی کھود (خود) نہائے گا۔ اس نے مجھے مطمئن کرنا چاہا۔ اچھا میں آتی ہوں۔
————میں واپس کچی میں چلی آئی۔ پیاز ہلکی ہلکی گولڈن براؤن ہو چکی تھی۔ میں نے اس میں کفگیر بلایا ، پھر دوسرے مسالے ڈالنے لگی۔
چاول بھگو کر میں پہلے ہی رکھ چکی تھی، اس لیے ذرا وقت ملا تو ان میں سے پانی نتھار نے لگی۔
ما ما۔ ماما
“عدی کے رونے کی آواز پر میرے ہاتھوں سے چاولوں والا برتن چھوٹ گیا۔ میں ان کی پرواہ کیے بغیر دیوانہ وار بھاگتی ہوئی اپنے کمرے تک آئی۔
عدی۔ عدی۔ وہ روتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ میری نگاہوں کے سامنے زمین آسمان گھومنے لگے۔ عدی۔ کنڈی کھولو ۔ میں زور سے چلائی۔ مجھے یاد آ رہا تھا، صبح اس کو استھما اٹیک نہیں ہوا تھا اور اس وقت عموماً اسے اٹیک ہوا کرتا تھا۔
ماما نہیں کھلتی ۔ خوف کے مارے وہ اونچی آواز میں رونے لگا۔ عدی جج جیسے لگائی تھی ویسے ہی کھولو ۔ میری آواز کپکپا رہی تھی میں نے بے اختیار پیشانی پر آیا پسینہ پونچھا۔ میرادل اتنی بری طرح دھڑک رہا تھا کہ مجھے لگا ، وہ ابھی سینہ پھاڑ کر باہر آ جائے گا۔۔ وہ زور زور سے رو رہا تھا۔ ساتھ ساتھ دروازہ بھی بجا رہا تھا۔“ ماما۔ دروازا کھولو۔ دازا نہیں کھولو۔
عدی میری جان! کنڈی کھولو۔ اس کی بات پر میرے رہے سہے اوسان بھی خطا ہو گئے۔ شاور کے نیچے جاؤ ، سر دھو ۔ جلدی سے شدید بے بسی کا عالم تھا، میرا دل تڑپ رہا تھا مگر میں کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ خود سے کوئی کام بھی نہیں کر سکتا تھا۔ عدی پانی ڈالومنہ پر میری برداشت ختم ہورہی تھی، مجھے لگا اگر چند لمحوں تک عدی با ہر نہ آیا تو میرا دل بند ہو جائے گا۔ عدی۔ خدارا کچھ کرو ۔ میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ میرا ایک ہی بیٹا تھا، اس کو بھی اللہ مجھے سے دور کر رہا تھا۔ میں کیا کروں؟ میں کدھر جاؤں؟
