Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261 Pahari Ka Qaidi (Episode 12)
Rate this Novel
Pahari Ka Qaidi (Episode 12)
Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed
وہ عورت کہتے کہتے رو پڑی تھی عادل معطل نہیں ہوا تھا، بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ان سینکڑوں لاپتہ شہریوں کے گھر والوں کی امیدیں ٹوٹ گئی تھیں۔ اب مائیں اپنے عدی کو ڈھونڈ نے کس کے پاس جائیں گی؟ کس در کو کھٹکھٹا ئیں گی؟
اپنے محدود وسائل اور کم آمدنی کے باوجود میں عادل کے کارواں کے ساتھ فیصل آباداور پھر خانیوال تک گئی تھی۔
رستے میں لوگ نعرے لگاتے تھے ۔ “عادل تیرے جانثار ، بے شمار بے شمار عدی کو یہ نعرہ یاد ہو گیا تھا۔ جب وکلاء عادل تیرے جانثار کہتے تو وہ بھی ان کے ساتھ حلق پھاڑ کر بے شمار بے شمار کہتا تھا۔ عدی، عادل کون ہے؟“ میں ہنس کر پوچھتی تو وہ بے اختیار اپنے ہاتھ پکڑے پلے کارڈ پر موجود تصویر پر ہاتھ رکھ دیتا تھا۔
فضا میں اتنا جوش، اتنا ولولہ بھرا ہوتا تھا کہ ایک نعرہ لگتا اور پچیس گھنٹے کے تھکا دینے والے سفر کے باعث تھکن سے چور جسموں میں ایک دم کرنٹ سا بھر جاتا۔ بے شمار بے شمار نعرے کا جواب انسانوں کے اس سمندر سے فورا اور نہایت بلند آتا تھا۔ ایک عورت عادل کی بہت بڑی مداح تھی ۔ وہ ہر شہر سے پیدل سفر کر کے ان جلسوں میں شرکت کرتی تھی۔ تین تین دن تک پیدل سفر کرنا اس کی عادل … سے محبت اور عقیدت کی شدت کو ظا ہر کرتا تھا۔ مجھے لگتا تھا اس شخص سے سب سے زیادہ محبت کرتی ہوں سب سے زیادہ عقیدت مجھے
ہے، مگر وہ عورت مجھ سے بھی آگے بڑھ گئی تھی۔ وہ جلسوں میں دعائیہ نعرے لگاتی تھی اور آگے سے لوگوں کو اے مولا کہنا ہوتا تھا۔ عدی کو یہ نعرہ بھی بہت پسند تھا۔
وہ چلا کر کہتی تو ..لے لے
اے مولا
! عوام کا جم غفیر ہاتھ اٹھاکر دعائیہ انداز میں جواب دیتا تھا۔
تو دیجیو لے لے “
اے مولا
” میرا دیس بچائے۔“
_اے مولا”
میر ا عادل بچائے۔“
اے مولا”
بیسں بیسں گھنٹے تک نعرے لگانے اور تقریریں کرنے کے باوجود لوگ تھکتے نہ تھے۔
جب عادل اپنی گاڑی سے نکلتا، تو لوگ صرف اس کی ایک جھلک دیکھنے اس کا ہاتھ چومنے، اس با ضمیر انسان کو صرف یہ بتانے کہ وہ اس سے کتنی محبت وعقیدت رکھتے ہیں، اپنے گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ جاتے ۔ جب اس کا قافلہ سڑک پر سے گزر رہا ہوتا تو عورتیں فرط اشتیاق سے گھروں کی چھتوں پر چڑھ جاتیں۔ چھوٹی چھوٹی بچیاں اس پر پھول برساتیں۔ پچھلے ساٹھ برس سے عوام کسی ایک شخص کے لیے یوں نہیں تڑپے تھے، کسی کا یوں والہانہ استقبال نہیں کیا تھا جیسے اس کا کیا گیا تھا۔ وہ کوئی سیاسی راہنما نہیں تھا ، نہ وہ صدارت یا وزارت اعظمیٰ کا امید وار تھا۔ اس دوران کتنے ہی اتار چڑھاؤ آئے ، بارہ مئی کا قتل عام ، رجسٹرار کا قتل ، عوام کے ساتھ وحشیانہ سلوک اور بیسیوں دفعہ اس مرد جری کو قتل کرنے کی ناکام کوشش لیکن مجھے یقین تھا کہ عادل کو طاغوتی طاقتیں نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ جس شخص کے لیے کروڑوں عدیوں کی مائیں دعائیں کرتی ہوں، اس سے اللہ اپنی حفاظت کے پہرے نہیں اٹھایا کرتا۔
________
کا پیز چیک کرلی ہیں میں نے افزا آپ یہ ساری کلاس کو دے دیں۔ میں نے اپنے بالوں کو آپ کیچر میں سختی سے جکڑتے ہوئے فرنٹ سیٹ پر بیٹھی افزا کو مخاطب کیا۔ وہ مؤدب کی ہو کر اٹھی اور میز پر رکھی کا پیاں اٹھانے لگی۔
مگر مس ا یہ تو آپ نے چیک نہیں کیں ۔ وہ پہلی کا پی دیکھتے ہی حیرت سے بولی۔ اچھا؟ چیک نہیں کیں؟ میں نے آگے ہو کر میز پر رکھی کا پیاں اپنی جانب کھسکا ئیں۔ چلو، ابھی کر دیتی ہوں۔ خجالت مٹانے کو میں ہموار لہجے میں بولی ، اندر ہی اندر مجھے خود پر بہت حیرت ہورہی تھی۔ شاید میرا دماغ اتنا الجھا ہوا تھا کہ یادداشت مسلسل دھوکا دیے جارہی تھی ۔ تین کا پہیاں چیک کر کے ہی میں نے بیزاری سے انہیں پرے کر دیا۔
__________
یہ آپ لوگ لے لیں ۔ میں کل چیک کر دوں گی اور اب بیٹھ کر منڈے کے ٹیسٹ کی تیاری کرلیں
اور پلیز باتوں کی آواز نہیں آئے گی ۔“
میری بات پر لڑکیوں کے چہرے پر خوشی کی ایک لہر دوڑگئی ، وہ میرے انداز سے ہی سمجھ گئی تھیں کہ آج میں پڑھانے کے موڈ میں نہیں ہوں۔ کچھ دیر میں بے چینی سے پہلو بدلتی رہی، پھر باہر نکل آئی۔ میرے نکلتے ہی کلاس سے شور بلند ہوا، مگر مجھ جیسی ذمہ دار اور ڈسپلن کی پابند ٹیچر کوذرہ برابر بھی فرق نہ پڑا۔ چھٹی میں ابھی پانچ منٹ رہتے تھے۔ مگر میں چھٹی کی گھنٹی کا انتظار کیے بغیر ہی اسکول سے نکل آئی۔ ایک عجیب سی بے چینی اور بیزاری نے میرے پورے وجود کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔ ما ما مجھے ٹیچر نے دو گڈ دیے۔ عدی نے مجھے دیکھتے ہی اپنی کا پی آگے کر کے دکھائی۔ اس کے چہرے پر خوشی رقصاں تھی ۔ ہ یہ بچے اتنے معصوم کیوں ہوتے ہیں؟“ بے اختیار میں نے سوچا، پھر مسکراتے ہوئے عدی کا گال تھپتھپایا۔
اب بیگ بند کرو اپنا میری بات پر اس نے کاپی بیگ میں ڈال لی۔ اب زپ بند کرو ۔ اس نے سر ہلاتے ہوئے زپ بند کی ۔ وہ بارہ سال کا ہور ہا تھا مگرخود انحصاری اس میں نہیں آئی تھی ۔ وہ ابھی ایک تھری کلاس میں تھا، اور جسامت وہی چودہ سات سالہ بچے کی تھی۔ اس کا بیگ میں نے اٹھا کراس کا ہاتھ تھاما اور اسے لیے کلاس سے باہر آگئی۔
مما
باہر سڑک پر چلتے ہوئے اس نے ایک دم پوچھا۔ ”ہم پھر کب جائیں گے؟“ کدھر؟ ذہن میں خیالات کے ہجوم کے باعث میں نے قدرے عدم تو جہی سے استفسار کیا۔
وہیں ماما، جہاں عادل ہوتا ہے۔ عدی نے مجھے سمجھانا چاہا، وہ کبھی اپنی بات دوسرے تک صیح طریقے سے نہیں پہنچا سکتا تھا۔
ہاں اچھا میں نے اس کی بات ٹھیک سے سنی نہیں تھی
۔ ماما پھر کب جائیں گے؟ اس نے میرا ہاتھ دباتے ہوئے پوچھا۔
پتا نہیں..
______
ماما آپ چپ کیوں ہیں؟“ میں نے چونک کر اسے دیکھا۔
کیا ، عدی؟”
ماما عادل کے پاس کب جائیں گے؟”
اب نہیں جائیں گے ۔ میرے لہجے میں عجیب سی مایوسی تھی۔
اب نہیں جائیں گے؟“ نہیں میں نے نفی میں گردن ہلائی ، وہ قدرے مایوسی سے دوبارہ چلنے لگا۔ گھر پہنچ کر میں نے اس کے لیے کھانا نکالا مگر خود میرا کھانے کو ذرہ برابر دل نہیں کر رہا تھا۔ ما ما پھر نہیں جائیں گے؟ وہ اپنی بات ایک دفعہ پھر دہرار ہا تھا۔ نہیں نوالہ اس کے منہ میں دیتے ہوئے میں نے نفی میں سر ہلایا۔ وہ ابھی تک خود کھانا نہیں
کھا سکتا تھا۔ ہر دفعہ میں اسے چھوٹے چھوٹے لقمے بنا کر کھلاتی تھی۔ اس نے پھر کچھ نہیں پوچھا، خاموشی سے کھانا کھانے لگا۔
سہ پہر چار بجے سے کچھ اوپر کا وقت تھا، جب دروازے پر بل ہوئی۔ میرا دل یکبارگی زور سے دھڑ کا۔ میں نے ایک نظر او پر دیکھا۔ میرا اللہ میری آخری امید تھا۔ دروازے پر میری ہمسائی شمینہ ہو گی ، مجھے یقین تھا۔ میرے گھر ٹی وی نہیں تھا ، اور وہ یقیناً عادل کے متعلق فیصلہ سنانے آئی ہوگی۔ وہ بھی عادل کے لیے بہت دعا کرتی تھی ، اس کا بھانجا ایک مدرسے کے خلاف ہونے والے آپریشن میں لاپتا ہو گیا تھا۔ اپنے یتیم بھانجے کا سراغ لگانے کے لیے اس کی آخری امید بھی عادل
ہی تھا۔
بیس جولائی کی تاریخ تھی۔ میں نے ایک گہری سانس لی۔ خود کو ہر قسم کی صورتحال کے لیے تیار کرتے
ہوئے میں نے دروازہ کھول دیا۔
سامنے میری توقع کے عین مطابق ثمینہ کھڑی تھی۔ اس کے ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ تھا۔ خوش خبری ہے ہم سب کے لیے؟ اس نے ڈبہ میری طرف بڑھایا۔ میری مایوسیاں اور ان کے
برعکس وہ مٹھائی کا ڈبہ میری زبان بے اختیار ہکلائی۔
خوشی کے باعث اس کی آواز کپکپا رہی تھی۔ اس نے مٹھائی میری طرف بڑھائی ۔ مگر میں، مٹھائی لینے
کے لیے ہاتھ بھی نہ بڑھا سکی۔ بس وہیں زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ میری آنکھوں سے آنسو بہ ر ہے تھے۔ کیا ہوا تمہیں ؟ وہ میری حالت پر پریشان ہوگ تھی۔ تم نہیں سمجھو گی ثمینہ میں روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ ” مجھے لگ رہا ہے، آج میں زندہ ہوگئی ہوں۔ نو مارچ کو مجھے لگا تھا کہ کسی نے میرا گلا گھونٹ دیا ہے۔ آج یوں لگ رہا ہے جیسے میں محفوظ ہوں، میرا عدی محفوظ ہے۔ اب کوئی عدی کو جعفر آباد جیل نہیں لے جاسکتا ۔“ میں رو بھی رہی تھی اور ہنس بھی رہی تھی ۔
———————————————-
تمہارا بچہ معذور ہے؟”
میں اسٹاف روم میں بیٹھی لڑکیوں کے پیپرز چیک کر رہی تھی جب انیلا نے پوچھا۔ میں نے سراٹھا کر
اسے دیکھا۔
ہاں۔”
اچھا وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی
۔ کہوانیلا
۔ میں نے پین کا کیپ چڑھا کر قدرے حوصلہ افزا لہجے میں کہا۔ انیلا میری ساتھی ٹیچر تھی۔ اس نے پہلے بھی اس موضوع پر بات نہیں کی تھی مگر مجھے یقین تھا، وہ کچھ کہنے والی ہے۔
تمہیں پتا ہے۔ بالاج بھی معذور ہے۔ بالاج کون …. تم بالاج کو نہیں جانتیں ۔ اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔ بالاج عادل کا بیٹا تھا۔ میں صدمے کی سی کیفیت سے اسے دیکھ رہی تھی۔ دیکھا جائے تو اولاد کی جانب سے بہت سے عظیم لوگ بد قسمت ہیں ۔ وہ کچھ سوچتے ہوئے کہنے لگی۔ چاہے وہ قائداعظم کی نافرمان اولاد ہو، علامہ اقبال کا شاہین بچہ ہو یا پھر افتخار چوہدری کا معذور بیٹا ، اولاد بر عظیم انسان کے لیے آزمائش ہوتی ہے اور اللہ اپنے نیک بندوں کی آزمائش کرتا ہے۔ یقینا اللہ تم کو محبوب رکھتا ہوگا۔“
