Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261

Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261 Pahari Ka Qaidi (Episode 07)

51.5K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pahari Ka Qaidi (Episode 07)

Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed

مجھے فقرہ مکمل کرنے کی مہلت نہ ملی۔ لیڈی کانسٹیبل کا زناٹے دار تھیٹر میرے منہ پر لگا تھا۔ انہوں نے مجھے ایک فون کال کرنے کی بھی مہلت نہ دی تھی۔

—–++++++++++++++++++++

جعفر آباد جیل جتنی خوفناک تھی ، اس میں کٹنے والا وقت اس سے بھی زیادہ خوف ناک تھا۔ جس سیل میں مجھے عدی کے ساتھ بند کیا گیا تھا، وہ میرے جیسی جون کے مہینے میں جعفر آباد کے 52 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں محض پنکھے میں گزارہ کر لینے والی عورت کے لیے بھی جہنم سے کم نہ تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے زمین آگ اگل رہی ہے اور چھت آگ برسا رہی ہے۔ زمین سے اس ٹین کی چھت کا فاصلہ محض ساڑھے آٹھ فٹ تھا، جس سے جس اور گھٹن میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔ جس لمحے میں اور عدی اس کال کو کٹھری میں داخل ہوئے ، مجھے وہ تمام اذیت، ذلت اور تضحیک بھول

گئی جو محسوس ہوئی تھی۔ روحانی ذلت اور اذیت اس جسمانی اذیت سے بڑھ کر ہر گز نہ تھی۔ ماما۔ گرمی ہے۔ عدی بے چین ہوکر بولا۔ اسے پل بھر میں ہی پسینہ آ گیا تھا۔ “میرا جرم کیا ہے ؟ دروازے کی سیاہ ، گرم لوہے کی سلاخیں پکڑ کر میں چلائی۔ لوہے کی گرم گرمائش

کے باعث میرے ہاتھ سرخ ہو کر جلنے لگے تھے۔ دور بیٹھے سپاہی نے سراٹھا کر بھی میری جانب نہ دیکھا۔ میں نے کون سا جرم کیا ہے؟ صرف ۔ صرف اس لیے کہ وہ حرام خور تمہارے انسپکٹر کا دوست تھا، تم لوگ مجھے اور میرے بچے کو پکڑ کر ادھر لے آئے ہو۔ خدا کے لیے ہمیں جانے دور میرا بچہ بیمار ہے۔” لوگ کہتے تھے، عدی پاگل ہے، اس وقت مجھے لگ رہا تھا کہ عدی نہیں بلکہ میں پاگل ہوں۔ میں زور زور سے ہسٹریائی انداز میں چلا رہی تھی مگر وہاں کوئی ٹس سے مسں نہ ہوا، نہ کوئی سپاہی، نہ ہی کوئی قیدی ، شاید وہ لوگ اس منظر نامے کے عادی تھے۔

—————————🥹🥹🥹———

کھولو یہ لاک آپ میں سلاخوں کو پکڑ کر زور زور سے ہلانے لگی۔ میرا بیٹا بیمار ہے، اس کا ان ہیلر باہر رہ گیا ہے۔ “میری پوری کمر پسینے سے بھیگ چکی تھی سر کے بال چپک کر رہے گئے تھے حلق میں کانٹے سے اگ آئے تھے۔ مجھے لگا، میں دوزخ میں پھینک دی گئی ہوں۔ میرے بیٹے نے کیا بگاڑا ہے تم لوگوں کا ؟ کس بات کی سزادے رہے ہوا سے تم ؟‘ میں پاگلوں کیطرح چیخ رہی تھی۔ میرے ذہن میں اس وقت صرف ایک بات تھی کہ عدی کا ان ہیلر اعجازنثار کی میز پر رہ گیا ہے ۔ اگر عدی کو استھما اٹیک ہو گیا تو میں کیا کروں گی؟ اس سے آگے میں سوچنا نہیں چاہتی تھی۔ مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ استھما اٹیک میں ان ہیلر نہ ملنے پر عدی کے پاس صرف چند سیکنڈ … میں نے تڑپ کر عدی کو دیکھا۔ مجھے پولیس آفیسر کے الفاظ یاد آئے جو اس نے مجھے اس کوٹھڑی میں بند کرتے وقت کہے تھے۔ چار دن جیل میں رہوگی تو دماغ ٹھکانے آجائے گا۔“ چاردن؟ میں نے دہل کر سوچا۔ عدی کے پاس کبھی چار دن نہیں ہوں گے۔ استھما اٹیک کی صورت میں اس کے پاس صرف چار منٹ ہوں گے۔ ”میرے اللہ ! میں نے بے اختیار او پر ٹین کی چھت کو دیکھا۔ میں کدھر جاؤں؟ مجھ پر رحم کر، میرے ساتھ عدل کر۔“

مگر جعفر آباد جیل کی اس ابلتے ، تپتے صحرا کی مانند کوٹھڑی میں کوئی عادل کوئی منصف نہ تھا۔

عدی کو ساتھ لگائے میں کتنی ہی دیر روتی رہی۔

عدی ! دعا کر و اللہ ہم پر رحم کرے، ہمارے ساتھ عدل کرے۔“

عادل ماما؟ میں عادل عدی . عادل ہے۔ اس نے جوش سے اپنا نام لیا۔ نہیں عدی ! تم نہیں تم بس دعا کرو۔ میں نے ہولے سے اسے کا گال تھپتھپایا۔ چند لمحے تک تو وہ مجھے دیکھتا رہا، پھر دیوار سے کمر لگا کر بیٹھ گیا۔ اس کی نگاہیں اپنے ہاتھوں پر مرکوز تھیں۔ جانے وہ دعا کر رہا تھا یا صرف اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا۔

“میرے اللہ ! میں کہاں جاؤں ۔ شام گہری ہو رہی تھی۔ عدی کو استھما اٹیک کبھی دن میں چھ دفعہ ہوتا تو کبھی ایک دفعہ بھی نہیں ۔ میں نے بہت دعا کی کہ کم از کم آج کی رات تو اسے اٹیک نہ ہو۔ وہ کافی دیر تک خاموشی سے اپنے ہاتھوں کو دیکھتارہا، پھر اس نے جیب سے سم سم نکالی اور اس سے کھیلنے لگا۔ ساڑھے آٹھ فٹ اونچائی والی اس کوٹھڑی کی دیوار ہیں بے حد سادہ تھیں۔ جگہ جگہ سے پلستر۔ ا کھڑا ہوا تھا