Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261

Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261 Pahari Ka Qaidi (Episode 04)

51.5K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pahari Ka Qaidi (Episode 04)

Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed

قائد اعظم ہے۔ پاک تان بنایا ہے۔ میں نے عدی کے ہاتھ میں جیسے ہی دس روپے کا نوٹ تھمایا،

اس نے فورا ہی نوٹ پر بنی تصویر کو دیکھ کر کہا۔ مجھے حیرت کا جھٹکا لگا اور پھر ان لوگوں پر غصہ آیا جو میرے بیٹے کو ذہنی طور پر معذور سمجھتے تھے۔ کوئی ذہنی طور پر معذور انسان اتنی اچھی طرح شکلیں یاد نہیں رکھ سکتا تھا جیسے عدی رکھتا تھا۔ جتنی دیر ہم دونوں بس میں بیٹھے رہے، عدی قائد اعظم کی گردان کرتا رہتا۔ بس ہمارے مطلوبہ اسٹاپ پر رکی ، میں نے عدی کا ہاتھ پکڑا اور نیچے اتر گئی۔ آج ہمارا اسٹاپ اسکول نہیں، بلکہ سرکاری اسپتال تھا، جہاں سے عدی کی دوائی لینا تھی۔ اس کا ان ہیلر ختم ہو چکا تھا اورمجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ مہینے کے آخری پانچ دن مجھے فاقے کرنے پڑیں گے مگر عدی کی بیماری پر میں کوئی کمپرومائز نہیں کر سکتی تھی۔ میں نے سنا تھا کہ سرکاری اسپتال میں مفت دوائیاں ملتی ہیں ، مگر وہ پتا نہیں کون سی جادو نگری تھی ، جہاں دوائیاں مفت ملتی تھیں۔ میرے بچے کا نہ کہیں مفت علاج ہوا تھا، نہ ہی اسے مفت دوائیاں ملتی تھیں۔ کیمسٹ کے سامنے ایک لمبی قطار کے آخر میں ہم دونوں کھڑے ہو گئے۔ ماما۔ وہ طوطا عدی نے میرا دو پٹہ پکڑ کر قدرے کھینچا۔ میں نے گردن پھیر کر اس کو دیکھا۔

کدھر ہے؟

” ماما اس نے دور ٹینکی پر بیٹھے کوے کی جانب اشارہ کیا۔ مجھے بے ساختہ ہنسی آگئی۔

ہ کوا ہے، طوطا نہیں ہے۔ عدی ! میں نے اسے سجھانا چاہا

طوطا ہے ماما

وہ بضد تھا

عدی! اس کا رنگ بلیک ہے، طوطا تو گرین ہوتا ہے جانو ! ماما۔ وہ گین (گرین) ہے۔ وہ اپنی بات پر اڑا ہوا تھا۔

اچھا بیٹا! طوطا ہی سہی۔ میں نے ہار مان لی تھوڑی دیر بعد اس نے پھر میرا دو پٹہ کھینچا۔

۔ ہوں۔

کیا بات ہے؟ میں نے اس کی جانب چہرہ کیا۔ ”ماما۔ وہ طوطا ۔ اس نے پھر ٹینکی کی جانب اشارہ کیا۔ عدی کو ہر بات دہرانے کی عادت تھی۔ ماما! ادھر نہیں۔ اُدھر ۔“

اس کے اشارہ کرنے پر میں نے بجلی کی تار کی طرف دیکھا۔ وہاں واقعی ایک طوطا بیٹھا تھا۔ تم وہاں اشارہ کر رہے تھے؟ میں کبھی ادھر کر رہے ہو میں نے شرمندگی سے کہا۔ البتہ دل میں مجھے بہت خوشی ہوئی کہ عدی بڑا ہورہا ہے اور سیکھ رہا ہے۔

ہماری باری آگئی ، میں قدرے آگے بڑھی۔

Ventoline

کا ایک ان ہیلر چاہیے۔“

ڈھائی سوروپے کا ہے۔ وہ بڑی بے نیازی سے بولا۔ میرا خون کھول اٹھا۔

پچھلے ہفتے تو ڈیڑھ سوروپے کا تھا۔“ بی بی دنیا بدل رہی ہے۔ مارشل لاء کی وجہ سے قیمتیں بڑھ گئی ہیں ۔‘ اس نے ایک جواز تراشا۔ مارشل لاء تو پچھلے سال کے اکتوبر سے لگا ہوا ہے، قیمتیں اب کیوں بڑھی ہیں ؟ میں تنک کر بولی۔

بی بی لینا ہے تو لو ، ورنہ جاؤں میں نے بے بسی سے اسے دیکھا، پھر دو عددسو اور ایک پچاس کا نوٹ نکال کر اس کو تھایا اور ان ہیٹر کا

لفافہ پکڑا۔

شرم نہیں آتی تمہیں لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے؟ جاتے جاتے میں جتانا نہیں بھولی تھی۔ میری بچتوں کے باوجود پیسے تیزی سے ختم ہورہے تھے۔

خیر! اللہ مالک ہے۔ میں نے سر جھٹکا۔ بس اسٹاپ تک جاتے ہوئے راستے میں جعفر آباد کے ایک مین بازار کا فرنٹ آتا تھا۔ عدی دکانوں کے آگے ریڑھیوں میں چیزوں کو نہایت دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔

________________

ماما طوطا لینا ہے۔ اس نے فرمائش کی۔

عدی کا دمہ خراب ہوتا ہے۔ طوطے سے

۔ میں نے اسے سمجھانا چاہا۔ ” پھر بلی لے لیں ۔ وہ بڑی لجاجت سے کہہ رہا تھا۔ بلی بھی پیاری ہو تی ہے۔ میں نے بے چارگی سے کہا۔

پھول بھی نہیں لینے ؟ اس نے نظریں پھول بیچتے آدمی پر مرکوز کیے ہو چھا۔

پھول سے بھی تو عدی کو الرجی ہے۔” یکدم میرا دل بے حداد اس ہوا۔ عدی کو جو چیزیں پسند تھیں، ان سے اس کو الرجی تھی ۔ ” کیا میرا بیٹا ساری زندگی ان چیزوں کو تر ستار ہے گا ؟“

ماما کھلونا لینا ہے۔ ایک کھلونے والی ریڑھی کے قریب سے گزرتے ہوئے وہ مچل کر بولا۔

عدی کے پاس گنتی کے صرف تین کھلونے تھے۔ تینوں دس دس روپے والے ڈھائی سال پرانے تھے۔ جو عدی کو اس کے باپ نے لے کر دیے تھے۔ میرے وسائل میں اتنی گنجائش ہی کہاں تھی کہ میں عدی کو کھلونے لے کر دے سکتی۔

عدی، یہ مہنگے کھلونے ہیں۔ یہ لے لیں گے تو کھانا نہیں کھا سکیں گے ۔ میں عدی کو کچھ دن بعد لے

دوں گی۔ پراس نے سراٹھا کر نہایت شا کی نظروں سے سے مجھے دیکھا، پھر یکدم میرے ہاتھ میں پکڑائی ہوئی اپنی انگلی چھڑائی۔

مجھے کچھ نہیں چاہیے ماما ! وہ ناراض سا ہو کر سائیڈ پر کھڑا ہو گیا اور دوسری جانب منہ پھیر لیا۔ میرا

دل کٹ کر رہ گیا۔ آؤ کھلونا لیں ۔ ” میں نے آگے بڑھ کر اسے پیار کیا مگر اس کی ناراضی ختم نہیں ہوئی تھی۔ میں نے زبردستی اس کا ہاتھ پکڑا اور ریڑھی کی جانب لے گئی۔ اندر ہی اندر میر ادل بار بار ڈوب کر ابھر رہا تھا۔

کتنے کا ہے یہ ؟ میں نے نسبتا سستا سا کھلونا اٹھا کر ریڑھی والے سے پوچھا۔

چھپیں روپے۔“

عدی نے ایک پلاسٹک کاغذ میں لپٹا کانچ کا ڈیکوریشن پیس اٹھا لیا اوراسے محو ہو کر دیکھنے لگا۔ پچیس روپے اتنے سے کھلونے کے ؟ نہیں بابا ! پندرہ لے لو۔“

———–

بیس روپے تو ہماری خرید ہے، تم کہتی ہو پندرہ میں لے لو۔ وہ ریڑھی والا برہمی سے کہنے لگا۔ کھٹاک کی آواز پر میں نے دہل کر پیچھے دیکھا اور جو میں نے دیکھا وہ میرے اوسان خطا کرنے کے لیے کافی تھا۔ عدی نے جو کانچ کا ڈیکوریشن پیس اٹھایا تھا۔ وہ زمین پر گر پڑا تھا۔ پلاسٹک ریپر کے اندر ہی اندر اس کی کرچیاں ہو گئی تھیں۔

زمین اور آسماں میری نگاہوں کے سامنے گھومنے لگے تھے۔ عدی تم نے کیا کیا ہے؟ مجھے اپنی آواز کھائی ہی آتی ہوئی سنائی دے رہی تھی۔