Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261

Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261 Pahari Ka Qaidi (Episode 08)

51.5K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pahari Ka Qaidi (Episode 08)

Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed

کہیں کہیں فخش فقرات لکھے ہوئے تھے۔ پتا نہیں وہاں کس قسم کے لوگ آتے تھے۔

تمہارا اپنا بچہ ہوتا تو بھی تم خاموش بیٹھتے رہتے ؟

میرے ایک دفعہ پھر چلانے پر بھی ان پر کوئی اثر

نہیں ہوا تھا۔ رات ایک پہر بیت چکی تھی، جب مجھے احساس ہوا کہ وہاں سب بہرے ہیں، احساس کی ساعت سے محروم ہیں۔ لہذا میرے چلانے سے ان کا کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

میں ہمت ہار کر اس جگہ جگہ سے اکھڑے فرش پر بیٹھ گئی۔ عدی کا پورا جسم پسینے میں بھیگا ہوا تھا ، میں اپنے بوسیدہ دوپٹے سے اس پر پنکھا جھلنے لگی۔ ساری رات خوف کے عالم پر میں عدی پر سورتیں پڑھ پڑھ کر پھونکتی رہی ، کہ اس کا استھمانہ بگڑے، اسے اٹیک نہ ہو۔ جب بھی وہ ہلکی سی کروٹ لیتا، میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ جاتا۔ کتنی ہی بار میں گھبراہٹ سے اس کے چہرے کا رنگ ، اس کے تنفس کی رفتار دیکھتی ۔ جب یہ یقین ہو جاتا کہ وہ ٹھیک ہے تب ہی مجھے قدرے سکون آتا۔ پوری رات روتے اور عدی کے لیے دعائیں کرتے گزری صبح جب وہ اٹھا تو ٹھیک تھا۔ ماما گر می“ اس نے بے زاری سے کہا۔ میں نے اس کی شرٹ اتار دی اور اسے دوپٹے سے ہوا دینے لگی

صبح کے آٹھ بجے ہوں گے مگر سورج اپنے جوبن پر چمک رہا تھا۔ آسمان قہر کی طرح گرمی بر سارہا تھا۔ آگ کے گولے تھے جو میرے جسم پر گر رہے تھے۔

عدی نے دیوار سے ٹیک لگالی، میں اس پر پنکھا جھلتی رہی۔ پھر وہ یکدم کھڑا ہو گیا اور قدرے بے چینی سے اس کوٹھڑی میں دو چار قدم چلا، پھر واپس میرے پاس آکر بیٹھ گیا۔ عدی! کیا ہوا ہے؟ اور کہیں میرے دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں تو اترے سے بجنے لگی تھیں۔

ماما!

اس کا ہاتھ اپنی گردن پر تھا

۔ ماما ان ہیلر

نہیں نہیں ” بے اختیار اپنی چیخ روکنے کے لیے میں نے منہ پر ہاتھ رکھا۔ ”میرے اللہ نہیں !

(((میری آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو گئی ہیں:؛: آیان راجپوت))

عدی وہیں زمین پر لیٹ گیا، اس کا ہاتھ اب اپنے سینے کو مسل رہا تھا۔ اس کے سینے سے وہی جانی پہچانی خرخر کی آواز سنائی دے رہی تھی ۔ میرا دل ڈوبنے لگا۔ ماما وہ کراہا۔ اس کے چہرے پر پسینے کے قطرے نمودار ہورہے تھے۔ یہ گرمی والا پسینہ نہیں تھا۔ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ اسے آکسیجن نہیں مل رہی۔ اس کی رنگت بتدریج زرد پڑتی جارہی تھی۔

ماما!

میرا بیٹے مجھے پکار رہا تھا، میں ساکت بیٹھی اس کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے ناخنوں اور ہونٹوں کا رنگ بدل رہا تھا، آہستہ آہستہ وہ نیلے پڑ رہے تھے۔ میرا خون منجمد ہو رہا تھا۔ میں بت بنی اپنے بیٹے کو مرتے دیکھ رہی تھی۔ اس کی پسلیوں کے درمیان جلد کھینچ رہی تھی ، مجھے لگا کوئی میری جلد کو کھینچ رہا ہے

۔ ماما۔ ان ہیلر

وہ سخت تکلیف میں تھا۔ عدی ، میں نے اس کے ہاتھ تھام لئے ۔ عدی میرے بچے ! الفاظ جیسے ختم ہو کر رہ گئے تھے۔ جب عدی پیدا ہوا تھا تو اتنی ڈھیر ساری معذوریوں کے باعث لوگ کہتے تھے۔ یہ بچہ جلدی مر جائے گا لیکن میں کہتی تھی نہیں

عدی زندہ رہے گا۔ عدی سو سال جیئے گا۔“ گا لیکن جعفر آباد کی اس تپتی دوپہر میں پہلی دفعہ مجھے لگا ، عدی زندہ نہیں رہے گا۔ پہلی دفعہ مجھے لگا ،

میرا بیٹا میرے ہاتھوں میں دم تو ڑ دے گا۔ ا۔ وہ اذیت میں مبتلا مجھے پکار رہا تھا، اور میں بے بسی کی تصویر بنے اس کو مرتے دیکھ رہی تھی۔