Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261

Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261 Last updated: 24 September 2025

51.5K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed

" کیا ہوا ہے؟ کسی نے کچھ کہا ہے ؟" اس نے میرا ان ہیلر چھین لیا ہے۔ وہ رونے کے قریب تھا۔ کس نے ؟ میں نے دہل کر پوچھا۔ یہ اس کا مہینے میں چوتھا ان بیلر تھا جوگم ہوا تھا۔ وہ لڑکا۔ اس نے مجھے مارا بھی ہے وہ ہے۔ ادھر ۔ اس نے اپنے سرخ گال کی جانب اشارہ کیا۔ آنسو اس کے چہرے پر پھسل رہے تھے ۔ میں نے غصے اور بے بسی سے اپنے اطراف میں دیکھا کہ شاید مجھے وہ لڑکا نظر آ جائے مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔ تو تم نے اسے اپنا ان ہیلر چھینے کیوں دیا؟ تم بھی اسے مارتے ۔ “ میں قدرے غصے میں کہتے ہوئے یکدم رونے لگی تھی۔ ہر دوسرے دن وہ ان ہیلر توڑ دیتا یا گم کر بیٹھتا تھا، میرے پاس پیسے ختم ہونے کے قریب تھے ۔ "میرے اللہ میں اس کا ان ہیلر کہاں سے لاؤں گی ۔ بے بسی سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ ماما۔ روتی کیوں ہو؟“ میں نے آنسوؤں سے تر چہرہ اٹھا کر اس کی جانب دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔ میں نے پہلے اس کے آنسو صاف کیے پھر اپنے۔ چلو عدی ! ہم نیا ان ہیلر لے لیں گے ۔ میری بات پر وہ مسکرا دیا۔ میں مسکر ا بھی نہ سکی۔ سیکنڈ لاسٹ پیریڈ میں جب ہم ون کلاس میں داخل ہوئے تو میں نے عدی کو حسب معمول اس کی جگہ پر بیٹھنے کو کہا مگر وہ نہیں بیٹھا بیٹھو نا عدي ماما یہ اس نے ۔ اس نے درمیانی روو کے آخری پہینچ پر بیٹھے لڑکے کی جانب اشارہ کیا۔ ا ماما یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا ان ہیلر وہ ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں مجھے کیا بتاناچاہ رہا تھا میں اچھی طرح سمجھ چکی تھی۔ غصے کی ایک لہر نے مجھے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ادھر آؤ تم ! نہایت تیز لہجے میں میں نے آصف کو اشارہ کیا ، اس کا رنگ فق ہو چکا تھا۔ میرے عدی کا ان ہیلر تم نے لیا ہے؟“ عدی جھوٹ نہیں بولتا۔ عدی نے اس کی بات پر چلا کر کہا۔ نکالوان ہیلرور نہ میں میڈم کے پاس چلی جاؤں گی۔ میں نے لہجے کو مزید سخت بنا کر کہا۔ وہ گھبرا کر نفی میں سر ہلانے لگا۔ عثمان، اس کا بیگ لاؤ ادھر عثمان نے قدرے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا بیگ اٹھایا۔ میں نے اس کا بیگ کھولا، سامنے عدی کا ان ہیلر پڑا تھا۔ طمانیت کی لہر نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا۔ یہ دیکھو۔ میں نے ان ہیلر نکال کر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا ۔ یہ ہے عدی کا ان ہیلر اور عدی جھوٹ نہیں بولتا۔ آئندہ خبر دارتم نے عدی کو تنگ کیا۔ میں تمہارے ہاتھ توڑ دوں گی ، اگر تم نے پھر ایسی حرکت کی تو عدی اپنا ان ہیلر پا کر بہت خوش تھا۔ خود میں بھی بے حد پر سکون تھی ۔ اسکول سے واپسی پر جب ہم دونوں بس میں بیٹھے تھے ، عدی کو کچھ یاد آ گیا۔ ماما ! وہ کون ہے؟ مجھے یاد آیا اس نے کچھ پوچھا تھا۔ قائد اعظم ہے، پاک تان بنایا ۔ قائد اعظم ہے، پاکستان بنایا۔ “ وہ حسب معمول میری بات دہرانے لگا۔ ہم اچھے والے اسکول میں کل جائیں گے عدی ! میں اس کو ایک دفعہ پھر جھوٹی تسلی دینے لگی۔ البتہ دل میں ایک امید ضرور تھی۔ آج رضیہ کے ذریعے میں نے میڈم تک سفارش پہنچائی تھی کہ عدی کو ہمارے اسکول میں ہی داخلہ مل جائے۔ امید کا ایک ٹمٹماتا ہوا دیا میرے اندر جل بجھ رہا تھا۔ اس نے میری بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ۔ ہم لوگ خاموشی سے چلتے ہوئے اس کھلے میدان کے دہانے پر پہنچ گئے۔ سیاہ چادر میں لپٹی مسز مہدی مجھے اپنی جانب آتی دکھائی دیں۔ مسز مہدی نے پچھلے ماہ ہمارے اسکول کی نوکری چھوڑی تھی ۔ ان کو یوں سر راہ دیکھ کر مجھے خوش گوار حیرت ہوئی۔ وہ اسی علاقے میں رہتی ہیں، یہ تو میں جانتی تھی مگر عدی کی وجہ سے زیادہ آتی جاتی نہیں تھی۔