Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261

Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261 Pahari Ka Qaidi (Episode 14)

51.5K
15

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pahari Ka Qaidi (Episode 14)

Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed

اس کا رونا قدرے کم ہوا

عدی پانی ڈالا ہے منہ پر ؟ میں نے بے چینی سے بند دروازے کو دیکھا۔ ماما۔ پانی ڈالا ہے ۔ مجھے کچھ حوصلہ ہوا۔

آنکھ جل رہی ہے اب ؟“

ماما۔ کنڈی کھولو ۔ وہ خود بھی دروازے کو بجانے لگا۔ وہ ابھی تک رور ہا تھا۔ شاید اب اس کی آنکھ

جلنا بند ہو گئی تھی۔

میں کیسے کھولوں؟ تم کھولو۔ یہ جو ڈنڈی ہے کنڈی کی اسے بائیں جانب کھینچو ۔ میں نے اسے سمجھانا چاہا مگر عدی نہیں سمجھ سکا تھا، یہ بات میں بخوبی جانتی تھی۔ میرا دل ڈوبنے لگا ہاتھ روم میں ڈور لاک کی جگہ دائیں سے بائیں کھلنے والی کنڈی نصب تھی۔

ماما نہیں کھلتی میں زور زور سے دروازے کو دھکا دینے لگی مگر وہ لکڑی کا مضبوط دروازہ توڑنا میرے جیسی کمزور عورت کے بس کی بات نہیں تھا۔

عدی تم ڈرنا نہیں، میں کسی کو بلا کر لاتی ہوں ۔ ” کہہ کر میں بھاگتی ہوئی باہر گئی۔ شمینہ کے فلیٹ کی گھنٹی بجاتے ہوئے میں مسلسل رو رہی تھی۔ جب گھنٹی پر دروازہ نہ کھلا تو میں نے

اسے زور زورز سے بجانا شروع کر دیا۔

عارف بھائی گھبرائے ہوئے باہر نکلے۔

کیا ہوا بھا بھی ؟ مجھے روتا دیکھ کروہ پریشان ہو گئے۔

عارف بھائی۔ عدی عادی ہاتھ روم میں بند ہو گیا ہے۔“

میں سسکیوں کے درمیان کہہ رہی تھی۔ اس سے کنڈی لگ گئی ہے، کنڈی نہیں کھل رہی ۔ کچھ کریں

عارف بھائی۔“

آواز سن کر سمینہ بھی بھاگی چلی آئی۔

آئیں بھا بھی۔ دیکھتے ہیں۔ عارف بھائی اور ثمینہ فور میرے ساتھ چلے آئے۔ جس وقت دوبارہ ہم فلیٹ میں داخل ہوئے ، ایک دم بجلی چلی گئی۔ شام چھ بجے کا وقت تھا، اندھیرا ویسے بھی ہونا شروع ہو گیا تھا۔ یقیناً باتھ روم میں بھی بے حد اند ھیرا ہوگا۔ عدی کو ڈر لگ رہا ہوگا۔

_____________

عدی۔ عدی۔ میں نے زور زور سے دروازہ بجایا۔ دوسری جانب ہنوز خاموشی تھی۔ عدی۔ خدا کے لیے کچھ بولو۔ میں پاگلوں کی طرح چلائی۔ ثمینہ نے بے اختیار مجھے شانوں سے

تھام لیا۔

عارف بھائی دروازے کو دھکا دینے لگے۔

عدی! بولو، خدا کے لیے عدی بولو۔ اوہ میرے اللہ ! عدی بول کیوں نہیں رہا ؟ میں بلند آواز میں روتے ہوئے چیخنے لگی تھی۔

ماما ۔۔۔۔۔ما۔۔۔۔۔۔۔۔ما

۔۔اس کی کراہتی ہوئی آواز میری سماعت سے ٹکرائی ۔ “ماما ان ہیلر “

عدی نہیں ۔ ” میں پھوٹ پھوٹ کر رودی۔

مجھے لگا وقت سات برس پیچھے چلا گیا ہے۔ میں اور عدی جعفر آباد کی اس خوفناک جیل میں ہیں۔ میرے سامنے وہ ان ہیلر کے لیے تڑپ رہا ہے، اس کے ہاتھ پاؤں نیلے پڑ رہے ہیں۔ آج میرے پاس ان ہیلر تو تھا، مگر عدی نہیں۔ میں ایک دفعہ پھر جعفر آباد جیل پہنچ گئی تھی۔ عدی ایک دفعہ پھر ان ہیلر کے لیے استھما اٹیک کے باعث بن پانی کے مچھلی کی طرح تڑپ رہا تھا۔ میں تصور کی آنکھوں سے اسے دیکھ سکتی تھی۔ اس کا زرد پڑتا چہرہ، نیلے ہوتے لب، پسلیوں کے درمیان کھینچتی جلد مجھے سب دکھائی دے رہا تھا۔ ماما! اندھیرا ہے۔ ماما ان ہیلر ۔ وہ مجھ سے چیخ چیخ کر ان ہیلر مانگ رہا تھا

اور میں میں بے بھی۔ بے چارگی سے رورہی تھی۔

میرا بیٹا، جس سے مجھے بے پناہ محبت تھی، اندر مر رہا تھا۔ میں اس کو نہیں بچا سکتی تھی۔ وہ ایک اندھیرے کمرے میں بند ہو چکا تھا۔ میں بے بس تھی، بے حد بے بس۔ اس وقت اگر کوئی مجھ سے کہتا کہ اپنا جسم کاٹ کر دے دو، تمہارے بچے کی جان بچ جائے گی، تو میں دے دیتی۔ کوئی کہتا اپنا ضمیر بیچ دو، میں بیچ دیتی۔ عارف بھائی دو تین اور لوگوں کو بھی لے کر آگئے تھے۔ اور وہ سب دروازے کو دھکا لگا رہے تھے اور عدی مسلسل رور ہا تھا۔ اور پھر ایک زور دار آواز کے ساتھ دروازے کی کنڈی ٹو گئی۔ دروازہ اندر کی جانب جھٹکے سے کھلتا چلا گیا۔ میں بھاگتی ہوئی دیوانہ وار اندر گئی اور اپنے ہاتھ میں پکڑا ان ہیلر عدی کے لبوں سے لگا دیا۔ جلدی جلدی____________

عدی کو دوائی کے چار پف دینے کے بعد میں نے اسے تولیے میں لپیٹا اور باہر آگئی۔ میں ابھی تک ہچکیوں سے رو رہی تھی ، عدی بھی رو رہا تھا۔ اس کا جسم کانپ رہا تھا۔ میری روح کانپ رہی تھی۔

عدی بالکل ٹھیک ہو گیا ہے۔ تم مت روؤ ثمینہ میرے آنسو پونچھنے لگی مگر میں عدی کے لیے نہیں رور ہی تھی۔

میں ٹھیک ہوں ثمینہ ” زبر دستی خود پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے میں نے کہا

اور جو احسان تم نے مجھ پر کیا، ثمینہ تم نے اور عارف بھائی نے میں وہ ساری زندگی نہیں بھلا پاؤں گی۔ میں۔ میں میں بہت کچھ کہنا چاہتی تھی مگر اس نے ہاتھ اٹھا کر مجھے کچھ کہنے سے روک دیا۔ ہم نے کوئی احسان نہیں کیا۔ جو کچھ کیا ہے اللہ نے کیا ہے۔ کتنی ہی دیر وہ بیٹھی مجھے تسلی دیتی رہی، سمجھاتی رہی۔ اس کے جانے کے بعد میں پھر رونے لگی تھی۔

عدی کوسختی سے اپنے بازوؤں میں جکڑے میں بری طرح رو رہی تھی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے زہر آلود خنجر ہے جو میرے دل میں اترتا جارہا ہے۔ میں عدی کے لیے نہیں رورہی تھی ، میں اپنے لیے بھی نہیں رو رہی تھی۔ کتنے ہی پل یونہی بیت گئے پھر بجلی آئی تو میں آنسو پونچھ کر اٹھی، عدی کو صاف کپڑے پہنائے۔ اس کے بالوں میں کنگھی کی اور پھر اس کے جوتوں کے تسمے باندھنے لگی۔ وہ سہمی سہمی نگاہوں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ میں اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھا مے اسے کچن تک لے آئی۔ چولہا ابھی تک جل رہا تھا ۔ پیاز اور گھی جل کر سیاہ ہو چکے تھے۔ میں نے چولہا بند کر دیا، میز پر سے ڈبل روٹی کا پیکٹ اٹھایا، تو س گرم کر کے ان پر جیم لگائی ، پھر وہ عدی کے سامنے رکھ دیے۔ وہ انہیں کھانے لگا۔ میں اسے ٹوسٹ کھاتے دیکھتی رہی۔ خود مجھے ذرہ برابر بھی بھوک نہ تھی۔ میرا خون ابھی تک خشک تھا۔ میرا دل ابھی تک زور زور سے دھڑک رہا تھا، اس نے توس کھا لیے تو میں اس کا ہاتھ تھام کر اسے باہر لے آئی۔

ماما کہاں جارہی ہو ؟ وہ سہمی سہمی آواز میں پوچھ رہا تھا۔

میں نے کوئی جواب نہیں دیا، خاموشی سے فلیٹ کی سیڑھیاں اترنے لگی۔ آنسو ایک دفعہ پھر میری آنکھوں سے بہنے لگے تھے۔

ماما۔ روتی کیوں ہو؟ میرا ہاتھ تھامے میرے ساتھ چلتے ہوئے عدی پوچھ رہا تھا۔ میں نے آنسوؤں کی دھند میں اسے دیکھا تھا۔ میں اسے کیا بتاتی کہ میں کیوں رورہی ہوں۔ ایک رکشہ روک کر میں نے اسے مطلوبہ ایڈریس۔ بتایا۔ رکشہ والے نے حیرت سے میری جانب

دیکھا۔

دس روپے اوپر دے دوں گی بھائی ۔ عدی کے ہمراہ میں رکشہ میں بیٹھ گئی۔ پندرہ منٹ بعد رکشے والے نے ہمیں وہاں اتار دیا۔ میں نے خاموشی سے کرایہ ادا کیا اور عدی کی انگلی کو اور بھی مضبوطی سے پکڑے رکشہ سے نیچے اتر آئی۔ سامنے ایک لمبی سڑک تھی۔ سڑک کے دونوں اطراف خوبصورت اور ایک جیسے گھر بنے تھے۔ اس سڑک کے آخری کنارے پر ایک چھوٹی سی پہاڑی تھی اس پہاڑی پر اس کالونی کا آخری گھر تھا۔ اس گھر کی چھت باقی تمام گھروں کی طرح سرخ اور مخطر وطی تھی۔ وہ آخری گھر مجھے اس جگہ سے دکھائی نہیں دے رہا تھا مگر اس کالونی کے آخری گھر کے اندر مقید سات

سالہ بالاج افتخار صاف دکھائی دے رہا تھا۔ میرے آنسوؤں میں شدت آگئی یہ آنسو عدی کے لیے نہیں یہ تو اس قیدی بچے کے لیے تھے۔ جس وقت عدی باتھ روم میں بند تھا، اس وقت پہلی بار مجھے احساس ہوا تھا کہ اسلام آباد کی اس اونچی پہاڑی کا قیدی کیا تھا ؟ اس وقت مجھے علم ہوا تھا کہ عادل کیا تھا ؟ وہ صرف منصف اعلا نہیں تھا، وہ ایک سات سالہ معذور بچے کا باپ بھی تھا اس کے بچے کا آپریشن نومبر میں ہونا تھا۔ دس ڈاکٹرز کا پینل اس کے بچے کا معالج تھا ہر مہینہ ہسپتال لے جا کر اس کا چیک اپ کرانا ہوتا تھا۔

و ہی بالاج بالکل اسی طرح پچھلے چار ماہ سے اس سرخ چھت والے گھر میں اس طرح قید تھا جیسے عدی ہاتھ روم میں صرف دس منٹ بند رہا تھا۔ دس منٹ میں میری یہ حالت تھی کہ میں اپنے بچے کو اس قید سے نکالنے کے لیے اپنا جسم کانٹے پر بھی تیار تھی ، اپنی گردن بھی کٹوا سکتی تھی ۔ اپنا ضمیر بھی بیچ سکتی تھی۔ اور سرخ چھت والے اس گھر میں بند وہ قاضی وقت کس دل کا مالک تھا کہ ابھی تک حق کے لیے اڑا ہوا تھا، اب بھی جھکنے کو تیار نہ تھا۔

عدی جب اس اندھیرے کمرے میں بند تھا تو رورہا تھا۔ اس کے رونے سے مجھے اپنا دل بند ہوتا

محسوس ہوتا تھا۔

———————

بالاج بھی ایسے ہی روتا ہوگا۔ کیا اس کے باپ کا دل نہیں بند ہوتا ہوگا ؟“ عدی مجھے پکار رہا تھا ماما مجھے یہاں سے نکالو یہاں اندھیرا ہے، مجھے ڈرلگتا ہے۔“ بالاج بھی تو اس سے کہتا ہو گا بابا! مجھے یہاں سے نکالو ۔ “ اسنے بھی تو ڈر لگتا ہو گا ، وہ بھی تو کمرے

میں

بند رہ کر گھبراتا ہوگا۔

عدی جب بغیر دوائی کے تڑپ رہا تھا تو میری ہمت، حوصلہ سب جواب دے گیا تھا۔ اس وقت مجھے لگا تھا کہ مجھے جس در پر بھی اپنے بیٹے کے لیے جھکنا پڑا میں جھک جاؤں گی۔ اور وہ ننھا سا معذور بچہ وہ بھی تو باپ سے دوائی مانگتا ہو گا۔ اسے بھی تو درد ہوتا ہوگا۔ وہ بھی تو روتا ہو گا۔ باپ کی منتیں کرتا ہو گا کہ کہیں سے وہ اس کو دوائی لا کر دے۔ جب وہ تڑپتا ہوگا تو اس کا باپ کیا کرتا ہوگا ؟ کیا اسے دکھ نہیں ہوتا ہوگا ؟ کیا اس کا دل اپنے بچے کی حالت دیکھ کر نہیں ڈوبتا ہوگا؟ پھر بھی ، اپنے بچے کو اپنے سامنے روتے بلکتے دیکھ کر بھی وہ آدمی ڈٹا ہوا تھا۔ وہ اب بھی کہتا تھا کہ میں نہیں جھکوں گا ، چاہے تم مجھے سونے میں بھی کیوں نہ تول دو ۔ اپنے منصب عدل سے نہیں ہٹوں گا ، دیکھتا ہوں تم مجھے کیسے روکتے ہو۔

وہ کس لیے یہ سب کر رہا تھا ؟ اپنے لیے؟

ہر گز نہیں۔

وہ کس کے لیے اپنے بچے کی زندگی داؤ پر لگا رہا تھا ؟

اپنے عہدے سے ایمان داری کے لیے؟

نہیں۔

مصلحت اور فتویٰ کہتا تھا کہ وہ اپنے بچے کے لیے ہی سہی مستعفی ہو جاتا مگر وہ فتوے کے بجائے تقویٰ پر عمل کرنے والا شخص یہ سب صرف اور صرف اپنی قوم کے لیے، اپنا ملک کے لیے کر رہا تھا۔ عدی کا ہاتھ تھامے ججز کالونی کی طرف بڑھتے ہوئے زندگی میں پہلی بار مجھے لگا تھا کہ عادل بے وقوف ہے، وہ اس قوم کے لیے اپنے بچے کی زندگی داؤ پر لگا رہا تھا جو اسکے خاندان کی نظر بندی کو ایک خبر سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی ۔ جو خبر نامے میں یہ خبرسنتی ہے کہ بالاج کو چار ماہ سے دوائی نہیں ملی ۔“