Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed Readelle50261 Pahari Ka Qaidi (Episode 01)
Rate this Novel
Pahari Ka Qaidi (Episode 01)
Pahari Ka Qaidi By Nimrah Ahmed
چھت پر لگا پنکھا معمول کے مطابق سست روی سے گھوم رہا تھا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ جہاں گرمی میں اضافہ ہوتا جار ہا تھا وہاں بجلی بھی ہلکی ہوتی جارہی تھی ۔ نہ صرف گرمی بلکہ پنکھے کے پروں کے گھومنے سے پیدا ہونے والی گڑ گڑ کی آواز بھی میرے لیے کوفت کا باعث بنی ہوئی تھی
۔مجھے کسی نہ کسی طرح ایک کولر خرید لینا چاہیے ۔ گرمی کی حدت سے پریشان ہو کر میں نے بے اختیار سوچاتھا۔ میں نے پسینہ پوچھتے ہوئے پلٹ کر بستر پر لیٹے عدی کو دیکھا۔اس کا چہرہ ہلکا ہلکا گیلا تھا مجھے یکدم بے چینی ہوئی۔ میز پر کاپیاں چھوڑ کر میں لپک کر بستر پر آئی اور اپنے دو پٹے سے عدی کی پیشانی سکھائی۔ مجھے واقعی کولر لے لینا چاہیے۔ ہاتھ والا پنکھا اسے جھلتے ہوئے میں نے سوچا۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ پرسکون ہو کر سوگیا کاپیاں چیک کرتے ہوئے میں نے ایک نظر گھڑی کو دیکھا رات کے ساڑھے بارہ ہو رہے تھے۔ مجھے صبح ساڑھے پانچ بجے حسب معمول اٹھنا ہی تھا اور پھر کل تو بہت ڈھیر سارے کام کرنے تھے۔ عدی کا اسکول میں ایڈمیشن ائیر کولر کے لئیے اسکول سے ادھار تنخواہ اور دیگر کاموں کی ایک لمبی فہرست تھی۔ سر جھٹک کر میں ایک دفعہ پھر کا پیاں چیک کرنے میں مصروف ہوگئی۔
رابعہ نورین کی کاپی پر میں خوش خط لکھا کیجئے نوٹ لکھ ہی رہی تھی کہ عدی کی آواز مجھے اپنیق ریب سے سنائی دی وہ نیند سے اٹھ بیٹھا تھا۔ میں جھٹ اس کے پاس آئی
اس کو کھانسی آرہی تھی ساتھ ہی اس کے گلے سے خر خر کی وہ مانوس آواز بھی سنائی دے تھی جو میں پچھلے کئی برس سے اس وقت سنتی جب اس کا دمہ بگڑتا تھا۔ میں نے اسے شانوں سے تھام کر اپنے ساتھ لگا لی اور ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل سے اس کا کوئیک ریلیف ان
ہیلر اٹھایا۔
بس بیٹا! ابھی ٹھیک ہو جائے گا۔ اس کو دیتے ہوئے میں نے ان ہیلر کو اچھی طرح او پر ہلایا۔ سانس لوعدی ! مگر پچھلے کافی عرصے سے جانے والا فقرہ اب میرے لبوں سے جدا نہیں تھا۔ میں نے ان ہیلر کے ماؤتھ پیس سے ڈھکنا اتارا اسے عدی کے لبوں سے لگایا۔ اس نے آہستہ آہستہ سانس اندر کو کھیںچا میں نے کمنٹر کو دبایا۔ دوائی کا پف اس کے منہ کے اندر تک پہنچ گیا تھا۔ ان ہیلر اس کے لبوں سے ہٹا کر میں عادتا بولی۔ اب سانس لو “ اس نے آہستہ آہستہ سانس باہر نکلا۔ اس کے چہرے پر تکلیف کے آثار تھے۔ میرے دل کو کچھ ہواتھا۔ بس بیٹا! ابھی ٹھیک ہو جائیگا۔ میں نے گھڑی کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔ ٹھیک ایک منٹ بعد میں نے یہ ساراعمل دوبارہ دہرایا۔ اب عدی کا نفس بحال ہو چکا تھا اس کے سینے سے آنے والی خرخر کی آواز ختم ہو چکی تھی۔ وہ پر سکون ہو کر لیٹ گیا آنکھیں موند لیں۔
کتنی ہی دیر اس کے ساتھ بیٹھی اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی رہی ۔ اس کا سر تکیے پر ڈال کر میں واپس کرسی پر آگئی اور کاپیاں چیک کرنے لگی۔ کا پیاں چیک کرنے کے بعد میں انہیں میز کے اوپر ترتیب سے رکھ کر واپس عدی کے پاس بستر پر آگئی۔ چھ سالہ عدی ہلکے ہلکے خراٹے لے رہا تھا۔ مجھے بے ساختہ اس پر بے حد پیار آیا۔ اس کے چہرے پر جھک کر میں نے اس کی پیشانی چومی۔ پھر اس کا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ میں لے لیا اور تکیے پر سر رکھ کر آنکھیں موند لیں ۔
پورے دن کی تھکاوٹ کے باعث جلدی ہی نیند نے مجھ پر اپنا غلبہ کر لیا۔ میری آنکھ اس طرف کی مانوس آواز سے کھلی تھی۔ میں یکدم اٹھ کر بیٹھ گئی۔ عدی کو نیند میں کھانسی آرہی تھی ۔ میں نے جلدی سے اس کا ان ہیلر اٹھایا، پھر اسے شانوں سے پکڑ کر اٹھایا۔ اس کا استھما ہمیشہ رات کو یا صبح صادق کے وقت بگڑتا تھا۔ اسی لیے میں بہت الرٹ نیند سوتی
تھی۔ بلکہ میں تو شاید ساری رات سوتی بھی نہیں تھی۔ ان ہیلر سے دوائی کے دوپف لے کر وہ ایک دفعہ پھر پُر سکون ہو کر لیٹ گیا تھا۔ اب کی بارا سے نیند قدرے دیر سے آئی تھی مگر پھر بھی وہ نیند کی وادیوں میں اتر ہی گیا۔ میں نے ایک دفعہ پھر لیٹتے ہوئے گھڑی کی جانب دیکھا۔ ساڑھے تین ہو رہے تھے ۔ اب نیند کا آنا مشکل تھا۔
صبح کی اذان ہوئی تو میں نماز پڑھنے اٹھ کھڑی ہو جعفر آباد میں سخت گرمیوں میں پانی گرم اور سردیوں میں ٹھنڈ ہوتا تھا۔ اس گرم پانی سے وضو کر کے میں نے نماز پڑھی۔ سلام پھیر نے کے بعد جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھا ئے تو آنسو ٹپ ٹپ کر کے میری آنکھ سے گرنے لگے۔ میں خالی خالی نگاہوں سے اپنے اٹھے ہوئے ہاتھوں کو دیکھتی رہی۔ مجھے اللہ سے کیا مانگنا تھا میں دعا میں روتی تھی اور اگر کچھ مانگتی بھی تھی تو وہ عدی کے لیے ہوتا تھا۔ عدی کی صحت اور اچھی زندگی۔ اس لیے میں نے کبھی کچھ نہ مانگا تھا۔ میری سانسیں میرے بیٹے کے ساتھ بندھی تھیں اس کی سانس رکتی تھی میری بھی رکتی تھی۔ وہ بے چین ہوتا تھا تو میں اس سے زیادہ بے چین ہوتی تھی ۔ اس وقت بھی میں نے صرف اور صرف عدی کے لیے دعا کی، پھر جائے نماز تہ کر کے اٹھ کھڑی ہوئی۔ میں عدی کو سوتا چھوڑ کر کچن میں آگئی اور اپنے اور عدی کے لیے ناشتہ بنانے لگی۔ عدی ٹوسٹ اور شہد بہت شوق سے کھاتا تھا۔ میں خالی ٹوسٹ اور چائے پر گزارا کرتی تھی ۔ مگر آج چائے کے لئیے دودھ ہی نہیں تھا۔ مجھے یاد آیا۔ دودھ تو کل صبح ختم ہو گیا تھا۔
آج لے آؤں گی۔ میں نے خود کو دلا ساد یا حالانکہ میں جانتی تھی کہ مہینہ ختم ہونے میں پورے دس دن پڑے تھے جبکہ میری تنخواہ ختم ہونے والی تھی۔ ڈبل روٹی کا پیکٹ کھولا تو اندر صرف تین سلائس باقی تھے ۔ اللہ مالک ہے۔ میں نے شانے جھٹکے اور انہیں واپس پیکٹ میں ڈال دیا۔ عدی کے اٹھنے میں کافی وقت تھا اسی لیے میں ناشتہ بنانے کی بجائے باہر چھوٹے سے برآمدے میں آگئی اور جھاڑو اٹھا کر گھر کی صفائی کرنے لگی۔ صفائی عموماً میں جلدی کر لیا کرتی تھی مگر عدی کی وجہ سے میں احتیاط سے صفائی کرتی تھی۔ دھول اور گرد سے اس کا سانس بگڑتا تھا اس لیے میں نے سوائے اپنے کمرے کے باقی پورے گھر کی صفائی کر ڈالی۔ ہمارا گھر دو کمروں کے ایک چھوٹے برآمدے، کچن اور چھوٹے سے صحن کے کنارے بنے ہاتھ روم پر مشتمل تھا۔ دوسرا کمرہ بیٹھک کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔”
گھر کی صفائی کرکے میں نے کپڑے تبدیل کیئے منہ ہاتھ دھو کر اپنے روکھے بالوں میں کنگھی کی اور ایک تنقیدی نگاہ خود پر ڈالتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ جہاں عدی سور ہا تھا۔ عدی… بیٹا ! اٹھ جاؤ۔ اسے نہایت نرمی سے آواز دے کر میں نے اٹھایا۔ وہ ایک ہی آواز پر اٹھ جانے والا بچہ تھا۔ سو اس وقت بھی آنکھیں ملتا اٹھ بیٹھا۔ اسے اٹھا کر میں باتھ روم لے گئی اسے نہلایا اور نہایت اچھی طرح ٹوتھ برش کرایا، کیونکہ ان ہیلر کے پف کے بعد اگر حادثاتی طور پر دوائی کا کوئی قطرہ اس کے منہ میں رہ جا تا تو اندرانفکشن پیدا کر سکتا تھا میں اس کی صحت کے بارے میں ہمیشہ سے کانش رہا کرتی تھی۔ اسکو نہلا دھلا کر صاف نیکر شرٹ پہنا کر میں نے اسے برآمدے میں چارپائی پر بٹھا دیا اور خودش کچن میں آکر ناشتہ بنانے لگی۔ ماما۔ بھوک لا ۔ گئی ہے۔ عدی ہمیشہ ہر لفظ کو کھنچ کھینچ کر بولتا تھا۔ ہر بات کرنے سے پہلے بہت لا معدی بلال کہ تھا ہر بات کرنے سے پہلے سوچتا تھا اور کسی بھی بات کو دیر سے سمجھتا تھا۔ آئی۔ میری جان ! جلدی جلدی تینوں تو س سینک کر شہد کا جار اٹھایا اور فور آبا ہر آ گئی۔
